تحریر: خالد خان گورگیج (خان پور) اللہ تبارک و تعالی نے تمام مخلوق میں سے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور افضل ترین ذہن اور بھر پور سوچنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے ۔ پھر اس کی ہدایت کے لئیے پیغمبر بھیجے جنہوں نے اچھائی پھیلانے کا حکم دیا اور برائی سے منع فرما کر اعمال پر انسان کو با اختیار کردیا ۔ تمام مخلوق کی جان اللہ عزوجل کی قدرت میں ہے اور مقررہ وقت پر روح نکل جانی ہے اور جان مردہ ہو جانی ہے لیکن آپ کا نیک عمل اور کردار کبھی مردہ نہیں ہوتے ۔ ڈاکٹر زاہد بلوچ جو کہ ایک عام سا ایک ڈسپنسر تھا پھر انہوں نے ہومیو پیتھک کا کورس کیا۔ ہڈی جوڑ کا کام سیکھا اور خانپور میں بی ٹی ایم کے مقام پر اپنا کلینک بنایا لیکن وہ شخص عام لوگوں سے ہٹ کر تھا۔ جب بھی کسی مزدور غریب لاچار بے سہارا شخص کی ہڈی ٹوٹتی تو وہ جلادوں کے پاس جانے کی بجائے اس کے پاس جانے کو ترجیح دیتا اور اپنا علاج کرواتا جس کے پاس جتنا توفیق ہوتی دے آتا توفیق نہ ہوتی تو ڈھیر ساری دعائیں دے کر دوائی لے کر کلینک سے نکل جاتا۔ اکثر بوڑھی خواتین علاج کروا کر پوچھتیں کتنے پیسے؟ ڈاکٹر زاھد کہتا اماں میرے والدین کے لیے دعا کردیں۔ ڈاکٹر زاہد کی اس دریا دلی نے ڈسپنسر سے عام لوگوں میں ڈاکٹر مشہور کر دیا تھا۔
کچھ روز قبل ڈاکٹر زاہد بلوچ کی وفات کی خبر چلی سوشل میڈیا پر خبر کے حوالہ سے طوفان برپا ہو گیا۔ سارے شہر میں غم کا سماں تھا۔ ہر کسی کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا کوئی اپنا جدا ہو گیا ہے۔ نمازِ جنازہ کا وقت اور مقام کا اعلان ہوا تہ لوگ جنازہ گاہ میں وقت سے پہلے پہنچ گئے۔ جنازہ گاہ میں شریک لوگوں کی تعداد دیکھ کر پورا شہر حیران رہ گیا۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور افسوس کر رہے تھے اس کی وفات کے بعد بے شمار ایسے لوگ ملے جنہوں نے مرحوم مسیحا کی اچھائی کی کہانیاں سنائیں اس میں سے صرف ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ مرحوم مسیحا کی قل خوانی پر ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا جس نے سر نیچا کیا ہوا تھا اور أنکھوں سے آنسو بہا رہا تھا۔ اس کی طرف غور کیا تو اس نے مخاطب ہو کر کہا: صاحب میں غلہ منڈی میں پلے دار ہوں۔ مزدوری کرتے ہوئے میرا بازو ٹوٹ گیا تھا۔ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا اور ان کو بتلایا کہ میں ایک پلے دار ہوں اور میرا بازو ٹوٹ گیا ہے۔ اس سے پہلے وہ میری حالت بھانپ چکے تھے، کہنے لگا تمہارا پہلے ایکسرا ہو گا کروا کر آؤ۔ سوالیہ نظروں سے جب میں نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا تو وہ مسکرانے لگے۔ مجھے موٹڑ سائیکل پر ساتھ لے کر سرکاری ہسپتال لے آئے ار ایکسرے کروایا اور پھر میرے بازو پر پلستر چڑھایا۔ پھر بند مٹھی میری ہتھیلی پر رکھی اور کہا یہ کرایہ ہے اور دوائی دے کر روانہ کیا۔ تین چار مہینے اس طرح سلسلہ چلتا رہا پھر ہچکیاں لیتے ہوئے مزدور پلے دار بولا۔ ڈاکٹر صاحب حقیقی مسیحا تھے۔ ایک ایسا شخص جس کو غریب لاچار بے۔ سہارا لوگ مسیحا کہ رہے ہیں میرے خیال سے وہ جنتی ہے۔
ڈاکٹر زاہد بلوچ مرحوم
ڈاکٹر زاہد بلوچ ہر جمعہ کو والدین کی قبر پر دعا کے لیے جاتے تو وہاں بھی دوائیوں کا بیگ بھر کر لے جاتے مریض آجاتے۔ ان کو مفت دوائی دیتے اور والدین کی بخشش کی دعا کی درخواست کرتے۔ ڈاکٹر زاہد بلوچ جس نے اپنی زندگی میں اپنے بڑے ہونے کا احساس بھی نہ ہونے دیا۔ اس کے چلے جانے کے بعد احساس ہوا کہ ہم ایک بہت بڑے انسان سے محروم ہو گئے ہیں۔ محروم مسیحا کے خلا کو شاید صدیوں بعد بھی پُر نہ کیا جا سکے۔ ڈاکٹر زاہدبلوچ کے خوبصورت کردار پر ہر آدمی رشک کرتانظر آتا ہے ان کی وفات کے بعد اب تمام ذمہ داری اس شہر کے لوگوں پر عائد ہوتی ہے کہ اس کلینک کو زاہد ٹرسٹ کے نام پر چلایا جائے تاکہ بے کس اور بے سہارا لوگ مستفید ہوتے رہیں اور ہم اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں۔خدانخواستہ یہ کلینک بند ہوگیا تو شہر پھر جلادوں کے نرغے میں چلا جائے گا۔ بھاری فیسیں لینے والوں بھاری کمیشن لیکر غیر معیاری ادویات کا نسخہ لکھنے والے ڈاکٹر حضرات اس مرحوم مسیحا کی زندگی کا جائزہ لے لیں اگر ان کی زندگی کا جائزہ لینے کا وقت نہیں تو اس مسیحا کا جنازہ دیکھ لیں کیونکہ وہ شخص کبھی نہیں مرتا جس کا کردار زندہ ہو۔
ڈاکٹر زاہد بلوچ کو اس تحریر کے ذریعہ خراج تحسین پیش کرنی کی کوشش تو کی لیکن میرے الفاظ ڈاکٹر زاہد بلوچ کی خدمات اور کردار سے بہت چھوٹے ہیں۔ اللہ پاک سے دُعا ہے کہ زاہد بلوچ کی طرح میرے ملک کا حقیقی مسیحا پھر کبھی نہ مرے ۔ آمین
خان پور سابق ریاست بہاول پور کا اہم شہر رہا ہے۔ریاست بہاول پور کی سرکاری زبان فارسی تھی جب کہ یہاں کی مقامی زبان سرائیکی تھی۔شہاب دہلوی کے نزدیک بہاول پور میں اُردو کا پہلا شاعر مولوی محمد اعظم (1724-1778ء) ہے۔ جنہوں نے اپنا دیوان’ ’مجموعہ اعظم‘‘کے عنوان سے ترتیب دیا تھا۔ مولوی محمد اعظم عباسی شہزادوں کے اتالیق اور نواب صادق محمد خان عباسی کے عہد میں دربار میں شاہی مؤرخ بھی رہے۔ان کے دیوان میں اُردو اور فارسی کی غزلیں ہیں۔ اس کے بعد سرکاری سرپرستی میںبہاول پور میں اُردو کوفروغ حاصل ہوا، جس کے اثرات چاچڑاں شریف(خان پور)سے تعلق رکھنے والے معروف صوفی بزرگ خواجہ غلام فریدؒ کی شاعری پر دکھائی دیتے ہیں۔ خواجہ غلام فرید ‘عباسی نوابان کے پیرومرشد تھے اور ان کا بچپن بھی ڈیرہ نواب میں نوابانِ بہاول پور کے محل میں گزرا تھا۔ علاوہ ازیں خواجہ غلام فریدؒ کی مجلس میں آخری مغل فرماں رَوا بہادر شاہ ظفر کے پوتے مرزا احمد اختر اور کئی دوسرے اُردو بولنے والے احباب بھی حاضر رہے۔ اس لیے خواجہ غلام فرید نے سرائیکی کے ساتھ ساتھ فارسی، سندھی اور اُردومیں بھی شاعری کی۔ اس سے پہلے ان کے پیرومرشد اور بڑے بھائی خواجہ فخر جہاںؒ کا فارسی دیوان ملتا ہے۔ خان پور میں خواجہ غلام فرید اُردو زبان کے اَوّلین شعراء میں سے ہیں، ان کا اُردو دیوان متعدد بار شا ئع اور اس پر بہت سا تحقیقی کام بھی ہوچکا ہے۔
خان پور میں خواجہ غلام فریدؒ،خواجہ محمدیارفریدیؒ اور مغفورالقادریؒ کے ساتھ ساتھ اس دور میں ہمیں محسن خان پوری کا ذکر ریختی کے حوالے سے نظر آتا ہے، انہوں نے لکھنؤکی خالص زبان میںصنف ریختی لکھی اس کے بعدان کے بیٹے امیرالکلام عبدالرحمن آزاد کا نام ملتا ہے، جنہوں نے غزل کی کلاسیکی روایت کو پروان چڑھایا۔ اُس دور میں غزل کی روایت اور کلاسیکی روایت ساتھ ساتھ جڑی نظر آتی ہیں۔ ’’خان پو رکا اَدب…خان پور کی120سالہ اَدبی تاریخ‘‘سے شائع ہونے والی کتاب میں سے متعددفارسی، اُردو، سرائیکی، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانوں میں نظم اور نثر میں علمی، ادبی اور صحافتی و ثقافتی حوالے سے معروف اور نو آموز قلم کاروں کا مختصر اَحوال وکلام دستیاب معلومات کے مطابق وقتاً فوقتاً شائع کرتے رہیں گے ۔ ٭…آسی خان پو ر ی(مرحوم)۔ اُردو اور پنجابی کے نامور شاعر آسی سحر بھی ہوگی ذرا انتظار کر سورج ابھی تو شب کے گھنے جنگلوں میں ہے محمد نیاز آسی خان پور ی پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ ادبی تقاریب کر انے میں بہت فعال رہے۔ پہلے نثر میں پھر نظم میں طبع آزمائی کی۔ سہیل اختر بہاول پور سے اصلاح لیتے رہے۔ پنجابی اور اُردو میںشاعری کی۔آسی خانپوری نے غزل میں سماجی مسائل کے اظہار کر کے حسن کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری میں داخلی اور خارجی کیفیات کے منفرد رنگ ملتے ہیں۔آسی ؔ خان پوری نے بہت عمدہ شاعری کی ہے جیسیلفظوں کو نگینوں کی طرح جوڑ دیا گیا ہو۔ آسیؔ خان پوری کی غزل میں سماجی روّیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا گہرا ادراک ملتا ہے۔ ان کی شاعری سچے جذبوں اور گہرے مشاہدے کا اظہار ہے۔ان کے ہاں جدت، تازہ کاری اور فن کی پختگی بہت نمایاں ہیں۔شعری مجموعے ’’موسم یہ خزاں جیسا‘‘(ادارہ مطبوعات اَدوار1989ء) اور’ ’چلو اب چھو ڑدو رنجش‘‘(الحمد پبلشرز لاہور، 1999ء)میں شائع ہو چکے ہیں۔ بچوں کی نظموں پر مشتمل مجموعہ’ ’صلح کے بعد‘‘ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ایک اُردو ناول’’شرارِ سنگ‘ ‘اور پنجابی مجموعہ’ ’انگیار‘‘بھی شائع ہو چکا ہے ۔ خان پور سے ادبی پر چہ’’اَدوار‘‘ بھی نکالتے رہے۔ 2004 ء میں خان پور سے لاہور منتقل ہو گئے۔کچھ سال قبل لاہور میں وفات پا گئے ہیں۔آسی خانپوری کی حمد کا نمونہ کلام زمیں تیری فلک تیرا ، تو مالک ہے بہاروں کا تری قدرت سے سارا سلسلہ ہے کھلتے پھولوں کا جو تو چاہے تو شاخوں کو ملیں پتے نئی رُت میں جو تو چاہے تو اجڑا باغ مہکے پھر گلابوں کا جو تو چاہے تو مٹی بھی بنے سونا زمانے میں جو تو چاہے تو جاگ اُٹھے مقدر تیرہ بختوں کا جو تو چاہے تو قطرے کو کرے اک گوہرِ تاباں جو تو چاہے عطا ہو مرتبہ ذروں کا تاروں کا جو تو چاہے توچشمہ ریگ زاروں سے نکل آئے جو تو چاہے تو جاری سلسلہ ہو آبشاروں کا جو تو چاہے تو بھر جائے مری اُمید کادامن جو تو چاہے تو ہو آباد میرا شہر خوابوں کا ٭ اُردو غزل کا نمونہ کیسے کیسے راستوں سے ہم گزر کر آئے ہیں دیکھ کر چہروں پہ گردِ راہ اندازہ ہوا کیسی کیسی خواہشوں کے ہم تعاقب میں رہے اپنی محرومی کو دیکھا تو اندازہ ہوا راہ میں چلتے ہوئے کیوں رک گئے میرے قدم خامشی کے دشت میں یہ کیسا آوازہ ہوا ٭ چلا گیا جو مجھے چھوڑ کر مسافت میں وہ لوٹ آئے گا یہ احتمال کیسا ہے نہ کھل سکا یہ مرے ہاتھ کی لکیروں سے مرے نصیب میں لکھا ملال کیسا ہے پنجابی غزل کا نمونہ کلام ساون آیا آجا میت رَس پے گھولن میرے گیت ہیراں لکھ لکھ پاون وین! توڑ چڑھی نہ ایتھے پیت تیرے میرے بارے لوک گلاں کردے بھیتو بھیت ٭٭٭ (بحوالہ: خان پور کا ادب ، تحقیق و تالیف : محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ،اشاعت: 2021ء)
’’شعوروادراک ‘‘ کا خصوصی شمارہ ’’ حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘پر تبصرہ تبصرہ نگار: صادق جاوید (گڑھی اختیار خان )
حضرت شیخ سعدی کا قول ہے ’’ تمہاری اَصل ہستی تمہاری سوچ ہے باقی تو گوشت اور ہڈیاں ہیں ‘‘ ۔ بات ہے بھی دل کو لگنے والی انسان کو اللہ نے علم سے فضیلت عطا کی ہے جس کا محورّ سوچ ہی ہے اپنی سوچوں کو بہترین پیرا ئے میں پرو کر لفظوں کو مالا کا روپ دے لینا حیدر قریشی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اسی وجہ سے ان کی نظمیں طویل و مختصر ، مختصر نظمیں زندگی کے سرد گرم دکھ سکھ الفت و مروت کے ساتھ ساتھ تقریباً سبھی پہلوئوں کو بطریق احسن اجاگر کرتی چلی جاتی ہیں جس میں تخلیق کار کے تمام تر تجربات یعنی حاصل حیات کا نچوڑ اور عرق عرق افکار ان کو ایک بہترین ماہر عمرانیات ثابت کرتا چلا جاتا ہے اور قاری بیٹھے بیٹھے ان دیکھے جہان اور ہمہ پہلو انسان سے ملاقات کرکے خود کو ہلکا پھلکا اور شاداں و فرحاں محسوس کرنے لگتا ہے ۔ نظموں کے موضوعات جہاں مٹی سے محبت کا پتہ دیتے ہیں وہاں مسائل ، وسائل اور برتائو کے حوالے سے ایک عمرانی تاریخ کا گہوارہ بھی ثابت ہوتے ہیں ۔ طویل یا مختصر جس بھی بحر میں ادب تخلیق کیا ۔ حسنِ لطافت کو گویا معراج ہی کراکے دم لیا ہے ۔ ان کی خدمت میں الفاظ کس طرح ہاتھ باندھے حاضر ہوتے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں : لفظوں کو جستجو ہوئی اپنے وجود کی مفہوم اپنے رشتے نئے ڈھونڈنے لگے معنوں کی اک بساط بھی بچھنے لگی نئی مفہوم کے حوالے سے تفہیم چاند کی ان پانچ سطروں میں شاعر کی کیا کیا خوبیاں واضح ہوگئی ہیں دیکھے ۔ جب بھی لفظوں کو اپنے وجود کی جستجو ہوتی ہے تو وہ حیدر قریشی کے پاس حاضری دیتے ہیں کہ اے درویش نامہم زمانہ ۔ ہمیں بطریق ابتر برت رہا ہے تاویلوں کی زد میں ہیں تو ہمیں اپنی نکھری نکھر ی تخلیق کے سانچے میں ڈھال کر پیکر زندہ و جاوید عطا کر دے ۔ مفاہیم کا تعلق ساز بھی یہی درویش ہے اور بے بدل ہے ۔ فنی پختگی کے ساتھ ساتھ خیال اتنا اعلیٰ ہے کہ لفظوں سے کھیلنا شاعر کا من پسند مشغلہ ہے اور پھر آخر میں بزرگِ بے مثال کی حق گوئی دیکھتے کہتا ہے وہ زمانہ گزر گیا جب ہم چاند کو چہرہ کیا کر تے تھے اب تو خلق کا اَحساس ہے ۔ زمانے کے غم ہیں اور ہم ہیں وہ دن ہوا ہوئے جب ۔ تجھے گل کے روبرو کرنے کی تمنا رہا کر تی تھی ۔
اس کے بعد نثر کے میدان میں آپ نے جو کارہائے نمایاں کر دکھائے ہیں انہوں نے گویا ایک پند نامہ کو سلیس انداز میں بیان کر دیا ہے جس کا اَثر اس لیے زیادہ ہوا کہ حیدر قریشی جس طرح منظر نگاری میں کمال رکھتے ہیں اسی طرح جذبات کو بیدار کرنے میں بھی ثانی نہیں رکھتے ۔ خصوصاً والدین کے ساتھ برتائو پر مبنی تحریریں درسِ اَدب کا کامل نمونہ پیش کر تی ہیں ۔ اَفسانہ نگاری آسان کام نہیں اس میں لکھاری سارے کمردار خود کر رہا ہوتا ہے حتیٰ کہ آپ اور میرا یعنی قاری کا کردار بھی خود ہی کر رہا ہوتا ہے اور ایسا جملہ تخلیق کرتا ہے جسے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے دل کی بات گھر کی قصہ اور دنیا کی خبر بھی کہہ سکیں ۔ المختصر غم جاں غم جاناں اور غمِ زمانہ کو محض چند صفحات پر اس طرح بکھیر دینا کہ ان کی شدت تمازت اور تقاضے سب پر عیاں ہو جائیں اس ساری کاوش کا نام افسانہ نگاری ہے اور حیدر قریشی اس کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں ان کا کوئی ایک اَفسانہ اپنے قاری پر یہ حقیقت نہایت خوش آئند پُر مسرت اور مثبت انداز میں عیاں کرکے رکھ دیتا ہے ۔ جس کا نقشہ راشد اوعر راشد نے اس خوب صورت شعر میں کھینچا ہے ۔ ایک قطرہ ہی سہی آنکھ میں پانی تو ہے اے محبت تیر ہونے کی نشانی تو رہے حیدر قریشی کے مضامین قاری کے لیے ایک ساحرانہ سلطنت کے دروازے کھولے چلے جاتے ہیں ۔ اپنی شریکِۂ حیات کے بارے میں ان کی تحریر مبارکہ محل ایک بہترین سماج اور محبت بھرے جہاں کی سیرانی عطائوں کا مخزن ہے اور کچھ نہیں اتنی وسیع و عشق شخصیت کے لامحدود کارناموں اور اَدبی عمرانی کے ساتھ ساتھ صوفیانہ فتوحات پر جنبشِ قلم کی جسارت مجھ سے طفلِ مکتب کے لیے یقینا کٹھن تھی لیکن قیسِ ادب، شفیق دوست محمد یوسف وحید کی اَدب دوستی ترغیبِ عمل کے ساتھ مرے مرشد زادہ سیّد صبغت اللہ سہروردی کی رہنمائی اور میری طرح بہتوں کے زیست ساز ظفر جتوئی کی تربیت نے آپ کے لیے چند سطروں کا ساماں کر دیا ۔ میں نہایت مسرت محسوس کر رہا ہوں یہ جان کر کہ گڑھی اختیار خان کی جن روحانی فضائوں میں ، میں سانس لے رہا ہوں ۔ اس کی ہوائوں کو بہت سے اللہ کے پیاروں سمیت جناب حیدرقریشی کے پردادا حضرت میاں میر محمد کے وجودِ مسعود سے نکہت آمیز لمس مُیسّر آچکا ہے ۔ ہمیں حاصل روحانی تسکین میں ان کی شب خیزی اور آہِ سحر کی کرشمہ سازی بھی کارفرما ہے ۔ قلندر وقت حضرت خواجہ دُر محمد المعروف ’’ دُر پاک ‘‘ سے ان کا ربط روحانی ہے اور مجھے یہ کہ میں درپاک غریب نواز کے نواسے حضرت خواجہ محمد عالم کوریجہ سے انس کی نسبت ’’ اَسیرِ عالم ‘‘ بھی کہلاتا ہوں اور ’’ عاشق صادق‘‘ بھی ۔ حیدر قریشی صاحب کا تخلص ارشدؔ ہے اور مجھے شاعرِ کیفیت امان اللہ ارشدؔ سے شرفِ تلمذ بھی حاصل ہے ۔ ربطِ محبت بھی اتنی نسبتوں نے میرے دل میں حیدر قریشی کی محبت کو عمیق تر کر دیا ہے ۔ ان کی شخصیت خصوصاً ان کی کتاب ’’ مبارکہ محل ‘‘ پر ایک مقالے نے میرے ذہن میں جگہ بنا لی ہے مگر اے یار تیرے غم سے فرصت ملی اگر تبدیلیاں کروں گا اس عالمِ کہن میں اس بات سے کسی کو مفر ہے نہ ہوسکتا ہے کہ شاعر ایک چنیدہ روح ہوتا ہے ۔ جسے مظاہرِ قدرت تخلیق ناطق ہو کر ملتے ہیں ۔ اگلا مرحلہ قسمت کی یاوری سے طئے ہوتا ہے وہ یہ کہ شاعر مائل بہ قبولیت ہو کر کائنات کے ذرّے ذرّے سے مخاطب ہو کر ذکرِ یار کے وظیفہ ٔ نافع کی داغ بیل ڈال دے ۔ اب یہ داغ بیل کیسے ڈالی جاتی ہے یہ خاک کا پتلہ کلیمِ ثانی کے درجے پر کیسے فائز ہو جاتا ہے ۔ اگر آپ کا ربط روحانی قوی ہے تو روحِ اقبال سے رُجوع فرمائیے اور بالمشافہ کسبِ فیض کی ٹھان لی ہے تو پھر حیدر قریشی کی تقرب کی سعی کیجئے ۔ کیونکہ علم کے لیے نیت اور کتاب کے ساتھ اُستاد کی ضرورت سے انکار ناممکنات کا سرنامہ ہے ۔ اُستاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تو لو اُستاد تو ہر دَور میں اَنمول رہا ہے جہانِ ادب میں بالکل طفلِ مکتب ہوتے ہوئے حکم حاکم کی تعمیل کے تحت جب میں نے حیدرقریشی کی اَدبی فتوحات پر توجہ کی تو یہ مصرع بلاساختہ یاد آیا کہ یہ نصف صدی کا قصّہ ہے دو چار برس کی بات نہیں یہی بات ان کی پرکاری پر دلالت بھی کر تی ہے اور ان کے ہمہ پہلو ہونے کی غمّاز بھی ہے ۔ اصنافِ سخن سے مکمل وفا کر نا بلکہ سخا کر نا اور انہیں جدّت آمیز بنانا تو کوئی ان سے سیکھے ۔ کوئی ایک صنف بھی ایسی نہیں جس پر زیادہ اور مکمل یا مختصر مگر جامع کاوش اس محسنِ اَدب کی انفرادیت کو منواتے نہ چلی جا رہی ہو ۔ حمد ، نعت ، غزل اور ماہیا نے حیدر قریشی کے جرعہ فیض سے بہت سے بھی زیادہ وُصولا ۔ عمرانیات کی ہمہ قسم تحقیق کا نچوڑ ہمیں جن جواہر پاروں سے روشناس کراتا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم نے اگر ’’ بچے ‘‘ کو پہنچاننا ہو تو اس کے ’’ انتخاب ‘‘ سے پہچانو ۔ اور اگر ’’ بڑے ‘‘ کو پہچاننا ہو تو اس کے ’’ استحضار ‘‘ سے پہچانو ۔ بس یہیں پہ آکے حیدر قریشی اپنی روایتی منکسر المزاجی کے باوجود بھی اپنے اعلیٰ اَدبی مرتبے کو چھپا نہیں پا رہے اور ان کی ہمہ قسم مہارت کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے ۔ آئیے کچھ مثالوں سے اس حقیقت سے آشنائی اور لذتِ ذوق کو مہمیظ کر تے چلیں ۔ ہے میری روح میرے جسم کے ہر ذرہ میں پنہاں تو اپنے جسم کو اک شہرِ روحانی میں رَکھا ہے دیکھیں وَ نَفَختُ فیھا مِن روحی یَر جع کلِ شی ئِِ اِلیٰ اَصلِہِ کو کس حسین امتزاج سے پیش کر دیا ہے اور اَحساسِ زیاں اور عَدُو مُبین کی کارستانی سے بے راہ رواں اُمت کو کس کاٹ دار انداز میں اَحساسِ زیان کی ترغیب دلائی جارہی ہے ۔ نصوع کو بھی دیکھ لیں گے فرصت میں ابھی نمٹ تو لیں مومن فروع سے پہلے بلاشبہ مظاہرِ قدرت ہر شاعر کے لیے ماخذِ اعظم ہوا کر تے ہیں مگر حیدرقریشی کو دیکھئے کہ کس قرینے سے فکر بیدار کو وحدتُ الوجود کی طرف راغب کرنے میں مصروف ابلاغ ہیں ۔ نہ پورا سوچ سکوں ، نہ چھو سکوں ، نہ پڑھ پائوں کبھی وہ چاند ، کبھی گل کبھی کتاب لگے ذرا یہ مقطع دیکھئے ، شانِ بے نیاز ی کی داد دیجئے ۔ حیدر ہم ان کے دل سے اُتر آئے خود مگر ان کو ہمارے دل سے اُترنا نہ آسکا تعلماتِ اصلیہ کا مطالعہ اور پھر درسِ حقائق کا فریضہ کیسے اَدا کر تے ہیں ۔ حیدر قریشی کے اس شعر سے سیکھ لیجئے ۔ ہماری ایڑیوں سے اب کوئی چشمہ نہ اُبلے گا نہ قسمت میں ہماری بیتِ اہل ہونا ہے ایک عمرانی حقیقت ہمارے سامنے مسلم صداقت کے طور پر موجود ہے کہ ’’بندہ ای بندے دا دارو اَے‘‘ اسی مضمون کو حیدر قریشی کے خوبصورت پیرائے میں بیان کرنے میں کس اَحسن طریقے سے کامیا ب ہوئے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں کردارِ فقیہاں مری آزادہ روی بھی گمراہی کے لیکن یہی اَسباب نہیں تھے اشتکاک لفظ و استد لال کے ماہرِ اعظم علامہ سیّد محمد فاروق القادری اپنی ایک عصری محفل میں فرماتے ہیں ۔ جو وہ طائرِ لاہوتی ہے سنگ سنگ کرتا ہے یا پھر عرفان و آگہی کے قلزم ذخار کے کہنہ مشق غواص کی وہ ڈُبکی ہوا کرتا ہے جس میں وہ جہانِ معانی دَر معانی اَصل الا ُصول ، گوہرِ مقصود یا مادۂ حقائق نہ صرف پاتا ہے بلکہ لا کر یارانِ ساحل کے سامنے رکھ دیتا ہے ‘‘ ۔ ’’اس جواہر پارے کی اگر سلیس کی جائے تو وہ بات قرینِ حقائق ہو ۔ جب کہی جائے جس سے کہی جائے تو نہ صرف تازہ اپنی لگے بلکہ اَفشاں تر ہوتی جائے ،شعر کہلاتی ہے ‘‘۔ آئیے اسی تناظر میں حیدرقریشی کے چند اشعار دیکھتے ہیں ۔ تم نے وہ منظر ہی کب دیکھے ہیں جب درد سمندر دل دریا میں کرتے ہیں یا آنکھوں میں خاک برستی تھی حیدرؔ یا رب پیہم اشک دُعا میں گرتے ہیں اندازِ تخاطب پہ ذرا غور فرمائیے ۔ عام فرد سے بات ہے ہی نہیں صرف اور صرف جستجو کے خوگر سے کام ہے اور اسے بھی مزید تلاشنے کا درس دیا جا رہا ہے مصرعِ ثانی پر نظر کا مرکزہ مان کر دیکھئے ۔ عام روش سے ہٹ کر بلکہ بالکل تضاد بات کی گئی ہے کیونکہ روٹین کے مطابق دریا سمندر میں گر ا کر تے ہیں نہ سمندر اسی سے واضح ہوا کہ کسی جہان دیگر کی بات ہو رہی ہے بلاکم کا ست وہ محبت کا ہی جہان ہے کیونکہ میرا اپنا ہی شعر اس کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ اُلٹی گنگا بہتی ہے بحرِ عشق میں جو ڈوب جاتے ہیں یاں وہ پار ہوتے ہیں اب ذرا تیسرے مصرع میں دیکھئے ۔ ایک خاص وقت کا ذکر ہے کہ ایک حال یہ تھا کہ کچھ واضح نہیں تھا ، ہر چیز مبہم تھی اور سفر مطلوبہ سرحد تک پہنچا ہے تو اب نہ صر ف دُعائیں ہیں بلکہ اَشکوں سے وضو کی خو بھی ہوگئی ہے اور یہ اَشک بھی خوشی اور تشکر کے ہی ہیں ۔ اس سارے منظر نامے کے واضح کر نے کے لیے حیدر قریشی کو خراجِ تحسین پیش کر نے کے لیے ایک عارف کے شعر کا دوسرا مصرع ان کی نذر کرتا ۔ شعر نعت کا ہے لہٰذا عنایت مزید کے یقین اوربرکت کی نیت سے پورا شعررقم کیا جاتا ہے ۔ اے ختم رُسُل قُرب تو معلومم شد دیر آمدۂ ی از رہ دور آمدہ ٔ ی القصّہ حیدر قریشی کسی بھی صنف میں مجرب و مستحسن حقائق کو طشت از بام کر تے دکھائی دیتے ہیں ۔ ماہیا کی صنف حیدرقریشی کے اَحسانات اُتارنے کا خواب ہی نہیں دیکھ سکتی اور اسی میں ریت رواج کو جس طرح زندگی حیدرقریشی نے عطا کی ہے اور جس خوبصورت انداز میں ترسیل پیغام کا سامان فراہم کیا ہے ۔ ادب کی دیوی اسے بھگوان مانے رَہ ہی نہیں سکتی ۔ میں ان ہی کا ایک شعر آپ کی نذر کر تے ہوئے فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ ہم تہی دست آبروئے فقر سود دے کر زیان مانگتے ہیں آئیے کچھ مثالیں دیکھتے ہیں
سب صبحوں کا تاج ہوئی رحمتِ عالم کو جس شب معراج ہوئی مہکار ہے کلیوں کی جیسے دُعا کوئی دھرتی پہ ہو وَلیوں کی ’’ اپنا وطن کشمیر ‘‘ کا اَعتراف دیکھئے ۔ یادوں کے خزینے میں خان پور اپنا تو آباد ہے سینے میں
مل مہکی فضائوں سے یار نفل باہر اندر کی خلائوں سے
جیتا کبھی ہارا تھا ’’گلی ڈنڈا‘‘ بھی اک کھیل ہمار اتھا
مستی سے بھری پہلی الہڑ مٹیارین جب کھیل گئیں ’’ککلی‘‘
ہر رَسم اُٹھا دی ہے کو کلا کھیلے ہیں بچپن کو صدا دی ہے
سوہنی ہے یا ہیر ہے وہ اتنی ہے مجھ کو خبر جنت کا انجیر ہے وہ ٭ (بحوالہ : شعوروادراک ( جنوری تا مارچ 2021ء ) مدیر: محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ص: 245) ٭٭٭
صغیر ملال…تعارف و کلام محمد یوسف وحید (مدیر: شعوروادراک خان پور)
پتے گرے تو کونپلیں پھوٹیں خیال کی موسم وہی بہار ہے جو ساز گار ہو لَب بستگی کے رستے وہ جب آشکار ہو خاموش کیوں نہ اس کا یہاں راز دار ہو صغیر ملال (پیدائش: 15 فروری 1951ء – وفات: 26 جنوری 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم تھے۔ اُردو غزل کے عمدہ شاعر صغیر ملال15فروری1951ء کو راول پنڈی کے قریب پوٹھوہار کے پہاڑوں میں آباد اوسط درجے کے زمیں داروں کے ہاں ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ کراچی یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ انہوں نے بہت مختصر وقت میں بھرپور ادبی زندگی گزاری۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب اور ناول نگار تھے۔صغیر ملال کراچی میں ایک اشتہاری کمپنی سے وابستہ رہے ۔
صغیر ملال شاندار شاعر، افسانہ نویس اور ناول نگار ہیں۔ 50 کی دہائی میں ان کا پہلا افسانہ مجموعہ ’’انگلیوں پر گنتی کا زمانہ‘‘ منظر عام پر آیا اور اہل ادب نے اسے بہت پذیرائی بخشی۔ انہوں نے علامتی اور تحریری افسانے لکھے۔ صغیر ملال نے جس مہارت اور سلیقے سے ان افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا وہ قاری کو حیران کردیتی ہے۔ انہوں نے یورپ اور امریکہ کے مشہور افسانہ نگاروں کی بہترین کہانیوں کا انتخاب کیا ہے جو ’’بیسویں صدی کے عظیم افسانے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ صغیر ملال وسیع النظر بھی ہیں اور وسیع المطالعہ بھی۔ یہ کتاب پڑھ کر اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کے نقاد بھی ہیں اور صاحب بصیرت بھی۔ صغیر ملال کو مطالعے کا شوق دیوانگی کی حد تک تھا۔ مشاہدے کی خاطر اندھی گلیوں اور اندھیرے لوگوں سے معانقے کئے۔ صغیر ملال ہمہ وقت مضطرب،تیراکی، جوگنگ، مرغ بازی، پتنگ بازی اور کتے پالنے کا شوق تھا۔ صغیر ملال پر اردو کے ثقہ اور تجریدی ادب کا غلبہ ہے اور وہ ان ادیبوں میں شامل ہیں جو قارئین کی تعداد کی پروا نہیں کرتے۔ چند منتخب قارئین اور کبھی محض اپنا اطمینان ان کے لئے بہت ہوتا ہے۔
صغیر ملال 26 جنوری، 1992ء کو کراچی پاکستان میں وفات پاگئے۔ادبی حلقوں کواُن سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں جو ان کی ناوقت موت کی وجہ سے ادھوری رہ گئیں۔ ان کی شائع شدہ کتابوں میں اختلاف (شاعری 1981ء، نروان پبلشرز کراچی ) بے کار آمد (افسانے 1989ء ،، نروان پبلشرز کراچی) نابود (ناول) آفرینش (ناول 1985ء،، نروان پبلشرز کراچی) انگلیوں پر گنتی کا زمانہ (افسانے)اور بیسویں صدی کے شاہکار افسانے (تراجم) شامل ہیں۔
صغیر ملال کی آٹھ منتخب اُردو غزلیات ملاحظہ فرمائیں : (1) کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دُیتے ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے (2) الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں وگرنہ لوگ تو سارے اسی سفر میں ہیں ہماری جست نے معزول کر دیا ہم کو ہم اپنی وسعتوں میں اپنے بام و در میں ہیں یہاں سے ان کے گزرنے کا ایک موسم ہے یہ لوگ رہتے مگر کون سے نگر میں ہیں جو در بدر ہو وہ کیسے سنبھال سکتا ہے تری امانتیں جتنی ہیں میرے گھر میں ہیں عجیب طرح کا رشتہ ہے پانیوں سے ملالؔ جدا جدا سہی سب ایک ہی بھنور میں ہیں (3) کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے (4) کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے واقعی نور لیے پھرتے ہیں سر پہ کوئی اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتے زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملالؔ کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے (5) جسے سناؤ گے پہلے ہی سن چکا ہوگا مجھے یقین ہے یہ ایسا واقعہ ہوگا یہاں تو اب بھی ہیں تنہائیاں جواب طلب وہ پہلے پہل یہاں کس طرح رہا ہوگا جو آج تک ہوا کچھ کچھ سمجھ میں آتا ہے کوئی بتائے یہاں اس کے بعد کیا ہوگا خلا میں پائیں گے تارا جو دور تک نکلیں پھر اس کے بعد بہت دور تک خلا ہوگا سمجھتا ہوں میں اگر سب علامتیں اس کی تو پھر وہ میری طرح سے ہی سوچتا ہوگا قدیم کر گئی خواہش جدید ہونے کی کسے خبر تھی یہاں تک وہ دائرہ ہوگا شکستہ پائی سے ہوتی ہیں بستیاں آباد جو اب قبیلہ ہوا پہلے قافلہ ہوگا پسند ہوں گی ابھی تک کہانیاں اس کو وہ میرے جیسا کوئی اب بھی ڈھونڈتا ہوگا فضا زمین کی تھی اتنی اجنبی کہ ملالؔ ستارہ وار کہیں راکھ ہو گیا ہوگا (6) کیسے جانوں کہ جہاں خواب نما ہوتا ہے جبکہ ہر شخص یہاں آبلہ پا ہوتا ہے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں نمی تیرتی ہے سوچنے والوں کے سینے میں خلا ہوتا ہے لوگ اس شہر کو خوش حال سمجھ لیتے ہیں رات کے وقت بھی جو جاگ رہا ہوتا ہے گھر کے بارے میں یہی جان سکا ہوں اب تک جب بھی لوٹو کوئی دروازہ کھلا ہوتا ہے فاصلے اس طرح سمٹے ہیں نئی دنیا میں اپنے لوگوں سے ہر اک شخص جدا ہوتا ہے میرے محتاج نہیں ہیں یہ بدلتے موسم مان لیتا ہوں مگر دل بھی برا ہوتا ہے چاندنی رات نے احساس دلایا ہے ملالؔ آدمی کتنے سرابوں میں گھرا ہوتا ہے (7) میں ڈھونڈ لوں اگر اس کا کوئی نشاں دیکھوں بلند ہوتا فضا میں کہیں دھواں دیکھوں عبث ہے سوچنا لا انتہا کے بارے میں نگاہیں کیوں نہ جھکا لوں جو آسماں دیکھوں بہت قدیم ہے متروک تو نہیں لیکن ہوا جو ریت پہ لکھتی ہے وہ زباں دیکھوں ہے ایک عمر سے خواہش کہ دور جا کے کہیں میں خود کو اجنبی لوگوں کے درمیاں دیکھوں خیال تک نہ رہے رائیگاں گزرنے کا اگر ملالؔ ان آنکھوں کو مہرباں دیکھوں (8) خود سے نکلوں تو الگ ایک سماں ہوتا ہے اور گہرائی میں اتروں تو دھواں ہوتا ہے اتنی پیچیدگی نکلی ہے یہاں ہونے میں اب کوئی چیز نہ ہونے کا گماں ہوتا ہے اک تسلسل کی روایت ہے ہوا سے منسوب خاک پر اس کا امیں آب رواں ہوتا ہے سب سوالوں کے جواب ایک سے ہو سکتے ہیں ہو تو سکتے ہیں مگر ایسا کہاں ہوتا ہے ساتھ رہ کر بھی یہ اک دوسرے سے ڈرتے ہیں ایک بستی میں الگ سب کا مکاں ہوتا ہے کیا عجب راز ہے ہوتا ہے وہ خاموش ملالؔ جس پہ ہونے کا کوئی راز عیاں ہوتا ہے ٭ صغیرملال کے کلیات سے چند منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں : ہے ایک عمر سے خواہش کہ دور جا کے کہیں میں خود کو اجنبی لوگوں کے درمیاں دیکھوں ٭ زمانے بھر سے الجھتے ہیں جس کی جانب سے اکیلے پن میں اسے ہم بھی کیا نہیں کہتے ٭ ضرورت اس کی ہمیں ہے مگر یہ دھیان رہے کہاں وہ غیر ضروری کہاں ضروری ہے ٭ روشنی ہے کسی کے ہونے سے ورنہ بنیاد تو اندھیرا تھا ٭ تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پر ہر آدمی کا کوئی راز داں ضروری ہے ٭ بس اس خیال سے دیکھا تمام لوگوں کو جو آج ایسے ہیں کیسے وہ کل رہے ہوں گے ٭ ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے ٭ گھر کے بارے میں یہی جان سکا ہوں اب تک جب بھی لوٹو کوئی دروازہ کھلا ہوتا ہے ٭ تمام وہم و گماں ہے تو ہم بھی دھوکہ ہیں اسی خیال سے دنیا کو میں نے پیار کیا ٭ سب سوالوں کے جواب ایک سے ہو سکتے ہیں ہو تو سکتے ہیں مگر ایسا کہاں ہوتا ہے ٭ ایک رہنے سے یہاں وہ ماورا کیسے ہوا سب سے پہلا آدمی خود سے جدا کیسے ہوا ٭ سمجھتا ہوں میں اگر سب علامتیں اس کی تو پھر وہ میری طرح سے ہی سوچتا ہوگا ٭ شکستہ پائی سے ہوتی ہیں بستیاں آباد جو اب قبیلہ ہوا پہلے قافلہ ہوگا ٭ ایک لمحے میں زمانہ ہوا تخلیق ملالؔ وہی لمحہ ہے یہاں اور زمانہ ہے وہی ٭ میرے بارے میں جو سنا تو نے میری باتوں کا ایک حصہ ہے ٭ ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے ٭ اگر پڑ جائے عادت آپ اپنے ساتھ رہنے کی یہ ساتھ ایسا ہے کہ انسان کو تنہا نہیں کرتا حوالہ جات : ٭(کتابیات) 1۔پیمانہ ٔ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:406 2۔ پاکستان کرونیکل، ورثہ ،عقیل عباس جعفری،فضلی سنز، کراچی، 2010ء، صفحہ :697 3۔وفیات ناموران پاکستان، ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء،صفحہ: 425 4۔آشوبِ سندھ اور اُردو فکشن، سید مظہر جمیل،کراچی، اکادمی بازیافت 2002ء صفحہ: 312- 300 5۔غزلیں، صغیر ملال’’ فُنوُن‘‘ لاہور ،سالنامہ ، جون جولائی 1981ء ،صفحہ: 490 6۔ پاکستانی ادب ، از : ڈاکٹر امجد رشید ، اکادمی ادبیات ، اسلام آباد ، 2009ء ، صفحہ : 575 ٭(آن لائن /ویب سائٹس ) 1۔وِیکی پیڈیا ( اُردو) 2۔دنیا /کتابوں کی دنیا 24.10.2021/3856 3۔ سوانح و تصانیف4564/ ٭٭٭
تحریر : سعدیہ وحید (معاون مدیرہ :شعوروادراک خان پور )
حالیہ دَور میں ایک طبقے کے مطابق صحافت ایک نفع بخش کاروبار ہے اور اس کے لیے کسی قسم کی تربیت اور اہلیت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ ڈاکٹری، وکالت یا اس قسم کاکو ئی اور پیشہ ہوتو اس کے لیے باقاعدہ تربیت اور اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے اس شعبے سے منسلک لوگو ں کو جہاں بے شمار مالی ودیگر مسائل درپیش رہے ہیں ‘ وہاں اس شعبے سے منسلک چند احباب اور اداروں نے بھر پور ذرائع استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اربوں ، کھربوں روپے کی جائیداد بنائی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ بنایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اس شعبے نے خاصی ترقی کی ہے ۔صحافیوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔بعض جگہوں پر تعلیم اور معیار کو بھی خاص اہمیت نہیں دی گئی ۔ آئے روز کوئی نہ کوئی مبینہ صحافتی گروپ ایک دوسرے کو مبارک باد اور تصویری نمائش کے ذریعے خود کو زبردستی صحافی شمار کرتے پھرتے ہیں۔ البتہ تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تحصیل خان پورمیں گزشتہ اور حالیہ اَدوار میں نامور اور قد آور علمی و اَدبی شخصیات نے صحافتی میدان میں اپنے خطے کی بہتر نمائندگی کرتے ہوئے نمایاں خدمات سر اَنجام دی ہیں۔خان پور سے ممتاز روحانی شخصیت مولانا عبید اللہ سندھی ؒکے نواسے میاں ظہیر الحق دین پوری نے ہفت روزہ ’’راستہ‘‘کے کچھ شمارے شائع کیے ۔ سید محمد قاسم شاہ نے ہفت روزہ ’’دفاع ‘‘جاری کیا۔ اس سے پہلے چاچڑاں شریف سے مولانا عبد الحق نے ماہنامہ’’ الفرید‘‘ کا اجرا کیا ۔ مولانا عبدالواحد درخواستی مرحوم نے ماہنامہ’’ مخزن العلوم‘‘ نکالا ۔
مسعود احمد نقوی نے ہفت روزہ’’ صد ائے عوام‘‘، سیدمنور نقوی نے ہفت روزہ ’’الاستاذ‘‘ اورماہنامہ ’’ الجوہر‘‘ کے کچھ شمارے شائع کیے ۔ جبکہ منیر احمد دھریجہ اور ظہور احمد دھریجہ نے سرائیکی مجلہ ’’روہی رنگ‘‘ کے چند شمارے نکالے۔ غلام یسیٰن فخری نے ماہنامہ’’ سچار‘‘ کا ایک شمارہ خان پور سے اور بعد ازاں کراچی سے دو شمارے شائع کیے ۔ بدر منیر احرار نے ’’جیوے پاکستان نمبر‘‘ کے عنوان سے 1985-86ء میں دو شمارے ترتیب دیئے ۔ 80-1970ء کی دہائی میں حیدر قریشی نے’’ جدید اَدب‘‘ جاری کیا۔اس کے علاوہ اظہر اَدیب، ارشد خالد، سعید شباب، فرحت نواز، پروین عزیز، شیما سیال،شمسہ اختر ضیاء،صفدرصدیق رضی، نردوش ترابی، نذر خلیق، عمر علی بلوچ، مرید حسین راز جتوئی، ظفر اِقبال جتوئی، مجاہد جتوئی،محمد یوسف وحید، نذیر احمد بزمی اور دیگر احباب نے مل کر علمی و اَدبی کام کیا۔ اسی سلسلے کو ڈاکٹر محمود قریشی اور دیگر مخلص دوستوں نے مل کرماہنامہ ’’ اَدوار‘‘،اظہر اَدیب، ممتاز عاصم اور اَنوار فریدی نے ’’اُسلوب ‘‘اور ارشد خالد نے ’’عکاس انٹرنیشنل ‘‘ کے چند شمارے نکالے۔بعد ازاں مختلف اَدوار میں انفرادی، اجتماعی سطح پر تھوڑا بہت کام ہوتا رہا۔ جس میں متعدد ہفت روزہ، ماہ نامہ، سہ ماہی رسائل اورکالج مجلات شامل ہیں۔ اَدبِ اطفال کے حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں میں چند مجلات شائع ہوئے جن میں مجلہ ’’شاہین ‘ ‘ ایوب احمد دھریجہ نے ،’’اُمنگ‘‘ ، سجاد احمد فصیح نے، ’’قصہ قصولی ‘‘ جو بعد میں ’’چند ر تارے‘‘ کے نام سے شائع ہوا ‘ نذیر احمد بزمی نے چند شمارے شائع کیے ۔سینئر صحافی ،ایڈیٹر روزنامہ ’’نوائے مشتاق‘‘ اختر شاکر ملک نے ’’چلڈرن ٹائم ‘‘ کے 6شمارے شائع کیے ۔جام اظہر مراد نے’’ روہی رنگ ‘‘ اور ’’نوائے طلبہ ‘‘ کے چند شمارے جاری کیے ۔ لیکن یہ تمام احباب صحافت کا بھاری پتھر چوم کر رکھ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے بس کاروگ بھی نہیں تھا۔ 2007ء میں بچوں کے لیے ایک مجلہ ’’بچے من کے سچے ‘‘، حفیظ شاہد اور محمد یوسف وحید کی زیرِ ادارت شائع ہوا ۔ جو الحمد للہ گزشتہ چودہ سالوں سے ڈویژن بہاول پور میں ادبِ اطفال کے حوالے سے نمائندہ مجلہ ہے ۔
2020ء کے آغاز میں اُردو ، پنجابی اور سرائیکی زبان میں علمی و ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل کتابی سلسلہ ’’شعوروادراک‘‘ ، محمد یوسف وحید کی زیرِ ادارت شائع ہوا ۔ جس کے اب تک 6شمارے شائع ہو چکے ہیں ۔ راقم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مجلہ ’’بچے من کے سچے ‘‘ اور ’’شعوروادراک‘‘ سے بطور معاون مدیرہ ( اعزازی ) منسلک ہوں ۔ذیل میں خان پور کے چند صحافیوں کا مختصر تذکرہ پیش ہے ۔ ٭… ایم عبد الواحد افغانؔ ماہرِ تعلیم، ڈرامہ نویس اور معروف سینئر اَدیب، شاعر ہیں۔ مجلّہ ’’بچے من کے سچے‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ الوحید اَدبی اکیڈمی خان پور کے سرپرست ِ اعلیٰ ہیں۔کافی عرصہ سے رحیم یار خان میں مقیم ہیں۔ نثری مضامین ، تقاریر اور شاعری پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دے رہے ہیں۔ ٭…قمر اِقبال جتوئی مختلف اخبارات سے وابستگی کے دوران،نہایت عمدہ اور باصلاحیت صحافتی تجربہ، اُچھوتے اور منفرد فکر و خیال پر مشتمل کالم، مضامین اور مقامی اخبارات میں ادارتی اُمور اور ٹی وی چینلزمیں رپورٹنگ کا تجربہ۔ ٭…ڈاکٹر منظور احمد (مرحوم ) سینئر صحافی، پریس کلب خان پور کے بانیان میں شمار ہوتے تھے۔تین سال قبل وفات پاگئے ہیں۔ ٭… میاں خلیل احمد حامی عبیدیؔ (مرحوم ) میاں عبد الہادی ؒ کے فرزند، تحریک ِ آزادی اور تحریکِ ریشمی رومال، دین پور شریف سے متعلق تاریخی دستاویزی کتاب’’ یدِ بیضا‘‘ کے مصنف، نامور شاعر، اَدیب،سینئر صحافی، نظموں کا ایک مجموعہ’’ کہکشاں ‘‘شائع ہوچکا ہے۔ دین پور شریف یونین کونسل کے چیئر مین بھی رہے۔ ٭…چودھری محمد اسماعیل (مرحوم) سینئر صحافی، قومی اخبارات میں نمائندگی رہی۔ سیاسی اور سماجی حوالے سے فعال اور ملنسار انسان۔ انجمن صحافیاں رجسٹرڈ خان پور کے صدر بھی رہے۔ ٭…منیر احمد دھریجہ(مرحوم) ملنسار اور زبان و اَدب سے پر خلوص ‘محبت کرنے والے اور انسان دوست شخص، خان پور سے سرائیکی اخبار روزنامہ جھوک 1990ء میں ظہور دھریجہ کے ہمراہ جاری کیا ۔ ٭…مرزامحمد ارشد بیگ(مرحوم) مختلف اخبارات کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے۔ اَدبی اور سماجی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار اَدا کیا۔ کینسر کے مرض میں مبتلا رَہ کر کچھ سال قبل وفات پا گئے ۔ ٭… عارف افغان سینئر صحافی،1980ء میں روزنامہ وقت لاہور سے صحافت کا آغاز کیا۔ آج کل کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔سردار سراج احمد خاں کے فرزند ارجمند ہیں۔ خصوصی نمبر شائع کیا اور خان پور کی ٹیلی فون ڈائریکٹری بھی ترتیب دی ۔ ٭…چودھری عبد المجید(مرحوم ) انجمنِ صحافیان خان پور کے سینئرممبر تھے ۔ ’’نوائے وقت، سیادت، رہبر، مغربی پاکستان، آفتاب، سیاست، وفاق‘‘ اور دیگر اخبارات میں نمائندگی رہی۔ مختصراً خان پور کی صحافتی تاریخ میں شامل نئے اورپرانے محترم و معزز صحافیوں کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے ۔ تحصیل خان پور میں شعبہ صحافت سے منسلک شخصیات میں مجید سالک(مرحوم)، جام جان محمد(مرحوم)، مراد عاصم، محمد اسلم قمر(مرحوم)، محمد اسلم خان(مرحوم ) اشرف مغل، ریاض بلوچ،فیاض بلوچ، محمد فاروق بھٹی، زبیر سبحانی، خواجہ مسعود احمد صدیقی، ملک محمد سلیم، محمد رضوان اشرف، آصف دھریجہ، سمیع الحق بھٹہ،محمد علی، شاہد اِقبال جتوئی، افضل ثمر،احمد زبیر، مہر اللہ ڈتہ ، نذر محمد چاچڑ، عمران ساگر، محمد ہاشم عبد اللہ، محمد وسیم دھریجہ،نعمان نواز، مقصود بھٹی، ناصر حسین چغتائی، جام عبد المجید، اختر شیراز، سمیع خان پیرزادہ،ریاض زیدی، خالد کاشمیری، ڈاکٹر نثار الدین احمد سلیمی، جاوید اِقبال،، محمود احمد زاہد، نصرت شیخ، نذر چغتائی وغیرہ شامل ہیں ۔ ٭ (بحوالہ ـکتاب ’’خان پور کا اَدب‘‘ تحقیق و تالیف : محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور) ٭٭٭
روشنی ، علم اور آگہی کا سفر …’’شعوروادراک‘‘ تبصرہ نگار : مجاہد جتوئی (خان پور) (ماہرِ فریدیات ، نامور محقق ، دانشور )
’’شعوروادراک‘‘صرف اس کا نام تو نہیں کہ انسان صرف اپنی ذات کو پہچانے اور پھر اس ذاتی پہچان کا اشتہار بن جائے ۔ ’’شعوروادراک‘‘یہ بھی تو نہیں کہ انسان چہار اَطراف بلکہ شش جہات کا گہرا مطالعہ ، مشاہدہ کر کے کچھ بہتر سے بہتر تلاش کرے اور پھر اُسے یعنی شعورو اِدراک کی دولت کو ’ ’ذاتِ خاص ‘‘ سے ’’ فیضِ عام ‘ ‘تک لے جائے ۔ کتابی سلسلہ ’’’شعوروادراک‘‘کے مدیر محمد یوسف وحید جو کہ نام ہے محنت اور جستجو کا ، جو نامناسب ماحول ، مشکلات اور وَسائل کی کمی کو بہانہ نہیں بناتا بلکہ اندھیری غار میں راستہ تراشتا ہے ‘ روشنی کی طرف ، علم کی جانب اور آگہی کی سمت ۔ اُس کے نقاد اپنے زنگ آلود تیر ، تفنگ لیے ہمہ وَقت اُس پر حملہ آور رَہتے ہیں ۔ کوئی پوچھے’’اللہ کے بندو ! اگر آپ کے کشکول میں کچھ اچھا ہے تو پھر سامنے تو لائو ۔ یا بس تنقید اور طنز و تشنیع کے نیزے ، بھالے چلاتے ہی دُنیا سے چلے جائو گے‘ ‘۔ موبائل فون ڈائریکٹری جیسے’ ’غیر اَدبی کام ‘‘ کرتے کرتے بھی محمد یوسف وحید نے ’’ بچے من کے سچے‘ ‘ جیسا بچوں کا معیاری اَدبی میگز ین جاری رکھا جو تاحال جاری و ساری ہے ۔ ایسے کاموں کی مناسب تحسین اپنے مقامی ماحول میں نہ ملنے کے باوجود اُس کے کام کو ملکی سطح پر سراہا جاتا ہے اور سراہا جاتا رہے گا ۔ محمد یوسف وحید کی محنت اور جستجو اُسے کسی پل چین سے نہیں بیٹھنے دیتی ۔ وہ بے چین رہتا ہے ، اُسے جہاں سے بھی کچھ اَچھاملتا ہے ، وہ اُسے جمع کرتا ہے ، سجاتا ، سنوارتا ، نکھارتا اور اُسے کتاب کی شکل میں ایک دستر خوان بچھا کر سب کودعوتِ عام دیتا ہے ۔
محمد یوسف وحید کے چھوٹے موٹے(حقیقت میں بڑے ) کام تو چل ہی رہے تھے مگر اُس کے اندر کے مدیر نے ایک لمبی جست بھرنے بلکہ اونچی اُڑان کا فیصلہ کیا ۔ ملک بھر سمیت بالخصوص ضلع رحیم یار خان میں علمی ، اَدبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کا کتابی سلسلہ سہ ماہی’’شعوروادراک‘‘کے آغاز کا اعلان کیا تو ہم جیسے کو تاہ قامت ، بے ہمت لوگوں نے حسبِ سابق اُس کی بات کو شوخی ، شیخی اور ڈینگ ہی سمجھا ۔ ہم نے اُسے تھپکی نہیں دی بلکہ بے ہمت اور مایوس کرنے کے لیے سوال داغا ’’ یہ کیسے ممکن ہے ؟ ‘‘ نہیں جی ! یہ نہیں ہوسکتا ۔اس کے لیے تو کوہ قاف کی پریاں اور عفریستان کے عفریت درکار ہوں گے اور کچھ سونا ، چاندی کے پہاڑ بھی ۔ محمد یوسف وحید نے ہمیشہ کی طرح سُنا اور سُنتا رہا اور اِدھر اُدھر سے اَدب کے ہیرے موتی بھی ( خاموشی سے ) چُنتا رہا ۔ ایک ایک دروازے پر دستک دی ۔ بڑ ے بڑے ناموروں نے اپنے پھیلے ، بکھرے ہوئے اَسماء گرامی سے بھی بڑی مایوسی اُس کو دی تاکہ وہ گھٹنوں کے بَل بیٹھ جائے۔ بڑے بڑے ناموں اور اُس کے رُفقا ء کو ڈر تھا اور ڈر ہے کہ کہیں وہ اُن سے آگے نہ نکل جائے ۔مگر وہ تو آگے نکل چکا ہے ۔ جو لوگ اُسے اپنے قدموں یا گھٹنوں کے آس پاس دیکھنا چاہتے تھے ‘ اَب اُنہیں اُس کو دیکھنے کے لیے چہرہ مبارک اُوپر کرنا پڑتا ہے ۔ ’’ جو یندہ یا بندہ ‘‘ ( جو ڈھونڈتا ہے وہ پالیتاہے ) ’’شعوروادراک‘‘ کتابی سلسلہ نمبر 01جنوری تا مارچ 2020ء ۔ ایک گلدستہ ہے ، رنگارنگ پھولوں کا جو مدیر محمد یوسف وحید کی محنت اور جستجو کے دھاگے میں بندھا ہوا ہے ،’’شعوروادراک‘‘ پڑھنے سے ایک شعر یاد آتا ہے ؎ بے کار نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک حمد ، نعت ، مضامین ، اَفسانے ، انشائیے ، فن و شخصیت ، خصوصی مطالعہ ، شاعری ، تبصرے ‘ اُردو ، پنجابی اور سرائیکی کا مجلہ ’’شعوروادراک‘‘ علمی و اَدبی ، تعلیمی اور سماجی شعور کا وہ سفر ہے جس کے لیے الوحید اَدبی اکیڈمی خان پور 2004ء سے آپ کو اپنے ہم سفر رکھنا چاہتی ہے ۔ بقول علامہ اِقبال ؒ کے ؎ حادثہ وہ جو ابھی پردۂ اَفلاک میں ہے عکس اُس کا مرے آئینہ ٔ اِدراک میں ہے ٭ (بحوالہ : شعوروادراک ، شمارہ نمبر 2/3(اپریل تا ستمبر 2020ء ) مدیر : محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ص: 350) ٭٭٭
محسن نقوی …تعارف وکلام محمد یوسف وحید (مدیر: شعوروادراک خان پور )
شعر و ادب کی دنیا کا ایک معتبر نام محسن نقوی 5 مئی 1947ء میں سید چراغ حسین شاہ کے ہاں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔والدین نے ان کا نام غلام عباس رکھا ۔ ان کا تعلق ایک عام اور کم آمدنی والے گھرانے سے تھا۔ ان کے والدپہلے لکڑی کا کام اور بعد ازاں ایک ہوٹل پر کام کرتے تھے۔ محسن نقوی کے چھ بہن بھائی تھے۔ پرائمری تعلیم گھر کے قریب واقع پرائمری سکول نمبر 6 میں حاصل کی۔میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1جب کہ ایف اے اوربی اے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان سے کیا۔ایم اے گورنمنٹ کالج بوسن روڈملتان سے کیا۔نامور شاعر پروفیسر اسلم انصاری محسن نقوی کے اُستاد تھے۔ غلام عباس نے آٹھویں جماعت میں شاعری کا آغاز کیا تو اپنا قلمی نام محسن نقوی رکھ لیا۔ ڈیرہ غازی خان میں شفقت کاظمی، عبد الحمید عدم اور کیف انصاری جیسے غزل گو شعراء سے رہنمائی حاصل کی ۔علامہ شفقت کاظمی کا شمار مولانا حسرت موہانی کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ابتدائی زمانے میں ہی محسن نقوی کی شاعری نے ہم عصروں کو متوجہ کیا۔محسن نقوی نے کسی سے باقاعدہ اصلاح تو نہ لی مگر علامہ شفقت کاظمی کو اپنا منہ بولا استاد ضرور کہتے تھے۔ ملتان آنے کے بعد انہیں انواراحمد، عبدالرئو ف شیخ، فخر بلوچ ، صلاح الدین حیدر اور اصغرندیم سید جیسے دوستوں کی صحبت نصیب ہوئی ۔ یہ ان سب کے طالب علمی کازمانہ تھا۔ملتان کی ادبی،ثقافتی وسیاسی زندگی میں بہت تحرک تھا۔جلد ہی گھنگھریالے بالوں والا اور قہقہے بکھیرنے والا نوجوان محسن نقوی ملتان کی ادبی محفلوں کی جان بن گیا۔ محسن نقوی نے 1969ء میں ڈیرہ غازی خاں کے ہفت روزہ’’ہلال‘‘ میں اور ملتان میں روزنامہ ’’امروز ‘‘ کے لیے باقاعدہ ہفتہ وار قطعات اور کالم بھی لکھے ۔
1970ء میں ملک میں سیاسی گہما گہمی کا دَور تھا۔ترقی پسند سوچ رکھنے والے دیگر دانشوروں کی طرح محسن نقوی بھی پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ ہوگئے اور یہ وابستگی آخری سانس تک برقرار رہی۔اسی زمانے میں محسن نقوی نے ’’بندِ قبا‘‘کے نام سے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ متعدد شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔جن میں عذابِ دید ، خیمہ ٔ جاں ، برگِ صحرا ، موجِ ادراک ، طُلوعِ اشک ، فُراتِ فکر ، ریزۂ حرف ، رخت ِ شب ، رِدائے خواب اور حق ایلیا شامل ہیں ۔ محسن نقوی کو اقبالِ ثانی کا خطاب بھی ملا۔ 1980ء میں محسن نقوی لاہورچلے گئے ۔لاہور کے ادبی مراکز میں انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے وسیع مواقع میسر آئے۔محسن کی غزلیں اور نظمیں کافی مقبول ہوئیں اور وہ نئی نسل کے پسندیدہ شاعر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔اُس دور میں احمد ندیم قاسمی سے لیکر شہزاد احمد تک کئی نامور اُستاد شعرا موجود تھے۔محسن نقوی نے ان سب کی موجودگی میں اپنے منفرد اسلوب اور لب و لہجے کی بدولت اپنی پہچان کرائی۔غزل کے ساتھ ساتھ نظم اور رثائی ادب میں بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔’’دسمبر مجھے راس آتانہیں‘‘سمیت ان کی کئی نظمیں آج بھی ہرخاص وعام میں مقبول ہیں۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دَورِ حکومت میں تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ غلام عباس المعروف محسن نقوی کو 15جنوری 1996ء میں اقبال ٹائو ن کی بارونق مون مارکیٹ لاہور میں قتل کر دیا گیا۔محبت اور امن کا شاعر نفرت اور دہشت گردی کا نشانہ بن کر اپنے ہی ایک شعر کی عملی تصویر بن گیا۔ ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے محسن نقوی کی نمازِ جنازہ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے ناصر باغ لاہور میں پڑھائی۔ بعد ازاں اُردو کے عظیم شاعر محسن نقوی کواُن کے آبائی گاؤں ڈیرہ غازی خان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔ ٭ محسن مکمل عصری شعور کے ساتھ شعر کہتے تھے ۔ معاشرتی اُتار چڑھائو بھی ان کی شاعری کا اہم موضوع تھا۔محسن نقوی کو شاعرِ اہلِ بیت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ کربلا کے بارے میں ان کی شاعری کو پورے پاکستان میں ایک مقبولیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے کلام کوہر جگہ قبول کیا جاتا ہے اور بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ محسن نقوی نے شعری مجموعہ ’’ردائے خواب‘‘ کے دیباچے میںاپنی شاعری کا مرکزی نکتہ محبت اور امن کو قرار دیاہے ۔ بقول محسن نقوی: ’’زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں جی بھر کے محبت کرنے کی مہلت بھی نہیں ملتی خدا جانے لوگ نفرت کے لئے وقت کہاں سے بچا لیتے ہیں‘‘۔
محسن کی شاعری میں صرف پیار و محبت اور لب و رُخسار کی باتیں شامل نہیں ہیں بلکہ انہوں نے دنیا کے ان حکمرانوں کے خلاف بھی لکھا تھا جو اپنے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے۔محسن نقوی نے فلم ’’بازاِ حسن‘‘ کے لیے ایک گیت ’’لہروں کی طرح تجھے بکھرنے نہیں دیں گے‘‘ لکھا اور بہترین فلمی گیت نگار کا ایوارڈحاصل کیا ۔ محسن نقوی نے شعرو ادب سے وابستہ رہ کر اُردو غزل میں ایک منفرد پہچان بنائی ۔انہوں نے فنی زندگی میں بامعنی شاعری لکھ کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔ محسن کو اپنی شاعری کے ذریعے زبردست پذیرائی ملی جو اکثر واقعات کربلا کے گرد گھومتی تھی جس نے انہیں دنیا بھر میں شہرت ملی ۔ جداگانہ اُسلوب کے حامل محسن نقوی ہمیشہ اپنی شاعری میں سیاست اور مذہب پر بات کرتے اور حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور کارکردگی پر بات کرنے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے۔ ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی شاعری میں محبت کے معاملات پر قائم رہنے کے بجائے تنوع دکھانا تھا۔درحقیقت وہ ان حیرت انگیز شاعروں میں سے ایک تھے جو یہ دنیا ہر نسل میں پیدا نہیں کرتی۔محسن نقوی کے چند مشہور اشعار ملاحظہ فرمائیں : اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر ٭ جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا ٭ یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا، آوارگی اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی ٭ بچھڑکے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے ٭ وہ جس کا نام بھی لیا پہیلیوں کی اوٹ میں نظر پڑی تو چھپ گئی سہیلیوں کی اوٹ میں ٭ محسن نقوی کی چند مشہور نظمیں ملاحظہ فرمائیں : یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے جب دلوں میں داغ چمکتے تھے جب پلکیں شہر کے رستوں میں اشکوں کا نور لٹاتی تھیں جب سانسیں اجلے چہروں کی تن من میں پھول سجاتی تھیں جب چاند کی رم جھم کرنوں سے سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے جب ایک تلاطم رہتا تھا اپنے بے انت خیالوں میں ہر عہد نبھانے کی قسمیں خط خون سے لکھنے کی رسمیں جب عام تھیں ہم دل والوں میں اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر کچھ جلتے بجھتے لفظوں کے یاقوت پگھلتے رہتے ہیں اب اپنی گم سم آنکھوں میں کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی کچھ گرد آلود سے موسم ہیں اب دھوپ اگلتی سوچوں میں کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں اب اپنے ویراں آنگن میں جتنی صبحوں کی چاندی ہے جتنی شاموں کا سونا ہے اس کو خاکستر ہونا ہے اب یہ باتیں رہنے دیجے جس عمر میں قصے بنتے تھے اس عمر کا غم سہنے دیجے اب اپنی اجڑی آنکھوں میں جتنی روشن سی راتیں ہیں اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں جس عمر کے خواب خیال ہوئے وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی وہ عمر بتائے سال ہوئے اب اپنی دید کے رستے میں کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں کچھ یادوں کی برساتیں ہیں یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 709) ٭
(تھک جاؤ گی) پاگل آنکھوں والی لڑکی اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی کانچ سے نازک خواب تمہارے ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی سوچ کا سارا اجلا کندن ضبط کی راکھ میں گھل جائے گا کچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشم کھل جائے گا تم کیا جانو خواب سفر کی دھوپ کے تیشے خواب ادھوری رات کا دوزخ خواب خیالوں کا پچھتاوا خوابوں کی منزل رسوائی خوابوں کا حاصل تنہائی تم کیا جانو مہنگے خواب خریدنا ہوں تو آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں یا رشتے بھولنا پڑتے ہیں اندیشوں کی ریت نہ پھانکو پیاس کی اوٹ سراب نہ دیکھو اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی (ماخذ:منتخب شاہکار نظموں کا البم ، منور جمیل ، اشاعت: 2000ء ، ص: 453) ٭ (بھول جاؤ مجھے) وہ تو یوں تھا کہ ہم اپنی اپنی ضرورت کی خاطر اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں تیرہ و تار خواہش کی سنگلاخ راہوں پہ چلتے رہے پھر بھی راہوں میں کتنے شگوفے کھلے وہ تو یوں تھا کہ بڑھتے گئے سلسلے ورنہ یوں ہے کہ ہم اجنبی کل بھی تھے اجنبی اب بھی ہیں اب بھی یوں ہے کہ تم ہر قسم توڑ دو سب ضدیں چھوڑ دو اور اگر یوں نہ تھا تو یوں ہی سوچ لو تم نے اقرار ہی کب کیا تھا کہ میں تم سے منسوب ہوں میں نے اصرار ہی کب کیا تھا کہ تم یاد آؤ مجھے بھول جاؤ مجھے (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص:409) ۔۔۔ (چلو چھوڑو) چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے خمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش! غبار? ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہ چلو چھوڑو کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا مجھے احساس ہی کب تھا کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گی چلو چھوڑو وہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے تمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکن تمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیں چلو چھوڑو سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سے چلو چھوڑو مرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہے تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دو مرے خوابوں کو مرنے دو نئی تصویر دیکھو پھر نیا مکتوب لکھو پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو مرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو مری یادوں سے کچے رابطے توڑو چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 725) ٭
(تمہیں کس نے کہا تھا) تمہیں کس نے کہا تھا دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو اور اتنی دیر تک دیکھو کہ بینائی پگھل جائے تمہیں کس نے کہا تھا آسماں سے ٹوٹتی اندھی الجھتی بجلیوں سے دوستی کر لو اور اتنی دوستی کر لو کہ گھر کا گھر ہی جل جائے تمہیں کس نے کہا تھا ایک انجانے سفر میں اجنبی رہرو کے ہمرا دور تک جاؤ اور اتنی دور تک جاؤ کہ وہ رستہ بدل جائے (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 890) ٭ (تمہیں کیا) تمہیں کیا زندگی جیسی بھی ہے تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر آئنے چمکے تمہاری دید سے خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں سبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں تمہیں کیا تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنے تمہیں کیا تم نے کب سوچا کہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتی ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر کتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیں تمہیں کیا تم نے کب سوچا کہ تنہائی کے جنگل میں سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے تمہیں کیا تم نے کب سوچا کہ چہروں سے اٹی دنیا میں کس کا دل اکیلا ہے (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 1237) ٭ بہت دنوں بعد تیرے خط کے اداس لفظوں نے تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو مری رگوں میں انڈیل دی ہے بہت دنوں بعد تیری باتیں تری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں اجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں وصال وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر شریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیور سکھا گئی ہیں ترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریں بہت دنوں بعد پھر سے مجھ کو رلا گئی ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تک ترے زمانے لکھے ہوئے ہیں سبھی فسانے لکھے ہوئے ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ تیری یادوں کی کرچیاں مجھ سے کھو گئی ہیں ترے بدن کی تمام خوشبو بکھر گئی ہے ترے زمانے کی چاہتیں سب نشانیاں سب شرارتیں سب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میں خیال تھیں خواب ہو گئی ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوں بچھڑ کے تجھ سے کئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوں میں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورت ہوا میں تحلیل ہو گیا ہوں نہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزے کہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میں وہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کر اداس رہ کر نہ جانے کس رہ میں کھو گیا ہوں بچھڑ کے تجھ سے تری طرح کیا بتاؤں میں بھی نہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 739) ٭ (ایک نئے لفظ کی تخلیق) زندگی لفظ ہے موت بھی لفظ ہے زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں سانس بھی لفظ ہے سانس لینے کی ہر اک ضرورت بھی لفظوں کی محتاج ہے آگ پانی ہوا خاک سب لفظ ہیں آنکھ چہرہ جبیں ہاتھ لب لفظ ہیں صبح و شام و شفق روز و شب لفظ ہیں وقت بھی لفظ ہے وقت کا ساز و آہنگ بھی رنگ بھی سنگ بھی امن بھی جنگ بھی لفظ ہی لفظ ہیں پھول بھی لفظ ہے دھول بھی لفظ ہے لفظ قاتل بھی ہے لفظ مقتول بھی لفظ ہی خوں بہا لفظ دست دعا لفظ ارض و سما صبح فصل بہاراں بھی اک لفظ ہے شام ہجر نگاراں بھی اک لفظ ہے رونق بزم یاراں بھی اک لفظ ہے محفل دل فگاراں بھی اک لفظ ہے میں بھی اک لفظ ہوں تو بھی اک لفظ ہے آ کہ لفظوں کی صورت فضاؤں میں مل کر بکھر جائیں ہم اک نیا لفظ تخلیق کر جائیں ہم آ کہ مر جائیں ہم (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 524) ٭ مرے لیے کون سوچتا ہے جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے جدا جدا سب کی صورتیں ہیں سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے خواہشوں کے پنجر ہوس کے ٹکڑے حواس ریزے ہراس کنکر تلاشنا ہیں سبھی کو اپنے بدن کی شہ رگ میں قطرہ قطرہ لہو کا لاوا انڈیلنا ہے سبھی کو گزرے دنوں کے دریا کا دکھ وراثت میں جھیلنا ہے مرے لئے کون سوچتا ہے سبھی کی اپنی ضرورتیں ہیں مری رگیں چھلتی جراحت کو کون بخشے شفا کی شبنم مری اداسی کو کون بہلائے کسی کو فرصت ہے مجھ سے پوچھے کہ میری آنکھیں گلاب کیوں ہیں مری مشقت کی شاخ عریاں پر سازشوں کے عذاب کیوں ہیں مری ہتھیلی پہ خواب کیوں ہیں مرے سفر میں سراب کیوں ہیں مرے لیے کون سوچتا ہے سبھی کے دل میں کدورتیں ہیں (ماخذ:منتخب شاہکار نظموں کا البم ، منور جمیل ، اشاعت: 2000ء ، ص: 455) ٭
Mohsin Naqvi
(ہوا اس سے کہنا) ہوا صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا کہ ہم جاگتے ہیں ہوا اس سے کہنا کہ جو ہجر کی آگ پیتی رتوں کی طنابیں رگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیں انہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیں ہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہنا کہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافر تجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیں ہوا اس سے کہنا کہ ہم نے تجھے کھوجنے کی سبھی خواہشوں کو اداسی کی دیوار میں چن دیا ہے ہوا اس سے کہنا کہ وحشی درندوں کی بستی کو جاتے ہوئے راستوں پر ترے نقش پا دیکھ کر ہم نے دل میں ترے نام کے ہر طرف اک سیہ ماتمی حاشیہ بن دیا ہے ہوا اس سے کہنا ہوا کچھ نہ کہنا ہوا کچھ نہ کہنا (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 676) ٭ (وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے) بہت دنوں سے وہ شاخ? مہتاب کٹ چکی ہے کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے بہت دنوں سے وہ گرد احساس چھٹ چکی ہے کہ جس کے ذروں پہ تم نے پلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھے اور اب تو یوں ہے کہ جیسے لب بستہ ہجرتوں کا ہر ایک لمحہ طویل صدیوں کو اوڑھ کر سانس لے رہا ہے اور اب تو یوں ہے کہ جیسے تم نے پہاڑ راتوں کو میری اندھی اجاڑ آنکھوں میں ریزہ ریزہ بسا دیا ہے کہ جیسے میں نے فگار دل کا ہنر اثاثہ کہیں چھپا کر بھلا دیا ہے اور اب تو یوں ہے کہ اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر مرے بدن پر سجے ہوئے آبلوں سے بہتا لہو نہ دیکھو مجھے کبھی سرخ رو نہ دیکھو نہ میری یادوں کے جلتے بجھتے نشاں کریدو نہ میرے مقتل کی خاک دیکھو اور اب تو یوں ہے کہ اپنی آنکھوں کے خواب اپنے دریدۂ دامن کے چاک دیکھو کہ گرد احساس چھٹ چکی ہے کہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 690) ٭ محسن نقوی کی اُردو غزلوں کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں : (۱) بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں ٭ (۲) یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی (فلم: ماٹی مانگے خون،1984 ) ٭ (۳) اتنی مدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم پھرتے ہو اتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں الجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسنؔ تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 303) ٭ (۴) ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی (ماخذ: بیسویں صدی کی بہترین غزلیں ، ص: 192) ٭ (۵) میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شام درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسمان کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیری میں تیرے خط تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔ اس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 224) ٭ (۶) جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ہوئیں مفت میں ہم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ہوا میرے حال پہ حیرت کیسی درد کے تنہا موسم میں پتھر بھی رو پڑتے ہیں انسان تو پھر انسان ہوا اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئے جتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ہوا کل تک جس کے گرد تھا رقصاں اک انبوہ ستاروں کا آج اسی کو تنہا پا کر میں تو بہت حیران ہوا اس کے زخم چھپا کر رکھیے خود اس شخص کی نظروں سے اس سے کیسا شکوہ کیجے وہ تو ابھی نادان ہوا جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا یوں بھی کم آمیز تھا محسنؔ وہ اس شہر کے لوگوں میں لیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ہوا ٭ (۷) اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا آگ کی ضد پہ نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے راکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والے اب تو ابرو کا اشارا نہیں دیکھا جاتا کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔ دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا (ماخذ: پاکستانی ادب ، ڈاکٹر امجد رشید ، اکادمی ادبیات اسلام آباد ، 2009ء ، ص: 663) ٭ (۸) ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لئے میں شہر بھر میں اکیلا ادھر ادھر آنکھیں شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں میں زخم زخم ہوا جب تو مجھ پہ بھید کھلا کہ پتھروں کو سمجھتی رہیں گہر آنکھیں میں اپنے اشک سنبھالوں گا کب تلک محسنؔ زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں (ماخذ: اُردو ادب ، اقبال حسین ، اشاعت: اقبال حسین پبلشرز ، 1996ء ، ص: 59) ٭ کلیاتِ محسنؔ نقوی سے پچاس منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں : 1 مسکرایا نہ کر کہ محسن پر یہ سخاوت گراں گزرتی ہے 2 جو دوستی نہیں ممکن تو پھر یہ عہد کریں کہ دشمنی میں بہت دور تک نہ جائیں گے 3 تیرا محسنؔ ملامت کی بارش میں تَر جرم یہ ہے کہ فنکار ہے اور کیا؟ 4 سیلِ خوں اب کے بہت تیز ہے محسنؔ میرے شہر کا شہر گیا، گھر کی خبر کیا رکھنا 5 شوق سے توڑ دیجے تعلق مگر راستے کی ملاقات باقی رہے 6 جہنم جھیلنے سے بھی کٹھن ہے اَنا کو خوگرِ بیداد کرنا 7 ہجر کی رُت عذاب ہے محسنؔ عادتیں سب بدل گئیں اُس کی 8 بارشِ سنگ میں جب قحطِ نمُو یاد آیا تیرا سچ بولتا، بے باک لہُو یاد آیا 9 محسنؔ جب بھی چوٹ نئی کھا لیتا ہوں! دل کو یاد آتے ہیں زخم پُرانے کیوں 10 محسنؔ اُس نے دل کا شہر اجاڑ دیا میں سمجھا تھا بخت سنورتا جاتا ہے 11 سب سے ہٹ کر ہی منانا ہے اُسے ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی 12 محسنؔ غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں ملبے میں دَب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے 13 نجانے راکھ ہوئی کتنے سورجوں کی تپش ہماری برف رگوں میں لہو پگھلنے تک 14 دل جو ٹوٹے تو سرِ محفل بھی بال بے وجہِ بکھر جاتے ہیں 15 شہر کی بھیڑ میں کھلتے ہیں کہاں اُس کے نقوش آؤ تنہائی میں سوچیں کہ وہ کیا لگتا ہے 16 اِک روز تری پیاس خریدے گا وہ گھبرو پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا 17 ہم تو چُپ ہیں مگر زمانے کی حشر سامانیاں نہیں جاتیں 18 ہم انا مست، تہی دست بہت ہیں محسنؔ یہ الگ بات کہ عادت ہے امیروں جیسی 19 جب تری دھن میں جِیا کرتے تھے ہم بھی چپ چاپ پھرا کرتے تھے 20 یوں دیکھتے رہنا اُسے اچھا نہیں محسنؔ وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر، تیری آنکھیں 21 سب اہلِ شہر پھر درِ دشمن پہ جھک گئے محسن کھلا کہ شہر کی تقدیر ہم نہ تھے 22 کج کلاہوں سے لڑ گئے محسنؔ ہم بھکاری حسینؑ کے دَر کے 23 نوکِ سِناں پہ کیوں نہ سجے اپنی سرکشی جُز شہریار شہر میں اپنا عدُو ہے کون؟ 24 خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم پھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا 25 محسنؔ تکلفات کی غارت گری نہ پوچھ مجھ کو غمِ وفا تجھے فکرِ معاش ہے 26 تِری آنکھ کو آزمانا پڑا مجھے قصہِ غم سنانا پڑا 27 یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا 28 کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑآ 29 کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی وَرق وَرق پہ بکھرتا گیا مرا چہرہ 30 صبح دَم شہر کی شورش تیرے دم سے ہوگی رات پچھلے پہر عالمِ ہُو میرا ہے 31 آسماں سمجھ رہے تھے اُسے شہرِ جاں کے لوگ مشکل اتھا اس قدر کہ میرے اپنے فن سا تھا 32 اُن پر تو قرض ہیں مرے حرفوں کے ذائقے اب جن کو آ گئیں بڑی باتیں بنانیاں 33 آہٹ سنی ہوا کی تو محسنؔ نے خوف سے جلتا ہوا دِیا تہِ داماں چھپا لیا 34 بستی کے سبھی لوگ سلامت ہیں تو محسنؔ آواز کوئی اپنے سِوا کیوں نہیں آتی 35 رویا ہے اس قدر کہ اب آنکھیں گلاب ہیں وہ شخص روٹھ کر بھی نشیلا دکھائی دے 36 مشکل کہاں تھے ترکِ محبت کے مرحلے اے دل مگر سوال تری زندگی کا تھا 37 جانتے ہیں وہ بے وفا ہے مگر دل پہ اب اختیار بھی تو نہیں 38 آنکھوں میں ایک اشک ہے باقی ہوائے شام یہ آخری دِیا ہے اِسے مت بجھائیو 39 کبھی تُو محیطِ حواس تھا، سو نہیں رہا میں ترے بغیر اُداس تھا، سو نہیں رہا 40 اُسے لُبھا نہ سکا، میرے بعد کا موسم! بہت اُداس لگا، خال و خد سنوار کے بھی 41 سفر تنہا نہیں کرتے! سُنو ایسا نہیں کرتے 42 دِیا خود سے بُجھا دینا ہوا کو اور کیا دینا 43 رَگوں میں زہر بھر لینا بدن آباد کر لینا 44 کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔ دل پہ اُس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا 45 ٹھہر جاؤ کہ حیرانی تو جائے تمہاری شکل پہچانی تو جائے 46 راحتِ دل، متاعِ جاں ہے تُو اے غمِ دوست جاوداں ہے تُو 47 میں شکستہ آئنوں کے شہر میں پھرتا رہا ہاتھ میں تیرا پتہ، پاؤں میں چبھتی کِرچیاں 48 تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد 49 خود کشی کو بھی رائیگاں نہ سمجھ کام یہ بھی ہے کر گزرنے کا 50 اُس کے خال و خد کی تشبیہیں نہ پوچھ رنگ، رِم جھم، روشنی، رعنائیاں ٭٭٭ حوالہ جات : (کتابیات) 1۔پیمانہ ٔ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:386 2۔ردائے خواب ، محسن نقوی ، ماورا پبلشرز لاہور 3۔ کلیاتِ محسن ، بک کارنر جہلم 4۔ کلیاتِ محسن (مذہبی کلام ) 5۔خطباتِ محسن (تقاریر)منہاج الصالحین لاہور (سوشل میڈیا /ویب ) 1۔ ریختہ ڈاٹ او آر جی ( محسن نقوی ) 2۔ وِیکی پیڈیا ( انگلش/اُردو ) ، محسن نقوی 3۔پاک میڈیا ، محسن نقوی 4۔اُردو نظمیں /محسن نقوی، بائیو گرافی 5۔اُردو کلاسک ، فیس بک (گروپ ) 6۔ریختہ بلاگ پوسٹ ٭٭٭
حیدر قریشی کی اَفسانہ نگار ی تحریر : معظمہ شمس تبریز ( رحیم یار خان )
اپنی تعلیم کے سلسلے میں ، میں تو رحیم یار خان کی ہو کر رہ گئی ہو ں اور میر ا اَگلا پڑائو مدینتہ الاولیاء ملتان شریف ہے مگر میرا آبائی مسکن گڑھی اختیار خان ہی ہے۔ فطری طور پر اپنے شہر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان لینے کی خواہش بہت رہی اور مجھے یہ تجسس اور جستجو کی خو لگانے میں بابا جانی کا کردار بہت زیادہ ہے جو پروفیسر نذر خلیق صاحب کے چہیتے شاگردوں میں سے ایک ہیں۔ خود بھی بڑے باذوق ادیب ، شاعر اور مقرر ہیں مگر ادب کے کسی موضوع پر بات کر لیں ان کی معلومات ایک آبشار کی طرح ادب کی تاریخ ، ارتقا یا سرد گرم سے آشنائی کرانے والے الفاظ و محاورات اور منتخب اشعار سے مزین مالائوں سے آپ کو مالا مال کر تے چلے جاتے ہیں ۔ اپنے اساتذہ کے حسنِ سلوک اور احسان کا ذکر خود پر فرض گردانتے ہیں جس میں پروفیسر نذر خلیق کا حصہ کم از کم ستر فیصد ضرور ہوتا ہے۔ ایک بار دل میں آئی کہ ان کے بارے میں جانا جائے ۔ انٹرنیٹ پر سرچ کیا تو بڑی خوشی ہوئی ان کی تحریروں میں ایک انٹرویو پر ہر بات دل کو لگنے والی ملکی ۔ یہ انٹرویو نامور ادیب ، خوب صورت شاعر اور درسِ عمل کے داعی حیدرقریشی سے کیا گیا تھا ۔ نام نوٹ کر لیا اور بابا جانی سے ملاقات کا انتظار کرنے لگی ۔ خوش قسمتی یہ ملاقات جلد ہوگئی ۔ فوراً پوچھا بابا جانی ! یہ حیدر قریشی صاحب کون ہیں ؟ کہاں سے ہیں اور کیسے ہیں ؟ جواب ملا ، ان کا ذکر جہاں سے بھی شروع کرون بہت اچھا لگے گا مگر جو بات سن کر تم یقینا خوشی سے اچھل پڑ و گی ۔ وہ یہ ہے کہ ان کے آبا و ٔ اجداد نے کافی عرصہ اسی قصبہ گڑھی اختیار خان میں گزارا ہے ۔ اس گئے گزرے دور میں بھی عمرانی نفاست اس خان دان کی پہچان تھی ۔ آج بھی قریشی خان دان یہاں پہ آباد ہے جو کہ نفاست کے ساتھ ساتھ زیورِ تعلیم سے بھی ۔ ان ہی میں سے بہت سے نوجوان میرے ہونہار شاگردوں کی فہرست میں اوّل اوّل ہیں جن میں سے میاں فہیم اور اس کے کزن قابلِ ذکر ہیں ۔ بات بالکل سچ ہوئی میں یہ سن کر پھولے نہیں سما رہی تھی کہ اتنے بڑے ادیب ، نثر نگار شاعر اور سب سے بڑھ کر بہت بڑے انسان کا تعلق میرے قصبے اور شہر سے ہے ۔ ساتھ ہی بابا نے کہا کل آپ کو ایک کتاب گفٹ کروں گا جس میں اس حوالے سے آپ کے سارے سوالوں کے جواب ملیں گے ۔ اب میں گھڑیوں کو انگلیوں پر گننے لگی ۔ خدا خدا کر کے شب بیتی ، صبح ناشتے کی میز پر ہی بابا جانی نے کہا : میں آپ کے تجسس سے خوب واقف ہوں ۔ لیجئے یہ رہی آپ کی کتاب ، میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ ناشتہ ختم کر لو ۔ بڑے چائو سے کتاب لی ، سرورق پر مشربِ اقبال سے مربوط ایک دریش کی تصویر پر نظر آئی ، کتاب کا نام تھا ’’ شعورو ادراک ‘‘ کتاب نمبر 4، اکتو بر تا دسمبر 2020ء ( حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ) ۔ نیچے بائیں جانب مدیر : محمد یوسف وحید تحریر تھا ۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ مدیر مجلہ شعوروا دراک ، محمد یوسف وحید نے میری طرح میدانِ ادب میں نو آموز شعرا ، نثر نگاروں اور کسی بھی حوالے سے ادبی کام کر نے والوں کا جو آج تک شاید سنی سنائی معلومات کو بند کمرے میں بیٹھ کر محقق کے ٹیگ سے ناانصافی کرنے والے لکھاریو ں کی سہل پسندی کے سبب صرفِ نظر کا شکار ہو چلے تھے ۔ اس کے برعکس محمد یوسف وحید نے قریہ قریہ گھوم کر ادب سے منسلک لوگوں کے دروازوں پر دستک دی اور اگر صاحب خود نہ مل سکا تو اس قیسِ ادب نے دوبارہ سہہ بارہ چکر کاٹنے سے بھی دریغ نہیں کیا ۔
٭ ان دنوں میں اپنا دوسرا افسانہ شروع کر چکی تھی ۔ کسبِ فیض کی نیت سے ان کے افسانوں کو چھٹ سے تلاشا ۔ تھوڑی دیر میں بہت جان لینے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ لہٰذا افسانوں کے عنوانات دیکھنے لگی جن کو اگر میں اپنے الفاظ میں بیان کروں تو وہ کچھ یوں ہے کہ حیدر قریشی افسانے کے ٹائیٹل میں ہی اپنا سودا بیچ لیتے ہیں ۔ ایسا جامع اور زندگی کے ساتھ فرداً فرداً ہر کسی سے جڑی کہانی کا سرنامہ بطور عنون بر تتے ہیں کہ ہزار کام چھوڑ کے بھی قاری اسے روایت دینے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ حیدر قریشی زندگی کے جمع نفی تمام پہلوئوں پر نہایت گہری نظر رکھتا ہے اور ہر وہ واقعہ بھی لازماً نوے فیصد میری اور آپ کی کہانی ہوتی ہے جس میں کبھی کبھی وہ قریقِ ثالث بن کر پند و نصائح کا دفتر سجاتا ہے اور بھٹکی انسانیت کو نہ صرف اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ توبتہ النصوح کی ترغیب بھی دلاتا ہے اور درست سمت میں سفر کے لیے راہیں بھی متعین کرتا چلا جاتا ہے ۔ اگلا مرحلہ کردار کا انتخاب ہے اور یہ تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ افسانہ نگار اپنے سارے کردار جو ادا کر رہا ہوتا ہے اسی طرح حیدر قریشی بھی بالکل ایک ایسے الگ پہچان بنا لیتا ہے ۔ جسے بابا جانی نے one man armyکہہ کر میرا وہ مسئلہ حل کر دیا ہے جو حیدر قریشی کی اس کیفیت کو بیان کر نے کے لیے کافی دن سوچ وچار میں مصروف رکھا تھا ۔ حیدر قریشی انسان کوتعارف معاشرے کے حوالے سے پیش کرنے کا ماہرِ اعظم معلوم ہوتا ہے ۔ وہ پہلے تو مسئلہ کا ادراک کرتا ہے ۔ اسے آپ کے سامنے رکھتا ہے اور آپ کی گفت گو کا حصہ بنانے میں کامیاب ہونے کے فوراًبعد از خود ا س سے جڑے مختلف سوال اُبھارتا ہے ۔ پھر ان کے حل کے لیے بہترین تجاویز اس خوب صورت انداز میں آپ کے سامنے رکھتا ہے کہ خواہ آپ کسی کو بتائیں نہ بتائیں مگر اپنے گریبان میں جھانکتے بھی ہیں ۔ احساسِ زیاں بھی کرتے ہیں اور خاموشی سے اصلاح بھی کر لیتے ہیں ۔ میرے خیال میں حیدرقریشی کے افسانوں کی ہر دلعزیزی کے پسِ پردہ ان کا وہی وَصف کار فرما ہے کہ وہ اُصولِ آمادگی پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں اور اس پر عمل پیر ابھی اس انداز سے ہوتے ہیں کہ قاری کے سامنے پہلے حاصل نعمتوں کا ذکر آتا ہے پھراچانک جون کی گرمی اور اس کی تمازت کی تصویر دکھائی جاتی ہے ۔ اس کی شدت کو واضح کرنے کے لیے روہی کی تپتی ریت اور جھلسا دینے والی لُو کا اتنا مفصّل نقشہ کھینچتے ہیں کہ قاری خود کو پیاسا روہیلا ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے بلکہ اسی میں سفر بھی کرنے لگتا ہے ۔ پھر وہ گویا ٹیلی پیتھی کے ذریعے بندے کا دھیان بندہ پرور سے جوڑتے ہیں ۔ دستِ دُعا بلند ہوتا ہے اور رِم جھم اور جل تھل ہوجاتا ہے ۔ قاری ربّ کا شکرادا کرتا ہے اور ایک سنگی بیلی دوست اور جانِ عزیز بن کر قاری کے ساتھ چلنے لگتا ہے اور اسے افسانے کے آخری لفظ تک ہر گز یہ خبر نہیں ہونے دیتا کہ یہ سارا ماحول اس نے محض اپنے زورِ قلم سے پید ا کیا ہے ۔ حیدر قریشی ایک ایسے ہم جولی خیر خواہ اور شریکِ سفر ثابت ہوتا ہے جو جھوٹی تسلی نہیں دیتا بلکہ یہ حقیقت آپ کے سامنے رکھ اُمید کا دامن تھامے رکھنے کا درس دیتا نظر آتا ہے کہ جو دُکھ جھیلے وہ سُکھ پاتا ہے جیسے رُت کے بعد سویر آتا ہے
روشنی کی کرن بطور استعارہ انسان کے شعورِاوّل سے جڑی ملتی ہے جسے کبھی کسی قسم کا گرہن لگ ہی نہیں سکتا ۔ حیدر قریشی نہایت فنکارانہ انداز میں اس استعارہ کی حقیقی حیثیت کھوج کر ہمارے سامنے رکھتے ہیں کہ ہم نہ صرف اس کے وجود کو مان لیتے ہیں بلکہ ہمہ قسم زبوں حالی کا شافی وکافی نسخہ بھی مان لیتے ہیں ۔ کیوں کہ خونِ جگر سے جلے دیپک کی اکیلی لو ہی پاس کا سارا اندھیرا اڑا لے جاتی ہے ۔ ’ ’ ہوا کی تلاش ‘‘ اس روشنی کا بہترین عکس پیش کرتی ہے ۔ ’’ گلاب کہانی ‘‘ سمبل ہے انسان کی لطافت کا جسے ہوس کے جبّر نے کثافت زدہ کر دیاہے ۔ بہر حال حیدر قریشی کا اوّل و آخر سبق سچ کو تلا ش کر کے اسے قربت کرکے زندگی کو زندہ کرنے بلکہ زندہ رکھنے کا ہے ۔ امید ہے نئے لکھاری اس بات کو نہ صرف سمجھیں گے بلکہ مشعلِ راہ بھی بنائیں گے ۔ ٭ (بحوالہ : مجلہ شعوروادراک خان پور ،شمارہ نمبر5(جنوری تا مارچ 2021ء) مدیر: محمد یوسف وحید ،ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور) ٭٭٭
شعوروادراک کا ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘.. .لائقِ صد تحسین کاوش تبصرہ : ڈاکٹر عادل سعید قریشی (ایبٹ آباد پبلک سکول ،ایبٹ آباد)
مدیر ’’شعوروادراک‘‘ ، محمد یوسف وحید کی طرف سے کتابی سلسلہ نمبر ۶،خاص شمارہ(اپریل تا جون 2021ء)، ’’ حفیظ شاہد نمبر‘‘کے چار شمارے موصول ہوئے۔جن میں سے تین شمارے بالترتیب ڈاکٹر عامر سہیل ،سہیل احمد صمیم اور محسن نذیر چوہان صاحب کو دیے اور ایک ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کی ڈاکٹر صابر کلوروی میموریل لائبریری کے شعبہ اُردو میں جمع کرادیا ۔اس فراخ دلی پر آپ کا دلی شکریہ ۔خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ پڑھا تو شرابِ طہُور کا لطف پایا۔ اللہ آپ کے اس مشن کے لیے غیبی ذرائع سے مدد فرمائے اور آپ کو اس عظیم کام کا اَجر اپنی شان کے مطابق عنایت کرے۔ آمین برادرم !آپ کا یہ رسالہ فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے اور آپ کی لگن اور کوشش کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے اس زرِکثیر کی انویسمنٹ ،آپ کے اخلاص ، وژن اور مشن کا عکاس ہے۔
حفیظ شاہدمرحوم سے تعارف اسی مجلہ کے توسط سے ہوا ۔ ایک اہم اور بڑی شخصیت سے ملاقات جہاں میرے لیے خوشی اور مسرت کا باعث بنی ہے‘ وہیں دل ہی دل میں یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ ایسے کتنے ہی اُردو زبان و ادب کے نابغہ ہائے روزگار ہوں گے جو ملک کے گلی کوچوں میں اور ان کی تخلیقات الماریوں اور بکسوں میں اوجھل پڑی ہوں گی۔جن سے خود ان کے اپنے اہلِ علاقہ ناواقف ہوں گے۔ کیوں کہ ہرکوئی حفیظ شاہد،قیس فریدی،سید محمد فاروق القادری تھوڑے ہی ہوتا ہے کہ جن کو محمد یوسف وحید میسر آ جائے۔ وطنِ عزیز کو جس قدر ذہنی،فکری اورلسانی ہم آہنگی کی ضرورت اکیسیویں صدی کی ان دو دہائیوں میں محسوس ہو رہی ہے ‘شاید اس سے قبل کبھی نہ ہوئی ہو۔البتہ اس فکری، قلبی اور ذہنی یگانگت کے لیے کئی ذرائع اور وسائل استعمال میں لائے جا سکتے ہیں ۔ایک تجویز میرے پیشِ نظر ہے جو میں آپ کے مجلہ کے توسط سے اہلِ فکر ونظر کی خدمت میں پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں کہ پاکستان کے ان عبقری حضرات کی تخلیقات اور مطبوعات کو یونیورسٹی کے درجہ پر ایک دوسرے کے ساتھ متعارف کرایا جائے۔ان حضرات پر مختلف یونیورسٹیز میں ایم فل اور بی ایس کے درجوں پر مختلف جہتوں اور عنوانات کے تحت تحقیقی اور تنقیدی کام کرایا جائے ۔اس طرح پاکستان کے ایک علاقے کے شعرا اور ادباء کاتعارف پاکستان کے دوسرے شہروں کے ادیبوں اور شاعروں سے بھی ہو گااور ملکی سطح پر افہام وتفہیم بھی پیدا ہو گی نیز تخلیقی سطح پر بہتر ادبی کاوشیں منظرِ عام پر آئیں گی ۔ یقینا اس سرگرمی سے عوام الناس بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ یہاں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ مجلہ شعور ادراک اس حوالے سے بھر پور کام کر رہا ہے جو لائقِ صد تحسین ہے۔
شعور و ادراک کا تازہ شمارہ، کتابی سلسلہ نمبر ۶ ، ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ میں معروف شاعر حفیظ شاہد کی ادبی شخصیت اور ان کے ذاتی کوائف کے تمام پہلوئوں کا بھر پور احاطہ پیش کیا گیاہے۔ حالیہ شمارے میں لکھنے والوں کے پاس حفیظ شاہد کے فن و شخصیت کے حوالے سے نہ صرف عمدہ معلومات تھیں بلکہ تمام اہلِ قلم حفیظ شاہد ایسی بڑی شخصیت سے محبت اور احترام کا رشتہ بھی رکھتے تھے ۔مذکورہ خاص شمارے کے ذریعے میں ذاتی طور پر حفیظ شاہد مرحوم کے بارے میں جتنا جان پایا ہوںوہ بقولِ میر : پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی چھ شعری مجموعوں اور کلیات ’’ختمِ سفر سے پہلے ‘‘ کے خالق ، اُستادالشعراء حفیظ شاہد کی حمد ونعت سے شروع ہونے والا شعور وادراک انہی کی غزلوں پر ختم ہوا ہے۔۲۷۲ صفحات پر مشتمل خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہدنمبر ‘‘باذوق قارئین اور ادب کے طالب علموں کے لیے ایک مستند حوالہ ہے ۔ یقینا شعوروادراک کے دیگر شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی ایک سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔خصوصی شمارہ میں شامل تمام مضامین معیاری اور منظوم خراج ِتحسین بھی نہایت عمدہ ہیں ۔خصوصی شمارہ میں شامل حفیظ شاہد کا سوانحی خاکہ ‘ جو محترمہ سعدیہ وحید نے ترتیب دیا ہے ، نہایت خوب صورت اور عمدہ کاوش ہے ۔ خصوصی شمارے کے مطالعے سے حفیظ شاہد کے شخصی اَوصاف سے واقفیت کے ساتھ ساتھ ادبی مقام و مرتبہ بھی عام قاری کے سامنے آتا ہے۔ ڈاکٹر عامر سہیل کی نثر کا میں ہمیشہ سے مداح رہا ہوں،ان کا مضمون نہایت معروضی اور معیاری ہے ۔ انہو ں نے اپنے موضوع کے ساتھ خوب انصاف کیا ہے۔ ڈاکٹرمحمد نواز کاو ش نے بھی حفیظ شاہد کی شاعری کا متوازن جائزہ پیش کیا ہے ۔حیدر قریشی کے علمی و ادبی قد کاٹھ سے کون متعارف نہیں ۔حفیظ شاہد کی شاعری کے حوالے سے ان کا مضمون بھی متاثر کن ہے ۔ ہیں دفن اسی جگہ تری تاریخ کے نقوش بستی کے ساتھ ساتھ کھنڈر کا خیال کر کس قدر دل نشیں کہانی ہے میرے نینوں کی ،تیرے خوابوں کی مرحلہ درمرحلہ روداد مسافت انجام سفر اصل میں آغازِ سفر ہے صادق جاوید کا مضمون بھی خاصا وقیع ہے جس میں حفیظ شاہد کی شاعری کا ناقدانہ جائزہ لیاگیا ہے اورنہایت عمدہ انداز میں ان کی خدمات کو سراہاگیا ہے ۔زاہدہ نور نے جاندار مضمون میں حفیظ شاہد کو عمدہ خراجِ تحسین پیش کیاہے ۔ الغرض محمد یوسف وحید ‘ مدیر مجلہ ’’شعوروادراک ‘‘ کو خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ شائع کرنے پر دلی تہنیت اور ڈھیر وں دُعائیں۔ ٭٭٭
انجم اعظمی…تعارف و کلام تحقیق و تدوین : محمد یوسف وحید (مدیر:شعوروادراک خان پور)
سر میں سودا سہی،سر پھوڑنے اب جاؤں کہاں اس خرابے میں جہاں کوئی بھی دیوار نہیں انجم اعظمی ‘شاعر اور مصنف،جن کا ’لب ورخسار‘ کے نام سے محبت کی نظموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے ، ’شاعری کی زبان‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ پروفیسر انجم اعظمی (پیدائش: 2 جنوری 1931ء – وفات: 31 جنوری 1990ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اُردو کے ممتاز شاعر اور نقاد تھے۔ انجم اعظمی 2 جنوری، 1931ء کو فتح پور، اعظم گڑھ ضلع اُترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مشتاق احمد عثمانی اور والد کا نام عبد الاحد عثمانی تھا ۔ انہوں نے گور کھپو ر ، الٰہ آباد اور علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد 1952ء میں کراچی میں سکونت اختیار کی۔گورنمنٹ بوائز کالج ناظم آباداور کامرس کالج کراچی سے وابستہ رہے ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ، کراچی کے رُکن تھے ۔ان کے شعری مجموعوں میں’’ لب و رُخسار، لہو کے چراغ، چہرہ اور زیرِ آسماں ‘‘کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے’’ ادب اور حقیقت اور شاعری کی زبان ‘‘کے نام سے اشاعت پذ یر ہوچکے ہیں۔انجم اعظمی کو ان کے مجموعۂ کلام ’’چہرہ ‘‘پر 1975ء میں آدم جی ادبی انعام بھی عطا ہوا تھا۔انجم اعظمی 31 جنوری، 1990ء کو کراچی،پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
انجم اعظمی کی کتابوں کی تفصیل کچھ یوں ہے : (1) ادب اور حقیقت(تنقید) اشاعت گھر،کراچی جنوری 1979ء (2) شاعری کی زبان(تنقید) الباقریہ پبلیکیشنز، کراچی 1988-89ء (3) اعلی تعلیم کراچی اشاعت گھر 1980ء (4)زیرِآسماں (شاعری) کراچی اشاعت گھر 1980ء (5) لہو کے چراغ (شاعری) کراچی آرٹ اکیڈیمی، کراچی 1961ء (6)لب و رخسار (نظمیں) آرٹ اکیڈمی، علی گڑھ 1951-52ء (7)چہرہ ( شاعری ) 1975ء انجم اعظمی نے اُردو غزل اور نظم میں طبع آزمائی کی ہے ۔ اُردو غزل کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں : عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں سر پہ اک گنبد بینائی ہے کچھ اور نہیں کیوں ہوا مجھ کو عنایت کی نظر کا سودا آج رسوائی ہی رسوائی ہے کچھ اور نہیں اپنا گھر پھونک چکا اپنا وطن چھوڑ چکا یہ فقط بادیہ پیمائی ہے کچھ اور نہیں ہو سکے تو کوئی فردا کی بنا لو تصویر وقت جلووں کا تمنائی ہے کچھ اور نہیں آؤ خوش ہو کے پیو کچھ نہ کہو واعظ کو میکدے میں وہ تماشائی ہے کچھ اور نہیں ٭ فریبِ غم ہی سہی، دل نے آرزو کر لی برا ہی کیا ہے، اگر تیری جستجو کر لی غلط ہے، جذبۂ دل پر نہیں کوئی الزام خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے تمہارے رِند نے توبہ بھی روبرو کر لی وفا کے نام سے ڈرتا ہوں، اے شہِ خوباں تم آئے بھی تو نظر جانبِ سبو کر لی کہاں سے آئیں گے انداز بے پناہی کے ابھی سے جیبِ تمنا اگر رفو کر لی زمانہ دے نہ سکا فرصتِ جنوں انجم بہت ہُوا تو گھڑی بھر کو ہائے ہو کر لی ٭ انجم اعظمی چند نظموں کا نمونہ (خوش آمدید) آج اس بزم میں آئے ہو بڑی دھوم کے ساتھ بے خودی محو نظارہ ہے تمہاری خاطر یاد آتے ہیں وہ ایام جدائی ہم کو جنہیں ہنس ہنس کے گزارہ ہے تمہاری خاطر گو مع لطف سے خالی نہیں پندار جنوں یاں غم عشق کا یارا ہے تمہاری خاطر رنج اٹھانا تو کوئی بات نہیں ہے لیکن زہر پینا بھی گوارا ہے تمہاری خاطر ہار اور جیت کے مفہوم میں کیا رکھا ہے جیت کر بھی کوئی ہارا ہے تمہاری خاطر ترک شیراز ہو تم حافظ شیراز ہوں میں اب سمرقند و بخارا ہے تمہاری خاطر تم جو آئے ہو تو اس زیست کی لذت پا کر ہم نے عالم کو سنوارا ہے تمہاری خاطر آج ہم نے مہ و انجم کو بھی زحمت دی ہے آسمانوں سے اتارا ہے تمہاری خاطر لالہ و گل کو بہاروں کو سمن زاروں کو دیدہ و دل نے پکارا ہے تمہاری خاطر پھر یہاں شیشہ و ساغر سے چراغاں ہوگا پھر کوئی انجمن آرا ہے تمہاری خاطر (ما?خذ:لہو کے چراغ ) ٭ (سال نو) (علی گڑھ 31دسمبر50ء کی شب) اب رات ڈھل رہی ہے کوئی دو کا وقت ہے آنکھوں میں نیند جھول رہی ہے ابھی تلک لیکن میں سال نو کے لئے جاگتا رہوں امید کے چراغ جلاؤں نئے نئے بیٹھا ہوں خامشی کی نواؤں کو چھیڑ کر اپنے غموں سے آج بھی فرصت نہیں مجھے پلکوں پہ آج بھی تو لرزتے ہیں یہ دیے لیکن انہیں غموں سے نیا آستاں بنا وجہ سکوں ہے آج خیال گریز پا ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا بھی دے سکا جب دل کی دھڑکنوں سے ملے درس آگہی پھر کس لئے جنوں میں کوئی انتشار ہو نا کامیاں حیات کی شرما نہ جائیں گی اس دیس کی فضاؤں سے گر ہم کو پیار ہو ان مے کدوں سے کل بھی نہ تھا مجھ کو واسطہ جن میں لہو کے جام اٹھاتے ہیں حکمراں احساس کی نگاہ مگر دیکھتی ہے اب کچھ اور تیز گام ہوا کاروان شوق اور سال نو بھی ساتھ اسی کارواں کے ہے ان جھونپڑوں میں آج چراغاں نہیں تو کیا دو چار سال اور بھی امکاں نہیں تو کیا فصل بہار آئے گی جھومیں گی ڈالیاں پھولوں میں پات پات میں رنگت سمائے گی ہوں گے کبھی تو جام بہ کف خاص و عام سب ہر ہر نگاہ ساغر و مینا اٹھائے گی زلف حیات شوق سے پرچم اڑائے گی میں آج سال نو کے لئے جاگتا رہوں امید کے چراغ جلاؤں نئے نئے (ماخذ: لہو کے چراغ) ٭ شرابی (علی گڑھ1951ء) یہ مے کدہ ہے ترا اور میں شرابی ہوں سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں مجھے بھی آج مع ارغواں کی حاجت ہے سرک رہے ہیں رخ کائنات سے پردے دل و دماغ میں اک روشنی سی در آئی ہر ایک گھونٹ پہ کچھ زندگی کے راز کھلے محیط ہو گئی کون و مکاں کی گیرائی مگر یہ جام کے اندر بھی کیسی تاریکی بہت ہی تلخ ہے اپنا خمار بادہ کشی کہیں چراغ بجھا جل اٹھے کہیں فانوس وہی تضاد وہی ہے کشاکش ہستی حیات آج کہاں کھینچ کر مجھے لائی سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں حیات کے لئے کوئی شراب ہے کہ نہیں بس ایک بار تو ایسی پلا دے اے ساقی کہ ہوش آ نہ سکے تیرے پینے والے کو (ماخذ: لہو کے چراغ) ٭ (دیوداس) (کراچی 1960 ء) زندگی عشق کی وحشت بھرا افسانہ تھی میرے ہاتھوں میں وہ اک زہر کا پیمانہ تھی روح کا غم مع گلفام سے کم کیا ہوتا کوئی تریاک بجز وصل صنم کیا ہوتا کھو گئی پاربتیؔ روتی رہی چندر مکھیؔ زندگی لٹتی رہی راہ گزاروں میں مری غمگساروں کی بھی یاد آئی مگر بھول گیا اس کی بانہوں کے سوا کچھ نہ مجھے یاد رہا اک ابھرتی رہی تصویر خلا میں برسوں میں اکیلا ہی پھرا دشت وفا میں برسوں جل بجھا جسم کے ہم راہ دل سوزاں تک جان دینے چلا آیا ہوں در جاناں تک مر رہوں جیسے بے بس و لاچار مرے کیا قیامت ہے کہ یوں عشق کا بیمار مرے ناامیدی ہے کہ اب طاقت دیدار گئی رخ جاناں کی ہوس روح گرفتار گئی رات لو ختم ہوئی اور زباں بند ہوئی مجھ کو معلوم تھا خاموش سویرا ہوگا لوگ پھینک آئیں گے مجھ کو جہاں اس مرگھٹ پر موت کا چھایا ہوا گھور اندھیرا ہوگا چیل کوؤں نے مگر لاش کے ٹکڑے کر کے ہر طرف کوچہ ٔجاناں میں بکھیرا ہوگا (ماخذ:لہو کے چراغ ) ٭ کراچی (کراچی 1960ء) اک ہجوم بے کراں شہر کی سڑکوں پہ گلیوں میں رواں دن کے ہنگاموں کو رکھتا ہے جواں ایک جانب سلسلہ ہائے عمارات بلند جن کے مینارے فلک سے مل گئے ہیں جا بجا شہر کی سطوت کے عظمت کے نشاں دوسری جانب ہے بوسیدہ مکانوں کی قطار مدتوں سے گردش لیل و نہار ہے اس آبادی میں جن کی نوحہ خواں اے کراچی اے نگار جانستاں گو ترے رخ پر کھلی ہے چاندنی تیری گلیوں میں اندھیری رات ہے (ماخذ:لہو کے چراغ ) ٭ (اردو) زندگی بھیس بدل کر جہاں فن بنتی ہے میرؔ و غالبؔ کا وہ انداز بیاں ہے اردو کبھی کرتی ہے ستاروں سے بھی آگے منزل چشم اقبال سے گویا نگراں ہے اردو ساتھ انشا کے کبھی ہنستی ہے دل کھول کے وہ بہر فانی کبھی مصروف فغاں ہے اردو حاصل بزم ہے اور بزم کو تڑپاتی ہے جان مے خانہ ہے میخانہ ٔ جاں ہے اردو گاہ پروانے کی میت پہ کھڑی ملتی ہے صورت شمع جہاں گریہ کناں ہے اردو گاہ خوشیوں کے چمن زار میں جا بستی ہے موسم گل کی جہاں روح رواں ہے اردو محو گلگشت جہاں حور بہشتی مل جائے قابل رشک وہ گلزار جناں ہے اردو ہر غزل کوچہ ٔ جاناں سے زیادہ پیاری ہر نظر شعر ہے تصویر بتان اردو ہر نئی نظم نئے موڑ پہ لے جاتی ہے روح امروز ہے فردا کا نشاں ہے اردو دھل گئی کوثر و تسنیم کے پانی سے مگر جنت ارض کی مظلوم زباں ہے اردو باغباں مجھ کو اجازت ہو تو اک بات کہوں نغمہ بلبل کا ہے پھولوں کی زباں ہے اردو ملتے ہیں اس سے ہزاروں ہمیں تہذیب کے درس اس قدر ذہن پہ کیوں تیرے گراں ہے اردو اب بھی چھا جاتی ہے ہر روح پہ مستی بن کر اس خرابی میں بھی افسون جواں ہے اردو ٭ (ناامیدی کفر) تم جو مغرب کی جگالی سے کبھی تھکتے نہیں تم کو کیا معلوم ہے تخلیق کا جوہر کہاں فلسفی بنتے ہو اپنے آپ سے پوچھو کبھی کھو گیا ہے روح کا گوہر کہاں تم دل و جاں سے مشرق کی پرستاری کرو کیا برہمن کے سوا کچھ اور ہو کیا کسی کی مشرق و مغرب میں دل داری ہوئی بھوک سے بے حال ہیں جو ان کی غم خواری ہوئی عدل کی میزان جب ٹوٹی پڑی ہو درمیاں زندگی ساری کی ساری ہی ریاکاری ہوئی مغرب و مشرق کی ساری بحث میں تم ناامیدی کے سوا کیا دے سکے ناامیدی کفر ہے کفر سے بچتے بھی اور کفر ہی کرتے ہو تم تم تو ماضی حال و مستقبل کے بھی قائل نہیں دل کہے کچھ بھی مگر تم اس طرف مائل نہیں وہ جو مطلق ہے تمہارے واسطے سارے زمانے دے گیا تم بتاؤ تم نے اب تک کیا کیا ناامیدی کفر ہے کفر ہی کرتے ہو تم دل میں گر روشن ہو اس دن کی امید جستجو تم کو جب اپنے آپ سے ملوائے گی زندگی کرنے کو پیارے شش جہت کھل جائے گی (ماخذ:پاکستانی ادب، ڈاکٹر راشد امجد، اکادمی ادبیات اسلام آباد، 2009ء ) ٭ شاعر (کیٹس کی ایک تصویر دیکھ کر) (ترچنا پلی1952ء) نہ جانے کتنے ہی ماضی کے خواب بکھرے ہیں فسردہ بھیگی ہوئی سوگوار پلکوں پر جنوں ہے یا کہ خرد اس نگاہ کا مفہوم خلا میں ڈھونڈ رہا ہے کوئی نہ جانے کیا نگاہ دیکھ رہی ہیں پرے زمانے سے ہے کھویا کھویا ہوا رمز زندگی گویا فسانہ ٔ غم جاناں ہے یا غم دنیا مچل رہے ہیں ان آنکھوں میں آرزو کے شرار ان آنسوؤں میں نمایاں ہیں وقت کی لہریں سنائی دیتی ہے رہ رہ کے زندگی کی پکار لبوں کو گر ملی جنبش تو نغمہ پھوٹ پڑا کبھی نشاط کا جادو کبھی کوئی غم ہے خموشیوں میں ہے ایمان و آگہی کی جلا امید و بیم سے آگے نیا ہی عالم ہے سحر کا نور ہے اس کی نگاہ میں انجمؔ زمیں کے حسن کو شاداب کرنے آیا ہے (ماخذ:لہو کے چراغ ) ٭ (کئی صد ہزار برس کے خواب) ترے در سے گزرا تھا بارہا وہ کھلا نہیں وہاں در پہ پہرہ لگا تھا گردش حال کا میں ترے طلسم میں بند تھا مجھے تھا کسی سے نہ اپنے آپ سے واسطہ فقط ایک نوحہ بے اماں تھا سکوت میں وہ سکوت جس میں بھنور صداؤں کے بے شمار وہی گونجتے تھے وجود میں کوئی چشم شوق کو واقعے سر راہ اب بھی ملا نہیں تو گلہ نہیں کہ میں اپنی ذات کی انجمن میں ہر اک سے محو کلام ہوں مرے حال کی نہ اسے خبر نہ اسے خبر کہ یہ لوگ سادہ غریب مخلص و چارہ ساز یہی لوگ حرص میں مبتلا جو نکالیں کام فریب سے نہ ہو ان سا کوئی زمانہ ساز کبھی ان میں زہر انا کا ہے کبھی وہم کا کبھی جہل کا کبھی سانپ اندھی عقیدتوں کے لپٹ گئے ہمہ وقت رہتی ہے سیم و زر کی طلب انہیں کہ یہ خواجگان ورم سے رکھتے ہیں ساز باز جنہیں بندگان ورم کہیں تو بجا کہیں کہ وہ خواجہ کیا ہیں ورم کی کرتے ہیں بندگی انہیں مجھ سے ملنے کا شوق کیا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ اپنے آپ سے مل سکے یہ انہیں کے بارے میں تھا جو کھلا صحیفہ ٔہست و بود یہ بدلتے چہروں کے لوگ جن کا نہ اپنا چہرہ نہ خال و خط اسی کارواں میں شریک ہیں جو امید وہم کی راہ میں کئی صد ہزار برس سے ہے کئی بار ابھرے ہیں گرد سے کئی بار دھواں میں اٹ گئے وہ جو خواب تھے کئی صد ہزار برس کے خواب جو یقیں نہ تھے جو گماں نہ تھے وہ جو ان کے اپنے نگاہ و دل پہ عیاں نہ تھے کہ عیاں ہوئے تو بکھر گئے مگر ان کا اپنا وجود تھے لہو بن کے ان کی رگوں میں پیہم رواں بھی تھے تیرا در تو اب بھی کھلا نہیں مگر اک امید کا در کھلا کئی صد ہزار برس کا عرصہ انتظار گزر گیا وہ جو خواب تھے وہ جو خواب ہیں وہی خواب دل میں اتر پڑے نیا رنگ ہے شب و روز کا نئی تابش مہ و سال ہے ہوتے سب کے خواب جو میرے خواب عجب اس میں لطف وصال ہے (ماخذ:(1)سیپ’سہ ماہی میگزین‘، ص: 156 (2) فکرِ نو’سہ ماہی میگزین‘،نسیم درانی ،ص: 39) ٭ (علی گڑھ یونیورسٹی) مرکز علم و ہنر میکدۂ سوز و ساز سجدۂ شوق سے آباد ہے رندوں کا حرم جام در جام ہے صہبائے جنون حکمت دیکھنا ہو تو کوئی دیکھ لے ساقی کا کرم مے گساری کا یہ انداز نہ دیکھا ہم نے سب کے دکھ درد کا احساس نشے کا عالم ایک ہی آگ سے ہر روح جلا پاتی ہے ہو گئے ایک ہی شعلے میں شرارے مدغم اپنے ہر دور کی تحریک کا آئینہ لئے پھر اٹھاتا ہے علی گڑھ نئی دنیا میں قدم راہ دشوار میں اک قافلہ نکہت و نور سنگ خارا کی چٹانوں کے مقابل ہے کھڑا ٹوٹ جائے گا بہت جلد طلسم امروز نور فردا کے تبسم میں بدل جائے گا (ماخذ: لہو کے چراغ ) ٭
(خواب فراموش) دل کی دھڑکن سے عیاں ذہن کے پردوں میں نہاں دھندلا دھندلا سا وہ اک عکس ترے چہرے کا ایک مدت ہوئی دیکھا تھا تجھے خال و خط یاد نہ آئے مجھ کو صبح دم جیسے کوئی سوچ رہا ہو بیٹھا رات کیا خواب نظر آیا تھا اور اک عمر گزر جانے پر دفعتاً میری تمنا کی طرح آئینہ خانۂ تصویر میں آج جل اٹھیں تیرے خط و خال کی شمعیں ساری اور وہی رات کا بھولا ہوا خواب تیری آنکھوں ترے عارض ترے لب کی صورت صبح دم دیکھ رہا ہے کوئی ٭ (پھول کھلا بے حجاب) درد کی سوغات تھی راہ کے ملبوس تھے کانٹوں کے ہار موڑ بہت آئے ہیں نام رکھا دشت و در اور اسی دشت میں تو بھی تھی خانہ خراب میں بھی خانہ خراب ٹل ہی گئی ساعت قحط دمشق ہوش سوا ہے مگر ہوش نہیں آئے گا جیسے بہم شبنم و گل ہوں یوں ہی خواب عشق شبنم تعبیر سے موج جنوں خیز ہے چشم فسوں ساز نے ایک افسانہ کہا دل نے اسے سن لیا لمحۂ جاوید کی ایک ہی تفسیر ہے قصر زلیخا میں آج یوسف کنعاں کی پذیرائی ہے وصل کی بے تاب کھڑی آئی ہے حیلۂ پرویز ہے دوہا چراغ سحر ٹل ہی گئی ساعت قحط دمشق پھول کھلا بے حجاب جاگ اٹھے دشت و در رنج میں راحت میں بھی ایک ہی موسم کو ملا ہے ثبات شوق کی تنویر سے کیسے فروزاں ہیں بام میں نے لکھی کائنات دل کے اسیروں کے نام ٭
فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی برا ہی کیا ہے اگر تیری جستجو کر لی غلط ہے جذبہ ٔدل پر نہیں کوئی الزام خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے تمہارے رند نے توبہ بھی روبرو کر لی وفا کے نام سے ڈرتا ہوں اے شہ خوباں تم آئے بھی تو نظر جانب سبو کر لی کہاں سے آئیں گے انداز بے پناہی کے ابھی سے جیب تمنا اگر رفو کر لی زمانہ دے نہ سکا فرصت جنوں انجمؔ بہت ہوا تو گھڑی بھر کو ہا و ہو کر لی (ماخذ: لہو کے چراغ ) ٭ انجم اعظمی کی چند اُردو غزلیں وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا تو اپنے ہی جلووں میں گھرا آئے گا تا حشر یوں ہی منتظر دید رہوں چپکے سے کبھی آ کے بتا، آئے گا میں نامہ ٔ اعمال کھلا رکھوں گا رحمت کو تری جوش سوا آئے گا حسرت گہ عالم میں تمنا کا قدم الا کی طرف صورت لا آئے گا خالی بھی تو کر خانہ ٔ دل دنیا سے اس گھر میں مری جان خدا آئے گا دریا میں بہت لہر ہیں خوابیدہ ابھی جاگیں گی تو طوفان بڑا آئے گا محفل میں سبھی دوست نہیں آتے ہیں دشمن بھی کوئی دوست نما آئے گا اب تاب نہ لاؤں گا یہ اندیشہ ہے منظر جو کوئی ہوش ربا آئے گا نکلو بھی کبھی سود و زیاں سے ورنہ کوچے میں ترے کون بھلا آئے گا (ما خذ:سیپ، شمارہ نمبر 47، ص: 228) ٭
ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا زندگی ایک تماشا ہے تو دیکھا ہوتا دیکھتے گر ہمیں عالم کو بہ انداز دگر اور ہی دشت جنوں میں دل رسوا ہوتا کیا کیا اہل محبت نے مگر تیرے لیے ہم نے اک صحنٔ چمن اور بھی ڈھونڈا ہوتا تم بھی ہوتے مے و نغمہ بھی دل شیدا بھی اور ایسے میں اگر ابر برستا ہوتا ہنس کے اک جام پلاتا کوئی دیوانے کو پیار تو ہوتا مگر کاہے کو سودا ہوتا تذکرے ہوتے رہے چاک گریبانوں کے ہاں تری بزم طرب میں کوئی ایسا ہوتا تشنہ لب کون ہے گو جام نہ آیا ہم تک دور اک اور چلا خون جگر کیا ہوتا خاک نے کتنے بد اطوار کئے ہیں پیدا یہ نہ ہوتے تو اسی خاک سے کیا کیا ہوتا اس سے ملنا ہی غضب ہو گیا ورنہ انجمؔ در بدر پھرنے کا جھگڑا بھی نہ اٹھا ہوتا (ماخذ: لہو کے چراغ) ٭ میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے جو بھی ہوتا ہے بہ انداز دگر ہوتا ہے بھول جاتے ہیں ترے چاہنے والے تجھ کو اس قدر سخت یہ ہستی کا سفر ہوتا ہے اب نہ وہ جوش وفا ہے نہ وہ انداز طلب اب بھی لیکن ترے کوچے سے گزر ہوتا ہے دل میں ارمان تھے کیا عہد بہاراں کے لئے چاک گل دیکھ کے اب چاک جگر ہوتا ہے ہم تو ہنستے بھی ہیں جی جان سے جانے کے لئے تم جو روتے ہو تو آنسو بھی گہر ہوتا ہے سینکڑوں زخم اسے ملتے ہیں اس دنیا سے کوئی دل تیرا طلب گار اگر ہوتا ہے قافلہ لٹتا ہے جس وقت سر راہ گزر اس گھڑی قافلہ سالار کدھر ہوتا ہے انجمؔ سوختہ جاں کو ہے خوشی کی امید رات میں جیسے کبھی رنگ سحر ہوتا ہے (ماخذ: لہو کے چراغ) ٭ ایک سودا ہے لذت غم ہے آج پھر میری آنکھ پر نم ہے دل کو بہلا رہے ہیں مدت سے زندگی کیا عذاب سے کم ہے ذرہ ذرہ اداس ہے اس کا میرے گھر کا عجیب عالم ہے مہر و مہ پر کمند پڑتی ہے سوچ میں کوئی ابن آدم ہے تجھ سے پردہ نہیں مرے غم کا تو مری زندگی کا محرم ہے یہ جو اک اعتبار ہے تم پر کس قدر پائیدار و محکم ہے کل تو دنیا بدل ہی جائے گی آج ان کا یہ جور پیہم ہے دل نہ کعبہ ہے نے کلیسا ہے تیرا گھر ہے حریم مریم ہے (ماخذ: لہو کے چراغ) ٭ جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا سحر دم دامن دل بھر رہے گا علاج اس کا گزر جانا ہے جاں سے گزر جانے کا جاں سے ڈر رہے گا ہوا مشکل ترے عاشق کا جینا ترے کوچے میں آ کر مر رہے گا دل وحشی نے کب آرام پایا ستم کی آگ میں جل کر رہے گا حیات جاوداں ہو یا کہ دنیا ترا بندہ ترے در پر رہے گا نہ ہو عصیاں تو کیسا حشر کا دن کہاں پھر داور محشر رہے گا حقائق سے جو دل الجھا ہوا ہے وہی خوابوں کا صورت گر رہے گا کوئی تو خیر کا پہلو بھی نکلے اکیلا کس طرح یہ شر رہے گا نہ بزم مے کدہ باقی رہے گی نہ دست شوق میں ساغر رہے گا جو دن ہے آنے والا بے اماں ہے قدم گھر سے اگر باہر رہے گا کوئی تو آعظمی صاحب کو سمجھاؤ یہ گوشہ شہر سے بہتر رہے گا (ما خذ: سیپ، شمارہ نمبر 47، ص:35) ٭ عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں سر پہ اک گنبد بینائی ہے کچھ اور نہیں کیوں ہوا مجھ کو عنایت کی نظر کا سودا آج رسوائی ہی رسوائی ہے کچھ اور نہیں اپنا گھر پھونک چکا اپنا وطن چھوڑ چکا یہ فقط بادیہ پیمائی ہے کچھ اور نہیں ہو سکے تو کوئی فردا کی بنا لو تصویر وقت جلووں کا تمنائی ہے کچھ اور نہیں آؤ خوش ہو کے پیو کچھ نہ کہو واعظ کو میکدے میں وہ تماشائی ہے کچھ اور نہیں (ماخذ: لہو کے چراغ ) ٭ حوالہ جات : (کتابیات) 1۔پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص: 663 2۔ وفیات نامورانِ پاکستا ن ،ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص:176 3۔انجم اعظمی: حیات و خدمات، ڈاکٹر مشرف احمد 4۔دبستانوں کا دبستان کراچی (جلد اوّل)، احمد حسین صدیقی،کراچی، محمد حسین اکیڈمی، 2003ء، ص 83 5۔انجم اعظمی ’’لہو کے چراغ‘‘ کی روشنی میں،’’اُردو شاعری اور پاکستانی معاشرہ‘‘، ڈاکٹر فرمان فتح پوری،لاہور، الوقار پبلی کیشنز2007ء، ص: 225 – 216 6۔پاکستانی ادب، ڈاکٹر راشد امجد، اکادمی ادبیات اسلام آباد، 2009ء ) (رسائل ) 1۔ ماہنامہ’’ہم قلم‘‘ کراچی سالگرہ نمبرشمارہ 1961ء، ص 226 2۔عروسِ وطن، انجم اعظمی ،ماہنامہ’’افکار‘‘ کراچی، شمارہ 171-170 (اکتوبر ،نومبر 1965ء) ص: 72 (ویب سائٹ ) 1۔ ریختہ ڈاٹ او آر جی ۔ انجم اعظمی ، کراچی 56( ویب ) 1۔انجم اعظمی، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان (ویب) 2۔فریب ِغم ہی سہی دل نے آرزو کر لی (غزل)، انجم اعظمی، ہم وطن فورمز(ویب) ٭٭٭