وہ ڈاکٹر جو دوا سے پہلے صحت کا راستہ دکھاتا ہے
ڈاکٹر اشتیاق حسین — ایک معالج، ایک استاد اور صحت مند معاشرے کا خواب دیکھنے والا انسان
تحریر ۔۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کچھ لوگ اپنے عہدے سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنے پیشے سے، مگر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی اصل پہچان ان کا کردار بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔
حسن ابدال میں ڈاکٹر اشتیاق حسین کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ایک قابل معالج ہونے کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی ہنس مکھ، مخلص، ملنسار اور محبت بانٹنے والے انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی شخصیت میں ایک ایسی کشش رکھی ہے کہ مریض ان سے ملنے کے بعد صرف دوا ہی نہیں، ایک حوصلہ بھی لے کر واپس جاتا ہے۔ ان کی مسکراہٹ، نرم گفتگو اور مریض کو اعتماد دینے کا انداز شاید ان کے علاج کا وہ حصہ ہے جسے کسی نسخے پر لکھا نہیں جا سکتا۔
میرا ڈاکٹر صاحب سے تعلق گزشتہ تین عشروں پر محیط ہے۔ وہ میرے استاد بھی ہیں اور میرے لیے بڑے بھائی کی شفقت رکھنے والے بزرگ بھی۔ زندگی کے سفر میں کچھ تعلقات وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے بلکہ مزید گہرے اور قیمتی ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین سے میرا تعلق بھی انہی خوبصورت رشتوں میں سے ایک ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے نزدیک صحت صرف بیماری سے نجات کا نام نہیں۔ وہ اپنے مریضوں کو علاج کے ساتھ پرہیز، ورزش اور متوازن طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ شاید یہی سوچ انہیں عام معالج سے ممتاز کرتی ہے کہ وہ انسان کو صرف بیماری کی حالت میں نہیں دیکھتے بلکہ اسے بیماری سے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
اسی سوچ کے تحت گزشتہ کئی برسوں سے ڈاکٹر اشتیاق حسین نے حسن ابدال اور واہ کینٹ کے شہریوں کے لیے یوگا کی کلاسیں شروع کر رکھی ہیں۔
صبح سویرے جب سوشل میڈیا پر ان کلاسوں کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں تو دل خوش بھی ہوتا ہے اور رشک بھی آتا ہے۔ ایک طرف نوجوان، دوسری طرف بزرگ شہری اور درمیان میں ڈاکٹر اشتیاق حسین اپنے مخصوص انداز میں یوگا کی مشقیں کرواتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے بزرگ مہربان دوست اور معروف صحافی ملک شاہد اعوان بھی اس صحت مند سرگرمی کا حصہ نظر آتے ہیں۔
لیکن اس سارے منظر کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ کلاسیں بلا معاوضہ ہیں۔
آج کے زمانے میں جب ہر خدمت کی ایک قیمت مقرر ہے، وہاں ایک قابل معالج کا اپنی مہارت، اپنا وقت اور اپنی توانائی لوگوں کی صحت کے لیے وقف کرنا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا مقصد نوجوان نسل اور بزرگ شہریوں کو ورزش کی طرف راغب کرنا ہے تاکہ وہ ایک فعال اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔ یہ سوچ اس لیے بھی اہم ہے کہ جدید طرزِ زندگی میں جسمانی سرگرمی کی کمی اور ذہنی دباؤ ایک عام مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ یوگا میں جسمانی مشقوں کے ساتھ سانس، توجہ اور یکسوئی کی مشقیں بھی شامل ہوتی ہیں اور معتبر طبی ذرائع بھی اس کے جسمانی و ذہنی فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں اسی حوالے سے ڈاکٹر اشتیاق حسین سے خصوصی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ یوگا ایک قدیم جسمانی اور ذہنی مشق ہے جس میں مختلف آسن، سانس لینے کی تکنیکیں اور ارتکاز کی مشقیں شامل ہوتی ہیں۔ باقاعدگی سے اور اپنی جسمانی استعداد کے مطابق کی جانے والی یہ مشقیں جسمانی لچک، توازن اور طاقت بہتر بنانے کے ساتھ ذہنی سکون میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے ورزش کو معمول بنانا انتہائی اہم ہے۔ شوگر، امراضِ قلب یا دیگر طبی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد بھی اپنی حالت کے مطابق مناسب جسمانی سرگرمی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تاہم ایسی صورت میں ورزش کا انتخاب اپنے معالج کے مشورے سے کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
باتوں باتوں میں میں نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے ایک خواہش کا اظہار کیا کہ اگر اٹک شہر میں بھی 30 سے 40 افراد پر مشتمل ایک گروپ یوگا سیکھنے اور باقاعدگی سے ورزش کرنے کے لیے تیار ہو جائے تو کیا وہ یہاں بھی اپنی خدمات فراہم کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے میری بات سنی، مسکرائے اور حسبِ معمول محبت سے جواب دیا:
اگر اٹک شہر میں 30 سے 40 افراد پر مشتمل کلاس بن جائے تو وہ ہفتے میں دو دن بلا معاوضہ یوگا کی تربیت دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بظاہر ایک چھوٹی سی پیشکش ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بڑی سوچ اور اس سے بھی بڑا دل موجود ہے۔
یہ سوچ کہ لوگ بیمار ہونے کے بعد ہسپتال کا رخ کرنے کے بجائے صحت مند رہنے کے اصول سیکھیں۔
یہ خواہش کہ نوجوان موبائل کی اسکرینوں سے کچھ وقت نکال کر اپنے جسم کو حرکت دیں۔
یہ کوشش کہ ہمارے بزرگ عمر کو کمزوری کی علامت سمجھنے کے بجائے خود کو متحرک رکھنے کی طرف توجہ دیں۔
اور یہ احساس کہ معاشرے کی خدمت صرف بڑے منصوبوں اور بڑے اعلانات سے نہیں ہوتی، کبھی کبھی صبح سویرے چند لوگوں کو ورزش کروانا بھی ایک بڑی نیکی بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین کی شخصیت کا یہی پہلو مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔
وہ صرف بیماری کا علاج نہیں کرتے، صحت کا شعور بھی بانٹتے ہیں۔
وہ صرف نسخہ نہیں دیتے، زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سمجھاتے ہیں۔
اور شاید ایک اچھے معالج کی اصل کامیابی یہی ہے کہ اس کا مریض دوا کے ساتھ ساتھ اپنے طرزِ زندگی کو بدلنے کا فیصلہ بھی کرے۔
ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو معاشرے کو صرف شکایتیں نہ دیں بلکہ حل بھی دیں۔ جو لوگوں کو بیماریوں سے ڈرائیں نہیں بلکہ صحت کی طرف لے جائیں۔ جو اپنے علم کو صرف اپنے پیشے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے انسانوں کی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔
میری خواہش ہے کہ اٹک کے شہری اس پیشکش سے فائدہ اٹھائیں اور 30 سے 40 افراد پر مشتمل ایک باقاعدہ گروپ تشکیل پائے۔ کیونکہ صحت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، اور صحت مند معاشرے سے بڑھ کر کسی شہر کی خوبصورتی نہیں۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا:
کچھ لوگ ڈاکٹر ہوتے ہیں،
کچھ لوگ معالج ہوتے ہیں،
اور کچھ لوگ صحت کا شعور بانٹنے والے انسان ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جو طب کو پیشہ نہیں، خدمت سمجھ کر نبھاتے ہیں

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں