آہ! رانا شوکت علی خان چل بسے
انا للہ وانا الیہ راجعون!
تحریر۔۔۔۔۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
اٹک کی صحافتی، سیاسی اور سماجی زندگی سے وابستہ معروف شخصیت رانا شوکت علی خان کی وفات سے ایک عہد تمام ہوا۔ مرحوم سینئر صحافی، سابق ناظم یونین کونسل اٹک سٹی نمبر 2 اور اٹک فٹبال ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین تھے۔ وہ صحافت، بلدیاتی سیاست اور کھیلوں کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کے باعث پہچانے جاتے تھے رانا شوکت علی خان نے اپنی عملی زندگی میں صحافت کے ساتھ بلدیاتی سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ ضلع ناظم میجر طاہر صادق کے دور میں انہوں نے اپوزیشن کا کردار نبھایا اور مقامی حکومت کے معاملات میں اپنے مؤقف کا اظہار کرتے رہے۔ شہری مسائل اور یونین کونسل کی ضروریات کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں بھی ان کی عوامی زندگی کا حصہ رہیں۔
جون 2007ء میں انہوں نے ڈاکٹر شیخ وسیم صدیقی اور دیگر کونسلرز کے ہمراہ مدنی چوک اٹک میں چار گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی۔ اس احتجاج کے ذریعے یونین کونسل کے ترقیاتی مسائل اور فنڈز کی فراہمی سے متعلق معاملات اجاگر کیے گئے۔ بعدازاں انہوں نے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 15، اٹک ون سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کیا، جو ان کی سیاسی دلچسپی اور عوامی نمائندگی کے عزم کا مظہر تھا کھیلوں کے میدان میں بھی مرحوم کی وابستگی رہی۔ اٹک فٹبال ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین کی حیثیت سے ان کا نام مقامی کھیلوں کی سرگرمیوں سے وابستہ رہا۔ صحافت، بلدیاتی سیاست اور کھیلوں سے تعلق نے انہیں اٹک کی مقامی زندگی میں ایک پہچان عطا کی رانا شوکت علی خان کی زندگی کا سب سے کرب ناک پہلو ان کے بیٹے رانا عبید علی شوکت کی وفات کا صدمہ تھا۔ اولاد کی جدائی ایسا غم ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس بڑے سانحے کے بعد انہیں زندگی کے ایک سخت امتحان سے گزرنا پڑا۔
مرحوم خود بھی طویل عرصے سے عارضۂ قلب اور ذیابیطس جیسے امراض کا سامنا کر رہے تھے۔ انہوں نے پاکستان میں مختلف مقامات پر علاج کروایا، راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بھی زیرِ علاج رہے اور علاج کی غرض سے امریکہ بھی گئے۔ بیماریوں کے باوجود ان کی زندگی کا رشتہ صحافت، سیاست اور عوامی سرگرمیوں سے قائم رہا رانا شوکت علی خان کی وفات ان تمام لوگوں کے لیے افسوس کا باعث ہے جو انہیں صحافتی، سیاسی یا سماجی حوالے سے جانتے تھے۔ ان کی زندگی اٹک کی مقامی صحافت اور بلدیاتی سیاست کے کئی اہم حوالوں سے جڑی رہی۔ ان کی وفات کے ساتھ ایک ایسا شناسا چہرہ اوجھل ہوگیا جس نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں عوامی معاملات اور مقامی سرگرمیوں میں موثر کردار ادا کیا

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔