وقار احمد آسؔ — خوابوں کے استعاروں میں ڈھلتی زندگی
کلام: وقار احمد آسؔ مرحوم
تبصرہ: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
بعض اہلِ قلم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنی ادبی خدمات، خلوص اور فروغِ ادب کے لیے کی جانے والی کاوشوں کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ وقار احمد آسؔ مرحوم بھی ایسی ہی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے شعر و سخن کی ترویج اور ادبی روایت کی آبیاری میں اپنا حصہ ڈالا۔
وقار احمد آسؔ کا تعلق ضلع اٹک کے نواحی قصبے شکردرہ سے تھا۔ انہوں نے ضلع کچہری اٹک میں بطور لائر کلرک عملی زندگی کا آغاز کیا، بعد ازاں قانون کی ڈگری حاصل کرکے باقاعدہ وکالت سے وابستہ ہوگئے۔ تاہم، ان کی شخصیت کا ایک نمایاں حوالہ ادب سے گہری وابستگی تھی۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے ادبی تنظیم قندیلِ ادب قائم کی اور اسی نام سے ایک ادبی مجلے کا اجرا کیا۔ یہ تنظیم اور مجلہ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے متعدد شعرا کی رہنمائی کی اور نئے لکھنے والوں کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خود شاکر القادری اور نادر وحید کو اپنا استاد تسلیم کرتے تھے، جو ان کی علمی انکساری اور ادبی روایات سے وابستگی کا ثبوت ہے۔
آسؔ مرحوم حلیم الطبع، عاجز، منکسرالمزاج اور پُرخلوص انسان تھے۔ ان کا کلام اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کے اخبارات و ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہا۔ ان کی شاعری میں انسانی احساسات، خوابوں کی دنیا، آرزوؤں کی کشش اور زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتیں اپنے مخصوص رنگ میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ زیرِ نظر غزل بھی اسی حساس شعری مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔
غزل
اجڑے ہوئے بیٹھے ہیں سرِ راہ گزر خواب
مر جائیں گے اک روز مرے لعل و گہر خواب
میں خواب کا بندہ ہوں مجھے خواب ہی دے دو
آنکھوں میں بسائے ہیں تیرے شام و سحر خواب
اک عمر اجالوں کے تعاقب میں کٹی ہے
کیسے نہ بھلا ہوں گے میرے شمس و قمر خواب
آتی ہے کسے راس بھلا شوق کی منزل
رہتے ہیں نگاہوں میں فقط آٹھ پہر خواب
سانسوں کی طنابیں بھی مری ٹوٹ چکی ہیں
چلتے ہوئے دیکھے ہیں پسِ شہرِ ہنر خواب
وقار احمد آسؔ کی یہ غزل خوابوں، آرزوؤں اور زندگی کی ناتمام خواہشوں کی ایک دل نشیں شعری تصویر ہے۔ شاعر نے خواب کو انسانی وجود کی ایسی بنیادی حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے جو زندگی کو حرکت، فکر کو وسعت اور احساس کو معنویت عطا کرتی ہے۔ ان کے ہاں خواب محض تمناؤں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا سرمایہ ہیں جس کے سہارے انسان دشوار راستوں پر چلتا اور امید کا دامن تھامے رکھتا ہے۔
غزل کا مطلع ایک اداس مگر پُراثر فضا قائم کرتا ہے۔ خوابوں کا سرِ راہ گزر اجڑ کر بیٹھ جانا ان آرزوؤں کی علامت ہے جو طویل انتظار اور مسلسل جدوجہد کے باوجود تعبیر سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ’’لعل و گہر‘‘ کی ترکیب ان خوابوں کی قدر و قیمت کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر کے لیے یہ خواب زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں، جن کے بکھرنے کا احساس دل میں ایک گہری کسک پیدا کرتا ہے۔ اس طرح غزل ابتدا ہی میں انسانی امیدوں کی نزاکت اور زندگی کی بے ثباتی سے آشنا کردیتی ہے۔
دوسرے شعر میں شاعر کی خوابوں سے وابستگی ایک ذاتی عہد کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ خواب اس کے لیے محض مستقبل کی خواہش نہیں بلکہ اس کی پہچان اور جینے کا قرینہ ہیں۔ ’’شام و سحر‘‘ کی ترکیب اس کیفیت کو دوام عطا کرتی ہے، گویا شاعر کی پوری زندگی ان آرزوؤں کے حصار میں بسر ہورہی ہے۔ اس شعر میں ایک حساس دل کی وہ کیفیت نمایاں ہے جو حالات کی سختیوں کے باوجود اپنے خوابوں سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں۔
زندگی بھر اجالوں کے تعاقب کا ذکر غزل کو فکری گہرائی عطا کرتا ہے۔ روشنی یہاں امید، آگہی اور کامیابی کی علامت ہے، جب کہ اس کے حصول میں گزرتی ہوئی عمر انسانی جدوجہد کی داستان سناتی ہے۔ ’’شمس و قمر‘‘ کا استعارہ خوابوں کی وسعت اور ان کی تابندگی کو نمایاں کرتا ہے۔ شاعر کے تخیل میں یہ آرزوئیں آسمان کی وسعتوں سے ہم کلام دکھائی دیتی ہیں۔ اس شعر میں عمر بھر کی جستجو اور خوابوں سے وابستہ توقعات کا احساس ایک ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
شوق کی منزل کے حوالے سے شاعر کا سوال زندگی کے ایک گہرے تجربے کی ترجمانی کرتا ہے۔ انسانی خواہشات کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا؛ ایک منزل ملتی ہے تو دوسری منزل نگاہوں میں بس جاتی ہے۔ یہی کیفیت خوابوں کو انسان کی زندگی کا مستقل حوالہ بنادیتی ہے۔ ’’آٹھ پہر خواب‘‘ کی ترکیب اس ہمہ وقتی وابستگی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر کی نگاہوں میں خوابوں کی مسلسل موجودگی اس کے باطن کی بے قراری اور اس کی آرزو مندی کی غماز ہے۔
غزل کا اختتامی شعر زندگی کی تھکن اور خوابوں کی مسلسل حرکت کے درمیان ایک خوب صورت معنوی رشتہ قائم کرتا ہے۔ ’’سانسوں کی طنابیں‘‘ زندگی کے سہاروں اور قوتِ حیات کا استعارہ ہیں، جب کہ ان کا ٹوٹ جانا ایک طویل سفر کی تھکن اور داخلی شکستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس خوابوں کا چلتے رہنا انسانی آرزو کی اس قوت کی علامت ہے جو نامساعد حالات میں بھی اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ یوں شاعر ایک ایسی کیفیت کو گرفت میں لیتا ہے جہاں جسم تھک جاتا ہے، مگر تخیل کی دنیا آباد رہتی ہے۔
فنی اعتبار سے اس غزل میں خواب کا مرکزی استعارہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا ہے۔ اجڑے خواب، شام و سحر کی آرزوئیں، شمس و قمر کی تابانی اور سانسوں کی ٹوٹتی طنابیں مل کر ایک ایسی شعری فضا تشکیل دیتے ہیں جس میں امید، محرومی اور انسانی جدوجہد کے رنگ یکجا ہوجاتے ہیں۔ زبان کی سادگی اور احساس کی گہرائی اس کلام کو قاری کے دل سے قریب کرتی ہے۔
وقار احمد آسؔ کی یہ غزل ہمیں اس حقیقت سے آشنا کرتی ہے کہ خواب انسانی زندگی کا محض ایک تصور نہیں بلکہ اس کی روح کی آواز ہیں۔ یہی خواب انسان کو جینے کا حوصلہ دیتے اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی تحریک پیدا کرتے ہیں۔ آسؔ مرحوم کی ادبی خدمات اور ان کا شعری سرمایہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اہلِ قلم اپنی تخلیقات اور ادبی کاوشوں کے ذریعے اپنے عہد سے آگے بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کی یہ غزل بھی خوابوں سے محبت کرنے والے ہر حساس دل کے لیے ایک مانوس صدا کی حیثیت رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ وقار احمد آسؔ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کی ادبی خدمات کو قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔