حاجی محمد حنیف سیفی مرحومؒ — مرشدِ کریم سے محبت اور وفا کی یادگار داستان
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
حضرت سید جعفر حسین بادشاہ صاحب مبارک سیفی حسنی حسینی نقشبندیؒ، المعروف باچا صاحب مبارکؒ، کی صحبت میں زندگی کا کچھ عرصہ گزارنا راقم الحروف کی خوش نصیبی ہے۔ اسی روحانی نسبت نے مرشد خانہ سے وابستہ احباب کے ساتھ محبت اور اخوت کے رشتے استوار کیے۔ حاجی محمد حنیف سیفی مرحومؒ بھی انہی احباب میں شامل تھے۔ ہماری نسبت پیر بھائی کی تھی اور یہی مشترکہ تعلق ہماری قربت کی بنیاد بنا۔ آج ان کی رحلت پر ایک عزیز پیر بھائی کی جدائی کا احساس ان یادوں کو تازہ کر دیتا ہے جو مرشدِ کریم کی محبت اور روحانی اخوت سے وابستہ ہیں مرحوم کا آبائی تعلق گاؤں مٹھیال سے تھا۔ آپ کے والد محترم حاجی رحمت الدین، بابا صاحب مبارکؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت تھے، جب کہ آپ کے بڑے بھائی حاجی سعید سیفی اور حاجی رشید سیفی بھی حضرت سید جعفر بادشاہ صاحب مبارکؒ سے بیعت کی نسبت رکھتے تھے۔ اس طرح مرشدِ کریم سے وابستگی اس خاندان کی مشترکہ روحانی روایت تھی۔ مٹھیال میں آستانۂ سیفیہ قائم تھا، جہاں روحانی حلقہ منعقد ہوتا اور عقیدت مند جمع ہوتے تھے۔ یہی ماحول حاجی محمد حنیف سیفی مرحومؒ کی مرشد خانہ سے گہری وابستگی کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
1997ء میں آپ اٹک منتقل ہوئے اور صرافہ بازار، ٹینکی چوک میں حاجی محمد حنیف جیولرز کے نام سے کاروبار شروع کیا۔ کاروباری مصروفیات کے ساتھ دینی زندگی سے تعلق بھی برقرار رکھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک حج اور دو عمرے کی سعادت عطا فرمائی۔
مرحوم کی شخصیت کا نمایاں وصف مرشدِ کریم سے بے لوث محبت اور خدمت کا جذبہ تھا۔ حضرت سید جعفر حسین بادشاہ صاحب مبارکؒ کے مقبول خلیفہ کی حیثیت سے آپ مرشد خانہ سے تا دمِ آخر وابستہ رہے۔ دامے، درمے، سخنے خدمت کے لیے حاضر رہتے اور ہر ممکن تعاون کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک مرشد سے عقیدت محض زبانی اظہار نہیں بلکہ خدمت، وفاداری اور عملی وابستگی کا نام تھی آپ پیر میجر قاسم سیفی، خلیفۂ مجاز پیر ارچی سیف الرحمٰن مبارک اور ڈاکٹر قاضی امجد حسین کاظمی سیفی سے خصوصی محبت رکھتے تھے۔ اسی طرح حضرت سید جعفر بادشاہ صاحب مبارکؒ کے چہیتے نواسوں، گلشن اخونزادہ پیر سید الرحمٰن مبارکؒ کے صاحبزادگان حسن باچا صاحب، حسین باچا صاحب اور محسن باچا صاحب سے آپ کا خاص قلبی لگاؤ تھا۔ حلقۂ احباب میں طاہر سیفی بھی آپ کے قریبی تعلقات کے حوالے سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان روابط میں خلوص، احترام اور مشترکہ روحانی نسبت نمایاں تھی۔
مرحوم کی ظاہری شخصیت بھی منفرد تھی۔ دراز قد، سرخ و سفید چہرہ، سفید لباس اور سر پر سفید امامہ شریف ان کی پہچان تھے۔ اٹک شہر میں ان کا یہ مخصوص سراپا انہیں ایک جداگانہ شناخت عطا کرتا تھا۔ آپ قاری، نعت خواں اور مؤذن بھی تھے اور مساجد سے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ یوں دینی ذوق اور روحانی وابستگی ان کی زندگی کے اہم پہلو تھے۔
آپ کی دینی و فلاحی خدمات میں مسجد خدیجہ کی تعمیر خصوصی اہمیت رکھتی ہے، جسے آپ نے اپنی والدہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے راقبہ حال کے پاس تعمیر کروایا۔ اس کے علاوہ قبرستان کے لیے قطعہ ہائے اراضی وقف کیے۔ یہ اقدامات ان کے جذبۂ خیر اور اجتماعی بھلائی سے دلچسپی کے عملی مظاہر تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں مرحوم کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آپ کے دو صاحبزادگان، محمد مزمل سیفی اور محمد امیر حمزہ سیفی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک و صالح بنائے، والد کی اچھی روایات کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں اپنے والد کے لیے باعثِ اجر و سعادت بنائے۔
زندگی کے آخری ایام میں مرحوم شوگر اور عارضۂ قلب میں مبتلا تھے۔ بالآخر 21 اکتوبر 2026ء کو نمازِ ظہر کے وقت حنیفہ مسجد، اٹک میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب اور مرشد خانہ سے وابستہ افراد کے لیے گہرے صدمے کا باعث بنی۔ راقم الحروف کے لیے یہ ایک ایسے پیر بھائی کی جدائی تھی جس سے مشترکہ مرشد کی نسبت نے محبت اور قربت کا رشتہ قائم کیا تھا آپ کی نمازِ جنازہ اسی روز رات دس بجے اٹک شہر کی مرکزی عیدگاہ میں ادا کی گئی،جس میں شہر امڈ آیا ہر آنکھ اشک بار تھی جنازہ کی امامت حضرت حسین باچا صاحب مبارک نے فرمائی نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کی وصیت کے مطابق ان کی چارپائی مرشدِ کریم کے مزارِ مبارک پر دس منٹ تک رکھی گئی، پھر انہیں ان کی وصیت کردہ جگہ پر پیر بھائیوں کے خصوصی ذکر کی گونج میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ یہ آخری خواہش ان کی مرشدِ کریم سے گہری عقیدت اور عمر بھر قائم رہنے والی روحانی وابستگی کی ایک معنی خیز علامت تھی حاجی محمد حنیف سیفی مرحومؒ کی زندگی میں کاروبار اور خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ مرشد کی خدمت، دینی سرگرمیوں اور فلاحی کاموں کو بھی نمایاں مقام حاصل رہا۔ مسجد خدیجہ کی تعمیر، قبرستان کے لیے اراضی کی وقفیت اور مٹھیال میں خاندان کی روحانی روایت اس خیر کی یادگاریں ہیں جو ان کے بعد بھی باقی رہ سکتی ہیں۔ میرے لیے ان کی یاد ایک پیر بھائی کی یاد ہے، جس سے تعلق کی بنیاد مرشدِ کریم کی محبت اور روحانی اخوت تھی اللہ تعالیٰ حاجی محمد حنیف سیفی مرحومؒ کی کامل مغفرت فرمائے، قبر کو نور سے منور کرے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ مسجد خدیجہ کی تعمیر، وقف کردہ اراضی اور دیگر دینی و فلاحی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ ان کے صاحبزادگان اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور انہیں مرحوم کے لیے باعثِ خیر و اجر بنائے بعض رشتے جسمانی جدائی کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے؛ وہ دعا، یاد اور روحانی نسبت کی صورت میں زندہ رہتے ہیں۔ حاجی محمد حنیف سیفی مرحومؒ سے میرا تعلق بھی پیر بھائی کی اسی اخوت کا رشتہ تھا جس کی بنیاد مرشدِ کریم کی محبت تھی۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی وفا، خدمات اور روحانی نسبت کی یاد باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محبت و خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے نیک اعمال کو توشۂ آخرت بنائے اور ہمیں بھی ایسی زندگی گزارنے کی توفیق دے جس کے آثارِ خیر ہمارے بعد باقی رہیں۔ آمین یا رب العالمین۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔