ننگی ویلنگ
کالم نگار: سید حبدار قائم
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ایک ویڈیو نے ہمارے معاشرتی شعور، مشرقی اقدار، خاندانی تربیت اور اخلاقی ذمہ داریوں پر کئی سوالیہ نشان ثبت کر دیے ہیں۔ ویڈیو میں ایک لڑکا اور لڑکی موٹر سائیکل پر سینے سے سینہ ملائے ویلنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ ویڈیو اصلی ہے تو یہ محض ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت نہیں بلکہ ہماری سماجی ترجیحات اور تربیتی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، اور اگر اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ معاشرے میں اشتعال انگیزی اور اخلاقی انتشار پھیلانے والوں کے خلاف قانون کب حرکت میں آئے گا؟
آخر ہمارے مشرقی اقدار کہاں رخصت ہو گئے؟ وہ حیا، وہ تہذیب، وہ شرم و لحاظ اور وہ خاندانی وقار کہاں دفن ہو گیا جس پر ہمارے بزرگ فخر کیا کرتے تھے؟ کیا ان نوجوانوں کے والدین موجود نہیں؟ کیا گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والی اولاد کے اعمال و کردار سے والدین کی کوئی وابستگی نہیں؟ اولاد کی پرورش صرف اسے کھانا کھلانے، اچھے کپڑے پہنانے اور تعلیمی اداروں میں بھیجنے کا نام نہیں؛ اصل تربیت تو کردار کی تعمیر، حیا کی پاسداری، اخلاق کی آبیاری اور صحیح و غلط میں امتیاز سکھانے کا نام ہے۔
والدین کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اولاد کی بے جا آزادی اور بے لگام خودسری میں فرق ہوتا ہے۔ آزادی انسان کا حق ہے، لیکن آزادی کے نام پر دوسروں کی اقدار، معاشرتی احترام اور قانون کو پامال کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اگر گھر میں تربیت کی شمع روشن نہ ہو تو سوشل میڈیا کی چکاچوند نوجوانوں کو ایسی راہوں پر لے جا سکتی ہے جہاں شہرت کی چند ساعتیں عزت و وقار کے برسوں پر بھاری پڑ جاتی ہیں۔
اس واقعے میں پولیس کی ذمہ داری بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ اگر ویڈیو حقیقی ہے اور اس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا کسی کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا عمل موجود ہے تو متعلقہ اداروں کو معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنی چاہییں۔ ویڈیو بنانے والوں یا اسے دیکھنے والوں میں سے کسی کے پاس اگر مستند معلومات تھیں تو وہ ون فائیو یا متعلقہ پولیس کو اطلاع دے سکتے تھے۔ محض تماشائی بن کر موبائل فون سے مناظر محفوظ کرنا اور پھر انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانا شہری ذمہ داری کا متبادل نہیں۔ البتہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کرنی چاہیے، نہ کہ محض وائرل ہونے والی کسی ویڈیو کو حتمی حقیقت سمجھ لینا چاہیے۔
اگر یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو ہے تو اس پہلو کی تحقیق بھی ضروری ہے۔ کسی شخص کی جعلی ویڈیو بنا کر اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا یا معاشرے میں بے چینی پیدا کرنا ایک سنگین معاملہ ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی کو عبرت کا نشان بنانے کا مطالبہ کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ ذمہ دار شخص کی شناخت، شواہد کی جانچ اور قانونی کارروائی کے ذریعے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ قانون کا مقصد انتقام نہیں، اصلاح اور انصاف ہے۔
دوسری طرف ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بعض نوجوانوں کی ایسی سرگرمیاں بھی دکھائی دیتی ہیں جن میں شہرت کی خاطر نامناسب حرکات، بے ہنگم رقص اور نجی زندگی کی نمائش کو کامیابی کا معیار بنا لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری نئی نسل نے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے یہی راستہ منتخب کر لیا ہے؟ کیا علم، ادب، فن، کھیل، تحقیق اور خدمتِ خلق میں نام پیدا کرنے کے دروازے بند ہو گئے ہیں؟ کیا چند پسندیدگیوں، تبصروں اور مشاہدات کی خاطر اپنی شخصیت کو تماشا بنا دینا ہی ترقی کی معراج ہے؟
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر نوجوان، ہر ویڈیو بنانے والے اور ہر جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے کو ایک ہی ترازو میں تولنا انصاف نہیں۔ مغرب سے آنے والی ہر چیز قابلِ مذمت نہیں اور نہ ہی ہر جدید رجحان ہماری اقدار کے خلاف ہے؛ البتہ اندھی نقالی، بے مقصد شہرت اور اخلاقی ذمہ داریوں سے فرار یقیناً قابلِ اصلاح رویے ہیں۔ ہمیں ٹیکنالوجی سے دشمنی نہیں، اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے اختلاف ہونا چاہیے۔
علامہ اقبال نے غیرت و خودداری کو انسانی عظمت کا اہم حوالہ بنایا۔ ان کا پیغام ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے اپنی تہذیبی شناخت کو محض کتابوں اور تقریروں تک محدود کر دیا ہے؟ اگر ہماری زبان پر اقبال کا نام ہو لیکن ہمارے کردار میں خودداری، حیا، ذمہ داری اور بلند نظری کا عکس نہ ہو تو پھر ہمارے دعووں کی معنویت کیا رہ جاتی ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ اس معاشرے کو سدھارے گا کون؟ والدین اپنی ذمہ داری پہچانیں، تعلیمی ادارے کردار سازی کو اہمیت دیں، علما اور اہلِ قلم نوجوانوں کی اخلاقی رہنمائی کریں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کے خلاف اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور پولیس قانون شکنی کے واقعات پر شواہد کے مطابق کارروائی کرے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ سنسنی پھیلانے کے بجائے حقیقت کی تصدیق اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو ترجیح دے۔
ہمیں نوجوانوں کی اصلاح کرنی ہے، انہیں معاشرے سے کاٹنا نہیں انہیں سمجھانا ہے، ذلیل نہیں کرنا ان کی غلطی کی نشان دہی کرنی ہے، مگر انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ والدین اپنی اولاد کو محبت کے ساتھ حدود و قیود کا شعور دیں اور نوجوان خود بھی سمجھیں کہ ہر وائرل منظر کامیابی نہیں ہوتا اور ہر مشہور حرکت قابلِ فخر نہیں ہوتی۔
اگر ہم نے آج تربیت، تہذیب اور ذمہ داری کے چراغ روشن نہ کیے تو کل سوشل میڈیا کی ہر نئی لغزش پر ہم شور تو مچائیں گے، مگر اصلاح کا موقع ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ معاشرے کی عزت محض نعروں سے محفوظ نہیں رہتی؛ اسے کردار، تربیت، قانون کی پاسداری اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری سے بچایا جاتا ہے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو شہرت کی اندھی دوڑ دینا چاہتے ہیں یا کردار کی روشنی؟ فیصلہ ہمارے گھروں، ہمارے تعلیمی اداروں اور ہمارے اجتماعی رویوں نے کرنا ہے۔ اگر یہ رویے درست نہ کیے گئے تو مستقبل میں موٹر سائیکلوں پر ننگی ویلنگ ہو گی پھر روکنا مشکل ہو گا۔
Title Image by 🤦♂️爪丨丂ㄒ乇尺 🤷♀️🤷♂️ 卩丨ㄒㄒ丨几Ꮆ乇尺🤦♀️ from Pixabay
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔