مبشر وسیم کی “خورشید جہاں تاب”

مبشر وسیم صاحب ضلع اٹک کے ادبی افق پر “خورشید جہاں تاب” لیے ابھرے ہیں. ان کی غزلوں میں سورج, روشنی اور چمک کے حامل اشعار کی کثرت ہے. روایتی اور کلاسیکی مضامین کو نوآموز شعرا درخور اعتنا نہیں سمجھتے, جدیدیت اور نئے مسائل اور ڈکشن کو غزلوں میں کھپانے کی دھن میں ہماری نئی شعرا برادری کچھ زیادہ ہی بے راہ رو ہو چلی ہے. مبشر وسیم اس ساری فضا سے لاتعلق رہ کر شعروں کے موتی پروتے رہے ہیں, یہی وجہ ہے کہ خود کو کلاسیکی شعری روایت کے حصار سے نکلنے نہیں دیا بلکہ فرض کی طرح ان اصول و مضامین پر کاربند رہے ہیں جنھیں اساتذہ فن مدت مدید قبل مقرر کر گئے ہیں.

مبشر وسیم کی “خورشید جہاں تاب”


مبشر وسیم اٹک کی ادبی محافل اور مشاعروں میں نہیں دیکھے گئے. ان کے کلام میں نظر آنے والے سقم اسی دوری کا شاخسانہ کہے جا سکتے ہیں. اگر وہ ضلع اٹک کی پختہ ادبی روایت سے منسلک رہتے تو بعید نہیں تھا کہ ان کے سادہ اور آسان شعر مزید نکھر جاتے. پروف خوانی میں بے احتیاطی برتنے کے باعث بھی حسن گہنا گیا ہے.

مبشر صاحب کے چند شعر سنیے اور سر دھنیے :

یوں تو رکھی ہے تری یاد سجا کر دل میں
پھر بھی اک درد کا پہلو ہے اجاگر دل میں

تو اپنے کام میں محنت شعار کر ساقی
نہ ہاتھ روک مسلسل شراب دیتا جا
وسیم دوست یہاں جھوٹ کا پلندہ ہیں
جو ہو سکے تو مجھے اک کتاب دیتا جا

خود میں نے اسے موت کا پروانہ بنایا
اس نے تو فقط اتنا کہا “جا کے پرے رہ”

sarmad

سجاد حسین سرمد
مدیر سہ ماہی دھنک رنگ فتح جنگ
لیکچرر اردو کیڈٹ کالج مہمند
22 جنوری 2023ء

سجاد حسین سرمد

Next Post

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

بدھ جنوری 25 , 2023
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

مزید دلچسپ تحریریں