انسان آخر جائے تو کہاں جائے؟
آپ نے ان باپ بیٹا کی کہانی تو سن رکھی ہو گی جو اپنے گدھے کے ساتھ کہیں جا رہے تھے اور دونوں پیدل چل رہے تھے۔
لوگوں نے کہا: "کتنے احمق ہیں، سواری ساتھ ہے اور خود پیدل جا رہے ہیں۔”
یہ سن کر بیٹا گدھے پر سوار ہو گیا۔ آگے لوگوں نے تنقید کی: "جوان بیٹا سوار ہے اور بوڑھا باپ پیدل چل رہا ہے۔”
بیٹا اتر گیا اور باپ سوار ہو گیا۔ کچھ اور لوگوں نے کہا: "یہ کیسا باپ ہے، خود سوار ہے اور بچے کو پیدل چلا رہا ہے۔”
چنانچہ دونوں گدھے پر بیٹھ گئے۔ آگے کسی نے اعتراض کیا: "بے چارے گدھے پر ظلم کر رہے ہیں۔”
آخرکار دونوں پھر پیدل چلنے لگے۔ تب باپ نے بیٹے سے کہا:”بیٹا! دنیا کو خوش کرنا ناممکن ہے۔ جتنے منہ، اتنی باتیں۔ انسان اگر ہر ایک کی رائے کے پیچھے چلے تو کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔”
آج ہم میں سے ہر کسی کے ساتھ کہیں نا کہیں یہ کہانی ایک نئی شکل میں دہرائی جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں اگر سو لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ستر اسی کی پریشانی یہی ہوتی ہے” لوگ کیا کہیں گے "۔ دنیا کی نظروں میں بھلا بننے اور ان کی ہر بات ماننے کے چکر میں وہ زندگی کا حسن تباہ اور لطف خراب کر بیٹھتے ہیں ۔ معاشرے کی ان کہانیوں میں دیکھیے گا آپ کس آئینے میں فٹ آتے ہیں ۔ مثلا:
اگر آپ نوکری کرتے ہیں تو کہا جائے گا کہ "غلامی کر رہا ہے”، اور اگر کاروبار کرتے ہیں تو لوگ حساب لگائیں گے کہ "اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟”۔
اگر مزدوری کرتے ہیں تو بعض لوگ حقارت سے دیکھیں گے، اور اگر بڑے عہدے پر پہنچ جائیں تو کہیں گے کہ "قسمت اچھی تھی، ورنہ اس میں ایسی کون سی قابلیت تھی؟”۔
اگر جلد شادی کر لیں تو سننا پڑے گا کہ "بہت جلدی تھی”، اور اگر دیر سے کریں تو مشوروں اور سوالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
اگر بیوی کا خیال رکھیں تو کہا جائے گا کہ "بیوی کے قابو میں ہے”، اور اگر نہ رکھیں تو بے حس اور ظالم قرار پائیں گے۔
اگر شوہر کی عزت کریں تو کمزور کہلائیں گی، اور اگر اپنی رائے کا اظہار کریں تو مغرور اور سرکش کہلائیں گی۔
اگر سادہ لباس پہنیں تو لوگ آپ کو ناکام سمجھیں گے، اور اگر اچھا لباس پہن لیں تو کہیں گے کہ "نمائش بہت ہے۔”
اگر نئے کپڑے خرید لیں تو فضول خرچ قرار پائیں گے، اور اگر پرانے پہنیں تو کہا جائے گا کہ "اپنی حالت دیکھو۔
"اگر زیادہ کھائیں تو پیٹ پر تبصرے ہوں گے، اور اگر کم کھائیں تو پوچھا جائے گا کہ "بیمار تو نہیں ہو؟”۔
اگر دعوت قبول کر لیں تو مفاد پرست سمجھے جائیں گے، اور اگر معذرت کر لیں تو مغرور کہلائیں گے۔
اگر رشتہ داروں کے گھر زیادہ جائیں تو کہا جائے گا کہ "ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے”، اور اگر کم جائیں تو بے وفا اور قطع رحمی کا مجرم قرار دے دیے جائیں گے۔
اگر خاموش رہیں تو مغرور، اور اگر گفتگو کریں تو فضول گو۔
اگر مسکرائیں تو غیر سنجیدہ، اور اگر سنجیدہ رہیں تو متکبر۔
اگر تیز چلیں تو جلد باز، اور اگر آہستہ چلیں تو سست۔اگر تنہا رہیں تو عجیب آدمی، اور اگر لوگوں میں رہیں تو توجہ کا بھوکا۔
اگر مسجد میں زیادہ نظر آئیں تو بعض لوگ ریاکاری کا شبہ کریں گے، اور اگر مسجد کم جائیں تو دین سے دور ہونے کا فتویٰ تیار ملے گا۔
اگر نماز باجماعت پڑھیں تو کہا جائے گا کہ "دکھاوا ہے”، اور اگر گھر میں پڑھ لیں تو کہا جائے گا کہ "مسجد کا راستہ بھول گیا ہے۔
"اگر رمضان کے سارے روزے رکھیں تو کوئی کہے گا "زمانے کے ساتھ نہیں چلتا”، اور اگر کسی عذر یا کمزوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں تو لوگ آپ کے ایمان کے پیمانے ناپنا شروع کر دیں گے۔
اگر قرآن پڑھیں تو بعض لوگ کہیں گے کہ اب بزرگ بننے کا شوق پیدا ہو گیا ہے، اور اگر نہ پڑھیں تو دینی کمزوری کے طعنے الگ۔
اگر کسی غریب کی مدد کریں تو کہا جائے گا کہ "مشہوری حاصل کر رہا ہے”، اور اگر مدد نہ کر سکیں تو بے رحم قرار پائیں گے۔
اگر کسی یتیم کا ہاتھ تھام لیں تو لوگ نیتوں پر بحث شروع کر دیں گے، اور اگر دور رہیں تو سنگ دل کہلائیں گے۔
اگر کسی کا قرض ادا کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ ضرور کوئی مطلب ہوگا، اور اگر نہ کریں تو بخیل کہلائیں گے۔
اگر کسی کا بوجھ اٹھا لیں تو بعض لوگ سادگی کا مذاق اڑائیں گے، اور اگر نہ اٹھائیں تو تکبر کا الزام لگائیں گے۔
اگر کسی حادثے میں زخمی شخص کو ہسپتال پہنچا دیں تو سوال ہوگا کہ "تم وہاں کیا کر رہے تھے؟” اور اگر نہ پہنچائیں تو انسانیت کا درس سننا پڑے گا۔
اگر کسی کا مسئلہ حل کرنے میں پہل کریں تو کہا جائے گا کہ "بیچ میں ٹانگ اڑا رہا ہے”، اور اگر خاموش رہیں تو کہا جائے گا کہ "کسی کے کام نہیں آتا۔”
اگر کسی خاتون سے ضرورت کے تحت بات کر لیں تو کہانیاں گھڑی جائیں گی، اور اگر بات نہ کریں تو بدتمیز اور غیر مہذب کہلائیں گے۔
اگر کسی بیوہ یا ضرورت مند خاتون کی مدد کریں تو کردار پر گفتگو شروع ہو جائے گی، اور اگر مدد نہ کریں تو معاشرتی بے حسی کا الزام ملے گا۔
اگر سوشل میڈیا استعمال کریں تو ریاکار، اور اگر نہ کریں تو زمانے سے کٹا ہوا انسان۔
اگر اپنی کامیابی بیان کریں تو خود ستائی، اور اگر خاموش رہیں تو لوگ آپ کی محنت سے ناواقف رہیں گے۔
اگر اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلائیں تو دکھاوا، اور اگر نہ دلوا سکیں تو غیر ذمہ داری۔
اگر ہر ایک سے اچھا سلوک کریں تو لوگ آپ کو استعمال کریں گے، اور اگر حدود مقرر کر لیں تو مغرور کہلائیں گے۔
عجیب معاشرہ ہے۔ یہاں بعض لوگوں کے پاس ہر مسئلے کا فتویٰ موجود ہے، سوائے اپنے رویّوں کے۔ وہ آپ کے کپڑوں پر بھی رائے دیں گے، آپ کی عبادت پر بھی، آپ کے گھر پر بھی، آپ کی اولاد پر بھی، آپ کے دوستوں پر بھی، آپ کی خاموشی پر بھی اور آپ کی گفتگو پر بھی۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے اپنی زندگی گزارنے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں کی نگرانی کو اپنا مستقل پیشہ بنا لیا ہے۔اسی لیے شاید عقل مند لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم ہر انسان کو راضی کرنے نکلے ہو تو اپنی زندگی کبھی نہیں جی سکو گے۔ کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی انسان پیدا نہیں ہوا جسے سب نے پسند کیا ہو، اور ایسا بھی کوئی نہیں جس کے بارے میں سب نے ایک ہی رائے قائم کی ہو۔لہٰذا انسان کے پاس آخرکار ایک ہی راستہ بچتا ہے: نیت درست رکھو، کردار درست رکھو، اور لوگوں کی عدالت سے زیادہ اپنے ضمیر اور اپنے رب کی عدالت کی فکر کرو۔اپنی منزل کا رخ کرو اپنے خوابوں کی تعبیر کرو اپنے سکون کو پہلی ترجیح دو کیونکہ لوگ لوگ ہیں اور لوگوں کی رائے موسموں کی طرح بدلتی ہے ۔
کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب : گلوبل ہینڈز پاکستان

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔