شاعر و ادیب پروفیسر سید عاصم بخاری سے مکالمہ
انٹرویو کنندہ:۔ سید حبدار قائم
پروفیسر عاصم بخاری ایسے پھول کا نام ہے جو میانوالی کی خوبصورت سرزمین سے پھوٹا اور جس کی خوشبو وطن عزیز کے علاوہ پوری دنیا تک پھیل چکی ہے نثر ہو یا شعر دونوں میں بالیدگیء فکر طواف کرتی نظر آتی ہے ان کی فکری عفت ان کی تحاریر میں واضح نظر آتی ہے میں نے جب بھی فون کیا بڑی خوش دلی سے کلام کرتے ہیں طبیعت میں خوش خلقی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اندازِ بیاں دل موہ لینے والا ہے اسرارِ خودی سے واقف ہیں اس لیے خود آگاہ و خدا مست ہیں اکثر ادبی رسائل اور اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں ان کے کام پر ہر کوئی حیران ہے بچوں کا ادب فریضہ سمجھ کر تخلیق کرتے ہیں شعر وقت کے تھپیڑوں کے مطابق لکھتے ہیں ان کے شعر میانوالی کی خوشبو میں گندھے ہوۓ ہوتے ہیں افسانہ بہت خوبصورت لکھتے ہیں بہت ساری اصنافِ سخن پر دسترس ہے اس لیے جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ان کے کلام میں بناوٹ بالکل نہیں ہے
اسلوبِ سخن سادہ ہے اس لیے ادیبوں میں پسند کیے جاتے ہیں آج میں نے ان کا انٹرویو کیا ہے جو قارئین کی نذر کرتا ہوں:۔
س۔ سر بچپن کیسے گزرا، کہاں پیدا ہوئے والدین کا پیشہ کیا تھا ؟
ج۔ دریائے سندھ کےمشرقی کنارے جناح بیراج کالا باغ کے پہلو میں واقع گاؤں پکی شاہ مردان میں 10 جون 1971ء کو ضلع میانوالی میں پیدا ہوا۔ بچپن دیہاتی ماحول میں مٹی سے پیار کرتے اور کھیلتے گزر گیا۔اب جس کی صرف سنہری یادیں ہی باقی اور دل کو ستاتی ہیں۔
س۔جوانی میں کیا کیا کام کیے؟
ج۔ قبلہ !
ہائے جوانی
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں
بقول ِ شاعر
جھپکی ذرا سی آنکھ جوانی گزر گئی
مرشد !
حصول ِ تعلیم ، غمِ روز اور تلاشِ روز گار کے سبب نوجوانی سے کماحقہ لطف اندوز نہ ہو سکے ۔اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر کارنامہ ہے عہدِ شباب کا۔۔۔
بس پڑھتے پڑھاتے گزر گئی
س۔ والدین کے ساتھ زندگی کیسے گزری ؟
ج۔ الحمد للہ !
والدین تو سائبان ہوتے ہیں ۔چھتنار درخت کے سائے یقیناً بے غم اور بے فکر گزرتی ہے۔سو خوب گزری
س۔ تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی؟
ج۔ حصولِ تعلیم کا سلسلہ ماں کی گود اور باپ کی شفقت سے شروع ہوا۔آٹھویں تک تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول پکی شاہِ مردان میانوالی سے حاصل کی۔میٹرک 1987ء میں تاریخی اور ثقافتی شہر کالا باغ سے 1987 میں کی۔بعد ازاں گونمنٹ ڈگری کالج میانوالی کا رخ کیا۔ جہاں سے 1989 میں ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج فار ٹیچرز ، میانوالی سے ہی 1990ء میں سی ٹی (Certified Teacher) کا امتحان پاس کیا۔ 1991 میں بہ طور پرائیویٹ امیدوار یونی ورسٹی آف پنجاب لاہور سے بی اے پاس کیا۔1994ء میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا۔ 1999ء میں پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا۔ 2002 علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد سے ایم ایڈ کا امتحان پاس کیا۔ یونی ورسٹی آف سرگودھا کے میانوالی کیمپس سے 2015. 2017 سیشن میں ایم فل اردو کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹریٹ کی خواہش کے بارے بقولِ شاعر بس اتنا ہی کہوں گا۔
ع
دبی ہے جگر کی آگ مگر بجھی تو نہیں
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرعام پر لانا چاہے؟
ج۔ سکول کے زمانے میں مترنم نعت اور کلامِ اقبال سٹیج پر پڑھا کرتا تھا۔کالج کے زمانے میں سازگار ادبی فضا میسر آنے پر یہ ذوق زیادہ پروان چڑھا۔انٹر کے بعد میں نے شعر کہنا شروع کیا۔
س۔ شاعری میں اپنا استاد کسے مانتے ہیں؟
ج۔ ذوق شوق تو شروع سے ہی تھا۔بخاری برادران (پروفیسر علی اعظم بخاری اور پروفیسر فیروز بخاری) شاعری میں میرے استاد ہیں۔ان سے ہی میں نے سیکھا۔
س۔ پہلی تخلیق کب اور کہاں شائع ہوئی؟
میری پہلی کتاب سانجھے ویہڑے تھی۔جس میں سرائیکی کلام شامل تھا۔2001ء میں شائع ہوئی۔
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج۔ میرا اپناشعر ہے
داد وہ اس لیے ، نہیں دیتا
حوصلہ یہ بہت ،بڑھاتی ہے
شاہ صاحب !
بھلا ہو احباب
حسبِ ظرف اور حسبِ توفیق سب نے نوازا۔ تبھی تو شوق اور ذوق کا سلسلہ آگے بڑھا۔ورنہ ادھر ہی رک جاتا۔
س۔بطور شاعر مطالعے کی کیا اہمیت سمجھتے ہیں ؟
ج۔ حُب دار صاحب ! مطالعہ تو غذا کے جیسے اہمیت کاحامل ہے۔کلام اور تحریر میں جان پیدا کرنے کے لیے مطالعہ شرطِ اول ہے۔ مطالعہ کے بغیر سفر تو جاری رہ سکتا ہے حصولِ منزل ممکن نہیں۔
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے؟
ج۔ جی بالکل
بے حد ضروری ہے۔
سینئرز کو بڑے پن اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئےراہنمائی اور حوصلہ افزائی بہر حال بہر طور کرنی چاہیے یہ ان کا ادبی فریضہ ہے۔ یہی چیز نوخیز ، نو آموز اور نو وارد کو آگے لے کر جاتی ہے۔
س۔آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُسے سے مطمئن ہیں؟
ج۔ جی نہیں
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
جس پذیرائی اورحوصلہ افزائی کے وہ مستحق ہیں اس قدر ان کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پا رہی۔یہ ان کی ہمت ہے کہ ناقدری کے باوجود رواں دواں ہیں۔
س۔آپ جب نعت لکھ رہے ہوتے ہیں تو روحانی طور پر خود کو کیسا محسوس کر رہے ہوتے ہیں؟
ج۔ نعت پڑھتے نعت کہتے نعت لکھتے وقت ایک مسلمان اور صاحبِ ایمان کی حالت و کیفیت دیدنی اور قابلِ رشک ہوتی ہے۔شاعر روحانی و وجدانی کیف میں ہوتا ہے۔یقیناً میں بھی نعت کہتے ہوئے خود کو طیبہ میں ہی محسوس کرتا ہوں۔
س۔آپ بیک وقت اردو اور پنجابی زبان میں لکھ رہے ہیں، ذہنی طور پر کس زبان میں لکھتے ہوئے سکون زیادہ ملتا ہے اور کیوں ؟
ج۔ ہر زبان کا تخلیقی میں اپنا لطف ہے۔اردو قومی زبان ہے وسیع ابلاغ کے لیے لازم ہے۔ماں بولی تو ماں بولی ہوئی اس کی تو کیابات۔جو لطف مقامی زبان میں اظہار کا ہے۔وہ کسی اور میں کہاں
س۔ سر آپ افسانہ نگار بھی ہیں یہ بتائیے کہ آج کیسا افسانہ پسند کیا جاتا ہے اور افسانے کا مستقبل کیا ہے؟
ج۔ قلمکار وقت کا نباض ہوتا ہے وہ یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ
واضح ہو مختصر ہو کرو بات کام کی
عاصم بخاری دور ہے یہ اختصار کا
شارٹ سٹوری اور افسانچے کا آج بھی ہے اور کل بھی ، یعنی آج بھی مختصر افسانہ اور افسانچہ قبول ہے اور کل بھی اسی کا ہی ہوگا۔
س۔ اے آئی سے مضامین وغیرہ لکھوا کر بعض نئے لکھاری ادیبوں کی لسٹ میں شامل ہو رہے ہیں آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ج۔ اے آئی دورِ جدید کا مفید کارنامہ ہےمگر شاعر و ادیب کو اپنے ہی زورِ بازو پر ہی ناز کرناچاہیے ورنہ
بقول مولوی اسلم
تجھے بے آسرا کر دیں گی یہ بے ساکھیاں تیری
سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں
یہ تخلیقیت کے لیے دیمک ہے۔لہذا اس پہ انحصار کرنے والے قلم کار زیادہ دیر نہیں جی سکتے
س۔دورِحاضر تک آپ نے ادب اطفال پر کیا کام کیا ہے؟
ج۔ میں اس لحاظ سے خوش قسمت واقع ہوا ہوں کہ میں نے زیادہ تر موضوعات پر شعر گوئی کی ہے جس میں بوڑھوں کے بارے لکھا، عورت کے موضوع پر خوب اور کھل کر شعر کہے۔اگر اطفال ادب کی بات کی جائے تو اس موضوع پر تم جو چاہو کر سکتے ہو کے عنوان سے بچوں کی نظموں کا مجموعہ بھی ہے۔علاوہ ازیں ماہنامہ پھول لاہور ، ماہنامہ تعلیم وتربیت لاہور ، ماہنامہ مہک کراچی ، روزنامہ طالبِ نظر کراچی کے علاوہ بہت سے بچوں کے رسائل جرائد میں کثرت سے لکھتا اور چھپتا رہتا ہوں۔جس پر مجھے متعدد اعزازات اور ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے ج۔ کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں اور جوانوں کو کتاب سے دور کیا ہے؟
زمانے کے تغیر و تبدل سےٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں پوری دنیا متاثر ہوئی وہاں بچوں اور بڑی نے بھی لامحالہ متاثر ہونا تھا۔اور متاثر ہوئے۔جس کے نتائج مختلف صورتوں میں آج ںسامنے آ رہے ہیں۔یہ سب ادب سے دوری ہے۔
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
ج۔ جی ہاں
کتاب میلوں کی ہر دور میں ضرورت رہی اس دور کو تو بہ طورِ خاص ضرورت ہے۔
س۔ آپ فرصت کے لمحات کو کیسے گزارتے ہیں؟
ج۔ حُب دار قائم صاحب ! خوش نصیب ہے وہ شخص جسے آج فرصت میسر ہے۔
ویسے
اس دور میں اس بات کا امکان تو نہیں
میں فرصت کی گھڑیوں میں مطالعہ کر لیتا ہوں۔
س۔ آپ کے کن مجموعوں پر تحقیقی ہوا ہے اور یہ کام کس طالب علم اور کس یونیورسٹی نے کیا ہے؟
ج۔ الحمد للہ
اس حوالے میری ذات پر خالقِ لوح و قلم کا خاص کرم ہے۔
میری شخصیت اور فن کے مختلف زاویوں پر مختلف موضوعات اور عنوانات پر ایم اے اردو ، بی ایس اردو اور ایم فل سطح کے تحقیقی مقالے لکھوانے والی یونیورسٹیوں میں غازی یونی ورسٹی ڈی جی خان ، قرطبہ یونیورسٹی ڈی آئی خان ، الحمد یونی ورسٹی اسلام آباد ، پشاور یونی ورسٹی یون ورسٹی آف سرگودھا ، بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان کے ساتھ ساتھ یونی ورسٹی آف میانوالی شامل ہیں۔ اور کچھ مقالہ جات ابھی جاری اور زیرِ تکمیل ہیں۔میرے کافی مجموعوں پر انفرادی کام بھی ہوئے ہیں جب زیادہ تر تحقیقی موضوعات جامعیت کے حامل اور مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے ہیں۔
س۔آپ کے مجموعوں پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے،آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
ج۔ جی۔
بلاشبہ
تخلیقات و تصنیفات پر جامعات کی سطح پر تحقیق ہونا بذات ِ خود اعزاز و افتخار اور آپ کی خدمات کا اعتراف اور وہ بھی آپ کی زندگی میں ، آپ کی موجودگی میں۔بہت بڑی بات ہے اگر سمجھی جائے تو۔۔۔۔
س۔کیا زندگی میں کوئی ایسا دل چسپ واقعہ ہے جس نے سوچ کا دھارا بدلا ہو؟
ج۔ زندگی تو ایسے بیسیوں سبق آموز واقعات سے رقم ہے۔جن سے نجانے کیاکیا سبق حاصل ہوئے۔
س۔نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنے کے لیے نجی اورسرکاری اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟
ج۔ علمی ادبی سیاحتی و ثقافتی ماحول کی اشد ضرورت ہے۔کھل کے میدان آباد ہوں فضا پرسکون ہو۔شعوری کوشش سے کتاب خوانی اور کتاب بینی کو رواج دیا جائے۔ثقافتی تقاریب کے ساتھ ساتھ فروغِ ادب کے ذریعے سماج میں چین سکون امن خوش حالی ، خوش مذاقی ، خوش مزاجی تحمل روادری اور برداشت لائی جاسکتی ہے۔
س۔معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جا سکتا ہے؟
ج۔ کتاب و قلم اور حرف و شعور کے ذریعے ہی ادیب کا مقام بلند ہونے کے امکانات ہیں۔
س۔ میرے علاوہ آپ سے کتنے لوگوں نے شعر سیکھا ہے۔
ج۔ شاہ صاحب
یہ آپ کی محبت ہے۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا
س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
ج۔ اللہ پاک خیر رکھے
یہی لکھنا لکھانا اور پڑھنا پڑھانا ہی جاری رہے تو غنیمت ہے۔
س۔قارئین کے نام کوئی پیغام دینا چاہئیں گے؟
ج۔ سوشل میڈیا کے ساتھ اندھا دھند چل کے دیکھ لیا۔ کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔اگر ذہنی سکون اور اعتدال چاہیے تو کتاب ہی کو دوست بنا لیں۔میرے خیال میں کتاب ہی بہترین ساتھی ہے۔
آخر میں پروفیسر عاصم بخاری صاحب کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ پاک ان کو حیاتِ خضر علیہ السلام اور صحتِ کاملہ سے نوازے تاکہ آپ اسی طرح ادب کی خدمت کرتے رہیں۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔