اسم بامسمّٰی …محمد یوسف وحید

سہ ماہی ’’شعوروادراک‘‘ اور120 سالہ علمی،ادبی، ثقافتی اور صحافتی تاریخ پر مشتمل کتاب’’ خان پور کا ادب ‘‘پر مجموعی تذکرہ
اسم بامسمّٰی …محمد یوسف وحید
تبصرہ : سیّد محمد اسد اللہ اسد (خان پور)
مہتمم جامعہ مدینتہ العلم، ولی آباد مونی تھل
بآں گروہ کہ ازساغروفا مستند
سلام مابرسانید ہر کجا ھستند
گزشتہ سے پیوستہ برس ایک دن غروب ِشمس کے بعد جب شب ِدیجور اپنے پنجے گھاڑرہی تھی۔تو ایسے وقت میں بو قلموں شخصیت کے مالک اور ادب و صحافت کا بدرِ جمیل’’مرزا حبیب‘‘ ایک سنجیدہ اور متین شخص کے ساتھ میرے پاس جامعہ مدینۃالعلم، ولی آباد مونی تھل لائبریری میں تشریف لائے۔ سلام اور تعارف کے بعد سلسلہ کلام بڑھا تو مرزا حبیب کے توسط سے معلوم ہوا کہ چہرے پر عینک کا پیوند لگائے،لہجے میں مٹھاس،طبیعت میں انکسارکا حامل یہ میرا ہم سفر’’محمد یوسف وحید‘‘ہے۔محمد یوسف وحید کے لب و لہجے میں تیزی اس بات کی عکاس تھی کہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ جان لینے،پڑھ لینے اور لکھ لینے کی خواہش لئے گرم دم جستجو کا مظہر ہے۔مزید گفت گو سے معلوم ہوا کہ آج کل خان پور کی علمی و ادبی شخصیات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔بالخصوص پوشیدہ اور زمانے کی ستم ظریفی کا شکار اہلِ قلم کو اُن کی کچھاروں سے نکال کر میدانِ عمل میں لانے کیلئے کوشاں و سر گرداںہیں۔

Shaoor o Idrak


محمد یوسف وحید مجھ نا چیز کی قلمی خدمات پہ حوصلہ افزائی کے لئے تشریف لائے تھے۔وقت تیزی کے ساتھ سفر کرتا رہا اور محمد یوسف وحید کے ساتھ ساتھ گفت و شنید اور باہمی قلمی و تحریری ہم آہنگی کے سفینے پہ سوار ہم دونوں ادبی محافل اور ہمہ جہت سرگرمیوں کے لیے کوشاں رہے۔کچھ معلومات کی سیپیاں اور نگینے اکٹھے کر نے کے بعد ادبی افق کے درخشندہ ستارے محمد یوسف وحید ٗ ایک نئے سفر کے لیے کوشش، ہمت و حوصلے کے ساتھ عازمِ سفر نظر آتے رہے۔
محمد یوسف وحید کے مختلف رسائل و جرائد میں بے شمار تحقیقی وادبی مضامین شائع ہو کر قارئین کی نظر نواز ہو چکے ہیں۔خاص طور پر فروغِ ادبِ اطفال کے لیے کوشاں گزشتہ ۱۴ برس جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے والا بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول مجلہ ’’بچے من کے سچے‘‘ اُن کا وہ تر بیتی زینہ ہے جو پروان چڑھتی نسل کی بھر پور رَہنمائی کر رہا ہے کہ بچوں کو خوش رکھ کر اچھا نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اچھا بنا کہ خوش رکھا جا سکتا ہے۔
کم و بیش سال ڈیڑھ کے بعد محمد یوسف وحید صاحب بارِ دگر تشریف لائے تو اُن کے ہمراہ ہم دوش مرزا حبیب نہیں بلکہ کتاب ’’خان پور کا اَدب‘‘اورمجلہ ’’شعور و ادراک‘‘ تھا۔جو بلا شبہ علمی،ادبی، انقلابی اور تاریخی اہمیت کا حامل ایسا کام ہے جس نے سینکڑوں گم نام قلم کار،قلم کی جولانیاں دِکھلانے والوں کو اُن کی جولان گاہ سے نکال کر ناموری کے تخت پر بٹھا دیا ہے ۔فروغِ ادب کے تحت مجلہ ’’شعور و ادراک‘‘ محمد یوسف وحید کی لائقِ صد تحسین اور عمدہ کاوش ہے۔ ’’شعور و ادراک‘‘ اور دیگر ہمہ جہت کام ان کے اَفکارکی بلندی اور اپنے مشن سے عشق کا بانکپن ببانگِ دُہل یہ نغمہ آلاپ رہا ہے کہ محمد یوسف وحید‘ اسم با مسمّٰی ہے۔ بے شمار اخبارات و جرائد میں اور ویب سائٹس پر ادبی، تحقیقی اور دیگر اہم موضوعات پر مضامین کی اشاعت ، علمی و ادبی تنظیموںکے تحتجدو جہد اور پھر مختلف شخصیات کے تہہ دَر تہہ بکھرے اور پراگندہ اَوراق کو ٹٹولنا یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو اپنے مشن میں’’وحید‘‘ہوگا۔ اور بکھری ادبی پتیوں کو یکجا کرکے پھولوں کا رنگ اور علمی،ادبی، تاریخی اور مختلف الجہات شخصیات اور ان کی خدمات کی خوشبو کو اکٹھا کر کے کتاب’’خان پور کا ادب‘‘ کی صورت میںخو ب صورت گلدستہ بنا کرپیش کرنا ’’یوسف ‘‘کا ہی خاصہ ہے۔
محمد یوسف وحید کی عزم و ہمت ، جہد ِمسلسل کی نذر جگر مراد آبادی کا ایک شعر :
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
ہم الوحید ادبی اکیڈمی خان پور کے پلیٹ فارم سے علمی، ادبی موضوعات پر اُردو، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کے فروغ کے لیے کاوشوں کو سراہتے ہیں اور محمد یوسف وحید کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ہم دُعا گو ہیں کہ اللہ کریم محمد یوسف وحید کو علم، ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مزید ہمت، طاقت اور استقامت نصیب کرے۔ آمین
٭٭٭

Syed Assadullah Shah

سیّد محمد اسد اللہ اسد

Next Post

نامور محقق و مترجم ....سیّد محمد فارو ق القادری

جمعہ دسمبر 3 , 2021
۔فلسفہ وحدت الوجود پر ابن العربی کے چودہ جلدوں پر مشتمل کتاب فتوحاتِ مکیہ کا پہلی بار اُردو میں پانچ جلدو ںکا ترجمہ آپ نے کیا
farooq qadri

مزید دلچسپ تحریریں