لوہا اور زندگی جنہیں راس آ جائیں
ہارڈویئر کی فیکٹریوں اور صنعتی علاقوں کے باہر عموماً لوہے، پلاسٹک، پیتل اور دیگر دھاتوں کی پرانی، ٹوٹی پھوٹی اور زنگ آلود چیزیں بکھری دکھائی دیتی ہیں۔ ان چیزوں کو اکٹھا کر کے سائیکل، ریڑھی یا موٹر بائیک پر فروخت کرنے والے کو عام طور پر ’’کباڑیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں آپ نے ایسے لوگوں کو ’’ٹین، ڈبہ، پلاسٹک بیچ لو‘‘ کی آوازیں لگاتے ضرور سنا ہو گا۔ وقت کے ساتھ یہی معمولی دکھائی دینے والا کام ایک باقاعدہ کاروبار اور صنعت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سکریپ کا کاروبار بظاہر معمولی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک بڑی "صنعت” ہے۔
یہاں اصل کمال صرف سکریپ خریدنے میں نہیں بلکہ اس میں چھپی ہوئی قدر کو پہچاننے میں ہے۔ ایک شخص کو کچرا وغیرہ کباڑ نظر آتا ہے، دوسرے کو خام مال، جبکہ تیسرا اسی خام مال میں ایک پوری صنعت کا امکان دیکھ لیتا ہے۔ شاید کاروبار اور زندگی کا بنیادی فرق بھی یہی ہے کہ کامیاب انسان دوسروں کے لیے بیکار دکھائی دینے والی چیز میں بھی "امکان” تلاش کر لیتا ہے۔
کئی بڑے کاروباری سفر بھی بظاہر معمولی کاموں سے شروع ہوئے۔ سیاسی حلقوں میں شریف خاندان کے حوالے سے بھی یہ روایت بیان کی جاتی رہی ہے کہ میاں محمد شریف مرحوم نے ابتدائی دور میں سکریپ کے کاروبار سے آغاز کیا اور بعدازاں صنعت کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس روایت کی تاریخی تفصیلات اپنی جگہ ایک الگ بحث ہیں، لیکن اس میں موجود بنیادی سبق بہرحال اہم ہے کہ بڑے سفر کے لیے ابتدا کا بڑا ہونا ضروری نہیں یے۔
لوہے اور سٹین لیس سٹیل کی دیکھنے میں چھوٹی چھوٹی مگر وزنی چیزیں اتنی قیمتی ہوتی ہیں کہ محض سائیکل یا سکوٹر پر دو چار تھیلوں میں بھی دس سے پندرہ لاکھ روپے کا "سامان” لوڈ ہو جاتا ہے۔ اس صنعت کے مالک کو بھی اتنا منافع ملتا ہے کہ وہ چھوٹی موٹی بدانتظامی کو "جان بوجھ کر” نظرانداز کرتا ہے، تاکہ سونے کا انڈا دینے والی اس کی "صنعت” برقرار رہے۔
یہ کہانی صرف صنعت اور کاروبار کی کہانی ہی نہیں بلکہ اس کے اندر زندگی کا ایک گہرا فلسفہ بھی پوشیدہ ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ’’احسن تقویم‘‘ کے مقام پر پیدا کیا۔ رب العزت ہماری بدانتظامی، غلطیوں اور کوتاہیوں کو اسی لیئے نظر انداز کرتا ہے کہ ایک دن ہم "توبہ” کریں اور پھر اللہ کی نظر میں ایک "قیمتی انسان” بن جائیں۔ عملی زندگی میں انسان ابتدا ہی سے مکمل اور پختہ نہیں ہوتا۔ اس کے اندر خواہشات، کمزوریاں، خوف، لالچ، غصہ، غلطیاں اور بے شمار خامیاں موجود ہوتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان بھی ایک ایسے خام مال کی مانند ہے جسے ابھی تراشنا، پگھلانا اور ایک بہتر شکل میں ڈھالنا باقی ہے۔ لوہے کا ایک ٹکڑا جب تک بھٹی کی آگ، ہتھوڑے کی ضرب اور سانچے کی سختی سے نہیں گزرتا، اس کی اصل افادیت سامنے نہیں آتی۔
اسی طرح انسان بھی مشکلات، آزمائشوں، ناکامیوں، محرومیوں اور مسلسل محنت کے مراحل سے گزر کر ہی اپنی اصل صلاحیت دریافت کرتا ہے۔ ہم اکثر مشکل حالات سے گھبرا کر سوال کرتے ہیں کہ زندگی ہمارے لیے اتنی سخت کیوں ہے؟ شاید ہم بھول جاتے ہیں کہ لوہا بھی آگ سے گزر کر کارآمد بنتا ہے اور سونا بھی آگ کی کسوٹی پر ہی پرکھا جاتا ہے۔
انسان کی شخصیت بھی آزمائش کی بھٹی میں نکھرتی ہے۔ زندگی کی ہر مشکل سزا نہیں ہوتی، بعض مشکلات تربیت ہوتی ہیں۔
ہر ناکامی اختتام نہیں ہوتی، بعض ناکامیاں انسان کو اس راستے سے ہٹا دیتی ہیں جو اس کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔ جیسے کہ ہر محرومی نقصان نہیں ہوتی، بعض محرومیاں انسان کو اپنے اندر چھپی ہوئی طاقت تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
جس انسان کے سامنے بڑا مقصد ہو، اسے بڑے امتحانات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ بڑے خواب صرف خواہش سے پورے نہیں ہوتے، ان کے لیے صبر، قربانی، محنت اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس لیے زندگی کی سختیوں سے فرار کے بجائے ہمیں انہیں اپنی شخصیت کی ’’فورجنگ‘‘ سمجھنا چاہیے۔ آج کی تکلیف شاید کل ہماری طاقت بن جائے، آج کی ناکامی کل کی کامیابی کا خام مال ثابت ہو اور آج کا بے قیمت دکھائی دینے والا انسان کل کسی عظیم مقصد کا قیمتی کردار بن جائے۔
لوہے کو آگ راس آ جائے تو وہ مشین، عمارت یا صنعت کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان کو زندگی کی آزمائشیں راس آ جائیں تو وہ کردار، بصیرت، حوصلے اور کامیابی کا پیکر بن جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لوہے کو صنعت کار ڈھالتا ہے، جبکہ انسان کو اس کا خالق و مالک زندگی کے مختلف سانچوں میں ڈھالتا ہے۔
زندگی کی بھٹی سے گھبرانا نہیں چایئے۔ ممکن ہے جس آگ کو آپ آج اپنی آزمائش سمجھ رہے ہیں، وہی کل آپ کی شخصیت کی پہچان بن جائے۔ کیونکہ جس طرح بعض لوگوں کو لوہا راس آتا ہے، اسی طرح بعض انسانوں کو زندگی کی سختیاں بھی راس آ جاتی ہیں، جس کے بعد خام شکل میں نظر آنے والا وہی عام انسان ایک "بڑا کردار” بن جاتا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔