جارج آرویل کی سبق آموز کہانی
سکول کی زندگی میں ایک انگریز لکھاری جارج آرویل کی کہانی بہت پسند تھی. اس کا عنوان "شوٹنگ این ایلیفینٹ” تھا۔ اس کہانی میں برطانوی سامراج کے دور میں وہ برما میں ایک پولیس افسر ہوتا ہے۔ ایک روز اسے اطلاع ملتی ہے کہ ایک مست ہاتھی پاگل ہو گیا ہے اور اس نے برما ایک مزدور کو کچل دیا ہے۔ جب جارج آرویل کو اس واقعہ کی اطلاع ملتی ہے اور وہ بندوق لے کر ہاتھی کے کھوج میں نکلتا ہے تو اس کے پیچھے عوام کا بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے۔ کہانی کا مصنف ہجوم کے پریشر میں آ کر ہاتھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا یے۔ ہاتھی کو گولی مارنے سے پہلے جارج آرویل دیکھتا ہے کہ ہاتھی چاولوں کے ایک کھیت میں آرام سے فصل کھا رہا ہوتا ہے۔ جارج آرویل اندازہ لگا لیتا ہے کہ ہاتھی پاگل نہیں ہے، وہ سوچتا ہے کہ اسے ہلاک نہیں کیا جانا چایئے۔ اسی دوران ہاتھی کو قابو کرنے والا مہاوت بھی پہنچ جاتا ہے تاکہ ہاتھی کو قابو کیا جا سکے لیکن جونہی آرویل دیکھتا پے کہ شور و غوغا کرتا ہوا پورا ہجوم اس سے ہاتھی کو ہلاک کرنے کی توقع کر رہا ہے تو وہ سامراجی انا کا شکار ہو جاتا ہے۔ جارج آرویل اندر سے ہاتھی کو ہلاک نہیں کرنا چاہتا کہ ایک صحیح سلامت اور صحتمند جاندار کو بلاوجہ ہلاک کرنا اچھی بات نہیں ہے، مگر وہ ہجوم کے سامنے ہاتھی کو گولی نہ مار کر خود کو بزدل بھی ثابت نہیں کرنا چاہتا یے۔ پھر اوپر سے وہ حکمران طبقے یعنی برطانوی سامراج کا افسر بھی ہوتا یے۔ اسی دوران وہ کشمکش کا شکار ہو جاتا یے کہ ہاتھی کو گولی ماری جائے یا نہ ماری جائے۔ بلآخر اس کی ظاہری سامراجی سوچ اس پر حاوی ہو جاتی ہے اور وہ ہاتھی کو پے در پے گولیاں مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔
ہاتھی کی ہلاکت پر رعایا برمی عوام بڑی خوش ہوتی ہے اور انگریزی حکومت کے حق میں بڑے نعرے لگاتی ہے لیکن دیگر سامراجی افسران میں اس واقعہ پر دو مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ ایک انگریز طبقہ یہ سوچ قائم کرتا ہے کہ ایک محکوم برمی کی ہلاکت پر ہاتھی کو گولی نہیں مارنی چایئے تھی۔ دوسرے انگلش طبقے میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ ہاتھی کو گولی ماری جانی چایئے تھی، کیونکہ پولیس کا نمائندہ ہاتھی کو گولی نہ مارتا تو یہ واقعہ سامراجی حکومت کی بدنامی کا باعث بنتا۔
اس واقعہ کے بعد جارج آرویل کا ضمیر جاگ گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کے دل میں اپنی حکومت کے خلاف نفرت بھر گئی تھی اور اس نے نوکری سے استعفی دے دیا تھا، کیونکہ اس نے سوچا کہ ہاتھی کو گولی مارنے اور نہ مارنے کی دونوں صورتوں میں سامراج کے انگریزی طبقے کی سوچ ظلم اور جبر پر مبنی تھی۔ انگریزوں کے پہلے طبقے کا خیال تھا کہ ایک محکوم برمی کی ہلاکت کے بدلے میں برمی کو گولی نہیں ماری جانی چایئے تھی یعنی اس طبقے کے نزدیک ایک زندہ ہاتھی کی قیمت ایک زندہ محکوم برمی انسان سے زیادہ تھی۔ دوسرے انگریز طبقہ کا یہ خیال تھا کہ برمی کی ہلاکت کے برخلاف ہاتھی کو گولی مار دی جانی چایئے تھی ورنہ اس سے سامراجی حکومت کا اپنی محکوم عوام کے سامنے بھرم کمزور پڑتا تھا یعنی ہاتھی کو گولی مارنے اور نہ مارنے کی دونوں صورتوں میں سامراجی سوچ دو بے رحم انتہاؤں پر کھڑی تھی جس نے جارج آرویل کے اندر کی دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اس نے نوکری سے استعفی دے دیا۔
جارج آرویل نے نوکری سے استعفی دینے کے بعد غربت کا شکار ہو گیا کیونکہ جہاں انگریز حکومت نے اس کا نان نفقہ بند کر دیا وہاں عام انگریزوں میں بھی اس کے خلاف نفرت ابھر آئی۔ جارج آرویل نے غربت سہہ لی لیکن سچ لکھنا بند نہیں کیا۔ وہ پیرس کے سستے ہوٹلوں میں سویا، گندے تہہ خانوں میں برتن دھوئے، اور لندن کی سڑکوں پر بھیک مانگی لیکن بعد میں زندگی بھر سچائی کی سربلندی کے لیئے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔
1930ء کی دہائی کے آغاز میں اس کے پاس آرام دہ زندگی گزارنے کے تمام اسباب موجود تھے۔ ایٹن جیسے ممتاز ادارے سے تعلیم یافتہ اور اَیرِک آرتھر بلیئر کے نام سے پیدا ہونے والا یہ شخص چاہتا تو کسی اسکول میں پڑھاتا یا پرسکون انداز میں ادبی مضامین لکھتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے خود کو نچلے طبقے کے گٹر میں جھونک دیا تاکہ دنیا برطانیہ کے اس سامراجی چہرے کو سمجھ سکے جسے اس کی قوم دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
اس تجربے کا نتیجہ 1933ء میں شائع ہونے والی جارج آرویل کی کتاب "ڈاؤن اینڈ آوٹ ان پیرس اینڈ لندن” کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ بھوک، ذلت اور بقا کی ایک کچی مگر سچی داستان تھی جس نے طبقاتی وقار کے جھوٹے تصور کو توڑ کر رکھ دیا۔ آرویل نے مظلوموں کے بارے میں صرف لکھا ہی نہیں بلکہ ان کے درمیان زندگی گزاری۔ اس نے کھانے کے لیے اپنے کپڑے گروی رکھے، غریب خانوں میں بے سہاروں کے ساتھ راتیں گزاریں، اور چکنی پلیٹیں بارہ بارہ گھنٹے دھو کر چند سکے کمائے۔ اس نے لکھا
“تم نے اکثر کہا کہ ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں، تو لو، یہ ہے وہ تباہی۔”
جارج آرویل کی یہ کہانی پاکستان کے گیارہویں اور بارویں جماعت کے کورس میں شامل تھی جس کا خلاصہ آج تک یاد ہے۔ جارج آرویل کا یہ تجربہ اس کے اندر منافقت اور آمرانہ نظام کے خلاف ایسی نفرت بھر گیا جو ساری زندگی اس کے ساتھ رہی۔ یہی آگ بعد میں "اینیمل فارم” کی شکل میں 1984ء میں بھڑکی۔ جب یہ کتاب شائع ہوئی تو اس میں سوویت آمریت پر تنقید نے اسے بائیں اور دائیں دونوں جانب کی مخالفتوں کا نشانہ بنا دیا۔ برطانوی حکومت نے اس پر نگرانی رکھی، سوویت ہمدردوں نے اسے غدار کہا، اور ناشرین اس کی اگلی کتاب پر پابندی کے خوف سے لرز گئے مگر آرویل نے اپنے نظریات میں نرمی آنے دی اور نہ کوئی سمجھوتہ کیا۔ اس نے کہا، “عالمگیر فریب کے دور میں سچ بولنا سب سے بڑی بغاوت ہے۔”
چالیس کی دہائی کے اواخر میں جب جارج آرویل تپ دق سے خون کھانس رہا تھا، تو اس نے "1984ء” نامی کتاب لکھی۔ اس نے یہ کتاب ویران اور سرد اسکاٹش فارم ہاؤس میں بیٹھ کر لکھی۔ اس کی صحت بگڑ گئی مگر اس کی توجہ بھٹکی اور نہ ہی اس کا ضمیر جھکا۔ وہ بخار اور رات کی تاریک سردی میں بھی لکھتا رہا کیونکہ اس کے نزدیک آزادی کا سب سے بڑا دشمن آرام تھا۔
جب 1949ء میں یہ تہلکہ خیز کتاب شائع ہوئی تو اس نے دنیا کو ہلا دیا۔ اس نے انگریزی زبان کو جبر کی نئی اصطلاحات دیں۔ اس نے "بگ برادر”، "تھاٹ” اور "پولیس” لکھی، جس میں یہ کہانی بھی سرفہرست ہے۔ اس کے 6 ماہ بعد وہ صرف 46 برس کی عمر میں چل بسا۔ جارج آرویل مفلس تھا مگر سربلند تھا، وہ مراعات یافتہ شخص جس نے سچ کہنے کے لیے گٹر تک صاف کرنے کو ترجیح دی لیکن سچ کہنا اور لکھنا بند نہیں کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ اصل ہمت شہرت کے لیے بغاوت میں نہیں بلکہ اس سچ کے لیے تکلیف برداشت کرنے میں ہے، اطمینان قلب ایک ایسی دنیا میں ہے، اور اسی کے پاس ہے جو سچائی کی خاطر محروم طبقے کے ساتھ کھڑا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |