ضلع مظفرآباد میں اردو غزل کا منظر نامہ
ڈاکٹر صائمہ خان، اسسٹنٹ پروفیسر اردو، گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج ، گھنڈی پیراں مظفرآباد
آزاد کشمیر کے دس اضلاع میں مظفرآباد منفرد اہمیت کا حامل ضلع ہے۔ دارلحکومت ہونے کی حیثیت سے مضافات کے علاقوں سے لوگوں کی اولین ترجیح اس شہر بے مثال کی مسکنت ہے۔ کاروباری لحاظ سے، سیاسی اعتبار سے، ادبی حوالے سے اس شہر مظفرآباد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔مظفرآباد کی سیاسی صورت حال ہمیشہ سے بہت اہم رہی لیکن اس کی ادبی فضا بھی آغاز سے پر بہار ہے۔ یہاں الطاف قریشی، صابر آفاقی، آزر عسکری، محمد خاں نشتر، لطیف خان موزوں، زاہد کلیم، خاوردھیانوی سمیت کئی اہل قلم نےاپنے فن سے اہل علم و فن کو چونکا دیا۔ان اہلِ قلم نے حفیظ جالندھری اور جوش ملیح آبادی جیسے شعرا کو متاثر کیا۔تحقیق کے میدان میں صابر آفاقی اور افتخار مغل اس شہر کی پہچان بنے تو نظم میں زاہد کلیم اور یامین نے شہرت بخشی۔ مضامین نویسی میں اور تبصرہ نگاری میں مشتاق خان قلم چلا تو ڈاکٹر عبدالکریم نے بھی میدان مارا۔ افسانے میں وقار ملک اور کہکشاں ملک سمیت شوکت اقبال تک کئی اہم نام دکھائی دیتے ہیں۔ان تمام سے قطع نظر میرا موضوع بحث مظفرآباد میں اردو غزل کا منظر نامہ ہے۔
لمحۂ موجود مظفرآباد میں غزل کہنے والے کئی شاعر موجود ہیں۔ احمد عطا اللہ اپنے جداگانہ اسلوب کی بنا پر ملکی و عالمی محافل میں خوب سراہے جاتے ہیں۔ اعجاز نعمانی کا طمطراق لب و لہجہ ان کی انفرادیت ہے۔ واحد اعجاز میر کے موضوعات ان کی پہچان ہیں ۔ ڈاکٹر آمنہ بہار کا نسوانی لب و لہجہ انھیں شعرائے آزاد کشمیر میں نمایاں کرتا ہے۔علی عارفین کی شاعری میں حزنیہ رنگ جھلکتا ہے۔فرہاد احمد فگار کے ہاں ترقی پسندانہ عناصر ملتے ہیں۔ اسرار احمد اپنے مزاحمتی رنگ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ظہور منہاس کی شاعری امکانات واضح ہیں
۔ ان شعرا کے علاوہ چند نو آموز شاعر بھی اپنے قلم سے اپنے ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔
مظفرآباد کی اردو غزل میں اس وقت سب سے نمایاں نام احمد عطا اللہ کا ہے۔ احمد عطا اللہ کی غزل پر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی تصنیف ” احمد عطا اللہ کی غزل گوئی” منصۂ شہود پر آ کر داد پا چکی ہے۔ احمد عطا اللہ نے لاہور شہر میں آنکھ کھولی۔ اپنی تعلیم لاہور میں مکمل کی تاہم 1991ء میں آزاد کشمیر کے شعبۂ تعلم میں لیکچرر اردو تعینات ہوئے۔ مابعد پبلک سروس کا امتحان پاس کیا اور مختلف اعلا عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ تادمِ تحریر آزاد کشمیر کے محکمہ سماجی بہبود کے سیکرٹری کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی سنبھالے ہوئے ہیں۔ آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران میں شعر و ادب سے رشتہ جوڑا جو ہنوز قائم و دائم ہے۔ احمد عطا اللہ کا پہلا شعری مجموعہ "بھول جانا کسی کے بس میں نہیں”1999ء میں شائع ہوا۔ دوسرا شعری مجموعہ ” ہمیشہ” 2011ء میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوا۔ ما بعد ان دونوں کتابوں کا یک جا کر کے 2015ء میں والہانہ کے نام سے شائع کیا۔ احمد عطا اللہ آزاد کشمیر کے مقبول اور صاحبِ اُسلوب شاعر ہیں۔انھوں نے اپنی شاعری میں جنس، گاؤں،لڑکی، پنگھٹ جیسے مضامین کو باندھا ہے۔احمد عطا اللہ اول و آخر غزل کے شاعر ہیں۔ غزل کے لیے ان کا یہ مشہور شعر دیکھیں:
جب غزل پھر رہی تھی سر کھولے
یہ ہمیں تھے جنھوں نے در کھولے
اسی طرح جنسی موضوعات پر ان کے اشعار ان کی پہچان بنے۔
روز کے مانوس بستر کی طرف جاتے ہوئے
موت آتی ہے میسر کی طرف جاتے ہوئے
آئی شبِ وصال تو منہ ڈھک کے پڑ رہے
دن بھر جو گفت گو میں بہت دور تک گئے
میرا اس کا ہے عطا سچی ہوس کا رشتہ
میں نے فی الحال اسے عشق بتایا ہوا ہے
احمد عطا اللہ نےگاؤں، لڑکی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے مثالیں دیکھیں:
معصوم سی لڑکی نہ محبت میں لگا دل
واپس تو اسے سینے پرونے میں لگا دے
بیس گاؤں میں تیری پوجا ہو
چند شہروں میں تو خدا لگ جائے
سر پھری ہے وہ بیس گاؤں کی
لال آندھی کو روک لیں گے ہم
عورتیں کیا عجیب مسیحا ہیں
زخم بھرتے ہیں بات کرنے سے
احمد عطا اللہ نے بعض بہت اچھوتے خیالات کو شعری جامہ پہنایا جیسا کہ یہ شعر دیکھیں۔
میں نے اپنے ہاتھ پہ تیرا نام لکھا
اور دنیا میں تختی کی ایجاد ہوئی
مظفرآباد کے موجود منظر نامے میں احمد عطا اللہ کی شاعری بہت بلند سطح پر ہے۔ ان کے اچھوتے مضامین نے انھیں دیگر شعرا سے ممتاز کر دیا ہے۔
اعجاز نعمانی مظفرآباد کے شعری منظر نامے میں اپنی جان دار پڑھت اور خوب صورت اشعار کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی کتاب”کہے بغیر” حال ہی میں شائع ہوئی اور ادبی حلقوں میں مقبول ٹھہری۔ اعجاز نعمانی کی شاعری میں حسن و عشق کے موضوعات واضح دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کے ہاں خوب صورت مضامین کی ایک دھارا بہتی ہوئی ملتی ہے۔ اردو میں ایم فل کی سطح کی ڈگری شمس الرحمن فاروقی جیسے نقاد کی تنقید جیسے مشکل موضوع پر مقالہ لکھ کر حاصل کی۔ شعبہ تعلیم کالجز میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ادب کے لیے اپنا بیش تر وقت اور سرمایہ خرچ کرنے والے اعجاز نعمانی کالج میگزین” دومیل” کی ادارت کا بیڑا بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔
اعجاز نعمانی بھی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ ان کی غزل میں حب الوطنی ، مروت، درویشی اور محبت کے عناصر کثرت سے ملتے ہیں۔ اعجاز نعمانی کی یہ شعر ان کی شناخت ہے۔
حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ
دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ
اس کے علاوہ ان کی غزل کے اشعار کئی گلوکاروں نے گائے بھی اور زبان زدِ عام ہیں۔اعجاز نعمانی کے یہ زندہ و جاوید شعر ملاحظہ فرمائیں:
خیبر، سندھ، پنجاب، بلوچستان میں رہتا ہوں
میں کشمیر ہوں سارے پاکستان میں رہتا ہوں
پریوں والی جھیل مری آنکھوں میں بہتی ہے
میں روگی شہزادہ ہوں ناران میں رہتا ہوں
میں سمجھتی ہوں اس شعر میں جھیل کا بہنا اگرچہ قاعدے کے اعتبار سے درست نہیں کہ جھیل ٹھہری ہوتی ہے اور ٹھہرنے کا استعارہ ہے۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ اعجاز نعمانی جیسے زیرک شاعر نے اسے بہترین انداز میں استعمال کیا ہے۔ ذیل میں اعجاز نعمانی کی شعر سے کچھ عمدہ نمونے دیکھیں:
مرے بزرگوں کا پیشہ پیمبرانہ تھا
خدا کا شکر ہے میں بھی پڑھانے والا ہوں
غمِ کشمیر ہے جو میرے خوں میں
مری پہچان ہوتا جا رہا ہے
بڑا بننا کوئی مشکل نہیں ہے
ذرا سا دل بڑا کرنا پڑے گا
اور تصوف کا حامل یہ شعر دیکھیں:
ہم وہ فقیر لوگ ہیں اللہ کے حکم سے
دیوار سے کہیں تو یہ دیوار چل پڑے
میں نے ان کی کتاب کہے بغیر کا مطالعہ کیا۔ یہ کتاب اول تا آخر انتخاب ہی لگتی ہے۔ میرے شہر کے اس شاعر کو اللہ نے قلم کی جو قدرت عطا کی ہےوہ ان کے کلام میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر آمنہ بہار دارالحکومت کی نام ور شاعرہ ہیں۔ مظفرآباد کی کوئی بھی ادبی انجمن سیدہ آمنہ بہار کے بنا نامکمل ہوتی ہے۔ الطاف قریشی مرحوم کی شاعری پر ایم فل کی سطح کا مقالہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری قرطبہ یونی ورسٹی پشاور سے اردو شاعری میں کشمیر کے موضوع پر مقالہ لکھ کر مکمل کی۔ آمنہ بہار کا مجموعہ شاعری” چناروں کی آگ” 1989ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس وقت یہ آزاد کشمیر کی پہلی شاعرہ تھیں جن کا مجموعہ زیورِ طبع سے آراستہ ہوا۔ یوں ڈاکٹر آمنہ بہار کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی پہلی صاحبِ کتاب شاعرہ ہیں۔ ان کی شاعری میں نسوانی رنگ کے ساتھ ساتھ محبت اور وطن کے زمزمے نمایاں ہیں۔ وہ محبت کے رموز سے آشنا ہیں ۔ یہ بات بھی ان کے پیشِ نظر ہے کہ وہ اولادِ علی سے ہیں اور ادراک اور شعور کی آنکھ رکھتی ہیں۔ اس تناظر میں ان کا یہ شعر مثالی ہے:
ہم زمیں زاد ستاروں کی خبر رکھتے ہیں
ہر گھڑی ساعتِ ادراک نہیں بھی ہوتی
ڈاکٹر آمنہ بہار کے کلام میں کس قدرت ندرت اور خوب صورتی ہے دیکھیے:
میں خود سے بھی بچھڑتی جا رہی ہوں
یہ کیسےموڑ پہ تو آ ملا ہے
رستہ رستہ پھول بچھائے جا سکتے ہیں
وہ آئے تو خواب سجائے جا سکتے ہیں
اگرچہ ڈاکٹر آمنہ بہار نے ایک علمی و ادبی گھرانے میں جنم لیا تاہم یہ بھی سچ ہے کہ انھوں نے اپنی مسلسل ریاضت اور محنت سے ادبی دنیا میں شناخت بنائی۔آمنہ بہار کے شاعری میں موضوعات کی وسعت اور مضامین کا تنوع بہ درجۂ اتم موجود ہے۔ ان کے کلام سے یہ اشعار دیکھیں۔
قسطوں کی ہم موت مرے ہیں
قطرہ قطرہ زہر پیا ہے
حصارِ چشمِ محبت ترا خدا حافظ
نہیں ہے تجھ سے شکایت ترا خدا حافظ
یہ راج دھانی میرے دل کی اب بھی خالی ہے
نہ کر سکا تو حکومت ترا خدا حافظ
اپنی جنگیں ہارنے کے اور بھی اسباب تھے
زنگ تلواروں پہ ہو تو پھر سپاہی کیا کریں
کبھی کبھی تو البتہ ہیں نارسا آنکھیں
سوادِ ہجر کے موسم میں دید ہوتی ہے
آزاد کشمیر کی پروین شاکر کہلانے والی اس شاعرہ کے ہاں مذہبی رنگ ، عشقیہ عناصر اور وطن کی محبت کا وفور جا بہ جا دکھائی دیتا ہے۔
مظفرآباد کے شعری منظر نامے میں واحد اعجاز میر کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ایم اے انگریزی اور ایم اے اردو کی تعلیم کے بعد اب آزاد کشمیر یونی ورسٹی سے ایم فل کی ڈگری مکمل کی۔ واحد اعجاز میر کا پہلا مجموعہ ” راستہ مت بدل” 2004ء میں جب چھپا تو آپ واحد اعجاز ہمدانی تھے ۔بعد میں نام میں تھوڑی تبدیلی کر کے واحد اعجاز میر ہو گئے۔ آپ کے مداحین آپ کو میرِ کشمیر کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ 2015ء میں دوسرا مجموعہ "آواگون” شائع ہوا جو آزاد کشمیر کے ادب میں ایک منفرد چیز ہے۔ واحد اعجاز میر کی شاعری میں جو ذائقہ اور تازگی ہے وہ دوسرے کسی شاعر کو نصیب نہ ہو سکی۔ نایاب زمینوں میں انوکھی ردیفیں نکال کر آپ نے آزاد کشمیر کے ادب کو جتنا ثروت مند کیا وہ آپ ہی سے ممکن تھا۔ واحد اعجاز میر اول تا آخر شاعر ہیں۔ آپ کا چلنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا ،ہنسنا بولنا تمام ہی شاعری ہے۔ ان کا یہ شعر زبانِ خلق پر عام ہے۔
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
واحد اعجاز کی انا پرستی اور حوالہ ان کی شاعری میں بھرپور طور پر ملتے ہیں۔
گھمنڈ ٹوٹنے لگتا ہے رات کا واحد
کوئی جگنو جو ذرا سا ٹمٹمانے لگتا ہے
و
غزل کی دیوی اس شاعر پر ایسے مہربان ہے کہ جس موضوع پر بھی ہاتھ ڈالا ایسی گرفت کہ قاری انگشت بہ دنداں رہ گیا۔ شعر دیکھیں:
رندو پرہیز گار زندہ باد
جس پہ جو آشکارزندہ باد
اتنا سوچیں گے اپنے بارے میں
خود کو انسان سے خدا کریں گے
واحد اعجازمیر کے ہاں محبت کے جذبات ، سوز و گداز،انا پرستی، سہل ممتنع، ندرت، جدت، سائنس، وطن الغرض ہر ہررنگ بکھرا ہوا ہے۔ شعری روایت سے جڑنے کےباوجود جدت کی راہیں نکالنے والے واحد اعجاز میر اپنی شاعری میں زندہ رہیں گے۔
چھوڑ دیں گے یہ سائنسی دنیا
خود سے ٹیکنالوجی جدا کریں گے
یار دریا! بڑے گھمنڈ میں ہو
تم سمندر کو کاٹ دو گے کیا
ضلع مظفرآباد کے شعری ادب کی بات کریں تو نوجوان شاعر اور محقق ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ڈاکٹرفرہاد احمد فگار شعبہ تعلیم کالجز میں لیکچرر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ایم اے اور ایم فل کی سندیں نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد سے حاصل کیں۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے اسی ادارے سے "اردو میں املا اور تلفظ کے بنیادی مباحث” کے موضوع پر تحقیقی مقالہ ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی لکھا۔ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار گورنمنٹ کالج میرپورہ کے رسالے "بساط” کے مدیرِ اعلا اور گرین ایرا ہائی اسکول مظفرآباد کے رسالے” کاوش” کے اعزازی مدیرِ اعلا کی زمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ ضلع نیلم کی تاریخ کا پہلا کالج میگزین آپ کی کاوش سے منظرِ عام پر آیا۔ڈاکٹر فگار کا اصل میدان تو تحقیق ہے تاہم غزل میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ شہدائے اسلام کے بارے میں ان کا یہ شعر خاصا مقبول ہے:
شمعِ اسلام جس سے فروزاں ہوئی
وہ لہو مصطفیٰ کے گھرانے کا ہے
فرہاد احمد فگار کی شاعری میں ترقی پسندانہ عناصر جا بہ جا ملتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت کے قصے اور زمانے کی عیاری بھی دیکھی جا سکتی ہے۔شعر دیکھیں:
مزدوروں کے نام پہ اب کے بھی
کچھ لوگوں نے صرف سیاست کی
اور ترقی پسندی کا حامل یہ شعر:
وہ جو مزدور بناتے ہیں محل اوروں کے
ان کا اپنا کوئی گھر بار نہیں دیکھا ہے
اہلِ ہوس کا نوحہ اس شعر میں دیکھا جا سکتا ہے:
نظر آتے ہیں پجاری تو بہت دولت کے
کوئی الفت کا طلب گار نہیں دیکھا ہے
فرہاد احمد فگارکا شعری سفر زیادہ طویل تو نہیں تاہم روشن ضرور ہے۔ان کی اہلیت اور صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔ فرہاد احمد فگار کے عزیز دوست حسن ظہیر راجا ان کو یوں تحسین دیتے ہیں:
میں نے دنیا سے کچھ نہیں لینا
تم مجھے بے شمار ہو بھائی
فرہاد احمد فگار محقق ہیں اور بقائے اردو کی ضمانت ہیں۔ محقق ہیں اور تحقیق ان کا شوق ہے۔ان کی شائع ہونے والی تصانیف” احمد عطا اللہ کی غزل گوئی” اور ” بزمِ فگار” ان کی تحقیقی کاوشیں ہیں جب کہ ڈاکٹر افتخار مغل کی کتاب ” آزاد کشمیر میں اردو شاعری” کو تہذیب و اہتمام کے ساتھ شائع کروانا بھی فرہاد احمد فگار کا کارنامہ ہے۔ ان کی شاعری میں تحقیق کا موضوع دیکھیں۔
تحقیق کس جگہ ہوئی اور کس جگہ نہیں
اس باب میں بھی تھوڑی تحقیق ہو نہ جائے
بیٹیوں کی محبت سے لبریز یہ شعر دیکھیں:
اداسیوں سے اٹے ہوں گے سب در و دیوار
جو آنگنوں میں ہمارے نہ بیٹیاں بولیں
فرہاد احمد فگار اپنی دھن میں مگن رہنے والے تخلیق کار ہیں۔ ان کے حاسدین اور مخالفین کی تعداد بھی ایسی ہی ہے جو ہر کام یاب اور کام کرنے والے شخص کی ہوتی ہے۔یہی چیز ان کی شاعری میں دیکھیں:
پیٹھ پیچھے سے وار ہوتے رہے
اب ذرا سامنا بھی ہو جائے
مشکلیں آ رہی ہیں تیر بہ دست
دوست شانہ بہ شانہ ہو جائیں
فرہاداحمد فگار کی شاعری میں انسانیت کا درد، محبت کی چاشنی ،جذبات کا ساگر، اور بھائی چارے کے مضامین دیکھے جا سکتے ہیں۔ اپنے تخلص کو کس مہارت سے استعمال کیا ہے ملاحظہ کریں:
جا چکا چھوڑ کر مجھے وہ فگار
سب سے جس کے لیے پرایا ہوا
یہاں فگار کو بہ طورتخلص اور بہ معنی زخمی کس اچھوتے انداز میں استعمال کیا ہے۔
اسرار احمد مظفرآباد کے شعری منظر نامے میں اپنے دبنگ لہجے اور مزاحمتی عناصر کی وجہ سے اسم رکھتے ہیں۔ تاحال ان کا مجموعہ شائع نہیں ہوا البتہ امید ہے کہ جلد وہ صاحب کتاب ہوجائیں گے۔ان کی شاعری وطن عزیز کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور وطن کی محبتوں سے لبریز ہے۔ باغیانہ روش ان کی شاعری کا نمایاں پہلو ہے۔منفرد موضوعات اسرار احمد کی پہچان ہیں۔ ان کا یہ خوب صورت شعر پڑھیے:
تلوار ، محافظ نہ فصیلیں ہیں ،نہ قلعہ
ہم لوگ خدا ساتھ لیے گھوم رہے ہیں
ان کی شاعری میں کشمیر جا بہ جا نظر آتا ہے ۔تلیمحات کا استعمال کس خوب صورتی سے کرتے ہیں دیکھیے:
یاں کوئی زلیخا ہے نہ یوسف سا حسیں
کشمیر نہیں مصر کا بازار خبردار
اسرار احمد کے ہاں تراکیب، تلمیحات، منظر کشی ، ندرت خیال اور شعری محاسن درجہ انتہا پر ملتے ہیں:
جو مزا نیلم کنارے بیٹھ کر آیا ہمیں
وہ کب ملا لاہور ،پنڈی اور پشاور دیکھ کر
اسرار احمد کے وطن عزیز کی محبتوں میں ملفوف یہ اشعار دیکھیں:
مجھے پابند سلاسل یا کہ زنجیر کرو
میرےاجداد کا حصہ میری جاگیر کرو
میں کئی چین کئی پاک و ہند میں ہوں
میرے اعضا کو سمیٹو، مجھے کشمیر کرو
اسرار احمد مکمل طور پر شاعر ہیں۔وہ سچے جذبات کے امیں،نازک خیالات کو الفاظ کی گویائی دینے والے باکمال شاعر ہیں۔قلم کے استعمال سے خوب واقف ہیں۔ وہ اپنے قلم کو اس چابک دستی سے استعمال میں لاتے ہیں کہ قاری ورطۂ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ان کی شاعری میں سے یہ شعری انتخاب ملاحظہ کیجے:
لڑکھڑاتا ہوا میں ڈھونڈ رہا ہوں جس کو
میرا حامی و مددگار نشے میں دھت ہے
ہر بارتسلط کےغلامانہ گنہ سے
انکار ہے، انکار ہے،انکار، خبردار
وطن کے ساتھ وفا کو رواج دیتے ہوئے
سیاہ شب کو لہو کا خراج دیتے ہوئے
اُسے نہ خوف نہ حیرت نہ کپکپاہٹ تھی
وہ مطمئن تھا بلا کا، سر آج دیتے ہوئے
اسرار احمد درویش اور آزادمنش کے ایسے شاعر ہیں جن کے کلام میں کہیں کہیں مزاحمتی رنگ اتنا غالب آ جاتا ہے کہ نعرہ بازی کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔
ظہور منہاس کا تعلق ضلع مظفرآباد کے ان نوجوان شعرا سے ہے جن سے اردو نظم و غزل کی خوب خوب آبیاری ہو رہی ہے۔ ضلع مظفرآباد کی تحصیل نصیر آباد کے گاؤں بھیڑی سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان خاصا باصلاحیت ہے ۔ظہور منہاس فارسی، عربی،ہندکو اور انگریزی ادب کا مطالعہ بھی بہ کثرت کرتا ہے۔ اس بات کا غماز اس کا کلام اور انداز ہے۔ آزار کشمیر میں مشاعروں کو رونق بخشنے والا ظہور منہاس نظم و غزل ہو دو اصناف پر دسترس رکھتا ہے۔نہایت سادہ الفاظ میں خوب صورت مضامین باندھنا ظہور کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شعر دیکھیں:
میر،کشمیر اور میں خود بھی
درد کے مستند حوالے ہیں
چمکیلے شعر کہنے والا شرمیلا شاعر ظہور منہاس ایسی مشکل بحروں میں بہترین اشعار نکالتا ہے کہ بڑے ماہر قلم کار حیراں رہ جاتے ہیں جیسا کہ یہ شعر:
وہ تھک گئی تھی بھیڑ میں چلتے ہوئے ظہور
اُس کے بدن پہ ان گنت آنکھوں کا بوجھ تھا
ظہور منہاس امکانات کا ایساشاعر ہے جو شعر پر بھرپور محنت کر کے اس میں ایسے رنگ بھرتا ہے جیسے کہ کوئی رنگین تتلی کسی کاغذ پر آن بیٹھے۔ ان کے کلام سے چند شعر دیکھیں:
کوئی بھی حل نہیں اداسی کا
مجھ سے کمرے نے بارہا پوچھا
کمرے کی دیوار پہ لڑکی کی تصویر
بہکی بہکی پاگل لڑکے کی آواز
اس قدر قہقے ہیں دنیا میں
شرم آتی ہے مجھ کو روتے ہوئے
ایک میں ہی کم سخن ہوں بھیڑ میں
میر کی سی ہستیاں ہیں چار سُو
اس مختصر مضمون میں ضلع مظفرآباد کے شعری منظر نامے کا احاطہ کیا گیا۔ اس میں ان شعرا کو قصداً شامل نہیں کیا گیا جو نیلم یا جہلم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اعجاز نعمانی اور ڈاکٹر آمنہ بہار کا اگرچہ آبائی تعلق ضلع ہٹیاں اور نیلم سے ہے تاہم گزشتہ کئی دہائیوں سے وہ مظفرآباد میں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ مضمون ایک جائزہ ہے ممکن ہے اس میں کچھ نام رہ بھی گئی ہوں۔اس سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ رہ جانے والے نام کم اہم یا شعرا کی فہرست میں شامل نہیں۔یہ صرف ایک تاثراتی مضمون ہے جس سے مظفرآباد میں اردو غزل کا منظر نامہ سامنے لانا مقصود ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر اردو
گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج
گھنڈی پیراں مظفرآباد
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |