اگست 19, 2026

دو غیر ملکی لڑکیوں کا کیس اور آن لائن مالی سکینڈلز سے سبق

اسے سیاسی رنگ دینے کے بجائے ہمیں اس کے پیچھے چھپے "پیٹرن” کو سمجھنا چاہیے۔

دو غیر ملکی لڑکیوں کا کیس اور آن لائن مالی سکینڈلز سے سبق

Dubai Naama

سوشل میڈیا پر چلنے والی ہر خبر سچ نہیں ہوتی، لیکن ہر خبر سے ایک سبق ضرور اخذ کیا جا سکتا ہے۔ چند دن سے دو غیر ملکی لڑکیوں کے اغواء اور آن لائن مالی فراڈ سے جڑے ایک کیس کا چرچا ہو رہا ہے۔ ایک سیاسی شخصیت کے نام کے جڑنے سے یہ معاملہ مزید شدت سے زیربحث ہے۔ اسے سیاسی رنگ دینے کے بجائے ہمیں اس کے پیچھے چھپے "پیٹرن” کو سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ دنیا بھر میں روز ایسے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر مالی فراڈ کی سب سے بڑی وجہ "ہنی ٹریپ” اور "سوشل انجینئرنگ” ہے۔ منظم گروہ پہلے اعتماد بناتے ہیں، دوستی کرتے ہیں، بڑے منافع کا لالچ دیتے ہیں، اور پھر جال میں پھنسانے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں بھی ماضی میں ہزاروں افراد آن لائن دوستی، جعلی سرمایہ کاری، کرپٹو اسکیموں اور جعلی لاٹری کے نام پر اپنی جمع پونجی گنوا چکے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ایسے متاثرین کو اکثر وہ قانونی اور سماجی سپورٹ نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔

ایسے سکینڈلز میں "پونزی اسکیم” سب سے اوپر ہے۔ اس کا نام 1920ء میں چارلس پونزی کے نام پر پڑا۔ پاکستان میں "ڈبل شاہ” اس کی مثال ہے۔ اس کا طریقہ بہت سادہ ہے: "پیسے لگائیں، 2 ماہ میں ڈبل منافع لیں”۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پیسہ بزنس، ٹریڈنگ یا پراپرٹی میں لگے گا۔ اصل میں کوئی بزنس نہیں ہوتا۔ نئے لوگوں کے پیسے سے پرانے لوگوں کو "منافع” دیا جاتا ہے۔ جب نئے لوگ آنا بند ہوتے ہیں تو سارا سسٹم بیٹھ جاتا ہے۔

دو غیر ملکی لڑکیوں کا کیس اور آن لائن مالی سکینڈلز سے سبق

پونزی کی 4 بڑی نشانیاں یہ ہیں کہ گارنٹی شدہ زیادہ منافع کا وعدہ کیا جاتا ہے، جو  20 سے 30 فیصد تک ماہانہ ہو سکتا ہے۔ ایسی غیرقانونی انویسٹمنٹ میں رسک ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن دعوی ہمیشہ زیرو رسک کا کیا جاتا ہے۔ جو کہے کہ رسک نہیں، سمجھ جائیں وہی سب سے بڑا رسک ہے۔ یہ الفاظ کہ "بہت اچھی ڈیل ہے”، خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر کوئی آفر ناقابل یقین لگے تو 99 فیصد وہ جھوٹ ہو گی۔ نمبر تین اس میں لائسنس اور رجسٹریشن وغیرہ نہیں ہوتی۔ یہ سکیمیں "ایس ای سی پی” SECP یا "ایس بی پی” SBP سے رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔ نمبر چار عموما جلدی کا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ: "یہ موقع صرف آج کے لیے ہے”۔

آج کل بٹ کوائن، ڈیجیٹل کرنسی، جعلی آن لائن بینک ٹرانسفر اور "متوفی کی جائیداد” کے نام پر بھی فراڈ عروج پر ہیں۔ اس کیس سے ہمارے لیے 3 سبق ہیں کہ ثبوت پر یقین کریں، افواہ پر نہیں۔ کسی بھی معاملے میں ایک پہلو دیکھ کر رائے قائم کرنا درست نہیں۔ فیصلہ قانون اور تحقیقات سے ہونا چاہیے، جذبات یا سیاسی وابستگی سے نہیں۔ ایسے کیسز سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہوتی ہے۔ اس لیے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں تاکہ مجرمان کو سزا اور بے گناہوں کو تحفظ ملے۔

رات و رات ‘الٹرا رچ’  Ultra Rich بننے کا خواب ہی سب سے مہنگا پڑتا ہے۔ پیسہ لگانے سے پہلے خود  سے یہ 3 سوال ضرور پوچھیں: یہ کمپنی رجسٹرڈ ہے؟ منافع کی گارنٹی کون دے رہا ہے؟ رسک کیا ہے؟ یاد رکھیں، سوشل میڈیا کا طوفان تھم جائے گا، لیکن آپ کی محنت کی کمائی واپس نہیں آئے گی۔ ہوشیار رہیں گے، تو محفوظ جائیں گے۔ یہ کالم عوامی آگاہی کے لیے لکھا ہے۔ اس کیس کے حقائق ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہیں۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com