سید حُب دار قائم ” اٹک”
خاکہ نگار پروفیسر عاصم بخاری میانوالی)
مُرشد۔۔۔۔اٹک سے ہیں۔
ایف ایم 9.4 ریڈیو پاکستان اٹک کی اکثر و بیشتر ادبی تقاریب کی زینت بہ طور مہمان ادا کر چکے ۔۔۔۔۔
ادبی مجلہ ” میرے لفظ ” کے مدیر۔۔۔ اور مظہر حسین ( روز نامہ کھٹڑ نیوز اٹک) کے استاد ہیں۔
نوجوانی میں تو مرشد "سَلِم اینڈ سمارٹ” تھے اگرچہ ہم اس بات کے چشم دید گواہ تو نہیں البتہ شاہ صاحب کی عالم ِ نوجوانی کی تصاویر شاہد ہیں۔
میانہ قد ، گوری رنگت ، جلالی آنکھ ، بھاری وجود ، بارعب آواز۔۔۔۔
مشرقی اور قومی لباس میں ہمیشہ ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔ انگریزی لباس شاید کبھی ملازمت کی مجبوریوں کے سبب پہنا ہو تو۔۔۔عالم ِ شباب میں شان دار جان دار اور یاد گار کرکٹر بھی رہے۔جس سے کئی ناقابل ِ فراموش واقعات بھی وابستہ ہیں۔
عمر تو ان کی اُنسٹھ سال ہے بزرگ دکھائی دیتے ہیں ۔ زمانہ سازی ان کے بس کا روگ نہیں
صاف گوئی اور برملا اظہار ان کی خوبی ہے یا خامی خاکسار کسی نتیجے پر نہیں پہنچا لہذا یہ معاملہ قاری پر چھوڑتے ہیں ۔جھڑتے ہوئے سفید بال ، چھوٹی داڑھی۔۔۔۔
بالوں اور داڑھی کو خضاب کا تکلف شاید ڈھلتی عمر میں کبھی کیا ہو ہم نے تو ایک مدت سے نہیں دیکھا ، توجیہ یہ پیش کرتے ہیں کہ
شاہ جی ! "میں دھوکا دہی کا قائل نہیں ہوں۔” خواہ وہ دھوکہ دہی اپنے لیے ہو ، یا دوسروں کے لیے۔۔۔ جب بوڑھے ہو گئے سو بوڑھے ہو گئے۔کالکوں سے کیا جوان ہونا۔
اپنے مقامی گھیبی لہجے میں پورے اعتماد سے بات کرتے ہیں۔ قومی زبان میں بھی اگر کلام لازم ٹھہرے تو فصیح و بلیغ انداز میں بولتے ہیں۔
ہمہ جہت ادبی شخصیت ، مصنف کتب ِ کثیرہ ہیں۔ اٹک کی قدرتی و فطرتی فضائیں ریلوے سٹیشن ، ریل کے کُرلاٹ مسافرت کا احساس، سائن بورڈ کے ساتھ قبلہ کی احساس ِ جدائی کی غماز تصویر بہت کچھ کہتی ہے۔
شاہ جی۔۔۔۔۔۔ اسم بامسمٰی
سادات کی جملہ صفات سے متصف بھی ہیں۔
سید۔۔۔۔۔حُب دار بھی ہیں ، وفا دار بھی ہیں اور اس پہ مستزاد یہ کہ اس پر قائم بھی ۔۔۔
شاہ صاحب نے افواج ِ پاکستان میں طویل عرصہ خدمات سر انجام دی ہیں۔مصروف اور پھر سماجی معاشرتی کے ساتھ ساتھ ادبی زندگی بسر کر رہے ہیں۔” مدح ِ شاہ زمن” صبح ِ نعت اور روح ِ جمال ” (نعتیہ کتب )گواہ ہیں کہ مُرشد کی قلم کاری کا اصل میدان وہی ہے جو کہ سادات کا ہونا چاہیۓ یعنی حمد و نعت اور سلام و منقبت ۔۔۔۔۔ غزل اور نظم بھی کمال کہتے ہیں۔
دین دار اور مذہبی ماحول کے پروردہ ہیں ان کی شخصیت ان کے فن ِ شاعری میں جھلکتی ہے۔
زُود رنج ہی نہیں ، زُود گو اور بسیار نویس بھی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔شعری ریاضت ان کے ہاں بہت زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہر خیال بہت ہی بہتر پیراۓ میں پیش کرتے جوکہ” از دل خیزد بر دل ریزد "کا مصداق ہوتا ہے۔ پُر عزم اور باہمت ایسے کہ زندگی کی نصف صدی بِتانے کے باوجود تازہ دم ہیں ۔جان داری کا یہ عالم کہ آۓ روز ملک میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات میں بھر پور شرکت کر رہے ہیں۔دعا ہے کتاب و قلم سے حب داری اور وفاداری تا دم ِ آخر جاری و ساری اور قائم ہے۔
آخر میں شاہ جی کی حُب داریوں کے نام منظوم
سید حُب دار قائم (اٹک) کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلم کار جاں دار ،”حُب دار قائم”
سبھی کا ہے دل دار،” حُب دار قائم”
۔۔۔۔
تبھی تو ہے کہلاتا یہ کربلائی
بڑا ہے عزا دار حُب دار قائم
۔۔۔۔
ہیں سادا تی جس میں خصائص بخاری
بڑا ہے وفادار ، "حُب دار قائم”
۔۔۔
نمایاں "اٹک” میں ہے پہچان جس کی
وُہی ہے قلم کار ،”حُب دار قائم”
۔۔۔
صداقت کا پرچم جو تھامے ہوئے ہے
کہ اک قلمی دیوار، "حُب دار قائم”
۔۔۔
پنپ جس کے سائے میں کتنے رہے ہیں
گویا ہے چھتنار ،”حُب دار قائم "
۔۔۔۔
کہ جو نام کی لاج رکھتا ہمیشہ
ملا جس میں ایثار ،” حب دار قائم”
۔۔۔
بنی ہے یہی جس کی تصویر لفظی
وہی تو ہے کردار ، "حُب دار قائم”
۔۔۔۔
ہوا ہے عطا جس کو دل ہی کچھ ایسا
سبھی کا ہے غم خوار، "حُب دار قائم”

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |