دادا جی کی دعا
از: مہرو سید
اگلے دن علی نے سب سے پہلے 2000 روپے کی دوائی لی اور سیدھا دادا جی کے گھر گیا۔ احمد دروازے پر کھڑا رو رہا تھا۔
"دادا جی! یہ آپ کی دوا ہے۔” علی نے سامان رکھتے ہوئے کہا۔
دادا جی نے کانپتے ہاتھوں سے علی کا سر سہلایا۔ "بیٹا! تم فرشتہ ہو۔ اللہ تمہیں کبھی کسی کا محتاج نہ کرے۔”
اتنے میں چچا کا فون آیا: "علی! کل تمہاری وجہ سے مجھے منافع ہوا تھا۔” چچا خوشی خوشی بولے۔
پھر چچا نے کہا: "آپ جلدی سے کام پہ آؤ، باقی باتیں بعد میں کرتے ہیں۔ آج سے تمہاری تنخواہ بھی شروع ہے۔”
علی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ جس نے نوکری کے لیے دھکے کھائے تھے، آج اسے عزت کی نوکری مل گئی تھی۔
اس نے احمد کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "احمد! اب تمہارا اور دادا جی کا خرچ بھی میں اٹھاؤں گا۔”
احمد نے خوشی سے کہا: "بھائی! آپ واقعی ہیرو ہیں۔”
علی نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: "یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔”
جاری ہے..
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔