Tag: اردو

  • بہادر کالم نگار

    بہادر کالم نگار

    بہادر کالم نگار

    کالم نگاری کے بہت سے لوازمات ہیں۔ان لوازمات میں جو چیزیں شامل کی جا سکتی ہیں وہ یہ ہیں:آرٹ،وسائل،تعلقات،تعلیم،اعتماد،جملہ سازی،معلومات،باریک بینی، احسا س ، بیدار مغز،کھوج، قوتِ فیصلہ،بہادری ،ایمان داری ،سچائی ،غیر جان داری وغیرہ۔


    اگرچہ مذکورۂ بالا تمام چیزیں اور صفات کالم نگار اور کالم نگاری کے لیے ضروری ہیں لیکن کالم نگار بہادر نہیں ہو گا،تو وہ کبھی کامیاب کالم نگار نہیں بن سکے گا۔اس لیے میرے نزدیک بہادری اور دلیری ایک کامیاب کالم نگار کے لیے پہلی شرط ہے۔اگر وہ بہادر نہیں ہو گا تو اپنے مطالعے،مشاہدے،ایمان داراور بیدار مغز ہونے کے باوجود وہ جو نتیجہ اخذ کرے گا، اسے اپنے کالم میں بیان نہیں کر پائے گا۔جس کی وجہ سے اس کی تحریر میں کشش نہیں ہو گی،اس کے قاری کم ہوتے جائیں گے ۔اس کی ساری زندگی کی کالم نگاری خاک میں مل جائے گی۔
    خوف انسان کی زبان بند کرا دیتا ہے۔بزدلی مصلحت کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔مصلحت اسے پیچھے ہٹ جانے کی تاکید کرتی ہے۔جبر اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتاہے۔ اگرکالم نگار نے خوف کو اپنے اوپر سوار کر لیا تو وہ کبھی ایسا کالم نہیں لکھ پائے گا جو صدیوں بعد بھی پڑھا جاتا ہے ؛جس کو اپنی کتاب میں حوالے کے طور درج کرتے ہیں۔

    بہادر کالم نگار


    اگر صرف اردو کالم نگاری کی روایت ہی کو دیکھا جائے تو شہرت اور نام وری کی پہلی قطار میں وہی کالم نگار نظر آئیں گے جنھوں نے جبر،خوف،اور لالچ کا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔انھوں نے اپنے کالم میں وہی لکھا جو دیکھا تھا۔انھوں نے حالات،واقعات اور مشاہدے سے جو نتائج اخذ کیے،انھیں کو اپنے کالم میں کیا۔ ایسے کالم نگاروں نے موت کا ذائقہ بھی چکھا،پابندِ سلاسل بھی ہوئے،ان کے اخبارات بند کر دیے گئے۔ان پر بھاری تاوان کا بوجھ بھی ڈالا گیالیکن وہ بہادری سے سب مصائب کا مقابلہ کرتے رہے۔اسی بہادری کی وجہ سے آج تاریخ میں صرف ایسے کالم نگاروں اور مدیروں کا ذکر ملتا ہے جنھوں نے سخت حالات کا دلیری سے مقابلہ کیا۔مصلحت کیش،بزدل،لالچی لکھنے والوں کے نام ان کی تدفین کے ساتھ ہی دفن ہو گئے۔مولوی محمد باقر،مولانا محمد علی جوہر،حسرت موہانی وغیرہ سے ارشد شریف تک صحافت سے منسلک جتنی شخصیات نام ور ہوئی ہیں،اپنی بے باکی اور دلیری کی وجہ سے نام ور ہوئی ہیں۔
    عام قسم کےموضوعات پرلکھنے والے عام انداز کے کالم نگار سیکڑوں ہو تے ہیں لیکن نڈر ہو کر اپنا مؤقف اور اپنا مافی الضمیر بیان کرنے والے سیکڑوں میں ایک دو ہی ہوتے ہیں۔سچ پوچھیے تو کالم نگاری کی شان یہی ہے کہ حقائق کو ایمان داری سےاور بے خوف ہو کر بیان کیا جائے؛لیکن آپ ہی بتائیے کہ اس شان والے کالم نگار ہمارے معاشرے میں کتنے ہیں!


    شہزاد حسین بھٹی کا شمار بھی ایسےہی چند کالم نگاروں میں ہوتا ہے جو قوتِ فیصلہ سے لب ریز ہیں اور نڈر ہو کراپنا مافی الضمیربیان کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔انھوں نے بے خوف ہو کر کالم نگاری کی ہے؛ حالات ، واقعات اوران سے جڑی ہوئی شخصیات کے بارے میں بے خطر لکھا ہے۔
    ہمارے ہاں کالم نگاری کا عمومی چلن یہی ہے کہ اگر کسی بڑے عادی مجرم یا کسی ایسی سیاسی،مذہبی یا سماجی شخصیت جسےکسی جتھے کا تعاون حاصل ہے؛ڈر کے مارےاس کا نام اپنےکالم میں نہیں لکھتےکہ مبادا کسی قسم کا نقصان ہو جائے لیکن شہزاد بھٹی نے مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاپنے کالموں میں ذمہ داروں کے نام لکھے ہیں ۔یہی وہ خوبی ہے جو شہزاد حسین بھٹی کو ہم عصر کالم نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ میں اس کی کالم نگاری اور کالم نگاری کے اس رویے اور روش کو قابلِ داد اور قابلِ تقلید سمجھتا ہوں۔

  • اردو زبان کا عروج ہندوستانی مسلمانوں کے ملی اتحاد کے بغیر ناممکن ہے

    اردو زبان کا عروج ہندوستانی مسلمانوں کے ملی اتحاد کے بغیر ناممکن ہے

    کیا اردو زبان کی موجودہ حالت زار اسی قدرتی مصلحت کا حصہ نہیں ہے جس کے تحت پوری امت مسلمہ اقتصادی اور سیاسی طور پر اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے زوال پذیر ہے؟ تاریخ گواہ ہے جب کبھی مسلمانوں پر آ فت آ ئ ہے تو جو چیز سب سے پہلے زوال پذیر ہوئی وہ انکی زبان تھی۔ دیگر اشیاء تو بعد میں آ تی ہیں۔  سلطنت عثمانیہ کی عبرت ناک مثال ہمارے سامنے ہے جہاں نوجوان نسل عربی سے دل برداشتہ ہونے لگی تھی اور اسکا رجہان ترکی زبان کی طرف ہو گیا تھا۔ جب مصطفیٰ کمال اتاترک کی عیاریوں کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ زوال پذیر ہوئی اور اسکی حکومت اس دہریے اتا ترک کے ہاتھوں میں آ ئ تو اس نے عربی جو کہ ترکی کی سرکاری زبان تھی، کا خاتمہ کرکے ترکی زبان کو سرکاری کام کاج کے ساتھ ساتھ پوری ترکی کی زبان کے طور پر رائج کر دیا۔ کیا یہی سلوک آ زادی کے بعد اردو کے ساتھ نہیں ہوا!!!! آ پ اس کو ہندو مسلم کے نظریے سے نہ دیکھیں بلکہ ایک پوری قوم کے زوال کے نتیجے کے طور پر دیکھیں۔ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر ختم کرنے کے بعد ہمارے غیر مسلم بھائیوں نے تو اپنے لئے ہندی زبان کا بندوبست کر لیا اور اسکی ترویج و اشاعت کا بھی اہتمام سرکاری طور پر ہونے لگا لیکن مسلمان اس شعر کے مصداق

    "خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

    کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری”

    کہیں کے نہ رہے۔ لیکن انھوں نے بحیثیت ایک قوم کے ہمت نہیں ہاری اور آ ج بھی وہ مختلف تنظیموں اور اداروں کے ذریعے اردو زبان کو  اس کا کھویا ہوا حق دلوانے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن ان سب کے بیچ وہ یہ بات بھول گئے کہ اردو کا زوال انکے ملی وقار کا بھی زوال ہے۔ اس لئے وہ اردو کو اس کا کھویا ہوا حق دلوانے کے لئے تو کھڑے ہو گئے لیکن اپنے ملی وقار اور تشخص کی بحالی کے لئے بحیثیت ایک قوم اتنی کوشش نہ کر سکے جتنی انھیں کرنی چاہیئے تھی۔ وہ اردو کی ترقی کے لئے تو بلا کسی مذہبی اور گروہی تفریق کے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جاتے ہیں لیکن اپنے ملی وقار کی بحالی کے لئے اپنے اندر موجودہ انتشار اور پھوٹ کے سبب ایک پلیٹ فارم پر آ نے سے کتراتے ہیں بلکہ اگر یوں کہیں کہ انھیں اس اقدام سے نفرت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

    Indian Muslim
    Image by Ron James from Pixabay

      اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اردو زبان کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں کی جانے والی انکی کوششیں یا دیگر مسائل کے حل کے لئے چلائ جانے والی تحریکیں فرمان الٰہی "واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا” کی پابندی کے بغیر کامیاب ہو سکتی ہیں؟ تو اس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔ اس لئے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ان کا باہمی اتحاد نا گریز ہے تبھی وہ اللّٰہ کی نصرت کے امیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔ اس اتحاد کی صرف ایک صورت ہے کہ وہ "اطیعو اللّٰہ و اطیعو الرسول” کے مصداق بنیں۔ قرآنی تعلیمات اور اسوہء حسنہ کو اپنا نصب العین بنائیں۔ اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار سے دنیا کے آگے مثال پیش کریں۔ اور اگر وہ یہ نہ کریں گے تو اللّٰہ انکی کمر توڑ کر رکھ دیگا، اپنی نصرت و اعانت سے انھیں محروم کرکے ذلیل و خوار کر دیگا۔ انھیں انتشار میں مبتلا کر کے دوسری قوموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیگا(چھوڑ دے گا کیا بلکہ چھوڑ دیا ہے)۔ بڑی عبرت کا مقام ہے کہ آ ج ہماری کوئ تنظیم، ہمارا کوئ ادارہ خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی اپنے مقاصد کے حصول میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پا رہا ہے۔ اسکی صرف ایک وجہ ہے کہ ہم نے اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدایات سے فرار اختیار کرکے اپنی ترقی کے لئے دنیاوی اصول و ضوابط اختیار کر لئے ہیں۔ ہماری آ نکھیں دوسری قوموں کی ترقی دیکھ کر خیرہ ہیں اور ہم نے اپنی ترقی کے لئے وہی راہ اختیار کی ہے جو ہمیں گمراہی کے اندھیروں میں لے جاتی ہے، ہمیں اپنے نصب العین سے دور کرتی ہے، ہمارے دینی اور ملی تشخص پر سخت قدغن لگاتی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ہم پھر بھی خدا کی مدد کے امیدوار ہیں۔ اسے ڈھیٹ پن یا دیدہ دلیری کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے!!!

    Akmal Nazeer

    اکمل نذیر

    بہرائچ، اترپردیش

  • کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

    کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

    ( پاکستان کا مرثیہ )

    تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    یوں تو پاکستان میں کئی علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں لیکن اردو ہماری قومی زبان اور لسانی پہچان ہے ۔ اس کا جنم مغل شہنشاہ شاہ جہان کے زمانے میں دلی میں ہوا اور بقول محمود خان شیرانی ، اردو دلی میں جنمی ، اترپردیش میں بیاہی گئی اور اب بڑھاپا پنجاب میں کاٹ رہی ہے ۔ یہ بات درست ہے یا غلط ، اس بحث میں الجھے بغیر ماننا پڑے گا کہ دنیاء کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اس نوزائیدہ زبان نے جملہ اصناف ادب ، نثر و نظم میں ایسے ایسے روشن ستارے پیدا کئے کہ جو ابدی کہکشاؤں میں ضم ہوجانے کے باوجود آج بھی دنیائے اردو کے آکاش پر جگمگ جگمگ کرتے نظر آتے ہیں ۔

    اگر شعراء کی بات کی جائے تو اس زبان کے اولین شعراء ، ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی سے غالب ، میر اور اقبال تک ایک طویل فہرست بنتی ہے ، کہ جن کا کلام اردو ادب کا اثاثہ ہے ، لیکن اس میدان میں کچھ ایسے شاہسوار بھی وارد ہوئے جو آندھی کی طرح آئے اور بگولہ بن کر نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میرا اشارہ ان شاعروں اور ادیبوں کی طرف ہے جو عین جوانی میں یا جوانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے ۔  اگرچہ یہ لوگ اساتذہ کے درجے پر فائز نہیں لیکن اس قلیل مدتی زندگی میں انہوں نے جو نقوش شاہراہ اردو ادب پر ثبت کئے ، انمٹ اور انمول ہیں ۔ سعادت حسن منٹو جیسا شہنشاہ افسانہ نگاری اور انوکھی طرز تحریر کا مالک وقت سے بہت پہلے چل تو دیا لیکن ہمارے لئے عقل و خرد اور معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی ایسی تحریریں چھوڑ گیا کہ اگر ہم ان پر غور کریں تو بہت ساری گھتھیاں سلجھ سکتی ہیں ۔  ۔ اس دیوتا نے تو کسی طرح زندگی کی پانچویں دھائی میں قدم رکھ ہی لیا تھا جبکہ ملتان کا آنس معین ابھی بارھویں جماعت میں ہی تھا کہ سکھر کے ایک مشاعرے میں جب اس نے اپنا یہ شعر پڑھا ،

    ” ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج

    اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے "

    تو ، صدر مشاعرہ حضرت جوش ملیح آبادی نے اٹھ کر اس کے ماتھے کو چوما اور سامعین سے مخاطب ہوکر کہا اس بچے کا خیال رکھنا ، وقت سے پہلے اس دنیاء میں آگیا ہے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد اس بچے نے ٹرین کے نیچے لیٹ کر خود کشی کرلی ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آج کے مضمون کا عنوان بھی ایک ایسے ہی جوہر قابل کی شاعری سے منتخب کیا ہے کہ جو فقط 32 برس اس دنیاء میں مقیم رھا ۔

    شکیب جلالی بدایوں کا رہنے والا تھا  ہجرت کرکے پاکستان آگیا ۔ پنڈی اور لاھور سے ہوتا ہوا سرگودھا پہنچا اور آنس معین ہی کی طرح نوعمری میں ریل کے آگے لیٹ کر جان دیدی ۔

    اس جوانمرگ شاعر کو اہل ادب تو جانتے ہیں لیکن عام آدمی کو علم نہیں کہ نصرت فتح علی خان مرحوم کی گائی ہوئی جس غزل پر وہ سر دھنتے ہیں وہ در اصل اسی شکیب جلالوی کا پیغام ہے ۔ اسی غزل کے مطلعے یا پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ میرا آج کا موضوع سخن ہے ، شعر ملاحظہ فرمائیں :

    ” سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

    کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    قارئین کرام !

    شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے کا دماغ ہوتے ہیں ۔ فلسفےکی زبان میں انہیں تیسری آنکھ یا

    Third Eye of the Society

    بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ اپنی اضافی خداداد صلاحیتوں کی بدولت وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا ۔ اس درجے پر فائز لوگ مستقبل بین ہوتے ہیں انہیں پہلے سے علم ہوجاتا ہے کہ آنیوالا وقت کیا پیغام لیکر آرھا ہے ۔

    شکیب جلالی نے اپنے شعر میں آج سے کئی برس قبل آج کے پاکستان اور پاکستانیوں کی بات کی تھی ۔ آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں کہ ،  ایسا نہیں بلکہ شکیب نے تو اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر شعر کہا ، تو حضور والا چونکہ میرا محبوب ، میرا وطن پاکستان ہے لھذا میں اس شعر کی تشریح موجودہ پاکستان اور اس میں موجود پاکستانیوں کو ہی سامنے رکھ کر کرونگا ۔

    کیا یہ حقیقت نہیں کہ تقسیم ہند سے قبل ہماری سیاسی سوچ اتنی پاک صاف اور معصومانہ تھی کی ہم ایک پنجابی اقبال کے سپنے کو حقیت جان کر اس کی طرف لپکے ، کیا ہم واقعی معصوم نہیں تھے جب ایک اثناء عشری شیعہ محمد علی جناح کو قائد مانا ۔ کیا یہ درست نہیں کہ ہم نے کرنال کے ایک نواب کو قائد ملت کا خطاب دیا ۔ کیا ہم نے ایک بلوچ قاضی عیسی کو تحریک پاکستان کا رہبر نہیں مانا ۔ کیا ہم  ایک پٹھان  سردار عبد الرب نشتر کی راھنمائی میں آگے نہیں بڑھے ۔ کیا ہم نے ایک شش امامی اسماعیلی شیعہ کو پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا پہلا صدر منتخب نہیں کیا ۔ ایسی لاتعداد مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے ذہن اس وقت ان سیاسی غلاظتوں سے ایسے  پاک تھے  کہ ہمارے اندر کوئی شیعہ تھا نہ سنی ، پنجابی تھا نہ کوئی پٹھان ، مہاجر تھا نہ کوئی سندھی ، بلوچ تھا اور نہ کوئی گلگتی یا بلتی بلکہ ہم سب ایک قوم پہ یقین رکھتے تھے اور یہی وہ خوبی اور قوت تھی کہ جس نے ہمیں انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی سے نجات دلائی اور یہاں آکر شکیب کے پہلے مصرعے کی تشریح مکمل ہوجاتی ہے جس میں اس نے کہا ،

    سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

    اور

    اب

    اگلا مصرعہ

    ” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    قائد اعظم ،  قائد ملت اور تحریک پاکستان کے عظیم راہنماوں کی رخصتی کے بعد ، قوم ، گدھ نماء مردہ خوروں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں ، مفاد پرستوں اور ملک دشمنوں کے نرغے میں آگئی ۔ سب سے پہلا وار  ایک قوم کے نظریئے پر ہوا ۔ بنگالی قومیت کو ہوا دی گئی اور پاکستان بننے کے صرف 25 سال کے اندر آدھا ملک ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا ۔ اب یہ کہنا کہ غلطی کس کی تھی ایک لمبی بحث ہے ۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ ہم مخلص ،  ایماندار اور محب وطن قیادت سے محروم تھے ورنہ اختلاف کہاں نہیں ہوتا ۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا جھگڑا پیدا کرکے ان بنگالیوں سے جان چھڑائی کہ جنہوں نے مسلم لیگ بنائی تھی ۔ اس کام سے فارغ ہوئے تو مغربی پاکستان یا موجودہ ملک میں قومیتوں کے جھگڑے شروع کرادئیے  ۔ سندھی ، پختون ، بلوچی ، سرائیکی اور پنجابی ازم کے بیج بوئے گئے ۔ اس پہ بھی تسلی نہ ہوئی تو مولوی صاحب نے میدان میں آکر کفر کے فتوے بانٹنے شروع کردئے تاکہ جو کسر باقی ہے وہ بھی نکال دی جائے ۔

    غور کیجئیے کتنی منظم سازش ہے پاکستان کو کم زور کرنے کی ۔ پہلے لسانی اور علاقائی بنیادوں پر قوم کو بانٹا گیا اور پھر ان لسانی اکائیوں کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے شیعہ ، سنی ، وھابی ، دیوبندی اور بریلوی کے خانوں میں تقسیم کیا جارھا ہے ۔ اور اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کھلے عام صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کی شان میں تقریریں کی جارہی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جو امیر یزید زندہ باد کے نعرے لگے ، کیا یہ محض اتفاق ہے ؟

    ایسا نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کا منصوبہ تیار ہوا ہے تاکہ ملک کو افراتفری اور مکمل انتشار میں دھکیل دیا جائے ۔

    صرف یہی نہیں کہ لسانی اور فرقہ وارانہ جنگوں کے منصوبے بنائے جارہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ  ایک مدت سے پاک فوج کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم چلائی جارہی ہے تاکہ اگر حالات بگڑیں تو فوج اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکام ہو ۔

    پاکستانیو !

    خدا را دشمن کی ان چالوں کو سمجھو ۔ ہمارے بعض سیاست دان اور کچھ حلوہ خور مُلاں دشمن کی بولی بول رہے ہیں ۔ یاد رکھو مسئلہ عمران خان کا نہیں ، ملک کی سلامتی کا ہے ۔ عمران خان آج ہے کل نہیں ہوگا ۔ ہمیں ملک کی فکر کرنی چاھئیے ۔ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اپنے آپ کو تقسیم مت کرو ۔ اپنی ہی فوج کو گالیاں مت دو ورنہ برا وقت آنے میں دیر نہیں لگتی ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن کامیاب ہوجائے اور ہم سب معصوم لوگ مہاجر کیمپوں میں بیٹھے ہوں کیونکہ ان جعلی سیاستدانوں نے تو اپنے گھر ، دولت اور آل اولاد سب کو بیرون ملک محفوظ کررکھا ہے اگر ملک ٹوٹا تو برباد عام آدمی ہوگا ۔ میری باتوں پر غور کرو ۔ آذادی اس وقت ملی جب ہم سب صرف مسلمان تھے اور پاکستانی تھے اب اگر اس آذادی کو برقرار رکھنا ہے تو وہی روش اپنانی ہوگی جو تحریک پاکستان کے وقت اپنائی تھی ورنہ ملک گنوا بیٹھوگے اور شکیب جلالی کا یہ مصرعہ یاد آئیگا ۔

    ” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین