بیادرفتگان

اٹک کے صحافی اسماعیل خان

تسلسل آج بھی قائم ہے تجھ سے محبت کا
۔۔۔۔۔۔شہید صحافت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک محمد اسماعیل خان
(تحریر ڈاکٹر شجاع اختر اعوان)
ملک محمد اسماعیل خان کو ھم سے بچھڑے 14 برس بیت گئے ہیں – آج سے 14 سال قبل 31 اکتوبر اور یکم نومبر 2006 کی درمیانی رات خوش اخلاق, خوش لباس، خوبصورت، باوقار اور درویش صفت انسان کو 53 سال کی عمر میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں رات کی تاریکی میں شہید کر دیا گیا- صحافت کے بے تاج بادشاہ کو حق گویائی و بے باکی کی سزا دی گئی اور ہمیشہ حق کی خاطر بلند ہونے والی اس آواز کو خاموش کر دیا گیا- مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے کہ جیسے ہی ان کی شہادت کی خبر ملی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہنستا مسکراتا چہرہ ہم سے جدا ہو گیا ہے چند دن قبل ہی تو ان سے ملاقات ہوئی تھی اور وہ حسب معمول انتہائی مشفقانہ انداز میں دور سے دیکھ کر ہی اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور پھر دونوں بازو کھول کر دل سے لگا لیا اور یہ ہی ان کا معمول تھا کہ جب بھی کبھی ملتے اسی طرح بہت خلوص، شفقت اور مروت سے ملتے اور خاندان کے ایک ایک فرد کا نام لے کر حال احوال پوچھتے اور خیریت دریافت کرتے- وہ دوست احباب ، عزیزوں، رشتہ داروں اور تعلقداروں کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہتے- 1970 کی دھائی میں اٹک شہر سے عملی صحافت کا آغاز کیا اور مختلف اردو و انگریزی اخبارات و رسائل اور نیوز ایجنسیز کے ساتھ منسلک رہےاور 1980 کی دھائی میں بطور بیوروچیف پی پی آئی پشاور صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے رہے اور پھر 1990 کی دھائی میں اسلام آباد میں صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں منتقل ہو گئے لیکن اسکے باوجود اٹک شہر سے پشاور اور پھر اسلام آباد تک جہاں بھی صحافتی فرائض انجام دئیے ہمیشہ فرصت ملتے ہی اپنے آبائی گاؤں دورداد ضرور تشریف لاتے اور علاقہ بھر کی غمی و خوشی میں اپنے چاہنے اور جاننے والوں کے دکھ اور سکھ میں شرکت فرماتے- علاقہ بھر میں انکی سماجی خدمات، تعلقات نبھانے اور اپنی ملنساری کے باعث ان کو ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا- علاقہ میں ان کی پہنچنے کی خبر پھیل جاتی اور بزرگ اور نوجوان ان کی طرف کھینچے چلے آتے ملک محمد اسماعیل خان اپنے بزرگوں کے دوستوں کا بہت احترام کرتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ جب بھی اپنے آبائی گھر دورداد گاؤں آتے تو راستہ میں ہمارے گاؤں بولیانوال میں ضرور رکتے اور ہوا کے خوشبودار جھونکے کی طرح ملتے ملاتے گزر جاتے ان کے والد محترم مرحوم خان محمد یحقوب خان آف دورداد اور میرے نانا جان کے والد بزرگوار نمبردار ملک محمد اسلم خان رئیس آف بولیانوال کے بہت قریبی مراسم تھے وہ دونوں تحریک پاکستان کے کارکن، دیرینہ مسلم لیگی اور بطور بی ڈیی ممبر یونین کونسل اکھوڑی، کونسل مسلم لیگ کی صدارتی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح مادر ملت کے زبردست حامی تھے اور ان بزرگوں کے تعلقات کے باعث ہمارے دونوں خاندانوں میں باہمی عزت و احترام اور بھائی چارے کا وہ تعلق بفضل خدا آج تک قائم ہے-
ملک محمد اسماعیل خان میرے نانا محترم ملک منصب دار مرحوم کو اپنے بزرگ اور بڑے بھائی جیسا احترام دیتے اور نانا جان مرحوم کے چھوٹے بھائیوں ملک مشتاق خان سابق کونسلر بولیانوال اور بابو فضل خان کو ہمیشہ بھائی کہہ کر ہی پکارتے اور جب بھی تشریف لاتے اکثر اوقات ان کے چھوٹے بھائی خطیب ملک صاحب اور بعض اوقات عبدالوحید خان بھی ہمراہ ہوتے- جب بھی اسلام آباد سے اٹک شہر تشریف لاتے اپنے پرانے دوستوں سے ملاقات ضرور کرتے مسکراہٹیں بکھیرتے اور محبتیں تقسیم کرتے- دوستوں کے دوست اور عظیم انسان ملک محمد اسماعیل خان نے ہمیشہ معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے جہدوجہد کی اور علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے بھر پور کردار ادا کیا وہ اپنے گاؤں کے کونسلر بھی رہے لیکن سیاست کی بجائے صحافت پر توجہ دی اور اسے ہی عمر بھر اپنائے رکھا اور صحافتی فرائض کے دوران ہی شہید کر دئیے گئے- مرحوم نے کئی بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دلوائیں اور علاقے میں تعلیم و ترقی کے دروازے کھولے نہ صرف قلم کے ذریعے اخبارات میں علاقے کے مسائل کو حکام بالا تک پہنچایا بلکہ مواصلات ،تعلیم ،بجلی اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں کی فراہمی کے لئے عملی طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی ایک منصوبے انکی پر خلوص کوششوں کے طفیل پایہ تکمیل تک پہنچے جب بھی کبھی انکی اور میرے نانا جان ملک منصب دار خان مرحوم کی ملاقات ہوتی تو بلاشبہ موضوع گفتگو علاقہ کی تعمیر و ترقی ہوتی اور کئی ایک کاموں کے سلسلے میں حکام بالا اور،اعلی’ متعلقہ حکام کو اٹک ،پنڈی اور اسلام آباد جا کر اکٹھے ملتے اور رکے ہوئے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی راہ ہموار کرتے دونوں شخصیات نے بغیر کسی سیاسی فائدے اور ضرورت کے مفاد عامہ کے کاموں کیلئے عملی کردار ادا کیا اللہ کریم بہترین اجر سے نوازے آمین-
ملک اسماعیل شہید نے اپنے قلم سے حق و صداقت کا علم بلند رکھا اور ہمیشہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کیا بلاشبہ ان کی شخصیت اور سماجی و صحافتی خدمات پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں میرے یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ان کی شخصیت کا احاطہ نہیں کر سکتے، ان کی یادیں، ان کی باتیں اور ان سے جڑے واقعات میرے دل پر نقش ہیں اور انشاء اللہ انھیں تحریری شکل میں محفوظ کرنے کی پوری کوشش کروں گا اللہ پاک مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے اور دیگر ہمارے دونوں خاندانوں کے بزرگوں کو جو یہ فانی دنیا چھوڑ چکے ہیں اللہ کریم کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین یا رب العالمین –

در بارہ ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

یہ بھی دیکھیں

توزک جہانگیری

کٹی آ

ہماری سادگی ضرب المثل ہے ہم ‎چھاچھی بڑے پیارے اور سادہ لوح لوگ ہیں۔ ہمارے اکثر واقعات بھولے پن کا نادرنمونہ ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: