مشاہیرِ ادب سے مصاحبہ
شخصیت : شاعر و ادیب مقبول ذکی مقبول
انٹرویو کنندہ : سید حُب دار قائم ، اٹک
مقبول ذکی مقبول کا نام سرائیکی وسیب کی ادبی فضاؤں میں ایک ایسی معتبر آواز کی حیثیت رکھتا ہے جس کی بازگشت اردو ادب کے ایوانوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کی شخصیت محض ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک ایسے صاحبِ مطالعہ ادیب کی ہے جس نے کتاب کو اپنا رفیق اور ادب کو اپنی زندگی کا معتبر حوالہ بنا رکھا ہے۔ منکیرہ، ضلع بھکر کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے مقبول ذکی مقبول نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے سرائیکی اور اردو دونوں زبانوں کے دامن کو مالا مال کیا ہے۔ ان کے قلم سے کئی کتابیں منصۂ شہود پر آ چکی ہیں، جن میں ان کے فکری شعور، ادبی ذوق اور تخلیقی ریاضت کے نقوش نمایاں ہیں۔ ان کی علمی و ادبی کاوشوں پر مختلف سطحوں پر تحقیقی مقالے اور تھیسز تحریر کیے جا چکے ہیں، جو ان کے ادبی مقام کا معتبر اعتراف ہیں۔ متعدد ادبی تنظیموں کی جانب سے ملنے والے اعزازات ان کی مسلسل ادبی خدمات کا اعتراف ہیں۔ ان کی تحریروں، انٹرویوز اور کتابوں پر تبصروں کی اشاعت بھی ان کی ادبی مقبولیت اور فکری پذیرائی کا ثبوت ہے۔ وہ ان اہلِ قلم میں شامل ہیں جن کے لیے کتاب محض اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیب، شعور اور احساس کی ایک روشن کائنات ہے۔ ادیبوں سے محبت، اہلِ قلم کی قدر شناسی اور ادبی سرگرمیوں سے وابستگی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں۔ ان کے ہاں ادب ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری سفر ہے، جس میں مطالعہ ان کا زادِ راہ اور قلم ان کا ہم سفر ہے۔ مقبول ذکی مقبول سے ہونے والی یہ گفتگو ان کی ادبی زندگی، شعری سفر، فکری جہات اور کتاب دوستی کے ان گوشوں کو سامنے لانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے جو قارئین کے لیے یقیناً دلچسپی اور استفادے کا باعث بنے گی۔
سوال : سر بچپن کی کیا یادیں ہیں ، کہاں پیدا ہوئے والدین کا پیشہ کیا تھا ۔ ؟
جواب : یکم جنوری 1977 ء لیّہ شہر میں کنال کالونی کوارٹرز میں میری پیدائش ہے ۔ میرے والد محترم اقبال حسین وہاں ملازمت کیا کرتے تھے ۔ بچپن کی یادیں سنہری ہیں ، جب یاد آتی ہیں تو دل کرتا ہے بچپن میں لوٹ جائیں لیکن گزرا ہوا زمانہ کہاں واپس آسکتا ہے ۔
سوال : جوانی میں کیا کھیل کود سے دلچسپی تھی ۔ ؟
جواب : تھوڑی بہت کرکٹ سے دلچسپی تھی وہ بھی نہ ہونے کے برابر ۔
سوال : والدین کے ساتھ زندگی کیسے گزری ۔ ؟
جواب : الحمدللہ والدین کے ساتھ بہت اچھی زندگی گزری وہ لمحات وہ وقت اور یادیں آج بھی یاد آتی ہیں ۔
سوال : کون کون سے اصنافِ سخن پر کام کرتے ہیں ۔ ؟
جواب : حمد ، نعت ، منقبت ، سلام ، نوحہ ، مرثیہ ، فردیات ، قطعات اور شخصی نظمیں وغیرہ ۔
سوال : آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اور اُسے منظرعام پر لانا چاہے ۔ ؟
جواب : اشعار تو میں بچپن میں کہا کرتا تھا تو فی البدیع کہا کرتا تھا ۔ اس وقت مجھے بہت شوق تھا اور ہمارے ایک ماموں زاد بھائی تھے اور ایک پھپھو زاد بھائی ان کو سنایا کرتا تھا ۔ باقاعدہ طور پر آغاز 2005ء میں نوحہ سے کیا ۔
سوال : شعر میں بلاغت لانے کے لیے کیا کرنا چاہیے ۔ ؟
جواب : اساتذہ کے کلام کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
سوال : شاعری میں اپنا استاد کسے مانتے ہیں ۔ ؟
جواب : شروع شروع سے تو بھکر کے معروف نوحہ خواں شاعر عاطف کربلائی سے اصلاح لیتا رہا ہوں کچھ عرصے بعد پھر باقاعدہ طور پر استاد الشعرا سائیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، بھکر سے اصلاح لیتا رہا ہوں ۔ ایک بات یاد آگئی ہے ۔ اسی حوالے سے علی شاہ ( مرحوم ) سے ایک شاعر نے سوال کیا تھا کہ آپ کا شاعری اور نثر میں کوئی استاد نہیں ہے ۔ تو شاہ جی نے بڑا خوب صورت جواب دیا، کہا تھا یہ پہلی جماعت سے لے کر اب تک ڈبل ایم اے تک یہ استاد ہی تو ہیں جو ہمیں پڑھا رہے ہیں ۔
سوال : آپ نے مختلف شخصیات کے انٹرویو کیے انٹرویو کرتے وقت کس شخصیت سے زیادہ سیکھنے کا موقع ملا ۔ ؟
جواب : سیکھنے کا موقع تو ہر وقت ہر معاملے میں انسان کو ملتا رہتا ہے ۔ جیسا کہ مولا علی علیہ سلام کا فرمان مبارک بھی ہے قدم قدم پر آپ ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھتے رہتے ہیں ۔
سوال : بطور شاعر آپ معاشرے کو کیسے سدھار سکتے ہیں ۔ ؟
جواب : سید حُب دار قائم یہ جو اشعار کہے جاتے ہیں یہ معاشرے کو سدھارنے کے لیے ہی کہے جاتے ہیں ۔ آگے معاشرہ ان کو کیسے لیتا ہے یہ معاشرے پر ہی منحصر ہے ۔
سوال : سر کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ ؟
جواب : کتابیں میری 11 شائع ہو چکی ہیں ۔ ان کے نام ہی آپ کو بتا دیتا ہوں ۔
٫٫ سجدہ ،، سرائیکی اسلامی شاعری ( 21 مئی 2017ء ) ناشر : اُردو سخن ڈاٹ کام پاکستان ، چوک اعظم ، لیّہ
٫٫ منہتائے فکر ،، مجموعہ سلام ( 7 اگست 2020ء ) ناشر : اُردو سخن ڈاٹ کام پاکستان ، چوک اعظم ، لیّہ
٫٫ سُنہرے لوگ ،، نام ور ادبی شخصیات کے انٹرویوز ( جون 2023ء ) ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور
٫٫ روشن چہرے ،، معروف ادبی شخصیات سے مصاحبے ( جولائی 2023ء ) ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور
٫٫ عاصم بخاری : اعترافِ فن ،، عاصم بخاری تحقیق و تنقید ( جنوری 2024ء ) ناشر : ایم ۔ ارسلان پبلشرز ، ملتان
٫٫ شذراتِ مقبول ،، مضامین و تبصرے ( جنوری 2024ء ) ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور
٫٫ یہ میرا بھکر ،، فردیات ( فروری 2024ء ) ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور
٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، اُردو پنجابی اور سرائیکی شاعری ( اگست 2024ء ) ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور
٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، کیفِ منظوم ( فروری 2025ء ) ناشر : ایم ۔ ارسلان پبلشرز ، ملتان
٫٫ حُب دار قائم جگمگاتا ستارہ ،، شخصیت اور فن ( فروری 2025ء ) ناشر : ممتاز پبلی کیشنز ، لاہور
٫٫ حُسنِ بیان ،، مضامین اور تبصرے ( 8 اکتوبر 2025ء )
ناشر : ممتاز پبلشنز ، لاہور
سوال : آپ کتابوں کے عاشق ہیں اب تک کتنی کتابیں آپ کی لائبریری میں جمع ہو چکی ہیں ؟
جواب : میری اوج لابریری میں ایک ہزار سے زیادہ کتابیں ہوں گی ۔
سوال : آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں ۔ ؟
جواب :جی حُب دار کسی سے کیا گلہ شکوہ جو کچھ جو کر رہا ہے خلوص اور محبت سے ہی تو کر رہا ہے اتنا ہی کافی ہے ۔ آپ خود اپنے آپ کو دیکھ لیں ادب کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں ۔
سوال : کتنی ادبی تنظیموں سے ایوارڈ لے چکے ہیں ۔ ؟
جواب : جی ہاں سب سے پہلے تو میں ان تمام ادبی تنظیموں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیں اعزازات سے نوازا نام اور تفصیل میں آپ کو بتا دیتا ہوں وہ کچھ اس طرح سے ہیں ۔
١. گولڈ میڈل ، منجانب ادب سرائے انٹرنیشنل (لاہور) 10 دسمبر 2018ء
٢. حسنِ کارکردگی اول ایوارڈ ، منجانب شاخِ ادب فیض پور خرد انصاری فاؤنڈیشن پاکستان ( شیخو پورہ ) 14 مارچ 2019ء
٣. نعت ایوارڈ ، منجانب عشقِ لہر ادبی انجمن (لاہور) 24 مارچ 2019ء
٤. ڈاکٹر یاسین جاوید ادبی ایوارڈ ، منجانب کاروانِ بیدل (جھنگ) 30 مارچ 2019ء
٥. گولڈ میڈل ، منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل ( ننکانہ صاحب ) 3 اگست 2020ء
٦. بھیل ادبی ایوارڈ ، سند اور دیگر تحائف منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل ( ننکانہ صاحب ) 28 مارچ 2021ء
٧. سند امتیاز ، منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 10 جولائی 2021ء
٨. ایوارڈ برائے بہترین تصنیف ، منتہائے فکر ، منجانب انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان (راولپنڈی ) 26 جولائی 2021ء
٩. گولڈ میڈل ، سند ، کیش اور دیگر تحائف منجانب تنظیم کارِ خیر ( گوجرانولہ ) 21 نومبر 2021ء
١٠. خوشبوئے نعت ایوارڈ ، منجانب عبد الحق نعت فاؤنڈیشن پاکستان (سرگودھا)25 دسمبر 2021ء
١١. حسنِ کارکردگی ایوارڈ ، منجانب ماہنامہ اوج ڈائجسٹ ( ملتان ) 16 جنوری 2022ء
١٢. سردار ادبی ایوارڈ اور سند امتیاز منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 13 مارچ 2022ء
١٣. نقیبی ادبی ایوارڈ 2021ء منجانب نقیبی کاروانِ ادب (فیصل آباد) 26 دسمبر 2022ء
١٤. سریٹفکیٹ منجانب ادارہ اشا ( ڈیرہ اسماعیل خان )3 مارچ 2023ء
١٥. گولڈ میڈل 2024ء منجانب المصطفیٰ فاؤنڈیشن اور مختلف ادبی تنظیموں کی طرف سے 5 اسناد ، یعقوب فردوسی ( فیصل آباد) 20 اگست 2023ء
١٦. اعزای سند ، منجانب ادبی سفر انٹرنیشنل (لاہور) 24 اگست 2023ء
١٧. سندِ اِعزاز منجانب ای میگزین آئی اٹک ( اٹک ) 25 دسمبر 2023ء
١٨. خدمتِ ادب ایوارڈ 2024ء
منجانب راشد اینڈ ارسلان پبلیکیشز ملتان پاکستان ( ملتان ) 17 اپریل 2024ء
١٩. شھاب دھلوی ایوارڈ 2024ء
منجانب ادبی تنظیم بزمِ شمسی پاکستان (قائم پور بہاولپور) 17 اپریل 2024ء
٢٠. گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی گرینڈ ایوارڈ
منجانب گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی 2024ء ، سرپرست اعلیٰ زیب النساء زیبی ، صدر محمد نواز گلیانہ 20 اپریل 2024ء
٢١. میر ببر علی انیس ادبی ایوارڈ 2024ء
منجانب گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی ، 12 جولائی 2024ء
٢٢. سند میر ببر علی انیس 2024ء
منجانب گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی 12 جولائی 2024ء
٢٣. اعزازی سند فخرِ وطن 2024ء
منجانب ادبی سفر انٹرنیشنل ، لاہور 10 اگست 2024ء
٢٥. عبد الحمید عدم ایوارڈ 2024ء
منجانب بزمِ سر خیلِ ادب ، لاہور
٢٥. سردار ادبی ایوارڈ 2024ء
روشن چہرے
منجانب بزمِ ذوقِ ادب جام کے چیمہ ڈسکہ ، سیالکوٹ 22 ستمبر 2024ء
٢٦. انوارِ اہلبیت علیہ السّلام ایوارڈ 2024ء
منجانب جنرل سیکرٹری ریحانہ بتول ، بزمِ اوجِ ادب ، بھکر
8 دسمبر 2024ء
٢٧. بھیالی ادب ایوارڈ 2024ء
منجانب بھیالی پاکستان سیالکوٹ ( بانی و صدر پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی غازی) 15 دسمبر 2024ء
٢٨. ڈاکٹر علامہ اقبال ایوارڈ 2024ء
منجانب ادبی سفر انٹرنیشنل ، لاہور 21 جنوری 2025ء
٢٩. ٫٫ عبد الحمید عدم ،، لائف ٹائم اچیومنٹ ، گولڈ میڈل ۔۔۔ منجانب
بزمِ سر خیل ادب انٹرنیشنل ، لاہور 4 فروری 2025ء
٣٠. پہچانِ پاکستان ادبی ایوارڈ 2025ء
ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی اور
سندِ اعزاز
منجانب روزنامہ پہچانِ پاکستان ، لاہور
24 فروری 2025ء
٣١. ایوارڈ برائے کتاب 2024ء ( شذراتِ مقبول)
منجانب بزمِ رفیق انٹر نیشنل بھکر پاکستان
17 مئی 2025ء
٣٢. میرا ادب میری پہچان ایوارڈ 2025ء
منجانب : طالب نظر رائٹرز فورم فورم پاکستان
اشتراک ایوانِ اقبال لاہور
18 مئی 2025ء
٣٣. سرائیکی ایوارڈ 2025ء
اور سند منجانب لیّہ سوسائٹی لیّہ 25 جولائی 2025ء
٣٤ بُنیان مرصوص ادبی ایوارڈ 2025ء
منجانب ادبی سفر انٹر نیشنل ، لاہور یکم اگست 2025ء
٣٥. لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2025ء
منجانب محمّد یعقوب فردوسی امیر باد شاہ
تحریک اصلاح معاشرہ پاکستان
2 اگست 2025ء
٣٦. انڈ یپنڈ ینس ڈے ایوارڈ 2025ء
منجانب انٹرنیشنل یونین آف رائیٹرز بہاول پور
14 اگست 2024ء
٣٧. قومی ایوارڈ 2025ء
اور سند منجانب ادبی تنظیم بزمِ شمسی ، حاصل پور ، بہاول پور
5 اکتوبر 2025ء
اس کے علاوہ مزید بھی ایوارڈز اور اسناد ہیں جو مجھے اس وقت یاد نہیں ۔
سوال : حمد و نعت لکھتے وقت کن چیزوں کا خیال رکھتے ہیں ۔ ؟
جواب : حمد شریف میں تو اللّٰہ پاک کی بزرگی بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہوں کوئی ایسا لفظ نہ کہہ دوں جو اللّٰہ پاک کی شانِ شایان نہ ہو ۔ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ، سیرت اور کردار پر نعت کہنے کی کوشش کرتا ہوں اور اس میں بھی یہی خیال رکھتا ہوں ۔ باقی اللّٰہ پاک کی رحمت تو ہر وقت شاملِ حال ہوتی ہے جس کا میں جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے ۔
سوال : آپ بیک وقت اُردو سرائیکی اور پنجابی زبان میں لکھ رہے ہیں ، ذہنی طور پر کس زبان میں لکھتے ہوئے آسانی محسوس کرتے ہیں اور کیوں ؟
جواب : الحمدللہ لکھتے وقت بہت سکون محسوس ہوتا ہے رہی بات آپ کی جو آپ کہہ رہے ہیں آسانی تو جس زبان میں بھی لکھوں اُردو ، پنجابی ، اور سرائیکی ماشاء اللّٰہ آسانی ہی رہتی ہے لکھنے میں کوئی مشکلات پیش نہیں آتی ۔
سوال : سر موجودہ دور میں کتاب کیوں ضروری ہے جب کہ نیٹ پر ہر چیز موجود ہے ۔ ؟
جواب : شاہ جی کتاب کی ضرورت تو ہر دور میں تھی اور ہے اور رہے گی باقی جو انٹرنیٹ سوشل میڈیا وغیرہ کا جدید دور ہے اس کی بھی ایک اپنی الگ اہمیت ہے تو کتاب تو ایک ایسا ریکارڈ ہوتا ہے جو صدیوں محفوظ رہتا ہے ۔ ہاں انٹرنیٹ کے ذریعے کتاب بصورت پی ، ڈی ، ایف ، پورے ورلڈ میں پہنچ رہی ہے ۔
سوال : اے آئی سے مضامین وغیرہ لکھوا کر بعض نئے لکھاری ادیبوں کی لسٹ میں شامل ہو رہے ہیں آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ ؟
جواب : اے آئی ایک اچھی ٹکنیک ہے اس سے نوجوانوں کو سیکھنا چاہیے نہ کہ لکھوانا چاہیے ۔ اگر اے آئی سے لکھوایا جائے تو پھر اپنے جذبات ، احساسات ، خیالات ، مشاہدات کا کیا بنے گا ۔ جس میں لکھاری کے یعنی ہمارے جذبات ، احساسات ، خیالات ، نہیں ہوں گے تو پھر اس تحریر کا کیا فائدہ جب بھی کوئی لکھتا ہے ۔ وہ اپنے یہی خیالات بیان کرتا ہے نا کہ وہ اے آئی کی تحریر میں یہ سب شامل نہیں کر سکتا اگر ایسے کرے تو پھر میرے خیال میں تو اس تحریر کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے ۔ ہاں ایک بات اور میں آپ کو بتا دوں جو اے آئی سے لکھوائی ہوگی وہ سب کو معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ انہوں نے خود نہیں لکھی اےآئی سے لکھوائی گئی ہے ۔
سوال : بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں اور جوانوں کو کتاب سے دور کیا ہے ۔ ؟
جواب : جی قائم صاحب یہی ٹچ موبائل ہے جس میں سب کچھ موجود ہے نوجوانوں اور بچوں کو اس نے اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے اور کتاب سے دوری ہو گئی ہے ۔ لیکن آج بھی بہت سے قاری ہیں جو کتاب کو اہمیت دیتے ہیں ۔ کتاب کا ہی مطالعہ کرتے ہیں اور خاص طور پر تو وہ جو تخلیق کار ہیں جو لکھتے ہیں وہ کتاب کا مطالعہ ان کے لیے بہت ضروری ہے وہ کتاب کے لیےاور کتاب ان کے لیے ضروری ہے ۔
سوال : کتاب میلے میں فوٹو ہی بناۓ جاتے ہیں کتاب تو بہت کم بکتی ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ۔ ؟
جواب : اس میں زیادہ تر مہنگائی کا عمل دخل ہے جو کہ کمر توڑ مہنگائی ہے وہ کتاب خریدنے نہیں دیتی اور یہ بات کسی سے ڈھپ چھپی نہیں ہے ۔
سوال : آپ فرصت کے لمحات کو کیسے گزارتے ہیں ۔ ؟
جواب : جی ہاں فرصت کے لمحات میں میں زیادہ تر مطالعہ ہی کرتا ہوں اور تھوڑا بہت لکھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں ۔
سوال : آپ کے کن مجموعوں پر تحقیقی کام ہوا ہے اور یہ کام کس طالب علم اور کس یونیورسٹی نے کیا ہے؟
جواب : جی ہاں ان کی تفصیل آپ کو بتائے دیتا ہوں وہ کچھ اس طرح سے ہے ۔
بی ، ایس ، اُردو مقالہ جات کے عنوانات
مقبول ذکی مقبول کی تصنیف ٫٫ روشن چہرے ،، کا تنقیدی جائزہ
از سویرا رمضان شعبہ اُردو گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین راجن پور غازی یونیورسٹی ، ڈیرہ غازی خان
مقبول ذکی مقبول بطور نثر نگار ( خصوصی مطالعہ ۔۔۔ اعتراف فنِ ،سنہرے لوگ )
از محمد عمران
شعبہ اردو گورنمنٹ گریجویٹ کالج کروڑ لعلی عیسن غازی یونیورسٹی ، ڈیرہ غازی خان
مقبول ذکی مقبول کی مصاحبہ نگاری از فاطمہ بلال
شعبہ اُردو گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین فاضل پور ، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان
مقبول ذکی مقبول کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ از محمد عاطف
شعبہ اُردو گورنمنٹ گریجویٹ کالج بلاک 17 غازی یونیورسٹی ، ڈیرہ غازی خان
سوال : آپ کے مجموعوں پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے ، آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
جواب جی ہاں کرتا ہے ۔ دیکھیں کالج اور یونیورسٹیوں میں سے اگر تاریخ نہیں ملے گی تو پھر کہاں سے ملے گی؟ سوچنے کی بات ہے نا ۔
سوال : معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جا سکتا ہے ۔ ؟
جواب : الحمدللہ ادیبوں کا مقام بلند ہی بلند ہے ۔ ہر کام کی اہمیت ہر جگہ پر نہیں ہوتی ہاں دکھ اس بات کا بھی ہے کہ انصاف تو ہر کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا ۔
سوال : مستقبل کے ارادے کیا ہیں ۔ ؟
جواب : جو شاعری اور تحقیقی و تنقیدی مضامین ہیں ان کو شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور علی شاہ ( مرحوم ) پر ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کر چکا ہوں ۔
سوال : قارئین کے نام کوئی پیغام دینا چاہئیں گے ۔ ؟
جواب : جی ہاں جیسا کہ مشہور ہے اللّٰہ پاک کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا کسی بھی شعبہ میں آپ ہیں محنت ضرور کریں اللّٰہ پاک رنگ لائے گا۔
آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ پاک مقبول ذکی مقبول کے علم اور رزق میں خیر و برکت عطا فرماۓ۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔