ڈاکٹر جمیل حیات سے بات چیت
انٹرویو کنندہ:۔ سید حبدار قائم
جب اٹک میں بات حرف و صوت کی ہوتی ہے تو بے مثال لوگ اپنی محنت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر سامنے آتے ہیں جن کی مثالیں اب بھی زمانہ دیتا ہے ایسے فرخندہ بخت افراد سے قلم کتاب اور چاۓ محبتوں کے ساتھ جب ملتی ہے تو احساسات کی خوشبو سوچ کو عنبر عنبر کر دیتی ہے فکری عفت کلام اور سوچ کو جلا بخشتی ہے ڈاکٹر جمیل حیات بھی ایسی خوشبودار شخصیت کے مالک ہیں جن کے لفظ رنگ گھولتے ہیں جن کی نظر خیالوں کو رنگِ ادب دے کر بصارتوں میں رقصِ جمیل کرتی ہے ان کا افسانہ ہو یا شاعری دونوں کا لکھنا اور کمال حاصل کرنا بڑے نصیب کی بات ہے
ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کئی بار گفتگو ہوئی قول و عمل میں سب سے مختلف پاۓ ہیں دھیما مزاج ان کے چہرے پر شگفتگی کے ساتھ تبسم بکھیرتا ہوا سجتا ہے عاجزی بات بات میں جامِ شیریں کی طرح چھلکتی ہے
قارئین آئیے ڈاکٹر صاحب سے ایک علمی مصاحبہ کرتے ہیں اور ان کی سَحَر خیز شخصیت کی متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں:۔
س۔ سر بچپن کے احوال سنائیں؟ یعنی کہاں پیدا ہوۓ کہاں کب اور کتنی تعلیم حاصل کی اور پیشہ کیا ہے؟
جواب:میں دو مئی انیس سو ستتر کو مشہور صوفی بزرگ جناب نور محمد عاجز عرف بھٹی صاحب کے ہاں ضلع اٹک کے گاؤں اکھوڑی میں پیدا ہوا۔پانچ برس کی عمر میں تایا جان جناب جمال دین کے پاس قرآن پاک ناظرہ ختم کیا اس کے بعد والد صاحب نے وقت کے مشہور عالِم جناب حافظ جہانداد صاحب کے پاس بھیج دیا جن سے میں نے محض دو برس میں قرآن پاک ترجمے کے ساتھ مکمل کیا ۔ پہلی سے پانچویں تک تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول اکھوڑی میں حاصل کی جہاں میرے اکلوتے استاد جناب جمال دین صاحب تھے۔ ان سے میں نے خطاطی بھی سیکھی۔ پانچویں سے ساتویں جماعت تک گورنمنٹ ہائی سکول اکھوڑی میں پڑھا پھر والد صاحب مجھے قریبی گاؤں جبی کسراں لے گئے جہاں وہ خود سیکنڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔ میٹرک میں نے اسی سکول سے کیا۔ ایف اے اور بی اے کے امتحانات گورنمنٹ کالج اٹک سے پاس کیے اسی کالج سے ریگولر ایم اے انگلش کی تعلیم بھی حاصل کی لیکن امریکن لٹریچر کامضمون پاس نہ کر سکا اس لیے پرائیویٹ ایم اے انگلش کیا۔ دو ہزار ایک میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایڈ کیا اور دو ہزار تین میں پرائمری سکول ٹیچر بھرتی ہوا اور ساڑھے چھ برس پرائمری سکول ڈھوک پٹہ میں پڑھایا۔ اسی دوران پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو میں پرائیویٹ ایم اے کیا۔
دو ہزار نو میں پی پی ایس سی کے ذریعے لیکچرار اردو منتخب ہوا۔ اور گورنمنٹ کالج باہتر تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک میں تعیناتی ہوئی۔وہاں گیارہ برس رہا۔ پھر دو ہزار بیس میں فتح جنگ کالج تبادلہ ہوا۔ دو برس وہاں پڑھایا۔ پھر دو ہزار بائیس میں گورنمنٹ کالج اٹک میں تبادلہ ہوا۔ ابھی ادھر ہی پڑھا رہا ہوں۔ دو ہزار بیس میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی ہوئی۔ دو ہزار گیارہ میں ایم فل اور دو ہزار اٹھارہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔
س۔ کس شخصیت کی کس کتاب پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کیا ہے؟
جواب:دو ہزار گیارہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نگرانی میں ” سلطان محمود بسمل کی شاعری ایک مطالعہ ” کے عنوان پر ایم فل کا مقالہ لکھا اور دو ہزار پندرہ میں ڈاکٹر عبد العزیز ساحر کی نگرانی میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ” غالب شناسی کی روایت میں سید معین الرحمان کا مقام و مرتبہ ” کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرعام پر لانا چاہے؟
جواب:میرے گھر کا ماحول اس حوالے سے علمی و ادبی تھا کہ میرے گھر والے مذہبی تھے۔ والد صاحب اردو اور پنجابی میں شاعری کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف قسم کے ڈائجسٹ جیسے سسپنس، جاسوسی، سرگزشت وغیرہ ہر ماہ لاتے۔ بانو قدسیہ کا راجہ گدھ، فرید الدین عطار کی تذکرۃ الاولیا اور داتا گنج بخش کی کشف المحجوب میں نے چھٹی جماعت میں پڑھیں۔ ٹوٹی پھوٹی شاعری اور افسانے تو لکھتا رہتا تھا لیکن کبھی چھپوانے کا خیال نہیں آیا۔ جب ایم۔ فل میں داخلہ لیا تب چھپوانے کا شوق ہوا تو مرحوم احسن سلیم صاحب مدیر اجرا کراچی نے میرا پہلا افسانہ اور پہلا خط شائع کیا۔ پہلی غزل ارشد سیماب ملک کے تذکرہ شعرائے اٹک میں شائع ہوئی۔ اب تک پچاس سے زائد افسانے ملک اور بیرونِ ملک اہم ادبی رسائل میں شائع ہوچکے۔ اسی طرح پچاس سے زائد تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی ملک اور بیرونِ ملک اہم ادبی جرائد کی زینت بن چکے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھ خاکے بھی شائع ہوئے جن میں والد صاحب پر لکھا طویل خاکہ بھی شامل ہے جو بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوا۔ اکادمی ادبیات اسلام آباد نے مجھ سے محمد الیاس صاحب کی شخصیت اور فن پہ کتاب لکھوائی ہے۔ اس کتاب میں، میں نے محمد الیاس کے چھ ناولوں اور چودہ افسانوی مجموعوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ شاعری کی کتاب "حُسنِ لاریب” کے عنوان سے زیرِ ترتیب ہے۔
س۔ ادبی دنیا میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں اور کس سے اصلاح لیتے ہیں؟
جواب:پہلے ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد سے اصلاح لیتا رہا بعد میں لکھنؤ کے استاد شاعر جناب عفیف سراج صاحب کو فیس بک پہ شاعری دکھاتا رہا اور ان سے اصلاح لیتا رہا۔
س۔ آپ شاعر کے ساتھ اچھے افسانہ نگار ہیں افسانہ کو ہی کیوں چنا ؟
جواب: جب سے شعور سنبھالا کہانی کے ساتھ میرا رشتہ جڑا۔ مختلف ڈائجسٹ میرے مطالعہ میں اس وقت سے آئے جب میں گیارہ برس کا تھا۔ دوسرا میں افسانہ ایک معمولی سے اشارہ ملنے پر لکھ لیتا ہوں جیسے میرا افسانہ ہے "مجذوب” وہ میں نے ایک مجذوب کے منہ سے نکلنے والے ایک جملے کو سن کر لکھا جملہ تھا ” تو میرا رب نہیں میں تیرا بندہ نہیں پھر میں تیری بات کیوں مانوں؟ ” اسی طرح میرے زیادہ تر افسانے کسی کے منہ سے نکلنے والے ایک جملے ٹی وی سکرین پر سامنے آنے والی ہیڈنگز یا کسی منظر کو دیکھ کر تخلیق کیے گئے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ افسانہ میری زندگی ہے۔ اور کہانی میں شعوری کاوش سے نہیں بُنتا بل کہ لفظ مجھے خود کہتے ہیں کہ آؤ ہمیں کہانی میں تراشو کردار خود آ کے مجھ سے اپنا سراپا ترشواتے ہیں۔
س۔ اے آئی کے اس دور میں افسانے کا مستقبل کیا ہو گا؟
جواب:جینوئن چیز اپنی افادیت منوا کے رہتی ہے۔ اس لیے جو جینوئن فنکار ہوگا اس کے قلم سے افسانہ لکھا جاتا رہے گا اور اپنی قدر کرواتا رہے گا۔
س۔ حضرت نذر صابریؒ کی شخصیت کو آپ نے کیسا پایا؟
جواب:نذر صابری صاحب اپنی ذات میں انجمن تھے۔ ان میں کوئی بات تو تھی جو پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر بھی ان کے سامنے زانوۓ تلمذ تہہ کیے ہوتے تھے۔ یہ عشق تھا رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جس نے ان کو یہ عزت و شرف عطا کیا۔ وہ بہت پیاری شخصیت تھے۔ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ میں استادِ محترم جناب ارشد محمود ناشاد صاحب کے خطوط جناب نذر صابری صاحب تک پہنچاتا اور ان کی چائے کی پُرخلوص دعوت سے مستفید ہوتا۔
س۔ موجودہ دور کی محافل سے کتنا سیکھا ہے؟
جواب:میں عام طور پر ادبی محافل سے دور رہا ہوں لیکن اس سلسلے میں نزاکت علی نازک کی محبت اور خلوص کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جن کی وجہ سے ایک ماہ پہلے دو محفلوں میں شرکت کا موقع ملا۔ ادبی محفلیں ہونی چاہییں۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
سں۔ حضرت نذر صابریؒ اٹک کے ادب کے روحِ رواں تھے کیا موجودہ دور میں کوئی ادیب ان کی طرح کام کر رہا ہے ؟
جواب:نذر صابری صاحب کی مثال ملنا تو مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اس دور میں تاہم اٹک کی بات کی جائے تو ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد،سید نصرت بخاری، جناب شاکر القادری خصوصاً نعت کے حوالے سے ان کانام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں، نزاکت علی نازک، سید حبدار قائم، طاہر اسیر وغیرہ اپنی اپنی جگہ پر انفرادیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔
س۔ آپ موجودہ شاعری میں مزاحمتی شاعری کو کیسا سمجھتے ہیں ؟
جواب:مزاحمتی شاعری نے ہر دور میں جب بھی اس کی ضرورت پڑی اپنی اہمیت منوائی ہے۔ جبر کے موسم میں کوئی نہ کوئی دیوانہ سرِ دار آہی جاتا ہے۔ اب بھی اس کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔
س۔ کیا اکادمی ادبیات کیمبلپور کے کام سے مطمئن ہیں؟
جواب:اس حوالے سے میری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے معذرت کر سکتا ہوں۔
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب:اولین کتاب میرے بابا اور مرشد پر میرا خاکہ ہے۔ یہی میری کمائی ہے۔ جس جس نے بھی یہ کتاب پڑھی ہے وہ اس کے اسلوب، اندازِ تحریر اور افسانوی نثر کے ساتھ ساتھ سحر انگیز منظر کشی کی داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ خوشی ہوتی ہے جب تعریف ہو تو یہ انسان کی فطرت ہے۔ مجھے بھی بڑا سکون ملتا ہے۔ اولین چھپنے والی تحریروں نے حوصلہ دیا۔
س۔ کالج کے ادبی مجلے ”مشعل“ کے کام سے کس قدر مطمئن ہیں؟ کیا اس مجلے میں تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں؟
جواب:کالج کا مجلہ مشعل پیچھے تین برس سے جن لوگوں کے ہتھے چڑھا ہوا ہے وہ سرے سے ادیب ہی نہیں۔ کالج میں صدی نمبر میں میرے مضمون کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس میں مدیرِ اعلیٰ کی ذاتی پسند ناپسند کو بڑا دخل ہے جو بڑا المیہ ہے۔
س۔ آپ شاعری بھی کرتے ہیں ہماری آنکھیں کب دیکھیں گی کہ آپ کا شعری مجموعہ منصہء شہود پر آ گیا ہے؟
جواب:اس حوالے سے میں کام کررہا ہوں، کمپوزنگ ہوچکی ہے۔ "حُسنِ لاریب” کے نام سے مجموعۂ نظم و غزل تیار ہے۔
س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
جواب: یہ تینوں اچھی اور بامعنی تخلیق، تحقیق اور تنقید کے لیے بہت ضروری ہیں۔ مشاہدے کے بغیر آپ منظر کشی اور جزئیات نگاری کو سامنے نہیں لاسکتے۔
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شہر میں ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی کا بھی کوئی پلیٹ فارم ہو؟
جواب:بالکل اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ادیب معاشرے کا نباض ہے۔
س۔ آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں؟
جواب:میں چونکہ ادبی محافل سے دور رہا ہوں اس لیے مجھے اس کا تجربہ نہیں ہے تاہم اچھی تحریر خود کو منوا لیتی ہے اس کا قائل ہوں۔
س۔آپ کو اپنے والد صاحب کا خاکہ لکھنے کا خیال کیسے آیا ؟
جواب:والد صاحب میرے استاد بھی تھے دوست بھی اور مرشد بھی۔ میں ان کے ہاتھ پر بیعت ہوں۔ ان کی اچانک رخصتی کا گواہ بھی کہ عید کے روز شام پونے چار بجے نومبر کی انتیس تاریخ کو جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو صرف میں ہی ان کے پاس موجود تھا۔ وہ دو گھنٹے میرے ساتھ محوِ گفتگو رہے اور پھر مجھے پانی لانے باہر بھیجا اور خود چادر اوڑھ کر لیٹ گئے پانی لے کر آیا تو وہ دنیا سے چلے گئے تھے۔ میں ہر وقت ان کی یاد میں رہتا تھا۔ چنانچہ واقعات کو لکھنا شروع کر دیا۔ نیرنگِ خیال کے مدیر جناب سلطان رشک صاحب کی تحریک پر قسط وار لکھ کر ان کو بھیجتا رہا اور یہ دو ہزار سولہ میں سات اقساط میں چھپا۔ اب کتابی صورت میں ذوق پبلی کیشنز اٹک نے شائع کیا۔
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟
جواب:والدین کی سوشل میڈیا میں ہر وقت مشغول رہنے اور بچوں کی پرورش اور تربیت سے پہلو تہی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچے بھی وڈیو گیمز اور موبائل کی طرف ہوگئے۔ اسی وجہ سے وہ ادب سے دور ہوئے۔ دوسرا کچھ حصہ ان اساتذہ کا بھی ہے جو بائی چانس اس پیشے کی طرف آئے۔
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
جواب:کتاب میلے بچوں کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں بھی کُتب بینی کا شوق پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں انہیں تواتر سے منعقد کیا جانا چاہیے۔
س۔ کیا کتاب میلہ فوٹو سیشن تک ہی کارآمد ہوتا ہے یا اس کے نتائج مختلف ہوتے ہیں؟
جواب:میں ایسا نہیں سمجھتا۔ یہ مفید ثابت ہوتے ہیں اور ان کے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ بچے نہ صرف کتابوں سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ وہ مختلف ادیبوں سے بھی مل سکتے ہیں۔
س ۔آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
جواب:نہیں، تخلیق صرف وہی زندہ رہ سکتی ہے جس میں اپنے زمانے کے علاوہ آنے والے زمانے کو بھی مخاطب کرنے کی اہلیت ہو۔ ورنہ آج کل تو جس طرح تحقیقی کام ہو رہا ہے وہ بہت سطحی قسم کا ہے۔ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد معذرت کے ساتھ خود مطالعہ کا شوق نہیں رکھتی۔ ان کا اپنا علم ہی اتنا ہے جتنا وہ بھرتی ہوتے وقت ساتھ لائے ہوتے ہیں۔ تو وہ بچوں میں تحقیقی و تنقیدی شعور بھی پیدا نہیں کر سکتے۔
س۔ کسی بھی شاعر ادیب پر ہونے والے تحقیقی کام کو کتابی صورت میں لانے کا اہتمام کالج کو یا حکومت کو کرنا چاہیے یا نہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟
جواب: میں سمجھتا ہوں کہ اچھے کام کی قدر ہونی چاہیے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اچھا کام ہو کون سا۔ ہر ایک کا پیمانہ ماپنے کا الگ ہے۔ لیکن جو اچھی تحقیق ہوگی وہ چاہے کوئی بھی شائع کر دے وہ اپنا آپ منوا لے گی۔
س۔ اس دور کا ادیب اشرافیہ کے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آتا ہے بے شک اٹک کے ہی لوگ دیکھ لیں یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے اب یہ ٹرینڈ کیسے ختم کیا جاۓ اور
معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جاۓ ؟
جواب:خودداری، انا جب کچل دی جائے تو یہی حال ہوتا ہے۔ ادیب جب تک خود کو صحیح نہیں کرے گا اس کو کوئی کیسے مقام دے سکتا ہے۔ پہلے خود کو صحیح کرنے کی ضرورت ہے۔
س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
جواب:میرا ادبی میدان افسانہ اور ناول ہے۔ آج کل میں روسی، امریکن اور برازیلین ناول نگاروں کے اردو میں ترجمہ شدہ ناولوں کا مطالعہ کررہا ہوں۔ ارادہ تو ہے کہ ان پر تنقیدی کام کروں۔
س۔قارئین کے لیے اپنے کچھ اشعار پیش کیجیے:۔
آنکھ میں عکس سجا کر اس کا
صورتِ دہر بھلا دی ہم نے
قریۂ ہجر کو آباد کیا
وصل کی قدر گھٹا دی ہم نے
سانس لینا گراں ہوا ہے یہاں
زندگی کی دعا کرے گا کون
بے نیازی ہے اس کی خو تو جمیل
جرأتِ التجا کرے گا کون
ہجر کی شب مہیب تنہائی
میں بلاؤں تو آسکو گے کیا
شہرِ دل سائیں سائیں کرتاہے
اجڑی بستی بسا سکو گے گیا
پھول کی پنکھڑی نہیں دل ہے
آپ ہاتھوں سے جو مسلتے ہیں
انٹرویو کے آخر میں ڈاکٹر جمیل حیات صاحب کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کے رزق، اولاد اور علم و عمل میں اضافہ فرماۓ۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |