انسانی دماغ اور گوگل کی خدمات
گوگل انسانی دماغ سے ملتا جلتا ایک سرچ انجن اور ویب سائٹ ہے جو ہر قسم کی یادداشت محفوظ رکھنے اور معلومات فراہم کرنے کا گونا گوں زریعہ ہے۔ جس طرح ہم کچھ یاد کرنے کے لیئے اپنے دماغ میں خیال دوڑاتے ہیں اسی طرح ہم گوگل سے کچھ تلاش کرنے کے لیئے اس کے سرچ کالم میں کچھ لکھتے ییں اور پھر ایک بٹن دباتے تو معلومات سکرین پر چمکنے لگتی ہیں۔ جیسے ہمارے دماغ میں کائنات اور زندگی کے بارے یادداشت کی شکل میں معلومات محفوظ ہیں ایسے ہی دنیا و مافیہا کا کوئی ایک بھی ایسا موضوع نہیں ہے کہ جو گوگل کی پہنچ سے باہر ہو۔ آج تک کے تمام دریافتہ علوم اور موضوعات کو گوگل میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اس وقت بھی گوگل کے 150,028 ملازمین دن رات اسے نئی انفارمیشن فیڈ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کائنات، زندگی، صحت، جغرافیہ، سائنس اور ٹیکنالوجی، جدید کوانٹم تھیوریز یا شخصیات وغیرہ، حتی کہ کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو گوگل کے سرچ کالم میں کچھ ٹائپ کریں، یہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں آپ کو مطلوبہ معلومات فراہم کر دے گا۔
گوگل امریکہ کا ایک مشترکہ عوامی ادارہ ہے جو اپنے ہر صارف کے اکاؤنٹ کو 15 گیگا بائٹس(جی بی) سٹوریج کا مفت ڈاٹا فراہم کرتا ہے۔ اپنے قیام کے وقت گوگل کا بنیادی مقصد عام صارفین کو انٹرنیٹ پر کسی بھی موضوع پر درکار مواد تلاش کرنے کے لئے سرچ انجن کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ گوگل کی اسی مفت سروس کی وجہ سے اسے دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت حاصل ہو گئی۔ آج بھی یہ دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ گوگل نے خود کو بہت تبدیل کیا ہے اور آج کل یہ سرچ انجن کے علاوہ اور بھی بہت ساری مختلف خدمات مہیا کر رہا ہے۔ ان میں برقی پیغام رسانی گوگل میل، وڈیو شئیرنگ یوٹیوب، سوشل نیٹ ورک گوگل پلس اور نقشہ جات گوگل میپس وغیرہ سرفہرست ہیں۔ گوگل ان سہولیات کے علاوہ اور بھی بیسیوں سروسز فراہم کرتا ہے۔
لیکن گوگل محض ایک ٹول ہے جو صرف وہی کچھ فراہم کرتا ہے جو انسانی دماغ اس میں پہلے محفوظ کر چکا ہوتا ہے۔ گوگل میں انسانی دماغی کی طرح سوچنے کی تخلیقی صلاحیت نہیں ہے جبکہ انسانی دماغ میں تقریباً 100 ارب (ایک کھرب) دماغی خلیے (نیورونز) ہوتے ہیں، جن میں سے ہر خلیہ 10,000 دیگر خلیوں سے جڑا ہوتا ہے اور یہ پیچیدہ رابطے معلومات کی منتقلی کا عمل گوگل سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے انجام دیتے ہیں۔ یہ خلیات پورے عصبی نظام میں پیغامات کی ترسیل کرتے ہیں، حتی کہ جب ہمارا دماغ اندرونی رابطوں سے ہٹ کر زندگی اور کائنات کے بارے سوچتا ہے تو ان ایک کھرب دماغی خلیات کا رابطہ زندگی اور کائنات کے ہر ایٹم سے ہو جاتا ہے، اور ان کے جتنے بھی نظامات ہیں ان کی معلومات بھی ہمارے دماغ کی سکرین پر چمکنے لگتی ہیں۔
دماغ کے یہ خلیات سوچنے، یاد رکھنے، اور سیکھنے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ دماغ یا مغز دراصل مرکزی عصبی نظام کا ایک ایسا حصہ ہوتا ہے جس میں عصبی نظام کے تمام اعلیٰ مراکز پائے جاتے ہیں۔ آپ کا جسم 37 ٹریلین خلیوں پر مشتمل ہے جو 200 مختلف اقسام میں تقسیم ہیں۔ دماغ کے خلیات جلد (سکن) بناتے ہیں، جو آپ کے جسم کا سب سے بڑا عضو ہے جبکہ دماغ کے مقابلے میں ذہن کی تعریف کسی شخص کی فکری یا ذہنی صلاحیتوں کے مجموعہ کے طور پر کی جاتی ہے۔ انسانی دماغ سے مراد علمی نفسیاتی عمل کے اس گروپ سے ہے جس میں ادراک اور یادداشت کو محفوظ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
گوگل میں آپ کی سرچ ہسٹری، صارفین کی ذاتی معلومات جیسے عمر، مقامات اور دلچسپیاں شامل ہوتی ہیں۔ گوگل کا ڈیٹا مسلسل بڑھتا رہتا ہے، جو اسے دنیا کی سب سے بڑی معلومات کا ذخیرہ بناتا ہے. گوگل کے صارفین کے ذاتی ڈیٹا میں ان کی تلاش کی عادات، مقامات عمریں، تعلیم، اور مشاغل سے متعلق معلومات بھی آپ کے گوگل اکاؤنٹ میں محفوظ ہوتی ہیں. گوگل وقفے وقفے سے آٹومیٹکلی آپ کی ڈیلیٹ شدہ تصاویر اور ویڈیوز کا البم وغیرہ آپ کو بھیجتا رہتا ہے۔ مجموعی طور پر گوگل کے ڈیٹا سنٹرز میں موجود معلومات کا حجم اتنا بڑا ہے کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے، لیکن یہ دنیا کا سب سے بڑا نجی ڈیٹا مجموعہ ہے. یہ ڈیٹا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے گوگل کے بڑے ڈیٹا سنٹرز میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ گوگل کو یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں یا اپنے گھر کے مالک ہیں۔ یہاں تک کہ گوگل پر موجود آپ کے پروفائل سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کے بچوں کی عمریں کتنی ہیں۔
گوگل کا مرکزی دفتر، جو "گوگل پلکس” کہلاتا ہے، امریکی شہر کیلی فورنیا میں ماؤنٹین ویو پر واقع ہے۔ گوگل کی آمدنی کا سب سے بڑا انحصار انٹرنیٹ کے اشتہارات اور دیگر کمپیوٹر سافٹ ویئر کی فروخت پر ہے، جبکہ اس کی کل سالانہ آمدنی 209 ارب امریکی ڈالرز سے زیادہ ہے۔ جب گوگل کو قائم کیا گیا تھا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ معلومات مہیا کرنے کے علاوہ علم کے فروغ کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔ انسان کی خوش قسمتی ہے کہ گوگل ایک سوچنے سمجھنے سے عاری پلاسٹک، سٹیل اور تاروں سے بنے موبائل یا کمپیوٹر پر چلنے والا ایک مشینی نظام ہے جبکہ انسانی دماغ گوشت پوست کے کیمیائی عمل کا نظام ہے جو ذہن کو جنم دیتا ہے اور ذہن ایک غیر مادی یادداشت قائم کرنے کا منبع ہے جس کے بارے میں دنیا کے عظیم ترین سائنس دان البرٹ آئینسٹائن کا ایک قول ہے کہ، "انسانی زہن مادی جسم (دماغ) کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔” یہ انسانی ذہن گوگل کے اربوں کھربوں ڈیٹا سے زیادہ معلومات کا خزانہ لے کر ناجانے کب اس مقام تک پہنچے گا جب پوری دنیا انسانی ترقی کے ایک اور نئے اور انقلابی دور میں داخل ہو جائے گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |