حالیہ کشیدگی کا اصل امریکی منصوبہ
ایران امریکہ امن معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں پر امریکی حملہ ہوا۔ امریکی صدر نے مسلم ممالک کے سربراہان کو مشترکہ فون کال کر کے انہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھی کہا۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے امن معاہدے کو بھی مسلم ممالک کے "ابراہیم اکارڈ” میں شمولیت سے مشروط کر دیا۔ ابراہیم اکارڈ کا اصل مقصد ہی اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرانے سے جڑا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے سعودی شہزادے، قطری حکمران اور پاکستانی فیلڈ مارشل پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیئے دبا ؤ ڈالنے سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کا بنیادی مقصد بھی اسرائیل ہی کو تسلیم کرانا ہے۔
غور کریں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات جونہی معاہدہ ہونے کے قریب آتے ہیں صدر ٹرمپ اس میں کوئی نیا رخنہ ڈال دیتے ہیں۔ ایران امریکہ امن معاہدے میں بریک تھرو ہو گیا تھا مگر ٹرمپ نے پھر وہی کیا جو ایران سے حالیہ کشیدگی میں ان کا معمول رہا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ جب بھی بیان دیتے رہے ہیں اس میں ہر حال میں وہ ایران کو دھمکی دیتے رہے ہیں۔ اسرائیل بھی اس سے مکمل فائدہ اٹھاتا آ رہا ہے۔ کل بھی صہیونی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے علاقے النبطیہ پر شدید فضائی حملہ کیا۔ اسرائیل نہیں چاہتا ہے کہ اس کے ہمسائے میں کوئی ملک اس کے لیئے خطرہ بنے۔ لبنان کمزور ملک ہے جبکہ حماس اور غزہ کے فلسطینی مسلمان اس سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔ ایران خطے کی واحد طاقت ہے جو اسرائیل کی توسیع پسندی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے بارے میں ایک سعودی اعلی عہدے دار نے بھی کہا تھا کہ: "اگر ایران نہ ہوتا تو سارے خطے پر آج اسرائیل کا قبضہ ہوتا”۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں کو معلوم ہے کہ جب تک ایران طاقتور رہے گا تب تک "گریٹر اسرائیل” کا منصوبہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ حالیہ خلیجی جنگ کے بعد مغربی ممالک میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مخالفت اور نفرت پیدا ہوئی ہے۔ اب لگتا نہیں ہے کہ کبھی گریٹر اسرائیل کا صہیونی منصوبہ کامیاب ہو گا۔ پھر بھی اسرائیل اور امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ ایران کو جتنا بھی ہو سکے کمزور کیا جائے۔
یہاں تک کہ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے ایران کا ایک نقشہ جاری کروایا تھا جس میں امریکی جھنڈا لہراتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ ایران کو تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی سامراجی منصوبہ ہے جس پر برطانیہ نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے تحت آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کی تھی۔ امریکہ سپر پاور ہے تو چند دہانیوں سے اس نے بھی سامراجی نظام کو قائم رکھنے کے لیئے مڈل ایسٹ میں یہی اصول اپنا رکھا ہے، جس کی مثال عراق، لیبیا، شام اور لبنان کے بعد ایران کی حالیہ کشیدگی ہے۔
امن معاہدے کی امید افزاء اطلاعات آنے کے بعد بھی اگر ایران امریکہ امن معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے ہیں تو بھرپور جنگ دوبارہ چھڑنے کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ بوجوہ یہ کہنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ معاہدہ کب اور کیسے طے پا سکتا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مختصر دورہ تہران کے بعد کسی امن معاہدے کے امکان پر قیاس آرائیاں ہوئی تھیں۔ یہاں تک دعوی کیا گیا کہ اگلے چند دنوں میں معاہدے پر دستخط کرنے کے لیئے وفود اسلام آباد پہنچ جائیں گے لیکن اب صدر ٹرمپ نے "یو ٹرن” لے کر اسلامی ممالک کو آن بورڈ لیا ہے کہ ایران سے امن معاہدہ تبھی ہو گا جب اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا۔ خبروں کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے کافی قریب آ گئے تھے۔ امن معاہدے کی تفصیلات پر بھی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔ یہاں تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر کہا کہ معاہدہ تقریبا طے پا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اب صرف چند تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ معاہدہ تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے اور چند گھنٹوں میں ہی اس کی تفصیلات سامنے آ جائیں گی مگر وہ وقت ابھی تک نہیں آیا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری یہ غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو سکے۔ ایک پائیدار امن معاہدے کی حتمی خوشخبری سننے کے لیئے شاید ابھی مزید وقت لگے گا۔ اس کے لیئے پاکستان کو دونوں متحارب گروپوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیئے سفارت کاری اور مزید محنت کی ضرورت ہے۔
ابراہیم اکارڈ کی روشنی میں اسرائیل کو تسلیم کروانے ہی کے مقصود کی خاطر صدر ٹرمپ نے اپنے ایک پیغام میں کہا تھا: "مذاکرات کرنے والوں کو عجلت کی ضرورت نہیں ہے ہمیں نہایت احتیاط سے حتمی معاہدے پر اتفاق کرنا ہو گا”۔ اس بیان کا بلواسطہ مقصود یہی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان منظم اور تعمیری انداز میں مذاکرات ہوئے ضرور ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا ابھی بھی امکان موجود ہے لیکن جب صدر ٹرمپ اپنے نمائندوں کو یہ ہدایت جاری کرتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیئے جلد بازی نہ کی جائے تو اس سے ٹرمپ ایران سے جنگ کے اپنے اصل مقصد کو مدنظر رکھ رہے ہوتے ہیں جو خطے میں امریکی مفادات کے عین حق میں ہے، تاکہ اسرائیل باقی رہے اور مشرق وسطی میں امریکہ کے مفادات پورے ہوتے رہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |