ایکس ون مرا نہیں ، وہ تو زندہ ہے
شہر خواب ۔۔۔ صفدر علی حیدری
میرے مولا کا فرمان کتنا سچا، کتنا حکمت سے بھرا ہوا ہے
"لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے”
یہ بات مجھ پر صادق آتی ہے۔ میں بھی عمران سیریز پر اور اسے پڑھنے والوں پر ہنسا کرتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میری عمر یہی کوئی دس بارہ کی ہو گی۔ یہ وہ وقت تھا جب میری عمر کے اکثر بچے ٹارزن، عمرو عیار، طلسم ہوش ربا اور اسی قسم کی دوسری کہانیوں کے شائق ہوا کرتے تھے۔ (اسی کی دہائی) وہ وقت تھا پڑھنے پڑھانے والا۔ نہ موبائل، نہ لیپ ٹاپ، نہ کمپیوٹر۔ ایک پی ٹی وی تھا، دوسرا ریڈیو، وی سی آر، کرکٹ کا کھیل اور کتابیں۔
یہی ہماری کل کائنات، یہی ہماری تفریح۔
درسی کتب سے وقت نکال کر میں اپنے پسندیدہ مشغلے یعنی کتب بینی سے لطف لیا کرتا تھا۔ میری عمر کے تقریباً ہر بچے کا یہی معمول تھا۔ میں اپنے جیب خرچ سے پیسہ بچا کر ایک دو روپے والی چھوٹی چھوٹی کہانیاں خرید کر پڑھا کرتا تھا۔ پھر ان کتابوں کا تبادلہ بھی ہوا کرتا تھا اور مزے کی بات یہ تھی کہ ہر محلے میں ایک آدھی لائبریری بھی موجود تھی۔ بچے ایک روپیہ کرائے پر کتابیں پڑھنے کے لیے گھر جایا کرتے تھے۔
وہ عمرو عیار، ٹارزن، الف لیلیٰ، طلسم ہوش ربا، چلوسک ملوسک، چھن چھنگلو، انگلو بانگلو کے عروج کا زمانہ تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میرے پسندیدہ لکھاری اور روحانی استاد مظہر کلیم ایم اے یہ سب کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ کئی ایک کردار تو ان کے خود کے تخلیق کردہ تھے۔ کتنی مزے دار کہانیاں ہوا کرتی تھیں۔ ہمیں سچ میں بڑا لطف آتا تھا۔ بس شکوہ تھا تو اس بات کا کہ یہ کہانیاں مختصر ہوا کرتی تھیں۔ سو ہمیں ایک قسم کی تشنگی کا احساس ہوتا تھا۔ ہم کوشش کرتے کہ زیادہ سے زیادہ کہانیاں پڑھیں—
اور شاید اسی "زیادہ” کی تلاش میں…
ہم کچھ "گہرا” کھو بھی رہے تھے… مگر اس وقت ہمیں اس کا احساس نہیں تھا۔
ہمیں بس جادو چاہیے تھا…
ہمیں بس مہم جوئی چاہیے تھی…
ہمیں بس وہ دنیا چاہیے تھی جہاں عقل سے زیادہ "حیرت” کا راج ہو۔
اور پھر…
اسی ماحول میں… اسی گلی میں… اسی محلے میں…
ایک اور دنیا بھی آباد تھی—
خاموش…
سنجیدہ…
اور کسی قدر پراسرار…
یہ "عمران سیریز” کی دنیا تھی۔
محلے کے چند بڑے لڑکے، جو ہمیں اس وقت کچھ "زیادہ سمجھدار” اور تھوڑے "کم دلچسپ” لگتے تھے، اکثر گلی کے نکڑ پر یا کسی چارپائی پر بیٹھے انہی موٹی موٹی کتابوں میں گم رہتے۔ ان کے چہروں پر وہ چمک نہیں ہوتی تھی جو ہمارے چہروں پر کسی جادوئی قصے کے دوران آتی تھی… بلکہ ایک عجیب سی سنجیدگی ہوتی تھی… جیسے وہ صرف پڑھ نہیں رہے… کچھ سوچ بھی رہے ہوں۔
میں انہیں دیکھتا…
اور پھر اپنے دوستوں کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیتا…
"یار، یہ بھی کوئی کہانیاں ہیں؟”
میں اکثر کہتا۔
"نہ جادو… نہ طلسم… نہ عمرو عیار جیسی چالاکی…”
میں ناک چڑھا کر بات مکمل کرتا۔
میرے دوست بھی ہنس دیتے…
اور ہم دوبارہ اپنی "رنگین دنیا” میں لوٹ جاتے—
مگر…
دل کے کسی کونے میں…
ایک بہت ہلکی سی "چبھن” ضرور رہ جاتی…
یہ چبھن کیا تھی؟
تجسس؟
یا انکار کے پردے میں چھپی ہوئی کوئی خاموش سی کشش؟
کبھی کبھی…
میں چوری چھپے ان کتابوں کے سرورق کو دیکھتا…
ان کے عنوان پڑھتا…
اور پھر بنا کسی وجہ کے نظریں ہٹا لیتا…
جیسے میں خود کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ:
"یہ میرے لیے نہیں ہے…”
حالانکہ…
کہیں نہ کہیں…
یہی وہ لمحہ تھا—
جہاں لاعلمی…
خاموشی سے…
دلچسپی میں بدلنے لگتی ہے…
اور انسان…
بغیر جانے…
اپنے ہی قائم کیے ہوئے فیصلوں پر
آہستہ آہستہ شک کرنے لگتا ہے…
بہت خوب—میں اسی کیفیت، اسی بہاؤ اور اسی داخلی کشمکش کو آگے بڑھاتا ہوں:
اور پھر…
وہ دن آ ہی گیا—
شاید گرمیوں کی ایک سست دوپہر تھی…
ہوا میں عجب سی ٹھہراؤ تھا… گلیاں نیم سنسان… اور درختوں کے سائے لمبے ہو کر زمین پر پھیل گئے تھے۔
میں حسبِ معمول اپنی ایک مختصر سی کہانی ختم کر کے ایک عجیب سی بے چینی محسوس کر رہا تھا…
وہی پرانی تشنگی…
وہی احساس کہ "کچھ اور ہونا چاہیے تھا…”
میں کتاب بند کر کے کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا…
پھر نہ جانے کیوں…
میرے قدم خود بخود گلی کے اُس نکڑ کی طرف اٹھنے لگے…
جہاں اکثر وہ "سنجیدہ لوگ” بیٹھا کرتے تھے۔
آج وہاں صرف ایک لڑکا تھا—
مجھ سے چند سال بڑا…
چارپائی پر نیم دراز… اور ہاتھ میں وہی موٹی سی کتاب…
میں کچھ فاصلے پر رُک گیا۔
دل میں عجیب سی جھجھک تھی… جیسے میں کوئی "منع شدہ چیز” کے قریب آ گیا ہوں۔
وہ لڑکا میری طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔
"کیا ہوا؟”
اس نے پوچھا۔
میں نے نظریں چرا لیں۔
"کچھ نہیں… بس ایسے ہی…”
وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
"پڑھتے ہو؟”
یہ سوال سن کر میں نے فوراً سینہ ذرا سا تان لیا—
"ہاں! بہت پڑھتا ہوں!”
اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی دلچسپی ابھری۔
"کیا پڑھتے ہو؟”
میں نے فخر سے گنوایا—
"عمرو عیار… طلسم ہوش ربا… ٹارزن…”
وہ خاموشی سے سنتا رہا…
پھر اس نے ہاتھ میں پکڑی کتاب میری طرف بڑھا دی۔
"یہ پڑھ کے دیکھو۔”
میں نے کتاب کی طرف دیکھا…
دل نے فوراً انکار کیا—
"نہیں… یہ نہیں…”
مگر زبان خاموش رہی۔
"لے لو…”
اس نے کہا،
"اچھی ہے۔”
میں نے ہچکچاتے ہوئے کتاب ہاتھ میں لے لی۔
کتاب ذرا بھاری تھی…
جیسے صرف کاغذ نہیں…
کوئی اور بوجھ بھی اس میں شامل ہو…
میں نے سرورق پر نظر ڈالی…
پھر اس کی طرف دیکھا…
"واپس کر دوں گا…”
میں نے دھیمی آواز میں کہا۔
وہ مسکرایا—
"اگر سمجھ آ گئی… تو واپس کرنے کا دل نہیں کرے گا۔”
میں کچھ سمجھے بغیر ہلکا سا مسکرا دیا…
اور وہاں سے واپس آ گیا۔
گھر پہنچ کر میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی…
جیسے وہ واقعی "میرے لیے” نہ ہو۔
کافی دیر تک میں اسے دیکھتا بھی نہیں رہا…
مگر عجیب بات یہ تھی کہ…
میرا دھیان بار بار اسی کی طرف جاتا رہا۔
آخرکار…
میں نے ہار مان لی۔
میں نے کتاب اٹھائی…
اور آہستہ سے پہلا صفحہ کھولا…
ابتدا میں… سب کچھ اجنبی لگا—
زبان مختلف…
انداز مختلف…
جملے کچھ لمبے… کچھ گہرے…
میں نے بھنویں سکیڑ لیں…
"یہ کیا ہے…؟”
دل نے کہا:
"چھوڑ دو… یہ تمہارے لیے نہیں ہے…”
مگر نہ جانے کیوں…
میں نے صفحہ پلٹ دیا۔
پھر ایک اور…
پھر ایک اور…
اور پھر…
کچھ بدلنے لگا—
کہانی جیسے آہستہ آہستہ میرے اندر اترنے لگی…
الفاظ جیسے صرف پڑھے نہیں جا رہے تھے…
سمجھے بھی جا رہے تھے…
ایک کردار سامنے آیا…
پھر دوسرا…
پھر ایک مکالمہ—
اور اسی مکالمے پر…
میں ٹھہر گیا۔
میں نے دوبارہ پڑھا…
پھر تیسری بار…
میرے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی آ گئی…
وہی سنجیدگی…
جو میں نے کبھی اُن لڑکوں کے چہروں پر دیکھی تھی…
میں نے آہستہ سے سر اٹھایا…
کمرے میں بہت خوب—اب کہانی اپنے اصل باطن میں داخل ہو رہی ہے، میں اسی کیفیت، اسی آہستہ بدلتی ہوئی ذہنی دنیا اور اندرونی انقلاب کو آگے بڑھاتا ہوں:
میں نے آہستہ سے سر اٹھایا…
کمرے میں خاموشی تھی…
مگر میرے اندر—
کچھ بولنا شروع ہو چکا تھا۔
وہ مکالمہ…
سادہ سا تھا…
مگر اس میں ایک عجیب سی کاٹ تھی…
جیسے کسی نے ہنستے ہنستے کوئی بہت گہری بات کہہ دی ہو۔
میں نے دوبارہ کتاب کی طرف دیکھا…
اور اب کی بار…
میں صرف پڑھ نہیں رہا تھا…
میں "تلاش” رہا تھا۔
ہر جملہ…
ہر منظر…
مجھے اپنی طرف کھینچنے لگا۔
یہاں جادو نہیں تھا…
مگر حیرت تھی۔
یہاں طلسم نہیں تھا…
مگر ایک انجانی سی کشش تھی۔
یہاں تلواروں کی جھنکار نہیں تھی…
مگر ذہنوں کی ٹکر تھی۔
اور پھر…
وہ آیا—
وہ کردار…
سادہ سا تعارف…
ہلکی سی بے پروائی…
اور ایک ایسی مسکراہٹ…
جو لفظوں میں نہیں تھی… مگر محسوس ہو رہی تھی۔
میں رک گیا۔
"یہ کون ہے…؟”
میں نے خود سے پوچھا۔
وہ عام نہیں تھا…
مگر غیر معمولی ہونے کا شور بھی نہیں مچاتا تھا…
وہ ہنس بھی رہا تھا…
اور جیسے کسی گہرے راز پر خاموش بھی تھا…
میں اس کے ساتھ چلنے لگا…
وہ جہاں جاتا…
میں اس کے پیچھے پیچھے ہو لیتا…
وہ جو کہتا…
میں رک کر اسے سمجھنے کی کوشش کرتا…
اور پھر…
ایک لمحہ آیا—
جب اس نے ایک ایسا جملہ کہا…
جو بظاہر ہلکا تھا…
مگر اس کے اندر ایک عجیب سی گہرائی تھی…
میں چونک گیا۔
یہ وہ لمحہ تھا—
جب مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ…
میں اب صرف "کہانی” نہیں پڑھ رہا…
میں "سوچ” پڑھ رہا ہوں۔
میری انگلیاں صفحے پلٹ رہی تھیں…
مگر میرا ذہن…
اب رک رک کر ہر لفظ کو محسوس کر رہا تھا…
کبھی میں مسکرا دیتا…
کبھی میری پیشانی پر بل آ جاتے…
کبھی میں حیران ہو جاتا کہ…
"یہ بات اس نے کیسے کہی؟”
اور پھر اچانک…
مجھے اپنا ماضی یاد آ گیا—
وہی میں…
جو گلی میں کھڑا ہو کر ان کتابوں کا مذاق اڑایا کرتا تھا…
میں نے ایک لمحے کے لیے کتاب بند کر دی۔
خاموشی…
گہری خاموشی…
میں نے اپنی آنکھیں بند کیں…
اور دل ہی دل میں ایک عجیب سا اعتراف کیا—
"میں غلط تھا…”
یہ جملہ بہت چھوٹا تھا…
مگر اسے ماننے میں…
جانے کیوں… ایک پوری دنیا لگ گئی۔
میں نے آنکھیں کھولیں…
اور دوبارہ کتاب کھولی…
مگر اب میں وہ نہیں تھا
جو چند گھنٹے پہلے تھا۔
اب میرے اندر ایک "قاری” نہیں…
ایک "متلاشی” جاگ چکا تھا۔
اور وہ کردار…
جسے میں ابھی پوری طرح جان بھی نہیں پایا تھا…
وہ آہستہ آہستہ…
میرے ذہن میں جگہ بنانے لگا تھا…
نہیں—
صرف ذہن میں نہیں…
میرے "اندازِ فکر” میں۔
اب میں صرف یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ "کیا ہو رہا ہے”…
میں یہ بھی سوچنے لگا تھا کہ "کیوں ہو رہا ہے”…
اور شاید…
یہی وہ لمحہ تھا—
جب ایک بچہ…
صرف کہانیاں پڑھنے والا نہیں رہا…
بلکہ…
کہانیوں کو "سمجھنے” کی طرف پہلا قدم اٹھا چکا تھا…
مگر…
یہ تو بس آغاز تھا…
اصل حیرت تو ابھی باقی تھی—
کیونکہ میں ابھی تک یہ نہیں جانتا تھا…
کہ یہ کردار…
جو بظاہر ایک عام سا انسان لگتا ہے…
درحقیقت…
کون ہے؟
بہت خوب—اب ہم کہانی کے اس نکتے پر آ گئے ہیں جہاں "انکشاف” صرف معلومات نہیں رہتا… بلکہ ایک داخلی زلزلہ بن جاتا ہے۔ میں اسی کیفیت، اسی دھیمے مگر گہرے اسلوب میں آگے بڑھاتا ہوں:
مگر…
یہ تو بس آغاز تھا…
اصل حیرت تو ابھی باقی تھی—
کیونکہ میں ابھی تک یہ نہیں جانتا تھا…
کہ یہ کردار…
جو بظاہر ایک عام سا انسان لگتا ہے…
درحقیقت…
کون ہے؟
میں صفحے پلٹتا گیا…
کہانی آگے بڑھتی گئی…
واقعات الجھتے گئے…
گرہیں پڑتی گئیں…
اور ہر گرہ کے ساتھ میرا تجسس بھی بڑھتا گیا…
کبھی لگتا—
یہ شخص بس ایک مزاحیہ سا کردار ہے…
جو سنجیدہ ماحول میں ہلکی سی شوخی پیدا کرنے کے لیے رکھا گیا ہے…
پھر اچانک…
وہی شخص…
ایک ایسا جملہ کہہ دیتا…
جو پوری صورتِ حال کا رخ بدل دیتا…
میں چونک جاتا…
"یہ…؟”
میں نے کتاب کو ذرا قریب کر لیا…
جیسے اب مجھے اس کے ہر لفظ کو زیادہ دھیان سے سننا ہو…
اب میں اس کردار کو صرف "دیکھ” نہیں رہا تھا…
میں اسے "پرکھ” رہا تھا…
وہ کبھی سنجیدہ نہیں لگتا تھا…
مگر اس کی ہر بات میں سنجیدگی چھپی ہوتی تھی…
وہ کبھی عقل کا دعویٰ نہیں کرتا تھا…
مگر سب سے زیادہ عقل اسی کے پاس ہوتی تھی…
یہ تضاد…
مجھے الجھا رہا تھا…
اور پھر—
وہ لمحہ آ گیا…
ایک ایسا موڑ…
جہاں کہانی نے جیسے اچانک اپنا پردہ ہٹا دیا ہو…
ایک راز…
جو اب تک چھپا ہوا تھا…
آہستہ آہستہ سامنے آنے لگا…
میں رک گیا۔
میری سانس جیسے ٹھہر گئی…
میں نے دوبارہ وہ سطر پڑھی…
پھر ایک بار اور…
اور پھر—
جیسے کسی نے میرے ذہن کے اندر
ایک زور دار دستک دی ہو—
"یہی ہے…!”
میری آنکھیں پھیل گئیں…
"یہ… وہی ہے؟”
اب ساری کڑیاں ملنے لگیں…
وہ ہنسی…
وہ بے پروائی…
وہ بظاہر لاپروا انداز…
سب کچھ…
ایک نئے معنی میں ڈھلنے لگا…
میں نے کتاب کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا…
جیسے وہ اچانک بہت قیمتی ہو گئی ہو…
میرے اندر ایک عجیب سا ارتعاش پیدا ہو گیا تھا…
یہ صرف ایک کردار نہیں تھا…
یہ ایک "پردہ” تھا…
جس کے پیچھے ایک اور ہی دنیا چھپی ہوئی تھی…
اور جب وہ پردہ اٹھا—
تو مجھے یوں لگا جیسے
میں نے پہلی بار
"ذہانت” کو ایک کردار کی شکل میں دیکھا ہو…
میں نے آہستہ سے سر پیچھے ٹیک دیا…
چھت کو گھورا…
اور ایک لمبی سانس لی…
"کیا چیز ہے یہ…”
میرے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
مجھے اچانک وہ لڑکا یاد آ گیا…
جس نے مجھے یہ کتاب دی تھی…
اس کی مسکراہٹ…
اور اس کا وہ جملہ—
"اگر سمجھ آ گئی… تو واپس کرنے کا دل نہیں کرے گا۔”
میں ہلکا سا مسکرا دیا…
"واقعی…”
میں نے دل ہی دل میں کہا…
"واپس کرنے کا دل نہیں کر رہا…”
مگر بات صرف کتاب کی نہیں تھی…
کچھ اور بھی تھا…
جو اب میرے اندر رہنے لگا تھا…
ایک انداز…
ایک سوچ…
ایک نیا زاویہ…
اور شاید…
ایک نیا "میں”—
مگر…
یہ انکشاف بھی مکمل نہیں تھا…
کیونکہ کہانی ابھی باقی تھی…
اور اس کردار کی گہرائی…
ابھی پوری طرح کھلنی باقی تھی…
اور میں—
اب اس دنیا میں
صرف داخل نہیں ہوا تھا…
میں اس کا حصہ بنتا جا رہا تھا…
مگر میرے اندر—
کچھ بولنا شروع ہو چکا تھا۔
بہت خوب—اب کہانی اپنے اُس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں "مطالعہ” ایک تجربہ نہیں رہتا… بلکہ "تبدیلی” بن جاتا ہے۔ میں اسی داخلی سفر، اسی نرمی اور گہرائی کے ساتھ آگے بڑھاتا ہوں:
اور میں—
اب اس دنیا میں
صرف داخل نہیں ہوا تھا…
میں اس کا حصہ بنتا جا رہا تھا…
کتاب میرے ہاتھ میں تھی…
مگر اس کا اثر…
میرے اندر پھیلنے لگا تھا…
میں جہاں جاتا…
وہ کردار میرے ساتھ ہوتا…
کبھی اس کی مسکراہٹ یاد آتی…
کبھی اس کا اندازِ گفتگو…
اور کبھی اس کے وہ جملے…
جو بظاہر ہلکے ہوتے… مگر اندر تک اتر جاتے…
میں اب لوگوں کو بھی…
کچھ مختلف انداز سے دیکھنے لگا تھا…
پہلے میں صرف بات سنتا تھا…
اب میں "بات کے پیچھے” بھی سننے لگا تھا…
پہلے میں چہروں کو دیکھتا تھا…
اب میں "تاثرات” پڑھنے لگا تھا…
اور سب سے عجیب بات—
میں خود کو بھی…
پہلی بار "دیکھنے” لگا تھا۔
میرے اندر جیسے دو آوازیں پیدا ہو گئی تھیں—
ایک وہ…
جو پہلے تھی…
سادہ… سیدھی… اور فوری ردِعمل دینے والی…
اور دوسری—
نئی…
خاموش…
مگر گہری…
وہ جلدی فیصلہ نہیں کرتی تھی…
وہ رکتی تھی…
سوچتی تھی…
اور پھر بولتی تھی…
کبھی کبھی…
میں خود ہی چونک جاتا…
"یہ میں نے کیا سوچا؟”
یہ وہ "میں” نہیں تھا…
جسے میں جانتا تھا…
یہ کوئی اور تھا—
جو آہستہ آہستہ…
میرے اندر جگہ بنا رہا تھا…
اور پھر ایک دن…
میں گلی میں کھڑا تھا…
وہی گلی…
وہی نکڑ…
وہی لوگ…
مگر آج…
کچھ مختلف تھا…
وہی لڑکے…
جو کبھی عمران سیریز پڑھتے تھے…
آج میں ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔
انہوں نے ایک لمحے کے لیے مجھے دیکھا…
پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا…
اور ہلکا سا مسکرا دیے…
"کیا ہوا؟”
ایک نے چھیڑا،
"آج ادھر کیسے؟”
میں نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا—
"وہ… کتاب اچھی تھی…”
وہ ہنس پڑے…
مگر اس ہنسی میں تمسخر نہیں تھا…
ایک مانوس سی خوشی تھی…
"اور؟”
انہوں نے پوچھا۔
میں نے ایک لمحہ سوچا…
پھر آہستہ سے کہا—
"وہ… جو کردار ہے…”
میں رُک گیا…
جیسے میں لفظ ڈھونڈ رہا ہوں…
یا شاید…
میں خود ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پایا تھا…
"وہ عام نہیں ہے…”
میری آواز میں ہلکی سی سنجیدگی آ گئی تھی۔
ایک لڑکے نے مسکرا کر کہا—
"تمہیں پتہ ہے وہ کون ہے؟”
میں نے سر ہلایا—
"ہاں… اب پتہ ہے…”
مگر پھر بھی…
ایسا لگا جیسے یہ جاننا کافی نہیں تھا…
کیونکہ بات "کون ہے” سے آگے بڑھ چکی تھی…
اب سوال یہ تھا—
"وہ مجھے کیا بنا رہا ہے؟”
میں خاموش ہو گیا…
وہ سب باتیں کر رہے تھے…
ہنس رہے تھے…
مگر میں…
میں کہیں اور تھا…
اپنے اندر…
جہاں ایک نئی دنیا بن رہی تھی…
جہاں ہر بات کا ایک دوسرا رخ بھی تھا…
جہاں ہر ہنسی کے پیچھے ایک سوچ تھی…
اور ہر خاموشی میں ایک معنی…
اور اچانک—
مجھے اپنے مولا کا وہ فرمان پھر یاد آیا—
"لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے”
میں نے آہستہ سے مسکرا کر خود سے کہا—
"اور جب جان لیتے ہیں…
تو وہی چیز…
ان کی پہچان بن جاتی ہے…”
ہوا ہلکی سی چلی…
درخت کے پتے سرسرائے…
اور مجھے یوں لگا جیسے
وہ کردار…
جسے میں ایک کتاب میں چھوڑ آیا تھا…
اب بھی میرے ساتھ چل رہا ہے…
خاموش…
مگر زندہ…
نہیں—
وہ مرا نہیں تھا…
وہ تو…
میرے اندر زندہ ہو چکا تھا…
مگر…
یہ زندگی بھی مکمل نہیں تھی…
کیونکہ ابھی ایک سوال باقی تھا—
کیا میں اسے صرف "پڑھ” کر چھوڑ دوں گا…
یا…
کبھی…
اسے "جینے” کی کوشش بھی کروں گا؟
بہت خوب—اب ہم اس کہانی کے اُس آخری موڑ پر ہیں جہاں لفظ اپنے انجام کو نہیں، بلکہ ایک کیفیت کو جنم دیتے ہیں… میں اسی گہرائی، اسی ٹھہراؤ اور اسی اثر کے ساتھ آخری حصہ پیش کرتا ہوں:
مگر…
یہ زندگی بھی مکمل نہیں تھی…
کیونکہ ابھی ایک سوال باقی تھا—
کیا میں اسے صرف "پڑھ” کر چھوڑ دوں گا…
یا…
کبھی…
اسے "جینے” کی کوشش بھی کروں گا؟
یہ سوال میرے ساتھ رہنے لگا…
ہر لمحہ…
ہر خیال کے ساتھ…
میں کتاب بند کر دیتا…
مگر وہ بند نہیں ہوتی تھی…
وہ میرے اندر کھلی رہتی تھی…
کبھی میں آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا…
اور خود کو دیکھتا…
پہلے جیسا چہرہ…
وہی آنکھیں…
وہی میں…
مگر…
کچھ تو بدل گیا تھا…
میں خود سے سوال کرنے لگا تھا…
"اگر وہ ہوتا…
تو کیا کرتا؟”
یہ ایک سادہ سا سوال تھا…
مگر اس نے میری سوچ کا رخ بدل دیا تھا…
کسی کی بات سنتا…
تو فوراً ردِعمل دینے کے بجائے رک جاتا…
سوچتا…
"کیا واقعی بات اتنی ہی ہے…
جتنی نظر آ رہی ہے؟”
کبھی کوئی الجھن ہوتی…
تو میں گھبرانے کے بجائے…
اسے ایک مسئلہ سمجھ کر دیکھنے لگتا…
جیسے وہ کردار کرتا تھا…
خاموشی سے…
مسکراتے ہوئے…
اور اندر ہی اندر سب کچھ سمجھتے ہوئے…
یہ سب کچھ غیر محسوس انداز میں ہو رہا تھا…
میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا کہ…
میرے اندر کیا بدل رہا ہے…
مگر مجھے محسوس ہو رہا تھا…
میں اب صرف کہانیاں پڑھنے والا نہیں رہا…
میں…
کہانیوں سے "سیکھنے” لگا تھا…
اور شاید…
یہی وہ لمحہ تھا—
جب ایک کردار…
اپنی کتاب سے نکل کر…
ایک انسان کے اندر جگہ بنا لیتا ہے…
وقت گزرتا گیا…
زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی…
گلیاں وہی رہیں…
لوگ وہی رہے…
مگر میں—
میں وہ نہیں رہا تھا…
کبھی کبھار…
میں اسی نکڑ پر جا کر بیٹھ جاتا…
جہاں کبھی میں کھڑا ہو کر ہنسا کرتا تھا…
آج وہاں بیٹھ کر…
میں خاموشی سے مسکرا دیتا…
جیسے وقت نے ایک مکمل دائرہ بنا لیا ہو…
ایک دن…
میں نے وہی کتاب دوبارہ اٹھائی…
پہلا صفحہ کھولا…
الفاظ وہی تھے…
مگر اثر…
پہلے سے کہیں زیادہ گہرا تھا…
میں نے آہستہ سے خود سے کہا—
"یہ صرف کہانی نہیں ہے…”
اور پھر…
ایک لمحے کے لیے رُک کر…
میں نے وہ جملہ مکمل کیا—
"یہ ایک سوچ ہے…”
ہوا ہلکی سی چلی…
کمرے کی کھڑکی سے روشنی اندر آئی…
اور مجھے یوں لگا جیسے
وہ کردار…
اب بھی کہیں قریب ہی ہے…
نظر نہیں آتا…
مگر موجود ہے…
خاموش…
مگر اثر انداز…
میں نے کتاب بند کی…
اور آہستہ سے مسکرا دیا…
نہیں—
وہ مرا نہیں تھا…
وہ تو زندہ ہے—
ہر اُس ذہن میں…
جو سوال کرنا سیکھ جائے…
ہر اُس دل میں…
جو سمجھنا چاہے…
اور ہر اُس انسان میں…
جو لاعلمی سے نکل کر…
بصیرت کی طرف قدم بڑھائے…

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |