سید ثقلین شاہ اٹک کی مٹی کا شاعر، ماں بولی کا عاشق اور پنجابی تہذیب کا امین
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کچھ شخصیات اپنے عہد میں محض زندگی نہیں گزارتیں، بلکہ اپنے وجود سے وقت کی پیشانی پر ایسی روشن تحریریں رقم کر جاتی ہیں جن میں اپنی مٹی کی خوشبو، اپنے لوگوں کی دھڑکن اور اپنی تہذیب کی صدیوں پر پھیلی ہوئی داستانیں سانس لیتی ہیں۔ ان کے لیے لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے علاقے کی تاریخ، ثقافت، روایات اور اجتماعی یادداشت کے امین بن جاتے ہیں۔ سید ثقلین شاہ بھی ایسی ہی شخصیت ہیں جن کے ہاں شاعری صرف جذبوں کی ترجمانی نہیں کرتی، بلکہ اٹک کی دھرتی، اس کے موسموں، اس کے منظروں اور ماں بولی پنجابی کی تہذیبی روح کو بھی اپنے دامن میں سمیٹتی ہے۔ ان کے شعری وجود میں اپنی دھرتی سے محبت بھی ہے، بزرگوں کی روایتوں سے وابستگی بھی اور اس لسانی ورثے کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی ایک خاموش مگر مسلسل تڑپ بھی۔
سید ثقلین شاہ کا تعلق ضلع اٹک کے گاؤں ہمک کے سادات گھرانے سے ہے۔ وہ مرحوم سید فردوس شاہ کے فرزند ہیں، جو ایک نامور ماہرِ تعلیم، شاعر، ادیب اور اردو، پنجابی و فارسی ادب کے ممتاز استاد تھے۔ علمی و ادبی ماحول سے نسبت نے ثقلین شاہ کے ذوق کو جِلا بخشی اور انہیں اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے علاقے کی مٹی سے ایک گہرا قلبی تعلق عطا کیا۔ ان کی شخصیت اور تخلیقی سفر میں یہ خاندانی علمی ورثہ ایک معتبر پس منظر کی حیثیت رکھتا ہے۔
سید ثقلین شاہ کی شخصیت کا ایک نہایت خوب صورت اور قابلِ ذکر پہلو ان کی بے لوث دوستی اور احباب سے محبت ہے۔ وہ صرف لفظوں کے شاعر نہیں، محبت نبھانے والے انسان بھی ہیں۔ دوستوں اور ملنے والوں کے ساتھ ان کا خلوص، اپنائیت، بے تکلفی اور محبت بھرا رویہ دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ ان کی محفل میں بیٹھ کر محسوس ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنی گفتگو، اپنے اخلاق اور اپنے طرزِ عمل سے بھی شاعری کرتے ہیں۔ ان سے ایک ملاقات ہی ان کی شخصیت کے کئی روشن پہلو آشکار کر دیتی ہے اور انسان بے اختیار ان کے حسنِ اخلاق اور خلوص کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ یہی محبت اور انسان دوستی ان کی شخصیت کو ادبی شناخت سے آگے بڑھا کر ایک دل نشیں انسانی حوالہ عطا کرتی ہے۔
ان کی شاعری کا ایک نمایاں وصف اپنے علاقے کی جغرافیائی ساخت اور قدرتی مناظر سے گہری وابستگی ہے۔ دریائے ہرو، نالہ نندنا، کالا چٹا پہاڑ اور کواہ گاڑ جیسے مقامی نام ان کے ہاں محض مقامات کی نشان دہی نہیں کرتے، بلکہ اپنی دھرتی کے ساتھ ان کے جذباتی رشتے کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں۔ مقامی ندی نالے، پہاڑ، کھیت، کھلیان اور بدلتے موسم ان کے تخلیقی احساس میں یوں جگہ پاتے ہیں جیسے شاعر اپنے علاقے کے ہر منظر کو دل کی آنکھ سے دیکھتا اور لفظوں میں محفوظ کرتا چلا جا رہا ہو۔ ان کے ہاں زمین کا منظر صرف آنکھ کا دیکھا ہوا منظر نہیں، بلکہ یاد، محبت اور شناخت کا حصہ ہے۔
ان کی شاعری کا ایک اور دل آویز پہلو ماضی کی دیہی زندگی اور اس کے معدوم ہوتے ہوئے رنگوں کی بازیافت ہے۔ بزرگوں کی باتیں، گزرے زمانوں کی یادیں، پرانے گھروندے، روایتی اشیا، رسم و رواج اور دیہاتی زندگی کے وہ معمولات جنہیں وقت کی تیز رفتار تبدیلیاں اپنے ساتھ بہا لے جا رہی ہیں، ان کے شعری احساس میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ جندر، آٹا پیسنے کی چکیاں، روایتی زرعی اوزار، سرسوں کے پھول، چشمے، درخت، چرند پرند اور پرندوں کے گھونسلے ان کے تخلیقی منظرنامے کو ایک مانوس اور زندگی سے بھرپور فضا عطا کرتے ہیں۔ ان چیزوں کا ذکر دراصل اس طرزِ زندگی کی یاد دہانی ہے جس میں انسان کا رشتہ فطرت، زمین اور اپنے اردگرد کے لوگوں سے زیادہ گہرا اور بے ساختہ ہوا کرتا تھا۔
ثقلین شاہ کے ہاں بزرگوں کی وضع داری، ان کا رہن سہن، روایتی لباس، پگڑی، میل جول، رکھ رکھاؤ اور معاشرتی آداب بھی تہذیبی حوالوں کے طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ ان روایتوں کو محض گزرے ہوئے زمانے کی یادگار سمجھ کر نہیں دیکھتے، بلکہ انہیں ایک ایسے معاشرتی ورثے کی صورت میں محسوس کرتے ہیں جس میں انسان کی پہچان، وقار اور اجتماعی زندگی کے بنیادی قرینے پوشیدہ ہیں۔ ان کی شاعری میں یہ احساس نمایاں ہے کہ تہذیب صرف عمارتوں، لباسوں اور رسموں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورا طرزِ احساس ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔
ان کی تخلیقی شخصیت کا مرکزی حوالہ ماں بولی پنجابی سے بے پناہ محبت ہے۔ پنجابی ان کے لیے محض اظہار کی زبان نہیں، بلکہ ماں کی لوری، دھرتی کی خوشبو، بزرگوں کی آواز، صوفیانہ فکر اور اجتماعی حافظے کا نام ہے۔ وہ اس زبان کو اپنے لوگوں کی روح اور اپنی تہذیبی شناخت کا بنیادی حوالہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ادبی جدوجہد صرف شاعری تخلیق کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پنجابی زبان کے مطالعے، تحریر، تخلیق، ترویج اور تحفظ کے لیے بھی جاری رہتی ہے۔ ان کے نزدیک زبان کی بقا دراصل اس تہذیب کی بقا ہے جس نے صدیوں کے تجربات، محبتوں، دکھوں، خوشیوں اور دانش کو اپنے اندر محفوظ کر رکھا ہے۔
ان کا پنجابی شعری مجموعہ ’’مینڈا کنگھی شیشہ‘‘ ان کے اسی تخلیقی مزاج اور اپنی مٹی سے وابستگی کا ایک منفرد اظہار ہے۔ اس عنوان میں بھی اپنی زبان، اپنے ماحول اور مقامی تہذیبی احساس کی ایک دل کش جھلک محسوس ہوتی ہے۔ یہ مجموعہ ان کے شعری سفر کا ایسا حوالہ ہے جس میں مقامی زندگی کے رنگ، دھرتی سے محبت اور پنجابی زبان سے قلبی وابستگی ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ ان کے لیے شاعری اپنے گردوپیش کو لفظوں میں محفوظ کرنے اور اپنے لوگوں کی زندگی کے ان رنگوں کو زندہ رکھنے کا وسیلہ ہے جو وقت کے ساتھ دھندلا سکتے ہیں شاہ صاحب کی ادبی خدمات کا ایک اہم حوالہ سہ ماہی پنجابی ادبی رسالہ ’’ونگاں‘‘ ہے، جس کا اجرا انہوں نے اٹک، یعنی سابق کیمبل پور، سے کیا۔ یہ رسالہ کئی برس سے شائع ہو رہا ہے اور پاکستان سمیت بیرونِ ملک مقیم پنجابی شعرا و ادبا کو اظہار و تخلیق کا پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ کسی علاقائی شہر سے پنجابی زبان و ادب کے لیے ایسا ادبی سلسلہ جاری رکھنا یقیناً حوصلے، مستقل مزاجی اور زبان سے بے لوث محبت کا تقاضا کرتا ہے۔ ’’ونگاں‘‘ نے اٹک کو پنجابی ادبی دنیا کے وسیع تر حلقے سے جوڑنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس کے ذریعے مقامی ادبی آوازوں کو ایک وسیع تر منظرنامے میں جگہ ملی ہے۔ یوں یہ رسالہ محض ایک ادبی جریدہ نہیں، بلکہ زبان و ادب کے فروغ اور اہلِ قلم کے درمیان رابطے کا ایک بامعنی وسیلہ بھی ہے۔
سید ثقلین شاہ کی شخصیت اور ادبی کاوشوں کو دیکھا جائے تو ان کے ہاں شاعری، زبان اور تہذیب الگ الگ دائرے نہیں بناتے، بلکہ ایک ہی تخلیقی احساس کے مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے دریاؤں، پہاڑوں، کھیتوں اور بستیوں کو یاد کرتے ہیں تو دراصل اپنی مٹی سے رشتہ تازہ کرتے ہیں؛ وہ بزرگوں کے قصے، پرانی چیزیں اور روایتی رہن سہن بیان کرتے ہیں تو گویا اجتماعی حافظے کے بکھرتے ہوئے موتیوں کو سمیٹتے ہیں؛ اور جب پنجابی زبان کے لیے قلم اٹھاتے ہیں تو اپنی تہذیبی شناخت کے چراغ کو روشن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وقت بدلتا ہے، بستیاں بدلتی ہیں، راستے نئے ہو جاتے ہیں اور زندگی کے طور طریقے بھی رفتہ رفتہ اپنی صورتیں بدل لیتے ہیں، مگر کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو زمانے کی گرد میں گم نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے لفظوں میں اپنی دھرتی کی خوشبو، اپنے بزرگوں کی دعائیں اور اپنی ماں بولی کی مٹھاس محفوظ رکھتی ہیں ان کی ادبی کاوشیں اسی احساس کی ترجمان ہیں۔ ان کا شعری سفر اٹک کی مٹی سے اٹھنے والی اس آواز کا سفر ہے جو دریائے ہرو کے کناروں، کالا چٹا کی بلندیوں، دیہات کی پگڈنڈیوں اور پنجابی زبان کے مانوس لہجے سے اپنا رشتہ قائم رکھتی ہے۔ ’’مینڈا کنگھی شیشہ‘‘ ان کے شعری احساس کا حوالہ ہے اور ’’ونگاں‘‘ ان کی ادبی ریاضت کی علامت۔ یہ دونوں کاوشیں اس عزم کی گواہی دیتی ہیں کہ زبان اور تہذیب کا چراغ اسی وقت روشن رہتا ہے جب کوئی اسے اپنے حصے کی محبت، محنت اور وفا سے جلائے رکھے۔ ثقلین شاہ اسی چراغ کے ایک مخلص پاسبان ہیں؛ ایسے پاسبان جو لفظوں کے ذریعے اپنی مٹی کی آواز کو آنے والے زمانوں تک پہنچانے کا ہنر جانتے ہیں

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔