ریچھوں کے شہر کی کہانی
کینیڈا کے ایک صوبے مینیٹوبا (Manitoba) آرکٹک ایج کے انتہائی شمال میں "ہڈسن بے” (Hudson Bay) کے کنارے پر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ "چرچل” (Churchill) بہت مشہور ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس قصبے میں صرف نو سو لوگ رہتے ہیں، سب مقامی لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں لیکن اسکے ارد گرد رہنے والے دیوہیکل ریچھوں (جن کا وزن 600 کلوگرام تک ہوتا ہے) کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے، یعنی یہاں کی مقامی آبادی انسانوں سے زیادہ ان شکاری ریچھوں کی ہے۔ یا یوں کہیں کہ: "چرچل دنیا کا وہ واحد قصبہ ہے جہاں ریچھ انسانوں سے زیادہ ہیں”۔ قطب شمالی کے یہ خونخوار ریچھ اور ان کا شکار بن سکنے والے انسان اس قصبے میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ کئی حوالوں سے اس قصبے کی اور بھی بہت سے کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ خاص کر یہاں فطرت کی حکمرانی کا نظارہ بہت ہی حیران کن اور دلفریب ہوتا ہے۔ چرچل قصبہ کے بارے جتنا پڑھا اور سنا ہے موقعہ ملا تو اسے ضرور دیکھنے جاؤں گا۔
اس قصبے کی آبادی قبائلی روایات پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے باسیوں پر شمالی ماحول کا گہرا اثر ہے۔ یہاں کی قبائلی اور مقامی روایات کو "آدیواسی” کہتے ہیں۔ چرچل کے باسیوں کی زندگی آج بھی زمین، پانی اور جنگلی حیات سے جڑی ہوئی ہے۔ بہار کے موسم میں ہنسوں (Goose) کا شکار ثقافت اور خوراک کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال نوجوانوں کو تجربہ کار شکاری تربیت دیتے ہیں لیکن پوری آبادی احترام فطرت کو مقدس سمجھتی ہے اور جانوروں کی روح کے عقیدے کو مانتی ہے۔ یہاں تک کہ زیادہ خونخوار ریچھوں کو بھی قتل نہیں کیا جاتا ہے۔ قصبے میں ایک مشہور "پولر بیئر جیل” بنائی گئی ہے۔ اگر کچھ بھوکے ریچھ بار بار شہر میں داخل ہو کر لوگوں کے لیئے خطرہ بن جائیں تو انہیں بے ہوش کر کے اس جیل میں رکھا جاتا ہے۔ سردیوں کے اختتام پر جب برف جم جاتی ہے تو ان ریچھوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر سے سینکڑوں کلومیٹر دور ویران علاقوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ واپس سمندر کی برف پر جا کر شکار کر سکیں۔
چرچل قصبے کے مقامی لوگ جانوروں کو اس لیئے عزت دیتے ہیں کیونکہ یہ انکے لیئے خوراک، کپڑے اور اوزار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب بھی قصبے میں کوئی تقریب ہو تو لوگ موسم کی بجائے ریچھوں کے بارے بات چیت ضرور کرتے ہیں جسے "بیئر ٹاک” کہا جاتا ہے۔ تقریب کے دوران بزرگ مہمانوں کو تمباکو پیش کرنا ایک مقدس روایت ہے۔
اس قبائلی قصبے میں جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال ہو رہی ہے۔ ٹرین یا جہاز آئے تو پورا شہر زندہ ہو جاتا ہے۔ یہاں "ایکو ٹورزم” سب سے بڑا ذریعہ معاش ہے۔ ویسے تو سیاحت پورا سال چلتی رہتی ہے مگر دنیا بھر کے ہزاروں سیاح جولائی اگست میں حیرت انگیز فطرت، رنگ برنگے پرندوں کے جھنڈ اور بیلوگا وہیلز، اور اکتوبر سے دسمبر تک برفباری، سفید قطبی ریچھ اور آسمان پر مبحوط کر دینے والی روشنیاں دیکھنے آتے ہیں۔ موسم کے مطابق سردی میں "سنو موبائل” اور گرمی میں "اے ٹی وی” چلانا عام ہے۔ "ڈاگ سلیڈنگ” ہزار سال سے سفر اور شکار کا ذریعہ رہی ہے۔ یہ آج بھی سیاحت اور کھیل کا حصہ ہے۔ ان کے فن و ثقافت میں "اٹسانتاک میوزیم” بہت مشہور ہے جس میں 3000 سال پرانے ہاتھی دانت اور ہڈی کے کارونگ موجود ہیں۔ اس میوزیم میں جانوروں، روحوں اور افسانوی مخلوقات کے نمونے بھی رکھے گئے ہیں۔ پورے قصبے کی دیواروں پر مختلف رنگین نقشہ جات بنے دکھائی دیتے ہیں جنہیں مقامی زبان میں "مورلز” کہتے ہیں، انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ سمندر، جانوروں اور کمیونٹی کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔
چرچل قصبہ کا موسم سردیوں میں برفباری کی وجہ سے شدید تر ہو جاتا ہے اور اکتوبر سے دسمبر تک ہڈیوں تک کو کھا جانے والا درجہ حرارت منفی 25 سے 30 سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے۔ انتہائی سخت سردی کی وجہ سے ریچھوں کو خوراک کا مسئلہ درپیش آتا ہے۔ یہ سفید رنگ کے بھوکے ریچھ دن کی روشنی اور رات کے اندھیرے میں سینکڑوں کی تعداد میں کسی انسان یا جانور کا شکار کرنے کیلیئے قصبے کی سڑکوں پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
چرچل کا قصبہ ہمدردی کا عجوبہ ہے۔ لوگ اپنے گھروں اور گاڑیوں کے دروازے کھلے چھوڑ کر سوتے ہیں۔ بظاہر یہ کوئی عقل مندی نہیں ہے کیونکہ اپنی ذات اور چیزوں کی حفاظت کرنا دانش مندی کے ضمرے میں آتا ہے لیکن اس قصبے کے لوگ عقل مند کہلانے کی بجائے ایک دوسرے سے ہمدردی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
شائد یہاں کے لوگوں کو معلوم ہے کہ، دنیا کو عقل سے زیادہ احساس کی ضرورت ہے۔ آپ ایک ایسے شہر کا تصور کریں جہاں لوگ رات کو سونے سے پہلے اپنے گھروں اور گاڑیوں کے دروازوں کو تالے لگا کر نہیں سوتے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر انہیں کھلے چھوڑ دیتے ہیں، اور تالے اس لیئے نہیں لگاتے تاکہ ریچھوں سے بچنے والآ کوئی مصیبت زدہ شخص وہاں آ کر پناہ لے سکے۔
جب برف باری کے مہینوں میں ہڈسن کی برف جمنے لگتی ہے تو سینکڑوں ریچھ کھانے کی تلاش میں چرچل کے اطراف میں جمع ہو جاتے ہیں۔ یوں کئی دن اور راتیں ایسی گزرتی ہیں جب انسانوں سے زیادہ شہر کے مضافات میں ریچھ گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس نسبت سے چرچل ٹاؤن کو دنیا میں قطبی ریچھوں کا دارالحکومت "Polar Bear Capital of the World” کہا جاتا ہے۔ قطبی ریچھوں کے اس مرکز چرچل ٹاؤن تک پہنچنا بھی ایک مہم سے کم نہیں ہے۔ یہ کینیڈا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں کوئی مستقل شاہراہ نہیں جاتی۔ یہاں جانے کے لیئے پہلے "وینی پیگ” تک جانا پڑتا ہے اور پھر وہاں سے یا تو چھوٹے جہاز کے ذریعے ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کرنی پڑتی ہے یا پھر دو دن کا ٹرین میں طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ ٹرین برف سے ڈھکے میدانوں، گھنے جنگلوں اور ویران علاقوں سے گزرتی ہوئی بالآخر چرچل قصبے میں پہنچتی ہے۔ راستے کی تنہائی اور سفیدی انسان کو اپنی بے وقعتی کا احساس دلاتی ہے۔
ہر سال سردیوں کے موسم میں دنیا بھر سے ہزاروں سیاح صرف ان برفانی ریچھوں کو دیکھنے کے لیے چرچل آتے ہیں۔ سیاحوں کے لئے مخصوص دیوہیکل گاڑیاں ہیں جنہیں "ٹنڈرا بگیز” کہا جاتا ہے۔ یہ گاڑیاں برف کے میدانوں میں گھنٹوں چلتی ہیں اور سیاح کھڑکیوں سے ان عظیم الجثہ ریچھوں کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں جو گاڑی کے شیشے سونگھتے ہیں اور برف میں لوٹ پوٹ ہوتے نظر آتے ہیں۔ لیکن چرچل صرف ریچھوں کی سرزمین ہی نہیں ہے۔ جب گرمیوں کے موسم میں ہزاروں سفید بیلوگا وہیلیں ہڈسن بے میں آ جاتی ہیں اور ان کا شور پورے ساحل پر گونجتا ہے یا سردیوں کی لمبی راتوں میں آسمان پر شمالی روشنیاں یعنی "اورورا بوریالس” ناچتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ جب سبز اور جامنی روشنیاں آسمان پر پردے کی طرح لہراتی ہیں تو انسان لمحے بھر کے لیئے اپنی حقیقت بھول جاتا ہے۔
شاید اسی لیئے چرچل دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں کھڑے ہو کر انسان کو یہ گہرا احساس ہوتا ہے کہ زمین پر اصل حکمران ہم نہیں بلکہ "فطرت” ہے۔ اسی لیئے چرچل میں رہنے والا یہ چھوٹا سا طبقہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں حقیقی ہمدردی اور احساس کا "عجوبہ” بھی ہیں، اور اسی لیئے وہ اپنے دروازے بند کرنے کی بجائے کھلے چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگلے موڑ پر کسی اجنبی کو چور سے نہیں بلکہ ایک بھوکے برفانی ریچھ سے بچنے کے لیے پناہ درکار ہو سکتی ہے۔ انسانوں کو صرف احساس زندہ رکھتا یے اور انسانیت یہی تو ہے کہ اپنی حفاظت کے ساتھ دوسرے کے لیئے بھی دروازہ کھلا رکھا جائے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |