تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے
تبصرہ نگار: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
علاقائی زبانیں کسی بھی خطے کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ ان میں مقامی لوگوں کے رہن سہن، رسم و رواج اور جذبات محفوظ ہوتے ہیں۔ حکیم تائب رضوی کا شعری مجموعہ ’’تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے‘‘ اسی ثقافتی ورثے کی ایک اہم مثال ہے۔ یہ کتاب کیمبل پور، موجودہ اٹک، کے مقامی پنجابی لہجے اور ادبی روایت کو محفوظ کرنے کی قابلِ قدر کوشش ہے اس مجموعے میں 87 نظمیں، غزلیں، گیت اور دیگر اصناف شامل ہیں۔ کتاب کا عنوان اپنے شہر سے محبت اور اس کی خوش حالی کی دعا پر مبنی ہے۔ ’’تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے‘‘ کے الفاظ میں مقامی ثقافت، اپنائیت اور دھرتی سے محبت کا جذبہ نمایاں ہے
حکیم تائب رضوی کا اصل نام سید عنایت علی تھا۔ وہ 1931ء میں کیمبل پور میں پیدا ہوئے۔ انہیں علم و حکمت کے ساتھ ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی تھی۔ ان کی شاعری میں محبت، انسانی جذبات اور دیہی زندگی کے رنگ نمایاں ہیں۔ ان کے کلام کی خاص بات کیمبل پوری پنجابی کا سادہ، رواں اور دل نشیں انداز ہے
ان کے یہ اشعار دیکھیے:
سِر چُک کے ڈولا لَسّی دا
نی اِنج نئیں اَڑئیے نَسّی دا
ذرا ہولی ہولی ٹُر کُڑیئے
تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیئے
ان اشعار میں دیہی زندگی کی جھلک، مقامی محاورے اور پنجابی زبان کی مٹھاس نمایاں ہے۔ شاعر نے روزمرہ زندگی کے ایک عام منظر کو سادہ اور دل کش انداز میں پیش کیا ہے۔ یہی خوبی ان کے کلام کو مقامی لوگوں کے قریب کرتی ہے۔
’’تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے‘‘ پنجاب کے علاقائی ادب، خصوصاً کیمبل پوری پنجابی لہجے کی ایک اہم دستاویز اور انتہائی قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کتاب میں مقامی الفاظ، محاورے اور معاشرتی روایات محفوظ ہیں۔ یہ مجموعہ پنجابی زبان پر کام کرنے والے محققین اور لکھنے والوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص نئی نسل کے پنجابی شاعروں اور ادیبوں کے لیے یہ کتاب مشعلِ راہ ہے، کیونکہ یہ اپنی مقامی بولی میں لکھنے اور اسے ادبی سطح پر آگے بڑھانے کی اہمیت واضح کرتی ہے۔
حکیم تائب رضوی کے منتشر کلام کو ان کے نواسے آغا سید جہانگیر علی بخاری نے جمع کرکے کتابی شکل دی۔ یہ اپنے بزرگ کے ادبی ورثے کو محفوظ کرنے کی قابلِ تحسین کوشش ہے۔ کتاب میں پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کا ابتدائیہ، سیدزادہ سخاوت بخاری اور طاہر اسیر کی آرا بھی شامل ہیں۔
’’تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے‘‘ اٹک کی ادبی روایت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف حکیم تائب رضوی کے کلام کو محفوظ کرتی ہے بلکہ کیمبل پوری پنجابی کے مخصوص لہجے اور ثقافتی رنگوں کو بھی نئی نسل تک پہنچاتی ہے۔ ایسے مجموعے علاقائی زبانوں کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ کتاب پنجابی ادب کا قیمتی سرمایہ ہے اور اپنی زبان، اپنی دھرتی اور اپنی ثقافت سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک قابلِ قدر ادبی حوالہ ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔