علی شاہ کی کتاب ٫٫ زرد پتّے ،، کا ادبی جائزہ
تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
افسانچہ اُردو ادب میں ایک ایسی صنفِ ادب ہے ۔ جس میں ایک کہانی مختصر کی صورت میں خوب صورت پیغام سمیٹ دیا جاتا ہے ۔ جو ایک انسان کی انسانی زندگی کا نچوڑ بھی کہا جا سکتا ہے ۔ ناول کی طرح اس میں کوئی وسعت نہیں ہوتی اور شاعری کی طرح کوئی کافیہ ردیف کی پابندی یا بحر کی قید نہیں ہوتی ۔ افسانچہ جس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک دریا میں غوطہ لگانا پڑتا ہے ۔ اُس کے بعد ایک حقیقت کو سامنے لایا جا سکتا ہے ۔ کامیاب افسانچے وہی ہوتے ہیں جو ختم ہونے پر قاری کے دل و دماغ پر اثر کریں ۔ انسانی زندگی کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ ایسے ہی افسانچے سدا بہار کہلاتے ہیں ۔ انہی خوبیوں کا حامل
علی شاہ کا اُردُو افسانچوں کا مجموعہ ٫٫ زرد پتّے ،، کے ادبی جائزہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔ کتاب کا نام ٫٫ زرد پتّے ،، ایک ایسا ہی علامتی نام ہے جو خزاں رُت میں کرب کی علامت واضح نظر آتی ہے ۔ جو ہر ایک انسان کی زندگی میں آتے ہیں ۔ رشتے دم توڑ جائیں اُمیدیں مٹی میں مل جائیں ۔ جب اپنا کوئی نظر نہ آئے غیر اپنوں کے روپ میں غیر ہی غیر نظر آئیں ۔زرد پتّا اُس وقت شاخ سے گر کر بے یار و مدد گار رہ جاتا ہے ۔ پھر طوفان ، آندھی ، بارشوں کی زد میں ہوتے ہوئے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے ۔ یہ ایک سچا انسان ہی سمجھ سکتا ہے ۔ علی شاہ ( محروم ) نے آفاقی مناظر اور ان کے رد عمل کو افسانچوں کا عنوان دیا ہے ۔ اسی طرح پوری کتاب ایسے کرب سے بھرے افسانچے سامنے رکھتی ہے جو انسان زندگی کو خاموش اور درد بھرے پہلوؤں کو درد بھرا لباس اور زندگی میں درندگی کے نمونے نظر آتے ہیں ۔کتاب مصنّف کا ایسا تعارف بن جاتی ہے جو بھلانے سے بھی نہیں بھلایا جا سکتا آج علی شاہ کو دُنیا سے گئے ہوئے 10 برس بیت گئے ہیں لیکن آج بھی وہ قارئین کے دلوں میں رہتے ہیں ۔کتاب کی فہرست کو بھی دیکھا جائے تو اپنے اندر منفرد عنوانات لیے کھڑے ہیں ۔ ہر ایک عنوان کا گہرا تعلق انسان کی انسانی زندگی سے ہے ۔ فہرست ملاحظہ فرمائے ۔
فہرست
*زرد پتوں کا الاؤ ( بشریٰ رحمٰن )
*ہمہ جہت ۔ علی شاہ (جبار مرزا )
*وقت کا نبض شناس ۔ علی شا ہ ( جواز جعفری )
زرد پتّے ٫٫ ایک تلخ حقیقت ( علامہ حسین عارف نقوی )
دل میں اُتر جانے والی تحریر ( وصی شاہ )
روایت شکن اور باغی مصنّف ( ذوالقرنین سکندر )
اللّٰہ کا گھر ۔ چمک ، روح ، ایٹمی دور ، قانون ۔ دوسروں کی خوشیاں ، چاند اور انسان ۔ بے نمازی ، لائسنسنگ اتھارٹی ، تربیت کا ثمر ، جر نیل کا بیٹا ، چوروں کو مور ، نیکی کا صلہ ، جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ، عقیدے ، معصوم جذبے ، پیٹ کی آگ ، مکافات ، دوسرا رُخ ، بے روزگاری ، لوٹا ، مسئلے کا حل ، کیسی تعبیریں ، فرض شناسی ، عوام دوست ، انسان دوست ، وارننگ ، معصوم خواہش ، ایمرجنسی ، دوہرہ صدمہ ، نیکی کا صلہ ، ساکھ ، یومِ خواتین ، بچت ہی بچت ، علاج ، ذمہ داری ، شگفتہ لاج ، خدشہ ، آخری کوشش ، پانچوں گھی میں ، جنون ، محرومی ، احساس معذوری ، جو کسی کے لئے کنواں کھود تا ہے ، بے حسی ، ساعت جدائی ، منشور ، یومِ مزدوراں ، کار کرد گی ، انتقام ، امداد ، احتجاج ، ادھوری اپروچ ، سانچ کو آنچ ، سادہ لوگ ، صرف بالغوں کے لئے ، والٹن کینٹ ، ہونہار شاگرد ، کرامت ، اللّٰہ ملائی جوڑی ، اعتراف ، وضع داری ، قومی ہیرو ، وڈیرہ ازم ، موت کے سو داگر ، بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ، امید سحر ، بابا بخشو ، غریب کی آہ ، کرے کوئی بھرے کوئی ، طاقت ، ماماں جی ، قانون شناسی ، ذرہ سی بھول ، چور ہی چور ، مسیحائی ، حفظ ماتقدم ، شوکاز ، جھاکا ، دولت کا نشہ ، چراغ تلے ، خشک سالی ، اصول پسندی ، کمیشن مافیا ، خواب ، بنئیے کا بیٹا ، دو قومی نظریہ ، برائی کا خاتمہ ، تعصب ، لائی لگ مومن ، پاکستانی تشخص ، جمہوریت ، ایسے عنوانات ہیں جو قاری کی آنکھیں کھول دیتے ہیں ۔ ہر ذہن میں سوال اُبھرتے ہیں ۔ مذہب کیا ہے ۔ ؟ سماج کیا ہے ۔ ؟ سیاست کیا ہے ۔ ؟ معشیت کیا ہے ۔ ؟ نفسیات کیا ہے ۔ ؟ عورت کا درد کیا ہے ۔ ؟ مزدور کی آہ کیا ہے ۔ ؟ وڈیرے و جاگیر دار کا غرور کیا ہے ۔ ؟ ایمان دار انسان کی بے بسی کیا ہے ۔ ؟ اور استاد کی کی محبّت کیا ہے ۔ ؟ ہر ایک افسانچہ ایک ایک نہیں کئی درد چھپائے ہوئے ہے جو حقیقت بھی ہیں ۔ آج سے 30 سال پہلے کا دور اِن افسانچوں میں ہے ہی ہے لیکن آج کے دور کو بھی ٹچ کرنے کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ بے روزگاری کا دُکھ معاشرتی ناانصافیاں ، تعصب ، وعدوں کا پورا نہ ہونا ، یہ وہ موضوعات ہیں کہ ان میں آج بھی پاکستانی معاشرہ بری طرح سے گھرا ہوا ہے ۔
کتاب ٫٫ زرد پتّے ،، کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہر ایک انسان کی کہانی کسی نہ کسی کہانی میں چھپی ہوئی ہے ۔ یہ علی شاہ کا کمالِ مہارت ہے اور ساتھ ساتھ کمالِ فن بھی کہ معاشرے کو آئینہ کیسے دیکھایا جاتا ہے ۔ آخر میں ٫٫ زرد پتّے ،، سے اقتباس
٫٫ جو کسی کے لیے کنواں کھودتا ہے ،،
ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے کے بعد جب اسے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے ہاں مزید اولاد نہ ہو سکے ۔ گی اس کے دل میں اپنے اکلوتی بیٹے کے لیے محبّت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا ۔ اس کا بیٹا بھی جو جونیئر پبلک اسکول میں ہی تھا لیکن وہ ابھی سے ہی اس کے تابناک مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کرتا رہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ جس دن سے اس کی ملاقات گل خان سے ہوئی تھی اس دن سے وہ بہت خوش اور ہشاش بشاش نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ صدر بازار کے ایک درمیانے درجے کے ریستوران میں نہایت چاک و چوبند بیٹھا تھا ۔ آخری بار اس نے کھڑکی دیکھی اور اسی لمحے بازار کے عین وسط میں ایک ہولناک دھماکہ ہوا وہ سینکڑوں لوگوں کی کربناک چیخیں سنتا ہوا وہاں سے بھاگ کر دور نکل آیا تھا ۔ وہ اپنے مشن میں کامیابی پر بہت خوش تھا ۔ اور نوٹوں سے بھرا لیدر بیک ہاتھ میں لیے خراماں خراماں جو ہی گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی نے اسے بتایا کہ آپ کے ابا منے کو ساتھ لے کر اس کی سائیکل خریدنے صدر گئے ہوئے ہیں ۔ اور ابھی ابھی ایک دھماکہ بھی ہوا ہے خدا خیر کرے سنا ہے دھماکہ سائیکلوں والی دکان میں ہوا ہے ۔
***

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔