باتیں منشا جی کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از : پروفیسر محمد ارشد حسان ،
(میانوالی )
عرصہ ہوا کتابی دنیا کے کولمبس چاچا محمد جان سے جانا کہ میانوالی کا کوئی منشا خان بھی ہے جو کتابوں کا دیوانہ ہے ۔ ایک تو نام کی وجاہت پھر اس پہ بیان محمد جان مجھے لگا کہ وہ کوئی امیر کبیر شخص ہے جس کے کارخانے ہوں گے، ہزاروں کتابوں کی لائبریری اور محل نما دولت کدہ ۔فقیر کا مزاج ہے کہ متمول لوگوں سے ایسے بھاگتا جیسے مرگی کا مریض پانی سے ۔میں ویسے بھی انٹرورٹ ہوں مگر کلیتاً مردم بے زار و سنکی بھی نہیں ہوں ۔بعد میں ایک دو احباب سے ذکر منشا سنا بھی تو زیادہ ٹوہ میں نہ پڑا کہ جس شہر جانا نہیں اس جانب جانے والی بس کا کیا استفسار۔
خیر بات آئی گئی ہوگئی۔۔بندہ عاجز سوشل میڈیا کے علائق سے پاک اور پھر ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہے جہاں علمی و ادبی سرگرمیوں کی گرد بھی نہیں پہنچتی ۔پھر فقیر نے نہ کبھی تبلیغی جماعت کی طرح حلقے لگائے اور نہ اسلامی بھائیوں کی طرح کہیں چوک درس دیے ہیں۔ لے دے چند دوست ہیں جن سے ہفتے دو ہفتے بعد ملاقات ہوتی اور وہ پیدائش و اموات کے رجسٹر کھول بیٹھتے ۔
ڈاکٹر بننے کی چاہ نے ابن آدم کو مسافرت کی راہ پر ڈال دیا ۔پانچ سال کے اس کٹھن سفر میں تاحال لے دے کے ڈاکٹر شیر علی صاحب کا خاکہ ہاتھ لگا تو ایک عدد بے لوث دوست ناصر اقبال خان ۔ پھر ایک دن ناصر خان نے بھی اس پری وش کا ذکر کر دیا اور وہ بھی ایسا کہ دل بے قابو ہوگیا ہے ۔
ناصر نے کہا منشا خان تمھاری طرح دھان پان کا نوجوان ہے اور یہ کہ اسے تمھاری طرح تصوف سے بے پناہ لگاؤ بھی ہے ۔ ناصر خان بقول کریم خان کھل کے کھیلتا ہے مگر میں جانتا اس میں وٹامن خلوص کی کمی بالکل نہیں ہے۔ تو بس میں اپنے ہمزاد کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
تصوف کے نام پر تو فقیر نے وہ وہ دھوکے کھائے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔ان صوفی بابوں کے تعاقب میں اشفاق احمد کی طرح میں نے کوئی جنگل ویرانہ نہیں چھوڑا۔ کبھی صوفی سونا عرفان الحق ہاتھ لگا تو کبھی کوئلے بلال صوفی سے ہاتھ میلے کیے۔
خیر ناصر سے عرض کی پھر ملاقات کی کوئی سبیل نکالو کہ ایسے لوگوں سے دید وا دید بھی ہو جائے تو غنیمت سمجھو۔
ادھر وہ حاضر ہوں تو میں غائب اور میں حاضر باش تو منشا جی فرنچ لیو پر۔ پھر ایک بار ہم نے انہیں گھر دھر ہی لیا ۔
میں ٹک ٹک دیدم مگر وہ نظر التفات ہی نہ فرمائیں ۔ناصر نے ایک دو بار کہا بھی کہ یہ پروفیسر میاں ارشد صاحب ہیں مگر مڑیل سے الرجی زدہ پروفیسر کا تصور انہوں نے کب کیا تھا جو مجھ پہ نوازشات فرماتے ۔پروفیسری کے اثبات میں ناصر کو باقاعدہ دلائل دینےپڑے اور حفیظ جالندھری کے الفاظ میں بہت مشکل سے پروفیسر منوایا گیا۔
اس پہلی ملاقات میں منشا جی ناصر کو ان کی زیر اشاعت تصنیف پر پیہم مشورے دیے جا رہے تھے اور میں تھا کہ گھوم گھام کر تصوف پر لے آتا مگر وہ صاف پہلو بچا کر نکل جاتے ۔ دل میں آزردہ خاطر تو تھا مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور سیدھا سوال ان پر داغ دیا کہ منشا صاحب میں تو سمجھا تھا چلو آپ مجھے شطحیات سمجھنے کے قابل نہ سہی مجھ سے کچھ صوفیوں کی کیفیات پر تو بات فرمائیں گے ۔اس پر انہوں نے ایک جملہ کہا ارشد بھائی تصوف علم کو عمل میں ڈھالنے کا فن ہے ۔
علم روحانیت کے دودھ میں سے مکھن نکال کر انہوں نے میرے سامنے رکھ دیا تھا اور میری دو تین گھنٹے کی اس بیٹھک کی بوریت دور دور تک دور ہوگئی تھی اور میں نہال اس جملے کی سادگی و پرکاری کا حظ لیے سارے راستے مسرور رہا ۔
منشا کو کتب بینی کا ذوق بچپن سے رہا۔ اپنے بڑے بھائی سے نوعمری میں سید بلھے شاہ کی کتاب ملی تو بلھے کے عاشق بن بیٹھے اور کلام عشق میں وہ ڈوبے کے تا حیات ڈوب کے وہی پاٹے جا رہے ۔ وارث شاہ سرکار اور سائیں بلھے شاہ دونوں ہم جماعت تھے اور دونوں سے ان کے استاد مکرم غلام مرتضیٰ خفا رہے کہ ایک نے سارنگی شروع کر دی تھی تو دوسرے نے ہیر لکھ ڈالی تھی ۔ مگر ان کی روح یہ جان کر خوش ہوتی ہوگی کہ آج تین سو سال بعد بھی منشا کی طرح راہ عشق کے مسافر ان کے تلامذہ سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔
منشا کی لائبریری انفرادی سطح پر ضلع میانوالی کی سب سے بڑی لائبریری ہے جس میں مختلف علوم پر ہزاروں کتب موجود ہیں ۔ سب سے زیادہ کتب تصوف پر ہیں جو ان کے قلبی ذوق کی عکاسی کرتی ہیں۔پاکستان بھر سے جوئیندگان علم آئے دن ان کے مہمان بنتے رہتے ہیں اور منشا ہر کتاب پر اپنی انگلی رکھ رکھ کے اس کا اجمالی تعارف پیش کرتے چلے جاتے ہیں ۔
منشا شیخ ناظم عادل الحقانی سے بیعت ہیں۔ منشا کو کئی سلاسل سے خلافتیں مل چکی ہیں اور میری معلومات کے مطابق وہ حقانی سلسلہ سے بھی خلافت پا چکے ہیں یوں وہ صرف مرید نہیں رہے مراد بھی بن چکے ہیں۔صبح دم ان کے چہرے پر شب بیداری کی بارشوں کی پھوار صاف جھلکتی ہے ۔ یہ چوں کہ الگ موضوع ہے لہذا سمجھنے والے تھوڑے کو بہت جانیں ۔
منشا اپنی عمر کے سالوں سے زائد کتابیں تالیف کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے سب کچھ پڑھ لکھ لیتا تھا آج کل صرف میانوالی پر پڑھتا ہوں اور میانوالی پر ہی لکھتا ہوں۔ انہوں نے میانوالی کے قدیم متون کھوج نکالے ہیں۔ غلام محمد ہاشمی کی نظم مسلم لیگ دی شان ،حمید اللہ ضیا اسلام پوری کا رسالہ اصلاح معاشرہ، بگھت موتی رام گیتا پاٹھی کا ڈرامہ کرشن و سداماں ان کی حالیہ مثالیں ہیں۔ ان کی زیر اشاعت تصنیف "ہنود میانوالی "ایک ایسی تاریخ ساز دستاویز ہوگی جس سے میانوالی کی تاریخ پر پڑی زمانوں کی گرد کا صفایا ہو جائے گا اور ہمیں میانوالی کا حقیقی اور اوریجنل رنگ روپ نظر آئے گا ۔
ان کا سخت جان قلم تحقیق و تنقید کی سنگلاخ زمینوں سے شعر و سخن کے خیابانوں میں بھی آ نکلتا ہے اور پھر منشا اپنی جون بدل کر کچھ اور ہی منشا بن جاتا ہے اور پھر ایسے اشعار اس کے گوہر بار قلم سے برآمد ہوتے ہیں ۔
جاگتے میں بھی ترا خواب نظر آتا ہے
سارا منظر مجھے بے تاب نظر آتا ہے
تیری تصویر کہ ہے حسن مہ چار دہم
تیرا چہرہ مجھے مہتاب نظر آتا ہے
نگہ یار سے محروم رہے جو منشا
اس کی آنکھوں میں تو سیلاب نظر آتا ہے
دل کے حجاب ہٹتے ہیں بیدار سانس سے
ہر سانس میں پیام ہے دیدار و حال کا
دنیا کے بیچ رہ کے بھی ہوش دوام ہو
مشکل ہے یہ مقام ،نہیں زور قال کا۔
میں نے ایک دن ان سے پوچھا کہ منشا ازدواجی اور تصنیفی کام میں خوشگوار توازن کیوں کر ممکن ہوا؟ کہنے لگے ٹائم مینجمنٹ ایک آرٹ ہے اور میں نے اوائل میں ہی اس فن میں مہارت حاصل کرنی کی کوششیں شروع کر دی تھیں پھر کچھ اور گروں کا ذکر کرتے کرتے رک گئے۔ مگر میں بھی قیافہ شناس ہوں مجھ پر یہ بھید وا ہوا کہ جب ہماری ڈاکٹر بھابھی شفاخانے(ہسپتال) ہوتی ہیں تو منشا بھائی کارخانے تشریف فرما ہوتے ہیں ۔جب منشا جی کی گھر آمد ہوتی ہے تو بھابی صاحبہ روانہ ہو رہی ہوتی ہیں ۔یہی صورت حال بچوں کی ہوتی ہوگی سکول تو ٹیوشن تو قاری ۔۔۔البتہ آئس کریم کے لیے انہیں طوعاً و کرہاً وقت نکالنا پڑتا ہے۔
ایک دن کہنے لگے کہ میں نے کتابوں سے زیادہ اسفار سے سیکھا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تحقیق و تلاش کے لیے انہوں نے تارڑ صاحب سے کم سفر نہیں کیے ہوں گے۔ بھانت بھانت اور نوع بہ نوع کی مخلوق سے براہ راست تجربات کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا اور یہی سفر ان کے ادبی کاموں کے لیے وسیلہ ظفر بنے ہیں ۔
بچپن میں جب انہیں ایک بزرگ ہستی کے پاس لے جایا گیا تو اس بزرگ نے کہا بچے تم کیا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے لگے مجھے اللہ سے ملنا ہے ،آپ ملوا سکتے ہیں؟ انہوں نے فرط محبت سے سینے سے لگا لیا۔ یہی سوال لیے انہوں نے کوئی درگاہ اور کوئی آستانہ نہیں چھوڑا اور پھر یہی سوال انہیں سید الاولیاء شیخ ناظم الحقانی کی بارگاہ تک لے گیا ۔
پچھلے دنوں انہیں سماعت کا عارضہ لاحق تھا ہماری بھابی کی طبابت کام آئی نہ دیگر اطباء کی مہارت ۔ ایسے میں سویڈن میں ان کے ایک پیر بھائی نے ان کی دستگیری کی اور روحانی انقباض کا اشارا کرتے ہوئے کچھ وظائف تجویز کیے اور یوں لاینحل مسئلہ حل۔ خدا کرے انہیں ایسا ایک آدھ اور پیر بھائی بھی میسر آجائے تو ان کی امراض چشم سے بھی جان خلاصی ہو۔
منشا خالص صوفی مشرب نوجوان ہے مگر وہ ہر مسلک کے علماء سے اکتساب فیض کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مسلک کے لوگوں میں یکساں مقبول و محبوب ہے۔ایک مرتبہ گویا ہوئے کہ رحیق المختوم کا آخری باب وفات رسول پڑھ کر ان کی کیفیت کئی روز مضطرب رہی ۔ یہ تو ذکر رسول تھا اس پر تو مسلمان کا سینہ کیتلی کے پانی کی طرح ابلنے لگتا ہے وہ تو اپنی کتاب ” ہنود میانوالی ” کا ذکر کرتے ہوئے تقسیم ہند میں جانوں کے ضیاع پر اشک بار ہوجاتے ہیں ۔ اور چاچا روشن لعل چکڑ سے کئی کئی گھنٹے دل دوز تذکار سنتے رہتے ہیں۔
ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ بایزید بسطامی اور اپنے شیخ ناظم الحقانی سے انہیں والہانہ عشق ہے ۔یہی کیفیت مجھے اس وقت بھی محسوس ہوتی ہے جب وہ اپنے استاذ گرامی عارف نوشاہی اور پروفیسر سلیم احسن کا ذکر کرتے ہیں۔
نومولود اولاد ذکور کی وفات کا صدمہ ماں باپ کو توڑ کر رکھ دیتا ہے مگر جن پر نظرِ کرم ہو وہ راضی بہ رضا انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں ۔زندگی ایسے ہی لوگوں کے تعاقب میں رہتی ہے جو موت کو اختتام زندگی نہیں سمجھتے ۔منشا کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جو ہر آزمائش پر چشمہ اتار کر صاف کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ منشا جس رفتار سے لکھ رہا ہے اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑنا۔اس پہ مجھے ولی اللہی گھرانہ یاد آگیا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے مذہب پر لکھنے کے لیے کچھ چھوڑا ہی نہیں مگر پھر بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے خانوادے نے پندرہ سو کتب لکھ ڈالیں ۔ بھائی کام بہت ہے ہم کرنے والے بنیں تو؟
منشا کا دولت کدہ اور لائبریری میرے لیے ہر وقت کھلے ہیں مگر دو شرطوں پر۔ اول ان کی کڑک چائے بہرطور پینی پڑتی اور دوسرا ہر ملاقات تک ان کی کوئی نہ کوئی کتاب چھپ چکی ہوتی اور وہ وصول کرنی پڑتی۔ چائے کا تو کوئی مسئلہ نہیں کہ میں ٹی چر( ٹیچر) ہوں مگر دوسری شرط بہت بھاری ہے کہ ان کی ہر نئی کتاب میرا منہ چڑھا رہی ہوتی کہ نکمے تم بھی کچھ کر لو ۔منشا تم سلامت رہو اور ہمارا منہ چڑھاتے رہو ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |