مظہر علی خان کھٹڑ سے مکالمہ
انٹرویو نگار: سید حبدار قائم
مظہر علی خان کھٹڑ کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ادب کے گلشن میں اپنی الگ پہچان قائم کی ہے۔ وہ اردو کے نعت گو شاعر ہیں اور پنجابی زبان میں بھی اپنے احساسات و جذبات کو شعری پیکر عطا کرتے رہتے ہیں۔ ان کے کلام میں سادگی، سلاست اور عام فہم زبان کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو براہِ راست قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔ اب تک ان کی ایک کتاب منظرِ عام پر آ چکی ہے، جسے اہلِ علم و ادب کی توجہ حاصل ہوئی اور ان کی نعتیہ شاعری پر تحقیقی مقالہ بھی ڈیرہ غازی خان کی یونیورسٹی میں تحریر کیا جا چکا ہے۔ مختلف ادبی تنظیموں کی جانب سے ملنے والے اعزازات ان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہیں۔ ان کے کالم اور کتابوں پر تحریر کردہ تبصرے مختلف ادبی رسائل اور اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ کتاب سے ان کا رشتہ محض مطالعے تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی زندگی کا ایک مستقل حوالہ ہے۔ وہ ادب کو محبت کا استعارہ اور اہلِ قلم کو معاشرے کا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ اٹک کے مردم خیز گاؤں مہورہ سے تعلق رکھنے والے مظہر علی خان کھٹڑ کی شخصیت میں علمی ذوق کے ساتھ خلوص و محبت کی خوشبو بھی رچی بسی ہے۔ وہ ملنسار، محبت کرنے والے اور ادیبوں کی قدر و منزلت جاننے والے انسان ہیں۔ ان کے ہاں لفظوں کی نمائش کی بہ جائے احساس کی سچائی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری کا حسن یہی ہے کہ وہ مشکل تراکیب کی بہ جائے سادہ لفظوں میں گہری بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان سے ہونے والی گفتگو ان کے ادبی سفر، شعری فکر، نعتیہ وابستگی اور شخصیت کے مختلف گوشوں کو سمجھنے کی ایک خوب صورت کوشش ہے۔ آئیں ان سے گفتگو کرتے ہیں:۔
1۔ سب سے پہلے اپنےحالات، خاندانی پس منظر، تعلیم اور ادبی سفر کے آغاز کے بارے میں قارئین کو آگاہ فرمائیے۔
ج۔ جی میرا ایک زمیندار گھرانے سے تعلق ہے تعلیم میٹرک ہے پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں حاصل کی اس کے بعد مڈل تک قریبی گاؤں بھٹیوٹ میں اور میٹرک راولپنڈی بورڈ سے پرائیویٹ طور پر کیا
شاعری کا شوق بچپن میں ہی تھا لڑکپن میں ماہیئے وغیرہ لکھنے شروع کیے اکا دکا شعر بھی لکھتا مگر عروض کی سوجھ بوجھ نہیں تھی نعت لکھنے کی ابتدا 2019ء میں کی اور اسامہ سَرسَری صاحب سے شعری وزن کورس مکمل کیا اور پھر باقاعدہ طور پر نعت لکھنا شروع کر دی
2۔ ادب کی دنیا میں قدم رکھنے کا محرک کون سی شخصیت یا واقعہ بنا؟
ج۔ احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کا مطالعہ
3۔ آپ بیک وقت نعت گو شاعر، کالم نگار اور تبصرہ نگار ہیں۔ ان تینوں اصناف میں سے آپ کے دل کے سب سے قریب کون سی صنف ہے اور کیوں؟
ج۔ نعت شریف دل کے قریب ہے
کیونکہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں لکھتا ہوں اور اس پر نازاں ہوں کہ مجھ جیسے ناچیز کو اللہ پاک نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت لکھنے کی توفیق بخشی ہے
4۔ نعت گوئی ایک مقدس اور حساس صنفِ سخن ہے۔ آپ کے نزدیک ایک کامیاب نعت کے لیے کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے؟
ج۔ ویسے تو سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرنا آپ کی شان میں بھلے ایک ہی لفظ بول دینا بھی نعت ہے مگر جب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت شاعری میں لکھی یا پڑھی جائے تو سب سے پہلے ادب کو سامنے رکھا جائے مثلاً تو تیرا جیسے لفظوں سے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہ کیا جائے بہترین الفاظ کا چناؤ کیا جائے اور نعت کے اشعار میں اوزان کا خیال رکھا جائے نعت شریف کو کسی بحر میں لکھا جائے تاکہ نعت خوان اسے اچھے انداز میں پڑھ سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب نہ کیا جائے اگر کسی واقع یا معجزہ کا ذکر کیا جائے تو پہلے مطالعہ کر کے کنفرم کر لیا جائے کہ یہ معجزہ یا حدیث واقع ہی درست ہے مستند کتب میں اس کا حوالہ ہے تو اس کو شاعری میں استعمال کیا جائے محض سنے سنائے واقعات پر عمل نہ کیا جائے
5۔ نعت لکھتے وقت آپ کن کیفیات سے گزرتے ہیں، اور کیا کبھی کوئی نعت اچانک وارد ہونے والی کیفیت کے زیرِ اثر بھی لکھی؟
ج۔ جی حضور خیالوں میں کبھی سبز گنبد کبھی سنہری جالیوں کبھی مدینے کی گلیاں ہوتی ہیں 2014ء میں ناچیز کو عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی تھی مکہ پاک اور مدینہ پاک میں جن جن زیارات کی حاضری نصیب ہوئی وہاں کے منظر خیالات میں ہوتے ہیں
اچانک کئی بار انعات وارد ہوئی ہیں مگر یہ نعت اک خاص رات میں وارد ہوئی
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
طیبہ میں بنے اب تو اک چھوٹا سا گھر میرا
سرکارؐ کے قدموں میں ہو کاش یہ سر میرا
میں روز کروں اُنؐ کے روضے پہ سلام آ کر
سرکارؐ کی گلیوں سے ہو کاش گزر میرا
سرکارؐ کے صدقے سے، رب پاک کرم کرنا
آسان تو کر دینا دو پل کا سفر میرا
لب پر ہے دعا ہر دم تجھ سے اے خدایا یہ
جنت میں سدا خوش ہوں ماں اور پدر میرا
سرکارؐ بلائیں گے دربار میں اپنے جب
ہو ساتھ مرے یا رب استاد ادھر میرا
جب نعت میں لکھتا ہوں سرکارؐ دوعالم کی
گلزار تبھی دل کا ہو جائے نگر میرا
رخسار نورانی وہ جب دیکھے ہیں مظہر نے
معلوم نہیں مجھ کو تھا ہوش کدھر میرا
6۔ آپ کے نزدیک نعت گوئی میں عشقِ رسول ﷺ اور فنی پختگی کے درمیان کیا تعلق ہے؟
ج۔ جی حضور میرے نزدیک تو نعت گوئی میں فنی پختگی کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ اور پھر اس پر عمل بے حد ضروری ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ اور پھر اس پر عمل کرنا اسی کو نصیب ہوتا ہے جس کو ان سے عشق ہوتا ہے میری ناقص سمجھ کے مطابق تو عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور فنی پختگی کے درمیان تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ اور پھر اس پر عمل کرنا ہی ہے
7۔ نعتیہ شاعری میں عقیدت کے ساتھ شعری محاسن، زبان و بیان اور عروض کی پابندی کس قدر اہمیت رکھتی ہے؟
ج۔ شعری محاسن ضروری ہیں جی زبان چاہیے کوئی بھی ہو بیان میں تاثیر ہونی چاہیے عروض آٹھویں صدی کی ایجاد ہے حضورؐ اور نعت تو بہت پہلے سے ہے لیکن آج کل کے قواعد کے مطابق نعت گو شاعر کو عروض سے آشنائی ہونی چاہیئے
8۔ آپ کی نعت گوئی پر کن شعرا، اساتذہ یا ادبی شخصیات کے اثرات نمایاں ہیں؟
ج۔ سید حبدار قائم
9۔ کالم نگاری میں آپ کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ ہے، حقائق کی ترجمانی ہے یا اپنے عہد کے حالات کو قلم بند کرنا؟
ج۔ جی حضور، اصلاح معاشرہ بھی اور اپنے عہد کے حالات کو قلمبند کرنا بھی
10۔ موجودہ دور میں کالم نگار کو کن مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے؟
ج۔ جی موجودہ حالات میں سچ لکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے اور دوسری بات کالم اخبار میں شائع کروانا مشکل ہو گیا ہے اگر آپ کے مالی حالات خراب ہیں تو آپ اخبارات میں اپنی تحاریر شائع نہیں کروا پائیں گے اخباری نمائندے پیسے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں جو ہر کالم نگار پوری نہیں کر سکتا
11۔ آپ کے نزدیک ایک اچھے کالم کی پہچان کیا ہے؟ کیا اس میں ادبی چاشنی زیادہ اہم ہے یا موضوع کی معنویت؟
ج۔ موضوع کی معنویت زیادہ اہم ہے جی
12۔ تبصرہ نگاری میں کسی کتاب کے محاسن و معائب بیان کرتے ہوئے غیر جانب داری برقرار رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟
ج۔ بہت مشکل کام ہے حضور غیر جانب داری برقرار رکھنے والے اکثر اکیلے رہ جاتے ہیں
13۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں کتابوں پر معیاری تنقیدی تبصرے لکھنے کی روایت کمزور پڑ رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟
ج۔ جی حضور بالکل ایسا ہی ہے اور اس کی وجہ کتابیں لے کر الماریوں میں رکھ دینا ہے جب کتاب کھولی ہی نہیں جائے گی تو تبصرے کیسے لکھیں جائیں گے
14۔ جب آپ کسی شاعر یا ادیب کی تخلیق پر تبصرہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے کس پہلو کو اہمیت دیتے ہیں: فکر، اسلوب، زبان یا فنی معیار؟
ج۔ جی حضور فکر کو
15۔ آج کے ادبی ماحول میں گروہ بندی، ذاتی تعلقات اور پسند و ناپسند نے ادبی تنقید کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
ج۔ جی حضور بہت ہی زیادہ متاثر کیا ہے جی خاص طور پر گروہ بندی نے
16۔ سوشل میڈیا نے اردو ادب اور شاعری کو نئی وسعتیں دی ہیں یا ادبی معیار پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
ج۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اردو ادب اور شاعری کو نئی وسعتیں ضرور ملی ہیں جی مگر سوشل میڈیا نے قارئین اور کتاب کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں
17۔ نئی نسل میں نعت گوئی اور مطالعے کا ذوق پیدا کرنے کے لیے ادیبوں، اساتذہ اور ادبی اداروں کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
ج۔ جی حضور ادبی محافل اور کتاب کو عام کرنا چاہیے
18۔ آپ کے نزدیک ایک ادیب کی اصل کامیابی شہرت، پذیرائی اور اعزازات ہیں یا اس کی تحریر کا معاشرے پر مثبت اثر؟
ج۔ جی حضور ادیب کی تحریر سے اگر معاشرے پر مثبت اثر پڑے تو یہی اس کی کامیابی ہے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں نقلی شہرت اور پذیرائی سے بہتر ہے
19۔ اپنی ادبی زندگی کے دوران کوئی ایسا واقعہ بیان کیجیے جس نے آپ کی سوچ، شخصیت یا تخلیقی سفر کو گہرائی سے متاثر کیا ہو۔
ج۔ کچھ اپنوں کی طرف سے دیے گئے زخموں نے
20۔ آپ نے اخبار نکالا لیکن جلد ہی چھوڑ دیا کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
ج۔ مجھے حالات کی مجبوریوں نے بہت مصروف کر دیا ہے جی، وقت نہیں دے پا رہا تھا اس لیے عارضی طور پر بند کیا ہے
21۔ اپنی نعت کے چار پانچ شعر سنائیں؟
ج۔
فلک پر خدا کے جو مہمان ٹھہرے
نبیؐ وہ ہمارے ہیں سلطان ٹھہرے
درود ان پہ بھیجو سلام ان پہ بھیجو
وہ سارے جہانوں کی جو جان ٹھہرے
دل! نبیؐ کی عطا کی باتیں کر
چل! درِ مصطفٰیؐ کی باتیں کر
ذیشان ہے دنیا میں دربار محمدؐ کا
قرآن بتاتا ہے کردار محمدؐ کا
دو پھول ہیں زہرا کے سردار جو جنت کے
وہ پھول سجاتے ہیں گلزار محمدؐ کا
22۔ آخر میں قارئین، نوجوان شعرا اور ادب سے وابستہ افراد کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟ نیز اپنے مستقبل کے ادبی منصوبوں کے بارے میں بھی بتائیے
ج۔ قارئین کے لیے ناچیز کا یہ ہی پیغام ہے حضور، کہ کتاب کو عزت دی جائے کم ازکم روزانہ موبائل کو ایک گھنٹہ چارج پر لگا کر کتاب کا مطالعہ کیا جائے اور اپنے ان دنوں تمام منصوبے کچھ دنیا کی مصروفیات کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں جی،
ان شاءاللہ زندگی حالات اور وقت نے ساتھ دیا تو بہت جلد رکے ہوئے ادبی کاموں کو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کی مشکلیں دور فرما کر آسانیاں پیدا فرمائے آمین یارب العالمین
بہت بہت شکریہ استاد محترم آپ نے ناچیز کو اس قابل سمجھا اللہ کریم آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے آمین یارب العالمین
مظہر جی، ہم بھی آپ کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ پاک آپ کو صحت، رزق اور اولاد کی کامیابیوں سے سرفراز فرماۓ۔ آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔