امریکی صدر کا دورہ چین اور پیٹرو فاسٹ کمپنیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 15مئی کو چین کا 3 روزہ سرکاری دورہ کر کے واپس چلے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں پہلی مرتبہ چین کا دورہ کیا۔ ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران اندر کھاتے سب کچھ خاموشی سے طے ہوا۔ وقتی طور پر چائینیز بھی کچھ خاموش سے ہو گئے ہیں۔ شائد صدر ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ (Xi Jin Ping) کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو (Give & Take) کی بنیاد پر معاملات نپٹائے ہیں۔ ماضی قریب میں چین نے معاشی اور سٹریٹجک ترقی بھی انتہائی خاموشی کے ساتھ کی۔ کبھی کبھی سمندر کے گہرے خاموش پانیوں کے نیچے طوفان چھپا ہوتا ہے۔ امریکہ اور چائنا دونوں نے اپنے سیاسی اہداف بھی اسی خاموش سفارتی کاری کے ساتھ حاصل کیئے۔ ایران جنگ میں پھنسا ہوا تھا۔ چین تائیوان کو ہمیشہ سے اپنا حصہ مانتا آیا ہے جبکہ امریکہ تائیوان کا اتحادی ہے اور اسے اسلحہ بھی بیچتا ہے۔امریکہ نے تائیوان سے دستبردار ہو کر چین کو ہمنوا بنانے کی کوشش کی جس میں صدر ٹرمپ کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
چین نے وقتی طور پر ایک جانب ایران کو ایک جوہری ملک کے طور پر قبول کرنے اور اسے مزید ہتھیاروں کی سپلائی سے انکار کر دیا تو دوسری جانب درجنوں امریکی کمپنیوں کو چین میں آزادانہ تجارت کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ امریکی موقف کی تائید میں چین نے کہا: "ایران کو ایٹم بم نہیں بنانا چایئے۔” چین نے اپنی اکانومی کو مزید طاقتور بنانے کے لیئے جس طرح امریکی سٹریٹجک پالیسی سے اتفاق کیا، اسے "سیاسی سودا بازی” ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے جہاں صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں چائنا کو اپنا ہمنوا بنایا وہاں چین نے امریکہ کو تائیوان کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے پر آمادہ کیا۔ چائنا نے امریکی کمپنیوں کو چین میں سرمایہ کاری لانے کا راستہ بھی ہموار کر لیا۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں عالمی خارجہ پالیسیاں ایک حد تک مفادات کی سودی بازی میں ڈھل گئی ہیں۔ یہ جنگ سیاسی و معاشی مفادات کا عجیب نمونہ ثابت ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خارجہ پالیسیوں کو کچھ لو اور کچھ دو کی روش کو ایرانی رجیم نے بھی محسوس کر لیا تھا۔ ایران نے خود کو بچانے کے لئے پہلے حزب اللہ کو بظاہر اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور اب حماس کو بھی بہت حد تک تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایران کی یہ پالیسی اس حوالے سے کسی حد تک امن پسندی پر مبنی بھی ہے کیونکہ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ایران اب "پراکسی وارز” (Proxy Wars) کو خیرباد کہنا چاہتا ہے۔
موجودہ خلیجی جنگ دراصل "پیٹرو فاسٹ گیم” (Petro Fast Game) ہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایرانی تیل اور گیس چایئے۔ ٹرمپ نے یہاں تک بیان دیا تھا کہ، "امریکی نیوی آبنائے ہرمز میں قزاقوں (Pirates) جیسا کام کرے گی.” اسی بنیاد پر امریکی ناکہ بندی سے تیل کے درجنوں بحری جہاز متاثر ہوئے تھے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے مہلک اثرات سے بچنے کے لیئے اور چین کے بدلتے ہوئے رویئے کو دیکھ کر ایران نے دوست ممالک کے نام پر آبنائے ہرمز کچھ وقت کے لیئے کھول بھی دی تھی لیکن دوست ممالک محض ایک بہانہ تھا کیونکہ پہلے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے بلیک میلنگ کی اور پھر وہی کام ناکہ بندی (Blockade) لگا کر امریکہ نے کیا۔ اصل مسئلہ متحارب ممالک کے مفادات ہیں۔ ممکن ہے کہ اس دورے کے بعد عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے اور گہرے پانیوں کے نیچے بہنے والا جنگی طوفان بھی تھم جائے۔
دنیا بھر میں "پیٹرو ڈالر” کی اصطلاح عام ہے جسے تیل کے ڈالر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پیٹرو ڈالر امریکی ڈالر کی برتری کا ثبوت ہے کیونکہ روزانہ اربوں کھربوں ڈالرز کی ادائیگیاں امریکی ڈالرز ہی میں کی جاتی ہیں۔ یہ اصطلاح تقریباً نصف صدی قبل وجود میں آئی تھی۔ اب پچاس سال بعد کہا جا رہا ہے کہ اگر تیل پیدا کرنے والے کچھ ممالک تیل کی خریدوفروخت ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں جیسے چینی یوآن (یا روسی روبیل) میں کرنا شروع کر دیں جیسا کہ اس کا تجربہ چین اور روس دونوں کر بھی رہے ہیں تو یہ پیٹرو ڈالر دور کا خاتمہ متصور ہو گا جسے بچانے کے لیئے صدر ٹرمپ بھیگی بلی بن کر چائنا پہنچے۔ پیٹرو ڈالر کی یہ اصطلاح اتنی مشہور اور تیز تر ہے کہ دنیا میں امریکہ، تائیوان اور متحدہ عرب امارات میں "پیٹرو فاسٹ” کے نام سے کاروباری کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں۔ خدا نخواستہ دنیا پیٹرو فاسٹ گیم ہی میں الجھ کر نہ رہ جائے۔ سونے کے بعد تیل کی مصدقہ اہمیت ہے، جسے "بلیک گولڈ” (Black Gold) کہا جاتا ہے۔ انسان مزدوروں کے پسینے سے اور صدیوں کی محنت سے انفراسٹرکچر تیار کرتا ہے جسے جنگ و جدل اور انسانی خون کی قیمت پر جدید بمبوں، میزائلوں اور ڈرونز سے پل بھر میں برباد کر دیا جاتا ہے۔ بنی آدم پیٹرو ڈالر کرنسی ہے اور نہ ہی تیل جیسی جنس ہے جسے کسی منڈی کا مال بنا کر داو پر لگایا جائے۔ پیٹرو فاسٹ گیم میں تیل برآمد کرنے والے وہ اوپیک ممالک وغیرہ شامل ہیں جن کو تیل کی قیمت امریکی پیٹرو ڈالرز میں کی جاتی ہے۔ خالی چین اس وقت روزانہ ایک کروڑ بیرل سے زیادہ خام تیل برآمد کرتا ہے جس کا تقریباً پانچواں حصہ سعودی عرب سے آتا ہے اور خود سعودی عرب کی تیل کی مجموعی برآمدات کا چوتھائی حصہ صرف چین کی طرف جاتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق چینی صدر نے یقین دہائی کرائی کہ وہ ایران کو جنگی ساز و سامان فراہم نہیں کریں گے۔ دورے کے آخری روز امریکی صدر کی چینی صدر شی جن پنگ سے ناشتے کی میز پر بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے معاملے پر چین اور امریکہ کا موقف ایک جیسا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔ صدر شی جن پنگ سے کئی امور پر گفتگو ہوئی جو اچھی رہی، چین مرحلہ وار اپنی مارکیٹ کھولے گا، امریکہ سے تیل اور زرعی مصنوعات خریدے گا، دونوں ممالک کے درمیان ویزا کمپنیوں اور تجارتی معاملات پر بھی پیش رفت ہوئی۔ اس سے پہلے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چینی صدر نے ایران کے ساتھ ڈیل میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا تعلق قائم ہوا ہے، ہمارا تعلق تعمیری اور اسٹریٹجک نوعیت کا ہے، یہ دورہ ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے، مختلف شعبوں میں تعاون کے لیئے کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |