کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

( پاکستان کا مرثیہ )

تحریر :

سیدزادہ سخاوت بخاری

یوں تو پاکستان میں کئی علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں لیکن اردو ہماری قومی زبان اور لسانی پہچان ہے ۔ اس کا جنم مغل شہنشاہ شاہ جہان کے زمانے میں دلی میں ہوا اور بقول محمود خان شیرانی ، اردو دلی میں جنمی ، اترپردیش میں بیاہی گئی اور اب بڑھاپا پنجاب میں کاٹ رہی ہے ۔ یہ بات درست ہے یا غلط ، اس بحث میں الجھے بغیر ماننا پڑے گا کہ دنیاء کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اس نوزائیدہ زبان نے جملہ اصناف ادب ، نثر و نظم میں ایسے ایسے روشن ستارے پیدا کئے کہ جو ابدی کہکشاؤں میں ضم ہوجانے کے باوجود آج بھی دنیائے اردو کے آکاش پر جگمگ جگمگ کرتے نظر آتے ہیں ۔

اگر شعراء کی بات کی جائے تو اس زبان کے اولین شعراء ، ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی سے غالب ، میر اور اقبال تک ایک طویل فہرست بنتی ہے ، کہ جن کا کلام اردو ادب کا اثاثہ ہے ، لیکن اس میدان میں کچھ ایسے شاہسوار بھی وارد ہوئے جو آندھی کی طرح آئے اور بگولہ بن کر نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میرا اشارہ ان شاعروں اور ادیبوں کی طرف ہے جو عین جوانی میں یا جوانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے ۔  اگرچہ یہ لوگ اساتذہ کے درجے پر فائز نہیں لیکن اس قلیل مدتی زندگی میں انہوں نے جو نقوش شاہراہ اردو ادب پر ثبت کئے ، انمٹ اور انمول ہیں ۔ سعادت حسن منٹو جیسا شہنشاہ افسانہ نگاری اور انوکھی طرز تحریر کا مالک وقت سے بہت پہلے چل تو دیا لیکن ہمارے لئے عقل و خرد اور معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی ایسی تحریریں چھوڑ گیا کہ اگر ہم ان پر غور کریں تو بہت ساری گھتھیاں سلجھ سکتی ہیں ۔  ۔ اس دیوتا نے تو کسی طرح زندگی کی پانچویں دھائی میں قدم رکھ ہی لیا تھا جبکہ ملتان کا آنس معین ابھی بارھویں جماعت میں ہی تھا کہ سکھر کے ایک مشاعرے میں جب اس نے اپنا یہ شعر پڑھا ،

” ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج

اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے “

تو ، صدر مشاعرہ حضرت جوش ملیح آبادی نے اٹھ کر اس کے ماتھے کو چوما اور سامعین سے مخاطب ہوکر کہا اس بچے کا خیال رکھنا ، وقت سے پہلے اس دنیاء میں آگیا ہے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد اس بچے نے ٹرین کے نیچے لیٹ کر خود کشی کرلی ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آج کے مضمون کا عنوان بھی ایک ایسے ہی جوہر قابل کی شاعری سے منتخب کیا ہے کہ جو فقط 32 برس اس دنیاء میں مقیم رھا ۔

شکیب جلالی بدایوں کا رہنے والا تھا  ہجرت کرکے پاکستان آگیا ۔ پنڈی اور لاھور سے ہوتا ہوا سرگودھا پہنچا اور آنس معین ہی کی طرح نوعمری میں ریل کے آگے لیٹ کر جان دیدی ۔

اس جوانمرگ شاعر کو اہل ادب تو جانتے ہیں لیکن عام آدمی کو علم نہیں کہ نصرت فتح علی خان مرحوم کی گائی ہوئی جس غزل پر وہ سر دھنتے ہیں وہ در اصل اسی شکیب جلالوی کا پیغام ہے ۔ اسی غزل کے مطلعے یا پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ میرا آج کا موضوع سخن ہے ، شعر ملاحظہ فرمائیں :

” سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے “

قارئین کرام !

شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے کا دماغ ہوتے ہیں ۔ فلسفےکی زبان میں انہیں تیسری آنکھ یا

Third Eye of the Society

بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ اپنی اضافی خداداد صلاحیتوں کی بدولت وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا ۔ اس درجے پر فائز لوگ مستقبل بین ہوتے ہیں انہیں پہلے سے علم ہوجاتا ہے کہ آنیوالا وقت کیا پیغام لیکر آرھا ہے ۔

شکیب جلالی نے اپنے شعر میں آج سے کئی برس قبل آج کے پاکستان اور پاکستانیوں کی بات کی تھی ۔ آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں کہ ،  ایسا نہیں بلکہ شکیب نے تو اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر شعر کہا ، تو حضور والا چونکہ میرا محبوب ، میرا وطن پاکستان ہے لھذا میں اس شعر کی تشریح موجودہ پاکستان اور اس میں موجود پاکستانیوں کو ہی سامنے رکھ کر کرونگا ۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ تقسیم ہند سے قبل ہماری سیاسی سوچ اتنی پاک صاف اور معصومانہ تھی کی ہم ایک پنجابی اقبال کے سپنے کو حقیت جان کر اس کی طرف لپکے ، کیا ہم واقعی معصوم نہیں تھے جب ایک اثناء عشری شیعہ محمد علی جناح کو قائد مانا ۔ کیا یہ درست نہیں کہ ہم نے کرنال کے ایک نواب کو قائد ملت کا خطاب دیا ۔ کیا ہم نے ایک بلوچ قاضی عیسی کو تحریک پاکستان کا رہبر نہیں مانا ۔ کیا ہم  ایک پٹھان  سردار عبد الرب نشتر کی راھنمائی میں آگے نہیں بڑھے ۔ کیا ہم نے ایک شش امامی اسماعیلی شیعہ کو پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا پہلا صدر منتخب نہیں کیا ۔ ایسی لاتعداد مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے ذہن اس وقت ان سیاسی غلاظتوں سے ایسے  پاک تھے  کہ ہمارے اندر کوئی شیعہ تھا نہ سنی ، پنجابی تھا نہ کوئی پٹھان ، مہاجر تھا نہ کوئی سندھی ، بلوچ تھا اور نہ کوئی گلگتی یا بلتی بلکہ ہم سب ایک قوم پہ یقین رکھتے تھے اور یہی وہ خوبی اور قوت تھی کہ جس نے ہمیں انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی سے نجات دلائی اور یہاں آکر شکیب کے پہلے مصرعے کی تشریح مکمل ہوجاتی ہے جس میں اس نے کہا ،

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

اور

اب

اگلا مصرعہ

” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے “

قائد اعظم ،  قائد ملت اور تحریک پاکستان کے عظیم راہنماوں کی رخصتی کے بعد ، قوم ، گدھ نماء مردہ خوروں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں ، مفاد پرستوں اور ملک دشمنوں کے نرغے میں آگئی ۔ سب سے پہلا وار  ایک قوم کے نظریئے پر ہوا ۔ بنگالی قومیت کو ہوا دی گئی اور پاکستان بننے کے صرف 25 سال کے اندر آدھا ملک ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا ۔ اب یہ کہنا کہ غلطی کس کی تھی ایک لمبی بحث ہے ۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ ہم مخلص ،  ایماندار اور محب وطن قیادت سے محروم تھے ورنہ اختلاف کہاں نہیں ہوتا ۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا جھگڑا پیدا کرکے ان بنگالیوں سے جان چھڑائی کہ جنہوں نے مسلم لیگ بنائی تھی ۔ اس کام سے فارغ ہوئے تو مغربی پاکستان یا موجودہ ملک میں قومیتوں کے جھگڑے شروع کرادئیے  ۔ سندھی ، پختون ، بلوچی ، سرائیکی اور پنجابی ازم کے بیج بوئے گئے ۔ اس پہ بھی تسلی نہ ہوئی تو مولوی صاحب نے میدان میں آکر کفر کے فتوے بانٹنے شروع کردئے تاکہ جو کسر باقی ہے وہ بھی نکال دی جائے ۔

غور کیجئیے کتنی منظم سازش ہے پاکستان کو کم زور کرنے کی ۔ پہلے لسانی اور علاقائی بنیادوں پر قوم کو بانٹا گیا اور پھر ان لسانی اکائیوں کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے شیعہ ، سنی ، وھابی ، دیوبندی اور بریلوی کے خانوں میں تقسیم کیا جارھا ہے ۔ اور اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کھلے عام صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کی شان میں تقریریں کی جارہی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جو امیر یزید زندہ باد کے نعرے لگے ، کیا یہ محض اتفاق ہے ؟

ایسا نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کا منصوبہ تیار ہوا ہے تاکہ ملک کو افراتفری اور مکمل انتشار میں دھکیل دیا جائے ۔

صرف یہی نہیں کہ لسانی اور فرقہ وارانہ جنگوں کے منصوبے بنائے جارہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ  ایک مدت سے پاک فوج کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم چلائی جارہی ہے تاکہ اگر حالات بگڑیں تو فوج اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکام ہو ۔

پاکستانیو !

خدا را دشمن کی ان چالوں کو سمجھو ۔ ہمارے بعض سیاست دان اور کچھ حلوہ خور مُلاں دشمن کی بولی بول رہے ہیں ۔ یاد رکھو مسئلہ عمران خان کا نہیں ، ملک کی سلامتی کا ہے ۔ عمران خان آج ہے کل نہیں ہوگا ۔ ہمیں ملک کی فکر کرنی چاھئیے ۔ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اپنے آپ کو تقسیم مت کرو ۔ اپنی ہی فوج کو گالیاں مت دو ورنہ برا وقت آنے میں دیر نہیں لگتی ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن کامیاب ہوجائے اور ہم سب معصوم لوگ مہاجر کیمپوں میں بیٹھے ہوں کیونکہ ان جعلی سیاستدانوں نے تو اپنے گھر ، دولت اور آل اولاد سب کو بیرون ملک محفوظ کررکھا ہے اگر ملک ٹوٹا تو برباد عام آدمی ہوگا ۔ میری باتوں پر غور کرو ۔ آذادی اس وقت ملی جب ہم سب صرف مسلمان تھے اور پاکستانی تھے اب اگر اس آذادی کو برقرار رکھنا ہے تو وہی روش اپنانی ہوگی جو تحریک پاکستان کے وقت اپنائی تھی ورنہ ملک گنوا بیٹھوگے اور شکیب جلالی کا یہ مصرعہ یاد آئیگا ۔

” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے “

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سرپرست

اٹک ویب میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے

جمعہ مارچ 26 , 2021
محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے
mountain rock and moon