Tag: خان پور

  • قابلِ تحسین کاوش …’’شعوروادراک ‘‘

    قابلِ تحسین کاوش …’’شعوروادراک ‘‘

    قابلِ تحسین کاوش …’’شعوروادراک ‘‘
    تبصرہ : علی رضا ( خان پور)
    خان پور سے علمی ، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا کتابی سلسلہ ’’ شعوروادراک‘‘، نوجوان ادیب محمد یوسف وحید کی قابلِ تحسین کاوشوں کا ثمر ہے ۔ ادب کے مشکل اور سنگلاخ راستوں پر سفر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ یہ صرف نگہ بلند ، سخن دل نواز اور جا ں پُر سوز رکھنے والے شخص کا ہی کام ہے ۔ باادب افراد ہی ادب کے میدان میں قدم رکھتے اور وقت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں ۔ایسے ہی باہمت ، محنتی اور ادب پرور ستاروں میں ایک نمایاں نام مجلہ ’’ شعوروادراک ‘‘ کے مدیر محمد یوسف وحید کا ہے ۔

    قابلِ تحسین کاوش …’’شعوروادراک ‘‘


    محمد یوسف وحید کی ادبی کاوش ’’ شعوروادراک‘‘کا خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کے مطالعہ کرنے کا موقع ملا ۔مضامین اور عمدہ کلام کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے ۔ حالیہ شمارہ میں خطے میں اُردو غزل کا قابلِ فخر حوالہ ، عمدہ شاعر حفیظ شاہد کے حالات ِ زندگی ، علمی وا دبی اور تخلیقی سفر کو نہایت مربوط اور خوب صورت حُسنِ ترتیب کے ساتھ شامل کیا ہے ۔ جس میں خصوصاً حفیظ شاہد کے شاگرد یاور عظیم کا مضمون ’’ میں اور اُستاذی‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ جس میں حفیظ شاہد کے ساتھ گزرے لمحات اور اپنے تجربات کو مفصل اور جامع انداز میں تحریر کیا ہے ۔ صفدر بلوچ کا مضمون نہایت عمدہ اور منفرد ہے ۔ جس میں حفیظ شاہد کے شخصی اَوصاف کو بیا ن کیا ہے ۔ مظہر عباس نے حفیظ شاہد کی کتب کا سرسری تعارف پیش کیا ہے ۔ حفیظ شاہد کے چھ شعر ی مجموعے (۱) سفر روشنی کا(۲) چراغِ حرف(۳) مہتابِ غزل(۴) یہ دریا پار کرنا ہے (۵) فاصلہ درمیاں وہی ہے ابھی (۶) سورج بدل رہا ہے ‘ کا تعارف اس عمدہ انداز سے پیش کیا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ مضمو ن کو پڑھ کر قاری حفیظ شاہد کی شاعرانہ خدمات کو بطریقِ احسن سمجھ سکتا ہے ۔ عامر سہیل نے اپنے مضمون ’’ زندہ حقیقتوں کا شاعر…حفیظ شاہد ‘‘میں حفیظ شاہد کے فنِ شاعری پر بہترین جائزہ پیش کیا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر نواز کاوش صاحب کا مضمون ’’ توانا لب ولہجے کا شاعر…حفیظ شاہد ‘‘ کو خصوصی شمارے کی تمام تحریروں پر فوقیت حاصل ہے ۔ محترم حیدر قریشی نے مضمون ’’روشنی کا سفیر ‘‘ لکھ کر حفیظ شاہد کو خوب صورت لفظوں کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔ زاہد ہ نور کا مضمون ’’شاعر میرے شہر کا ‘‘ بھی نہایت منفرد اور جامع و بھر پور ہے ۔

    Yousuf Waheed
    محمد یوسف وحید


    ’ شعوروادراک‘‘کے حالیہ خصوصی شمارہ میں سعدیہ وحید کی جامع اور عمدہ تحریر جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔محمد یوسف وحید نے حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام ’’حاصلِ غزل ‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیا ہے ۔ کلام کی دستیابی اور اس سے متعلق تمام مسائل کے حوالے سے بھی مفصل اَحوال شامل کیا ہے ۔ جس سے غیرمطبوعہ کلام کی دستیابی اور اس سے منسلک رکاوٹوںکے ساتھ ساتھ غیر ادبی اور غیر سنجیدہ لوگوں کی طرف سے کی جانے والی سازشو ں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے ۔ البتہ حفیظ شاہد کے غیر مطبوعہ کلا م کی اشاعت ایک مستحسن اور قابلِ مسرت عمل ہے جو اس خاص شمارے کی انفرادیت اور خصوصیت ہے ۔
    ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کے آخر میں سعدیہ وحید نے حفیظ شاہدکے چھ شعری مجموعوں سے دو دو اُردو غزلوں کاخوب صورت اور بے مثال انتخاب ترتیب دیا ہے جن سے حفیظ شاہد کے فکر و فن اور اُسلوب و معیار کو سمجھنے میں مد د ملتی ہے ۔حفیظ شاہد کے منتخب اور خاص طور پر غیر مطبوعہ کلام کی اشاعت سے شمارے کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔
    الغرض مجلہ ’’ شعوروادراک‘‘ادب کے درخشندہ دبستانوں میں ایک روشن چراغ ہے۔محمد یوسف وحید کی ادب دوستی کی عمدہ مثال مجلہ ’’ شعوروادراک‘‘ کے مکمل مطالعے کے بعد اس کے ادبی قد و قامت کا صحیح اندا زہ ہو تا ہے اور مدیر کی محنت ، ریاضت اور ادبی ذوق کا بھی پتہ چلتا ہے ۔
    ’’ اللہ کر ے زورِ قلم اور زیادہ ‘‘
    ٭٭٭

  • فہم و ادراک کا ترجمان … ’’ شعوروادراک ‘‘

    فہم و ادراک کا ترجمان … ’’ شعوروادراک ‘‘

    ’’ شعوروادراک ‘‘ کا خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ پر تبصرہ
    فہم و ادراک کا ترجمان … ’’ شعوروادراک ‘‘
    تبصرہ : مجاہد حسین ( گڑھی اختیار خان )

    وہ لوگ جن کے عزائم بلند ہوتے ہیں
    وہی عظیم وہی ارجمند ہوتے ہیں
    اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے ہمیں ادبی ذوق و شوق مشائخِ شاہ آباد کے فیضانِ نظر خصوصاً علامہ سیّد محمد فاروق القادری رحمتہ اللہ علیہ کی شفقت ، عنایت اور بندہ پروری سے نصیب ہوا۔ اس خصوصی عنایت و محبت کو قائم رکھنے میں اُستادِ محترم صادق جاوید صاحب کی انسان دوستی اور ادب پروری نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔
    اُستادِ محترم اپنے طلباء میں تحریک پیدا کرنے کے لیے مختلف رول ماڈلز کے تذکرے ، تجاویز اور مثالیں سامنے رکھ کر راہِ عمل میں پیش قدمی کے نت نئے طریقے آزماتے رہتے ہیں ۔

    قابلِ تحسین کاوش …’’شعوروادراک ‘‘


    بلاشبہ محمد یوسف وحید‘ مدیر ’’ شعوروادراک ‘‘ کو بھی ہمارے سامنے رو ل ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا جو غائبانہ تعارف سے کہیں زیادہ ہمہ صفت اوصاف کی حامل شخصیت ثابت ہوئے ۔ فروغِ ادب کے لیے ہمہ وقت تیار ، مختلف ادبی شہ پاروں کی تلاش ، نئے اور پرانے لکھنے والوں سے سماجی رابطہ اور بے لوث خد مات ایسے کام انہیں دوسرے ادیبوں سے ممتاز ثابت کرتے ہیں ۔محمد یوسف وحید جس طرح حوصلہ افزائی ، تھپکی میدان میں اُترے لوگوں کی مثالیں دے دے کر وہ بندے کو عمل اور پھر ادب سے جوڑتے ہیں‘ وہ بے مثال و باکمال ہے ۔ محمد یوسف وحید کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک عارف کا شعرملاحظہ فرمائیں:
    ارادوں کی اُڑانیںہیں ، فلک تسخیر کرتی ہیں
    جہاں میں ورنہ کوئی بھی، کبھی اُڑتا نہیں دیکھا
    محمد یوسف وحید سے ابتدائی تعارف اور شرفِ ملاقات ’’ شعوروادراک ‘‘ کا شمارہ نمبر ۵ ‘میںشامل علامہ سیّد محمد فاروق القادری کے لیے خصوصی گوشے کے حوالے سے ہوا ۔ محمد یوسف وحید نے کمال شفقت سے ترغیب دلائی ، حوصلہ بڑھایا ، رہنمائی فرمائی اور علامہ سیّد محمد فاروق القادری کی شخصیت کے حوالے سے ایک مضمون لکھنے کا اعزاز مجھ ایسے طفلِ مکتب کو حاصل ہوگیا ۔ جس کے لیے میں اُن کا تہہ دل سے مشکو ر ہوں ۔
    اُستادِ محترم صادق جاوید صاحب نے آئندہ ملاقات پر ’’شعوروادراک ‘‘ کا شمارہ نمبر ۶۔’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘عنایت فرمایا اور شمارے پر تبصرے لکھنے کا بھی فرمایا ۔ گزشتہ ملاقات کے نہایت خوش گوار تجربے سے یہ بات تو معلوم ہوچکی تھی کہ محمد یوسف وحید جو ٹھان لیتے ہیں وہ مکمل کرکے ہی دَم لیتے ہیں ۔ شعوروادراک کا تازہ شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کا سرورق دیکھا ۔ سرورق پر موجود حفیظ شاہد کی تصویر ایک واضح پیغام دے رہی تھی کہ مذکورہ شخصیت کا جو فیاضی خاکہ بن رہا ہے۔ وہ بھی ادب کے خزینوں کے مترادف مواد ملے گا اور بعد میں ہمارا یہ خیال صد فی صد درست ثابت ہوا ۔

    Yousuf Waheed
    محمد یوسف وحید


    تازہ شمارے کی حُسنِ ترتیب پر نظر ڈالی تو جن نامور لکھاریوں نے ہمیں براہِ راست یا بالواسطہ مدّاح اور مثبت طرزِ تحریر سے متاثر کر رکھا تھا‘ اُن کے اَسمائے گرامی دیکھ کر ’’ شعوروادراک ‘‘ کے علمی، ادبی، تحقیقی اور ذوق نواز ہونے کا یقین ہوگیا ۔ جس کو بعدازاں مکمل مطالعہ نے عین الیقین میں بدل دیا ۔البتہ ان میں محمد یوسف وحید ، یاور عظیم ، نذیر احمد بزمی ، شاہد اِقبال جتوئی ، مرز احبیب ، صفدر بلوچ اور نصرت جہاں صاحبہ سے تعارف بہت عرصے سے ہے ۔
    ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کا مطالعہ مدیر محترم کی ’’ اپنی بات ‘‘سے شروع ہو کر دلوں کی دنیا بدل کر رکھ دینے والے اشعار تک پہنچا تو ہمیں بے حد خوشی ہوئی اور ساتھ ہی محمد یوسف وحید کا ادبی قد کاٹھ ہماری نظر میں مزید اونچا ہوگیا ۔ خصوصی شمارہ میں مدیر محترم نے واقعی علمی اور ادبی سرمایہ محفوظ کر دیا ہے جو زندگی کرنے والوں کے لیے یقینا ایک کار آمد پند نامہ بھی ہے ۔ تمام تحریریں نہایت عمدہ اور قابلِ ستائش ہیں ۔ شمارے کی اہمیت و افادیت کومزید بہترسمجھنے کے لیے فہرست ملاحظہ فرمائیں :
    فہرست …خصوصی شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘۔ شعوروادراک شمارہ نمبر۶ (اپریل تا جون ۱۲۰۲ء)
    عنوان
    مصنف
    صفحہ
    ٭ حمدیہ / نعتیہ کلام

    حمد /نعت/مناجات/دُعا
    حفیظ شاہد ؔ
    5-9
    اپنی بات مدیر کے قلم سے ….
    محمد یوسف وحید -(مدیر)
    13
    ٭ شخصیت

    حفیظ شاہد …شخص و عکس
    سعدیہ وحید
    17
    حفیظ شاہد کا ادبی سفر
    محمد یوسف وحید ( مدیر)
    20
    دبستانِ خان پور کا قیمتی اثاثہ …حفیظ شاہد
    میگزین رپورٹ
    22
    حفیظ شاہد ۔ کچھ یادیں
    اظہر ادیب
    25
    میں اور اُستاذی
    یاور عظیم
    26
    اُردو غزل کا فخر …حفیظ شاہد
    نذیر احمد بزمی
    33
    یادوں کی کہکشاں اور حفیظ شاہد
    اظہر ادیب
    39
    سادہ مزاج دوست …حفیظ شاہد
    سعید شباب
    41
    اُردو غزل کا معتبر حوالہ …حفیظ شاہد
    مرزا حبیب
    43
    اُستاد الشعراء …حفیظ شاہد
    شاہد اقبال جتوئی
    47
    ادب کا سرمایہ …حفیظ شاہد
    رانا نصر اللہ ناصر
    49
    مشرقی روایات کا امین …حفیظ شاہد (تاثرات)
    محمد اکرم /اختر رسول چودھری
    51
    عمدہ تخلیق کار …حفیظ شاہد
    اکمل شاہد کنگ
    52
    حق و صداقت کا پیامبر …حفیظ شاہد
    صفدر بلو چ
    55
    ہمہ جہت شاعر …حفیظ شاہد
    نصر ت جہاں
    58
    ٭ فنی و فکری جہات

    منفرد اُسلوب کا شاعر …حفیظ شاہد
    غلام قادر آزاد
    61
    حفیظ شاہد کے کلام کا موضوعاتی جائزہ
    یاور عظیم
    66
    حفیظ شاہد کا فکری و فنی سفر
    سعدیہ وحید
    69
    حفیظ شاہد…فن و شخصیت
    مظہر عباس
    75
    حفیظ شاہد اور ’’ سفر روشنی کا ‘‘
    ڈاکٹر ارشد ملتانی
    78
    تازہ دم اور تازہ کار شاعر …حفیظ شاہد
    حسن اکبر کما ل
    80
    حفیظ شاہد کی کتب کا مختصر تعارف
    مظہر عباس
    81
    شاندار روایات کا امین …حفیظ شاہد
    ڈاکٹر ندیم احمد شمیم
    88
    حفیظ شاہدکی وطن سے محبت
    مجاہد جتوئی
    92
    حفیظ شاہد اور فنِ تاریخ گوئی
    نذیر احمد بزمی
    94
    محسنِ ادب و سفیرِ محبت …حفیظ شاہد
    معظمہ شمس تبریز
    97
    ٭ خصوصی مطالعہ
    زندہ حقیقتوں کا شاعر…حفیظ شاہد
    سیّد عامر سہیل
    101
    توانا لب ولہجے کا شاعر…حفیظ شاہد
    پروفیسر ڈاکٹر نواز کاوش
    106
    روشنی کا سفیر …حفیظ شاہد
    حیدر قریشی
    112
    تاریخ گوئی کی روایت اور قطعاتِ تاریخ کا مطالعہ
    مظہر عباس
    117
    معانی در معانی کا جہاں …حفیظ شاہد
    محمد صادق جاوید
    127
    شاعر میرے شہر کا
    زاہدہ نور
    132
    حفیظ شاہد…اہلِ فن کی نظر میں
    سعدیہ وحید
    137
    ٭ خراجِ عقیدت

    حفیظ شاہد… انسان دوست شخصیت
    حسنین ارشد
    186
    اُستادِ محترم حفیظ شاہد کے نام /حفیظ شاہد کی یاد میں
    اظہر عروج /شہباز نیئر
    187-88
    ٭ مدیر کے نام! (تبصرے/تجزیے/تاثرات)
    189-221
    حفیظ شاہد …فکر و فن
    سعدیہ وحید
    222
    ٭ حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام

    حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام …م۔ ی ۔ و
    227
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ اُردو غزلیات
    231
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ گیت ‘ملی نغمے
    248
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ پنجابی غزلیات
    250
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ فلمی گیت
    257
    منتخب اُردو غزلیات … سعدیہ وحید
    265

    idrak


    مجھے بتا کہ مرا حوصلہ کہاں کم ہے
    مری اُڑان کے آگے تو آسماں کم ہے
    جس طرح ہر چیز کی ایک مقامی اور بین الاقوامی قیمت ، اہمیت ، افادیت اور ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح ہر انسان کے قول ، فعل ، عقل ، شعور ،ظہور ، ذہانت ، ذکاوت اور فہم و ادراک کی عملی شکل اُس کے تخلیقی اور فکری شعور کی آگہی کا نام ادراک ہے ۔ جب ہم کسی بارے جان لیتے ہیں تو گویا وہ بات ہمارے علم میں اضافے کا باعث ہوتی ہے ۔بلاشبہ محمد یوسف وحید کی تخلیقی اور فکری شعور و آگہی کی عمدہ مثال مجلہ ’’ شعوروادراک‘‘ ہے ۔
    لسانیات اور ادبیات کے فروغ کے تحت الوحید ادبی اکیڈمی کے فورم سے مجلہ ’’ شعوروادراک ‘‘ میں حفیظ شاہدکے غیر مطبوعہ اُرد واور پنجابی کلام کو’’ حاصلِ غزل‘‘ کے عنوان سے ترتیب دینا نہایت عمدہ علمی و ادبی کارنامہ ہے ۔ اس اہم کام کو سر انجام دینے میں محمد یوسف وحید ایسے انسان دوست اور ادب پرور شخصیت ہی کو اوّلیت حاصل ہوسکتی تھی کہ جنہوں نے خالصتاً فروغ علم و ادب ، خلوص و محبت اور نیک نیتی کو شاملِ حال رکھتے ہوئے اور حفیظ شاہدکے ساتھ وفا داری نبھاتے ہوئے حالیہ شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ ترتیب دیا ہے ۔ خصوصی شمارہ نئے اور پرانے لکھنے والوں کی حفیظ شاہد سے محبتوں کا عکاس ہے ۔
    اُردو غزل کو جدید آہنگ و اُسلوب عطا کرنے والے حفیظ شاہد واقعی ایک نامور شخصیت ہوگزرے ہیں۔ حفیظ شاہد نے اپنے تخلیقی سفر سے کسی ایک فرد یا ایک جماعت کو متاثر نہیں کیا بلکہ علمی ادبی ،سماجی ،تعلیمی ،ثقافتی اوردیگر ہمہ جہت شعبوں اور ان سے منسلک طبقوں کوبھی متاثر کیا ہے ۔
    حفیظ شاہد کی ایک غزل ملاحظہ فرمائیں :
    کیا دیا جائے ہمیں انعام زیرِ غور ہے
    سُن رہے ہیں ہم، ہمارا نام زیرِ غور ہے
    ریت کے ٹیلے اُڑا کر لے گیا طوفانِ باد
    ساکنانِ دشت کا انجام زیرِ غور ہے
    دیکھیے کیا رنگ لائے منصفوں کا فیصلہ؟
    میرے بارے میں تِرا الزام زیرِ غور ہے
    موسمِ نا مہرباں کو اس زمیں پر بھیج کر
    وقت نے بھیجا ہے جو پیغام زیرِ غور ہے؟
    جو نگاہِ غیر میں بھی قابلِ تحسین ہو
    کیا کریں دنیا میں ایسا کام زیرِ غور ہے؟
    ایک دوراہے پہ آ کر رُک گیا ہے کارواں
    کون سی ہے شاہراہِ عام ، زیرِ غور ہے؟
    پوچھتے ہیں مجھ سے شاہدؔ میرے سارے ہمنشیں
    ان دنوں کیوں تلخیِ ایّام زیرِ غور ہے؟
    ان دو اشعار میں حفیظ شاہد نے شعو ر اور زمانے کے مسائل سے آگاہی کا انتظام کرد یا ہے ، ان اشعار میں شاعر کا پیغام دیکھئے کہ ایک تو وقت کی آندھی بے سرو سامان کر گئی ہے دوسرا پُرسانِ حال کوئی نہیں ہے اورہرطرف سے دِکھاوے کی خیر خواہی نظرا ٓتی ہے ۔ ہمیں انسان ہونے کا احترام بھی نصیب نہیں ۔بس ہمارا کیا بنے گا اس پر غور ہے ، کیسے بنے گا اس کی پروا نہیں ۔موجودہ حالات سے پوری دنیا پریشان ہے ۔ اپنے اور دوسرے معلوم ہونے کے باوجود بھی پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہوگیا ؟جب کہ مقامی اورملکی سطح پر مسائل سب کے سامنے ہیں اور پھر حفیظ شاہد وقت کے ہر پیشوا کو احساس باور کر ارہے ہیں کہ لوگ اس سے خوش نہیں ہیں ۔ یہ تازہ او ر ہر فرد کے مسائل ہیں ۔ یہ ایک آگہی ہے ۔ یہ ایک نوحہ ہے ۔ یہ ایک احساسِ زیاں ہے ۔ یہ خود کچھ کر نے کی ترغیب ہے اورہمیں خوشی ہے کہ یہ سارا پیغام محمد یوسف وحید کے وسیلے سے پھیل رہا ہے اور اصلاح و احوال کے راستے اور امکانات کا پتا دے رہا ہے ۔
    حالیہ خصوصی شمارہ میںحفیظ شاہد کے کلیات کے بعد کا غیر مطبوعہ کلام بھی پہلی مرتبہ ’’ حاصلِ غزل ‘‘ کے عنوان سے مدیر محترم محمد یوسف وحید نے ترتیب دیا ہے ۔حفیظ شاہدکے غیر مطبوعہ کلام کی دستیابی ، جملہ ترتیب ، پروف ریڈنگ اور خصوصاً کلام کے حُصول کے لیے صبر آزما مراحل اور مشکلات سے گزر کر محمد یوسف وحید نے اس اہم ذمہ داری کواحسن طریقے سے مکمل کیا ہے ۔ یقینا یہ عمل نہایت اہمیت کا حامل اور صد لائقِ تحسین ہے ۔
    اس سارے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کوملنے والی پذیرائی اصل میں اس عمل سے منسلک محنت ، جدوجہد اور خواب کی تکمیل کا حاصل وُصول ہے ۔ماشاء اللہ اس کامیابی ، پذیرائی اور عزت افزائی کا سہرا ’’شعوروادراک‘‘ کے ساتھ قلبی ، قلمی ، فکری اور شعوری طور پر وابستہ مخلصینِ ادب اور خصوصاً محمد یوسف وحید اور سعدیہ وحید کے سَر ہے ۔اللہ کریم محمد یوسف وحید کے خلوص ،جذبے اور حوصلے کو سلامت رکھے اور مزید استقامت نصیب فرمائے ۔ آمین
    محمد یوسف وحید کی نذر حفیظ شاہد کی ایک غزل کے چند اشعار :
    کٹھن حالات میں اپنے ارادوں کو جواں رکھنا
    ہمیں آتا ہے دل میں شعلہ ٔ غم کو نہاں رکھنا
    ہماری فکر تم چھوڑو ہمیں یہ کام آتا ہے
    اندھیروں میں بسر کرنا نظر میں کہکشاں رکھنا
    کہاں آسان ہے اہلِ سخن کی بھیڑ میں شاہدؔ
    جدا اَوروں سے اپنا طرزِ گفتار و بیاں رکھنا
    ’’حاصلِ غزل ‘‘ سے ایک اُردو غزل کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں :
    اس طرف اندھیرا ہے ، اُس طرف اُجالا ہے
    یہ مرا حوالہ ہے ، وہ ترا حوالہ ہے
    منتظر کبھی کا میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں
    اور یہ نہیں معلوم کون آنے والا ہے
    اس زمین پر کتنے قتل روز ہوتے ہیں
    جانے کیوں خموش اب تک آسمان والا ہے
    غور سے ذرا دیکھو ہر کتاب چہرے کی
    اک نیا صحیفہ ہے ، اک نیا حوالہ ہے
    اُس کو غیر ہم سمجھیں ، یا اُسے کہیں اپنا
    اُس کی بے نیازی نے مخمصے میں ڈالا ہے
    خود سے لا تعلق ہوں ، آپ اپنا دشمن ہوں
    کسی عجیب سانچے میں اُس نے مجھ کو ڈھالا ہے
    کیا ڈرے گا دل شاہدؔ وقت کے مصائب سے
    گردشوں کا خوگر ہے، سختیوں کا پالا ہے
    پنجابی غزل بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں :
    جندڑی ٹھیڈے کھاندی رَہ گئی
    منزل کول بُلاندی رَہ گئی
    وگدا رہیا چناں دا پانی
    سوہنی غوطے کھاندی رَہ گئی
    سونا لے گئی نال جوانی!
    والاں دے وچ چاندی رَہ گئی
    قسمت ، پلّے ککّھ نئیں چھڈیا
    اوہدی آس دی جاندی رَہ گئی
    دیمک موت دی ہَولے ہَولے
    جسم دا بُوٹا کھاندی رَہ گئی
    روڑھ کے لے گیا ہَڑ دا پانی
    خلقت رَولا پاندی رَہ گئی
    روندے رَہ گئے بُکھّاں مارے
    دُنیا جشن مناندی رَہ گئی
    یاد کسے دی دل دے ویہڑے
    شاہدؔ پیلاں پاندی رَہ گئی
    حفیظ شاہد نے زندگی کے آخری ایام میں کہی گئی غزلوں میںسے ایک غزل جو مضمون اور ابلاغ کے لحاظ سے منفرد اور کلاسیقیت سے بھر پور ہے ۔ ’حاصلِ غزل ‘‘ میں ’’حفیظ شاہد کی آخری غزل ‘‘ کے عنوان سے شامل غزل ملاحظہ فرمائیں :
    اے میری زندگی، خدا حافظ
    پھر ملیں گے کبھی، خدا حافظ
    اِک نیا گھر بسَا رہا ہوں میں
    اے مری بے گھری، خدا حافظ
    پھر نہ تجھ کو گلے لگائوں گا
    اے غمِ عاشقی، خدا حافظ
    جانے والے تجھے مبارک ہو
    اک نئی زندگی، خدا حافظ
    چُھپ گیا چاند ، بُجھ گئے تارے
    اے مِری چاندنی، خدا حافظ
    وقتِ رُخصت کسی کے ہونٹوں پر
    بس دُعا تھی یہی، خدا حافظ
    جس پہ تم ہوگئے خفا اتنا
    بات کچھ بھی نہ تھی، خدا حافظ
    آگئی تیرے سامنے شاہدؔ
    پھر سفر کی گھڑی، خدا حافظ
    الغرض ’’ شعوروادراک ‘‘اُردو ، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کا بہترین ترجمان ہے ۔’’ شعوروادراک ‘‘ مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح کا اعلیٰ ادبی اقدار کا پاسبان ، عکاس اور بالخصوص ہمارے خطے میں تخلیق ہونے والے ادب کا نمایاں اور نمائندہ حوالہ ہے ۔اللہ کریم اس علمی و ادبی کارواں کو قائم و دائم رکھے ۔ مدیر محمد یوسف وحیدکے عزم وحوصلے اور جواں جذبوں کی نذرشکیل اعظمی کا ایک شعر پیش ہے ۔
    ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے
    جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے
    ٭٭٭

    مجاہد حسین

    گڑھی اختیار خان

  • محمد یوسف وحید کی عمدہ تحقیقی کاوش .گلدستہ ٔ اَدب

    محمد یوسف وحید کی عمدہ تحقیقی کاوش .گلدستہ ٔ اَدب

    ڈویژن بہاول پور کے شعراء و اُدباء کا گلدستہ
    محمد یوسف وحید کی عمدہ تحقیقی کاوش …’’گلدستہ ٔ اَدب‘‘
    تبصرہ : نذیر احمد بزمی (خان پور )
    ’’گلدستہ ٔاَدب‘‘ ڈویژن بہاول پور (سابق ریاست بہاول پور) کے معروف ادباء وشعراء کے تعارف و احوال پر مبنی تذکرہ ہے جس کومحمد یوسف وحید نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے ترتیب دیا ہے۔ الوحید ادبی اکیڈمی کی طرف سے شائع ہونے والی اس کتاب میںسینکڑوں اہلِ علم و ادب کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں جو یقینا ایک بہترین کاوش ہے۔ اس عمدہ تحقیقی کاوش پر محمد یوسف وحید مبارک بادکے مستحق ہیں۔ کتاب کاسرورق دیدہ زیب ہے۔انتساب اہل خِرد کے نام ہے ۔ کتاب میں اُدبا و شعراکے نام، ولدیت ، تاریخ پیدائش، رابطہ نمبر ، ایڈریس اور اس کے تحقیقی و تخلیقی کام کے بارے میں بتایا گیا ہے جس کے ذریعے محققین اور عام قاری کو کسی بھی ادیب کے بارے میں ہر قسم کی معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ترتیب الف بائی ہے جس کی مدد سے تلاش کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ یہ کتاب تحقیق کے طالب علموں کے لئے ایک نعمت ہے، اس کی مدد سے وہ گھر بیٹھے لوگوں سے رابطہ کرکے تحقیقی کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں ۔ جس سے یقینا وقت اور پیسے کی بچت ہوگی ۔البتہ کتاب میں شعراء کے کلام اور نثر نگاروں کے اُسلوب کانمونہ دے دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا ، شاید کتاب کی ضخامت کے ڈر سے ایسا نہیں کیا گیا ، اس کے علاوہ کچھ معلومات اپ ٹو ڈیٹ نہیں ہیں۔ کتاب 2020ء میں شائع ہوئی ہے اور بہت سے شعراء و اُدباء کا 2018-19ء میں ہونے والاکام کی تفصیل شامل نہیںہے ۔حِصہ اوّل کے آخر میں ان شعراء و ادباء کے ناموں کی لسٹ بھی دی گئی ہے جن سے معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں۔

    waheed academy


    ’گلدستہ ٔادب‘ کا دوسرا حصہ اُردو غزل کے عمدہ حوالہ، اُستاد الشعرا ء اور 1400سے زائد صفحات پر مشتمل کلیات’’ختمِ سفر سے پہلے‘‘ کے خالق حفیظ شاہدکے بارے میں ہے ۔ 35صفحات پر مشتمل اس حصہ میں حفیظ شاہد کے بارے میں مختلف علمی و ادبی شخصیات کے مضامین کو شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے حفیظ شاہد کے فکروفن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔شہباز نیر اور اظہر عروج کا حفیظ شاہد کو منظوم خراج تحسین بھی کتاب کا حصہ ہے۔

    guldasta

    حفیظ شاہد کے بارے میں یاور عظیم، محمد یوسف وحید، مرزا حبیب، مجاہد جتوئی، محمد اکرم، اظہر ادیب اور رانا ندیم شمیم کی عمدہ تحریریں شامل ہیں۔ حفیظ شاہد کے کلام کا انتخاب بھی دیا گیا ہے۔حفیظ شاہد کا ایک شعر صاحب ِ ذوق لوگوں کی ۔نظر:
    قبروں پہ ہے چراغاں بستی میں ہے اندھیرا
    مُردوں سے ہے محبت، زندوں سے دشمنی ہے
    شہباز نیر کا حفیظ شاہد کو منظوم خراج تحسین
    وہ ایک صحرا نورد شاعر
    ہماری دھرتی کے جو سخن کا
    سنہرا ابرکرم بنا تھا
    وہ لفظ گر تھا، وہ بزم شعرو سخن میں
    لفظوں کا اعتبار و بھرم بنا تھا
    اُسے حریم قلم کے باسی
    محبتوں کی گداز بحروں کا دلربا شخص جانتے تھے
    اسے خیالوں کے قافلوں کا
    عظیم سالار مانتے تھے
    وہ پختہ شاعر، حفیظ شاہدؔ
    چھڑا کے دامن چلا گیا ہے
    وہ واپسی کے تمام امکان
    جاتے جاتے جلا گیا ہے
    وہ ساتھ رہنے کے سارے دعوے
    وہ سارے وعدے بھُلا گیا ہے
    ہماری شاعر مزاج آنکھوں کو
    دوستو ! وہ رُلا گیا ہے
    اظہر عروج کا حفیظ شاہد کو منظوم خراج تحسین
    اُستادِ محترم حفیظ شاہدؔ (مرحوم) کے نام
    ملے جو تُم سے تو اِدراک ہو گیا ہم کو
    کہ حُسنِ شعر کی تکمیل کیسے ہوتی ہے
    خیال کس طرح ہوتے ہیں کربلاآثار
    غزل فرات میں تبدیل کیسے ہوتی ہے
    تو کوزہ گر تھا ،مصور تھا، ایک شاعر تھا
    ترے نقوش گواہی ترے ہنر کی ہیں
    سمندروں میں چھپے جیسے موتی ہوتے ہیں
    قلم قبیلے میں تیرا وجود ایساہے
    سلیقے تم نے سکھائے ہیں بات کہنے کے
    ترے طفیل مرے لفظ شعر بن پائے
    مرے قلم کی وگرنہ کہاں رسائی تھی
    مرا شعور تھا سنگلاخ بے نمو لیکن
    ترا وجود بشارت تھا آبِ زم زم کی
    تُوآبرو تھا محبت کے نرم موسم کی
    حسین رُت میں نومبر کے سرد موسم میں
    تری جدائی کا ہم کو عذاب سہنا تھا
    عروجؔ آنکھ سے اب کے
    لہو ہی بہنا تھا
    ٭٭٭

    nazeer bazmi

    نذیر احمد بزمی

  • نامور محقق و مترجم ….سیّد محمد فارو ق القادری

    نامور محقق و مترجم ….سیّد محمد فارو ق القادری

    نامور محقق و مترجم ….سیّد محمد فارو ق القادری
    تحریر : سعدیہ وحید ( خان پور )
    معاون مدیرہ (اعزازی) : مجلہ شعوروادراک /بچے من کے سچے ( خان پور )
    نامور عالمِ دین ، محقق ، ادیب وشاعر ، مترجم اور انشاء پرداز علامہ سیّد محمد فاروق القادری رحمتہ اللہ علیہ کی ہمہ جہت شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ چالیس سے زائد کتابوں کے مصنف ، مقرر ، مدبر ، اور دانش وَر ۔ علم و ادب ، تعلیم و تعلم اور راست گوئی کی عمدہ علامت ۔ فخر المحققین ، ذی شان و ذی وقار اور جواہرِ ادب کا منبع ، خطیب ِ دل نواز ، فرزندِ سید سیف الدین شاہ مغفور القادری ‘علامہ سیّد محمد فاروق القادری بلاشبہ ہمارے خطے کے لیے نہایت عمدہ ، معتبر اور قابلِ فخر شخصیت ہیں ۔
    نامور ادیب و مترجم سیّد محمد فاروق القادری کے فن و شخصیت کے حوالے سے پہلا خصوصی گوشہ علمی و ادبی مجلہ ’’ شعوروادراک ‘‘ کے شمارہ نمبر ۵ (جنوری تا مارچ ۲۰۲۱ء ) میں شائع کیا گیا ہے ۔ جو یقینا صاحبانِ علم و ادب، محققین اور باذوق قارئین کے لیے ایک عمدہ علمی و ادبی کاوش ہے ۔ خصوصی گو شہ میں سیّد محمدفاروق القادری کی باوقار شخصیت اور علمیت کے جملہ موضوعات پر پاکستان بھر کے عمدہ قلم کاروں کی تخلیقات، یادیں اورباتیں شامل ہیں ۔

    farooq qadri


    علامہ سیّد محمد فاروق القادری ریاست بہاول پور کے معروف تاریخی قصبہ گڑھی اختیارخان،تحصیل خان پور میں 25 ستمبر 1947ء کو سلسلہ قادریہ سہروردیہ کے معروف بزرگ، جید عالم دین،تحریکِ پاکستان کے نامور رہنما،محقق و مصنف،صوفی شاعر اور بخاری سادات گھرانے کی معروف شخصیت سیّد سیف الدین شاہ مغفورالقادری (1390ھ- 1326 ھ)کے ہاں پیدا ہوئے ۔ گڑھی اختیار خان کے اس معزز و محترم بخاری سادات خاندان میں علم و عمل،فقرو روحانیت اور ملتِ اسلامیہ کی قیادت و سیادت کی روایت سالہا سال سے بطورِ وراثت خاندان میں چلی آرہی تھی۔اس خاندان کے اکابرین اوچ شریف سے سندھ کے علاقے شکار پور میں بغرض اشاعت و ترویج ِاسلام کے لیے رہائش پزیرہوئے۔ سید محمد فاروق القادری ؒ کے پر دادا سیّد جعفرشاہ ؒ جو سلسلہ سہروردیہ کے معروف بزرگ تھے۔ ان کو گڑھی اختیارخان کے عباسی رئیس خاندان نے یہاں سکونت پر رضامندکیا۔ جن کا مزار آج بھی گڑھی اختیارخان میں موجود ہے۔سیّد محمد فاروق القادری ؒ کے دادا سیّد سردار احمد شاہ بانی خانقاہ عالیہ قادریہ شاہ آباد شریف گڑھی اختیارخان نے ابتدائی تعلیم اور دورہ حدیث کی تکمیل مقامی طور پر فرماکر مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ جہاں پر آپ نے مولانا عبدالباقی لکھنوی سے’’فصوص الحکم‘‘ پڑھی اور سات سالہ قیام کے دوران میں کئی عرب شیوخ نے آپ سے درس اکتساب حاصل کیا اور عرب میں شیخ احمد کے نام سے معروف ہوئے۔ برصغیر کے معروف عالم دین مولانا شاہ احمدرضا خان بریلوی کے ساتھ مدینہ منورہ میں سنگت و قربت رہی جو بعد میں خط کتابت کی صورت میں قائم رہی۔ گڑھی اختیارخان میں واپسی کے بعد آپ سیّدسرداراحمد بطرف مغرب ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ایک ویرانے میں عبادات اور مراقبہ میں مشغول رہتے۔جہاں پر اکثر نبی اکرم ؐ کی زیارت سے شرف یاب ہوتے۔چنانچہ اسی ویرانے میں موجود جگہ کو آپ نے اپنے مدفن کے لیے پسند فرمایا ،جہاں بعد میں آپ کا ہشت پہلو روضہ مرجع خلائق عام ہے ، وہیں پر آپ نے ایک بار خواب میں ایک چشمہ دیکھا اور ساتھ نبی اکر مؐ کی زیارت بھی ہوئی اور اس جگہ کنوئیں کی تعمیر کا حکم بھی ہواجس کی تکمیل میں سیّد محمد فاروق القادری ؒ نے چشمہ شریف کے نام سے عمارت بنوائی اور وہاں ایک الیکٹرک کولر نصب فرمایا۔ سیّد سردار احمد کا وصال 1350ھ میں ہوا۔ آپ عربی،فارسی،اردو،سندھی اور سرائیکی کے شاعربھی تھے۔سیّد محمد فاروق القادری ؒکے والد سیّد سیف الدین شاہ مغفورالقادری ؒجید عالم دین،محقق و مصنف، صاحب علم و معرفت اور صاحب دیوان شاعر بھی تھے۔ آپ نے اسلام کی ترویج و اشاعت اور قیام ِپاکستان کی منزل کو پانے کے لیے’’احیائے اسلام‘‘ کے نام سے جماعت بنائی اور’’الجماعتہ‘‘کے نام سے اخبار بھی جاری کیا۔شاعرِمشرق علامہ اقبالؒ کی صحبت و عنائیت کا لطف وکرم بھی حاصل کیا۔ سندھ میں تصوف و طریقت کی تاریخ و ارتقا کی عکاس بھی۔ آپ کی تقریباً پندرہ کتب غیر مطبوعہ ہیں۔آپ نے 12 اپریل 1970ء میں وصال فرمایا اور والد کے پہلو میں دفن ہوئے۔ سیّد مغفورالقادریؒ کے وصال کے بعد خانقاہ شاہ آباد شریف کے دوسرے سجادہ آپ کے فرزند محقق العصر سیّد محمد فاروق القادری ؒ بنے اور آج یہ خانقاہ سیّد محمد فاروق القادری ؒکی بدولت ایک شاندارروحانی و علمی مرکزمیں تبدیل ہو گئی ہے۔ جہاں پر دنیا بھر سے سکالرز اورمحققین اپنی علمی تشنگی مٹانے کے لیے آتے ہیں۔سیّد محمد فاروق القادری ؒ نے ابتدائی تعلیم مقامی سطح اور خان پورمیں حاصل کرنے کے بعد(جامعہ عباسیہ)موجودہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورسے تقریباً 1966–67 ء میں الشہادتہ عالمیہ کے ساتھ ساتھ عربی ادب میں تخصص اور فاضل فارسی کی اسناد حاصل کیں۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے باالترتیب-69-70 1968 ء میں اسلامیات،عربی اور اُردو میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامیات میں گولڈمیڈل بھی حاصل کیا اور آپ ابتدائی جماعتوں سے لیکر ماسٹرز تک کے تمام درجوں میں اوّل پوزیشن کے حامل رہے۔آپ کے اساتذہ میںمولانا شمس الحق افغانی،مولانا احمد سعید کاظمی، حافظ فیض احمد اویسی،مفتی عبدالواحد،مولانا ظفراحمد عثمانی ،سراج الفقہہ سراج احمد مکھن بیلوی، مولانا عبدالرشید نعمانی، ڈاکٹر حافظ احمد یار،پروفیسر خالدعلی ،ڈاکٹرپیر محمد حسن اور علامہ علاالدین صدیقی سابقہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی جیسی نابغۂ روزگار شخصیات شامل ہیں ۔تعلیم مکمل ہونے کے بعد آپ نے 1971ء میں کچھ عرصہ جناح میموریل کالج لاہور میں بطور لیکچرار درس و تدریس کا پیشہ اختیارکیا۔مگر والد صاحب کے وصال اور خانقاہی اُمور کی انجام دہی کے لیے شاہ آباد شریف واپس تشریف لے آئے اور طالبان علم کے لیے ’’دارالعلم والمعرفتہ‘‘ کے نام سے ادارہ قائم کیا جس کی خوبصورت عمارت میں رہائش کے علاوہ ایک بہت بڑی لائبریری بھی موجود ہے۔آپ کی معروف علمی و ادبی شخصیات، شورش کاشمیری،احسان دانش،مولانامودودی،غلام احمد پرویز،حکیم موسی امرتسری،سیّد احمدسعیدکاظمی،مولاناعبدالستارنیازی،مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا کوثرنیازی سے قربت و خط کتابت رہی ۔
    آپ کی چالیس کے قریب کتب اور بیسیوں مقالہ جات اور مضامین شائع ہوچکے ہیں ۔فلسفہ وحدت الوجود پر ابن العربی کے چودہ جلدوں پر مشتمل کتاب فتوحاتِ مکیہ کا پہلی بار اُردو میں پانچ جلدو ںکا ترجمہ آپ نے کیا۔ سیّد محمد فاروق القادری ؒکی بعض کتب انڈیا سے بھی طبع ہوئیں ۔اس کے علاوہ آپ کا مقالہ’’ اسلام کا معاشی نظام ‘‘عالم ِاسلام کی عظیم درسگاہ جامعہ الازھر( مصر ) میں اُردو سے عربی میں ترجمہ کرکے نصاب کا حصہ بنایاگیا ۔آپ کی چند تصانیف و مترجم کتابوں کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
    ۱۔ انفاس العارفین۔ترجمہ مع مقدمہ۔موضوع سوانح و تصوف ، طباعت۔1974ء ۔لاہور
    ۲۔ ترجمہ و تحقیق،الطاف القدس،موضوع حقیقت انسان مبطوعہ 1975ء ۔لاہور
    ۳۔ ترجمہ و تحقیقی مقدمہ’’فتوح الغیب‘‘ از شیخ عبدالقادر جیلانی رح موضوع تصوف، 1974ء
    ۴۔ فاضل بریلوی اور امورِ بدعت، موضوع عقائد پانچ ایڈیشن پاکستان سے جب کہ یہی
    کتاب انڈیا سے بھی شائع ہوچکی ہے ۔
    ۵۔ ترجمہ، امام عبد اللہ یافعی کی کتاب’’خلاصتہ المفاخر فی مناقب شیخ عبدالقادرؒ ‘‘
    ۶۔ مکاتیب دیوبند اور بریلی کے خصوصی مسائل کا جائزہ۔مقالہ برائے ایم اے اسلامیات،
    جامعہ پنجاب لاہور۔
    ۷۔ تزکرہ سید محمد حسن شاہ جیلانی۔موضوع تاریخ و سوانح
    ۸۔ اُردو ترجمہ و پیش لفظ جامع العلوم۔از امام فخرالدین رازی
    ۹۔ سلیس اردو ترجمہ۔کشف المحبوب سید علی ہجویری بمطابق نسخہ ثمرقندی
    ۱۰۔ اُردو ترجمہ و تحقیق متن ’’تحفتہ مرسلہ۔شاہ ولی اللہ کی تصوف پر مبنی تین کتابوں
    طعات،درثمین اور مکتوبات مدنی کا اردو ترجمہ و تحقیقی مقدمہ مجلد رسائل شاہ ولی اللہ
    تصوف کی اعلیٰ کتاب کتاب اللمع از شیخ ابونصرسراج،تحقیقی مقدمہ
    ۱۱۔ احوال و آثار شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ
    ۱۲۔ اصل مسئلہ معاشی ہے
    ۱۳۔ اسلام کا تصور ملکیت
    ۱۴۔ تحریک پاکستان میں مولانا عبدالحامد بدایونی کیکردار کی ایک جھلک
    ۱۵۔ ہدیہ مرسلہ۔ترجمہ و تحقیقی پیش لفظ
    ۱۶۔ علامہ اقبال اور ان کے صاحبزادے آفتاب اقبال از بیگم رشیدہ آفتاب۔پیش لفظ۔
    دیگر مقدمات،پیش لفظ اور مضامین و مقالاجات کا مختصرمضمون میں ذکر ممکن نہیں۔
    سیّد محمد فاروق القادری ؒ کی شادی شیخ چہارم خانقاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف پیر عبدالرحیم شہید کے دختر سے ہوئی ۔آپ کے تین صاحبزادے(۱)پیر سیّد علی رضا شاہ(۲)سیّد صبغت اللہ سہروردی اور (۳) سیّد رشداللہ جعفر شاہ آپ کے فکر و فقر کے وارث ہیں ۔
    حوالہ جات:
    ۱۔ وکی پیڈیا ۔
    ۲۔ اصل مسئلہ معاشی ہے ، سیّد محمد فاروق القادری ،پروگریسو بکس لاہور ۔2013ء
    ۳۔یادوں کے خواب ، سیّد صبغت اللہ سہروردی ، ادارہ پاکستان شناسی لاہور ۔ 2019ء
    ۴۔ بزمِ اہلِ دل ( سوانح حیات ) ، سیّد صبغت اللہ سہروردی ، پر و گریسو بکس لاہور ۔ 2017ء
    ۵۔ خان پور کا اَدب ۔ از: محمد یوسف وحید ۔ الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ۔ 2021ء
    ٭٭٭

  • اسم بامسمّٰی …محمد یوسف وحید

    اسم بامسمّٰی …محمد یوسف وحید

    سہ ماہی ’’شعوروادراک‘‘ اور120 سالہ علمی،ادبی، ثقافتی اور صحافتی تاریخ پر مشتمل کتاب’’ خان پور کا ادب ‘‘پر مجموعی تذکرہ
    اسم بامسمّٰی …محمد یوسف وحید
    تبصرہ : سیّد محمد اسد اللہ اسد (خان پور)
    مہتمم جامعہ مدینتہ العلم، ولی آباد مونی تھل
    بآں گروہ کہ ازساغروفا مستند
    سلام مابرسانید ہر کجا ھستند
    گزشتہ سے پیوستہ برس ایک دن غروب ِشمس کے بعد جب شب ِدیجور اپنے پنجے گھاڑرہی تھی۔تو ایسے وقت میں بو قلموں شخصیت کے مالک اور ادب و صحافت کا بدرِ جمیل’’مرزا حبیب‘‘ ایک سنجیدہ اور متین شخص کے ساتھ میرے پاس جامعہ مدینۃالعلم، ولی آباد مونی تھل لائبریری میں تشریف لائے۔ سلام اور تعارف کے بعد سلسلہ کلام بڑھا تو مرزا حبیب کے توسط سے معلوم ہوا کہ چہرے پر عینک کا پیوند لگائے،لہجے میں مٹھاس،طبیعت میں انکسارکا حامل یہ میرا ہم سفر’’محمد یوسف وحید‘‘ہے۔محمد یوسف وحید کے لب و لہجے میں تیزی اس بات کی عکاس تھی کہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ جان لینے،پڑھ لینے اور لکھ لینے کی خواہش لئے گرم دم جستجو کا مظہر ہے۔مزید گفت گو سے معلوم ہوا کہ آج کل خان پور کی علمی و ادبی شخصیات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔بالخصوص پوشیدہ اور زمانے کی ستم ظریفی کا شکار اہلِ قلم کو اُن کی کچھاروں سے نکال کر میدانِ عمل میں لانے کیلئے کوشاں و سر گرداںہیں۔

    Shaoor o Idrak


    محمد یوسف وحید مجھ نا چیز کی قلمی خدمات پہ حوصلہ افزائی کے لئے تشریف لائے تھے۔وقت تیزی کے ساتھ سفر کرتا رہا اور محمد یوسف وحید کے ساتھ ساتھ گفت و شنید اور باہمی قلمی و تحریری ہم آہنگی کے سفینے پہ سوار ہم دونوں ادبی محافل اور ہمہ جہت سرگرمیوں کے لیے کوشاں رہے۔کچھ معلومات کی سیپیاں اور نگینے اکٹھے کر نے کے بعد ادبی افق کے درخشندہ ستارے محمد یوسف وحید ٗ ایک نئے سفر کے لیے کوشش، ہمت و حوصلے کے ساتھ عازمِ سفر نظر آتے رہے۔
    محمد یوسف وحید کے مختلف رسائل و جرائد میں بے شمار تحقیقی وادبی مضامین شائع ہو کر قارئین کی نظر نواز ہو چکے ہیں۔خاص طور پر فروغِ ادبِ اطفال کے لیے کوشاں گزشتہ ۱۴ برس جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے والا بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول مجلہ ’’بچے من کے سچے‘‘ اُن کا وہ تر بیتی زینہ ہے جو پروان چڑھتی نسل کی بھر پور رَہنمائی کر رہا ہے کہ بچوں کو خوش رکھ کر اچھا نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اچھا بنا کہ خوش رکھا جا سکتا ہے۔
    کم و بیش سال ڈیڑھ کے بعد محمد یوسف وحید صاحب بارِ دگر تشریف لائے تو اُن کے ہمراہ ہم دوش مرزا حبیب نہیں بلکہ کتاب ’’خان پور کا اَدب‘‘اورمجلہ ’’شعور و ادراک‘‘ تھا۔جو بلا شبہ علمی،ادبی، انقلابی اور تاریخی اہمیت کا حامل ایسا کام ہے جس نے سینکڑوں گم نام قلم کار،قلم کی جولانیاں دِکھلانے والوں کو اُن کی جولان گاہ سے نکال کر ناموری کے تخت پر بٹھا دیا ہے ۔فروغِ ادب کے تحت مجلہ ’’شعور و ادراک‘‘ محمد یوسف وحید کی لائقِ صد تحسین اور عمدہ کاوش ہے۔ ’’شعور و ادراک‘‘ اور دیگر ہمہ جہت کام ان کے اَفکارکی بلندی اور اپنے مشن سے عشق کا بانکپن ببانگِ دُہل یہ نغمہ آلاپ رہا ہے کہ محمد یوسف وحید‘ اسم با مسمّٰی ہے۔ بے شمار اخبارات و جرائد میں اور ویب سائٹس پر ادبی، تحقیقی اور دیگر اہم موضوعات پر مضامین کی اشاعت ، علمی و ادبی تنظیموںکے تحتجدو جہد اور پھر مختلف شخصیات کے تہہ دَر تہہ بکھرے اور پراگندہ اَوراق کو ٹٹولنا یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو اپنے مشن میں’’وحید‘‘ہوگا۔ اور بکھری ادبی پتیوں کو یکجا کرکے پھولوں کا رنگ اور علمی،ادبی، تاریخی اور مختلف الجہات شخصیات اور ان کی خدمات کی خوشبو کو اکٹھا کر کے کتاب’’خان پور کا ادب‘‘ کی صورت میںخو ب صورت گلدستہ بنا کرپیش کرنا ’’یوسف ‘‘کا ہی خاصہ ہے۔
    محمد یوسف وحید کی عزم و ہمت ، جہد ِمسلسل کی نذر جگر مراد آبادی کا ایک شعر :
    جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
    وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
    ہم الوحید ادبی اکیڈمی خان پور کے پلیٹ فارم سے علمی، ادبی موضوعات پر اُردو، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کے فروغ کے لیے کاوشوں کو سراہتے ہیں اور محمد یوسف وحید کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ہم دُعا گو ہیں کہ اللہ کریم محمد یوسف وحید کو علم، ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مزید ہمت، طاقت اور استقامت نصیب کرے۔ آمین
    ٭٭٭

    Syed Assadullah Shah
  • خلوص و محبت کا پیکر …حفیظ شاہدؔ

    خلوص و محبت کا پیکر …حفیظ شاہدؔ

    خلوص و محبت کا پیکر …حفیظ شاہدؔ
    تحریر: محمد یوسف وحید
    (مدیر: شعوروادراک خان پور)

    اس طرف اندھیرا ہے، اُس طرف اُجالا ہے
    یہ مرا حوالہ ہے، وہ ترا حوالہ ہے
    کیا ڈرے گا دل شاہدؔ وقت کے مصائب سے
    گردشوں کا خوگر ہے، سختیوں کا پالا ہے
    (حفیظ شاہدؔ )
    گزشتہ دنوں اُردو غزل کا نمائندہ حوالہ اور چیف ایڈیٹر:بچے من کے سچے ، چھ شعری مجموعوں اور کلیات: ختمِ سفر سے پہلے کے خالق ، الوحید ادبی اکیڈمی خان پور کے سرپرستِ اعلیٰ محترم حفیظ شاہد کی ساتویں برسی منائی گئی ۔ حفیظ شاہد کے فن و شخصیت کے حوالے سے خصوصی گوشہ سہ ماہی بچے من کے سچے کے پلیٹ فارم سے 2017ء میں شائع ہوچکا ہے ۔ جب کہ رواں ماہ نومبر 2021ء کے ابتدائی ہفتے میںحفیظ شاہد کے حوالے سے جملہ معلومات اور فن و شخصیت پر مشتمل علمی و ادبی مجلہ شعوروادراک کا خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ بھی ناچیز کی زیرِ ادارت شائع ہوگیا ہے ۔ جس میں حفیظ شاہد کے غیر مطبوعہ کلام کوخاص طور پر پہلی مرتبہ ’’ حاصلِ غزل ‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیا گیا ہے ۔ حفیظ شاہد کی ساتویں برسی کے موقع پر خصوصی مضمون نذرِ قارئین ہے ۔
    ’’ سفر روشنی کا ‘‘ سے اپنے ادبی و تخلیقی سفر کا آغاز کرنے والے اور ’’ ختمِ سفر سے پہلے ‘‘کے خالق نہایت عمدہ شاعر اور خوب صورت انسان اور ادب نواز شخصیت عبد الحفیظ شاہد قلمی نام حفیظ شاہدؔ‘ادبی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ایک معتبر اور پُر تاثیر آواز ،اُردو غزل کی دنیا میں ایک تابندہ ستارہ ۔چھ گہر ہائے تابدار سے گلشنِ سخن کو حسن و جمال عطا کر نے والے حفیظ شاہدؔ اپنے دَور کے کہنہ مشق اوراُستاد شعرا ء میں شمارہونے والے حفیظ شاہد مرحوم کو کن کن القابات سے یاد کروں ۔ ایک مدت سے بحر ِسُخن میں غوطہ زن ہوکر زندگی کے حسین موتی چن چن کر ادب کے سمندر میں اپنا حصہ ملاتے رہے ۔ نہ کبھی منجدھار کی پروا کی نہ ساحل ِمراد سے دور ہو نے کا شکوہ ۔ وسیع مطالعہ رکھنے والے ہمہ جہت شخصیت کے مالک حفیظ شاہد کمال درجے کے شاعر اور اُس سے کہیں اچھے انسان تھے ۔ سراپاخلوص و محبت اور شرافت کا پیکر ۔حفیظ جالندھری اور احسان دانش کی محافل میں اپنے نغمات پیش کر نے والے داد ِ سُخن پانے والے حفیظ شاہدؔ خان پور کی مردم خیز دھرتی کے عظیم شاعر تھے ۔ نُدرتِ خیال اور بلندتخیل کی کلاسیکی روایات کا امین ۔ غزل کا معتبر حوالہ بلاشبہ حفیظ شاہد ہی کو کہا جا سکتا ہے ۔
    حفیظ شاہدؔ غزل کی روایت کے ساتھ ساتھ جدیدیت کا حسن بھی لیے ہوئے ہیں ہماری تہذیب و روایت کو زندہ کر نے میں اُن کی غزلیات اعلیٰ مقام رکھتی ہیں ۔ ایسا رچائو ، چاشنی اور تغزل کی کشش موجود ہے کہ ہم اپنے حقیقی ماحول اور صداقت سے لبریز تصورات میں کھو جاتے ہیں ۔ صرف کر ب ِ ذات تک محدو د نہیں ہیں بلکہ تضادات ِ زمانہ اور حقائق روزگار سے بھی غزل کاخمیر اُٹھاتے ہیں ۔ نقوش ِ پارینہ کی باز آفرینی اُن کی غزل کادرخشاں پہلو ہے ۔ کہیں کہیں فکر کے ایسے غنچے چٹکتے ہیں کہ ان کی خوشبو چار سو ماحول کو معطر کر تی چلی جاتی ہے ۔ الفاظ و تراکیب کا انتخاب ، مِصر عوں کی بُنت اور اشعار میں شعری تلازمات کا استعمال حفیظ شاہد کے کلام کے محاسن ہیں ۔ اُن کے ہاں تشبیہات و استعارات کا نادر اِنتخاب متوازن اور مناسب اُسلوب اِس سلیقے سے ملتا ہے کہ غزل کی کائنات پُر کشش اور دیدہ زیب بن جاتی ہے ۔ حُسن ِ بیان میں انفرادیت اُن کا طرہ ٔ امتیاز ہے ۔ ایک ایسا آہنگ ان کے ردیف و قافیہ میں جھنکار پیدا کر تا ہے کہ ہر شعر ترنم سے لبریز دکھائی دیتا ہے ۔ غزل کی دنیا میںیہ ایک منفر د اعزاز جو اہل ِ ذوق اور سخنواران ِ غزل سے داد حاصل کر رہی ہے ۔

    Hafeez Shahid


    حفیظ شاہد ’ؔ’بچے من کے سچے ‘‘ کے 2007ء میں آغازسے 2014ء تک بطور چیف ایڈیٹر ذمہ داریاں بہ احسن و خوبی ادا کر تے رہے ۔ ’’بچے من کے سچے ‘‘ کے پلیٹ فارم سے تر و یج و ادب کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کا ر لاتے رہے ۔ شعر و ادب سے والہانہ محبت کر نے والے شخص تھے ۔ ترویج ِ ادب کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ۔حفیظ شاہد بااخلاق اور سراپا خلوص انسان تھے ۔ جب بھی میں اُن سے ملنے کے لیے گیا ، جس قدر تھکاوٹ اور مصروفیت ہوتی ، کبھی محسوس نہیں ہونے دیتے تھے ۔ بچوں سے خاص محبت کر تے تھے ۔
    تقسیم ِ ہند سے قبل حفیظ شاہد کے والدین جالندھر سے ترک ِ سکونت کر کے لاہور آگئے ، پاکستان بننے سے چار سال قبل آپ کے والد کا انتقال ہو گیا ۔ تعلیم مکمل کر نے کے بعد بینک میں ملاز مت کر لی ۔ شعر و ادب کا شوق بچپن ہی سے تھا جب بھی فرصت ملتی ، فن ِشاعری سیکھنے اور اپنے ذوق کی تسکین میں صرف کر تے ۔ لاہو رمیں اُس دور کے نامور شعراء کی صحبت میسر رہی ۔ بینک سے چھٹی کے بعد معروف شاعر طفیل ہو شیار پوری کے ادبی رسالے’’ محفل ‘‘ کے دفترچلے جاتے ۔ وہاں اُ ن کی ملاقاتیں طفیل ہو شیار پوری کے علاوہ شرقی بن شائق ، رشید کامل ، ارمان عثمانی ، ایف ڈی گوہر اور یزدانی جالندھری ایسے اساتذہ سے ہوئیں ۔ مصر ع ہائے طر ح دیے جاتے اور طبع آزمائی ہوتی ۔ حفیظ شاہد کا کلا م معروف و مقبول رسائل ’’محفل‘‘ ، ’’قند یل‘‘ ،’’ اقدام‘‘ ،’’ بیسویںصدی‘‘(نئی دہلی) ،’’ شمع‘‘(نئی دہلی) ، ’’لیل و نہار‘‘،’’رومان‘‘، ’’نیا زمانہ‘‘ (لاہور) ،ہفت روزہ ’’زندگی ‘‘،’’جدید ادب‘‘ ، سہ ماہی ’’بچے من کے سچے‘‘اور ’ ’ شعورو ادراک‘‘ (خان پور)وغیر ہ میں شائع ہو تا رہا ۔
    لاہور میں رَہ کر حفیظ شاہد نے فلمی گیت نگاری بھی کی ۔ حفیظ شاہد نے اُردو اور پنجابی گیت لکھے ۔ایک پشتو فلم بھی بنائی مگر فلاپ ہوگئی اور مالی طور پر بہت زیادہ نقصان کا باعث رہی۔ حفیظ شاہد نے متعدد پنجابی فلموں کے گیت لکھے ، ایک فلم ’’ بلبل پنجرے دی ‘‘۔اس فلم کے ڈائر یکٹر رحمان ورما تھے ۔ اس کے چار گیت ریکارڈ ہوئے جو میڈم نورجہاں ، نسیم بیگ ، تصور خانم اور مسعود رانا نے گائے تھے ۔لیکن یہ فلم تکمیل کے مراحل تک نہ پہنچ سکی ۔ دوسری پنجابی فلم جس کانام ’’ چھڈ بُرے دی یاری ‘‘ تھا ۔ اس فلم کے دو گیت لکھے ۔ اس فلم کے ڈائر یکٹر اے ریاض تھے ۔ یہ فلم کافی مقبول ہو ئی ۔ حفیظ شاہد کا لکھا ہوا تھیم سانگ ، رجب علی کی آواز میں بہت مقبول ہوا ۔ جس کے بو ل تھے:
    اپنے ای پیاریاں دا پیار لُٹ لیندے نیں …..کدی کدی یاراں نو ں وی یار لُٹ لیندے نیں
    حفیظ شاہد 1976ء میں مستقل طور پر لاہور سے خا ن پور منتقل ہوگئے اور فلمی گیت نگاری کا سلسلہ منقطع ہو گیا ۔
    حفیظ شاہد کی شاعر ی کا ایک اور پہلو تاریخ گوئی ہے ۔تاریخ گوئی میں کسی خاص واقعے پر نثر میں یا قطعہ کہہ کر اور آخری مصر عے یا شعر سے ابجد کے حساب سے اس کی تاریخ نکالی جاتی ہے۔ اس طر ح اہم تاریخیں ان سطروں ، مصرعوں یا شعروں کے ذریعے سے ذہنوں میں نکالی جاتی ہیں ۔ اگر چہ یہ فن بہت پرانا ہے لیکن اس میں نام پید اکر نے والے صرف چند ہی شاعر مشہور ہیں جیسے غالبؔ ، مومنؔ ، داغؔ ، شمیمؔ متھراوی ، رئیسؔ امر و ہوی ، علامہ قابلؔ گلائو ٹھوی ، صبا ؔاکبر آبادی ، محشرؔ بد ایونی اور نیساںؔ اکبر آبادی وغیرہ
    خان پور میں رہتے ہوئے شعر و ادب کی محافل بر پا کیں اور معاصر شعرا ء کے ساتھ ادبی اور شعری نشستوں میں مستقل شر کت کر تے رہے ۔ خان پور میں حفیظ شاہد کے ہم عصر شعرا ء میں گلزار نادم صابری ، رفیق راشد ، حیدر قریشی ، اسد حسین ازل ، آسی خانپوری ، مجاہد جتوئی اور دیگر شامل تھے ۔ 2004ء میں’’ معارف ‘‘ کے نام سے ادبی تنظیم کی بنیاد رکھی ۔ جس کے تحت نامو رعلمی و ادبی شخصیات کے اعزا زمیں ماہانہ ادبی محافل کا اہتمام کیا ۔
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمد یوسف وحید

    (مدیر: شعوروادراک خان پور)

  • عہد ِ حاضر کا نمائندہ ادیب

    عہد ِ حاضر کا نمائندہ ادیب

    تبصرہ: سلطان محمود کوریجہ (گڑھی اختیار خان )
    عہد ِ حاضر کا نمائندہ ادیب … محمد یوسف وحید

    ’’ شعوروادراک‘‘ شمارہ نمبر ۶ ، ’’ حفیظ شاہدنمبر‘‘ کے حوالے سے تاثرات

    گزر جاتی ہیں صدیاں بھی نہیں کچھ فرد کھلتے ہیں
    مگر کچھ فرد گھڑیوں میں ہی سالوں کے ہو ملتے ہیں
    کسی شخص کو سمجھنے کے لیے جو معیار مقرر ہیں وہ اپنی جگہ اٹل ہیں مگر میری ذاتی رائے ’’ شعوروادراک‘‘ کے مدیر محمد یوسف وحید کی ادب سے محبت کو دیکھ کر یہ ہو گئی ہے کہ اگر کسی فرد کا رُواں رُواں زبانِ حال سے اپنے ذوق و شوق کا مظہرہے تو پھر سمجھنے سمجھانے کا مرحلہ چند گھڑیوں میں طے ہوجاتا ہے ۔
    خبر اور تجربے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ ہم ’’ بچے من کے سچے ‘‘ کے اوّلین قارئین میں سے ہیں ۔ محمد یوسف وحید نے ’’ بچے من کے سچے ‘‘کی حُسنِ ترتیب میں پختگی اور سلیقے سے مؤ ثر ترین انداز میں پیغام کی راہیں آسان کرکے ہر عمر کے قاری کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے اور پھر قاری تک رسائل کی فراہمی کو ممکن بنا کر کامیابی اور مقبولیت ِ عامہ کے تمام مراحل نہایت خوش اُسلوبی سے طے کرنے کا ہُنر بخوبی جان لیاہے ۔ جب کہ ہمارے ذہن میںاس کام کے لیے ایک بزرگ، نہایت مشاق اور ہر فن مولا فرد کا خاکہ محفوظ تھا ۔ وقت گزرتا چلا گیا اور ’’ بچے من کے سچے ‘‘ سے تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتاگیا ۔ تقریبا ً پانچ چھ سال قبل سوشل میڈیا فیس بک پر بزمِ ادراک کے تحت منعقدہ ایک نشست کی جھلکیاں دیکھیں ، جس میں ہمارے محترم عزیز دوست محمد صادق جاوید مہمانِ اعزاز کے طور پر شریک تھے ۔ تصاویر کے ذریعے معلوم ہوا کہ صادق جاوید صاحب کو اُردو ، سرائیکی زبان کے منفرد اور عمدہ شاعر اظہر عروج کی کتاب ’ ’ عشق چلا تھا اوڑھ کے چادر‘‘ اور ’’ بچے من کے سچے ‘‘ کے چند شمارے پیش کیے گئے ۔’’ بچے من کے سچے ‘‘ کے ان چند شماروں میں سے ایک شمارہ بطور تحفہ صادق جاوید نے مجھے دیا جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے ۔ اس عمل سے محمد یوسف وحید کے فعال فرد اور ذہین ادیب ہونے کا علم ہوتا ہے کیوں کہ دو نسخے یہ کہہ کر دیئے گئے تھے کہ دوستوں تک پہنچا دیئے جائیں ۔
    محمد یوسف وحید کے مایہ ناز کارناموں میں ایک اہم اور عمدہ کام بطور مدیر علمی وادبی مجلہ ’’ شعوروادراک‘‘ کے پلیٹ فارم سے خاص شماروں ’’ حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ‘‘ ، خصوصی گوشہ علامہ سیّد محمد فاروق القادریؒ اور تازہ شمارہ نمبر ۶ بعنوان ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کی ترتیب و اشاعت ہے جو صد لائقِ تحسین اور مبارک باد ہے ۔

    Yousuf Waheed
    محمد یوسف وحید


    محمد یوسف وحید نے مختلف مواقعوں پر کمال مہربانی فرما کر ناچیز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ، غریب خانے پر بھی تشریف لائے لیکن عائلی ذمہ داریوں ، پروگرامز کی مصروفیت اور شومئی قسمت سے ملاقات کا موقع نہیں ملا ۔ بندہ ناچیزسے رابطے اور اُن کی تشریف آوری کے باوجود میری ان سے ملاقات نہ ہوسکی ۔ جس کاانہوں نے کبھی رَنج نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ کسی طرح ادب میں کچھ سطروں کا سامان ہوجائے ۔
    علامہ سیّد محمد فاروق القادریؒ کے بارے میں تاثرات لکھے جو بعد میں ایک باقاعدہ مضمون کی صورت اختیار کر گئے لیکن اس دوران ’’ شعوروادراک‘‘ ، شمارہ نمبر ۵ ، خصوصی گوشہ سیّد محمد فاروق القادر یؒ شائع ہوگیا ۔ میرا مضمون تاخیر کی وجہ سے شامل نہ ہوسکا ۔ البتہ وہ مضمون محمد یوسف وحید صاحب کی امانت کے طور پر میرے پاس موجود ہے ۔ جو بات خصوصاً عرض کرنے کے لیے میں نے اتنی لمبی تمہید باندھی ، وہ یہ ہے کہ محمد یوسف وحید ادب کی خدمت کے سلسلے میں اپنی ذات کو نفی کرکے کام کرتے ہیں ۔
    خدمت کو عبادت ماننے والے نوجوان ادیب محمد یوسف وحید بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں ۔ کتاب ’’ خان پور کا اَدب ‘‘ ، علمی و ادبی مجلہ ’’ شعوروادراک‘‘ کا شمارہ نمبر ۴،۵اور ۶ محترم صادق جاوید صاحب کے ذریعے مدیر مجلہ کے آٹوگراف کے ساتھ میری لائبریری کا حِصہ ہیں جو یقینا میرے لیے علمی و ادبی اثاثہ ہیں ۔
    شاعری بیان اور حُسنِ بیان کا وہ قابل ترین نسخہ پیش کرتی ہے جو انتہائی اختصار سے انتہائی وسیع مضمون کو بیان کرنے کا کام چٹکیوں میں کر سکتی ہے ۔ شاعری کو شعور کا عرق کہا گیا ہے اور آج یہ کتاب ہمارے درمیان شعور کا درس تقسیم کر رہی ہے ۔ آپ ایک قاری کے طوراور ہم ایک لکھاری کے طور پر اس میں اپنا کردار اداکر رہے ہیں ۔
    ایک شاعر رازِحیات کو اپنی راتوں کی نیند قربان کرکے اپنے دن کا قرار ماورا سمجھ کے اپنی ذات پر ذاتِ کائنات کو ترجیح دے کر اور اپنے سب سے بڑے قیمتی متا ع یعنی وقت کی قربانی دے کر ایک شعر تخلیق کرتا اور اس شعر میں اہم پیغام پہنچاتا ہے ۔یہ پیغام نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ نبوت کا سلسلہ تو ختم ہوگیا مگر پیغام پہنچانے اور دعوتِ فکر دینے کا جو سلسلہ جاری ہے ‘ اُس سلسلے کی ایک کڑی شاعر بھی ہے ۔
    ہمیں انتہائی خوشی ہے کہ جناب حفیظ شاہد صاحب ہمارے شہر خان پور کے سپوت تھے ۔ جنہوں نے لاہور کی چکا چوند زندگی کو خیرباد کہہ کر خان پور کی فکری اور شعوری رہنمائی کے ساتھ آب یاری کے لیے درست فیصلہ کیا ۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے اُن کے متعدد شاگردوں کی صورت میں نظر آتا ہے ۔
    ’’ شعوروادراک‘‘کا تازہ شمارہ نمبر ۶ ، ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کا مُطالعہ کرکے جو بات سب سے زیادہ خوشی اور فخر کا باعث ہے وہ ہمارے شہر خان پور کی خوش قسمتی ہے کہ اُستاد الشعراء حفیظ شاہد ‘ جنہوں نے لاہور کی چکا چوند میں گُم ہوتے اس ہیرے کو اپنے نام لکھوا لیا اور پھر کئی نامور شاعر ،ادیب اور اہلِ فن اس سے ضیاپاکے اس خطے کی نیک نامی اور فخر کاسبب بنے ۔ محترم یاور عظیم اور اظہر عروج کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔محمد یوسف وحید کی مہربانیاں اس وقت آپ کی نظروں کے سامنے ہیں اور جناب علی عباس ساجد ہمارے پورے ضلع میں نہایت متحرک اور فعال کردار ہیں ۔
    حفیظ شاہد بلا مبالغہ ایک مشاق ادیب اور شاعر تھے ۔ اُن کا کلام پڑھ کر اخوت و بھائی چارے کا پیغام ، تہذیب و ثقافت کی ہمہ رنگی ، رِیت رواج کا امتزاج ، انسان دوستی ، مثبت سماجی روّیوں اور باہمی تعلقات کی ضرور ت و اہمیت اور ملکی و قومی سلامتی کا درس ملتا ہے ۔بقول شاعر
    ہمیں پڑھ کر یہ انداز ہ لگا لو
    کہ ہم ہیں قابلِ تقلید کتنے
    اس شعر میں نہایت واضح طور پر انسان کو سمجھنے ، اس میں مؤ جزن افکار اور دل دریا کے راز پانے کی تلقین کی جارہی ہے ۔ ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں :
    ساری دنیا کا درد رکھتاہوں
    ساری دنیا مرا گھرانہ ہے
    اس شعر میں انسانی ہمدردی ، قومی ایکائی اور انسانی معاشرت کے حُسن کو بیان کیا گیاہے ۔ ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں :
    میں چاہے چاند کو مسکن بنالوں
    زمیں سے رابطہ باقی رہے گا
    اس شعر میں شاعر نے اپنی مٹی سے مضبوط تعلق جوڑنے اورہر حال میں اپنے اَصل سے جڑے رہنے اور اپنے حاصل پر شکر بجالانے کی بات کر رہا ہے ۔
    اسی مضمون میں حضرتِ اقبالؒ نے یوں بیان فرمایا ہے ۔
    مِلّت سے رابطہ اُستوار رکھ
    پیوستہ رہ شجر سے اُمید ِ بہار رکھ
    الغرض ’’ شعوروادراک‘‘ کا تازہ خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کی جملہ حُسنِ ترتیب دیکھ کر نامور لکھاریوں کی ایک کہکشاں سامنے آجاتی ہے ۔شمارے میں شامل تمام محترم لکھاریوں کی تخلیقی آرا ء ہمارے لیے نہایت معتبر ہیں ۔ شمارے کی فہرست ملاحظہ فرمائیں :
    فہرست …خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر‘‘۔ شعوروادراک شمارہ نمبر۶ (اپریل تا جون ۲۰۲۱ء)
    عنوان
    مصنف
    صفحہ
    ٭ حمدیہ / نعتیہ کلام

    حمد /نعت/مناجات/دُعا
    حفیظ شاہد ؔ
    5-9
    اپنی بات مدیر کے قلم سے ….
    محمد یوسف وحید -(مدیر)
    13
    ٭ شخصیت

    حفیظ شاہد …شخص و عکس
    سعدیہ وحید
    17
    حفیظ شاہد کا ادبی سفر
    محمد یوسف وحید ( مدیر)
    20
    دبستانِ خان پور کا قیمتی اثاثہ …حفیظ شاہد
    میگزین رپورٹ
    22
    حفیظ شاہد ۔ کچھ یادیں
    اظہر ادیب
    25
    میں اور اُستاذی
    یاور عظیم
    26
    اُردو غزل کا فخر …حفیظ شاہد
    نذیر احمد بزمی
    33
    یادوں کی کہکشاں اور حفیظ شاہد
    اظہر ادیب
    39
    سادہ مزاج دوست …حفیظ شاہد
    سعید شباب
    41
    اُردو غزل کا معتبر حوالہ …حفیظ شاہد
    مرزا حبیب
    43
    اُستاد الشعراء …حفیظ شاہد
    شاہد اقبال جتوئی
    47
    ادب کا سرمایہ …حفیظ شاہد
    رانا نصر اللہ ناصر
    49
    مشرقی روایات کا امین …حفیظ شاہد (تاثرات)
    محمد اکرم /اختر رسول چودھری
    51
    عمدہ تخلیق کار …حفیظ شاہد
    اکمل شاہد کنگ
    52
    حق و صداقت کا پیامبر …حفیظ شاہد
    صفدر بلو چ
    55
    ہمہ جہت شاعر …حفیظ شاہد
    نصر ت جہاں
    58
    ٭ فنی و فکری جہات

    منفرد اُسلوب کا شاعر …حفیظ شاہد
    غلام قادر آزاد
    61
    حفیظ شاہد کے کلام کا موضوعاتی جائزہ
    یاور عظیم
    66
    حفیظ شاہد کا فکری و فنی سفر
    سعدیہ وحید
    69
    حفیظ شاہد…فن و شخصیت
    مظہر عباس
    75
    حفیظ شاہد اور ’’ سفر روشنی کا ‘‘
    ڈاکٹر ارشد ملتانی
    78
    تازہ دم اور تازہ کار شاعر …حفیظ شاہد
    حسن اکبر کما ل
    80
    حفیظ شاہد کی کتب کا مختصر تعارف
    مظہر عباس
    81
    شاندار روایات کا امین …حفیظ شاہد
    ڈاکٹر ندیم احمد شمیم
    88
    حفیظ شاہدکی وطن سے محبت
    مجاہد جتوئی
    92
    حفیظ شاہد اور فنِ تاریخ گوئی
    نذیر احمد بزمی
    94
    محسنِ ادب و سفیرِ محبت …حفیظ شاہد
    معظمہ شمس تبریز
    97
    ٭ خصوصی مطالعہ
    زندہ حقیقتوں کا شاعر…حفیظ شاہد
    سیّد عامر سہیل
    101
    توانا لب ولہجے کا شاعر…حفیظ شاہد
    پروفیسر ڈاکٹر نواز کاوش
    106
    روشنی کا سفیر …حفیظ شاہد
    حیدر قریشی
    112
    تاریخ گوئی کی روایت اور قطعاتِ تاریخ کا مطالعہ
    مظہر عباس
    117
    معانی در معانی کا جہاں …حفیظ شاہد
    محمد صادق جاوید
    127
    شاعر میرے شہر کا
    زاہدہ نور
    132
    حفیظ شاہد…اہلِ فن کی نظر میں
    سعدیہ وحید
    137
    ٭ خراجِ عقیدت

    حفیظ شاہد… انسان دوست شخصیت
    حسنین ارشد
    186
    اُستادِ محترم حفیظ شاہد کے نام /حفیظ شاہد کی یاد میں
    اظہر عروج /شہباز نیئر
    187-88
    ٭ مدیر کے نام! (تبصرے/تجزیے/تاثرات)
    189-221
    حفیظ شاہد …فکر و فن
    سعدیہ وحید
    222
    ٭ حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام (مرتب: محمد یوسف وحید ۔ سعدیہ وحید )

    حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام …م۔ ی ۔ و
    227
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ اُردو غزلیات
    231
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ گیت ‘ملی نغمے
    248
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ پنجابی غزلیات
    250
    ’’حاصلِ غزل‘‘غیر مطبوعہ فلمی گیت
    257
    منتخب اُردو غزلیات … سعدیہ وحید
    265
    ٭٭٭

  • عزم و استقلال کی عمدہ مثال

    عزم و استقلال کی عمدہ مثال

    تبصرہ: معظمہ شمس تبریز ( رحیم یار خان )
    عزم و استقلال کی عمدہ مثال… محمد یوسف وحید

    ’’شعوروادرک‘‘ شمارہ نمبر ۶ ۔ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ پر گفت گو

    اعتدال درسِ اسلام بھی ہے اور عمرانیات کی روح بھی ۔ لیکن کچھ عرصے سے جدید میڈیا بہت زیادہ مقبولحیثیت سے سوہانِ روح بنا ہوا ہے ۔ اس نے افراد کی متاعِ بے بہا یعنی ’’ وقت ‘‘ کو اس طرح گرفت میں لے لیا ہے ، جس طرح غلطی سے کمرے میں پھیلی ہوئی گیس آکسیجن کو کنزیوم کر لیتی ہے اور زندگی متاثر بلکہ مشکل ہوجاتی ہے ۔
    ایک وقت تھا جب ڈیرے سجتے تھے ، بیٹھک لگتی تھی ، کچاری ہوتی تھی ۔ دن بھر کی کارروائیوں کا ذکر ہوتا تھا ۔ چھوٹے بڑوں سے کہانیاں اور تذکرے سنتے تھے‘ جن میں تجربات اور زندگی کا نچوڑ بیان ہوتے تھے ۔ سنجیدہ اور مزاحیہ ہر دو اَنداز آزمائے جاتے تھے تاکہ پیغام کی ترسیل بھی ہوسکے اور دن بھر کی مصروفیت سے ہونے والی تھکان اور پریشانی کو ختم کیا جاسکے ۔
    لیکن دَورِ حاضر میں موبائل فون نے ساتھ ساتھ بیٹھے لوگوں کو یہ قوت دی ہے کہ گروپ کا ہر ایک فرد ضلع سے باہر کی حاصل وُصول میں لگا ہے تو کوئی صوبائی بلکہ ملکی حدود پار کرکے سات سمند رپار عہد و پیماں ، ربط و رَچائو اور بے محل چھپن چھپائیمیں ہمہ تن مصروف ہے ۔ا ور ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ مخاطبوں کو یقین دلا رہا ہے کہ
    ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
    ٭
    بنا گئی مشینوں سا ہیں آرزوئیں انساں کو
    وہ اُلفتیں بھی خواب ہیں‘ رفاقتیں بھی خواب ہیں
    اس سب گَڑ بَڑ گھٹالے میں سب سے زیادہ نقصان ، قلم ، کتاب اور قاری کا ہوا ہے ۔ کسی بھی موضوع پر مواد جیسے تیسے کرکے انٹرنیٹ پر مل جاتا ہے ۔ لہٰذا وہ ادیبوں کی تلاش اور بر محل تحریر کا فقدان اس تیز رفتار ی کا تحفہ قرار پایا ہے ، صرف اتنا نہیں بلکہ کتب بینی کا زمانہ قصۂ پارینہ بن گیا ہے ۔ کیوں کہ انواع و اقسام کی تحریریں چھوٹی درمیانی اور بڑی سکرینوں پر رنگ برنگے فونٹس میں دستیاب ہیں۔ بے شک وہ تُک بندی پر مبنی ہیں مگر قاری کو پست حوصلہ کرنے میں اپنا کردار خوب نبھا رہی ہیں اور ۸ سال سے ۸۰ سال تک ہر فرد اچھا ، نیا اور اُس کے سے اچھا موبائل فون چاہتا ہے مگر کتاب نہیں اور اگر کوئی کچھ پڑھتا بھی ہے تو فقط فوری اور سَر سَری جب کہ حبیب احمد صدیقی نے فرمایا :
    ہائے بیداد محبت کہ یہ ایں بربادی
    ہم کو اَحساسِ زیاں بھی تو نہیں ہوتا ہے
    آپ خواہ جس بھی سکرین پر جس بھی فارمیٹ میں کوئی ادبی ، اصلاحی یا کسی اَور طرح کا متن پڑھ رہے ہیں ۔ اس کی بنیاد کوئی نہ کوئی کتاب ہے ۔ کیوں کہ ایک عام فہم تعریف کے مطابق ہر لکھی ہو ئی بات کو کتاب ہی کہا جاتا ہے ۔اور اگر کتاب ہی نہ ہوگی تو پھر ’’ مچھلی کے بغیر پانی ‘‘ کے مصداق آپ کے ہاں سکرین تو ہوگی مگر سکرپٹ ہرگز نہ ہوگا اور دے دِلا کے ایک ہی مَصرف اور بیان آپ کے پاس ہوگا کہ
    میں کھولاں کیڑھی کتاب نوں
    میں کیڑھا لفظ پڑھاں
    میں جیڑھا وَرقہ کھولدی
    اس ورقے اوندا ناں
    ایسے میں غنیمت ہے‘ ایسے لوگوں کا وجود جو دَامے ، دَرمے ، سخنے اس بنیادی ضرورت کے لیے متاعِ مطلوبہ یعنی کتاب کے وجود اور دَوام کے لیے اپنا تن من دھن قربان کر دیتے ہیں ۔ قریہ قریہ سیر کرتے اور قرطاس و قلم کے ساتھ ساتھ نئے اور پرانے لکھنے والوں کو کھوج کھوج کر بار بار ملاقاتیں کرکے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ قلم کے جمود کو تحریک میں بدل سکیں ۔ انہیں لاثانی شخصیات میں ایک نمایاں نام محمد یوسف وحید ہے ۔

    Yousuf Waheed
    محمد یوسف وحید


    بچپن کی حسین یادوں میں ہماری ذات سے جڑا ایک حوالہ سب سے اچھی گڑیا کا انتخاب ۱۵ سیکنڈز سے پہلے کر لینا ہے اور خیر سے وہ زمانہ میلوں ، ٹھیلوں ، تہواروں ، شادی بیاہ اور عرس کے حوالے سے یادگار تھا ۔جہاں آج کی طرح پابندیاں نہیں تھیں بلکہ میل ملاپ ، رِیت رواج اور اسی طرح کی دیگر سماجی وَلولوں کی تازگی اور رَکھ رَکھائو بدرجہ اتم موجود تھا ۔ خیر آئے دن بازار سجا رہتا تھا اور ہماری سکھیاں امی سے اجازت لے کر ہمیں ساتھ لے جاتی تھیں ۔ اس تمہید کا مقصد صرف اتنا تھا کہ ہم آپ کو بتا سکیں کہ وہ محمد یوسف وحید ‘ جس کا ذکر ہم باباجان سے پہلے سے سنتے آئے ہیں ۔ مگر اُن کے ذوق ، فکراور ادب کے معترف ہم کتاب ’’خان پور کا ادب ‘‘اور ’’ شعوروادراک‘‘ کا شمارہ نمبر ۴، ’’ حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ‘‘ سے ہوئے اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ شعر تو کہا ہی ان کے لیے گیا تھا :
    محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
    ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
    ادب کی خدمت کو خود پر فرض قرار دے کر رات دن ایک کر دینے والے یہ ادیب عمل کی ترغیب اس مؤثر انداز سے دیتے ہیں کہ آپ انکار کرکے تو دکھائیں ۔ آپ حالات کا شکوہ کریں تو کہیں گے مجھے دیکھ لو ۔ آپ وسائل کی کم یابی کی بات کریں تو درجہ بہ درجہ اپنے وَسائل کا خاکہ سامنے رکھ دیں گے ۔ آپ لوگوں کی ناقدری کا رونا روئیں گے تو جواب ملے گا باتوں کا کیا ہے ، آئی گئی ہوجاتی ہیں ‘ اَصل چیز عمل ہے ۔ صرف اسے اچھا ، سچا اور رَواں رَہنا چاہیے ۔
    شاید کسی دانشور نے محمد یوسف وحید کے لیے ہی یہ بات کہی تھی کہ
    ’’ مثالیں مت دو بلکہ خود مثال بن جائو ‘‘ ۔
    ہاں مگر یہ کامیاب لوگوں کی مثال ضرور دیتے ہیں ۔ اور آپ کے ذہن میں جو بہترین خاکہ بنتا ہے ۔ اُس کی صاف ستھری ، واضح اور حقیقی فریم میں یہ خود فٹ آتے ہیں اور خوب آتے ہیں ۔محترم محمد یوسف وحید کی جس بات نے ہمیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ‘ وہ اُن کی حوصلہ افزائی کی عادت ہے ۔ جس کے لیے وہ ہر ممکن طریقہ اپناتے ہیں بلکہ نت نئے ذرائع استعمال کرتے ہیں ۔ہاں مگر اس میں ایک بات جو اُنہیں ہم سے ۱۰۰ میں سے ۱۰۰ نمبر دلواتی ہے ۔ وہ ہے اُن کا مخلص اور بے لوث ہونا ۔ وقت کی کمی کا اَحساس شدت سے کرتے بھی ہیں اور دوسرے کو اُس کا اَحسا س بھی باورکراتے ہیں ۔ کسی آشنائے راز کے اس شعر کی صورت آپ کے سامنے رکھتے ہیں ۔
    ملک عدم توں ننگے پنڈے اَوندا اے اندر جہانے
    اک کفن دی خاطر بندہ کناں پینڈا کردا اے
    ہم اکثر سوچتے رہتے ہیں کہ قدم قدم پر حوصلہ شکنی ، زہر فگاری ، طعنہ زنی ، سرد مہری اور اسی قبیل کے کئی ایک منفی روّیوں کو برداشت کرتے ہوئے کس طرح اپنے اچھے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسروں کے لیے لیے بھی آسانیوں کا سامان کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ عزت دو اور عزت لو ، کائنات کا مُسلمہ اُصول ہے ۔اس کی عملی شکل ہم سے اُن کی مہربانیوں کی جھلک ایک نظر ملاحظہ فرمائیں :
    نمبر شمار
    نام مضمون /تحریر
    موضوع
    اشاعت
    ۱
    ’’خان پور کا ادب ‘‘۔
    تعارف
    خان پور کا اَدب ، الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ۲۰۲۱ء
    ۲
    حیدر قریشی کی افسانہ نگاری
    نثری مضمون
    سہ ماہی شعورو ادراک ، شمارہ نمبر ۵، ( جنوری تا مارچ ۲۰۲۱ء)
    ۳
    گوہرِ باکمال …سیّد محمد فارو ق القادری ؒ
    نثری مضمون
    سہ ماہی شعورو ادراک ، شمارہ نمبر ۵ ، خصوصی گوشہ ’’ سید محمد فاروق القادری ‘‘
    ( جنوری تا مارچ ۲۰۲۱ء)
    ۴
    محسنِ ادب و سفیرِ محبت …حفیظ شاہد
    نثری مضمون
    سہ ماہی شعورو ادراک ، شمارہ نمبر۶،
    ( اپریل تا جون ۲۰۲۱ء)
    ۵
    خان پور کا اَدب
    تبصرہ
    کتاب:’’ خان پور کا اَدب ‘‘۔ہفت روزہ اخبار ِاکبر رحیم یار خان ۔پنجند ڈاٹ کام ، شعوروادراک ، شمارہ نمبر ۵ ( جنوری تا مارچ ۲۰۲۱ء)
    ۶
    مجلہ ’’شعوروادراک ‘‘
    تبصرہ
    شعوروادراک شمارہ نمبر۴ ، خاص نمبر’ ’حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ‘‘ پر تبصر ہ
    ہفت روزہ اخبارِاکبر رحیم یار خان ۔ پنجند ڈاٹ کام (ویب سائٹ)
    ۷
    مجلہ ’’شعوروادراک ‘‘
    تبصرہ
    شعوروادراک شمارہ نمبر ۵ ، خصوصی گوشہ’ ’سید محمد فاروق القادری ‘‘ پر تبصر ہ
    ہفت روزہ اخبارِاکبر رحیم یار خان ۔ پنجند ڈاٹ کام (ویب سائٹ)
    سلطان العاشقین خواجہ غلام فرید ؒکے ۱۲۴ ویں سالانہ عُرس کا دن تھا اور ہم خواجہ غلام فرید کے حضور منقبت کے دو اشعار کہہ چکے تھے کہ بابا جان نے بتا یا کہ ’’ شعوروادراک‘‘ کے تازہ شمارہ نمبر ۶ ، ’’ حفیظ شاہد نمبر‘‘ پر تبصرہ ذرا جلد ی لکھ دیں ۔ ہم نے بسم اللہ پڑھی اور تبصرہ مکمل کرنے کے بعد منقبت کے باقی ماندہ اشعار مکمل کیے ۔ منقبت کے چند اشعار قارئین کی نذر تاکہ حوالہ بھی رَہ جائے اور سنبھالا بھی رَہ جائے ۔
    منقبت بحضور سلطان العاشقین خواجہ غلام فریدؒ
    دل میں فریدِ پاک کی اُلفت اُجال کر
    دل کے نگر کو آج تو رشکِ جمال کر
    اہلِ نظر میں ذوق کی خیرات عام ہے
    باطن کی آنکھ کھول کے رقص و دھمال کر
    وحدت کے تو آکے یہاں قلزم میں ڈوب جا
    تو حق نما ہو یار کا بھی خال خال کر
    دامن زباں کو تو بچا دنیا کی بھیڑ میں
    خواجہ کے آ دربار میں دل کو سنبھال کر
    اے شمسؔ دل عرفان سے معمور کر اَبھی
    ہے کیمیا کی کان بس دَم دَم خیال کر
    حدیث ِ مبارکہ میں الاعمالُ باالنّیات فرما کر صفتِ اخلاص کی عظمت اور اہمیت دونوں کو اُجاگر کر دیا گیا ہے ۔ محمد یوسف وحید بجا طور پر اَخلاص کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ حلقۂ احباب اور حلقۂ اَثر میں بھی فردِ غنی ہیں ۔ اپنی دُھن میں مگن مقاصد کے حُصول کے لیے نہایت صدقِ دل سے کوشاں اور اُمید کی کرن مل جانے پر نہایت شاداں و فرحاں نظر آتے ہیں اور پھر تازہ دَم ہو کر نئے مقاصد کے حُصول کے لیے عزمِ سفر کرتے ہیں ۔ عمیر نجمی کا ایک شعر اُن کی نذر کہ
    مجھے پہلے پہل لگتا تھا، ذاتی مسئلہ ہے
    میں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ ہے
    ہم اپنی بات کو مختصر کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجلہ ’’ بچے من کے سچے ‘‘ اور ’’ محمد یوسف وحید ‘‘ کو دیکھ کر محنت ، محبت ، اخلاص ، جذبہ اور عزم و استقلال پر یقین آنے میں دیر نہیں لگتی ۔
    ٭٭٭
    اُستاد الشعراء ، چھ شعری مجموعوں اور کلیات: ’’ ختمِ سفر سے پہلے‘‘ کے خالق حفیظ شاہد ‘ حساس ، نرمل سوچوں کے مالک اور دیدہ ٔ بینا رکھنے والے عمدہ شاعر تھے ۔ اُن کی شاعری اَمن ، محبت ، ہم آہنگی اور مثبت روّیوں کوفروغ دینے والے عمرانی تجربات کا نچوڑ ہے ۔اُن کے جملہ شعری کلام میںچھپا سبق اور پیغام واضح طور پر اَحساس دلانے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ حفیظ شاہد نہایت صُلح جو ، امن پسند ، وطن پرست اور منفی روّیوں پر رنجیدہ ہوجانے والے سنجیدہ شاعر ہیں ۔ حفیظ شاہد اپنے کلام میں ایک واعظ کے روپ میں درسِ محبت دیتے نظر آتے ہیں ۔ حفیظ شاہد نے زندگی کے تلخ و شیریں نشیب و فراز اور تجربات کو اپنی شاعری میں نچوڑ کی صورت پیش کر دیا ہے ۔ ہم اگر ان تجربات سے فائدہ اُٹھانا چاہیں تو زندگی آسان اور خوب صورت ہوجائے گی ۔
    حفیظ شاہد کے کلا م میں زندگی کے بہت سے رہنما اُصول ملتے ہیں ۔حفیظ شاہد سُستی اور کاہلی کوسخت ناپسندکرتے اور عقل وخرداور جرأت مندی کو پسند کرتے ہیں ۔ وہ اپنے قاری کو حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا درس دیتے ہیں ۔ اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت کرنا سکھاتے ہیں ۔ الغرض حفیظ شاہد کا مکمل کلام ایک عمرانی صحیفے کی مانند ہے۔ حفیظ شاہد کے غیر مطبوعہ کلام کو حُسنِ ترتیب و اشاعت سے نواز کر محمد یوسف وحید نے ایک اہم اخلاقی ، ادبی اور ادب دوستی کا فریضہ سر انجام دینے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے ۔
    ’’ شعوروادراک‘‘ کا تازہ شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ نہایت عمدہ اور بے مثال کاوش ہے ۔ شمارے میں شامل حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام جو ’’ حاصلِ غزل ‘‘ کے عنوان سے مدیر محمد یوسف وحید اور سعدیہ وحید نے ترتیب دیا ہے ۔ میں اس علمی ، ادبی اور تاریخی کارنامے پر ’’ شعوروادراک‘‘ کے مدیر ، معاون مدیر اور جملہ احباب کو دِلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور مزید ترقی ، کامیابی اور خوش حالی کے لیے دُعا گو ہوں ۔
    ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ سے چند منتخب اشعار پیشِ خدمت ہیں :
    کیا کتابِ منصفی میں ہے یہی مرقوم دیکھ
    ایک ہی صف میں کھڑے ہیں ظالم و مظلوم دیکھ
    (سفر روشنی کا )
    زندگی سے مطمئن تو کم ملیں گے شہر میں
    لوگ اپنے آپ سے برہم ملیں گے شہر میں
    (سفر روشنی کا )
    میں نے شاہد ؔاُس کو ڈھالا ہے غزل کے رُوپ میں
    مجھ کو جو کچھ عصرِ حاضر کے مسائل سے مِلا
    (چراغِ حرف)
    خالی تھی میری جیب بھلا کیا خریدتا
    بھر آئی آنکھ رونقِ بازار دیکھ کر
    (چراغِ حرف)
    یہ میں نے کب کہا ہے اپنے قصرِ زر میں رہنے دو
    مجھے شہرِ قناعت کے شکستہ گھر میں رہنے دو
    (مہتاب ِ غزل )
    ہار پھولوں کے لئے بیٹھے ہیں اُس کی راہ میں
    اور کر سکتے ہیں کیا اُس کی پذیرائی میں ہم
    (مہتاب ِ غزل )
    اجل اور زندگی کی دوستی اک حرفِ باطل ہے
    بہت دشوار ہے پانی پہ بنیادِ مکاں رکھنا
    (یہ دریاپار کرنا ہے )
    فکرِ سُود وزیاں میں رہتا ہوں
    میں بھی اِس خاکداں میں رہتا ہوں
    (یہ دریاپار کرنا ہے )
    بارِ غم و الم سے کہیں چھت نہ گِر پڑے
    ڈرتا ہوں یہ بدن کی عمارت نہ گِر پڑے
    (فاصلہ درمیاں وہی ہے ابھی )
    خاموش ہیں سب لوگ مرے شہر کے شاہدؔ
    مقتول سے قاتل کا پتا پُوچھ رہا ہوں
    (فاصلہ درمیاں وہی ہے ابھی )
    ٭٭٭

  • بہاول پور (چو لستا ن ) کے قلعے

    بہاول پور (چو لستا ن ) کے قلعے

    بہاول پور (چو لستا ن ) کے قلعے
    تحریر و تحقیق :
    محمد یوسف وحید
    مدیر: شعوروادراک ( خان پور)
    پنجاب کا فن ِتعمیر
    کسی علاقے یا خطے کافن ِتعمیر کبھی ساقط نہیں رہتا یہ تغیر پذیر ہوتا ہے ۔ حالات کے پیش ِنظر کسی ایک خصوصیت کی جگہ دوسری خصوصیت لے لیتی ہے عمو می طور پر فن ِتعمیر میںیہ تبدیلیاں ارضیاتی ، مو سمی ، مذہبی ، سماجی ، معاشی اور تاریخی نقطہ نظرسے آتی ہیں جب مذہبی ، سماجی اور معاش تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں تو فن ِتعمیر بھی تغیر پذیر ہو تا ہے ۔
    پنجاب کے فن ِتعمیر کے مطالعہ سے پہلے بہتر ہو گا کہ ہم اس خطے کی سماجی ، مذہبی ، معاشی تاریخ کی تبدیلیوں پر ایک نظر ڈال لیں ۔ پنجاب میں ایک بھی ایسا علاقہ نہیں کہ جہاں داخلے کے لیے حملہ آوروں کو مشکات کا سامنا کر نا پڑے ہر حملہ آور اپنے خطے کے فن ِتعمیر ، لباس ، سماجی و ثقافتی اثرات لئے شمال مغربی دروں سے یہاں آتا رہا ۔ جس کے ذریع نت نئے خیالات اور نظریے یہاں وارد ہوئے مگر ثقافتی لحاظ سے پنجاب کی سر حدیں عمومی طور پر کھلی رہیں حتٰی کہ زمانہ امن میں لوگ سر حدوں پر رہنے والے لوگوں کے اثرات سماجی اور معاشی طور پر ایک دوسرے سے لیتے رہے ان لوگوں کو جنوبی ایشیا کی ذرخیر زمینوں نے ہمیشہ متاثر کیا جہاں ایک مستقل کشش تھی جس نے اس علاقے کے لوگوںکی زندگیوںپر فنِ تعمیر کے حوالے سے خو شگوار اثرات چھوڑے ۔ یہ خطہ جغرافیائی سر حدوںکے حوالے سے بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ علاقائی تمدن کے حوالے سے اس خطے میں ایک جیسی خصوصیات نہیں ۔ حتٰی کہ زبان بھی کچھ فاصلہ پر جاکر تبدیل ہو جاتی ہے بے شک تاریخی عمل سے ہر جگہ یہی محسوس کیا جاتا ہے ۔ اسی طر ح یہاں کا فن ِ تعمیر بہت سے فن ِتعمیر کا مجمو عہ ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی واضح نشاندہی قریبا ً ناممکن ہے ۔
    اس پر مستزاد یہ کہ پنجاب میں ارضیاتی طور پر پہاڑ ، سطح مر تفع میدان ، صحرا ور دریائی گز ر گاہیں، دو آبے ہیں ۔
    یہاں دو آب کی زندگی دوسرے علاقوں سے یکسر چھوٹے علاقوں کے علاوہ پنجاب کا موسم گر میوں میں گرم بہ مر طوب مگر سر دیوں میں سرد اور موسم خزاں اور بہار میں موافق ہو تا ہے۔ یہاں کا فن ِ تعمیر یہاں کے باسیوں کے دل کی طرح وسیع اور روشن ہے ۔
    ندی نالوں دریائوں کے گز ر گاہ ہو نے کی بنا ء پر اس سر زمین کے میدانی علاقوں میں مٹی اور ریت کے بے شمار ذخائر مو جود ہیں اور اینٹوں کے لیے وافر مٹی مہیا ہو تی ہے ،سورج کی تپش اور بھٹی سے ٹائلیں اور اینٹیں پکانے کے لیے بنیادی سامان موجود ہے اور پہاڑوں سے علاقائی پتھر بھی میسر ہے ۔ جہاں پر اس کی کٹائی ا ور کھدائی کے لیے بہتر ین ہنر مند مو جود ہیں ۔ ایسے علاقوں میں ٹیکسلا ، اٹک ، رہتاس ، نندنہ ، کٹاس ، روات جیسے علاقے شامل ہیں ۔ بہت کم جگہیں ایسی ہیں جہاں سر خ ، نیلا پتھر اور سنگ ِمر مر کسی دوسری جگہ سے لا کر عمار ت میں لگایا گیا ہو ۔ ایسا عمومی طور پر شاہی سر پرستی میں بننے والی عمارتوں کے سلسلہ میں کیا گیا ہے ۔

    Forts of Cholistann


    پنجاب کو یو نانی زبان میں Pentepotamos(پانچ دریائوںکی سر زمین )اور سنسکرت میں پنجند کہا گیا ہے ۔ یہ علاقہ حملہ آوروں کے لیے ہمیشہ سے کشش رکھتا ہے ۔ ہر نیا حملہ اور اپنے ساتھ نت نئے خیالات اور فن تعمیر کے مختلف طریقے لایا جس سے یہاں ایک نئی روایات کا اضافہ ہوا یہاں پرانے اور نئے کی جنگ ہمیشہ رہی اور فاتح ، مفتوح ایک دوسرے میں مدغم رہے ۔
    دوسری طرف پنجاب ایک ایسا خطہ ہے یہاں بہت سے مذاہب کے لوگ آباد ہیں ۔ اس سر زمین نے ویدک دور سے پہلے کے آباد کار بھی دیکھے ویدک دور ، ہندو مت ، جین مت اور بد ھ مت کے زمانے بھی دیکھے ۔ یہاں تک کہ یو نانی اوران کے پیرو کار ۔ کشان آسمانی بجلی کی پوجا کر نے والے اور ایرانی آگ اور سورج کی پو جا کر نے والے دیکھے ۔ ان کے بعد مسلمان سکھ اور عیسائی آئے ۔ اس خطہ میں ایک ہی وقت میں مختلف مذاہب کے لوگ بھی رہے جو فن تمعیر میں اپنی اپنی عبادت گاہوں کے لحاظ سے اگر چہ منفرد خصو صیات کے حامل تھے ۔ مسجد ، مندر ، گردوارہ ، گر جا کے فن تعمیر کو ایک انجان بھی محسوس کر سکتاہے اسی طر ح مدرسہ ، پاٹ شالہ ، سرائے ، دھرم شالہ ، سمادھ ،مقبرہ ، قبرستان ، شمشان بھومی ، تکیہ ویہار کو مذہبی نقطہ نگاہ سے ایک دوسرے سے منفرد رنگ میں دیکھا جاسکتا ہے ۔اس نقطہ نظر سے بھی پنجاب کا ایک یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ کسی اور جگہ کے مقابلے میں یہاں بہت سے مذاہب ثقافتی پہلو ، مذہبی پہلو ، سماجی اور معاشی پہلو ایک ہی جگہ نظر آتے ہیں ۔ نعیدک سے قبل کا دور ہمیں ہڑپہ سے ملتا ہے۔ پہلا یو نانی معبد ٹیکسلا میں بنایا گیا جبکہ پہلا پارسی معبد بھی ٹیکسلا ہی میں قائم ہوا ۔ گند ھارا پنجاب میں بد ھ ازم کے حوالے سے ایک متبر ک جگہ ہے اور اسلام کے پھیلائو کے لیے اس خطہ کا اہم مقام ہے ۔ پورے ہندوستان میں اسلام اُ چ شریف ، ملتان اور لاہور کے راستے پھیلا دوسرے نقطہ نظر سیبھی پنجاب ایک منفرد تجر بے سے گزرا ۔ اس کے جغرافیائی خدو خال کی بناء پر پنجاب ہزاروں سال سے انسانی تحریکوں کا درواز رہا ہے۔ وسطی ایشیا ء ایران اور مغرب کی طرف سے آنے والی یلغاروں کی زد میں رہا ہے ۔ اگر چہ اس دروازے سے حملہ آور ، علاقائی تمدجی جمیعت ، قافلے ، تاجر ، عالم اور سچائی کے متلاشی بھی آئے ۔ یہ آمدو رفت پنجاب میں ہمیشہ جاری و ساری رہی ۔یہاں دریائوں سے آبپاشی کے نظام کوہمیشہ بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ۔ سڑکیں ، بحری کشتی ،قلعوں کی تعمیر ، رباط ، سرائے ، بائو لیاں ، کو س مینار اور پڑاؤ وغیر ہ ۔ ایسی عمارتوں نے یہاں ایک خاص فن تعمیر کی بنیاد رکھی ۔ ایسی عمارتوں کی پنجاب میں کوئی کمی نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے ایسی متنوع فنی مہارت پاکستان میں صرف پنجاب ہی میں دیکھنے میں آتی ہے ۔
    پرانے وقتوں میں اور ایندھن سے چلنے والے انجنوں کے ساتھ دریائی ٹریفک اور پن چکیوں نے پانی کے ذخائر کے قریب رہنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ تمام اہم شہروںاور قصبوں کی تعمیر پانی کے ذخائر دریائی کناروں کے قرب و جوار میں کوئی پنجاب اس سلسلہ میں خاصا خوش نصیب ہے کہ یہاں کافی چھوٹے بڑے دریا مو جود ہیں ۔ ماضی میں یہاں شہری آبادیوں کے لئے خاصے موافق حالات تھے یہاں اکثر تہذیبوں کا ارتقا ء ممکن تھا ایسے شہرو ں میں ٹیکسلا ، ہڑ پہ ، لاہور ، اُچ ، ملتان ،سو دھرہ، چنیوٹ،بھیرہ ، خوشاب ، اٹک ،شور کوٹ ، جھنگ ، وزیر آباد قابل ِذکر ہیں ۔ شہروں میں عمارتوں کا بھر مار کا مطلب فن تعمیر کی ترقی ہی ہے آج کی تحقیق کے مطابق یہ ثابت ہے کہ ہڑپہ تہذیت کا مر کز اور اس کی معاشی مضبو طی دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا تھے ۔
    شہری زندگی کی شروعات پنجاب میں ہڑپہ اور ٹیکسلا سے ہوئی بلکہ ٹیکسلا سے قبل Hippodameanٹائون پلاننگ سکندر نے پنجاب میں متعارف کروائی جہاں اس نے کئی تاریخی شہر اسکندریہ نام کے شہر بسائے ۔ اس کے بعد مسلمانوں کے دور ِ حکومت میں مسلمانوں کے فن تعمیر کے نقطہ نظر سے جو کردار لاہور ، ملتان، دیپالپور اور اُچ نے ادا کیا اس کی مثال آج بھی پاکستان کے کسی اور صوبے میں ملنی مشکل ہے ۔ بھنبھو ر اور منصورہ بلاشبہ ابتدائی اسلامی دور کے شہر ہیں لیکن بعد میں آنے والے ادوار میں ان کا کردار ابھی تک تحقیق طلب ہے ۔
    شمال مغرب سے تمام اہم حملہ آور سب سے پہلے پنجاب سے نبر د آزما ہو تے تھے اور اگر پنجاب یہ جنگ ہار جاتا تو دہلی تک انہیں روکنے کی استطاعت کوئی نہ رکھتا تھا ۔ اس طر ح پنجاب پورے ہندوستان کے تحفظ کی ضمانت رہا ہر حملہ آور اپنے ساتھ تباہی ، بر بادی لاتا اور شہروں ، عمارتوں کے کھنڈرات میں نمایاں اضافہ کر تا چلا جاتا ہے ۔ ملتان ،اُچ ، دیپالپور اس کی روشن مثالیں ہیں ۔ پنجاب کی آبی گذر گاہیں خود پنجاب کے فن تعمیر کے لیے ایک مصیبت بن گئیں ان دریائی گذر گاہوں نے تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ راستے میں آنے والے شہروں ، عمارتوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر نے نمایاں کردار ادا کیا ۔ اسکندر کے زمانے میں چار شہر اسکندریہ ، بھیرہ ، خوشاب اور ملتان کے علاوہ لاہو رکی عمارتیں دریائی دستبر د کا بار بار شکار ہو تی رہیں مختلف ثقافتی یلغاروں نے بہت کم عمارتیں باقی چھوڑیں ۔ محکمہ آثار ِقدیمہ نے پنجاب کی عمارتوں کا ایک مکمل سروے کرایاجس سے پتہ چلا کہ پاکستان میں غزنوی دور کی کوئی عمارت مو جود نہیں ہے ۔ مگر آج کبیر والا ملتان کے نزدیک مقبرہ خالد بن ولید اس کے امکان کر رد کر تا ہے پنجاب کے ایک مکمل سر وے کے رپورٹ کی اشاعت کے بعد یہاں کے فن تعمیر کو سمجھنا اور ابھی آسان ہوجائے گا۔
    جغرافیائی حالات اندرونی خلفشار اور بیرونی حملہ آوروں ور آبادی کی یلغار جھیلنے والے اس عظیم خطے نے باہر سے آنے والے اور اند ررہنے والوں نے اپنے بیرونی اثرات اور اندرونی اثرات سے مزین عمارتیں تعمیر کیں جو اپنے آفاقی خدو خال کی وجہ سے پاکستان بھر میں ممتا زہیں ۔ یہاں پر مو جود زبانوں میں پنجابی ، سندھی ، سرائیکی ، بلوچی ،ہندی ،عربی اور فارسی کا مطالعہ دوسروں کے اثرات کو کھلے بندوں کو قبول کرنا اور دوسری تہذیب کے اثرات اپنے اندر قبول کر نایا نظر انداز کر نا ضرورت کے مطابق تبدیلی کر نے کا انہیں کوئی دکھ نہیں۔ نئے لوگ نئے انداز نئی تحریکیں ، نئی لہریں ہر دم اپنا کر انہیں پنجاب میں تحفظ فراہم کیا گیا ۔ پنجاب میں رہنے والے لوگ دوسرے لو گوںکی امداد کے لئے ہر دم تیار رہتے ان کا مذہب اپنانے ان کی ثقافت اورانہی کے انداز کی عمارتیں بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ۔ وقت اس کا بہترین گواہ ہے کہ پنجاب کے لوگوں کا اپنا رشتہ اس مٹی سے استوار رکھنے کے لیے کیا کھو یا ، کیا پایا ۔ اس علاقہ میں ہر کسی کی اپنی پسند کا فن تعمیر ابھر تا اور ڈوبتا رہا ۔
    مغلوں کے اعلی ترین عہد میں (1526ء 1761-ء ) مغل شہنشاہ بابر تعمیرات کا دلدادہ تھا ۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے ہمراہ دو زبر دست معمار یوسف ، اور عیٰسی کو یہاں لایا جو معروف تر کی معمار سنان کے شاگرد تھے انہوں نے بڑی اعلٰی عمارتیں اپنے ذوق کے مطابق بنائیں ۔نصیر الدین ہمایوں کی تیار کر دہ چند یادگاریں آگرہ ، حصار اور دیگر مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں ۔ تاہم لاہور میں میرزا کامران کی بار ہ دری اس کی عظیم یادگار ہے ۔
    شہنشاہ اکبر 1555ء میں تخت نشین ہوا ۔ اس کی یادگاروں میں لاہور کا قلعہ دور جامع مسجد فتحپور سیکر ی ، شیخ سلیم چشتی کا مقبرہ ، لاہور کے قلعہ میں کچھ عمارات اکبر نے فتح پور سیکر ی کی طر ز پر تعمیر کیں ۔اسی طر ح گنگا اور جمنا کے سنگم پر واقع الہ آباد میں اکبر نے ایک محلاتی قلعہ (ارک ) بنایا ۔ اکبر کے بعد مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں پنجاب میں قلعہ لاہور ،قلعہ شیخوپورہ ، ہرن مینار ، مقبرہ انار کلی ، واہ گارڈن اور کئی عمارات سینکڑوں کے حساب سے تعمیر ہوئیںجبکہ عہد شاہ جہانی میں تا ج محل کے معماروں میں استاد احمد اور حامد کے نام قابل ِ ذکر ہیں ۔ جنہیں شاہ جہاں نے دہلی کی عمارات کی تعمیر کے لیے 1638ء میں مامور کیا ۔ احمد کا پسر ثانی لطف اللہ تاج محل کی تعمیر اور عمارات دہلی کی تعمیر اپنے والد کے نام بتا تا ہے ۔ شاہ جہاں کے عہد میں پنجاب میں متعدد عمارات تعمیر ہوئیں ۔ جن میں قلعہ لاہور کی موتی مسجد ، شیش محل ، شالا مار باغ ، مقبرہ جہانگیر ، مقبرہ نو ر جہاں ، اور بے شمار مساجد و مقبرے اسی دور میں تعمیر کیے گئے ۔ مغلو ں کے ذوق کے نمونے پنجاب میں قدم بہ قدم آج بھی ان کی فن تعمیر سے وابستگی اور اعلیٰ ذوق کی نشانی ہیں ۔
    ہم مسلمانوں کے دور کو چار حصوں میں تقسیم کر تے ہیں ۔ محمد بن قاسم کے دور سے محمود غزنوی کے دور تک بر صغیر میں پہلے ہی متعدد قلعے مو جود تھے ۔ پھر والا قلعہ کی صحیح تاریخ بنا 1002ء ہے ۔ محمد بن قاسم سے محمود غزنوی تک پرانے قلعوں کو ہی مضبوط بنایا گیا مگر کوئی قابل ذکر فن تعمیر کے لحاظ سے کارنامہ شاذ ہی میسر آتا ہے ۔ اس سلسلے میں مضبوط حوالہ ہمیں پٹھانوں کے دور سے میسر آتا ہے ۔ زمانہ تغلق میں خاندان ِغلاماں اور خلیجوں کے فن تعمیر کی خصوصیات ملتی ہیں جن پر ہندووانہ اثرات غالب ہیں ۔ہم عادل آباد میں دوہری دیوار پہلی مر تبہ 1337ء دیکھتے ہیں ۔ جو رائے پتھورا کی حوایلی کی دیوار تھی ۔
    بیرونی چار دیواری سے مرصع شہر
    ہیون سانگ کا ویہند جو اور بہت سے مختلف ناموں سے پہنچانا جاتاہے آج کا ے قصبہ ھجرو کے بالمقابل وادی چلاس دریائے سندھ کے دائیں کنارے سے ۱۶میل کے فاصلے پر ہے جہاں دریائے کابل دریائے سندھ سے ملتا ہے اس قصبے کے گردا گرد ۲۰فٹ اونچی دیواریں ہیں آج کل آثار کی شکل میں ہیں ان دیواروں میں چار دروازے ہیں جن کا کوئی محراب نہیں ہے ۔ یہ دیواریں بھٹی کی پکی ہوئی اینٹوں سے بنائی گئی ہیں مگر نیچے بنیادوں میں چو کور پتھر لگائے گئے ہیں ۔جو ظا ہر کر تا ہے کہ نیچے کا میڑیل مسلمانوں سے پہلے کا ہے ۔ دروازے کاپٹ ایک ہی ہے۔ یہ جگہ محمود غزنوی کے حملہ کے وقت سر دیوں میں ہندو شاہی دور کا دار لخلافہ تھی جس نے بہت سی جنگوں کا نظار ہ کیا ہے ۔ یہ ہندو فوجی نقطہ نگاہ سے تعمیر کی پہلی مثال ہے اس دیور میں بہت سے برج بنائے گئے ہیں جو ۵۰ گز کے فاصلے پر ہیں ۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگا کہ یہ دیوار محمود غزنوی کے دور میں دوبارہ تعمیر کی گئی ۔
    سر کپ کے نام سے رہائشی کالونی ٹیکسلا کے قریب ہے ۔ مو جودہ کھدائی شاہ جگہ سیتھو پارتھین دور کا شہر تھا ۔ جو کئی مر تبہ اس قصبہ کے گرد ۲۱ فٹ بلند دیوار مو جود ہے ۔ جو بر جوں سے مکمل کی گئی ہے ۔ اس قصبہ میں محلات مندر اور عام لوگوں کے رہنے کے مکانات موجود ہیں ۔جن کے دروازے بازار کی طرف کھلتے ہیں ۔ یہ برج مستطیل بنائے گئے ہیں ۔اسی طرح کی چار دیواری والے قصبوں میں ڈیجی والی ٹکری (خیر پور میرس ) اور مو ئن جو دڑو اور ہڑ پہ آج بھی گوا ہ ہیں ۔
    قصر
    یہ محلات اسلام سے قبل بر صغیر اور یورپ میں بنائے جاتے ، رومنوں اور گایئتھوںنے اپنے اپنے علاقوں میں ایسے محلات تعمیر کیے ۔ البیرونی نے ہندوستان میں ایک ایسے قصر کی تعریف کی ہے جو کابل اور دریائے سند ھ کے قریب واقع تھا ۔ قصر امراء کے رہنے کی جگہ کو کہا گیا ہے ۔ ہنگامی حالات کے موقع پر ایک چھوٹی پلٹن اس کی حفاظت پر مامور ہوتی ۔ عربوں نے بھی ایسے محلات بنائے ۔ یہ محلات عمومی طور پر تاریخ میں بند مکان کے طور پر بنائے جاتے ہیں ۔
    پاکستان میں ایسے محلات کی دوسری مثال قصر نواب سید خان جو پشاور کے نزدیک ہیں اس کی دیواریں ۱۴فٹ تک چوڑی ہیں جو پختہ مٹی کی ٹائلوں سے بنائی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد میں کئی ایک قصر اُمرا ء رئو سا کے زیر استعمال ہیں ۔
    رباط
    یہ مختلف نو عیت کے چھوٹے قلعہ نما چو کیا ں ہیں جو شام اور سسلی میں موجو د ہیں اور اس کی مثالیں ہمیں مسلمانوں کے دور میں بر صغیر میں بھی ملتی ہیں ۔ بر صغیر میں اس کی بہترین مثال قلعہ روات ہے ۔ جہاں گکھڑ سلطان سارنگ خان کا مقبرہ ہے جو شیر شاہ سوری سے جنگ کے دوران مارا گیا تھا یہ ربا ط کی ایک عمد ہ مثا ل ہے ۔
    رباط ایک اونچی دیواری سے گھری ہوئی عمارت جس کی دیواریں ۳۰ فٹ تک اونچی ہوسکتی ہیں ایک بڑے دروازے کے ساتھ ہوتی ہے جہاں سے آمدورفت پر نظر رکھی جاسکتی ہے ۔ اس کا ایک درواز ہ ہو تا ہے اور اس سے ملحق چند مکانات ہو تے ہیں جو مکانات سے زیادہ بیر کوں کا نمو نہ پیش کر تے ہیں مغربی کو نے میں ایک مسجد ہے سارنگ خان کا مقبرہ شمال مغربی کو نہ میں ہے ۔ ایسی رباط دو قلعوں کے درمیان درجنوں کے حساب سے تعمیر کی جاتیں جو ڈاک چوکیوں کا کام بھی دیتیں ۔
    قلعے
    شمال مغربی سر حد پر سکھوں اور بر طانوی سامراج نے چند قلعے بنائے ان میں میکن فورٹ ، شگئی فورٹ ، علی مسجد فورٹ ، لنڈی کو تل فورٹ ، اکوڑہ فورٹ یہ تمام قلعے مغربی طر ز ِتعمیر کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے ۔ جن میں سے اکثر جمرود اور خیبر روڈ پر واقع ہیں ۔ یہ خیبر پاس کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ۔ پشاور میں قلعہ بالا حصار پنجاب میں قلعہ اٹک ، پھر والا قلعہ ، قلعہ روہتاس ، قلعہ لاہور ، قلعہ شیخو پور ہ ، قلعہ ملتان ، قلعہ دیپالپور ، قلعہ سیالکوٹ ، قلعہ ڈرا وڑ مشہور قلعے ہیں ۔
    قلعہ دراوڑ (843ء)
    اس قلعہ کا اصل نام قلعہ ڈیور اول فورٹ ہے جو اس کے بانی کے نام پر ہے ۔ یہ قلعہ بھٹی راجپوت خاندان کے مو نر اچ اور دیوراج نے ۸۴۳ء میں بنانے کا حکم دیا ۔ راجپوت خاندارن کی تاریخ دیوراج کے دادا تنو سے شروع ہو تی ہے جو بجی رائے کا بیٹا تھا ۔ تنو کے پانچ بیٹے تھے ۔ تنو نے ۷۵۷ء میں بجنوٹ قلعہ کی تعمیر کی ۔ اس کے پوتے نے دیو گڑھ یا دیو رال میں مضبوط قلعہ تعمیرکرایا ۔ آج قلعہ کی جو شکل ہے وہ اصل نہیں ہے ۔ اگر چہ ایک مضبوط قلعہ ہے جو ٹیلے اور چار دیواری سے گھری آبادی کے ساتھ واقع ہے ۔ چولستان میں قلعہ درواڑ ایک خو بصورت عمارت ہے ۔ اس کے عظیم الشان برج ریت کے سمندر میں لنگر کی طر ح پڑے ہیں ۔یہ فوجی فن تعمیر کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے ۔ جو اوائل اٹھارویں صدی کا ایک عمدہ نمو نہ ہے ۔ یہ آج بھی بہاو لپور کے نوابین کی ملکیت ہے ۔ جنہوںنے اس علاقے میں اپنے آپ کو محدود رکھا اور دراوڑ کو اپنی حکو مت کی بنیادی آماجگاہ بنایا ۔

    Qalla Dirawar
    قلعہ دراوڑ

    مو جودہ قلعہ پرانی بنیادوںپر کھڑا ہے جو روایات کے مطابق اسلام سے پہلے کا ہے روایات کے مطابق اسے بھٹی یا بھائیہ حکمران ڈیرہ سدھ نے بنوایا جسے ڈیور اول کہا جاتا تھا نام بعد میں بگڑکر دراوڑ بن گیا ۔ جب یہ قلعہ بنایا گیا رو اس کے ۵۶ بر ج تھیں جو دیورا نے خود بنوائی اس نے جو جھیلیں بنوائیں ۔دوسری جھیل ٹنو ٹ کے مقام پر ہے ۔ ان جھیلوں کے نام اس نے خود رکھے ایک نام تنوسر ور دوسری دیوسر ۔ بھٹی راجپوت علائو الدین غوری کے ہاتھوں ختم ہوئے اس وقت سے آج تک یہ قلعہ مسلمانوں کے زیر تسلط رہا جنہوں نے اس قلعہ کو موجودہ شکل دی ۔
    پنجاب کے جنوب مشرقی علاقے جس میں تین اضلاع ہیں ۔ بہاول پور ، بہاولنگر اور رحیم یارخان جن کا رقبہ 26,617مر بع کلو میٹر ہے ۔ اس رقبے کا آدھا حصہ ریگزار پر مشتمل ہے جو چولستان کے نام جانا اور پہنچانا جاتا ہے اور عمومی طور پر اس علاقہ کو روہی بھی کہا جاتا (جو عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے ایک خو بصورت حوالہ رکھتی ) ہے ۔پرانے وقت میں چولستان کا موسم آج کے موسم سے مکمل طور پر مختلف تھا اس قلعے کے علاوہ چولستان میں کم و بیش 40سے زائد قلعے مٹی اور پختہ اینٹوں کے بنے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے بعض پرانے خشک دریا ئے ہاکڑہ کے کنارے واقع ہیں اور کچھ معدوم ہو چکے ہیں ۔ ہندوستان میں اسے گھا گھر اور پاکستان میں ہاکڑہ کہتے ہیں ۔ جو ویدک دور میں دریا سر سوتی کے طور پر جانا جاتاتھا ۔تقر یباً1000ق ۔ م میں اس دریا کا پانی گنگا ، جمنا میں چلے جانے کی وجہ سے خشک ہوا گھکٹر ہاکڑہ دریااپنے طور پر جنوب مغرب کی طرف ہندوستانی ریاستوں بیکانیر اور جیسلمیر کی طرف بہتا رہا اور رن آف کچھ میں جا کر ختم ہو جاتا ۔ یہیں اس دریا کے اطراف و اکناف میں کا سراغ 400پرانی بستیوں کا کئی ایک سال پہلے لگایا جو 4000ق۔ م سے لے کر مسلمانوں کی آمد تک کی کہانی بیان کر رہی ہیں ۔
    اس قلعہ کی پرانی تاریخ کے بارے میں اگر چہ کتب خاموش ہیں مگر اس کی تاریخ اس وقت سے ملتی ہے جب ریاست بہا و لپور کے پہلے نواب صاد ق محمد خان اول نے 1733ء میں اسے دوبارہ تعمیر کر ایا ۔ 6سال بعد نادر شاہ نے اسے نواب کا خطاب دیا اور اس کی مملکت کی حدود میں شکار پور ، لاڑکانہ ، سیوستان اور Chhatasکا علاقہ دراوڑ کے علاوہ شامل تھا ۔دوسرے نواب بہاول خان اول کے زمانہ میں یہ قلعہ 1747ء میں راو ل رائے سنگھ کے تصرف میں رہا یہ قلعہ 12سال بعد تیسرے نواب مبارک خان کو اس شرط پر دے دیا گیا کہ وہ قلعہ کی آدھی آمدنی دیگا ۔
    بہا و لپور شہر اوردراوڑ قلعہ 1788ء میں پنجور شاہ کے قبضہ میں آیا اور مختصر مدت کے لئے شاہ محمد خان کے قبضہ میں رہا مگر جلد ہی یہ دونوں جگہیں چوتھے نواب ، نواب عادل خان دوم کے قبضہ میں چلے گئے یہ قلعہ 18ویں صدی کے آخری چوتھائی سے لے کر اب تک بہا و لپور ریاست کے ماتحت رہا ۔ شاہی قبرستان اور ایک سنگ ِمر مر کی مسجد قلعہ کے باہر واقع ہے کبھی یہ قلعہ ایک معروف تجارتی مر کز تھا ۔
    قلعہ دراوڑ کے 40برج اور مینار ہیں قلعہ کے اندر ایک کنواں ہے اور مر کزی داخلی کے قریب ایک بڑا تالا ب ہے یہ ایک مستطیل عمارت ہے جو جنوبی طرف سے گیٹ سے 220میٹر ہیں یہی اس کا داخلہ دروازہ ہے جو ایک بڑے راستے سے پیوستہ ہے ۔ اس کے برج بڑی حد تک محفوظ ہیں ۔ جن کے اوپر زیادہ پکائی ہوئی اینٹوں سے مختلف جیومیٹریکل پیٹرن بنائے گئے ہیں ۔ قلعہ کی دیواریں 20میٹر تک بلند ہیں ۔ قلعہ کے شمال مشرقی کو نے میں ایک بڑا تالاب (ٹوبہ) مو جود ہے جس سے علاقہ کے مویشی اور لوگ پیاس بجھاتے ہیں ۔
    قلعہ کی عمارت سطح زمین سے 20میٹر بلند ہے اور اس میں متعدد عمارات نواب کی فوج کے زیر ِ استعمال رہیں ۔ جبکہ شمال مشرقی برج کی پشت پر ایک خو بصورت مزین عمارت نواب کے لیے بنائی گئی ہے ۔
    دراوڑ ، ڈیرہ نواب صاحب آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے ۔ ایک سڑک جنوب کی طر ف سے قلعہ کی طر ف جاتی ہے اور پکی سڑک سے آگے 15میل کچی سڑک قلعہ تک پہنچتی ہے اس جگہ پر ندے اور ہرن اکثر نظر آتے ہیں ۔ اس قلعہ کو دیکھنے کے لیے بہترین وقت نو مبر یا فر وری ہے مگر نواب صاحب کے خاندان سے اس کی اجازت لینا پڑتی ہے ۔
    چولستان کے قلعے
    چولستان قدیم قلعوں اور چار دیواری سے مر صع شہروں سے بھر ا پڑا ہے جو فوجی نقطہ نگاہ سے تعمیر کیے گئے ایک سروے کے مطابق بہت سے قلعوں کے آثار ملے جن کی تعداد 35کے قریب ہے ان میں سے بعض کے قلعے جو نسبتاً اچھی حالت میں ہیں ۔ ان کی بابت یہاں تحریر کیا جاتا ہے ۔
    قلعہ بارہ
    یہ ایک مستطیل نما اینٹوں سے بنا قلعہ ہے جو پیمائش میں 154فٹ جنوبی سمت ہے اور اس کے برج گو ل ہیں ان میں سے جنوب مغربی کو نہ کے بر ج اس کی اصلی حالت کو ظا ہر کرتے ہیں ۔ جس کا محیط 26فٹ ہے اس قلعہ کی حالت مخدوش ہے جبکہ گول نگہداشت کے لیے گول مینار ابھی تک مو جود ہے اور قلعہ کے باہر میٹھے پانی کا کنواں ہے ۔
    قلعہ بجنوٹ
    قلعہ بجنوٹ یا ونجھو رٹ ایک عدیم المثال قلعہ ہے جسے راجہ ونجھایا بھائیہ نے 757ء میں تعمیر کیا ۔ جسے شہاب الدین محمد غوری نے 1167ء میں تباہ و بر باد کیا اب یہ قلعہ کھنڈرات کی شکل میں ہے مگر اس کے بیشتر حصے اچھی حالت میں ہیں ۔ یہ قلعہ چونے کے پتھروں کے ٹکڑوں سے بنایا گیا ہے اس کی چار دیواری تقریبا ً مر بع ہے جو ہر طرف سے 300فٹ ہے ایک کونے پر 28محیط کا بر ج ہے جبکہ 3برج قدرے گول جو کو نے والے برج کے دونوں اطراف ہیں شمالی جانب 11فٹ کھلا ایک داخلی راستہ ہے جس کے اوپر تین کمر ے بنائے گئے ہیں ۔ جن کی پیمائش 19″x8″جن کی اونچائی 7فٹ تک ہے ۔
    قلعہ کی دیواریں 21فٹ تک بلند ہیں جس کے اوپر پردہ دیوار علیٰحدہ ہے اور دیوار کی کل چوڑائی اوپر سے 7فٹ ہے اور بیدا سے اور زادہ چوڑی ہے شمالی دیوار کے اوپر 7کمروں پر مشتمل داخلی راستہ کے مغرب میں ہے ۔ جبکہ اس کی بیرونی چار دیواری میں ایک اور مر بع چار دیواری سے جس کی پیمائش 155فٹ لمبائی میں قدرے گولائی دار بر جوںکے درمیان ہے یہ برج 30فٹ کے محیط کے ہیں اور دیواریں ساڑھے 3فٹ چوڑی ہیں اور 10فٹ تک بلند ہیں ۔ اندرونی اور بیرونی دیوار کے درمیان ساڑھے 52فٹ کا فاصلہ ہے جبکہ اندرونی احاطہ کے داخلی رقبہ 8فٹ کھلا راستہ ہے ۔شمالی جانب جس کا ایک بڑا صحن 83×62.5فٹ ،پیمائش میں ہے ۔جس کا داخلی راستہ شمال کی جانب بیرونی چار دیواری کے قریب ہے ۔
    قلعہ کے اندر دو پانی کے تالاب ہیں ۔جن کی پیمائش 21فٹ محیط میں ہیں اور 40فٹ گہرے ہیں اس علاقے میں میتھاون مویشی باڑہ میں تھا جو آج کل فیروزہ نزد خان پور منتقل ہو چکا ہے ۔
    قلعہ جفا گلا
    یہ قلعہ مٹی کی اینٹوں سے بنایا گیا ہے جس کی پیمائش شمال سے جنوب کی جانب 128فٹ اور مشرق سے مغرب کی طرف 192فٹ اور 11.50داخلی راستی جو شمال کی جانب ہے ۔ اس کی شمالی دیوار خمدار ہے اس کی بیرونی چار دیواری 7فٹ مو ٹائی میں ہے اور کو نوں پر بنے برج 91فٹ تک بلند ہیں اور قلعہ کی عمارتوں کے کھنڈرات قلعہ کے اند رموجودہیں یہ قلعہ 1767ء میں علی مراد خان پیر جانی نے تعمیر کرایا اس کے باہر میٹھے پانی کے چار کنویں مو جود ہیں ۔
    دھوئیں والا قلعہ
    یہ مٹی کی اینٹوں کا ایک چھوٹا قلعہ ہے جو مر بع شکل میں ہے جس کے چار بر ج ہیں ۔جو 18فٹ محیط میں ہیں اس قلعہ کے وسط میں مر بع عمارات مو جود ہیں ۔جو کھنڈرات کی شکل میں ہیں ۔ اس کی بیرونی چار دیواری ختم ہو چکی ہے ۔ا ب اس کی صرف 4فٹ اونچائی تک دیوار ہی باقی بچی ہے ۔یہ قلعہ 1772ء میں عاقل خان ولد کبیر خان اجیران نے بنوایا تھا ۔
    خلجی قلعہ
    منٹھار سے 3میل شمال کی جانب اس قلعہ کے آثار مو جود ہیںجو مستطیل ہے جو 240فٹ شمال سے جنوب کی جانب اور 160فٹ مشرق سے مغربی جانب ہے جس کے برج نہیں ہیں یہ کچی اینٹوں سے بنایا گیا ہے جبکہ بیرونی چار دیوری پکی اینٹوں سے کی گئی ہے جبکہ شمال مشرقی سمت 16فٹ اونچائی کے بر ج مو جود ہیں ۔ یہ قلعہ مخدوش حالت میں ہے آ ج یہ ٹیلے کی شکل میں ہیں ۔اس کی اینٹ کا سائز 9x6x1.6″ہے ۔
    قلعہ اسلام گڑھ
    قلعہ اسلام گڑھ یہ چولستان میںہندوستانی سر حد کے قریب واقع ہے یہ قلعہ بجائے خود اینٹوں کی ایک خو بصورت عمارت ہے جس کی دیواریں اونچی اور مخروطی ہیں جنہیں مضبوط بر جوں نے سہارا دے رکھا ہے یہاںمیٹھے پانی کی مو جودگی کی وجہ سے 1971ء تک آبادی قائم رہی ۔
    یہ قلعہ راول بھیم سنگھ نے 1608ء میں تعمیر کیا جسے بھیم دار کیا گیا 1766ء کے بعد اس پر گڑھی اختیار خان منڈسانی سردار کا قبضہ ہو گیا پچھلے 100سال میں قلعہ کو ناقابل ِتلافی نقصان پہنچا یہ قلعہ مر بع شکل میں 315فٹ مشرق سے شمال کی جانب بر جوں کے ساتھ دونوں اطراف سے شمال کی جانب 5اور مشرقی جانب 8اور کو نے کے بر جوں کے ساتھ مو جود ہیں اور تین مغربی جانب اور جنوبی سمت ہیں ۔جو کہ 9فٹ کے محیط میں ہیں اور دونوں کناروںپر بر جوں کا محیط جنوب مشرق اور جنوب مغرب 50فٹ تک ہے مگر جو مشرق اور شمال کی جانب ہیں وہ 39اور 42فٹ کے محیط میں ہیں ۔جبکہ بیرونی چار دیواری 10سے 12فٹ مو ٹائی میں ہے اور 45فٹ تک اونچی ہے ۔قلعہ کے اند رپہنچنے کے لئے مشرقی جانب ایک داخلی راستہ 9فٹ کھلا ہے جس کے ساتھ دو بر ج تعمیر کئے گئے ہیں ۔
    داخلی راستہ قائمہ زاویہ پر مڑ کر مشرقی دیوار تک جاتا ہے اور اپنی چوڑائی کم کر تے کر تے 5فٹ تک چلا جاتا ہے ۔ایک چھوٹی مسجد 49×28.50مشرقی سمت میں واقع ہے نزدیک ہی ایک دوہری دیوار ہے جو 4.50فٹ محیط میں ہیں جس کے بعد ایک اور دیوار سے جو11فٹ محیط میں ہے شمال مغربی کو نے میں مغربی دیوار کے اوپر کمروں کی ایک قطار ہے دیوار کے باہر 130فٹ گہرا کنواں جو 10فٹ محیط کا ہے جس کی تعمیر پر 7.50×5.50×1سائز کی اینٹیں لگائی گئی ہیں ۔
    جام گڑھ
    یہپکی اینٹوں کا ایک خو بصورت قلعہ صحرائے چولستان میں ایستادہ ہے ۔ یہ قلعہ 1788ء میں جام خان معروفانی نے تعمیر کر ایا یہ مر بع شکل میں ہے جو ہر طرف سے 114فٹ ہے ۔ اس کی چار دیواری کی اونچائی 28فٹ تک ہے جس کے کناروں پر گول بر ج ہیں ۔ جو 31سے 35فٹ پر محیط ہیں اس کا داخلی محرابی راستہ ہے جو 9فٹ وسیع ہے جو مشرقی دیوار میں سے قلعہ کے اطراف میں مٹی کو دیواروں سے ساتھ لگایا گیا ہے ۔
    قلعہ کنڈیرا
    یہ قلعہ کچی اینٹوں سے بنایا گیا ہے جبکہ اس کا ماتھا اور دونوں اطراف پکی اینٹیں لگائی گئی ہیں یہ قلعہ فضل خان ولد بھکر خان بیر جان نے 1754ء میں تعمیر کیا جسے محمد بہاول خان دوم نے 1805 میں تباہ کیا ۔آج یہاں کچی اینٹوں کی ایک چار دیواری ہے جو مربع شکل میں ہے اس کی پیمائش 162فٹ ہر طرف سے بر جوں کی پیمشائش اسکے علاوہ ہے جو دونوں اطراف 21فٹ محیط میں ہیں جو برج شمال مشرقی اور جنوب مشرقی سمت میں ہیں ان کی بلندی 21فٹ تک ہے اس کی چار دیواری 8فٹ تک چوڑی ہے جو پکی اینٹوں کے علاوہ ہے جبکہ دوسر ے برج 2.50فٹ ہوتے ہیں جبکہ کچھ بر ج آج مو جود نہیں ہیں اس کی پختہ اینٹوں کا سائز 9x6x1.50ہے ۔قلعہ کے ارد گرد جنگلی پودوں کی افزائش سے عمارت کو مناسب نمی مل رہی ہے جس سے معلو م ہو تا ہے کہ یہاں کبھی میٹھا پانی تھا ۔
    قلعہ خیر گڑھ
    ضلع بہاول پور بھٹہ شیخاں کے جنوب مشرقی جانب 12میل کے فاصلہ پر خیر گڑھ قلعہ ہے ۔جسے اختیار خان نے 1775میں مٹی کی اینٹوں اور پکی اینٹوں سے تعمیر کرایا ۔ یہ قلعہ مر بع کی شکل کا ہے جو 170فٹ اندرونی شائیڈ سے اور اس کے بر ج ہشت پہلو ہیں اور مٹی کی اینٹوں کی چار دیواری جو اوپر سے 3فٹ چوڑی اور 24فٹ اونچی اور مزید 5فٹ پر وہ دیوار ہے اس کے برج 46فٹ محیط میں ہیں ۔ جس میں 1.50مو ٹی پکی ہوئی اینٹو ں کی دیوار بھی ہے جبکہ بر جوں کے اندر ونی اطراف چھت والے کمرے ہیں جو 19فٹ محیط کے ہیں ،جو اوپر جانے کا راستہ ہموار کر تے ہیں ۔ اس قلعہ کا دروازہ مشرقی دیوار میں نمایاں ہے ۔جبکہ داخلی دروازہ بر جوں کے درمیان ہے جہاں ایک دیوار احاطہ سے پہنچا جا سکتا ہے داخلی دروازہ 6فٹ کھلا ہے ۔جس کے اندرونی سمت دو مستطیل کمرے ہیں ۔قلعہ کے اندرونی جانب ایک چڑھائی دار راستہ قلعہ کی چھت تک جاتا ہے ۔یہاں چند کمرے تعمریر کئے گئے ہیں جو شمال اور مغربی دیوار کے ساتھ ہیں ۔ شمال مغربی کو نہ کے باہر ایک پرانا کنواںہے ۔ جس کی اینٹ کا سائز 95×6,15″ہے ۔
    قلعہ خان گڑھ
    یہ قلعہ نواب محمد بہاول خان دوم نے 1783ء میں تعمیر کیا جو مر بع شکل میں ہے ۔ جس کے ہر کو نہ میں قدرے گول بر ج تعمیر کئے گئے ہیں یہ ہر طرف سے 128مر بع فٹ ہے ۔ دیوار اور برج جو کچی اینٹوں سے تعمیر کئے گئے ہیں اور سامنے کے حصے پر پکی اینٹیں لگائی گئی ہیں جو اب گر چکی ہیں ۔ اب صرف نشان رہ گئے ہیں اس کی دیور 10فٹ چوڑی اور اپکی اینٹ کا سائز 8.50×6.1.50ہے ۔تیسرے شمال مغربی کونہ میں ایک مر بع مینار پکی اینٹوں سے بنایا گیا ہے اور جنوب مشرقی جانب سے 80فٹ کے فاصلہ پر اینٹوں کا بھٹہ ہے ۔
    قلعہ لاتیرا
    یہ قلعہ 1780 میں بزل خان نے بنوایا جسے سیلاب نے 1804ء میں تباہ کر دیا یہ مر بع شکل کا قلعہ کا ہے جو مٹی کی اینٹوں سے بنایا گیا ہے ۔ شمال سے جنو ب کی طرف 121جبکہ مشرق سے مغرب کی طر 112فٹ ہے اور اس کے درمیان برج استیادہ ہیں ۔
    اب مشرقی دیوار کی مو ٹائی 8فٹ تک ہے جہاں ایک دروازہ بھی ہے اب یہا ں 24فٹ کا ایک راستہ ہے ۔ جو پکی اینٹوں سے بنایا گیا ہے ۔ جنوبی سمت والی دیوار جو 21فٹ اونچی ہے جبکہ اندرونی طر ف سے یہ 16فٹ اونچی ہے ۔ اس کے کناروں کے برج 42فٹ محیط کے ہیں اور 42فٹ سے بھی اونچے ہیں ماسوائے ایک کے ، جو جنوب مغربی سمت واقع ہے اور اب کھنڈر کی صورت میں ہے ۔ پردہ دیوار تک پہنچنے کے لئے 4فٹ کھلا محرابی راستہ ہے اور ان بر جوں میں جانے کے لیے 14×16فٹ کی سیڑھیاں ہیں ،یہاں کبھی دیوار بھی مو جود تھی ۔
    قلعہ چکی
    پکی اینٹوں سے بنا یہ قلعہ لال خان ولد اختیار خان کہرانی نے 1777ء میں بنوایا ۔ کو نے کے بر جوں کے درمیان اس کی پیمائش 125فٹ ہے جس کی دیوار 6فٹ چوڑی اور 18فٹ اونچی ہے اور کونو ں کے برج 42فٹ کے محیط ہیں اور 40فٹ اونچے ہیں ۔قلعے تک رسائی مشرقی دیوار سے مہیا کی گئی ہے ۔جہاں 19.50فٹ محیط کے برج بنائے گئے ہیں اور داخلی راستہ 8فٹ ہے ۔ جس کے کمرے مو جود ہیں ۔ کو نے والے برج تباہ ہو چکے ہیں ۔ جہاں 3فٹ چوڑے سیڑ ھیوں کے ایک راستے سے پہنچا جاسکتا ہے اوپر 15فٹ محیط کے کمرے مو جود ہیں ۔
    قلعہ مروٹ
    کسی وقت مروٹ ایک مصروف تجارتی ، کاروباری مر کز تھا ۔ جو ملتان اور دہلی کے درمیان واقع ہے جہاں سر سہ اور ہانسی عہد و سطٰی میںجاتا تھا قلعہ مروٹ کے مو جودہ کھنڈرات روایات کے مطابق اسلام سے قبل چتوڑکے حکمرانوں کے ماتحت تھا ۔ یہاں مذہبی عمارت کی بھر مار ہے جن میں منادر اور تراشیدہ ستون جو زرد ریتلے پتھر سے بنائے گئے جو اس وقت بہاو ل پور میوزیم کی زینت ہیں ۔
    12ویں صدی عیسوی میں مروٹ نہ صرف تجارتی مر کز بلکہ فوجی نقطہ نگاہ سے بھی اک اہم چیک پوسٹ رہی اُچ کا حکمران ناصر الدین قباچہ کچھ عر صہ اس جگہ رکا ۔ 1250ء معروف مٔو رخ منہاج سراج بھی یہاںآیا ۔ اکبر ی دور میں 200گھڑ سوار اور 1000پیدل سپاہی مو جود تھے ۔ ابو الفضل کے مطابق 54560بیگھہ زمین اس قلعہ کے ماتحت تھی ۔ جس کی سالانہ آمدنی 204000سکہ تھی ۔ ایک چھوٹی مسجد20.26فٹ مو جود ہے جسے محمد طاہر نامی شخص نے بنوایا یہان فارسی مکتبہ موجود ہے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ مسجد اکبری زمانہ 976ھ1568/ ء میں بنائی جو اب تک مو جود ہے ۔
    مروٹ قلعہ مختلف اوقات میں مختلف لو گوں کے پاس رہا ۔ نوابمبارک خان نے اسے جیسلمیر کے راجہ سے 18ویں صدی میں لیا ۔ 1842ء میں چارلس میسن نے اپنے سفر افغانستان اور پنجاب کے دوران مروٹ کو بھی دیکھا جو اُس وقت ایک اہم تجارتی مر کز تھا ۔ آھ یہ قلعہ کھنڈرات کی شکل میں ہے اور اس کا بیشتر حصہ ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہے یہ مربع شکل کا قلعہ ہے ۔جو جنوبی سمت 464فٹ اور 820فٹ مغربی سمت سے ہے اس کے دو موجود برج جنوب مغربی سمت اور شمال مشرقی سمت میںجو 30فٹ محیط کے ہیں اور مغربی سمت میں دیواروں کی اونچائی 89فٹ ہے اس کی بیرونی چار دیواری میں استعمال ہو نے والی اینٹوں کا سائز 12.50×8.2اور 8×51.4×11/4ہے ۔
    قلعہ میر گڑھ
    یہ قلعہ نور محمد خان ولد جان خان نے 1799ء میں بنایا جو 3سال کی قلیل مدت میں مکمل ہوا یہ شخص اُچ کے گیلان مخدوم کا شاگر د تھا جبکہ قلعہ کے دروازہ 1872ء کے کتبے سے ظاہر ہو تا ہے یہ قلعہ پکی اینٹوں سے جن کا سائز 9.50×6.1.50ہے یہ مر بع شکل کا قلعہ ہے جو ہر طرف سے 92فٹ ہے اور داخلی دروازہ کے دو برج ملا کر کل سات برج ہیں ۔ جن ک ا محیط 38فٹ ہے اور یہ 39فٹ اونچے ہیں ۔مشرقی سمت میں 9.50کا داخلی راستہ ہے جو 47فٹ تک ہے اور اس پر کمرے جن کی چھت گنبد کی طر ح تھا اس کے اردگرد ابھی بھی مٹی پڑی ہے ۔ قلعہ کے اندر ایک کنوان ہے جو اب بھر چکا ہے اور اس کے علاوہ قلعہ کے باہر 6کنویں مو جود ہیں جن میں میٹھا پانی مو جود ہے ۔
    قلعہ موج گڑھ
    قلعہ مو ج گڑھ 1743ء میں محمد معروف خان کہرانی نے بنایا ۔ اس کا مقبرہ مربع شکل میں ٹائیلوں سے مزین ہے جس کے اوپر گنبد ہے جوقلعہ سے 400گز جنوبکی طر ف واقع ہے قلعہ کی تعمیر معروف خان کے بیٹے اور جانشین جان محمد خان کے زمانہ 1757ء میں ہوئی ۔ لو ہے کے مضبوط ٹکڑے قلعہ کے دروازہ پر لگائے گئے تھے جن میں سے ایک پر قلعہ کی تاریخ بنا فارسی میں 1797 ء1212.ھ در ج ہے اور اس کے بنانے والے کانام سری رام لو ہار درج ہے یہ قلعہ الفٹس اور میسن نے بھی دیکھا ۔
    آج قلعہ انتہائی مخدوش حالت میں ہے اور ماتھے پر لگی پکی اینٹیں اپنی جگہ چھوڑ چکی ہیں اور اس کا میڑیل مقامی لوگ اپنی تعمیرات میں لگا رہے ہیں جو مر بع شکل کے اس قلعہ کی پیمائش 238,312,325فٹ جنوبی مغربی اور شمالی سمت سے ایک کونہ سے دوسرے کو نہ تک ہے ۔ اس کے شمال مشرقی حصے میںایک ٹوبہ ہے جہاں سے مقامی لوگ پانی پیتے ہیں ۔ قلعہ کی دیوار کی مضبوطی کے لئے قدرے گول برج بنانے کے لیے ان میں سے آٹھ شمالاً جنوباً درواز ے کے برجوں کو چھوڑ کر بنائے گئے ہیں اسی طرح مغربی سمت کے بر ج دروازوں کے برج کو شامل کر کے آٹھ بنتے ہیں جو ان بر جوں کا محیط 40سے 48فٹ تک ہے ۔
    مشرقی سمت 10فٹ کھلا ایک داخلی محرابی راستہ ہے جو 72فٹ لمبی ایک راہداری سے جڑا ہے جو قلعہ کی جنوب مشرقی سمت سے آتا ہے اس کے ساتھ بھی ایک مسجد 54.50×33فٹ کی ہے قلعہ کی اندرونی طرف چار دیواری گر چکی ہے جس سے اب مٹی کی اینٹیں نظر آتی ہیں ۔
    قلعہ مرید
    یہ قلعہ مر بع شکل میں ہے جو اندر سے 87فٹ ہے اور اس کے کونوں پر 4بر ج ہیں ۔جن کا محیط 18فٹ تک ہے اور اس کی دیواریں 7فٹ مو ٹی ہیں اور 8فٹ تک اونچائی میں ہیں ۔13فٹ کھلا داخلی راستہ جنوبی سمت سے قلعہ کے اندر جاتا ہے ۔یہ قلعہ حاجی خان ولد اختیار خان نے 1777ء میں بنایا ۔ جو سیلاب کی وجہ سے 1805ء میں تباہ ہوا ۔
    قلعہ نواں کوٹ
    یہ قلعہ دریائے ہاکڑہ کی گز ر گاہ پر واقع ہے جا ابھی کچھ اصل حالت میں ہے ۔ قلعہ مٹی کی اینٹوں سے بنایا گیا جس کے چاروں کونوں پر مینار بنائے گئے ۔ باہر سے 156فٹ برجوں کے اندر ہے جس کی دیواریں 10فٹ چوڑی اور اس کے اوپر پردہ دیوار ہے ۔ جو ایک فٹ چوڑی ہے کو نے کے برج 45فٹ محیط کے ہیںجو 16.50فٹ محیط کے کمروں پر مشتمل ہیں ۔ پانچ کمروں کی قطار قلعہ کے وسط میں مغربی دیوار کے قریب تعمیر کی گئی ہیں ۔
    شمال کی جانب سے 10فٹ واسیع داخلی دروازہ ہے جوسپا ئیوں جے لئے ہے اور پکی اینٹو ں سے تعمیر کیا گیا ہے یہاں قلعہ کے اردگرد ایک بیرونی دیوار بھی ہے جو 225فٹ دور تھی ۔ جس کے آثار اب بھی نظر آتے ہیں ۔
    قلعہ پھلرا
    قلعہ پھلرا کے آثار فورٹ عباس سے جنوب کی سمت ایک میل کے فاصلہ پر ہیں ۔ فورٹ عباس اسی قلعہ کے میٹریل سے بنایا گیا ہے ۔ اب پرانے قلعہ کا وہاں کچھ نہیں بچا ۔ یہ قلعہ روایتی طور پر لاکھ پھلائی سے منسوب کیا گیا ہے ۔ جبکہ ایک مٹی کی عمومی دیوار جو موجودہ کھنڈرات سے شمال مشرق سمت جاتی ہے ۔پھلر ا قلعہ کی نشاندہی ہو سکتی ہے ۔ مو جودہ حالت انتہائی مخدوش ہے ۔کہاجاتا ہے کہ اس کی تعمیر کرم خان اربانی ولد قاسم خان قائم پور والے کے دور میں 1752ء میں ہوئی ۔ یہ قلعہ مر بع شکل میں ہے ۔ جس کے کونوں پر برج ہیں جو شمالی سمت میں ہیں وہ ہشت پہلو بر ج میں شمال مشرق سمت کے کو نوں میں تباہ شدہ 3منزلہ محلات کے آثار ہیں ۔ جن پر اب بھی لکڑی کا کام بچا ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ اینٹوں کا ایک پختہ مینار ہے جو اچھی حالت میں ہے ۔
    قلعہ ہڑند
    تاریخی قلعہ ہڑند ضلع ڈیر ہ غازی خان میں قصبہ جام پو رکے مغرب میں 58کلو میٹر پر کو ہ ِ سلیمان کے دامن میں واقع ہے۔ پنجاب کے جنوب مغربی سر حد کے ساتھ اس سلسلہ پ رتین مشہور گز ر گاہیں چاچر، کاہا ، در گاہیں ہیں ۔یہ علاقہ بہت زر خیز ہے جسے کاہا نہ رسیراب کر تی ہے ۔ اس کے علاوہ واحد مشہور پانی کا ذریعہ ندی ہے جو کہ سندھ اور کو ہ ِسلیمان کے درمیان تونسہ سے سندھ کے بارڈر پر بہتا ہے ۔
    یہ قلعہ بڑے ٹیلے پر بنایا گیا ہے جو کبھی نامعلوم لوگوں کی رہائش گاہ تھی ۔ مقامی لوگ اس قدیم جگہ کو یو نانی ، تباہ کاری سے ملاتے ہیں اور اسی لئے اس کا نام ہاری سے لیا گیا ہے جو کہ سکندر اعظم کا غلام تھا ۔ مقامی روایات کے مطابق اس قلعہ کی تعمیر کا حکم بادشاہ جہانگیر نے دیا تھا اور قلعہ کا موجودہ ڈھانچی قدیم مغل دور کی عکاسی کر تا ہے ۔ اس علاقہ کے بر طانوی ڈپٹی کمشنر سنڈیمین کو ایک مر تبہ درکھان سے کتبے ملے ۔ جن پر شہنشاہ ِ جہانگیر کے قیام کے بارے میں لکھاہوا تھا کہ اس نے دہلی سے قندھار جاتے ہوئے یہاں پر نماز ادا کی تھی ۔
    مسٹر بروش ہڑند قلعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ صدیوں پہلے جب مسلمانوں نے پہلا حملہ کیا تھا تو اسی وقت صرف تین قصبے ہڑند ، مادی اور ایسی تھے ۔
    ہڑند کا قصبہ ملتان کے راجہ ہر نکس وائٹ کے پاس تھا جب وہ مرا تو اس کا بیٹا پارلڈتخت نشین ہوا جس کا مزار ملتان میں آج بھی ہے ۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں ہڑند اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں گو رجانی اور بٹی لنڈ قبائل آباد تھے ۔ تیمور شاہ درانی نے 1758ء میں یہ قلعہ ناصر خان بروہی خان آف قلات کو دے دیا ۔ یہ اُسی وقت تک اسی کے پاس رہا جب تک نواب بہاو لپو رنے 1827ء میں یہ قلعہ سکھوں کو سونپ دیا ۔ 1836ء میں ساون سے مل کر اِسے دوبارہ تعمیر کر وایا ۔ 1849ء میں سکھوں کی شکست کے بعد قلعہ پر بر طانیہ نے قبضہ کر لیا ۔ 1867ء کو قلعہ پر بگٹی قبیلہ نے حملہ کیا جو کیا گو رجانی اور بٹی لنڈ قبیلہ نے بڑٰ فوج کے ذریعے اُن کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی ۔ یہ قلعہ شاہکار ہے قدرے بیضوی ہے ۔ جس کی پیمائش مشرق مغرب کی طرف 350میٹ اور شمال جنوب کی طر ف 310میٹ ہے ۔ یہ پکی اینٹوں سے بنایا گیا ہے ۔اینٹ کا سائز 9x6x11/4کی چوڑائی 7فٹ ہے اور پھر اسی کو بر جوں سے اور زیادہ مضبو ط کیا گیا ہے ۔ بر ج کے نو کو نے ہیں جب پر تو پیں رکھنے کی جگہ ہے ۔ قلعے کے صرف دو داخلی درواز ے ہیں ۔
    بڑا داخلی درواز ہ مشرق میں اور دوسرا مغرب میں ہے ۔ سامنے والی دفاعی دیوار کی مو جودہ بلندی 22فٹ ہے ۔ دوسری طرف دروازہ تراشی اینٹوں سے بنایا گیا ہے ۔ جس کے دو گنبد اور سامنے سے چو کور ہے ۔
    قلعے کے اند ر پرانی پہاڑی ہے جس کی بلندی 20سے25فٹ ہے ۔ساتھ والی زمین سے پہاڑی دفاعی دیوار کے اندر نہیں آتی بلکہ قلعہ کی مقامی آبادی نے قلعہ کی اینٹوں سے بھی اپنے گھر تعمیر کئے ہیں قلعہ کے اندر ایک قدیم ٹیلہ 20×25فٹ کا ہے ۔ یہ ٹیلہ صرف قلعہ کی چار دیواری تک ہی محدود نہیں بلکہ شمالی مشرقی طرف سے قلعہ کے باہر تک نکل گیا ہے اسر اس کا بڑا حصہ کسانوں کو زراعت کے لئے کرائے پر دیا ہے ۔ اس ٹیلہ پر بڑی تعداد میں ٹھیکر یاں پائی جاتی ہیں ۔
    ٭٭٭
    حوالہ جات:
    1۔ دی ہسٹری آ ف بہاول پور ، شہامیت علی ، سنگِ میل پبلشرز لاہور ، 2012ء
    2۔ بہاول پور ، ہسٹری اینڈ آرکی ٹیکچر ، میجر جنرل شیزڈر ، آکسفورڈ پریس لاہور ،2007ء
    3۔ ریاست بہاول پور ، یاسر جواد ، گزیٹر آف بہاول پور 1904ء ،الفیصل ناشران لاہور ، 2013ء
    4۔ چولستان ٹو بہاول پور ، احسان ایچ ندیم ، سنگِ میل پبلشرز لاہور ، 2009ء
    5۔ گزیٹر آف بہاول پور 1904ء، ملک محمد دین ، الفصیل ناشران لاہور
    6۔ بہاول پور میں معاشرہ اور ثقافت ، نوشابہ سمیع ، ایورنیو بک پیلس لاہور 2010ء
    7۔ دی پرنسلی اسٹیٹ آف بہاول پور ، زینب جاوید ،ہلال اُردو ، 2019ء
    8۔ دی امیریٹ آف بہاول پور ، کیپٹن یو اے جی ، سید عابد حسین
    9۔ تاریخ ِ فورٹ عباس ، غریب اللہ غازی ، اظہار سنز لاہور ، 2004ء
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمد یوسف وحید

    مدیر: شعوروادراک ( خان پور)