آپی – Aapi
صفدر علی حیدری
وہ گھر کا اکلوتا لڑکا تھا، مگر اس کے لاڈ بہت کم اٹھائے جاتے تھے۔
چھوٹا جو ٹھہرا، اور اس کا تو نام ہی چھوٹا پڑ گیا تھا۔
صبح سے شام تک بس
’’چھوٹے، یہ کر دے…‘‘
’’چھوٹے، وہ کر دے…‘‘
’’چھوٹے، آپی کو اسکول چھوڑ آ…‘‘
’’چھوٹے، آپی کو اسکول سے لے آ…‘‘
ہر حکم میں وہی لفظ، ہر بات میں وہی دہرائی۔
چھوٹے چھوٹے کام، چھوٹے چھوٹے فرائض، چھوٹی چھوٹی امیدیں۔
وہ تھک جاتا، کبھی اکتا بھی جاتا، مگر ایک آواز اس کے قدموں کی زنجیر تھی:
’’بیٹا، تو میرا جوان پتر ہے۔
میرا مان، میرا فخر ہے۔
گھر کا بڑا ہے، میرا جانشین ہے۔
تو نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا…؟‘‘
اس آواز میں محبت بھی تھی، فخر بھی، اور ایک ایسا دباؤ بھی جو ہر دن اس کے کندھوں پر ایک نیا وزن رکھ دیتا تھا۔
ایک شام وہ کاشی کے ساتھ کھیل کر واپس آیا تو خاصا بوکھلایا ہوا تھا۔
وہ چپ چاپ صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
سانس پھولی ہوئی تھی، آنکھیں روئی ہوئی تھیں۔
آپی نے اسے کھڑکی سے دیکھا، کچھ سوچا، پھر دھیرے سے اس کے پاس آ گئی۔ اس کے قدم آج معمول سے کچھ سست تھے۔
’’کیا ہوا چھوٹے؟‘‘
اس کی آواز میں تجسس سے زیادہ ایک جھجک تھی۔
وہ خاموش رہا۔
اس کی دھڑکنیں اور تیز ہو گئیں۔
’’چل بتا… میں تیری صرف آپی نہیں، تیری ماں بھی ہوں۔‘‘
چھوٹے نے آنکھ اٹھائی۔
چہرے پر درد تھا، آنکھوں میں سوال، اور اندر کوئی بھاری چیز ٹوٹتی ہوئی۔
’’آپی…‘‘
وہ رکا، پھر آہستہ سے بولا
’’یہ بتاؤ… کیا میں نے کبھی آپ کا کوئی کام کرنے سے منع کیا ہے؟‘‘
آپی اسے دیکھتی رہی۔
’’گھر کے سارے کام… آپ کے سارے کام… میں ہی تو کرتا ہوں… آپ کی سہیلیوں تک کے کام بھاگم بھاگ کرتا ہوں۔‘‘
آپی حیران اور تھوڑی پریشان ہو کر بولی:
’’ہاں، تو تو ہی تو کرتا ہے… اور میں ہر کام تجھے ہی تو کہتی ہوں…‘‘
چھوٹے نے کچھ دیر اسے دیکھا، پھر بولا
’’تو پھر آپ نے راشد کے نام خط… کاشی کے ہاتھ کیوں بھجوایا؟‘‘
آپی سناٹے میں آ گئی
چھوٹے کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’مجھے کیوں نہیں دیا…؟‘‘
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر معصومیت سے بولا
’’آپی… میں نے کون سا انکار کرنا تھا؟‘‘

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |