ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ
عالمی ریکارڈ و اعزاز یافتہ ماہرِ لسانیات ، محقق ، کالم نگار اور ادیب ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے ایک تفصیلی مصاحبہ
مصاحبہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
سوال : کچھ تعلیم کے اسفار کا احوال کہاں کہاں سے حاصل کی اور تعلیم حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کا ذکر کریں ۔ ؟
جواب : میری ابتدائی تعلیم وادی چترال کے مقامی مساجد اور سرکاری تعلیمی اداروں یعنی ٹاٹ کے سکول سے ہوئی ۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف شہروں کراچی اور اسلام آباد کا رخ کیا۔، پہاڑی خطے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تعلیم کے سفر میں کئی عملی مشکلات پیش آئیں ، جن میں طویل فاصلے، محدود وسائل اور جدید سہولیات کی کمی شامل تھیں ۔ مگر شوقِ علم نے ہمیشہ ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا حوصلہ دیا ۔
سوال : آپ اپنی ابتدائی ادبی زندگی کے بارے میں بتائیں ۔؟
جواب : ادبی زندگی کا آغاز کھوار زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری سے ہوا ۔ شروع میں کھوار زبان میں جذبات کا اظہار کیا ، پھر اُردُو کی طرف آیا ۔ ابتدائی دور میں فطرت۔، معاشرت ، امن کی حمایت ، جنگ سے نفرت اور مقامی چترالی ثقافت میرے پسندیدہ موضوعات رہے ، جو بعد میں فکری اور تحقیقی جہت اختیار کر گئے ۔
سوال : آپ نے کس کس زبان میں اشعار کہے ہیں ۔ ؟
جواب : میں نے کھوار اور اُردوُ اور کچھ حد تک انگریزی میں بھی شاعری کی ہے ۔ ہر زبان کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اظہار کی کوشش کی ہے ۔ میری طنزیہ و مزاحیہ کتابوں میں گلدان رحمت اور گلدستہء رحمت شامل ہیں جوکہ کھوار اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے 1996ء میں شائع ہوئیں ۔
سوال : قارئین کو بتائیں آپ کی شاعری کا نقطۂ نظر کیا ہے ۔ ؟
جواب : میری شاعری کا بنیادی محور انسان ، امن ، محبت ، انسان کی شناخت اور اس کی تہذیبی جڑیں ہیں ۔ میں زبان کو صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ سمجھتا ہوں ۔
سوال : قاری کتاب سے دُور کیوں ہوتا جا رہا ہے ، اس پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔ ؟
جواب : دیکھئیے ڈیجیٹل دور میں قاری کی توجہ کتاب سے بٹ گئی ہے ۔ مختصر اور فوری مواد نے گہرے مطالعے کی جگہ لے لی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کتاب کو نئی نسل کے لیے زیادہ پرکشش اور قابلِ رسائی بنائیں ۔
سوال : آج کا ادب اور ادیب دونوں پر روشنی ڈالیں ۔ نے؟
جواب : گوکہ آج کا جدید ادب موضوعاتی لحاظ سے وسیع ضرور ہے مگر کہیں کہیں فکری گہرائی کم نظر آتی ہے ۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کرے ، نہ کہ صرف عکاسی تک محدود رہے ۔
سوال : جدید ادب وقت کے تقاضے پورے کرنے میں کس مقام پر ہے ۔ ؟
جواب : جدید ادب نے نئے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھا ہے ، مگر اسے اپنی روایت سے جڑے رہنے کی ضرورت ہے ۔ توازن کے بغیر ترقی ادھوری رہتی ہے ۔
سوال : آپ کے کالموں کی دھوم مچی ہوئی ہے ، یہ بتائیں گے کالم کی روح کیا ہے ۔؟
جواب : کالم کی روح سچائی ، مشاہدہ ، تحقیق ، سچ کا پرچار ، جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے پرہیز اور فکری دیانت ہے ۔ ایک اچھا کالم وہ ہوتا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرے ۔
سوال : کیا آپ نے ادبی کالم بھی لکھے ۔ ؟
جواب : جی ہاں، میں نے ادبی کالم بھی لکھے ہیں جن میں مختلف ادبی رجحانات ، شخصیات اور تخلیقات پر گفتگو کی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ظرف ظرافت کے لوگوں سے مزاحیہ کالم بھی لکھے ہیں ۔
سوال : چترال میں اُردو ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔ ؟
جواب : چترال میں اُردو ادب ترقی کی راہ پر ہے ۔ نئی نسل اُردو میں لکھ رہی ہے ، مگر کھوار ، کالاشہ۔، یدغہ ، پالولہ ، انڈس کوہستانی اور مقامی زبانوں کا اثر بھی نمایاں ہے ۔
سوال۔: چترال میں شاعری زیادہ ہو رہی ہے یا نثر ۔؟
جواب : چترال میں شاعری کا رجحان زیادہ ہے ، خاص طور پر کھوار اور اُردوُ میں ، تاہم نثر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے ۔
سوال۔: چترال میں کیا مشاعرے کا رواج ہے ۔ ؟
جواب : جی ہاں ، اُردو اور کھوار دونوں زبانوں میں مشاعرے چترال کی ادبی روایت کا حصّہ ہیں اور باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔
سوال : چترال میں اُردو زبان و ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔؟
جواب : اُردو یہاں ایک مضبوط رابطے کی زبان ہے ، مگر تخلیقی سطح پر اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔
سوال : چترال کے معروف شعرا و ادبا کون سے ہیں ۔؟
جواب : چترال میں کئی اہم ادبی شخصیات ہیں جنہوں نے کھوار ، انگریزی اور اُردو ادب میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ ان میں سینئر اور نوجوان دونوں شامل ہیں۔
سوال : چترالی ادب میں کس صنفِ شعر کا رواج اور چرچا ہے ۔؟
جواب : غزل اور نظم دونوں مقبول ہیں ، مگر غزل کو زیادہ پذیرائی حاصل ہے ۔ اس کے ساتھ لوک شاعری بھی بہت مضبوط روایت رکھتی ہے ۔
سوال : پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے ادبی کام پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔؟
جواب : ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا کام تحقیقی اور ادبی اعتبار سے نہایت اہم ہے ۔ وہ ایک بہترین استاد کے ساتھ ساتھ ماہر اقبالیات بھی تھے انہوں نے ادب میں سنجیدگی اور معیار کو برقرار رکھا ہے ۔ میں نے ان کی کئی کتابوں کے لیے دیباچے لکھے ہیں ۔
سوال : آپ نے اُردو میں کیا کھویا کیا پایا ۔ ؟
جواب : اُردو نے مجھے وسیع قارئین اور فکری وسعت دی۔ کھویا شاید یہ کہ مقامی زبانوں کے لیے وقت کم ہو جاتا ہے ، مگر حاصل کہیں زیادہ کیا ہے ۔ میں نے اُردو زبان کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹ ویر بھی بنایا ہے ۔
سوال : آپ نے لسانیات اور ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ کیسے جوڑا ۔؟
جواب : یہ دراصل ضرورت سے پیدا ہونے والا عمل تھا ۔ میں نے محسوس کیا کہ ہماری مقامی زبانیں ڈیجیٹل دُنیا میں موجود ہی نہیں۔ اسی احساس نے مجھے مجبور کیا کہ ایسے آلات تیار کروں جن کے ذریعے لوگ اپنی مادری زبان میں لکھ سکیں۔
سوال : چالیس زبانوں کے لیے کی بورڈ کی تیاری کا خیال کیسے آیا ۔ ؟
جواب : یہ خیال ایک مشاہدے سے پیدا ہوا کہ ہر زبان کے لیے الگ الگ نظام بنانا مشکل ہے۔ میں نے کوشش کی کہ ایک ایسا متحدہ نظام بنایا جائے جو بیک وقت کئی زبانوں کو سہولت دے سکے ۔
سوال: آپ کے اس کام کی تاریخی اہمیت کیا ہے ۔؟
جواب : اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو بہت سی زبانیں صرف اس لیے ختم ہو گئیں کہ وہ تحریری یا جدید ذرائع میں منتقل نہ ہو سکیں۔ میرا کام دراصل ان زبانوں کو ڈیجیٹل دور میں زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے ۔
سوال : مادری زبان میں تعلیم کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں ۔ ؟
جواب : میری رائے میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے ۔ بچہ جس زبان میں سوچتا ہے ، اسی زبان میں بہتر سیکھ سکتا ہے ۔
سوال : کھوار اور اُردو وکیپیڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آپ کی خدمات کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ۔؟
جواب : یہ ایک اجتماعی علم کی خدمت ہے ۔ جب کوئی زبان وکیپیڈیا پر آتی ہے تو وہ عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کرتی ہے ۔
سوال : آپ کی نظر میں مستقبل میں پاکستانی زبانوں کا کیا حال ہوگا ۔؟
جواب : اگر ہم نے ان زبانوں کو تعلیم ، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے نہ جوڑا تو یہ کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ معدوم ہو جائیں گی ۔ لیکن اگر سنجیدہ کوشش جاری رہی تو ان کا مستقبل روشن ہے ۔
سوال : نئے شعرا ادبا کے لیے کوئی پیغام ۔؟
جواب : میرا پیغام محبّت ہے جہاں تک پہنچے ، نئے ادبا مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں ۔ صبر کریں اور اپنی مادری زبان اور ثقافت سے جڑے رہیں ۔ جلدی شہرت کے بجائے پائیدار کام پر توجہ دیں ۔
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ محض ایک شاعر یا محقق نہیں بلکہ زبان، ثقافت اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان ایک مضبوط سہارا ہیں ۔ ان کا کام نہ صرف ادبی دُنیا بلکہ قومی شناخت کے تحفظ میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |