کیمبل پور سے اٹک تک – 5

تحریر:

سیدزادہ سخاوت بخاری

چوتھی قسط میں ، ہم چھوئی روڈ کی جنوبی سمت کی آبادی کے تذکرے میں ریلوے پھاٹک سے ماڑی موڑ تک پہنچے تھے کہ موضوع سخن ھریالی اور شادابی کے نوحے پہ ختم ہوا ۔ فقط نوحہ ہی نہیں ، میرا جی تو ماتم کرنے کو چاھتا ہے ۔ چند ٹکوں کی خاطر اس علاقے کے ھزاروں درخت کاٹ دئے گئے تاکہ پلاٹ بیچ کر دولت جمع کی جاسکے ، سرسبز و شاداب کھیتوں کو صفحہ ھستی سے مٹادیا گیا ، زیر زمین میٹھے پانی کے جھرنوں کا نہ صرف گلا گھونٹا گیا بلکہ ، ان کی لاشوں کے اوپر ، گندے پانی کے نالے بنا دئے گئے ۔ محلہ امین آباد سے سیدھے ، شاہ آباد اور وھاں سے آگے محلہ بشیراعوان سے بائیں جانب والی گلی سے گزر کر باھر نکلیں تو سرور روڈ ، ڈھوک فتح سے گزر کر پنڈ غلام خان کے بعد کچی شکل میں ماڑی گاوں کی طرف رواں ہے لیکن ابھی اسے پختہ ہونے میں وقت لگے گا ۔ یہاں ایک مسجد اور کچھ گھر تعمیر ہوچکے ہیں ۔ اس کے بالکل سامنے جانب جنوب کبھی شھر کا معروف دھوبی گھاٹ تھا ، یہاں پر پانی کے قدرتی چشموں سے بلامعاوضہ فیضیاب ہوکر ، شھر کے دھوبی کپڑے دھویا کرتے تھے ، شھد جیسا میٹھا پانی ، پینے ، نہانے اور کپڑے دھونے کے کام آتا تھا ۔ اسی دھوبی گھاٹ کے قریب کم و بیش 20 فٹ اونچے ٹیلے سے ایک آبشار فوارے کی شکل میں ہر وقت رواں رہتی ، شھر بھر کے لڑکے ، گرمیوں میں اس سے لطف اندوز ہوتے ۔

نئی نسل کے لئے یہ تاریخی حقیقتیں پڑھ کر یقین کرنا آسان نہ ہوگا لیکن یہی اصلی اور سچی تصویر ہے میرے کیمبل پور کی ، جہاں ہمارا بچپن ، لڑکپن اور جوانی پروان چڑھی ، جس کی صاف ستھری فضاء میں ہم کھیلے ، کودے ، دوڑے بھاگے ، شرارتیں کیں ، تعلیم کے مدارج طے کئے ، اتنا پرامن اور صاف ستھرا شھر ، پاکستان میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔

campbellpur
تصویر: سردار ساجد محمود خان

چلئے ماڑی موڑ سے آگے بڑھتے ہیں ۔ یہاں سے لیکر سڑک کی چڑھائی کے آخری سرے تک میدان تھا ۔ مدرسہ اشاعت الاسلام ، مسجد اور اس کے آس پاس کی آبادی موجود نہ تھی ۔ جہاں چڑھائی ختم ہوتی ہے اس جگہ پر ریگل نام کا سینما ، شھر کی ابتداء سے برلب سڑک موجود تھا ۔ آپ نے شاید ریگل کا نام نہ سنا ہو ، جی ھاں ، جسے بعد میں محمود محل کا نام دیا گیا ، اس کا اصلی نام ریگل تھا ۔ جب نیلام ہوا تو بھی ریگل تھا ، قصور کے شیخ خاندان نے خریدا اور فلمیں چلانا شروع کیں ۔ ایک رات حضرو کے ایک فلم بین کی سینما کے مالک شیخ محمود سے کسی بات پہ تکرار ہوگئی ، تو تو میں میں سے بات ھاتھا پائی تک پہنچی اور باالآخر فلم بین نے محمودکو چھری ماردی ، محمود موقع پہ جاں بحق ہوگیا ۔ اس کی یاد میں سینماء کا نام ریگل سے محمود محل ہوا لیکن یہ تاریخی عمارت وقت کے تھپیڑے کھا کھا کر باالآخر زمیں بوس ہوگئی ، اب ایک قطعہ زمین ہے جہاں پر کسی تاجر نے اینٹ بجری اور سیمنٹ کا یارڈ کھول رکھا ہے ۔ یہاں بتاتا چلوں کہ کیمبل پور میں 3 سینماء ھاوس تھے ۔ ایک ریگل ، جس کا ذکر ہوا اور جو اب فوت ہوچکا ہے ، دوسرا کینٹ ایریا میں کامل پور سیداں کے اس پار ، کارنر پر آج بھی ، ناگفتہ بہ اور ناقابل استعمال حالت میں ، اپنے ماتھے پر برائے فروخت کا سھرا سجائے ایستادہ ہے ۔

 اس کا بھی خاندانی اور ابتدائی نام لینسیڈاون تھا جسے بعد میں ناز کردیا گیا ۔ تیسرا اور آخری سینماء آرٹلری سینٹر کے اندر تھا ، جسے بعد میں مسجد کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ، اب خدا جانے وھاں نماذ ادا ہوتی ہے یا جوانی پھر نہیں آنی کا شو چل رہا ہے کیونکہ اس کا استعمال کئی مرتبہ بدلا ۔ سینما سے مسجد اور مسجد سے سینماء ۔

بات ہورہی تھی محمود محل کی تو اس سے آگے برلب سڑک گیدڑ موڑ تک پرانے گھر اور چند دوکانیں موجود تھیں ۔ البتہ سینماء سے لیکر گیدڑ موڑ تک سڑک کنارے گھروں کے عقب میں کھلا میدان اور کھیت تھے ۔ اس بیچ بجلی گھر موڑ آتا ہے ، یہ سڑک تقسیم سے پہلے کی ہے کیونکہ اسے بجلی گھر اور اس سے آگے محلہ امین آباد کے اختتام پہ واقع ھندووں کے شمشان گھاٹ تک لیجایا گیا تھا ۔ اس شمشان گھاٹ کا ذکر میں اس سے پہلے کرچکا ہوں ۔ بجلی گھر روڈ کی مغربی سمت پر چھوئی روڈ کے عقب سے لیکر امین آباد تک کھیت تھے اور ہمارے لڑکپن تک ان میں گندم بوئی جاتی تھی ۔ مشرقی سمت اکا دکا پرانے گھر موجود تھے ۔ یہاں ھندوں کے ایک اسکول کا ذکر بے جاء نہ ہوگا ۔

 جب آپ بجلی گھر روڈ پہ سفر کرتے ہیں تو بجلی گھر سے قبل ، روڈ کے ساتھ جانب شرق گلی بلال مسجد کے آغاذ میں ، ایک مستطیل نماء قطع اراضی کہ جس پر غلاظت کے انبار لگے ہوئے ہیں اور اب تو ایک کباڑیا بھی اس پہ قابض ہے ، یہاں ھندوں نے اسکول تعمیر کرنا شروع کیا تھا کہ انہیں ھجرت کرنا پڑی ۔ اس پورے پلاٹ پر ایک بہترین مکمل عمارت کھڑی تھی جسے اس شھر کے اولیں لٹیروں نے جڑوں تک اکھاڑ ڈالا ۔ آج کے دور میں اس کی تعمیر پہ 30 سے 40 کروڑ لاگت آسکتی ہے ۔ پہلے چھتیں اکھاڑی گئیں پھر ایک ایک اینٹ اکھاڑ کرلے گئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ یہ آنکھوں دیکھا حال ہے کوئی سنی سنائی بات نہیں ۔

(جاری ہے )

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سیّدزادہ سخاوت بخاری
سرپرست اعلی

اٹک ویب میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

مختیارا اور چن ماھی

بدھ مارچ 17 , 2021
مختیارا ایک متوسط زمیندار گھرانے میں پیدا ہوا ۔ علاقائی اور مقامی اسکولوں میں واجبی سی تعلیم حاصل کی اور لڑکپن میں گاوں چھوڑ کر کراچی چلا گیا
سیّدزادہ سخاوت بخاری

مزید دلچسپ تحریریں