مقبول ذکی مقبول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاکہ
خاکہ نگار :
پروفیسر عاصم بخاری ( میانوالی )
منکیرہ ، بھکر سے ہیں ۔
کبھی ان کی پہچان منکیرہ ، بھکر سے تھی ۔ آج کل اپنی ادبی محنت لگن اور ریاضت کے بل بوتے پر منکیرہ ، بھکر کی دُنیائے ادب میں شناخت اور پہچان ہیں ۔ صحرائی بھی ہیں اور کربلائی بھی ۔ اہل ِبیت علیہ السّلام سے محبّت نہیں مودّت رکھتے ہیں ۔
رنگت سانولی ، صحرائی ہے ۔
صحراؤں ، ریتلے علاقوں آندھیوں اور مشکلوں میں ہنس کے جینے کا ہنر رکھتے ہیں ۔
قد ۔ نکلتا ہوا ۔
صاحبِ ریش ہیں ۔ پابندِ صوم و صلات ہیں ۔ تعلیم میں بڑی ڈگریاں تو نہیں رکھتے البتہ خالقِ لوح و قلم نے انہیں تہذیب اور شعور کی دولت سے مالا مال کیا ہے ۔ حق و باطل اور خیر و شر کی تمیز ضرور رکھتے ہیں ۔
سیدھا سادہ ہے مگر اتنا بھی سادہ نہیں کہ لفظ اور طباعت و اشاعت کی اہمیت و افادیت سے آشنا نہ ہو ۔
آئے روز مقامی سے لے کر بی الاقوامی اخبارات رسائل و جرائد میں چھپنا اس کے بایاں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ ان تھک اور پُر عزم ایسا کہ ملک کے کونے کونے میں منعقد ہونے والی ادبی تقاریب اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں ۔۔۔۔
عمر چالیس کے لگ بھگ ہے ۔ سر کے بال تیزی سے جھڑنے کے سبب فارغ البال ہیں ۔ اور اس فارغ البالی کو چھپانے اور جوان دکھائی دینے کی بھر پور ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ناوسائلی اور طوفانی مہنگائی ان کی راہ حائل نہیں ہو سکی ۔ ہمت و حوصلے ، عزم اور استقلال کا استعارہ ہیں ۔
صحت کے شعبہ سے وابستہ ہونے کے ناتے صحت کی اہمیت سے ہی آشنا نہیں لفظی صحت کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں ۔
نظم و نثر ، اُردُو سرائیکی دونوں زبانوں میں خوب طبع آزمائی کرتے ہیں ۔
نِت نئے نظمی و نثری تجربے ان کا مرغوب مشعلہ ہیں ۔ مصاحبہ نگاری کے میدان میں انھوں نے اپنا آپ منوایا ہے ۔بھکر کی ثقافت و روایت اور اپنی مٹی سے محبّت کا اظہار ٫٫ یہ میرا بھکر ،، میں انھوں نے منفرد اور اچھوتے انداز میں کرکے مقامیت میں بازی لے گئے ہیں ۔ محاکاتی انداز میں بھکر کی تاریخ چلتی پھرتی لفظی تصویریں پیش کر کے بھکر کے شعرا میں منفرد و ممتاز مقام حاصل کر لیا ہے ۔ سالانہ ادبی جائزہ ان کا معمول اور امتیاز ہے ۔ بھکر کی ادبی تاریخ مرتب کر رہے ہیں ۔
مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ ( بھکر ) کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رواں ہے دواں ہے یہ مقبول ذکی
وہ ان تھک جواں ہے یہ مقبول ذکی
۔۔۔
جسے راس آئی ہے محنت شعاری
ادب کا جہاں ہے یہ مقبول ذکی
۔۔۔۔۔
مسائل ہی بن جاتے جس کے وسائل
اک ایسا نشاں ہے یہ مقبول ذکی
۔۔۔۔۔
بڑھاتا ادیبوں کے جو حوصلے ہے
وہ ہمت نشاں ہے یہ مقبول ذکی
۔۔۔۔۔
علی شہ نے پودا لگایا جو تھل میں
وہی گلستاں ہے یہ مقبول ذکی
۔۔۔۔۔۔
جسے پڑھ کے بڑھتی ہے ہمت سبھی کی
وہی داستاں ہے یہ مقبول ذکی
۔۔۔۔
ارادے کا پکا ہے ایسا بخاری
کہ گویا چٹاں ہے یہ مقبول ذکی
۔۔۔۔
فضا راس آئی جسے تھل کی عاصم
وہی خوش بیاں ہے یہ مقبول ذکی

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |