امریکیو، ایک دھکا اور دو
تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں میں لڑاکا سپاہ سے زیادہ معصوم اور بے گناہ عوام مرتی ہے، جبکہ معاشی تباہی کا سارا نزلہ بھی عوام پر ہی گرتا یے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی باری امریکی عوام کو یہ دھوکہ دیتے ہوئے گزاری کہ وہ دنیا میں کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔ ایران پر حملے سے کچھ عرصہ پہلے تک وہ خود کو امن کا دیوتا قرار دیتے رہے۔ اس بناء پر ٹرمپ خود کو نوبل پیس پرائز کا حق دار بھی سمجھتے تھے (جس کا گزشتہ اظہاریہ میں ذکر کیا تھا)۔ پھر کیا ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو اپنا اصل چہرہ دکھانا شروع کر دیا۔ انہوں نے کنیڈا کو دھمکایا، گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا مسئلہ کھڑا کیا اور وینزویلا کے صدر کو فیملی سمیت اغواء کر کے امریکہ لے گئے۔ ٹرمپ نے ایران پر 2025ء میں حملہ کیا اور مارچ 2026ء کے آغاز پر ایک بار پھر ایران پر دھاوا بول دیا جس سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہوا، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، اور دنیا پر تیسری عالمی جنگ کا خوفناک سایہ منڈلانے لگا یے، جو ابھی تک پیچھا کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی کسی بات پر ٹکتے نہیں ہیں اور مفاد کو دیکھ کر گرگٹ کی طرح فورا رنگ بدل لیتے ہیں۔ جنگ کے بارے وہ بہت دفعہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کی ایٹمی صلاحیت، میزائیل پروگرام اور ڈرونز کی طاقت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور ایران پر مزید حملے جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد اور جنگی سازوسامان کی نئی کھیپ بھی بھیج دیتے ہیں۔ اس وقت بھی امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش 4000 نوآموز امریکی فوجیوں کو لے کر مشرق وسطی کی طرف آ رہا ہے۔ ٹرمپ پہلے کہتے رہے کہ ایران کیمیائی ہتھیار بنانا چاہتا ہے جس کو ہم روکنا چاہتے ہیں جبکہ اب ان کا یہ بیان آیا ہے کہ، "ایران کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں۔” امریکہ نے عراق پر بھی عین یہی الزام لگا کر اسے نیست و نابود کیا تھا، لیکن اس وقت امریکہ کو عراق پر حملے کے لیئے نیٹو اور مسلم اتحادی ممالک کی حمایت حاصل تھی اور مگر اس بار امریکہ کو اسرائیل کے سوا بنفس نفیس ایران پر حملہ آور ہونے کے لیئے کسی ایک اتحادی کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے، پھر اس کے سامنے بھی ایران ہے، ناکہ عراق، لیبیا یا شام وغیرہ ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ہیں جسے دنیا کا طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا ہے لیکن ٹرمپ نے حالیہ خلیجی جنگ میں جس نوعیت کا غیر سنجیدہ رویہ اپنا رکھا ہے اسے کسی بھی طرح امریکی صدر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین شخص کو پختہ اور ذمہ دار شخصیت کا حامل ہونا چایئے مگر ٹرمپ میں ایسی کوئی خاص پختگی نظر نہیں آتی ہے کہ انہیں امریکہ جیسے سب سے طاقتور ملک کا سربراہ سمجھا جا سکے۔ بعض دفعہ تو ڈونلڈ ٹرمپ بلکل عجیب الخلقت بیانات جاری کر دیتے ہیں جن کو پڑھ اور سن کر کامن سینس رکھنے والا ایک عام آدمی بھی حیرت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے مثلا چند روز پہلے انہوں کہا کہ، "میں امریکی صدارت سے ریٹائر ہو کر وینزویلا جا کر صدارت کا الیکشن لڑوں گا”، پھر انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنائی کے بارے میں کہا کہ، "ہم دونوں مل کر ایران پر کامیابی سے حکومت کر سکتے ہیں۔” ٹرمپ نے پہلے ایران پر حملہ کر کے مجتبی کے والد آیت اللہ خامنائی کو اس کی فیملی سمیت شہید کیا اور اب ان کے بیٹے کو کہہ رہے ہیں کہ، "آو مل کر ایران پر حکمرانی کرتے ہیں۔”
2025ء میں آخری بار جب ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی کا دورہ کیا تھا تو عرب ممالک نے ان کی کافی پذیرائی کی تھی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے کم و بیش امریکہ کے ساتھ ایک ٹریلئن ڈالر کے دفاعی معاہدے کیئے اور امریکہ میں مزید انوسمنٹ کرنے کے وعدے بھی کیئے تھے، جبکہ قطر نے ٹرمپ کو الوداع کرتے وقت تحفے میں انہیں ایک سونے کا جہاز بھی دیا تھا۔ ٹرمپ نے تیل کی وجہ سے ان خلیجی ملکوں کی ترقی کو بھی آنکھوں سے دیکھا اور برج العرب، دبئی مال اور برج خلیفہ کو بھی آنکھوں سے دیکھا تو شائد ان کی آنکھیں چندھیا گئیں، اور جس سے ٹرمپ کا دماغ اسی وقت مشرق وسطی پر ٹھہر گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دماغی حالت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ اقتدار اور دولت کے لانچ میں "خبطی” ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ کے اس متضاد اور ہر لمحہ بدلتے رویئے سے تنگ آ کر اب ایران بھی جنگ بندی مذاکرات میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا ہے کیونکہ ایران کو صدر ٹرمپ کے کسی وعدے وعید پر اعتبار نہیں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے بلواسطہ مذاکرات بھی مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے، جس کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کا دورہ کیا تاکہ جنگ بندی کی کوششوں میں اسے بھی شامل کیا جا سکے۔ اگرچہ تادم تحریر پاکستان کے وزیراعظم، چیف مارشل اور وزیر خارجہ سعودی عرب میں موجود ہیں اور سیزفائر کے لیئے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جو اب تک مکمل ہو چکی ہوں گی، لیکن چین نے جنگ بندی کے لیئے مئی تک کا وقت دیا ہے، جسے پورا ایک ماہ پڑا ہے۔ کیا اسے چین کی طرف سے دھمکی سمجھا جائے کہ اگر اس دوران بھی سیزفائر نہ ہوا تو پھر چین بھی براہ راست جنگ میں شامل ہو جائے گا؟ یہ حالیہ خلیجی جنگ کا ایک انتہائی خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے!
مشرق وسطی میں پائیدار امن اور جنگی بندی کروانے کا اب صرف ایک ہی حل بچا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دوران جس متضاد اور غیرسنجیدہ رویئے کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطرناک جارحیت پر قائم و دائم ہیں انہیں امریکی عہدہ صدارت سے ہٹایا جائے، جس کے دو ہی طریقے بچے ہیں کہ اول ان کے خلاف کانگریس میں مواخذہ کی تحریک لائی جائے یا امریکی عوام ایک بار پھر ان کے خلاف احتجاج کرنے کے لیئے سڑکوں پر آ جائیں۔ گزشتہ احتجاج میں امریکی صدر کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے جن میں 70 لاکھ سے زائد عوام نے سڑکوں پر نکل کر سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ کو آمرانہ رجحانات کا حامل اور قانون کا پامال کرنے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ ایک سال میں یہ تیسرا موقع تھا کہ امریکی عوام نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
امریکی عوام کو چایئے کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے ڈونلڈ ٹرمپ سے جان چھڑا لے۔ ٹرمپ نے بطور امریکی صدر جو عجیب و غریب اور کسی حد تک مضحکہ خیز رویہ اپنا رکھا ہے وہ کسی بھی وقت امریکی سپریمیسی کا ٹائیٹانیک بحر ہرمز میں ڈبو سکتا یے۔ دنیا بھر میں تجزیئے ہو رہے ہیں کہ یہ بطور "سپر پاور” امریکہ کی آخری جنگ ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ امریکی عوام ہی ٹرمپ کی گرتی ہوئی ساکھ کو کرسی صدارت سے دھکا دے کر نیچے اتار دے، اس سے پہلے کہ دنیا امریکی طاقت کی دیوار کو ایران کے ہاتھوں گرتے ہوئے دیکھے۔ امریکی عوام کو امریکہ کے زوال کا یہ بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھانا چایئے۔ اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ متاثر بھی امریکی عوام ہی ہو گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |