سائیکل، ترازو اور خودداری: ایک بوڑھے کباڑی کی کہانی
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کچھ لوگ اپنی زندگی کی کہانی زبان سے نہیں سناتے، ان کا چہرہ، ان کے قدموں کی لڑکھڑاہٹ اور ان کی خاموش جدوجہد سب کچھ بیان کر دیتی ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے کئی لوگ موجود ہیں جن کی زندگی محنت، محرومی اور خودداری کی مثال ہوتی ہے، مگر ہم روزمرہ کی مصروفیات میں ان کی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں نکالتے۔ میرے محلے میں آنے والا ایک بوڑھا کباڑی بھی ایسا ہی شخص ہے، جسے میں تقریباً دس برس سے دیکھ رہا ہوں۔ عمر لگ بھگ نوے سال، کمزور جسم، جھکا ہوا وجود اور ہاتھوں میں وقت کی تھکن لیے وہ آج بھی روزی کی تلاش میں گلیوں کا رخ کرتا ہے۔
اس کے پاس ایک پرانی سائیکل اور ایک بوسیدہ ترازو ہے۔ اب اس عمر اور کمزور جسم میں سائیکل پر بیٹھ کر چلنا اس کے بس میں نہیں رہا۔ وہ اسے پیدل دھکیلتا ہے اور اسی کا سہارا لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے۔ سائیکل کی مدھم گھنٹی اور اس کے چرچرانے کی آواز اس کی آمد کی خبر دیتی ہے۔ نہ اس کے پاس لاؤڈ اسپیکر ہے، نہ بلند آواز سے پکارنے کی طاقت۔ وہ خاموشی سے گلی میں داخل ہوتا ہے اور لوگوں کے گھروں سے پرانے اخبار، کاغذ، لوہے کے ٹکڑے، ٹوٹے برتن اور دوسری ناکارہ اشیا جمع کرتا جاتا ہے۔ کبھی روٹی کے سوکھے ٹکڑے بھی اس کے سامان میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے کمزور ہاتھ ایک ایک چیز سمیٹتے ہیں، جیسے زندگی کی بکھری ہوئی ضرورتوں کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
جب وہ میرے گھر کے قریب آتا ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اسے خالی ہاتھ نہ جانے دوں۔ گھر میں کوئی پرانا اخبار، کاغذ یا دوسری قابلِ فروخت چیز ہو تو اسے دے دیتا ہوں اور کہتا ہوں، ’’یہ آپ کا تحفہ ہے۔‘‘ کبھی پرانے کپڑے یا جوتے بھی اس کے حوالے کر دیتا ہوں۔ یہ کوئی بڑا احسان نہیں، بس ایک چھوٹی سی کوشش ہے کہ اس کی محنت میں کچھ آسانی پیدا ہو جائے۔ میرے نزدیک اس کی اصل قدر ان چیزوں میں نہیں جو میں اسے دیتا ہوں، بلکہ اس محنت میں ہے جس کے سہارے وہ زندگی کا بوجھ خود اٹھائے ہوئے ہے۔
راستے میں بھی کبھی اس سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ میں سلام کرتا ہوں، خیریت پوچھتا ہوں تو اس کے تھکے ہوئے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ اس مسکراہٹ میں اپنائیت بھی ہوتی ہے اور شاید اس خوشی کا عکس بھی کہ کسی نے اسے محض کباڑ جمع کرنے والا نہیں سمجھا، بلکہ ایک انسان جان کر اس کا حال پوچھا ہے۔ کبھی اس کی جیب میں کچھ رقم رکھ دیتا ہوں اور کہتا ہوں، ’’بابا جی! آپ نے میری طرف سے چائے ضرور پینی ہے۔‘‘ وہ خوش ہو جاتا ہے اور دل سے دعائیں دینے لگتا ہے۔ اس کی دعاؤں میں ایسی سچائی محسوس ہوتی ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں رفتہ رفتہ ہمارے درمیان ایک بے تکلف تعلق قائم ہو گیا ہے۔ وہ مجھے اپنا دوست سمجھتا ہے اور میں اسے اپنے سے بزرگ، ایک ایسا دوست جس کی زندگی کے تجربات میرے لیے احترام کا باعث ہیں۔ جب بھی ملاقات ہوتی ہے، میں اس کے گھر اور اہلِ خانہ کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ اس کی زندگی کے حالات جان کر اندازہ ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی کمزوری کے ساتھ ساتھ اس نے ایسے صدمے بھی برداشت کیے ہیں جن کا بوجھ کسی بھی انسان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
اس کی بیوی کو وفات پائے چار سال گزر چکے ہیں۔ وہ کالا یرقان کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔ عمر کے آخری حصے میں شریکِ حیات کا بچھڑ جانا محض ایک فرد کی جدائی نہیں، زندگی کے ایک پورے دور کا اختتام ہوتا ہے۔ برسوں کی رفاقت، گھر کی ذمہ داریاں، دکھ سکھ اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں ایک شخص کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ جب وہ شخص دنیا سے چلا جائے تو گھر تو وہی رہتا ہے، مگر اس کی مانوسیت بدل جاتی ہے۔ اب اس بوڑھے کے پاس اپنی تھکن بانٹنے اور دن بھر کی باتیں سننے والی وہ رفیقۂ حیات نہیں رہی۔ اس کی زندگی میں یہ کمی کس قدر گہری ہے، اس کا پورا اندازہ شاید وہی کر سکتا ہے جس نے عمر بھر کے ساتھی کو کھویا ہو۔ چار سال گزر جانے سے جدائی کی حقیقت تو قبول ہو جاتی ہے، مگر رفاقت کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔
اس کے دکھوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس کا ایک بیٹا رکشہ چلا کر روزی کماتا تھا۔ محنت مزدوری کرنے والا وہ بیٹا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا۔ باپ کے لیے جوان اولاد کی جدائی ایسا صدمہ ہے جسے وقت بھی پوری طرح ہلکا نہیں کر سکتا۔ بڑھاپے میں اولاد والدین کے لیے سہارا اور اطمینان ہوتی ہے، لیکن اس شخص کو اپنے بیٹے کی موت کا دکھ بھی سہنا پڑا۔ وہ اپنے حالات کے بارے میں زیادہ تفصیل سے بات نہیں کرتا، مگر اس کی زندگی کی حقیقت سامنے ہو تو احساس ہوتا ہے کہ اس کی خاموشی کے پیچھے کتنے دکھ پوشیدہ ہیں۔ بیوی کی جدائی اور بیٹے کی اچانک وفات کے بعد بھی اس نے زندگی سے منہ نہیں موڑا۔ وہ اپنی پرانی سائیکل کا سہارا لیتا ہے اور روزی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔
اس کے ایک اور بیٹے اور ایک بیٹی کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے گھر آباد دیکھ کر مطمئن ہو سکتا ہے، لیکن اپنی ضروریات کے لیے ان پر بوجھ نہیں بننا چاہتا۔ اس کی خواہش ہے کہ جب تک جسم ساتھ دے، اپنی محنت سے کمائے اور اپنی ضرورتیں پوری کرے۔ یہ خودداری اس کی زندگی کا نمایاں وصف ہے۔ نوے برس کے قریب عمر، کمزور ہاتھ اور لڑکھڑاتے قدم اس کے لیے کام کو دشوار بنا چکے ہیں، لیکن وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی محنت پر بھروسا کرتا ہے۔
وہ سارا دن گلیوں میں پھرتا ہے، کاغذ، لوہا، پرانے اخبار اور دوسری چیزیں جمع کرتا ہے، پھر انہیں بیچ کر چند سو روپے کماتا ہے۔ آج کے دور میں چند سو روپے سے کتنی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں؟ مگر اس کی روزانہ کی کمائی بھی اسی محنت کا نتیجہ ہے جس میں اس کا وقت، توانائی اور جسمانی طاقت صرف ہوتی ہے۔ اس عمر میں جب اکثر لوگ آرام اور دوسروں کی مدد کے محتاج ہو جاتے ہیں، وہ اپنی استطاعت کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی محنت شاید کسی بڑے پیمانے پر نظر نہ آئے، لیکن اس میں عزتِ نفس کی ایک روشن مثال موجود ہے۔
ہم اکثر کامیابی کو دولت، عہدے اور آسائشوں سے ناپتے ہیں، مگر یہ بوڑھا ہمیں زندگی کا ایک دوسرا سبق دیتا ہے۔ کامیابی یہ بھی ہے کہ انسان مشکلات کے باوجود اپنی ہمت نہ ہارے، اپنے حصے کی ذمہ داری خود اٹھانے کی کوشش کرے اور حالات کے سامنے مکمل طور پر شکست تسلیم نہ کرے۔ اس کے پاس نہ کوئی بڑا سرمایہ ہے، نہ آرام دہ سواری اور نہ زندگی کی آسانیاں؛ اس کے پاس صرف ایک پرانی سائیکل، ایک ترازو اور کام کرنے کا حوصلہ ہے۔ انہی کے سہارے وہ ہر روز اپنے لیے روزی تلاش کرتا ہے۔
اسے دیکھ کر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ معاشرے میں عزت صرف ان لوگوں کا حق نہیں جو بڑی عمارتوں میں رہتے یا مہنگی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ محنت سے رزق کمانے والا ہر شخص احترام کا مستحق ہے۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے وقت اس کی خودداری کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ کبھی ایک نرم جملہ، خیریت دریافت کرنے کا ایک سوال یا چائے کے لیے دی گئی تھوڑی سی رقم کسی کے دن کو خوش گوار بنا سکتی ہے۔ مدد کی اصل روح یہی ہے کہ سامنے والے کو اپنی کم مائیگی کا احساس دلائے بغیر اس کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔
وہ بوڑھا کباڑی جب اپنی سائیکل دھکیلتا ہوا گلی سے گزرتا ہے تو اس کی مدھم گھنٹی میرے لیے ایک معمولی آواز نہیں رہتی۔ وہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے لوگ اپنی خاموش جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ بڑی رقم یا بڑے منصوبوں کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی توجہ، احترام اور خلوص ہی کافی ہوتے ہیں۔
میں اس بوڑھے کو دیکھتا ہوں تو اس کی کمزوری کے ساتھ اس کی ہمت بھی نظر آتی ہے، اس کے دکھوں کے ساتھ اس کی خودداری بھی۔ زندگی نے اس سے بہت کچھ چھینا، مگر وہ اب بھی محنت کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ اس کی کہانی کسی کتاب میں درج نہیں، نہ اسے کوئی انعام ملنے والا ہے، مگر اس کی جدوجہد اپنی جگہ ایک سبق ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عمر ڈھل جائے، جسم جواب دینے لگے اور زندگی کئی صدمے دے جائے، تب بھی انسان اپنے وقار کو سنبھال کر رکھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس بزرگ کو صحت، سکون اور آسانیاں عطا فرمائے، اس کے رزق میں برکت دے اور ہمارے دلوں میں دوسروں کے لیے احساس اور احترام پیدا کرے۔ آمین۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔