پرانے فتح جنگ کی ایک جھلک

تحریر : آصف جہانگیر خان فتح جنگ

13 مارچ1927ء کو سمال ٹاوٗن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں میاں ریاض الدین خان تحصیلدار بطور پریذیڈنٹ شریک ہوےٗ۔  وایٗس پریذیڈنٹ خان سمندر خان بھی موجود تھے۔ ممبران میں خان محمد خان ذیلدار، خان احمد خان، خان ولی داد خان، لالہ نہال شاہ، ارجن داس  اور نرایٗن داس  موجود تھے۔

تحصیلدار ریاض الدین خان کا فتح جنگ سے تبادلہ ہوچکا تھا۔ان کی خدمات کے اعتراف کے لیے ایک ممبر کمیٹی  نے حرف ستایٗش کے لیے ایک قرارداد پیش کی۔

یہ قراداد  بھی ایک دلچسپ مضمون تھا جس میں برسوں پرانے فتح جنگ کی معاشرت کی جھلک ملتی ہے وہیں اس کے مکینوں کی ذہنی اپروچ کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس تحریر کے آیٗنے میں ہم آج کے اپنے چہرے کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

اس وقت غلامی کا دور تھا اور قرارداد پیش کرنے والا ہندو تھا۔ حرف ستایئش ایک مسلمان کے لیے تھے  بلکہ ایک افسر کے لیے تھے  جس کی کرسی کو سلام کرنا  تھا۔آج ہم کہاں کھڑے ہیں یہ تو  لالہ ارجن داس کے خطبہ کو پڑھ کر ہی اپنے نہاں خانہ دل میں جھانک کر معلوم کیا جاسکتا ہے۔

لالہ ارجن داس نے اپنے خطبہ حرف ستایٗش میں کہا  کہ جناب میاں ریاض الدین صاحب تحصیلدار بہ عہدہ پریذیڈنٹ تخمینا دوسال سے ممتاز ہیں اور اب اس شہر سے تبدیل ہوکر تشریف لے جارہے ہیں۔اس عرصہ میں آپ نے سمال ٹاوُن کمیٹی فتح جنگ کے کام کو نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیا جن میں سے بعض کارنامے نہایت ہی قابل تعریف ہیں۔

سب سے اول جب آپ نے کمیٹی مذکورہ کا چارج لیا تو دفتر کمیٹی میں جو عرصہ سے بے قاعدگیاں چلی آرہی تھی، ان کو رفع کیا۔دن رات محنت کرکے آڈیٹر صاحبان کے ہمراہ ہوکر دفتر کی پڑتال کی اور جملہ اعتراضات کو رفع کیا۔

بوقت چارج عرصہ سال 1910ء سے جبکہ Notified Area کمیٹی مذکورہ کا انضباط ہوا۔ اس وقت کے بقایا جات اور ٹیکس کی طرف توجہ دی۔اور قلیل عرصہ میں جملہ بقایا جات کو نہایت جانفشانی سے صاف کیا اور فنڈ کمیٹی نے جلد ترقی کی۔

کمیٹی مذکورہ کے آغاز سے 1925ء تک ماہ مئی یعنی جب آپ تشریف لاےٗ تو کمیٹی کی آمدنی صرف چار ہزار روپے تھی مگر آپ کے قدم مبارک سے آمدنی میں دن  دوگنی را ت چوگنی ترقی ہونا شروع ہوگیٗ۔آجکل تقریبا چھ ہزار روپے سالانہ آمدنی ہے۔ آمدن کے دو بڑے محاصل جو آپ کے حسن تدبیر اور عالی دماغ کے نتیجہ میں ہیں۔ درج ذیل ہیں

ماہ جنوری  میں آپ نے گاڑیوں کے ٹیکس کا حسب ضابطہ اجراء کیا جس کی ماہوار آمدن شروع شروع میں دو صد رہی۔اس لافانی  یادگار کو سہرا آپ کے سر ہے، بعد ازاں فنڈ کمیٹی میں نہایت تیزی سے ترقی ہویٗ۔

بعد ازاں آپ نے اپنا قیمتی صرف کرکے افسران بالا کی خدمت میں منڈی مویشیاں  ہفتہ وار ی کے انعقاد کے لیے کوشش کی۔آپ اس کوشش میں کامیاب ہوےٗ۔ فنڈ کمیٹی کی ترقی ہوییٗ۔قصبہ کی بہتری، رونق، تحصیل کی سہولت کے لیے ہفتہ وار منڈی مویشیاں کا پودا لگایا جو فروری سے شوع ہوییٗ۔اس بے نظیر یادگار کا جھنڈا تازیست آپ کے حسن تدبر سے لہراتا رہے گا۔

بعد ازیں  آپ نے حفاظت کے لیے رخ تبدیل کیا۔بوقت خطرہ ڈکیتی آپ نے افسران بالا سے منظوری حاصل کرکے چوک بازار میں ایک پختہ مورچہ تعمیر کرایا۔اور قصبہ میں گورکھا کا انتظام کیا بلکہ پولیس کا پہرہ بھی آپ کے حسن تدبر کا نتیجہ ہے۔

آپ نے قصبہ کی صفاییٗ کا انتظام نہایت اعلی پیمانے پر کیا۔گلیوں،سڑکوں اور بازاروں کی صفاییٗ آج کل آپ کے حسن انتظام سے نہایت عمدہ ہے۔رفاہ عامہ کے لیے آپ نے سڑک از تھانہ تا ہسپتال کو مرمت کرایا۔مذکورہ سڑکوں  کی حالت بہت خراب تھی۔مگر آپ کی کوشش سے آج کل موٹریں اور تانگے باآسانی چل رہے ہیں، پھر آپ نے بازار اور گلیوں کی طرف توجہ دی۔ جند ایک گلیو ں میں جہاں دن کے وقت بھی انسان کا گزرنا مشکل تھا اب لوگ آنکھیں بند کرکے گزر سکتے ہیں

شہر میں عرصہ دوسال سے کوییٗ روشنی کا انتظام نہیں تھا۔آپ کے قدم رکھنے سے شہر کا کونہ کونہ پر لیمپ روشن ہے۔ سب قصبہ کی شب دن کی مانند روشن ہے(کتنا خوبصورت اور حسین تخیل ہے)

آپ نے تالابوں اور کنووٗں کا انتظام  کرنے کے لیے اپنی کوشش خاص سے قواعد مرتب کیے۔قصبہ کے بدمعاشوں اور چورچکاروں کی خوب خبرلی اور اب کوییٗ چوری وغیرہ عرصہ دوسال سے شہر میں آپ کے رعب داب او رحسن انتظام کے باعث نہیں ہوییٗ۔

یہ شہر کی قلمی تصویر تھی جو لالہ ارجن داس نے 1927 ء میں پیش کی تھی۔

دراصل فتح جنگ میں اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن معیشت کی رگوں پر ہندوٗں کا قبضہ تھا جس کے لیے ان اُن کی کاروباری صلاحیت کو سراہا بھی جانا چاہیے۔

عددی اکثریت کے بل بوتے پر تقریبا چار مسلمان ممبر کمیٹی ہواکرتے تھے۔بلکہ آزادی تک وایٗس پریذیڈنٹ کا عہدہ مسلمانوں کے پاس تھا۔1910ء میں کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اور 1924ء میں سمال کمیٹی کا درجہ ملا۔پہلے وایٗس پریذیڈنٹ خان سمندر خان تھے جبکہ میاں ریاض الدین پریذیڈنٹ تھے۔

خان سمندر خان ہی کے دور میں فتح جنگ میں سٹریٹ لایٗٹ کا آغاز ہوا۔ ابتداء میں بیس لیمپ لگاےٗ گےٗ اور ساتھ ہی ان امور کا فیصلہ کیاگیاکہ چاندنی راتوں کے علاوہ روشنی کتنے وقت تک رہے گی۔تیل کا فی گھنٹہ خرچ، تیل کا اندراج براےٗ خرچ  اور چار ممبروں کی سب کمیٹی اس روشنی کے انتظام کے لیے مقرر کی گیٗ۔

اس دوران بڑے دلچسب واقعات ہوےٗ جو اس دور کے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔لالہ ارجن داس ایک طرف تو پریذیڈنٹ کے لیے رطب اللسان تھے اور دوسری طر ف انکوایٗری کمیٹی کے ہیڈ تھے۔جو تحقیقی کررہی تھی کہ جو بیس لیمپ پنڈی سے بذریعہ ریل گاڑی منگواےٗ گےٗ، ان میں سے آٹھ لیمپ راستے ہی میں ٹیڑھے ہوگےٗ۔مستری شریف ولد کمال لوہار نے بیس لکڑی کے کھمبے لگاےٗ جن پر لیمپ فٹ کیے گےٗ۔ مستری شریف کو گیارہ روپے ان کھمبوں کی مزدوری ادا کی گیٗ۔پنڈت فرایٗن داس، نہال چند آیٗل مرچنٹ سے چار عدد ٹین تیل کے لیے گےٗ۔جن کی قیمت سولہ روپے بارہ آنے ادا کی گیٗ۔

لالہ ارجن داس ایک طرف اپنے خطبہٗ ستایٗش میں کہتا ہے کہ فتح جنگ کی شب روز روشن کی طرح چمک رہی ہے۔جبکہ محر ر کمیٹی نے انوقتوں کے روزنامچہ میں لکھا تھا کہ شرقی محلہ میں واقع پرانا تھانہ (جہاں پروفیسر کاظمی صاحب کا گھر ہے) جہاں ستیا رام رہتا تھا اس لیمپ کو کسی نے مع کپی و شیشی کے اٹھالیا۔ اس کے علاوہ دو لیمپ چوک متصل دھرم سال نرنکاریاں میں رکھے گےٗ جوکہ مع چمنیوں کے اٹھالیے گےٗ۔فتح جنگ میں اس روشنی کا خرچ پورا کرنے کے لیے  شمع جدید  کا ٹیکس لگا دیا گیا۔جوکہ ایک نیٗ اختراع تھی آج کل کے مختلف قسم کے ٹیکسوں کی اقسام کی طرح۔

لالہ ارجن داس نے اپنے خطاب میں شہر میں صفاییٗ کا ذکر بھی کیا تھا۔جبکہ اسی دور میں ایک اجلاس میں یہی لالہ ارجن داس شہر میں صفاییٗ کے حوالے سے لکھتے تھے کہ شہر کی گلیوں اور شاہراوٗں میں مٹی کے ڈھیر اور پتھروں کے ڈھیر لگے ہیں۔

جن سے شہر میں صفاییٗ وغیرہ میں تکلیف ہوتی ہے۔ اور راستہ کے تنگ ہونے کی وجہ سے پبلک کو سخت دقت پہنچتی ہے۔(برسوں گزرنے کے باوجود ابھی تک انتظامیہ اور شہری صفاییٗ کا خاص نظام وضع کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔اب تو سڑکوں کے کنارے کوڑے کے ڈھیر لگا دیے جاتے ہیں اور ان کی بدبو سے دل و دماغ شہری روشن کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کرے ہفتہ صفاییٗ منانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو مناسب طریقے سے کوڑا پھینکنے کا بھی کوییٰ نظام لایا جاےٗ)

جہاں اب استاد ادریس کا مکان ہے  اس کے سامنے مندر تھا او ریہ گلی  (گلی مندر جوگیاں) کہلاتی تھی۔یہاں اردگرد ہندووٗں کی دوکانیں تھیں جہاں رات کو گیس کے ہنڈے جلتے۔ہندو بھگت گیر وے رنگ کی چادریں باندھے مندر جاتے۔ مندر میں بھجن کے گانے کی آوازیں آتیں  تاہم یہ آوازیں مسجد اندر کوٹ سے اللہ اکبر کی صدا سے دب جاتی۔اس گلی کے ہندو  بگلا بھگت گندگی پھیلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ ان میں مسلمانوں جیسی طہارت کا کوییٗ تصور نہیں تھا۔یہاں غلاظت کا بہت بڑا ڈھیر تھا جس کو لالہ ارجن داس نے ہی موقع پر آکر ملاحظہ کیا تھا اور اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ واقعی وہاں غلاظت کا بڑا ڈھیر ہے جبکہ اپنے خطبہٗ ستایٗش میں انہوں نے شہر کی صفاییٗ کے گن گاےٗ تھے۔

یہ دوعملی کیسی تھی؟ کیا یہ اس دور کاخاصہ تھا؟ یا کیا ہم یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ یہ سب ہندو کی نفسیات کا حصہ تھا۔

جبکہ آج اگر دیکھا جاےٗ تو ایک صدی کے عرصے کے بعد بھی صورتحال ویسی ہی نظر آتی ہے۔

چاپلوسی اور خوشامد کا میدان بہت سارے نےٗ لوگوں نے سنبھال لیا ہے

انتخابات میں شہر کی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے کوییٗ پلاننگ نظر نہیں آتی۔فنڈز کی کمی اور ترقیاتی کاموں سے بے اعتناییٗ آج بھی ویسی کی ویسی ہے۔

آج کے ہمارے معاملات کیسے ہیں؟

ان تمام سوالات کا جواب آپ پر ہی چھوڑتا ہوں۔

آصف جہانگیر

Next Post

پرنسپل اکبر بخاری سے مکالمہ

منگل جون 28 , 2022
آج کا جدید شاعر الفاظ کے سحر میں مبتلا ہے ۔ مقصد کے بغیر شاعری ہے مقصد اور الفاظ کی جگالی ہے ۔
پرنسپل اکبر بخاری سے مکالمہ