آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک
پوری دنیا کی نظریں ایران کے کنٹرول میں موجود آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں۔ 33 کلومیٹر کی اس تنگ آبی گزرگاہ کی بندش سے دنیا کی معیشت پر پڑنے والے اثرات اور نتائج کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف چند دنوں کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں سو ڈالر فی بیرل سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں سے روزانہ دنیا کے استعمال کا 20 فیصد سے زیادہ تیل گزرتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی عالمی منڈی بے یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔ تازہ ترین تجارتی سیشن کے دوران عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح امریکی معیار کے خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول کی اوسط قومی قیمت 7 سینٹ اضافے کے بعد 3.79 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ خلیج میں جاری اس جنگ میں آتی شدت اور اس کے عالمی معیشت پر پڑتے اثرات کو دیکھ کر دنیا سوچ میں پڑ گئی ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ عالمی سیاسی اور معاشی تجزیہ کار بھی حیران و ششدر ہیں کہ آخر اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا، جنگ کب بند ہو گی اور اس کے اثرات سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا۔
ایران آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور وہ صرف انہی ممالک کے آئل ٹینکروں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے جن سے اس کے اچھے تعلقات ہیں یا جن سے وہ اپنی پیشگی شرائط منوا لیتا ہے۔ ہرمز کی بندش کے بعد ابھی تک صرف پاکستان اور فرانس کو وہاں سے تیل بردار ٹینکرز گزارنے کی اجازت ملی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی اس جنگی چال سے کافی گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ کو ایران کے قبضے سے کیسے چھڑایا جائے۔ اب امریکہ جنگ کی فتح اور شکست کا انحصار کافی حد تک آبنائے ہرمز کو ایرانی قبضے سے چھڑانے پر کر رہا ہے۔
گزشتہ دنوں امریکی صدر نے اپنے یورپی اتحادیوں سے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑانے کے لیئے بحری جہاز بھیجنے کی درخواست کی تھی جس میں انہیں کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ ایران کی طرف سے اس نئی افتاد کی وجہ سے کافی جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آئے اور یورپی اور نیٹو ممالک کے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے ہی چین اور روس سے بھی التجا کر ڈالی کہ وہ ہرمز کو کھلوانے اور امریکہ کی مدد کرنے کے لیئے خلیج فارس کے پانیوں میں اپنے بحری لڑاکا بیڑے روانہ کریں، اور وہاں سے بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ امریکہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے پوری دنیا سے انکار سننا پڑے گا، اور ساتھ میں ذلت بھی اٹھانی پڑے گی۔ دنیا کی بڑی طاقتوں برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، سپین، آسٹریلیا، کنیڈا، اٹلی، چین اور روس وغیرہ نے صاف انکار کر دیا، بلکہ امریکہ جو آج تک خود کو بلاشرکت غیرے سپر پاور سمجھتا آ رہا تھا کو ہر ایک نے "ہرگز نہیں” (Absolutely Not) کہہ کر رسوا کیا۔ امریکہ کو بڑے پیمانے پر ایسی رسوائی پہلی بار دیکھنا پڑی ہے۔
امریکہ ایک عرصہ تک یورپین اتحادیوں کی پشت پناہی سے دنیا پر دھونس جماتا رہا مگر آج یکے بعد دیگرے انہوں نے نہ صرف امریکہ سے منہ موڑ لیا ہے بلکہ اسے دنیا بھر کے سامنے ذلیل بھی کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا، "آبنائے ہرمز کو کھلوانا آسان نہیں، اس کے لیئے ایران سے معاہدہ کرنا ہو گا۔” جرمنی نے ایران جنگ میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا اور جرمن وزیر دفاع نے بیان جاری کیا کہ، "یہ ہماری جنگ ہے نہ ہی ہم نے اسے شروع کیا۔ امریکی دباو’ کے باوجود جرمنی اپنے بحری بیڑے مشرق وسطی نہیں بھیجے گا۔” فرانسیسی جنرل یاکوف لیف نے امریکہ کو ٹکا سا جواب دیا بلکہ جنگ میں ممکنہ امریکی شکست کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ، "امریکہ ہم سے مدد مانگتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اس کی ناکامیوں کی قیمت بھی ادا کریں۔ آج ٹرمپ کے اتحاد میں شامل ہونا ایسا ہے جیسے ٹائی ٹینک کے آئس برگ سے ٹکرانے کے اگلی شام اس پر ڈنر اور رقص کے ٹکٹ خریدنا۔”
آبنائے ہرمز کا ایران سے قبضہ چھڑانا ایران، اسرائیل امریکہ جنگ میں ایک اہم ترین موڑ یعنی "ٹریننگ پوائنٹ” (Turning Point) ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ جنگ کون جیتے گا۔یورپی دنیا اس جنگ میں واضح طور پر امریکہ کا ساتھ چھوڑ چکی ہے جس کے بعد امریکی صدر اسے بدعائیں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو کہا، "تمہارے ساتھ بہت برا ہو گا۔”
برطانیہ کے وزیراعظم نے تو ٹرمپ کو باقاعدہ بے عزت کیا تھا جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا، "ہم یاد رکھیں گے۔” امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے بحری جنگی بیڑے مانگے تھے جس پر سب نے انکار کر دیا۔ امریکہ کے لیئے وقت بدل چکا ہے۔ یہ جنگ کا کمبل امریکی صدر ٹرمپ نے کسی سے مشاورت کیئے بغیر صرف نیتن یاہو کی شہہ میں آ کر خود پر اوڑھا تھا جو اب اس کے گلے پڑ گیا ہے۔
اس جنگ کو امریکہ نے چھیڑا اس کا انجام بھی امریکہ ہی بھگتے گا۔ امریکی اڈے جو کبھی دنیا میں خوف کی علامت ہوتے تھے اب ایک ایک کر کے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی ملک اپنی سرزمین امریکہ کو دینے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ اتحادی ممالک میں امریکی سفارت خانے بند ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے صرف وہ گزر سکتا ہے جو جنگ مخالف ہو یعنی امریکہ اسرائیل مخالف ہو یا جسے ایران اجازت دے۔
امریکہ نے اسرائیل کے بہکاوے میں آ کر بلاوجہ ایران پر جنگ مسلط کی اور اپنے سارے مخلص اتحادی کھو دیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری بیڑے نہ ملنے کی ناکامی کے بعد مایوسی کے عالم، اور خود کو تسلی دینے کے لیئے ایک بیان میں کہا ہے، "جن کے آبنائے ہرمز میں جہاز پھنسے ہیں وہ خود نکالیں، امریکہ کے پاس تیل کی کوئی کمی نہیں ہے۔” ایسا لگتا ہے کہ امریکی سپریمیسی کا ٹائی ٹانک آہستہ آہستہ آبنائے ہرمز میں ڈوب رہا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |