علی شاہ کی کتاب "دھرتی کے رنگ "
تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
علی شاہ کی کتاب "دھرتی کے رنگ ” اگست 2007ء میں صدق رنگ پبلی کیشنز ، ملتان نے خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب زیرِ اہتمام پریس کلب منکیرہ ، تعمیر فاؤنڈیشن منکیرہ
انتساب
معروف صحافی نام ور ادیب
اور
منفرد اسلوب کے شاعر جناب جبار مرزا
کے نام
کتاب "دھرتی کے رنگ ” اخباری کالموں کا مجموعہ ہے ۔ ویسے تو اخبار کی زندگی حقیقتاً ایک ہی دن کی ہوتی ہے ۔ علی شاہ ( مرحوم ) کے یہ کالم کتاب کی صورت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں ۔ یہی کالم مقامی اخبار روزنامہ ٫٫ داور ،، بھکر میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ راقم الحروف کی نظروں سے بھی گزرتے رہے ہیں ۔
آج کتاب کو شائع ہوئے بیس سال ہوگئے ہیں اور علی شاہ کو راہیءا عدم گئے ہوئے دس سال ہوگئے ہیں ۔ لیکن یہ کالم منکیرہ ، بھکر کی تاریخ اکا حصّہ بن گئے ہیں ۔ جس سے آنے والی نسلیں بھی استفادہ کریں گی ۔
علی شاہ ایک عظیم قلم کار تھے اور اُس سے بڑھ کر کہیں زیادہ عظیم انسان تھے۔ وہ ہمیشہ حق کا علمبردار رہے۔ کیوں نہ ہوتے ؟ وہ سادات خاندان کے چشم چراغ تھے ۔ جو ازل سے لے کر ابد تک سچے ہیں ۔ ( محمّد و آلِ محمّد صہ )
علی شاہ ایک فرص شناس اور حق شناس انسان تھے ۔ یعنی حق دار کو حق دلوا کر رہے ہیں ۔ اپنے قلم کے بدولت ۔
بھکر کی تحصیل منکیرہ لق و دق صحرا جو کہ مسائل ہی مسائل سے گھری ہوئی ہے ۔ علی شاہ نے اپنے قلم کے ذریعے اُن کو صرف اُجاگر ہی نہیں کیا بل کہ حل کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے ۔ کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں ۔
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ دھرتی کے رنگ تو بے شمار ہیں ۔ اُن کو شمار کرنا ہو تو قیامت کے دن کا سورج طلوع ہو جائے گا ۔ لیکن شمار میں نہیں آئیں گے ۔ شاہ جی نے اپنے علاقہ کے لیے اپنے علاقہ کی نمائندگی کی ہے ۔ فرض شناس لوگوں کو بھی سامنے لایا گیا ہے ۔ جن کی شخصیت کو فراموش کرنا اُن کے ساتھ ناانصافی تھی ۔ اُن میں کچھ فرض شناس لوگ اِس دُنیا میں نہیں رہے ۔ لیکن اُن کا کردار امر ہو گیا ہے ۔
راقم الحروف کا تعلق بھی منکیرہ شہر سے ہے ۔ وہ فرض شناس لوگوں کو میں جانتا ہوں جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں ۔ علی شاہ کا قلم حق کو رقم کرتا رہا ۔
"دھرتی کے رنگ ” تو دھرتی کے رنگ ہی ہوتے ہیں ۔ پر انسان کے ظاہر اور باطن کے رنگوں کو کیسے قلم بند کیا گیا ہے ۔ یہ کمال ِفن ایسا ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا جس کے پاس ہوتا ہے وہ قلم کار اللّٰہ پاک کی طرف سے خاص ہوتا ہے ۔
آج جب بیس سال بعد میں نے کتاب کا مطالعہ کیا تو میرے سامنے وہ منظر گھومنے لگے ۔ پھر کیا ہوا آنکھیں بھی بھر آئی ہیں ۔
خاص کر جب اِس طرح کے کالموں کا میں نے مطالعہ کیا ۔ اماں قرآن والی ، روشن راستوں کا مسافر ، استاد نواز کی سنتا کون ہے ، پوسٹ آفس میں کولہو کا بیل ، 118 سالہ بابا نورا کہاں جائے ؟ ، انسان دوست ، سنجیدہ شرارتی ، تھل ادبی سجوک ، ان کا وجود منکیرہ میں خوشبو کی طرح تھا ۔ اب تو دھرتی کے رنگ وہ رنگ نہیں رہے ۔ کچھ فرض شناس ریت کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سو گئے ہیں ۔ کچھ منکیرہ ( بھکر ) چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔ کچھ فطری رنگ موسم کی طرح بدل گئے ہیں ۔ جب ان کو دیکھتا ہوں تو میں حیران رہ جاتا ہوں ۔ علی شاہ کی کتاب "دھرتی کے رنگ ” باظر تو 176 صفحات پر مشتمل ہے ۔ لیکن اپنے اندر ان گنت رنگ رکھتی ہے ۔ تقافت ، کلچر ، اور مسائل جن میں آج بھی نوجوان نسل گھری ہوئی ہے ۔
مسافت
مسافت کے عنوان سے علی شاہ لکھتے ہیں گزشتہ دو سال سے میں روزنامہ ٫٫ داور ،، بھکر میں باقاعدگی سے کالم لکھ رہا ہوں اور "دھرتی کے رنگ ” کے تقریباً تمام کالم روزنامہ ٫٫ داور ،، میں شائع ہونے والے کالموں سے منتخب شدہ ہیں میں نے زیرِ نظر کتاب میں زیادہ تر ان کالموں کو شامل کیا ہے جن کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق میرے علاقہ سے ہے ۔ میری دھرتی باصلاحیت ، کہنہ مشق اور محنت کش لوگوں کی دھرتی ہے لیکن وسائل کی کمی اور مسائل کی بہتات اور پھر دور افتادہ علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو وہ پذیرائی و تعارف نہیں مل پاتا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں ۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنی دھرتی کے روشن چہرہ لوگوں اور اپنے علاقہ کے بنیادی مسائل کو اپنے قلم کے ذریعے منظرِ عام پر لاؤں ۔ میں اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوا اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں ۔ ( ص : 17 )
کتاب "دھرتی کے رنگ ” میں شامل کالموں کی تعداد 36 ہے اور ان کالموں میں "دھرتی کے رنگ ” کہیں زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ ایک ایک کالم سے کئی کئی رنگ پھوٹ تے ہیں ۔ ان کو ایک مضمون میں قلم بند نہیں کیا جا سکتا ۔ میرے خیال میں اس پر بی ۔ ایس اُردو کا مقابلہ بھی کم پڑے گا ۔ ایم ۔ فل اُردو ہو سکتا ہے ۔
کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔
غیر سیاسی ناظم
ملک ملازم حسین بھڈوال پیشے کے اعتبار سے تو وکیل ہیں لیکن ایک عرصہ سے مقامی سیاست نے بھی ان کے ساتھ گہرا رشتہ استوار کر رکھا ہے ۔ رائج الوقت سیاست بھی کیا چیز ہے کہ جھوٹ ، فریب ، ریاکاری ، کرپشن ، وعدہ خلافی اور طوطا چشمی جیسی خصوصیات اب اکثریت سیاست دانوں کی ٹریڈ مارک بن چکی ہیں اور اپنی سادہ لوح عوام کے ساتھ ایسے ہی منفی رویے روا رکھنے والے سیاستدان کامیاب سمجھے جانے لگے ہیں ۔ دوسری طرف ایک اچھے وکیل کے لئے بھی یہی کہا جاتا ہے کہ کامیاب وکیل وہ ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہو ۔ لیکن ملک ملازم حسین بھڈوال نے تو ان دونوں شعبوں کی بنیادی روایات سے یکسر بغاوت کر رکھی ہے ۔ انہوں نے نہ تو کبھی اپنے ووٹروں کے ساتھ جھوٹ ، فریب ، ریاکاری ، وعدہ خلافی اور طوطا چشمی کا مظاہرہ کیا نہ سیاست کی آڑ میں اندھا دھند کرپشن کر کے جائیدادیں ، تاج محل اور وائٹ ہاؤس تعمیر کئے پھر بھی کامیاب سیاست دان ہیں ۔ اور یہی کچھ انہوں نے اپنی وکالت کے ساتھ کیا ۔ وہ سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کی بجائے سچ کو علی الا علان سچ ثابت کرنے کے درپے ہیں ۔ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے بجائے جھوٹ کے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیتے ہیں ۔ ان کی فطرت ، طبیعت اور مزاج رائج الوقت سیاست اور نظریہ ضرورت کے تحت وکالت کے ساتھ ہرگز مطابقت اور مسابقت نہیں رکھتے پھر بھی مقبول سیاست دان اور کامیاب وکیل ہیں ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی الیکشن نہیں ہارا اور ہمیشہ واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے پاس آنے والے روزانہ کے متعدد کیس ان کی کامیاب وکالت کی دلیل ہیں ۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمت اللّٰہ علیہ نے عدلیہ اور سیاست کو ریاست کے دو اہم ستون قرار دیا تھا اس اعتبار سے ملک ملازم حسین بھڈوال کے دونوں شعبے مقدس اور معتبر ہیں ۔ انہوں نے کبھی اپنے پیشے کے تقدس کو پامال نہیں کیا اور سیاست کی روح کو زخمی ہونے سے بچائے رکھا ۔ شاید ان کا یہی ضابطہ حیات ان کی کامیابی کی ضمانت بن گیا ۔ ( ص : 31 تا 32 )
اس کتاب میں شامل جن قلم کاروں کی آرا ہے ان میں
پیشِ لفظ بلال مہدی ( اسلام آباد ) علی شاہ باصلاحیت صحافی ، شاعر ، ادیب ۔ شاہد سٹھو ( سیئر سب ایڈیٹر روزنامہ ٫٫ اوصاف ،، ملتان ۔ نائب صدر ملتان پریس کلب ملتان ) دھرتی کے رنگوں کا متلاشی کے عنوان سے فرنٹ فلیپ جاوید چوہدری ، روزنامہ ایکسپریس ( زیرو پوائنٹ ) نے لکھا ہے ۔
صحرا میں بھی پھول کھلتے ہیں اس عنوان سے بشریٰ رحمٰن وطن دوست ( لاہور ) بیک فلیپ لکھا ہے ۔
بشریٰ رحمٰن کے فلیٹ کا عنوان دیکھ کر مجھے اپنی کتاب ٫٫ یہ میرا بھکر ،، سے ایک شعر یاد آگیا ہے ۔ وہ ملاحظہ فرمائیں ۔
ہر طرف پھُول کھِل اُٹھے ذکی
تھل میں کیسی بہار آئی ہے
کتاب کا بیک ٹائٹل ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ( روزنامہ ٫٫ نوائے وقت ،، لاہور ) نے لکھا ہے ۔ بیک ٹائٹل ملاحظہ فرمائیں ۔
دھرتی کے رنگ تو بے شمار ہیں نجانے کس طرح اپنے دل اور قلم کی کیفیتوں کو رلا ملا کر انہیں شمار کرنے کی ہمت علی شاہ نے کی ہے ۔ یہ ہمت کسی نہ کسی طرح حیرت کے ساتھ جاملتی ہے ۔ بے شمار کو شمار کرنا ہی اصل معرکہ آرائی ہے خواہ یہ انوکھی آرزو صرف لکھنے سے ہی کسی نہ کسی حد تک پوری ہوسکتی ہے ۔ میں صوفی آدمی ہوں اور علی شاہ بھی کچھ کچھ صوفی ہے ۔ ایک طریقے سے دھرتی کی رنگارنگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے اور بیان کیا جاسکتا ہے ۔ کہ دھرتی اور دل دھرتی کو یکجا کر دیا جائے ۔ یکجا ہونے کا بھی یہی طریقہ ہے ۔
بہت خوب صورت کالم علی شاہ نے لکھے ہیں ۔ مقامی لہر کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ علاقائی معاملات اور مسائل بھی قومی معاملات اور مسائل ہوتے ہیں ۔ اسے معلوم ہے کہ وسائل کے راستے دور آباد بستیوں کے مسائل سے کتنے دور ہیں ؟ مجھے عطا اللّٰہ عیسیٰ خیلوی کی گائیکی اپنی سہیلی لگتی ہے ۔ کہ اس نے گم شدہ ہوتی ہوئی بستیوں کے مقامی جذبات کو قومی اور پھر بین الاقوامی بنا دیا ہے ۔ اس کی آواز کے راز نے کئی سرحدوں کو ملا دیا ۔ جدائیوں میں رہتے ہوئے وصال کو خیال بنا دینے سے محرومیاں مجبوریوں کے دائرے سے باہر نکل آئی ہیں ۔ علی شاہ قومی سطح کا مقامی کالم نگار ہے ۔ اس کی نذر اپنا ایک بھولا ہوا مصرعہ
٫٫ اس دی اکھ وچ کٹھے تھیے دھرتی دے سب رنگ ،،

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔