ماں کی دوا
از: مہرو سید
تنخواہ ملتے ہی علی سب سے پہلے میڈیکل سٹور گیا۔
"بھائی! ماں کے لیے شوگر کی 5,000 کی دوا دے دیں۔” علی نے کہا۔
گھر آ کر ماں کے پاؤں دبائے اور دوا دی۔ "ماں! اب آپ کی ہر مہینے کی دوا کا خرچہ بھی میں اٹھاؤں گا۔”
ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "بیٹا! تیری دعا سے میری شوگر ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے مہینے کی دوائیوں اور ٹیسٹ کا کل خرچہ 20,000 تک آ جاتا ہے۔”
علی نے ماں کا ہاتھ تھام کر کہا: "ماں! فکر نہ کریں۔ اب اللہ نے مجھے 40,000 کی نوکری دی ہے۔ آپ کی دوا اور گھر کا خرچہ سب میری ذمہ داری ہے۔”
ماں نے سر پر ہاتھ پھیرا: "بیٹا! نیک اولاد نعمت ہوتی ہے۔ اللہ تجھے اور ترقی دے۔”
رات کو علی نے دعا کی: "یا اللہ! ماں کو جلدی صحت دے، اور مجھے اتنا قابل بنا کہ میں سب کا سہارا بن سکوں۔”
اگلے دن چچا کا فون آیا: "علی! کل آفس آؤ۔ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔”
علی کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
جاری ہے…
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔