کائنات کی وسعت انسان کو دو راستوں پر لے جاتی ہے۔ ایک انکار کا، اور دوسرا ایمان کا ہے۔ جو غور کرتا ہے وہ دوسرا راستہ چن لیتا ہے۔
سائنس کے مطابق ہماری کائنات کا مشاہداتی حصہ 93 ارب نوری سال پر پھیلا ہوا ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر سفر کرتی ہے۔ پھر بھی اربوں نوری سال کا فاصلہ طے کرنے کے لیے اسے اربوں سال لگتے ہیں۔ سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ کائنات میں ایسے ستارے بھی ہیں کہ جب ان کی روشنی زمین تک پہنچے گی تو زمین ختم ہو چکی ہو گی۔
اس کائنات میں ہماری زمین کی حیثیت کیا ہے؟ سائنسدان اسے "پیل ڈاٹ” کہتے ہیں، یعنی خلا میں تیرتا ہوا نیلے رنگ کا ایک نقطہ۔ ہمارا سورج، جس کے گرد ہماری زندگی گھومتی ہے، زمین سے 109 گنا بڑا ہے۔ اس ایک سورج میں 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں، مگر اسے کائنات کے ترازو پر رکھیں تو سورج بھی ایک بہت معمولی ستارہ ہے۔
اب تک دریافت ہونے والے بلیک ہولز سورج سے 36 ارب گنا بڑے ہیں۔ اور سائنسدان کہتے ہیں کہ کائنات میں تقریباً 2 کھرب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں جبکہ سیاروں کی تعداد کا شمار ممکن ہی نہیں۔
یہ کائنات "بگ بینگ” سے بنی اور تب سے اب تک پھیل رہی ہے۔ ہبل دوربین نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ پھیلاؤ روشنی کی رفتار سے ہو رہا ہے۔ سورج ہائیڈروجن اور ہیلیئم کا چمکتا ہوا گولہ ہے۔ زمین ایک بے نور سیارہ ہے جو سورج سے روشنی اور حرارت لیتی ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: یہ سب اتنے نظم و ضبط سے کیسے چل رہا ہے؟
پانی کا فارمولا ہمیشہ H2O رہتا ہے۔ گیند ہمیشہ گریوٹی کی وجہ سے نیچے آتی ہے۔ دن رات کا نظام، موسموں کی تبدیلی، ستاروں کے مدار۔ سائنسدان اسے "قوانین فطرت” کہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر قانون کے پیچھے ایک قانون ساز ضرور ہے۔
قرآن پاک نے 1400 سال پہلے اللہ کو "رب العالمین” کہا۔ یعنی تمام جہانوں کا رب۔ آج جب سائنس "ملٹی یونیورس” کی بات کرتی ہے تو قرآن کا یہ تصور اور واضح ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اتنی بڑی کائنات "خود بخود” بن گئی۔ مگر کیا کوئی عمارت بغیر معمار کے بن سکتی ہے؟ کیا کوئی کتاب بغیر مصنف کے لکھی جا سکتی ہے؟
قرآن کریم سورۃ القارعہ میں قیامت کا نقشہ یوں کھینچتا ہے: "القارعة ما القارعة”۔ اس دن ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔ سائنس آج اسے "بگ کرنچ” کہتی ہے۔ نام بدل گئے، حقیقت وہی ہے۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ اللہ کا عرش اتنا عظیم ہے کہ اس کا ایک پایہ پوری کائنات پر محیط ہے۔ ہماری سوچ اسے سمجھ نہیں سکتی۔ وہ ذرے ذرے سے واقف ہے۔
لہٰذا کائنات کی ہر دریافت ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے۔ جتنا ہم سائنس پڑھیں گے، اتنا ہمارا یقین بڑھے گا کہ یہ سب "اتفاق” نہیں۔ اس کے پیچھے ایک لامحدود علم، لامحدود قدرت اور لامحدود حکمت ہے۔
انسان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان دنیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہر دور میں ایک جیسی رہی ہے، مگر ہر انسان اسے نئے سرے سے جیتا ہے۔ کوئی اسے مقصد بنا لیتا ہے، کوئی اس سے بھاگ جاتا ہے، اور کوئی اسے سمجھ کر اس کے اندر رہتے ہوئے اس سے بلند ہو جاتا ہے۔ اصل فرق سمجھنے اور نہ سمجھنے کا ہے۔
دنیا بظاہر بہت حسین ہے، مگر اس کی حقیقت بڑی مختصر اور تلخ ہے۔ عربی زبان میں دنیا کا لفظ “دنو” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ادنیٰ، قریب یا کمتر۔ گویا دنیا اپنے نام ہی سے یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ اعلیٰ نہیں بلکہ ادنیٰ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اعلیٰ روح، جو اللہ کی طرف منسوب ہے، وہ کسی ادنیٰ چیز پر مر سکتی ہے؟
قرآن مجید نے دنیا کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے:
کہ دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دنیا ایک سایہ ہے جو بدلتا رہتا ہے۔ ایک لمحہ خوشی ہے تو دوسرا لمحہ غم۔ ایک دن دولت ہے تو دوسرے دن محتاجی۔ ایک وقت طاقت ہے تو دوسرے وقت کمزوری۔ یہی اس کی فطرت ہے۔
اس حقیقت کو سب سے زیادہ جس شخصیت نے سمجھا اور سمجھایا وہ حضرت علی ابن ابی طالب ہیں۔ انہوں نے دنیا کو صرف دیکھا نہیں بلکہ جیا بھی اور پہچانا بھی۔ ان کے نزدیک دنیا کی حیثیت ایک ٹوٹی ہوئی جوتی سے زیادہ نہ تھی اگر وہ اللہ کے بغیر ہو۔
ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت علیؓ اپنا پرانا جوتا گانٹھ رہے تھے ۔ عبداللہ ابن عباسؓ نے جب دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ فرمایا اپنا جوتا سی رہا ہوں ۔ آپ نے ابن عباس سے پوچھا کہ اس جوتے کی قیمت کیا ہو گی ؟ ابن عباسؓ نے عرض کیا کہ اس کوئی مفت میں بھی نہیں لے گا تو حضرت علیؓ نے فرمایا: “اللہ کی قسم! تمھاری اس دنیا اور اقتدار سے مجھے یہ جوتا زیادہ محبوب ہے، بشرط یہ کہ میں حق قائم کروں یا باطل مٹا دوں۔” یہ جملہ دراصل دنیا کے پورے فلسفے کو بدل دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، حق مقصد ہے۔ مال مقصد نہیں، بندگی مقصد ہے۔ دنیا نہیں، آخرت اصل ہے۔
جبھی تو آپ کو زاہدوں کا امام مانا گیا ہے اور زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دنیا سے آزاد ہونا ہے لوگ زہد کو غلط سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زہد کا مطلب فقر، فاقہ، جنگل اور دنیا سے فرار ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
زہد دنیا سے نکل جانا نہیں، بلکہ دنیا کا اپنے من سے نکالنے کا نام ہے ۔ گویا دنیا کے اندر رہ کر اس کے غلام نہ بننا ہے۔ زاہد وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہیں ، بلکہ وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہو مگر دل میں کچھ نہ ہو ، کم از کم دنیا نہیں ، دنیا اس کا مطلوب و مقصودِ نہیں
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اقبال کا یہ شعر دراصل مولا علی کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ کیوں کہ مولا علی کا طرزِ زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہ خلیفہ تھے، حاکم تھے، مگر ان کے لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے۔ ان کے پاس اختیار تھا مگر دل میں عاجزی تھی۔
ان کا قول ہے:
“دنیا سانپ کی مانند ہے، چھونے میں نرم مگر اندر سے زہر قاتل۔” یہی زہد کا اصل تصور ہے دنیا ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو۔ دنیا کی فطرت سایہ، دھوکہ اور حرکت دنیا کو اگر سمجھنا ہو تو اسے سایے سے سمجھو۔ اگر تم اس کے پیچھے بھاگو گے تو وہ آگے بڑھ جائے گی، اور اگر تم رک جاؤ گے تو وہ تمہارے پیچھے آ جائے گی۔
یہی بات حکیم اسلام علی مولا نے فرمائی کہ دنیا سایہ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا پانی کی مانند ہے۔ اگر پانی کشتی کے نیچے ہو تو وہ اسے اٹھائے رکھتا ہے، لیکن اگر وہی پانی کشتی کے اندر آ جائے تو اسے ڈبو دیتا ہے۔
اسی طرح دنیا اگر دل کے نیچے رہے تو نعمت ہے، لیکن اگر دل میں اتر جائے تو بربادی ہے۔
رزق ، خوف نہیں، یقین کا نام ہے
انسان کی سب سے بڑی کمزوری رزق کا خوف ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے زیادہ محنت نہ کی، زیادہ چالاکی نہ دکھائی، یا زیادہ دوڑ دھوپ نہ کی تو وہ بھوکا رہ جائے گا۔
حالاں کہ قرآن واضح اعلان کرتا ہے
” زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو "
یہی وہ حقیقت ہے جسے انسان بھول جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو تمھیں پرندوں کی طرح رزق دیا جائے گا، جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔
حضرت علیؓ نے فرمایا:
“رزق دو طرح کا ہے: ایک جو تم تلاش کرتے ہو اور ایک جو تمھیں تلاش کرتا ہے” نیز فرمایا رزق تمھیں ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے موت ، سو خود کو رزق کے لیے مت گراؤ
یہ نظریہ انسان کو اندر سے آزاد کر دیتا ہے۔ کیوں کہ رزق صرف دوڑنے سے نہیں ملتا، بلکہ مقدر سے ملتا ہے۔ مومن کی شخصیت چار بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے
1. قناعت
قناعت کا مطلب ہے اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا۔
یہ حرص کو ختم کرتا ہے اور دل کو سکون دیتا ہے۔
حضرت علی فرماتے ہیں: “قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔”
2. توکل
توکل کا مطلب اسباب چھوڑنا نہیں بلکہ اسباب کے ساتھ اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔
مومن محنت کرتا ہے مگر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔
3. صبر
صبر صرف مصیبت برداشت کرنا نہیں بلکہ گناہ سے بچنے کی طاقت بھی ہے۔
یہ مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔
4. شکر
شکر نعمت کو پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کا نام ہے۔
شکر دل کو حسد سے بچاتا ہے اور نعمت کو بڑھاتا ہے۔
اگر پوری گفتگو کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ:
دنیا ایک امتحان گاہ ہے، منزل نہیں۔
یہ فانی ہے، باقی نہیں۔
یہ سایہ ہے، حقیقت نہیں۔
یہ ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔
فرعون، قارون، شداد اور بے شمار طاقت ور لوگ دنیا کے پیچھے بھاگے مگر مٹی ہو گئے۔ دنیا نے کسی کو نہیں چھوڑا۔
زہد کا مطلب نہ مال کا نہ ہونا ہے، نہ دنیا سے بھاگنا ہے، بلکہ: دنیا کا ہاتھ میں ہونا مگر دل سے نکل جانا ہے۔ یہی اصل آزادی ہے۔ رزق خوف سے نہیں ملتا، بلکہ یقین سے ملتا ہے۔ جو چیز تمہارے لیے لکھی جا چکی ہے وہ تم تک پہنچ کر رہے گی، چاہے تم بھاگو یا ٹھہر جاؤ۔
مومن کی پہچان یہ ہے:
وہ کم پر راضی ہوتا ہے (قناعت)
وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے (توکل)
وہ مشکل میں ٹوٹتا نہیں (صبر)
وہ نعمت میں غرور نہیں کرتا (شکر)
اگر پورے مضمون کا نچوڑ نکالا جائے تو وہ صرف چند سطروں میں سمٹ جاتا ہے:
دنیا ادنیٰ ہے، اس پر مرنا عقل مندی نہیں۔
زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دل کو آزاد کرنا ہے۔
رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے خوف کی کوئی جگہ نہیں۔
مومن کی شان چار چیزیں ہیں: قناعت، توکل، صبر اور شکر۔
اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ: اعلیٰ روحیں ادنیٰ چیزوں پر نہیں مرتیں۔
انسان کی اصل نسبت زمین سے نہیں، آسمان سے ہے۔ وہ چند روزہ دنیا کے لیے نہیں بلکہ ابدی آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔
اللہ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے آزاد رہنے کی توفیق دے، رزق میں حلال کی برکت دے، دل میں قناعت، عمل میں صبر، زندگی میں توکل اور ہر حال میں شکر عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین
دین اسلام قانون سے بھی آگے بڑھ کر انسان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ نیک لوگوں کے نامہ اعمال میں نیکی کے ارادے کا تو ثواب لکھ دیا جاتا ہے لیکن برائی (evil) کا گناہ تب تک نہیں لکھا جاتا ہے جب تک اس پر عمل نہ کر لیا جائے۔ یہ برائی (evil) کے خطرے سے واپس پلٹنے کی ایک مثالی ترغیب ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کے لیئے اسلام تقوی اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کسی نیک عمل کی حسرت پوری زندگی رہے مگر اس پر عمل کرنے کا موقعہ نہ ملے تو اس کا اجر تب بھی ملتا رہتا ہے۔ اگر برائی (evil)کے بارے سوچنے پر قانون سرے سے کوئی سزا یا حد ہی مقرر نہیں کرتا ہے تو یہ انسانی اخلاقیات کے نظام میں ایک سقم ہے کیونکہ (evil) برائی کے بارے سوچنے پر پابندی نہیں ہو گی تو بری سوچ ایک دن انسان کو برے اعمال کرنے پر مجبور کر دے گی۔ انسانی نفسیات کا یہ بنیادی خاصہ ہے کہ ایک فرد کی بری سوچ ہی اسے برائی پر اکساتی ہے۔ اسلام میں پرہیزگاری اور تزکیہ نفس پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے تاکہ کوئی مسلمان گناہ sin کرنا تو دور کی بات ہے وہ گناہ کرنے کا ارادہ ہی نہ کر سکے۔
ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ، "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔” ایک مسلمان muslim کو برائی evil کی نیت کرنے سے منع کر دیا گیا ہے کیونکہ نیت ایک قسم کا ارادہ ہے جو موقعہ ملنے پر عمل پر اکساتا ہے۔ بری نیت گناہ کی ایک قسم کی تحریک ہے جو بلآخر اپنا کام دکھا کر ہی سانس لیتی ہے جبکہ زہنی پاکیزگی اور طہارت ایک عام مسلمان کو بھی پسندیدہ اور صالح انسان بناتی ہے۔ نیت کی خرابی دوسرے انسانوں کی حدود اور حقوق میں دراندازی کرنے کے برابر ہے۔ برائی (evil) کی نیت سے دوسرے انسان ہمیشہ بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ حد درجہ خطرناک اور منافقانہ سوچ ہے کہ آپ سوچ کچھ اور رہے ہوتے ہیں اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں۔ اسلام تو پھر اسلام ہے دنیا کا کوئی غیرالہامی مذہب بھی بری نیت اور اعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا ہے۔ منفی خیالات جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں اور برائی (evil) پر اکساتے ہیں۔ دنیا کا کوئی برے سے برا کلچر بھی اس سوچ کی ترجمانی نہیں کر سکتا ہے کیونکہ ایسی بری نیت ناپائدار، قابل نفرت اور گھناؤنی ہوتی ہے۔
دین اسلام عالمگیر اور پائیدار انسانی بقا کی علامت ہے جو انسانی معاشرے میں زندہ رہنے کی خواہش wish میں توازن پیدا کرتا ہے تاکہ کوئی کسی کے بارے سرے سے برا سوچ ہی نہ سکے۔ فطرت سلیم پر قائم رہنے والے مسلمانوں میں آپ کو یہی سوچ ملے گی جو دوسروں کے بارے نیک تمناؤں کی حامل ہو گی۔ کسی بھی حقیقی الہامی دین Divine-religion جیسا کہ اسلام ہے اس کا یہ خاصہ ہے کہ وہ معاشرے کے تمام افراد کو اس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ متاثر کرے۔ یہ زندگی کے کامیاب اور وسیع تر نقطۂ نظر کی ترجمانی ہے جو انسان کی روح تک کو متاثر کرتی ہے۔ انسان کی باقی زندگی جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ انسان کی اسی نیت Intention اور اس کے بنیادی خیالات سے پھوٹتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ، مذہب یا عقیدہ اس وقت تک اپنی بقا کی جنگ نہیں جیت سکتا ہے جب تک اس کے افراد کی نیت اور اعمال اصلی اور پاکیزہ نہ ہوں۔ خیالات کو ظاہر اور باطن کے جس پہلو سے بھی دیکھا اور پرکھا جائے وہ مکمل طور پر شفاف اور خالص نظر آنے چایئے۔ انسان کے اندر کی دنیا مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہوتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک قول ہے، جس کا مفہوم ہے کہ، "ماؤں mothers نے انسانوں کو آزاد جنا تھا تم نے کب سے ان کو غلام بنانا شروع کیا ہے؟” دنیا کی کوئی طاقت انسان کو سوچنے سے محروم نہیں کر سکتی ہے۔ سوچنا ہر انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے۔ یہ انسان کی واحد آزادی ہے جو ہرکس و ناکس کو حاصل ہے۔ انسان اتنی آزادی رکھنے کے باوجود خود کو برے خیالات سے بچا لے اور اپنی نیت اور خیالات کو پاکیزہ اور صاف رکھے تو اس کا درجہ خدا کے نزدیک دوبالا ہو جاتا ہے کیونکہ نیتوں کا حال خود انسان جانتا ہے یا اس کا خدا جانتا ہے۔
دینی لحاظ سے نیک نیتی بقائے تہذیب کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ خالص اسلامی تہذیب کے قیام کے لیئے صرف یہی ایک صورت ہے کہ اچھی نیت اور خیالات برقرار رکھے جائیں تاکہ اعمال کے مثبت اور تعمیری نتائج برآمد ہوں۔ اچھی اور صالح نیت اعلی انسانی تہذیب کا جز ہے اور وہی تہذیب اسلامی کہلانے کی حق دار ٹھہرتی ہے جس کے تمام افراد نیک نیت ہوں۔ کسی مسلمان کے صالح اور پاک خیالات ہی دیرپا اسلامی تہذیب Islamic-civilization کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
بنی نوع انسان جبلتوں کا اسیر ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر گوناگوں جذبات پنپتے اور ابلتے رہتے ہیں جن کا بعض اوقات عام انسان کھل کر اظہار بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ انسان اندر سے جتنا بھی محض خیال آرائیوں اور شخصی تصورات پر مبنی ہو وہ اپنا سارا کچا چٹھا ہر انسان سے شیئر نہیں کر سکتا ہے۔ یہ کشمکش انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہے۔ انسان خود کو ہلکا کرنے کے لیئے برے خیالات پر عمل کر لیتا ہے یا انہیں جھٹک دیتا ہے۔ برے خیالات پر عمل کرنے سے انسان عموما تسکین محسوس کرتا ہے اور یا پھر پچھتاتا ہے۔ وہ ایسا نہ کرے تو وہ اپنے ہی برے خیالات میں کڑھ کڑھ کر مرنے لگتا ہے۔ اس ضمن میں نیت کی پاکیزگی اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہاں کسی کے انفرادی اعمال سے لامحالہ طور پر معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ کسی برے عمل کا تعلق فرد کے ساتھ جماعت سے بھی ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ ایک بدنیت انسان کی معاشرے میں کیا حیثیت ہے۔ جیسے سمندر پانی کے قطروں سے تشکیل پاتا ہے ایسے ہی معاشرہ بھی انفرادی انسانوں کے اکٹھے رہنے اور برتاو’ کرنے سے بنتا ہے۔ انفرادی خیالات اور خواہشات کسی قوم یا ملک کے مجموعی تصوراتی ڈھانچے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کسی کی نیت دل چیر کر دیکھی نہیں جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود کی عزت نفس بچانے کا ایک ہی ذریعہ بچتا ہے کہ خود کو لازمی طور پر بری صحبت اور نقصان دہ خیالات سے ہمیشہ دور رکھا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان کے سچے اور اعلی پائے کے معاشرتی وجود کی تعلیم و تربیت کے بعد ساری ذمہ داری خود انسان کی ہوتی ہے۔ انسان کے اس تشخص کا بڑا حصہ فرد کی کاوش فکر کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے انسان کی شخصیت کا نمایاں تخلیقی ظہور ہوتا ہے۔ اگر انسان اس نکتے کو نظر انداز کرے اور برے خیالات کو اندر آنے سے نہ روکے تو پھر اس کا برے اعمال سے بچنا محال ہو جاتا ہے۔ ذہن میں کوئی بھی برا خیال آئے تو اسے فوری طور پر رد کرنا چایئے اس سے پہلے کہ وہ جڑ پکڑ لے اور بلآخر آپ کو عمل کرنے پر مجبور کر دے۔ کوئی بھی برا خیال انسان کا دوست نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ نقصان کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ ایک پرہیزگار اور متقی انسان برے خیالات کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرتا جس سے اس کے دماغ میں عمل کرنے کی الجھن پیدا ہو۔
چنانچہ ہم میں سے ہر انسان کو اپنی تحلیل نفسی Psychoanalysis کرتے رہنا چایئے کہ کوئی بھی برا اور بد خیال ہمیں عمل پر مجبور نہ کر سکے۔ جب ایک بار دماغ میں کوئی برا خیال پیدا ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے جڑ بھی پکڑ لیتا ہے تو پھر برے عمل سے بچنا تقریبا نامممکن ہو جاتا ہے کیونکہ ایک برا خیال دوسرے کئی برے خیالات تک لے جاتا ہے۔ برے خیالات کا یہ ایسا تانتا بندھتا ہے کہ ان سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ حیوانی خیالات عموما لذت آمیز بھی ہوتے ہیں۔ انسانوں کی اکثریت جبلی عادات سے مجبور ہو کر برائی (evil) کرتی ہے۔ کسی بھی برے خیال کو اپنی جبلت نہیں بننے دینا چایئے۔ انسانی فطرت کو بعض جبلتوں کا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے جو بدل نہیں سکتی ہیں۔ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بعض سماجی نظاموں میں افراد کو بہ حیثیت فرد مسرت حاصل کرنے اور اپنی جائز خواہشات کو پوری کرنے کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔ نہ تو انسانی فطرت غیرتغیرپذیر ہے اور نہ سماج فرد کا دشمن ہے۔ یہ ہر اہل عقل پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر اور کس طریقے سے خود کو ان برے خیالات اور اعمال سے بچاتا ہے۔
قرآن پاک کے مطابق "اسلام میں جبر نہیں ہے۔” اس کا اطلاق خود انسانی سوچ اور فکر پر بھی ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خود کو ان برے خیالات سے قبل از وقت نہیں بچائے گا تو وہ اکٹھے ہو کر انسان کو جبر کی حد تک عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ برائی (evil) کو ابتداء ہی میں مسل دیا جانا چایئے۔ برے خیالات کے بیج کو اگنے نہیں دینا چایئے۔ برے خیالات اگ آئیں تو پھر ان کے کانٹوں سے خود کو بچانا ممکن نہیں رہتا ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کا واحد راستہ path یہی ہے کہ خود کو برے خیالات اور اعمال سے بچانے کے لیئے ان کا ابتداء ہی میں قلع قمع کر دیا جائے۔
سب توں پہلے مقبول ذکی مقبول مبارک باد دے حق دار ہِن مبارک باد پیش کرینداں کیوں جو ایں اوکھے تے مصروف دور دے وچ اے جائیں کتاب ٫٫ سجدہ ،، لکھی ہے تے با ذوق لوگاں توں داد آفرین وی گدھی ہے بھئی اے اُو وقت ہے جو کہیں کُوں سر کھݨ دا ٹائم وی کوئی نئیں مقبول ذکی اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، لِکھ کے چھپا کے اے ثابت کیتائے جو منکیرہ دی سر زمین تے وی کوئی عاشقِ محمّد و آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم موجود ہے ۔ پیاری شاعری ہے ۔ بلکہ اللّٰہ تعالیٰ دی اے عطا تھائی ہے ورنہ کوشش روز نال اے چیز نئیں ملدی ۔
کیڈا پیارا شعر لکھائے مقبول ۔
علی مرتضیٰ ؑ دا توں بچڑا امام اے
زمانہ بھجیندائے درود و سلام اے
مقبول ذکی مقبول ہک اچھا ادیب تے اچھا انسان وی ہے ۔ منکیرہ ( بھکر ) دی پہچاݨ بݨ گئے ہِن شاعری دے حوالے نال میں بندہ حقیر ہک چھوٹا جیا مولا حضرت امام حسین علیہ السّلام دا ذاکر ہاں ہک مقام تے دوران مجلس میں مقبول ذکی مقبول دا اے شعر پڑھا ہے اچھی خاصی داد ملی ہے ۔
نال روضے دے بہہ نعت لکھدا راہواں
ڈیھنہ او آوے دعائیں میں منگدا راہواں
پاک محفل سجے عرشی فرشی آون
میکوں رنگ لگ ونجن نعت پڑھدا راہواں
اوں ویلے میڈے دل وچوں دُعا نکلی ہے اللّٰہ پاک قلم وچ ایں توں زیادہ اثر عطا کرے آمین
دیکھو کتنی عقیدت و محبّت ہے اللّٰہ تعالیٰ تے اُوندے پاک رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نال ۔ اہلیانِ منکیرہ دے باذوق لوگاں دی اکھ کھُل گئی ہے جو ساڈی دھرتی تے وی ایجھیں ادیب لکھاری موجود ہِن ۔ حالانکہ پہلے وی بہوں سارے شاعر اتے ادیب ہِن جیوں سعید احمد حاشر ، محمّد اقبال بالم ، علی شاہ ( مرحوم ) میڈا پیو زوار سرفراز فقیر ( پیدائش 1933ء ۔ وفات 12 اگست 2008ء ) اووی شاعر و ادیب ہَن ۔ لیکن اُنہاں شاعراں اپنا کلام شائع نئیں کیتا اگر کیتا ہے تاں لوگاں کُوں کوئی خاص علم نئیں میں تاں اے چاہنداں ہاں ۔ اہلیانِ منکیرہ دے وچ زیادہ توں زیادہ شاعر پیدا ہون تاکہ عوام نِندر کنوں بیدار تھیوے
جیویں جو علامہ ڈاکٹر محمّد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ فرمائے گئے ہِن
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اِسے شعر دے مصداق ہِن مقبول ذکی مقبول اللّٰہ کرے اے حوصلہ قائم و دائم رہوے اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، سرائیکی رثائی ادب وچ اضافہ ہے حالانکہ ضلع بھکر ادب دی دھرتی ہے بہوں اچھے تے بزرگ قابلِ تعریف شاعر تھی گزرن جویں جو بابائے ذاکری بابا سید سید علی شاہ چھینوی ، چھیناں والے ، سید غلام حسن شاہ تائب ، غلام سکندر خان غلام موجودہ دور وچ سائیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، بئے وی کافی شاعر ہِن ۔
مذہبی شاعری مجموعہ ٫٫ سجدہ ،،
دے وچ حمد ، نعت ، سلام ،، منقبت ، قصیدے ، مرثے ، ڈوہڑے ، اے ثابت کریندِن کہ مقبول ذکی مقبول ہک عظیم مذہبی عقیدت رکھڑ آلے امن پسند شاعر ہِن ایندے قلم و فکر وچ اللّٰہ پاک ہور برکت پاوے ۔
دیکھو قرآن کریم یعنی کلام اللّٰہ ہک مکمل ضابطہ حیات ہے اِس دے وچ کوئی شک و شبہ دی گنئش نئیں کیا خوب ( سُورۃ فیل) دی ترجمانی کیتی ہے ۔
اپݨے گھر دی مالک تئیں تاں آپ حفاظت کیتی ہے
چھوٹے چھوٹے پکھواں کولوں ہاتھیاں کُوں مروایا ہے
اے ہݨ دیکھو کیا سوہݨی گاہل لِکھی میں اے آدھا ہاں واقعی مقبول مقبول ہے میں ہک مجلس وچ اے حمد پڑھڑی ہے وڈی داد ملی ہے تاں میکوں اندازہ تھی گئے جو مقبول ذکی مقبول دی شاعری وچ وزن ہے ۔ وَل جڈاں میں سجدہ پڑھئے
نظم سجدہ
سجدے دے وچ ربّ دا عاشق
خنجر گل تے رکھا فاسق
سارا عالم ویݨ کریندائے
ہائے ہائے ساڈا رہبر صادق
عرشی ، فرشی کُل نبیاں ؑ نے
بیا ڈِٹھا سجدہ خالق
نیزے تے وی پاک تلاوت
اصلی اے قرآنِ ناطق
ڈیکھ شہادت رنگ بدلا گئے
کربل ، سورج ، مغرب ، مشرق
شعر لکھاں میں آلِ نبی ؐ تے
اللّٰہ میکوں کر چا لائق
چوڈاں ؑ دا بس نپ گھِن دامن
توں مقبول جو تھی ونج حاذق
اتھاں میں ہُݨ مجبور ہاں جو کیوں میں اِس کلام دی تعریف نہ کراں تاریخِ اسلام میڈے سامݨے ہے ۔ بابے آدم علیہ السّلام توں گھِن کے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک کہیں نبی ( صہ) نہ ایجھاں سجدہ ڈتئے نہ وَل قیامت تک کوئی ڈیسی ذکی جویں جو اے سلام پاک حسین علیہ السّلام تے لکھائے ۔
سلام
دینِ حق کوں عظمت بخشی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں
محشر توڑیں روشن راہسی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں
پاک نبی ؐ دی پگ اطہر ہے آقا تیڈے سر اطہر تے
دینِ حق دا توں ہیں بانی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں
کیتا کل سنسار معطر تیڈے پاک لہو اے مولا
خوشبو محشر توڑیں آسی مولا پاک حسینؑ ہیں توں
قاسم ، اکبر ، اصغر بچڑے کُس گئے سارے کربل آخر
تیڈے صبر دی شان نرالی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں
اوکھا سجدہ کربل تیڈا سجداں دی او شان بݨا گئے
جگ دے سجدے بچ گئے باقی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں
دامن تیڈا جئیں ہے نپیا اُس دا بیڑا پار ہے مولا
حوضِ کوثر تے او ویسی مولا پاک حسینؑ ہیں توں
تیڈی پاک کریمی ایجھئیں حُر ؑ کوں تئیں ہے بخشی عظمت
جگ تے اوندی شان ہے بݨ گئی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں
کفر دا ملیا میٹ تئیں کیتا کل ایمان دا بچڑا توں ایں
تیڈی عظمت ہے لاثانی مولا پاک حسینؑ ہیں توں
کیا خوب صورت سلام تُساں ملاحظہ کیتئے شاعر آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ، مقبول ذکی مقبول تے ایہا عقیدت ہے جہڑی سینہ چیر کے باہر نکل آندی ہے گاہل خق اے جو حق کوں جتنا دبایا ونجے اُتنا ہی ابھردائے ۔
میں اپݨے پاروں ہک شعر لِکھداں مقبول ذکی مقبول واسطے
مقبول دی شاعری پڑھ کرائیں
گونگے کوں وی بولݨ دا ڈھنگ آونجے
قارئین کتاب ٫٫ سجدہ ،، کوں پڑھݨ دی میڈے سنگتیاں خواہش ظاہر کیتی ہے جیندے وچ سید نیاز عباس شاہ اُنہاں پڑھݨ دا شوق ظاہر کیتئے بیا کافی لوگ ہِن ۔ جہڑے اے گاہل آ دھے پئے ہن تے میں وی سݨا ہے جو مقبول ذکی بہوں اچھے شاعر ہِن بندہ وی عظیم ہے اچھا اخلاق وی ہے حالانکہ او صحت دے شعبہ نال وابستہ تھی کے ڈُکھی لوگاں دی مرہم پٹی کریندے ہے تے او بیا شاعری دے ذریعے ڈُکھی انساناں دے روحاں دی وی دوا وی کریندے ہے اے بہوں وڈا شرف ہے وڈی عزت ہے آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم دے دربار پاک وچ اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، لِکھ کے اُنہاں اپݨی تے اپݨے سنگتیاں دی آخرت سنواری ہے ۔ سرائیکی ادب دی دُنیا وچ بہوں وڈا اضافہ کیتائے ہے ۔ اللّٰہ پاک اپݨی بارگاہ وچ قبول فرمائے آمین
عاصم ایک نہایت حساس شاعر واقع ہوئے ہیں لیکن ان کی حساسیت فطرت کے اس استحصال کو کسی گہرے فلسفیانہ اور سائنسی بیانیے میں نہیں الجھاتی اور نہ ہی وہ موضوع کی نزاکت کو منطقی بحث کا رنگ دے کر ثقیل اور گنجلک بناتے ہیں۔ ان کے اسلوب کی سادگی، ممد و معاون ہوتی ہے ۔
خطا ہم سے ایسی کیا ہو گئی ہے سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی ہے
دھوئیں کے کیے ہم نے اسباب پیدا بڑی ہم سے مولا خطا ہو گئی ہے
جلایا ہے خود ہم نے فصلوں کو جب سے یہ زہریلی تب سے فضا ہو گئی ہے
پانی حیات ہے اور حیات پانی۔ اسے ہی سرچشمہ حیات کہا گیا ہے۔( وجعلنا من الماء کل شی حی)۔ قرآن کی اس آیت( وکان عرشہ علی الماء ) یعنی رب کا عرش پانی پر تھا کی تفسیر میں مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے پانی کو پیدا کیا گیا۔پانی کی اہمیت مذاہب کی تعلیمات اور سائنسی علوم میں جس قدر ہے بیان ہوئی ہے شاید کسی اور چیز کی بیان ہوئی ہو۔ ہمارے ادب میں پانی کی ماہیت و خاصیت پر عجب معنی آفرینی ملتی ہے۔ ” ایک خنجر پانی میں” کی یہ سطریں تو چونکا دیتی ہیں کہ
"پانی سب یاد رکھتا ہے ساری دعاؤں اور بد دعاوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ وہ بولے گئے لفظوں کو اپنی یادداشت سے کبھی باہر نہیں جانے دیتا اس کا حافظہ دائمی ہے۔”
عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری میں جس چیز کا ذکر سب سے زیادہ ملتا ہے وہ پانی ہی ہے۔ پانی طہارت کا وسیلہ ہے ( وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم)۔ کرہ ارض کا 3/4 حصہ پانی ہے ، انسان کی جسامت کا 70 فی صد پانی اور اس کے خون کا 90 فی صد پانی ہی ہے۔ الغرض پانی کی اس درجہ اہمیت نے قلب شاعر پر وہ بارش احساس کی ہے کہ ہمیں ان کی شاعری میں مندرجہ بالا سارے حوالے مل جاتے ہیں۔
جس سمت دیکھتا ہوں میں سیلاب دوستو اس کے بھی تو کچھ ہوں گے ہاں اسباب دوستو
اس وقت موت کا ہے جو سامان بنا ہوا حالانکہ زندگی ہے یہی آب دوستو
سال بھر بہتے رہتے ہیں دریا ڈیم کی شکل کیوں نہیں دیتے
آ کے سیلاب نے یہی پوچھا پانی سے تو پانی سے کام تم نہیں لیتے
پانی آلودہ کارخانوں کا میں نے دریا میں گرتے دیکھا ہے
مچھلیاں جائیں گی کہاں جانے۔
عاصم بخاری کے ماحولیاتی تناظر میں لکھی گئی کچھ نظموں کے نام یہ ہیں : لگا احساس کی عینک، تمہیں یاد ہوگا، چھپڑ ،کچے مکاں، سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی، فوق کا دھند کا ہر طرف راج ہے، سموگ، کارخانے۔ ان کی علامات، تشبیہات بلکہ سارا استعاراتی نظام اسی قدرتی ماحول سے کشید کردہ ہے۔ نمونے کے لیے ان کی نظم اخلاص، ہماری یہ روایت ہے، ہم ہیں پروردہ اسی ثقافت کے وغیرہ ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی حمدیہ نظم کی تخلیق بھی اسی فطری قدرتی ماحول کے سیاق میں ہوئی ہے۔ مختصر یہ کہ کہ ان کی حمدیہ نظم میں بھی آپ کو قدرتی اور فطری ماحول کی عناصر ملیں گے۔
شکر شہری بھی ہیں بجا لاتے
شہری بھی شکر ہیں بجا لاتے
حمد ربی کا لطف گاؤں میں وہ پرندوں کا اپنی بولی میں
فاضل پور کے قرب و جوار میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جسے لوگ گڑھی سلطان شاہ کے نام سے پکارتے تھے۔ مٹی کے گھر، کچی گلیاں، کھیتوں کی سرسبز چادر اور شام کے وقت افق پر بکھرتا سنہری رنگ۔یہ سب اس بستی کی پہچان تھے۔ کبھی ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے تو کبھی غروبِ آفتاب کا منظر امیدوں کو ساتھ لے کر ڈوب جاتا۔
اسی گاؤں میں ایک بچی نے آنکھ کھولی۔نام رکھا گیا عدیمہ حرم۔
لیکن اس کی پیدائش خوشی کی نوید نہ بن سکی۔
گھر کے صحن میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا تھا۔ دادی کی آنکھوں میں مایوسی، چچیوں کے لبوں پر نیم دبی سرگوشیاں اور ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی۔ باپ نے اگرچہ “الحمدللہ” کہا مگر اس لفظ کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا خواب تھااسے اس بار “سالار” کی امید تھی۔
عدیمہ نے ہوش سنبھالا تو خود کو خاموشیوں کے حصار میں پایا۔
وہ بچپن ہی سے پانچ وقت کی نماز کی پابند، قرآن سے مانوس اور تہجد گزار لڑکی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک ان جانا کرب تیرتا رہتا۔ وہ گاؤں کی رونقوں سے بے نیاز خود کو کمرے کی چار دیواری میں مقید رکھتی۔ جیسے اس کے دل کے اندر کوئی طوفان تھا جو کسی مخلص سہارے کی تلاش میں بے قرار تھا۔
لوگوں کے سنگین الفاظ، طنزیہ جملے اور تیز نظریں۔یہ سب اس کے وجود پر خراشیں ڈال جاتے۔
وہ ہر رات سجدے میں گرتی اور رب سے دعا کرتی:
“یا اللہ! مجھے ایک ایسا ہاتھ عطا کر دے جو میرے دل کے زخموں پر مرہم رکھ دے۔”
سات برس بیت گئے۔
سات برس کی خاموش عبادت، آنسوؤں کی لڑی اور صبر کا سفر۔
یوں پھر ایک رات اس کی تہجد کی دعا رنگ لے آئی۔
صبح جب اس نے دروازا کھولا تو سامنے ایک پرکشش شخصیت سفید لباس میں ملبوس کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں سات ٹہنیوں سے بنا سفید گلابوں کا گل دستہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں خلوص کی چمک اور لبوں پر اعتماد کی مسکراہٹ تھی۔
ہوا میں خنکی گھل گئی۔
آسمان بادلوں کی لپیٹ میں تھا۔
پھولوں کی بھینی بھینی خوش بو جیسے عدیمہ کے نصیب کا اعلان کر رہی تھی۔
عدیمہ کے دل نے گواہی دی:
“یہی وہ منزل ہے جس کے لیے میں نے سات سال صبر کیا ہے۔”
وہ آگے بڑھی۔
کانپتے ہاتھوں سے سفید گلاب کو چھوا۔ اس کی انگلیوں نے نرمی کو محسوس کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ یہ خواب نہیں تھا۔
اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔
اندھیروں سے روشنی کی طرف بڑھتی ہوئی عدیمہ کو یوں لگا جیسے زندگی نے اسے مضبوط ڈور سے باندھ دیا ہو۔
مگر تقدیر کے اوراق ابھی مکمل نہ تھے۔
چند دنوں بعد جب اس پرکشش شخص کو یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ عدیمہ ایک طلاق یافتہ لڑکی ہے تو اس کے چہرے کی روشنی مدھم پڑ گئی۔
وہی ہاتھ جو سفید گلاب پیش کر رہا تھا اب سرد ہو چکا تھا۔
“مجھے افسوس ہے… مجھے معلوم نہیں تھا…”
اس کی آواز میں ہم دردی کم اور معاشرتی خوف زیادہ تھا۔
چند لمحوں میں سفید گلاب جیسے سیاہ ہو گیا۔
محبت کا رنگ ماند پڑ گیا۔
عدیمہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر اندھیرا اتر آیا۔
وہی کمرا، وہی تنہائی، وہی خاموشی۔
اس رات اس نے سجدے میں سر رکھا تو آنسو بے اختیار بِہ نکلے۔
مگر اس بار اس کے لبوں پر شکوہ نہ تھا۔
“یا اللہ! اگر یہ بھی امتحان تھا تو میں راضی ہوں۔
مگر مجھے اتنی طاقت دے کہ میں اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے نہیں تیری نظر سے دیکھ سکوں۔”
کھڑکی سے آتی ہوا نے اس کے آنسو سکھا دیے۔
دور کہیں فجر کی اذان بلند ہوئی۔
عدیمہ نے آنکھیں پونچھیں اور آہستہ سے مسکرا دی۔
کیوں کہ اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ سفید گلاب کا مان کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔
کالم نگار انصار عباسی نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ 09 فروری 2026ء میں پاکستان کے ایک بنیادی اور اہم ترین مذہبی مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے اظہاریہ کا عنوان "اسلام کو آؤٹ سورس کرنے کی غلطی”، تھا، جس میں انہوں نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی کہ اس وقت ریاست کا اپنا کوئی واضح اور شفاف مذہبی بیانیہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی طرف نہیں گئی ہے۔ کاش کہ ریاست کبھی یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ پاکستان میں دین اسلام کا کونسا سرکاری فقہ یا مسلک رائج ہے؟ آج تک کسی بھی حکومت نے کبھی مشترکہ سرکاری مذہبی بیانیہ کا اعلان نہیں کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تک دین اسلام کی تشریح و تعبیر پر مختلف مسالک اور فرقہ جات ہی کا قبضہ رہا ہے، جو دین اسلام کی تشریح و تعبیر اپنے ہی مذہبی عقائد اور مفادات کے تحت کرتے چلے آ رہے ہیں!
پاکستان بیورو آف شماریات کی 2023ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 لاکھ 403 مساجد اور 36 ہزار 331 دینی مدرسے ہیں۔ سینٹ کے 2024ء کے ایک اجلاس میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 17ہزار 738 ہے جس میں رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 22 لاکھ 49 ہزار 520 ہے۔ پنجاب میں 10ہزار 12رجسٹرڈ مدارس اور طلبا کی تعداد 6لاکھ 64ہزار 65 ہے۔ سندھ میں رجسٹرڈ مدارس 2416 ہیں اور طلبا کی تعداد 1لاکھ 88ہزار 182 ہے۔بلوچستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 575 اور طلبا کی تعداد 71ہزار 815 ہے۔ کے پی کے میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 4ہزار 5 اور طلبا کی کل تعداد 12لاکھ 83ہزار 24 ہے۔ آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 445 اور طلبا کی تعداد 26ہزار 787 ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 199اور طلبا کی تعداد 11ہزار 301 ہے۔
گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 86 اور طلبا کی تعداد 4ہزار 346 ہے۔ ان تمام دینی مدارس اور مساجد میں ہر جگہ اپنے اپنے فقے، مسلک اور فرقے کی تبلیغ اور ترویج کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں اور تقریبا ہر مسلمان گھر میں اپنے الگ شیعہ، سنی، دیوبندی، وہابی، اہل حدیث، منکرین حدیث، حنفی وغیرہ (اور ناجانے کیا کیا) مسلک، فقہ اور فرقہ جات وغیرہ کے مطابق اسلام پر قائم رہنے اور عبادات کرنے کا درس دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ پرائیویٹ اور منقسم قسم کا مذہبی بیانیہ دین اسلام کی حقیقی روح کے بلکل منافی ہے کیونکہ قرآن پاک کی سورة آل عمران کی آیت نمبر 103 میں واشگاف الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ، "تم سب (مسلمان) مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں (یعنی فرقوں اور مسالک وغیرہ) میں مت پڑو۔” جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ جدا جدا نہ ہو جاؤ جیسا کہ آج پورا پاکستان "دین اسلام” کی بجائے "زہر آلود مذہبیت” میں ڈوبا ہوا ہے۔ دین اسلام کی بھائی چارے، اتحاد اور اجتماعی فکر سے اس انحراف اور فرقہ واریت ہی کی وجہ سے پاکستان میں تسلسل کے ساتھ مذہبی منافرت پھیلی ہے جس کے نتیجے میں "خودکش” بم دھماکوں نے جنم لیا جس میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں 07فروری کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والا افسوسناک خودکش بم دھماکہ بھی شامل ہے کہ جس میں 32 افراد جاں بحق اور 150 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل مذہبی جنونیت پر مبنی پاکستان میں صرف چند خودکش حملوں کا جائزہ لیں جن سے پورا ملک وقفے وقفے سے افسوس اور غم میں ڈوبتا رہا تو پتہ چلتا ہے کہ کس بے دردی سے مزہب کے نام پر ملک کو خون میں نہلایا جاتا رہا ہے۔ 4جولائی 2003ء کو کوئٹہ میں ایک امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا جس میں 54افراد شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں خودکش حملہ آوروں کی تعداد 3 تھی۔ موجودہ حملہ میں خودکش حملہ آور دو تھے۔ 29فروری 2004ء کو راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع ایک امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا البتہ 3افراد زخمی ضرور ہوئے تھے۔ مئی 2004ء میں کراچی میں دہشت گردی کے اعتبار سے افسوسناک تھا جب 7مئی 2004ء کو ایک بار پھر امام بارگاہ حیدری اور 31 مئی 2004 کو امام بارگاہ علی رضا میں ظہر اور مغرب کی نمازوں کے دوران بم دھماکے ہوئے، یہ دونوں حملے بھی خودکش تھے۔ امام بارگاہ حیدری کے واقعے میں 24افراد شہید اور 100زخمی ہوئے تھے جبکہ امام بارگاہ علی رضا میں خودکش حملے میں 23افراد شہید اور 40زخمی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر 2004ء کو سیالکوٹ کی امام بارگاہ میں بھی خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 25افراد ہلاک اور 50زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ 27مئی 2005ء کو اسلام آباد میں بری امام کے مزار میں مجلس عزا کے دوران بم دھماکے میں 28افراد ہلاک اور 67زخمی ہوئے تھے۔ 30مئی 2005 کو کراچی میں امام بارگاہ مدینتہ العلم پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی تھی جس میں پولیس اہلکار کی جانب سے حملہ آور کو امام بارگاہ کے باہر ہی روک دینے پر زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اس حملے میں پھر بھی 3افراد شہید اور 23زخمی ہوئے تھے۔ ہنگو میں 9فروری 2006ء کو 10محرم کے جلوس میں خودکش حملہ ہوا جس میں 40افراد شہید اور 26زخمی ہوئے تھے،
اور اس کے بعد آج تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک و مذہب دشمن عناصر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلا کر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ آخر یہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ یہ واضح طور پر دہشتگردی ہے جس کا دین اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حیرت انگیز طور پر وطن عزیز کے مسالک نے مل کر ان انسانیت کش واقعات کی کبھی کھل کر مذمت کی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کبھی کوئی مشترکہ فتوی جاری کیا ہے۔ یہ محض ایک اور سانحہ ہی نہیں بلکہ واقعی ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ بقول انصار عباسی، "یہ سوال صرف سیکورٹی کی ناکامی کا نہیں بلکہ ریاستی سمت، فکری الجھن اور تاریخی غلطیوں کا ہے۔” اس مذہبی دہشت گردی کے ناسور کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کا سرکاری اور قومی نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے جو "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ” کی اساس پر قائم ہوا۔ پاکستان کے آئین 1973ء میں بھی اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب لکھا گیا ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات میں بھی پاکستان میں مسالک اور فرقہ پرستی کی ممانعت کی گئی ہے۔ قائدِاعظم فرقہ واریت، صوبائیت اور لسانی تعصب کے سخت مخالف تھے اور پاکستان کو ایک متحدہ قوم دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں تمام شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا عقیدے سے ہو، ریاست کے سامنے برابر ہیں اور انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ ان کا ماننا تھا کہ فرقہ واریت ملک کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان کے دور حکومت میں 2021ء میں کے پی کے میں امام مسجد کی تنخواہوں کا آغاز کیا گیا۔ پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے بھی کچھ عرصہ پہلے پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لئے وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان کا تھا اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ حکومت پنجاب نے آئمہ کرام کی ضروریات پوری کرنے کے لہے بھی باقاعدہ مالی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس دوران سرکاری خطبہ جاری کرنے کو بھی زیر غور لایا گیا تھا لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی مفصل پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس نوع کا سرکاری مذہبی بیانیہ تمام عرب ممالک میں رائج ہے جہاں فرقہ واریت نام کا کوئی ناسور پایا جاتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی طرح مذہب کے نام پر کبھی خود کش بم دھماکوں جیسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔
ممکن ہے کہ اس نوع کے دہشت گردی کے خودکش حملوں کے پیچھے امریکی مفادات کیلئے پاکستان کی طرف سے لڑی جانے والی جنگیں، افغانستان اور بھارت کی سازشیں وغیرہ کے عوامل شامل ہوں لیکن اس کی تلخ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم عقیدے کی بنیاد پر بطور مسلمان متحد امہ نہیں بن سکے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے مقابلےکے لیئے بارہا عسکری اقدامات اٹھا چکی ہے، آپریشنز ہوئے، دہشت گرد مارے گئے اور نیٹ ورکس توڑے گئے لیکن نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری یہ دہشت گردی آج بھی جوں کی توں قائم ہے۔ قرآن پاک ایک معصوم جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے تو پھر ایک خودکش مذہبی بمبار بھلا جنت میں کیوں کر جا سکتا ہے۔ یہ صرف مذہبی انتہاء پسندی ہے جو دہشت گردوں کی "برین واشنگ” کر کے انہیں یہ اقدامات اٹھانے پر قائل کر لیتی ہے۔ دہشتگردی کا یہ ملک گیر سنگین مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہو گا۔ جتنے مرضی نیشنل ایکشن پلان بنا لیں جب تک دین اسلام کے عقائد اور تعلیمات کے مطابق تمام مسالک کو حکومت کے ایک "مشترکہ اسلامی بیانیہ” پر اکٹھا نہیں کیا جاتا ہے، یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاشرے میں مزہب کے نام پر پھیلے ان فرقوں کو اسلام کی من مرضی کی غیر منطقی اور غیر سائنسی تعبیر پیش کرنے کی اجازت دینا اسلام کو ریاستی سطح پر واقعی "آوٹ سورس” کرنے کے مترادف ہے۔ دین اسلام کو فرقہ پرستوں کے حوالے کرنا اسلام کی روح کو مسخ کرنے جیسا عمل ہے۔ اگر پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان بھی واضح طور پر کہتا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، جس کو قرآن و سنت کے مطابق چلایا جانا چاہیئے تو پھر عملی طور پر ریاست نے ہمیشہ سے دین اسلام سے یہ دوری کیوں قائم کر رکھی ہے؟ اس خلا کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف خودکش دہشت گردی نے جنم لیا ہے بلکہ اس سے پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے پر بھی زور دیا جاتا رہا ہے یعنی لبرل بننے کے چکر میں اسلام ہی کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ یوں دین کی تشریح، تعلیم اور تبلیغ مکمل طور پر انہی گروہوں، فرقوں اور مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی آوٹ سورسنگ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دین اسلام کو ایک تو دنیا سے نکال کر آخرت تک محدود کیا گیا ہے دوسرا اس میں دہشت گردی جیسی لعنت کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ آج اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا دشمن ہے۔ ہر فرقہ دوسرے سے الگ تھلگ ایک اپنا ہی اسلام پیش کرتا ہے، ہر مذہبی گروہ نے اپنے نظریئے کو حق اور باقی سب کو باطل قرار دے رکھا ہے۔ حتی کہ ایک ہی شہر اور گاؤں میں ہر فرقے کی الگ مسجد ہے، یہ فلاں کی مسجد ہے اور وہ فلاں کی ہے، اور بعض فرقے تو اس قدر نفرت سے بھرے ہوئے ہیں کہ دوسرے کی مسجد میں داخل ہونے والے کو دائرہ اسلام ہی سے خارج قرار دینے سے باز نہیں آتے ہیں۔ پاکستان میں کافر کافر کے یہ فتوے کب تک دیئے جاتے رہیں گے؟ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی انتشار اور نفرت کو جنم دیتی ہے بلکہ خودکش دہشت گردی جیسی انتہاپسندی کے لیئے بھی زمین ہموار کرتی ہے۔
اگر ریاست کا اپنا کوئی اسلامی بیانیہ نہیں ہے تو پھر یہ دینی مدارس اور ان کے طلباء ہی وہ کھیپ ہیں جو اس خلا کو یونہی پر کرتے رہیں گے۔ دین اسلام کو اس طرح چوں چوں کا مربہ نہیں بنایا جانا چایئے۔ حکومت اپنے اسلامی بیانیہ کی کوئی رٹ قائم نہیں کرتی تو یہ دہشت گردی پہلے ختم ہوئی اور نہ کبھی آئیندہ ختم ہو گی۔ ہمارے پیارے ملک میں مدت سے جاری دہشت گردی کی فکری جڑیں اسی خلا میں پنپ رہی ہیں جسے ان غیر اسلامی فرقوں کی بجائے حکومت کو پر کرنا چایئے۔ نوجوان نسل کی ذہنی زمین میں ماحول جو بیج بوئے گا وہی پھلے پھولے گا۔ اگر ان کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ریاست کا متفقہ، مستند اور ذمہ دار اسلامی بیانیہ کیا ہے، تو وہ آسانی سے کسی بھی شدت پسند نعرے کے ہتھے چڑھ سکتی ہے۔ انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں، "یہ صرف مدرسوں کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرتی بیانیے کا مسئلہ ہے۔” ریاست کو اپنا اسلامی بیانیہ قائم کرنے کا فریضہ فوری طور پر انجام دینا چایئے۔ "دیر آید درست آید” ریاست کو پاکستان کے قیام اور آئین پاکستان کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چایئے۔ ریاست کا خود کو دینی تعلیم، خطباتِ جمعہ، مدارس، مساجد اور گھروں میں قائم مذہبی نظام سے یوں علیحدہ رکھنے کا چلن درست نہیں ہے، اسے اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا ورنہ معصوم جانوں کا خون یونہی بہتا رہے گا۔
سورہ مائدہ 5:32 میں ارشاد باری تعالی ہے کہ “جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: “مسلمان کا خون، مال اور عزت ایک دوسرے پر حرام ہیں”
(صحیح مسلم)۔ “دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک اس سے ہلکی ہے کہ کسی مسلمان کا خون ناحق بہایا جائے” (سنن نسائی)۔
ایک بار لاہور کے جناح باغ میں ایک جرمن جوڑے سے ملاقات ہوئی۔ یہ سنہ 1984ء کی بات ہے جب ہم ایف سی کالج لاہور کے طالب علم تھے۔ وہ دونوں میاں بیوی واپڈا ہاوس لاہور میں انجینئرز کے طور پر کام کرتے تھے۔ انگریزی بولنے کا نیا نیا شوق تھا، ان سے خوب گپ شپ لگی۔ اتفاق سے وہ قذافی سٹیڈیم کے پاس گلبرگ3 کے جس بنگلے میں رہتے تھے میں اسی روڈ کے اپوزٹ تیسرے گھر میں رہتا تھا جس کے مالک سید مختار شاہ صاحب تھے۔ انہوں نے برطانوی فوج میں کرنل کے طور پر جرمن فوج کے خلاف دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا۔ جب میں نے کرنل صاحب کو اس جرمن جوڑے کی بابت بتایا اور کہا کہ وہ ہمارے ہمسائے میں رہتے ہیں تو اگلے روز انہوں نے ان کو ڈنر پر انوائٹ کر لیا۔ اس رات کھانے کی میز پر جنگ عظیم دوم اور جرمن قوم کے بارے میں بہت ساری معلومات سننے کو ملیں۔
گزشتہ 16سال تک جرمنی کی بلاشرکت غیرے اقتدار میں رہنے والی سابقہ چانسلر انجیلا مرکل کی پارٹی کرسچئن ڈیمو کریٹک یونین (سی ڈی یو) نے انہیں دوبارہ اگلا لیڈر چننے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کی ذاتی جماعت نے سنہ 2017ء کے انتخابات جیتے تھے جس کے بعد وہ چوتھی مرتبہ پھر سے چانسلر منتخب ہو گئی تھیں۔ وہ کافی سالوں تک "انگرکھا” نامی ایک ہی لباس پہنتی رہی تھیں۔ انجیلا کے اس پرانے لباس پر کئی بار تنقید ہوتی رہی۔ حتی کہ پیرس کے میڈیا نے انہیں ایک بدلباس دیہاتی عورت کا نام دیا۔ ایک دفعہ پریس کانفرنس کے دوران تو ایک خاتون صحافی نے ان سے پوچھ ہی لیا تھا کہ، "میڈم چانسلر، آپ پچھلے کئی برسوں سے ایک ہی سوٹ پہنے جا رہی ہیں، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟” اس پر انہوں نے ٹکا سا جواب دیا تھا کہ، "میں سرکاری نوکر ہوں، کوئی ماڈل نہیں ہوں”. جس قومی لیڈر کو اپنی ایماندارانہ ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے وہ قوم کا پیسہ قوم پر ہی خرچ کرتا ہے۔
انجیلا مرکل مشرقی جرمنی کے ایک پادری کی بیٹی ہیں، انہوں نے کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز ایک سائنس دان کے طور پر کیا اور بعد میں وہ سیاست میں آ گئیں۔15جنوری 2021 ء کے دن جرمنوں نے وہ کیا جس کی توقع ان سے کم کی جاتی ہے۔ جرمنوں کو دنیا ٹھنڈی اور روکھی قوم کے طور پر جانتی ہے لیکن اس دن جرمن ممبران اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے اور زوردار تالیاں بجانے لگے، یہ تالیاں 6 منٹ تک بجتی رہیں اور گیلری میں بیٹھے بہت سے لوگوں کے چہرے جذبات کی تپش سے گل و گلنار ہو گئے اور بہتوں کی آنکھوں سے تو آنسو بہہ نکلے. 8 کروڑ جرمنوں کی قائد اور دنیا کی سب سے طاقتور خاتون رہنما انجیلا مرکل کی کل کمائی یہی تالیاں تھیں. انہوں نے 16سال کی حکومت میں صرف یہی ستائش اور عزت کمائی۔ ان کی قیادت اور اختیار کے ان تمام برسوں میں کوئی مالیاتی سکینڈل نہیں بنا۔ دنیا کی سب سے بڑی مالی قوتوں میں سے چار ہزار ارب ڈالر جی ڈی پی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی انجیلا نے کوئی بندر بانٹ نہیں کی، ان کا نام کسی "پانامہ سکینڈل” میں نہیں آیا. انہون نے کوئی پلاٹ الاٹ کروایا اور نہ ہی کوئی پرمٹ جاری کیا. انہوں نے کوئی رولز رائس خریدی اور نہ ہی کسی سوس بنک میں کوئی اکاؤنٹ کھلوایا۔ انہوں نے کوئی بھاشن نہیں دیئے، تصویریں کیھنچوانے کے لئے کوئی پوز نہیں بنایا. انہوں نے اپنے نام کے ساتھ "خادم اعلیٰ” نہیں لگایا، اور انہوں نے نیا جرمنی بنانے کا کوئی وعدہ نہیں کیا لیکن انہوں نے خاموشی اور سادگی کے ساتھ اقتدار کے اپنے سولہ سالوں میں تقریباً پندرہ سو ارب ڈالرز کے جی ڈی پی میں اضافہ کیا، اپنا کام کیا اور جرمن قوم کے دلوں میں اعلی پائے کے لیڈر کا مقام بنایا۔ انجیلا مرکل نے قرآن پاک نذر آتش کرنے کے تحریک کی شدید مذمت کی تھی، جس پر ان کے خلاف یورپ میں بہت تنقید ہوئی تھی. ترکی کے دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا، "اسلام اور جرمنی ایک ہیں،” جس پر یورپ میں طوفان برپا ہو گیا تھا۔ شام کی خانہ جنگی کےدوران جب مسلم ملکوں نے شامیوں پر دروازے بند کر دیئے تھے تو یہ انجیلا مرکل تھیں جنہوں نے لاکھوں شامی خاندان جو بحیرہ روم کی بےرحم لہروں میں کود کر سلامتی کی تلاش میں نکلے تو انہوں نے پورے 10 لاکھ یعنی ایک ملین مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دی تھی اور شدید مخالفت کے باوجود انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا تھا۔
ایک دفعہ انجیلا مرکل سے ایک اور پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ، "تمہارے گھر میں کتنی خادمائیں ہیں اور آپ کے گھر کا کھانا کون پکاتا ہے؟” انہوں نے جواب دیا تھا "میرے پاس کوئی خادمہ نہیں ہے. نہ ہی مجھے ضرورت پڑتی ہے. میں اور میرا شوہر مل کر سارا کام نپٹا لیتے ہیں”. ایک اور صحافی نے مزید تجسس کا اظہار کیا.” کپڑے کون دھوتا ہےآپ یا آپ کے شوہر؟” انہوں نے جواب دیا تھا "میں کپڑے جمع کر کے واشنگ مشین میں ڈالتی ہوں اور میرا شوہر مشین چلاتا ہے. ہم دونوں کوشش کرتے ہیں کہ یہ کام رات کو بغیر کسی شور شرابے کے کریں تاکہ ہمارے پڑوسی پریشان نہ ہوں”۔ پھر انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر اضافہ کیا تھا کہ، "میرا خیال ہے تم لوگ میری حکومت کی کارکردگی پر توجہ دو تو زیادہ بہتر ہے”.
انجیلا مرکل جرمنی برلن کے ایک عام سے فلیٹ میں پچھلے بیس برس سے رہ رہی ہیں۔ اقتدار کے ان تمام برسوں میں بھی ان کا پتہ نہیں بدلا ہے۔ وہ کسی ولا میں منتقل نہیں ہوئیں نہ ہی کسی سوئمنگ پول اور باغ والے گھر کی مالکن بنی ہیں۔ وہ حکمران بھی اسی فلیٹ سے بنیں اور ان کی واپسی بھی اسی فلیٹ میں ہوئی. پچھلے 20 برسوں میں انجیلا کی ٹکر کا کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو نعرے اور بڑھکیں مارے بغیر کچھ لوٹایا ہو. اس سے پہلے میں نے مونیکا رٹر نامی جرمن خاتون پر کالم لکھا تھا۔ آج جب انجیلا مرکل کے بارے پڑھ رہا تھا تو لاہور میں جرمن جوڑے سے ملاقات یاد آ گئی کہ حقیقی عزت و احترام کے قابل وہی اقوام اور لیڈر ہوتے ہیں جو سادہ طرز زندگی اپناتے ہیں اور ذاتی مفادات حاصل کرنے کی بجائے ملک کے سارے ذرائع کو قوم کی خدمت کے لیئے استعمال کرتے ہیں۔ نازی ہٹلر بھی جرمن حکمران تھا جس کے طرز زندگی اور غرور نے اسے جنگ عظیم دوم میں شکست دو چار کیا۔ یہ فقید المثال طرز زندگی اور حکمرانی کا طریق سب سے پہلی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہما نے اپنایا تھا جن کی بدولت آدھی سے زیادہ دنیا پر مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہو گئی تھی۔
اب یہ طرز زندگی اور حکمرانی مغربی ممالک کے لیڈران اپناتے ہیں جو مسلم ممالک سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک دفعہ سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کے بیٹے کے بارے میں بھی پڑھا تھا کہ 10ڈاوننگ سٹریٹ میں منتقل ہونے کے لیئے ان کا ایک بیٹا وزنی بیگ کھینچ رہا تھا تو گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ یہ اظہاریہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے رہنما دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں اور اکثر ممالک کے لیڈرز کی ذاتی زندگی اور طرز حکومت کے بارے میں بھی اچھی طرح آگاہ ہیں لیکن وہ انجیلا مرکل جیسی خوبیوں کو نہیں اپناتے ہیں حالانکہ عملی زندگی اور حکمرانی کے اوصاف کا اعلی نمونہ تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین جیسی عظیم ہستیوں کی زندگیاں اور تعلیمات ہیں۔