کشتِ ویراں سے امید کی کرن
پاکستان کی سیاست میں موروثیت، طاقت اور برادری ازم کا چرچا کوئی نئی بات نہیں۔ اکثر سیاسی خاندانوں کی نئی نسل سیاست میں قدم رکھتے ہی اہم مناصب تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کسی نوجوان سیاست دان میں سیاست کے ساتھ علم، مطالعہ اور دین سے گہرا شغف بھی موجود ہو تو اسے محض سیاسی خاندان سے تعلق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی ذاتی صلاحیت اور کردار کی بنیاد پر بھی پرکھا جانا چاہیے۔
حال ہی میں ایک ایسے ہی نوجوان سیاست دان، جہانزیب خان، سے ملاقات کا موقع ملا۔ وہ ڈسٹرکٹ کونسل شیخوپورہ کے چیئرمین رہ چکے ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 143 سے ایم پی اے کا انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے۔ ان کا تعلق ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے اور ان کے والد بھی پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں، مگر ان کی شخصیت کا ایک پہلو ایسا ہے جو انہیں محض ایک روایتی سیاست دان سے مختلف بناتا ہے۔
جہانزیب خان کو اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ سے گہرا شغف ہے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں ہزاروں احادیث مبارکہ زبانی یاد ہیں اور ان کے گھر میں اسلامی کتب کی ایک وسیع ذاتی لائبریری موجود ہے۔ خاص طور پر احادیث کے موضوع پر ان کا مطالعہ قابلِ ذکر ہے۔ ایک ہی موضوع سے متعلق احادیث کو جمع کرنا، ان کے مفہوم کو سمجھنا اور ان کی تشریح و تعبیر کا مطالعہ کرنا محض شوق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ علمی رجحان کی علامت ہے۔
گزشتہ روز نمازِ مغرب ان کی امامت میں ادا کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے سورۃ الحشر کی آخری آیات تلاوت فرمائیں۔ میں ان کے عین پیچھے مقتدی کی حیثیت سے کھڑا تھا۔ ان کی آواز میں حلاوت کے ساتھ عاجزی بھی محسوس ہوئی۔ نماز کے بعد جب واپس دفتر پہنچے تو شاہد ندیم صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ جہانزیب خان ہیں، جو ڈسٹرکٹ کونسل شیخوپورہ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
ہماری مجلس میں سعودی عرب سے تشریف لائے محمد عارف صاحب بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً بیس سال سعودی عرب میں رہے، لیکن قرآنی تعلیمات سے حقیقی شناسائی انہیں پاکستان واپس آ کر ہوئی۔ اس کے بعد گفتگو کا زیادہ تر حصہ قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کے گرد گھومتا رہا۔
اس نشست نے میرے ذہن میں ایک سوال پیدا کیا کہ ہماری سیاسی قیادت میں ایسے نوجوانوں کو آگے آنے کے مواقع کیوں کم ملتے ہیں جو سیاست کے ساتھ علم اور دین سے بھی وابستگی رکھتے ہوں؟ علامہ محمد اقبال کا مشہور شعر ہے:
"جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی”
یہ شعر آج بھی ہماری سیاسی زندگی کے لیے ایک سنجیدہ سوال کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیاست اگر اخلاق، علم اور کردار سے خالی ہو جائے تو اقتدار محض طاقت کا کھیل بن جاتا ہے۔
پاکستان میں پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے کم از کم تعلیمی ڈگری کی شرط بھی موجود نہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2002 کے انتخابات سے قبل گریجویشن کی شرط عائد کی گئی تھی، جس کے باعث بہت سے سیاست دانوں نے ڈگریاں حاصل کیں، تاہم بعد میں جعلی ڈگریوں کے تنازعات بھی سامنے آئے۔ 2008 کے بعد یہ شرط ختم کر دی گئی اور اب انتخاب لڑنے کے لیے کسی مخصوص کم از کم تعلیمی قابلیت کی شرط موجود نہیں۔
یقیناً صرف ڈگری کسی شخص کو اچھا سیاست دان نہیں بناتی۔ اصل ضرورت علم، کردار، دیانت، سیاسی بصیرت اور عوامی خدمت کے جذبے کی ہے۔ تاہم یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ جو ملک تعلیم کو ترقی کی بنیاد سمجھتا ہے، وہاں قانون ساز اداروں میں پہنچنے والوں کے لیے کم از کم تعلیمی معیار پر سنجیدہ بحث کیوں نہ ہو؟
پاکستان کو ایسی قیادت درکار ہے جو صرف اقتدار حاصل کرنے کی خواہش نہ رکھتی ہو بلکہ ملک کو علم، اخلاق، قانون اور انصاف کی بنیاد پر آگے لے جانے کا عزم بھی رکھتی ہو۔ جہانزیب خان جیسے نوجوانوں میں اگر سیاست کے ساتھ دینی اور علمی رجحان بھی موجود ہے تو ان کی صلاحیتوں کو آزمانا چاہیے۔
علامہ اقبال نے امید کا چراغ روشن رکھتے ہوئے کہا تھا:
"نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”
پاکستان کی یہ کشتِ ویراں آج بھی زرخیز ہے۔ ضرورت صرف ایسی قیادت کی ہے جو اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ سمجھے۔ اگر سیاست میں علم، کردار، دیانت اور اخلاق کی فصل دوبارہ اگائی جا سکے تو شاید یہی کشتِ ویراں ایک دن امید کی روشن کرن بن جائے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔