Tag: قرآن

  • الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    Dubai Naama

    ایک ایسا شخص جو نہ تو خدا کا قائل ہو اور نہ ہی اس کی صفات کو مانتا ہو ملحد یا دہریہ کہلاتا ہے۔ اس نظریہ حیات کو ماننے والے لوگ عموماً مادے کو غیر فانی اور متشکل تسلیم کرتے ہیں۔ اس کو سائنسی "قانون بقائے مادہ” نے بھی فروغ دیا جس کو 1789ء میں انتھونی لیووزئیر نے پیش کیا تھا، جس کے مطابق ایک کیمیائی عمل میں مادے یا حرارت کو پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فنا کیا جا سکتا یے مگر انہیں مختلف شکلوں میں تبدیل ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس سائنسی قانون کی روشنی میں زمانہ ازلی اور ابدی ہے اور اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہو گی جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس فلسفہ زندگی کو ماننے والے لوگ آخرت کے تصور یا حیات بعد از موت کو ماننے سے انکاری ہیں۔

    دراصل دہریت یا الحاد ایک مضبوط ترین سائنسی نظریہ حیات ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ افسوس ہے کہ اسلامسٹ جو معقولات کو محسوسات پر ترجیح دیتے ہیں وہ خود بھی دہریت اور الحاد کے پھیلنے کا باعث بن رہے ہیں۔ جدید سائنسی علوم سریعا کائنات اور زندگی کو تجربے اور قوانین کی بنیاد پر پرکھنے کے حاضرہ علوم ہیں۔ ممکن ہے کل کلاں سائنس سے کچھ بڑے علوم ایجاد ہو جائیں تو کائنات اور زندگی کی ساری تشریحات کو ازسر نو مرتب کرنا پڑے، مگر سردست سائنسی علوم ہی زندگی اور مابعد زندگی کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہیں۔

    اسلام ایک عالمگیر نظریہ حیات یے جو انسان کی تقدیر عمل صالح کی صورت میں انسان ہی کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ دہریت اور الحاد کو اسلام کے مدمقابل نظام کے طور پر متعارف کروانا انتہائی خطرناک مسئلہ ہے جو کہ خدا کی ذات والا کے بارے ہے کہ کائنات کا خالق اور اسے چلانے والا خدا موجود بھی یے یا نہیں ہے۔ کاش ہمیں احساس ہو جائے کہ ہماری اگلی نسلوں کے لئے دہریت سے بڑا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔

    یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خلاف قرآن و سنت روایات دہریت کا ہمارے بچوں کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔ اگر ہم نے قرآن اور اسلام کو جدید علوم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہ کی تو سائنسی ترقی اور نئے نظام تعلیم نے "دہریت” و "الحاد” میں اتنی طاقت بھر دی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ مسلم تہذیب ہی کو ہڑپ کر رہے ہیں۔

    ہمارے عہد کے مسلم مفکرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان سائنسی علوم کی روشنی میں قرآن اور اسلام کے نظریہ حیات کو سمجھنے کی بجائے سرے سے اسلام اور سائنس ہی کو ایک دوسرے کے مخالف یا متضاد علوم سمجھتے ہیں جس کا فائدہ الحاد اور دہریت پر یقین رکھنے والوں کو ہو رہا ہے کہ جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے دنیا میں ملحدین اور دہریوں کی نہ صرف تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ جدید سائنسی علوم پر دسترس رکھنے کی وجہ سے وہ دن بدن مزید طاقتور بھی ہو رہے ہیں۔

    الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    اس بنیادی مسئلے کو سمجھنے کے لیئے یہ جاننا ضروری ہے کہ الحاد یا دہریت کے ماننے والے خدا یا خالق کائنات کے وجود کا انکار کر کے زندگی کے تمام تقاضوں اور مسائل کو حل کرنے کے لیئے انسان کی حاصلہ طاقت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ مسلمان اور کچھ دیگر پسماندہ اہل مذاہب اسے تقدیر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک غیر منطقی سوچ ہے کیونکہ "خدا” اور "تقدیر” پر ایمان رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کائنات میں انسانی عظمت کی برتری کو قائم کرنے کے لیئے انسان کے اختیار اور ارادے کو سرے ہی سے نظر انداز کر دیا جائے۔

    اس لحاظ سے دہریت اور الحاد ایک قسم کا زہر ہے جو مسلم طلباء کے اذہان میں سائنسی علوم میں کم یا عدم دلچسپی کی وجہ سے داخل ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایک تو دنیا بھر کے مسلمان سائنس اور جدید علوم کے حصول میں پیچھے رہ گئے ہیں دوسرا وہ اس دہرے اور تذبذب پر مبنی "مائنڈ سیٹ” کی وجہ سے اسلام پر مکمل عمل کر کے ایک احسن انسانی معاشرہ بھی قائم نہیں کر سکے ہیں کہ دنیا مسلمانوں کی "شدت پسندی” کو نظر انداز کر کے ان کی طرف متوجہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت خود مسلمان ممالک الحاد اور دہریت کے حامل اہل مغرب کے معاشروں میں ضم ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں اہل ثروت مسلمان مغربی ممالک کو ہجرت کرتے ہیں یا خود اپنے مشرقی معاشروں میں مغربی تہذیب کے پھیلنے کا رستہ ہموار کر رہے ہیں۔

    قرآن و سنت کی روشنی میں دہرہت و الحاد کا مقابلہ فقط جدید علوم کے حصول میں پوشیدہ ہے کیونکہ ایمان بالغیب کو عقل، فلسفہ اور منطق کی رو سے تلاش کرنے کا واحد حل قرآن کو جدید علوم کی روشنی میں سمجھنے سے وابستہ ہے ورنہ ایمان بھی ایمان نہیں رہتا کیونکہ ایمان بالغیب ایک فضیلت ہے جس کو حاصل ہے وہ خوش نصیب ہے اور جو محروم ہے اسے جدید سائنسی علوم کو حاصل کیئے بغیر ہم گھول کر پلا نہیں سکتے کیونکہ دین کا فقط ان علوم کی روشنی میں ابلاغ ہی کیا جا سکتا ہے۔

    "الحاد” کا لفظ عربی زبان کے لفظ "لحد” سے اِسمِ صفت کے طور پر نکلا ہے جس کے لغوی معنی "ایک طرف ہو جانے” یا "چھوڑ دینے” کے ہیں۔ انگریزی زبان میں اسے Unorthodoxy سے تعبیر کیا جا سکتا ہے یعنی اس کے معنی قدامت پرستی کو ترک کر دینے کے ہیں۔ جبکہ اسلامی اصطلاح میں "اِلحاد” کسی شخص یا گروہ کے معروف اور مروّج مذہبی روش سے کنارہ کر لینے کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ معروف اور مروّج مذہبی روش سے مراد وہ مسالکِ اسلامیہ ہیں جو عام مسلّمات کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں جیسا کہ اہلِ سنت، اثنا عشریہ، خارجیت، سلفیت اور ظاہریت وغیرہ ہیں۔

    اِلحاد کو لغوی یا اصطلاحی اعتبار سے انگریزی زبان کی اصطلاح Atheism سے نہیں جوڑا جا سکتا چنانچہ اِس کے لیے ایک الگ سے اسلامی اصطلاح "دہریت” موجود ہے۔ یہ اِلحاد اور دہریت میں جوہری فرق ہے جسے سائنسی علوم کو حاصل کیئے بغیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا ہے۔

  • ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    Dubai Naama

ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    گزشتہ روز ناسا کے امریکی سائنس دانوں نے کائنات کی سب سے دور افتادہ کہکشاں دریافت کی۔ اس قدیم ترین فلکی کہکشاں کا نام "جیڈز جی ایس زیڈ ون فور زیرو” JADES-GS-Z14-0 رکھا گیا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے عظیم سائنسدانوں نے یہ کارنامہ "جیمز ویب اسپیس” نامی ٹیلی اسکوپ کے ذریعے انجام دیا جس کے کام میں خلا میں کائنات کے موجودات کی ابتداء اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار وغیرہ کے بارے میں کھوج لگانا شامل ہے۔ قرآن پاک میں کائنات کے انہی سربستہ رازوں اور زندگی کے بارے غور و فکر اور اسے عملی جامہ پہنانے کا کم و بیش 765 مرتبہ ذکر آیا ہے۔ ان عنوانات میں کائنات کی پیدائش، ستاروں کی گردش، آسمانی ستون اور زندگی کے مختلف مراحل سرفہرست ہیں۔

    ایک تخمینے کے مطابق اس کہکشاں کا قیام "بگ بینگ” کے 29 کروڑ سال بعد عمل میں آیا تھا۔ 13اشاریہ 8ارب سال قبل کائنات کی ابتداء میں تشکیل پانے والی اس کہکشاں کی چند منفرد خصوصیات بھی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیں۔ اس کہکشاں کو کائنات کا قدیم ترین اور بہت بڑا بلیک ہول بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کہکشاں بہت بڑی ہے اور 1600 نوری برسوں کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ یہ کہکشاں بہت زیادہ روشن بھی ہے۔ حالانکہ بلیک ہولز کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ ان کے احاطہ یعنی ایونٹ ہوریزون Event Horizon سے 3لاکھ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑنے والی روشنی بھی بچ کر نہیں نکل سکتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا راز ہے جو اس کہکشاں سے خارج ہونے والی روشنی سے عیاں ہوتا ہے۔ جیمز ویب کے مڈ انفراریڈ انسٹرومنٹ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کہکشاں کی روشنی سے آئیونائزڈ ionized گیس کے اخراج کا عندیہ بھی ملتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی خود کو کائنات (اور آسمانوں) کا نور کہتا ہے یعنی اللہ تبارک و تعالی کی ذات "نور السماوات والارض” ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ گیس ہائیڈروجن اور آکسیجن کا امتزاج ہو سکتی ہے جو کہ ایک حیران کن ترین دریافت ہے، کیونکہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کی ابتدا میں آکسیجن موجود نہیں تھی۔

    اس حوالے سے ہونے والی تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ تمام تر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں دیگر کہکشاؤں جیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا امکان ہے کہ مستقبل میں اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ماہرین ایسی مزید روشن کہکشاؤں کو دریافت کر سکیں گے جو اس سے بھی زیادہ قدیم ہوں۔

    اس سے قبل جیمز ویب اسپیس نے کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول بھی دریافت کیا تھا۔ نومبر 2023ء میں ناسا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس بلیک ہول کے بارے میں بتایا گیا تھا یہ بگ بینگ کے 47 کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر کائنات کے برابر تقریبا 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔ اس بلیک ہول کو "یو ایچ زیڈ ون” UHZ1 نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے۔

    کائنات کے انہی رازوں کو دریافت کرنے کی بناء پر انسان جدید ترین سائنسی ایجادات اور سہولیات سے بہرہ ور ہو رہا ہے اور جن کے بل بوتے پر وہ دوسرے ستاروں پر انسانی آبادیاں قائم کرنے کا خواب بھی دیکھ رہا ہے۔ لیکن صد افسوس ہے کہ کائنات کی دریافت کا یہ سارا مقدس کام غیرمسلم کر رہے ہیں۔ قرآن پاک کے مطابق اللہ تعالی کو کائنات کا نور بابرکات کہا گیا ہے تو مسلمان اس انتہائی اہم فریضہ کی ادائیگی سے کیوں غافل ہیں؟ اگر قرآن پاک کے ان احکامات کو مسلمان بھی اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو ان میں بھی اہل مغرب کی طرح انقلاب آ سکتا ہے۔

    رب کریم کتاب مبین میں ارشاد فرماتا ہے

    وَ سَخَّرَلَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ.

    ’’اور اُس نے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اپنی طرف سے (نظام کے تحت) مسخر کر دیا ہے۔‘‘

    (الجاثیة، 45: 13)

    یعنی کائنات کو تمہارے (انسان)کے لئے بنایا گیا ہے اور تمہارے تابع کر دیا گیا ہے لیکن ایسا نہیں کہ تم اٹھو اور ہر چیز تمہاری جھولی میں آجائے، درحقیقت تمہارے اندر وہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے جس سے تم اس کائنات کو تسخیر کر سکتے ہو ۔ اب اس صلاحیت کو علم و عمل سے کام میں لاتے ہوئے کائنات پر حکمرانی کرنا تمہارا کام ہے۔

    اسی فلسفے کو علامہ اقبال ؒ نے جواب شکوہ میں اس طرح بیان کیا تھا

    کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
    ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

    Title Image by sun jib from Pixabay

  • ہمارا زوال

    ہمارا زوال

    ہمارا زوال


    کالم نگار:۔ مظہر علی خان کھٹڑ

    آج اگر ہم کو اپنے وطن میں سب سے زیادہ ہجوم نظر آ رہا ہے تو وہ تین جگہوں پر نظر آ رہا ہے
    آٹا لینے والی قطاروں میں
    ہسپتالوں میں
    عاملوں کے آستانوں پر
    میں ساتھ یہ بھی عرض کر دوں کہ یہاں عاملوں کے آستانوں سے مراد جعلی پیر ہیں
    میں اللہ کے ولیوں کا منکر نہیں میں خود اللہ کے نیک بندوں کے مزارات پر جاتا ہوں اللہ والوں کے پاس دعا کے لیے بیٹھ جاتا ہوں مگر جادو ٹونے والے عاملوں کے آستانوں پر نہیں جاتا
    تو میں بات ہجوم کی کر رہا تھا کہ ان تین جگہ پر سب سے زیادہ ہجوم نظر آتا ہے کیا اس ہجوم کی وجہ جاننے کی ہم نے کبھی کوشش کی ہے کیوں کہ آج سے تقریباً تیس سال پیچھے چلیں جائیں تو مزارات پر ہجوم ہوتا تھا مگر یہ آٹے کی لیے قطاریں نہیں ہوتی تھیں

    ہمارا زوال


    ہسپتالوں میں ڈاکٹر بیٹھے مریضوں کا انتظار کر رہے ہوتے تھے مگر آج ایسا نہیں ہے یہ کیوں ہو رہا ہے آئیں اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں دوستو مجھے اس کی جو بنیادی وجہ نظر آ رہی ہے وہ اپنے رحیم و کریم رب سے دوری ہے ہم نے اپنے رب کو یاد کرنا چھوڑ دیا ہے ہم نے اپنے رب کے ذکر سے رخ موڑ لیے ہیں اور آج ہم مہنگائی کی چکی میں پستے جا رہے ہیں اور طرح طرح کی بیماریوں نے ہمیں اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے جب بیماری آتی ہے دوا کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے ہم عاملوں کے پاس دوڑ پڑتے ہیں وہ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ پر کسی نے کالا جادو کر دیا ہے آپ پر جنات کا سایہ ہے وہ ہمیں شف شف کر کے جو ہمارے پاس تھوڑی بہت بچی کچی رقم ہوتی ہے بٹور لیتے ہیں حالانکہ ایسی حالت میں بھی ہمیں خدا یاد نہیں آتا ہم سارا سارا دن آٹے کی لائن میں دھکے کھا رہے ہوتے ہیں لائن میں کھڑے کھڑے نماز قضا کر دیتے ہیں بتائیے کیا اس طرح مسائل حل ہو جائیں گے نہیں نہیں اس طرح کبھی مسائل حل نہیں ہونگے ہر مسئلے کا حل اللہ پاک کی پاک کتاب میں بیاں کر دیا گیا ہے اللہ پاک کی پیاری کتاب قرآن مجید کی تلاوت کریں ترجمہ اور تشریح کے ساتھ قرآن پاک کو پڑھیں اور اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ کامیابی اللہ پاک کے ذکر اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے پر چلنے میں ہے


    آئیے ہم سب اپنے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں وہ غفور و رحیم ہے وہ ضرور ہمیں معاف کر دے گا اپنے رب سے سچی توبہ کریں اور پنجگانہ نماز کی پابندی کریں اور نماز تہجد ادا کر کے اپنے لیے اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے لیے اور وطن عزیز کے لیے دعا مانگیں اللہ پاک ہم پر رحم فرما دے گا تہجد گزاری پر سید حبدار قاٸم نے اپنی کتاب ”نماز شب “ کے صفحہ نمبر 114 پر بہت خوبصورت مضمون لکھا ہے ملاحظہ کیجیے

    ” اللہ کا ذکر دل کا سکون ہے
    امام جعفر صادق ؑ کے منور ارشادات نمازِ شب کی ترغیب دلاتے ہیں کیونکہ نماز شب سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور دلوں کا زنگ دور کرنے کے لیے رات کے پچھلے پہر اللہ کا ذکر کرنا اکسیر ہے۔ اور جو لوگ اپنے دلوں کو رات کے ستاروں کی حسیں ٹمٹماہٹ کے سنگ انوارِ خدا وندی کا خزینہ بناتے ہیں ۔ ان کے دل اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہتے۔ اور ان کے دل کو اللہ رب العزت اپنی رحمتوں سے سکون آمیز بنا دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ فرحت محسوس کرتے ہیں ۔
    سورہ الرعد کی آیت نمبر 28 میں ارشاد باری تعالٰی ہے۔
    الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
    یعنی بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔
    اللہ تعالی تہجد گزار کا سینہ اپنے مقدس انوار سے بھر دیتا ہے۔ اور اس کی روح کو پاکیزگی کے اعلٰی مدارج پر فائز کر دیتا ہے ایسا انسان جب بھی بولتا ہے تو اس کی پاک زبان سے پھول جھڑتے ہیں ۔ اس کے حسن بیان سے کلیاں نکھرتی ہیں غنچے رقص کرتے ہیں اور اسکی شخصیت اللہ کے رنگ میں رنگی جاتی ہے ۔ اس کی زیست کی ساری ترجیحات معمولات اور پسند و نا پسند خوشنودی ٕ رب العزت کے حوالے سے ترغیب پا کر معراجِ بندگی حاصل کرتی ہیں۔ کیونکہ اسکی محبت کا معیار بلندیوں کو چھوکر اس کو اس مقام پر لے آتا ہے جسکا ذکر قرآن حکیم کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 162 میں اللہ رب العزت یوں بیاں فرماتا ہے: ۔
    قل ان صلاتی و نسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین۔
    آپ کہہ دیں کہ بلاشبہ میری نماز ،میری قربانی،میرا چلنا،اور میرا مرنا یہ سب اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔
    یہی معیارِ تقوٰی ہے اور نمازِِ شب کا یہ اعجاز ہے کہ انسان اپنی خواہشاتِ نفسانی کو ختم کر کے اعمالِ صالح کی جانب رواں دواں ہوتا ہے۔ اپنے ہر عمل کا محاسبہ کرتا ہے ۔ اور آرائشِ عمل و انکساری کے لیے اپنے دل میں تقوٰی کی حقیقی صورت اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ خداوند قدوس کے حضور جواب دہی کا احساس دراصل تقوٰی کی ہی اساس ہے۔ جو لوگ خوف سے دامن گیر ہوکر خدا وند عالم کے حضور راتوں کو قیام کرتے ہیں۔ اور تسبیح و تہلیل میں اپنی زندگی کی ساعتیں گزارتے ہیں ۔ خدا وند تعالٰی ان سے جنت میں انعام و اکرام کا وعدہ کرتا ہے۔ ان لوگوں کے دل ہی سکون کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔“

    سید حبدار قاٸم کے اس مضمون کو پڑھ کر مجھے بہت سکون ملا ہے اگر ہمیں زوال سے بچنا ہے تو ہمیں اللہ سے لو لگانی ہو گی عمل کرنا ہو گا کیوں کہ عمل کرنے سے زوال عروج میں بدل جاتا ہے عمل سے قوم مردہ دلی سے نکل کر زندہ دلی کا مظہر بن جاتی ہے تو کوٸی ہے جو فکر کرے اور عمل کر کے زوال سے نجات حاصل کرے۔

  • علمی معراج

    علمی معراج

    علمی معراج

    Dubai Naama

علمی معراج

    کسی بھی نظریئے اور فلسفے کو آخری سچائی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ بے جان چیزیں مسلسل بدلتی ہیں اور جاندار چیزیں بدستور ارتقاء سے گزرتی ہیں۔

    فطری اصولوں کے مطابق دنیا میں صرف وہی اقوام ترقی اور نشوونما کر سکتی ہیں جو فطرت کے اصولوں کی پابندی کرتی ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی نوع اپنے ماحول سے جتنی موافقت و مناسبت رکھتی یے وہ اپنی بقا کے لیئے اتنی ہی زیادہ موزوں قرار پاتی ہے۔ ڈاروان کا ‘نظریہ ارتقاء’ بھی اپنی اسی موزونیت کی وجہ سے آج تک زندہ ہے کہ یہ نظریہ جانداروں کی بقا کی جدوجہد؍ مسلسل کی تشریح کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ دیگر جانداروں سے اپنی زندگی کی جنگ جیتنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

    ‘نیچرل سیلیکشن’ کے مطابق بھی کوئی نوع دوسری انواع کے مقابلے میں زیادہ دیر اس وجہ سے زندہ نہیں بچتی ہے کہ وہ ان سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے بلکہ وہ اس بنیاد پر تادیر قائم رہتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے زیادہ سے زیادہ مطابقت اختیار کر لیتی ہے۔ ارتقاء کے اس اصول کو انگریزی زبان میں "Survival of the fittest” کہا جاتا ہے یعنی یہ قانون قدرت ہے کہ ایک جاندار مخلوق کو زندہ رہنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیئے وہی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں جو اس ماحول میں زندہ رہنے کی اصل اور فطری ضرورت ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت کے لیئے ماحولیاتی ہم آہنگی اور مطابقت کے لیئے نظریہ ارتقاء میں انواع کی ایسی جسمانی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی مثالیں پیش کی گئی ہیں جن کی بنیاد پر انواع میں ان کی رنگت سے لے کر جسمانی اعضاء تک میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو سائنسی طور پر مصدقہ ہیں۔

    مغربی معاشروں کی ترقی کا راز بھی انہی ارتقائی اصولوں پر استوار ہے کہ افراد اور معاشرے تو کیا کائنات کی کوئی بھی مخلوق اگر حرکت، تبدیلی اور ارتقاء کے اس عمل سے نہ گزرے تو دوسری بے جان چیزوں کی طرح وہ بھی پتھر کی ہو جاتی ہے۔ ارتقاء کا یہ عمل جاندار اور بے جان چیزوں کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے یعنی کائناتی حرکیات اور تبدیلی کے پراسیس کو جھٹلایا جانا کسی صورت ممکن نہیں ہے کہ، "ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں”۔ ایک فرد ہو، معاشرہ ہو یا پوری قوم ہو ان سب کی سچی ترقی کا راز تحقیق، ارتقاء اور امکانات کی دنیا کو دریافت کرنے میں مضمر ہے۔ سائنس کا قانونِ امکانیت (Law of Probability) اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ سب اٹامک یا آزاد سطح پر الیکٹرانز کی حرکات میں سمت اور پوزیشن کا بیک وقت درست تعین کرنا ناممکن ہے۔ لھذا اگر ہم ذات باری تعالی کے سوا کسی شے کے ایک ہی وقت میں سو فیصد درست اور صحیح ہونے پر اصرار کریں گے تو کسی نہ کسی مقام پر وہ چیز ارتقائی قوانین کے لحاظ سے ضرور غلط ثابت ہو جائے گی۔

    یہ ایک اصول ہے کہ ترقی کا ہم جتنا وثوق حاصل کرتے ہیں آگے چل کر ہم اتنا ہی بے وثوق ہو جاتے ہیں۔ حتمی یقینیت صرف ایک ذہنی مائنڈ سیٹ ہے جو انسان کو بے خوف کر کے اعتماد تو پیدا کرتی ہے مگر اس کا حتمی سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ حتمیت علمی ارتقاء کا ایک بتدریج عمل ہے۔

    یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ سچائی کے کھوج میں نئی سچائیاں دریافت ہوتی ہیں جو انسان کو مائل بعمل رکھتی ہیں اور اس کا شوق و تجسس ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ یوں اصولا ہمیں چایئے کہ زندگی کے ہر معاملے میں ہم "حتمیت” پر بضد رہنے کی بجائے مزید معلومات حاصل کرنے کی گنجائش باقی رکھیں۔ یہ زندگی میں علمی معراج پر پہنچنے کا واحد زریعہ ہے کہ ہم جتنا زیادہ جاننے کی کوشش کریں گے ہم اپنے اندر اتنی ہی زیادہ کمی اور پیاس محسوس کریں گے۔ علم کا تو اعجاز ہی یہ ہے کہ وہ علم کی دریافت سے پہلے جہالت کی دریافت کرتا ہے۔ ایک جاہل اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا کہ وہ کتنا جاہل ہے کیونکہ وہ صرف اس بات پر دھیان دیتا ہے کہ اس نے سب کچھ جان لیا ہے اور دریافت کرنے کے لیئے باقی کچھ نہیں بچا ہے۔

    اس کے برعکس اپنی علمی کمی کو مکمل کرنے کی جستجو کو قائم رکھنا تسلیم و رضا اور فہم و فراست کا مظہر ہے کیونکہ یہ ایک طرح کا احساس نادانی ہوتا ہے جو فہم و فراست کے حامل انسان کے اندر جستجو کو مزید بڑھاتا ہے جس سے اس کے اندر عاجزی و انکسار بھی پیدا ہوتی ہے یعنی ایسی تمنا اچھی اخلاقی اقدار کو مہمیز دیتی ہے۔

    واقعہ معراج کے بارے ایک عاشق رسول ﷺ، محمد غلام رسول کنگوہی فرماتے ہیں کہ: "خدا کی قسم محمد عربی ﷺ معراج پر گئے اور امت کو ساتھ لے جانے کے لیئے واپس زمین پر لوٹ آئے مگر میں اس علمی معراج پر جاتا تو کبھی واپس نہ پلٹتا”۔ یہ ایک نبی ﷺ اور امتی کی شان کا فرق ہے کہ نبی ﷺ ایسے علمی درجات کی بلندیوں پر امت کے بغیر اکیلے تشریف نہیں لے جاتے ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ رب العزت خود کو "نورالسموات و الارض” قرار دیتے ہیں۔ معراج النبی ﷺ کا ایک پہلو اللہ تعالٰی کے وصل کو حاصل کرنے کے لیئے ان علمی مقامات کو طے کرنا ہے جو کائنات در کائنات پھیلے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں واقعہ معراج ﷺ ہی کے حوالے سے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

    سبق مِلا ہے یہ معراجِ مصطفیٰؐ سے مجھے
    کہ عالمِ بشَرِیّت کی زد میں ہے گردوں

    ایک دفعہ برطانیہ کے مشہور فلسفی اور پارلیمنٹیرئین برٹرینڈر رسل سے کسی صحافی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ اپنے نظریات و خیالات کی سچائی کے لیئے جان دے سکتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ "میں اپنے نظریات و خیالات کی خاطر جان نہیں دے سکتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ میرے نظریات اور خیالات غلط ہوں”۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہمارا مذہب ہو، سیاست ہو یا عام معاشرتی رویئے ہوں علمی ارتقاء حاصل کرنے کی بجائے ہم خود کو ہی حتمی سچائی کا منبہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ترقی نہ کرنے کی ایک بنیادی وجہ یہی غیر فطری جاہلانہ سوچ ہے۔

    Title Image by Chen from Pixabay

  • روح کیا چیز ہے، سائنس اور اسلام کی روشنی میں؟

    روح کیا چیز ہے، سائنس اور اسلام کی روشنی میں؟

    روح کیا چیز ہے، سائنس اور اسلام کی روشنی میں؟

    Dubai Naama

روح کیا چیز ہے، سائنس اور اسلام کی روشنی میں؟

    جب خام لوہے کے کسی ٹکڑے کو حصار نما مقناطیس سے رگڑا جاتا ہے تو اس میں بھی مقناطیسی صلاحیت و طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد جب لوہے، پیتل یا تانبے کی بنی ہوئی کسی چیز یا سوئی وغیرہ کو اس ٹکڑے کے پاس لایا جاتا ہے تو وہ بھی مقناطیس کی طرح اسے فورا اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اصل یا مقنائے گئے مقناطیس کے اندر ننگی آنکھ سے نظر نہ آنے والے ایسے زرات یا الیکٹرو میگنیٹک ویوز (Electro Magnetic Waves) وغیرہ ہوتی ہیں جو اس کے گرد ایک موہوم مقناطیسی حلقہ ( Non Visible Magnetic Field) بناتے ہیں اور اس میں جونہی لوہے، پیتل یا تانبے وغیرہ کی کوئی چیز داخل ہوتی ہے تو وہ فورا مقناطیس کے ساتھ چپک جاتی ہے۔ جنرل سائنسی اصولوں کے مطابق بھی ہر بڑا جسم ہر چھوٹے جسم کو اپنی طرف کھنچتا ہے۔ زمین کی کشش ثقل بھی انہی سائنسی اصولوں کے تحت فضا میں سہارے کے بغیر چھوڑی جانے والی ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ویسے تو زمین کی کشش ثقل کی حد بھی کائنات کی عمر کے برابر یعنی 4اعشاریہ 5ارب سال تک یے
    مگر مقناطیس کے فیلڈ کی مانند زمین کی کشش ثقل (Gravitational Pull) بھی خلا میں دو اجسام کے درمیان پائے جانے فاصلے اور کمیت (Distance and Density) کے تناسب کی مساوات F=GMm/r² کے مطابق ایک مخصوص دوری تک زیادہ اثر انداز ہوتی ہے جس کے بعد خلا میں موجود دوسرے ستاروں کی کشش ثقل کی وجہ سے چیزیں خلا میں ہمیشہ کے لیئے ساکن یا حرکت میں رہتی ہیں۔

    پوری کائنات کے اجسام کی اپنے محور اور ستاروں کے گرد حرکات انہی سائنسی اصولوں کے تحت روبعمل ہوتی ہیں جن کو ابتدائے کائنات کے وقت مخصوص کیا گیا تھا جنہیں قوانین فطرت یا فزکس کے قوانین کہا جاتا ہے اور جن کے بغیر کائنات ایک بال برابر بھی سکون یا حرکت میں نہیں رہ سکتی ہے۔

    فزیکل کائنات کے کسی ستارے اور زمین پر زندگی کا آغاز بھی انہی سائنسی اصولوں کے مطابق ہوا جن کی وجہ سے کائنات آج بھی مسلسل کام کر رہی ہے اور جس میں ہر لمحہ "ارتقاء” بھی پیدا ہو رہا ہے۔ ایک لمحہ کے لیئے کائنات کے اس آغاز اور زمین پر زندگی کی شروعات پر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انسانی زندگی بھی کائنات میں اللہ تعالی جیسی عظیم ہستی سے مقنایا گیا وجود ہے جس میں قرآن پاک کے مطابق جان تب ظاہر ہوئی جب اللہ تعالٰی نے مٹی کے جسم میں اپنی روح پھونکی، کچھ عرصہ حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا ؑ جنت میں رہے (جو زمین کے علاوہ کوئی دوسری جگہ یا ستارہ تھا) اور بعد میں انہیں زمین پر منتقل کیا گیا (اب جدید سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہو رہا ہے کہ زمین پر پانی اور زندگی کے آثار دوسرے ستاروں سے دیوقامت برف کے گولوں کی برسات سے نمایاں ہوئے)۔

    انسان کی زندگی کی اس عظیم الشان مقناطیسی نسبت کے بارے میں قاری حنیف ڈار صاحب فرماتے ہیں کہ روح ایک مکمل وجود رکھتی ہے، سوچتی بھی ہے، جسم سے نکلنے کے بعد کلام بھی کرتی ہے اور اس کی یادداشت یعنی میموری بھی قائم رہتی ہے، درد و راحت بھی محسوس کرتی ہے، بھیجی بھی جاتی ہے اور واپس بلا بھی لی جاتی ہے۔ گو کہ روح کی ایسی تفصیل کے لئے قرآن پاک میں کوئ آیت موجود نہیں ہے سوائے کسی آیت کی کوئی تاویل کر لی جائے۔ اس سے قطع نظر لوگ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ، "جب روح ایک مکمل مخلوق ہے تو اسے مادی جسم کی کیا ضرورت تھی؟” سوچنے کی بات ہے کہ جب جنات کو اور فرشتوں کو مادی جسم کی ضرورت نہیں ہے تو پھر روح کو ایک مادی جسم کیوں دیا گیا؟ قرآن فہمی کے دلدادہ حضرات اس کا جواب قران مجید سے درکار کرتے ہیں۔

    اس سوال کا ایک صحیح جواب یہ ہے کہ "روح” ہمارے مادی وجود سے پہلے بھی موجود ہوتی ہے "کما قال تعالی و کنتم امواتا” یعنی روح اور بدن کی جدائی ہی موت ہے مگر ” کنتم” بتا رہا ہے کہ "تھے تم” اسی طرح مرنے کے بعد بھی روح اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ اب اگر انہی سائنس قوانین کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو قانون بقائے مادہ جسے قانون بقائے انرجی (Law of Conservation of Energy) بھی کہا جاتا ہے کے مطابق کائنات میں انرجی کی مقدار ہمیشہ برابر رہتی ہے یعنی مادہ اور انرجی ایک دوسرے میں تبدیل تو ہوتے ہیں مگر ان دونوں کی مقدار کم یا زیادہ نہیں ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے بدن اور روح کا بھی یہی معاملہ ہے کہ بدن اپنی جگہ گلتا یے اور مر بھی جاتا ہے مگر اس کا مادہ روح کی شکل میں ہر حال میں اور ہمیشہ قائم رہتا ہے (اور روح زندگی کے مراحل ہمیشہ طے کرتی رہتی ہے)۔ اس اعتبار سے قرآن پاک موت کو مرنے کے معنوں میں استعمال نہیں کرتا بلکہ قرآن پاک میں یہ ارشاد ہوتا ہے کہ "کل نفس ذائقتہ الموت”۔ اسی لیئے موت کو انتقال سے بھی موسوم کیا جاتا ہے: "کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا، میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا”۔
    کہ موت کے بعد روح کسی اور جہان میں منتقل ہو جاتی ہے یا وہ وہاں واپس چلی جاتی ہے جہاں سے وہ آتی ہے۔

    روح اور جسم دونوں کے ملاپ کو "بعثت” بھی کہا گیا ہے اور روح کے مکالمے اللہ تعالیٰ نے روح نکلنے کے بعد بیان کیئے ہیں جس کا ذکر سورہ العمران اور سورہ یٰسین میں موجود ہے۔

    اگر ہم آسان زبان میں روح کو سمجھنے کی کوشش کریں تو روح (یا زندگی) مادی جسم سے پیدا ہونے والی ترتیب وار انرجی ہے، بقول چکبست برج نرائن کہ: "زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب، موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا”، جسے اپنے محسوسات کے اظہار کے لئے مادی جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرشتے نور یعنی روشنی کی انرجی ہیں اور جنات آگ کی اور چونکہ آگ اور روشنی مادی وجود نہیں رکھتے ہیں اس لئے انہیں اپنے اظہار کے لئے مادی جسم کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے جبرائیل علیہ السلام فرشتے ہیں تو ان کی انرجی روشنی کی انرجی ہے جبکہ مادی اجسام کی انرجی ان کے جسم کا حصہ ہے جیسا کہ روشنی کا مادی جسم نہیں ہے لیکن وجود ہے۔ یہ بحث اس وقت کے فلسفے کا حصہ ہے جب سائنس نے روشنی اور مادے کا باہمی تعلق دریافت نہیں کیا تھا۔ آئن سٹائن کی ماس انرجی ایکویشن E = mc2 کی دریافت کے بعد تو "وحدت الوجود” کی توثیق بھی ہوتی ہے۔ یوں اگر ماس اینڈ انرجی متبدل (Convertible) ہیں تو یہ سائنسی تجربات سے ثابت ہو گیا ہے کہ روح انرجی ہے تو مادہ اس کی شکلوں میں سے ایک شکل ہے۔

    روح کو جدید کوانٹم سائنسی زبان میں "شعور” (Consciousness) کہا جاتا ہے جو اللہ تعالی کا امر ہے مگر یہ سائنس دانوں کے لئے اتنا ہی مشکل اور پیچیدہ سوال ہے (جس پر بات کسی اور کالم میں اٹھا رکھتے ہیں) کہ خود سائنس دان شک و شبہ میں مبتلا ہیں، جن کے بقول شعور ایک پراسرسر چیز یے جس کو ایک کوانٹم سائنس جیسی دوسری پراسرار چیز سے سمجھنا کوئی دانشمندی کا کام نہیں ہے۔

    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

  • سچائی اور دانائی

    سچائی اور دانائی

    سچائی اور دانائی

    Dubai Naama

سچائی اور دانائی

    ایک لکھنے والے کو قارئین کی طرف سے فیڈ بیک ملتا رہتا ہے۔ اس کا ایک بڑا تخلیقی فائدہ یہ ہے کہ مصنف کو اپنی غلطیوں اور کمی بیشی کا احساس کر کے اپنی تحریروں کا معیار بہتر کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ لکھتے وقت مصنف کا ذہن آمد کی ایک خاص کیفیت میں ہوتا ہے۔ اگر آمد کی کمی ہو اور آورد سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو لکھنے والے کا تنقیدی ذہن سو جاتا ہے جس وجہ سے تحریر میں سطحیت پیدا ہو جاتی ہے اور ترتیب و ربط بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک اچھی تحریر اسی وقت لکھی جا سکتی ہے جب آپ کو خیالات کی آمد، ان کی چھانٹی اور انہیں ترتیب دینے پر کنٹرول حاصل ہو۔ لیکن تحریر کو پڑھنے والے قاری کا دماغ ایسے کسی بھی دباو’ سے آزاد ہوتا یے اور وہ ایسی صورت میں لکھنے والے کی بہتر رہنمائی کر سکتا ہے۔ لھذا بڑے سے بڑا دانشور نما مصنف ہو یا مجھ جیسا ایک عام لکھاری ہو وہ کبھی بھی حرف آخر لکھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا دعوی کر سکتا ہے کہ وہ ایک بڑا کالم نگار یا مصنف ہے۔ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ لکھنے والے کو جوں جوں قارئین کی جانب سے تبصرے موصول ہوتے ہیں وہ اسی قدر اپنی توجہ خود کو ایک اچھا لکھاری بنانے کی طرف مبذول کرتا ہے۔

    گزشتہ ایک کالم پر محمد مجاہد نامی ایک کرم فرما نے تبصرہ بھیجا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ، "سچ بولنے سے دور رہو کہیں ان کی نظر میں نہ آ جاؤ۔” یہ نصیحت نما مراسلہ بڑا معنی خیز لگا مگر میں سمجھتا ہوں کہ سچ بولنا ہر لکھنے والے پر دوسرے تمام فرائض سے زیادہ بڑا فرض ہے۔ جب آپ سچ کو چھپائیں گے اور اسے پروان نہیں چڑھنے دیں گے اول یہ قلم اور اپنے ضمیر سے غداری ہو گی اور دوم اس کے مقابلے میں جھوٹ کی مقدار بڑھنا شروع ہو جائے گی اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ کی شکل اختیار کر لے گا۔

    سچائی کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ کڑوی ہوتی ہے اور سچ بولنے والوں کو ہمیشہ خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ اس حوالے سے ایک مصری مفکر کا قول بھی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ، ” موت سچ بولنے والوں کا سائے کی طرح پیچھا کرتی ہے”۔ لیکن میں سچائی کے بارے اس غلط العام تصور سے متفق نہیں ہوں کہ یہ کڑوی ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سرور کونین نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ سچ کون بول سکتا ہے جن کی زبان تاریخ کے کسی بھی دوسرے انسان سے زیادہ شیریں اور نرم تھی۔ لھذا سچ ضرور بولنا چایئے مگر ایسا سچ بولنے کی بجائے خاموشی اختیار کرنی چایئے کہ جس سے دوسروں کو گزند پہنچے، ان کی زندگیاں برباد ہو جائیں یا کسی کے سچ بولنے سے خود سچائی ہی کی توہین ہونے کا امکان ہو۔ ایسے حالات سے بھی پناہ مانگنی چایئے جہاں انسان سچ کو چھپانے پر مجبور ہو کیونکہ سچ کو چھپانا بھی جھوٹ بولنے کے مترادف ہے بلکہ کسی حد تک ایسا رویہ منافقت کے ضمرے میں بھی آتا ہے۔

    قرآن حکیم کے مطابق جھوٹ اور منافقت انسان کے کردار کی بدترین برائیاں ہیں جن کی انتہائی سخت سزا تجویز کی گئی ہے کہ جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں قرآن پاک کا فرمان ہے جس کا ترجمہ ہے کہ، "جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے”۔ یہ قرآن فرقان کے واحد سخت ترین الفاظ ہیں جو جھوٹ بولنے والوں کے خلاف استعمال کیئے گئے ہیں جبکہ باقی سارے قرآن پاک کی زبان نرم اور شیریں ہے اور جہاں سزا اور عذاب کا ذکر بھی آیا ہے وہاں ہر جگہ حکیمانہ انداز اختیار کیا گیا ہے اور اس کے بعد فورا ایمان والوں کا تذکرہ آتا ہے جن کے لیئے رحمت اور بخشش کی وعید دی گئی ہے۔
    جبکہ منافقین کے لیئے تو قرآن پاک علی الاعلانیہ طور پر مشرکین اور کفار سے بھی زیادہ سخت ترین عذاب کا ذکر کرتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے۔

    ایک حدیث شریف ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ "ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے”۔ یہ حدیث شریف عموما اخبارات کی پیشانی پر تحریر ہوتی ہے جو اخبارات کے بیانیہ کی وضاحت کرتی ہے۔ کوئی بھی اخبار ریٹنگ کی خاطر جھوٹ پھیلاتا ہے تو قارئین کو اس کا سختی سے احتساب کرنا چایئے۔ قارئین کی آراء اور رہنمائی ہم لکھنے والوں کے لیئے اس لیئے بھی اہم ہوتی ہیں کہ پرنٹ میڈیا عوام کی ذہن سازی میں دیر پا اثرات کا ایک تحریری ذریعہ ہے اور جہاں ایک لکھنے والا اپنی تحریروں سے دوسروں کی ذہن سازی کرتا ہے اس سے خود اس کی ذہن سازی بھی ہو جاتی ہے۔

    جہاں تک لکھنے والوں پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کا تعلق ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ملک و قوم سے زیادہ لکھنے والوں کی زندگی کی کوئی اہمیت ہے۔ پاکستان لازوال جانی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کی تاریخ کو لکھنے والوں سے زیادہ پاک فوج جانتی ہے جس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ اگر کوئی لکھنے والا قلم کا ناجائز استعمال کرتا ہے اور کچھ شرپسندوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہے تو اس کی سرکوبی ضرور کی جانی چایئے۔ ہمارے کچھ لکھنے والے "مسنگ پرسنز” کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ کچھ لکھنے والے "سستی شہرت” اور "مفادات” سمیٹنے کے لیئے اس میں مبالغہ بھی شامل کر لیتے ہیں۔

    ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے بلکہ خود ان کرپٹ حکمرانوں کی بھی بدقسمتی ہے کہ ان کا تو بیانیہ ہی بلند بانگ مگر جھوٹے وعدوں اور نعروں پر استوار رہا ہے۔ ہم کو مسند اقتدار پر پہنچنے والے جتنے بھی حکمران ملے ہیں انہوں نے اپنے منشور اور بیانات کے مطابق ملک کو چلانے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے۔ ایک ارشاد گرامی ہے کہ "جو ایفائے عہد نہیں نبھاتا وہ ہم میں سے نہیں ہے”۔ ہمارے خارزار سیاست میں وعدہ نہ نبھانا یا وعدہ شکنی ہی کامیاب سیاست قرار پائی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا رہا ہے کہ رشوت، اقربا پروری اور دوسری اخلاقی و سماجی برائیوں کو فروغ ملا ہے۔ ہماری اخلاقی اقدار سرے ہی سے بدل گئی ہے: "خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے”۔ اب لوگ برائی کو نیکی اور نیکی کو برائی سمجھنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اسی لیئے معاشرے میں اوباش لوگ شریف النفسی کا لبادہ اوڑھے پھرتے ہیں۔ بلکہ لوگ شریف آدمی کو بے وقوف کہتے ہیں کیونکہ شریف آدمی بااخلاق، ہمدرد اور قربانی دینے والا ہوتا یے۔ وہ دوسروں کے لیئے گھاٹا سہتا ہے اور لوگ اسے "بے وقوف” کہتے ہیں۔

    ہم لکھنے والوں سے زیادہ اہم ریاست ہے اور اسٹیبلشمنٹ کسی فرد یا گرو کے خلاف ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاتی جس سے ملک و قوم کے مفادات پر حرف آتا ہو یا اس سے ریاست کی بدنامی ہوتی ہو۔ اسٹیبلشمنٹ کے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے۔
    اس کے باوجود اب دور ایسا آ گیا ہے کہ سچائ کڑوی نہ بھی ہو مگر دانائی کے بغیر سچ بولنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ میں قارئین کی آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ محترم المقام محمد مجاہد صاحب میں آپکا انتہائی مشکور ہوں کہ آپ نے اس طرف توجہ دلائی۔

    Title Image by Pexels from Pixabay

  • اینٹینگلمنٹ اور زمینی حرکت، قرآن اور سائنس کی روشنی میں

    اینٹینگلمنٹ اور زمینی حرکت، قرآن اور سائنس کی روشنی میں

    اینٹینگلمنٹ اور زمینی حرکت، قرآن اور سائنس کی روشنی میں

    Dubai Naama

اینٹینگلمنٹ اور زمینی حرکت، قرآن اور سائنس کی روشنی میں

    امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک خوبصورت قول ہے کہ، "مجھے اپنی بات کے صحیح ہونے پر اطمینان ہے مگر میں اس کے غلط ہونے کے امکان کو مانتا ہوں”۔ دین اسلام کے آخری الہامی مزہب اور محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے خاتم النبیین ہونے کی وجہ سے قرآنی تعلیمات اور آیات کی آفاقی اور عالمگیر علمی حیثیت مسلمہ و مصدقہ ہے۔ قرآن کا یہ اصولی معیار برقرار رکھنے کے لئے یہ پابندی اپنانا از حد ضروری ہے کہ قرآن کا کوئ بڑے سے بڑا مفسر بھی اپنی رائے کو حتمی قرار نہ دے۔

    قرآن واضح طور پر اپنی آیات کو "انفس و آفاق” سے تعبیر کرتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کی آیات میں وہ مطالب و مفاہیم موجود ہیں جن کی روشنی میں انسانی ایجادات اور دریافتوں سے آنے والے ہر دور میں اللہ کی نشانیاں دریافت ہوتی رہیں گی۔

    لھذا قرآن کی تفہیم و تشریع کرتے وقت اگر اس بنیادی اصول اور معیار کو مدنظر رکھا جائے تو قرآنی تعلیمات سائنس یا کسی بھی جدید سے جدید ترین علم سے کبھی متصادم نظر نہیں آئیں گی۔ قرآن کے کچھ مفسرین آیات کی تفسیر کرتے وقت اپنی رائے کو حتمی سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اول اسلام میں مسالک اور فرقوں کا در کھلتا ہے جو قرآن کے اس حکم سے متصادم ہے کہ "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں میں نہ پڑو”۔ دوم اس فقہی غلطی کی وجہ سے قرآن اور سائنس قارئین کو بعض مقامات پر ایک دوسرے کے متوازی نظر آتے ہیں۔ سوم اس سے جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کو بطور علم سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔حالانکہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ والہ و سلم پر نزول قرآن کی یہ لامحدود فصاحت و بلاغت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس کا سب سے بڑا الہامی معجزہ ہے۔

    اگر ہم قرآن کو کسی بھی عہد کے نئے ذہنی یا سائنسی علم کے اعتبار سے سمجھیں گے تو جہاں اسرار قرآن اور انکی اصل پوٹینشل نمایاں ہو گی وہاں قرآن کی اجتماعی فکر بھی آسانی سے سمجھ آئے گی۔ دراصل قرآن اپنے اسی متنوع علمی حسن کی وجہ سے "فرقان حمید” اور "الکتاب” کہلاتا ہے کہ قرآن کی آیات سے ہر قاری اپنی علمی استعداد، نظریاتی فہم اور سوچ و فکر کے مطابق انفرادی اور اجتماعی معانی و مفاہیم تو کشید کر سکتا ہے مگر کوئ بھی عالم فاضل اپنی تفسیری کاوش کو حتمی قرار نہیں دے سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ قرآن کی عالمگیر معنویت و مقصدیت کے منافی قدم اٹھاتا ہے۔

    مولانا احمد رضا خان بریلوی نے 1920 میں "زمین ساکن ہے” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی اور اپنے دیگر تحقیقی مقالہ جات مثلا "فیضان مبین” وغیرہ میں انہوں نے قرآن اور سائنس کے 105 دلائل دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ، "دیگر اجرام فلکی مثلا سورج اور چاند کے برعکس زمین ساکن (stationery) اور چپٹی (flat) ہےاور یہ کسی قسم کی حرکت نہیں کرتی”۔

    اعلی حضرت الشیخ مولانا امام رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی اسلامی خدمات میں قرآن کو جدید سائنسی علوم میں سمجھنے کی یہ بہت خوبصورت کوشش تھی مگر بعد میں آنے والے مفسرین نے اس کام کو آگے بڑھانے کی جدوجہد نہ کی۔ اس سے قبل بائبل کے حوالوں سے عیسائی پادریوں نے زمین کو ساکن اور کائنات کا مرکز ثابت کرنے کی کوشش کی تھی جن کو گلیلیو گلیلی، کیپلر، کوپرنکس، نیوٹن اور البرٹ آئن سٹائن جیسے عظیم سائنس دانوں کے زمین کی حرکت کے بارے میں سائنسی نظریات سے اختلاف تھا۔ عیسائ علماء نے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے بائبل سے استدلال کیا۔مولانا احمد رضا خان نے قرآن کی سورۃ فاطر کی آیت 41 کو بنیاد بنا کر دلائل دیئے جس کا ترجمہ ہے کہ، "بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ حرکت نہ کریں اور قسم ہے کہ اگر وہ ہٹ جائیں تو اللہ کے سوا نہیں کوئ جو روک سکے گا۔ بے شک وہ علم والا، بخشنے والا ہے”۔ مولانا نے اس آیت میں "یمسک” کا ترجمہ "روکے ہوئے، تھام رکھا” یا "ساکن ہے” کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن کے مطابق زمین کسی قسم کی گردش یا حرکت نہیں کرتی ہے حالانکہ یہاں "یمسک” روکے ہوئے اور "حرکت نہ کریں” سے مراد "توازن” یا بیلنس اور Equilibrium ہے کیونکہ اسی آیت میں آگے یہ کہا گیا ہے کہ "وہ ہٹ جائیں” یعنی اگر یہ توازن ٹوٹ جائے تو اسے اللہ کے سوا دوبارہ کوئ واپس نہیں لا سکتا۔ اس آیت کے آخر میں اللہ نے اس آیت کا درست مفہوم نہ سمجھ سکنے والوں کے لئے معافی کا اعلان بھی فرما دیا جب فرمایا، "وہ (سب سے بڑا) علم والا، بخشنے والا ہے”۔

    اس کے علاوہ "یمسک” کا صحیح مفہوم قرآن کی سورۃ "الملک” کی آیت 19 میں مزید واضح ہو جاتا ہے جس کا ترجمہ ہے، "کیا تم لوگوں نے اپنے سروں کے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو پر پھیلاتے ہیں اور سمیٹتے ہیں، ان کو نہیں تھام رکھا مگر رحمان نے”۔ اس آیت کے دوسرے حصے میں "یمسک” کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی یہاں "تھام رکھا” کا درست ترجمہ بھی توازن ہے کیونکہ پرندے اسی "یمسک” توازن کی وجہ سے ہوا میں حرکت کرتے ہیں، بعض پرندے تو "یمسک” یعنی اپنے پروں اور جسم کے بیلنس کی وجہ سے پروں کو ہلائے بغیر بھی ہوا میں تیرتے رہتے ہیں۔

    مزید برآں مولانا احمد رضا خان نے زمین کے ساکن ہونے کے بارے سورۃ بقرہ کی آیت 22 سے استدلال کیا جس کا ترجمہ ہے "اللہ وہ ہستی ہے جس نے زمین کو تمھارے لئے بچھونا بنایا ہے” یعنی مولانا نے قرآن کے لفظ "فراشا” کا ترجمہ بھی زمین کے "غیر متحرک” ہونے سے کیا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا نے قرآن کے الفاظ "قرار”، "مہدا” وغیرہ کے تراجم بھی ساکن ہونے کے معنوں میں کئے۔ حالانکہ قرآن کی سورۃ انبیاء کی آیت 13 کا مفہوم ہے کہ "ہر چیز اپنے اپنے مدار میں تیر رہی ہے” جبکہ دوسرے کئ مقامات مثلا سورۃ 36 کی آیت 40 کا خلاصہ ہے کہ "سورج کو اجازت نہیں کہ وہ چاند کو عبور کرے اور نہ رات کو اجازت ہے کہ وہ دن کو عبور کرے” جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ کائنات اور اس نظام شمسی اور ان کے تمام ستارے اور سیارے وغیرہ اپنے اپنے مداروں میں مسلسل حرکت کر رہے ہیں جس میں ہماری زمین بھی شامل ہے۔

    حتی کہ سورۃ یاسین میں کائنات کی ہر چیز کی "حرکت” کی اہمیت کو بلخصوص واضح کیا گیا ہے جس کے بغیر نظام فطرت اور زندگی کا تصور کرنا ہی ناممکن ہے۔ پوری کائنات اور اسکی ہر چیز حرکت میں ہے جس کا مشاہدہ دنیا کا ہر انسان ننگی آنکھ اور سائنسی آلات سے بآسانی کر سکتا ہے۔ حتی کہ زمین کی حرکت کو اب میزائلوں پر لگے کیمروں اور سیٹلائٹ کے زریعے ٹی وی سکرین پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    زمین پر ہر سیکنڈ میں دو اور ہر سال کئ ملین زلزلے آتے ہیں جن کا تعدد کم ہونے کی وجہ سے ان میں سے زیادہ زلزلوں کو ہم محسوس ہی نہیں کرتے۔ جدید سائنس دانوں نے ایٹم کے داخلی زرات پر بہت زیادہ تحقیق کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایٹم کے اندر پروٹان اور نیوٹران ہیں جن کے گرد الیکٹران ہر لمحے اپنے مدار میں گھومتے رہتے ہیں۔ سائنس کی جدید ترین شاخ کوانٹم مکینکس تو "حرکت” ہی کو زندگی قرار دیتی ہے جس میں روشنی کی ماہیت، حرکت، خواص (properties) اور روشنی کی بنیادی امواج (waves) اور زرات (atoms) پر بحث کی جاتی ہے۔ روشنی فوٹانز photons کے پیکٹس packets کی شکل میں سفر کرتی ہے جسکی رفتار 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ بتائ جاتی ہے۔ روشنی کے یہ پیکٹس لہر اور زرے دونوں کی خصوصیات کا اظہار کرتے ہیں جو اپنے سفر کے دوران دہرے رویئے کا اظہار کرتے ہیں۔ بلخصوص کوانٹم فزکس کا ایک موضوع کوانٹم اینٹینگلمنٹ Entanglement کہلاتا ہے۔ یہ کوانٹم فزکس کا ایسا فینومینا ہے کہ جب ہم کوئی دو اٹامک پارٹیکلز کو ایک دوسرے کے قریب لائیں یہاں تک کہ وہ اپنی کوانٹم پراپرٹی ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ لیں یا ایک جیسی بنا لیں تو اس صورت میں ہم دونوں پارٹیکلز کو چاہے ایک دوسرے سے جتنی بھی دوری پر لے جائیں اگر ایک پارٹیکل میں کوئی تبدیلی ہو گی تو وہی تبدیلی دوسرے پارٹیکل میں واقع ہو گی یعنی کہ دور رہنے پر بھی ان دونوں کے درمیان کوانٹم تعلق برقرار رہے گا اور کوئی بھی چیز ہم ایک پارٹیکل سے دوسرے پارٹیکل کی طرف بھیجیں گے تو وہ بنا سفر طے کئے پہنچ جائے گی۔

    ہر پارٹیکل اپنے محور کے گرد دو طرح کی حرکت کرتا ہے۔ ایک حرکت کو ہم کلاک وائز Clockwise اور دوسری حرکت کو ہم Anticlockwise کہتے ہیں جسے اپ سپن Upspin اور ڈاؤن سپن Downspin بھی کہا جاتا ہے یعنی کہ کائنات میں موجود کوئی بھی پارٹیکل یا تو کلاک وائز حرکت کریگا یا پھر وہ اینٹی كلاک وائز حرکت کرے گا۔ اس کوانٹم انٹینگلمنٹ کے دوران دونوں پارٹیکل کی ڈائریکشن، اسپن اور سپیڈ ایک جیسی رہے گی۔ فرض کریں ہم ایک پارٹیکل کو زمین اور دوسرے کو مریخ پر لے جاتے ہیں تو اگر ہم زمین والے پارٹیکل کو اپ Up کرینگے تو مریخ والا پارٹیکل ڈاؤن Down ہو جائے گا یعنی کہ ان کے درمیان جو کوانٹم پراپرٹی ہے وہ برقرار رہے گی۔

    اس دوران کوئی بھی انفارمیشن بنا وقت لئے ایک پارٹیکل سے دوسرے پارٹیکل کی طرف منتقل ہو جائے گی اور اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے کئ گناہ زیادہ ہو گی!!

    حرکت کے بارے میں اس مختصرا تعارف سے دینی و سائنسی طور پر یہی ثابت ہوتا ہے کہ زمین "ساکن” نہیں ہے، نہ صرف زمین گردش کرتی ہے بلکہ کائنات کی تمام کہکشاؤں، ستاروں اور سیاروں سے لے کر ایٹمی زرات تک کائنات کی ہر چیز تواتر سے حرکت کرتی ہے۔

    کائنات اور چیزوں کی حرکت کی بھی کئ اقسام ہیں جس میں کہکشاؤں اور ستاروں کا ایک دوسرے سے دور بھاگنا، چھوٹے اور بڑے ستاروں کا اپنے محور اور ایک دوسرے کے گرد گھومنا، سب اٹامک اور کوانٹم حرکات، پرندوں کا اڑنا، فضا میں گیسوں کا تیرنا، کرکٹ کے بال کا گھومنا یا spin کرنا، ہاتھ میں پکڑی بالٹی میں پانی کا دائرے میں گھومنا، موت کے کنوائیں میں چلتے ہوئے موٹرسائیکل کا گھومنا، ریل گاڑی کا تیز دوڑنا اور اس کے اندر بیٹھے مسافروں وغیرہ کا گاڑی کے ساتھ حرکت کرنا شامل ہیں۔

    سب سے بڑھ کر یہ کہ خود "حرکت” کیا ہے؟ اس سوال کو فلسفے یا ذہنی علوم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں تو دماغ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حرکت کے سائنسی قوانین کو رد کر کے ہم زمین جو کائنات کے ایک جز پرزے کے طور پر مسلسل حرکت کر رہی ہے کو ساکن سمجھیں تو کائنات کی کسی مادی چیز کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ہی ناممکن ہے۔

    مغربی سائنس دانوں خاص طور پر گیلیلیو نے زمین کے کائنات کا مرکز نہ ہونے اور اس کی حرکت کے بارے دعوی کرنے پر چرچ سے جو سزا پائ چرچ نے 350 سال بعد 1992ء میں یہ کہتے ہوئے معافی مانگی کہ ” گیلیلیو سچا تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور نہ ہی یہ ساکن ہے”۔

    ٹیلی سکوپ کی ایجاد کے بعد اب نہ صرف زمین کی گردش بلکہ نوری سالوں کی دوری پر موجود ستاروں کی حرکات کا مشاہدہ بھی کیا جا رہا ہے۔

    زمین کی گردش اور اس کے گول ہونے کا سب سے پہلے دعوی یونانی حکماء نے کیا جس کے بعد مسلم سائنس دان البیرونی نے عثمانیہ عہد خلافت میں زمین کی پیمائش کا پیمانہ دریافت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ زمین چپٹی یا فلیٹ flat نہیں بلکہ گول spherical ہے اور سورج کے گرد گردش کرتی ہے، البیرونی نے محض ریاضی اور الجبرے کی مدد سے زمین کی اتنی درست پیمائش کی جو آج کی سائنسی پیمائش سے صرف 2 فیصد کے فرق پر ہے۔

    یہ انتہائ تشویشناک بات ہے کہ آج بھی کچھ مسلمان بچوں کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ "زمین کائنات کا مرکز ہے، یہ ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے”۔

    قرآن کی علمی اہمیت پر سائنسی تحقیق کر کے اس سے کائنات کے راز دریافت کرنے کی بجائے اسے عقائد گھڑنے کے لئے استعمال کیا جانا افسوسناک اور جہالت ہی نہیں بلکہ گمراہی بھی ہے۔ موسموں کی تبدیلی، چاند اور سورج گرہن کی پیش گوئ سے لے کر فضا میں سیٹلائٹ چھوڑنے اور ٹی وی، موبائل فونز، جہازوں کی پروازیں اور تمام الیکٹرونک آلات وغیرہ کی ایجادات زمین کی گردش معلوم کرنے کے بعد ممکن ہوئ ہیں۔

    سچی بات ہے مسلم امہ کو جدید اور ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے قرآن کے مادی پہلوو’ں کو سائنس کی زبان میں سمجھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قرآن حکیم سے تحریک لے کر سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو ممکن بنایا جا سکے۔

    Title Image by Pete Linforth from Pixabay

  • سائنسی سچائی

    سائنسی سچائی

    سائنسی سچائی

    Dubai Naama

سائنسی سچائی

    سائنس اور ٹیکنالوجی وہ علوم ہیں جنہوں نے دنیا میں مادی ترقی کی بنیاد رکھی ہے. اس ترقی کو ہر کوئی اپنے زاویہُ نظر سے دیکھتا ہے. ملحدین اسے اللہ کے نظام ربوبیت کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور اپنی سفلی سوچ کی تسکین کا سامان تلاش کرتے ہیں. مذاہب کو ماننے والے بھی تین طرح کے ہیں. ایک تو وہ جو مادی ترقی کے استیلاء کے سامنے بایں طور سرنگوں ہو چکے ہیں کہ وہ مکمل طور پر مائل بہ الحاد ہو گئے ہیں۔ دراصل ان کا معاملہ ملحدین جیسا ہی ہے۔ دوسری قسم ان کی ہے جو مادی ترقی کو مذہب کے مضبوط حریف کے طور پر لیتے ہیں اور دل ہی دل میں اس سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں۔ در اصل یہ گروہ نہ تو اسلام کی توسیع اور آفاقیت کو کماحقہ سمجھ سکا ہے اور نہ ہی مادی ترقی کے سفر کو۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو متوازن فکر کے حامل دانشور حضرات سائنس اور مذہب میں اصولی طور پر کوئی ٹکراوُ محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مادی ترقی بالآخر ایک شعوری انسان کو اللہ کے قریب لے آئے گی بشرطیکہ وہ اس ترقی پر مخلصانہ غور و فکر کرے۔

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ماضی میں اس کی سینکڑوں مثالیں مل جاتی ہیں کہ جب جدید علوم کے ارتقاء نے غیر مسلموں کے دلوں کے بند دروازوں پر دستک دی حتیٰ کہ وہ پکار اٹھے حق یہی ہے کہ اسلام ایک سچا, کھرا اور آفاقی و ہمہ گیر دین ہے۔ خود اہل اسلام نے اسی سوچ اور فکر کو اپناتے ہوئے عرفان و ایقان کی منازل طے کی ہیں۔ ہمارے فاضل بزرگ دوست معروف ایٹمی انجینئر محترم سلطان بشیر الدین محمود نے قرآن پاک کی آیات کی سائنسی تفسیر لکھی، انہوں نے کم وبیش چھ سو آیات پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن حکیم کے دعووُں اور اسکی فراہم کردہ معلومات کو جدید سائنسی علوم کی روشنی میں ثابت کیا۔ فرانس کے معروف سکالر ڈاکٹر مارس بیوکائی نے تخلیق انسان کے تمام مراحل کو قرآن حکیم کی روشنی میں واضح اور منکشف کیا۔ جدید سائنس اب ان مراحل سے آشنا ہوئی ہے۔ ہمارے ایک اور سول انجینئر دوست محترم احمد نواز چیمہ نے جدید نظام آبپاشی کو جب قرآن حکیم کی آیات مبین کے تناظر میں دیکھا تو حقائق کی عجب کشائش ہوئی۔ انہوں نے اس پر ایک رسالہ بھی قلمبند کیا۔ الغرض علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے یہ کہہ کر گویا قلم توڑ دیا کہ:

    ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
    آں کہ از خاکش بروید آرزو
    یا زِ نورِِ مصطفیٰ اُو را بہاست
    یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیؓ است

    دُنیائے رنگ و بو میں جہاں بھی نظر دوڑائیں اس کی مٹی سے جو بھی آرزو ہویدا ہوتی ہے، وہ یا تو نورِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان سے بیش بہا ہوئی یا ابھی تک مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں ہے۔

    جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو آفاقی دین جا بجا انسان کو مطالعہ آفاق و انفس کی دعوت دیتا ہے۔ سورہ فصلت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

    سَنُرِيْهِـمْ اٰيَاتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَـهُـمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۗ اَوَلَمْ يَكْـفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٝ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ (53)
    ترجمہ: عنقریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے، کیا ان کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

    بعض اہل تاویل نے ان سے مراد وہ کافرین لئے ہیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو قبول نہ کیا یعنی اللہ رب العزت انہیں عنقریب آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھائے گا کہ انکے پاس دین حق کی قبولیت کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا لیکن یہ تاویل درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ایک اور مقام پر سورہ الذریات میں اللہ رب العزت یوں ارشاد فرماتے ہیں۔

    وَفِى الْاَرْضِ اٰيَاتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ (20)
    ترجمہ: اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

    وَفِىٓ اَنْفُسِكُمْ ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (21)
    ترجمہ: اور خود تمہارے نفسوں میں بھی، پس کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔

    یہاں خطاب صاحبان ایقان کو ہے اور ایقان در حقیقت ایمان کا ہی درجہ ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایمان کا ابتدائی درجہ اقرار بالسان ہے جو ہم مسلمانوں کو موروثی طور پر حاصل ہو جاتا یے پھر تصدیق بالقلب کی منازل ہیں جنہیں ایک بندہ ُُ مومن اپنی صلاحیت، اخلاص اور محنت کے مطابق طے کرتا ہے۔ قرآن حکیم میں اسی لئے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے ان سے ایمان لانے کا تقاضہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ جب انہیں اہل ایمان بھی کہا جا رہا ہے تو پھر مطالبہ ُُُ ایمان کیسا؟ سورہ النسا میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

    يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اٰمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ وَالْكِتَابِ الَّـذِىْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِـهٖ وَالْكِتَابِ الَّـذِىٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَنْ يَّكْـفُرْ بِاللّـٰهِ وَمَلَآئِكَـتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِـهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيْدًا (136)
    ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر یقین لاؤ اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو پہلے نازل کی تھی، اور جو کوئی انکار کرے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور قیامت کے دن کا تو پس وہ شخص بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

    یہاں جس ایمان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ تصدیق بالقلب اور ایقان و عرفان ہی ہے اور ایقان و عرفان کی یہ منازل آفاق و انفس میں پھیلی ہوئی ہیں، اس کی نشانیاں تلاش کرنے سے ہی ملتی ہیں۔ اسی لئے قرآن نے متعدد مقامات پر ان میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔

    سورہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے ۔

    اَلَّـذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّـٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُـوْبِهِـمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِىْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191)
    ترمہ: وہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں) اے ہمارے رب تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا تو (اللہ) سب عیبوں سے پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

    یہاں اہل ایمان کی دو صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور دوسری یہ کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق میں خوب غور و فکر کرتے ہیں۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس زمین و آسمان میں ظاہر ہونے والے تغیرات سے بے خبر رہیں کیونکہ یہ ترقی و تبدل بھی تو اسی کائنات میں ظہور پذیر ہو رہا ہے۔ آفاق کی وسعتیں اپنی جگہ لیکن انفس میں پھیلی ہوئی کائنات بھی خوب ہے۔ ایک ایک عضو انسانی ساخت اور اسکی کارکردگی پر سائنسی انکشافات کی روشنی میں غور و فکر کر لیا جائے تو انسان اپنے خالق و رب کی عظمتوں کا صدق دل کے ساتھ معترف ہو جاتا ہے اور اس کے حضور عجز و انکسار اور تشکر کے سجدے بجا لاتا ہے۔

    زیر نظر کتاب اسی اہم موضوع پر لکھی گئی ہے یعنی "خدا کی سائنسی پہچان”، یہ کتاب اپنے اندر یہ خوبصورت پیغام لئے ہوئے ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہونے والی مادی ترقی کو مذہب کا حریف نہ سمجھا جائے بلکہ اسی سے اللہ رب العزت کے عرفان اور ایقان کی راہیں تلاش کی جائیں۔ بلاشبہ یہی متوازن سوچ اور مثبت طرز عمل ہے۔ انہوں نے یہ بات کتاب کے شروع ہی میں واضح کر دی ہے کہ اللہ کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ وحیُ الہی ہے البتہ کائنات و انفس میں غور و فکر اور ان میں ظہور پذیر ہونے والی ہمہ پہلو ترقیاں اور ارتقاء سے بھی ایقان و عرفان کی منازل طے ہوتی ہیں. ان کی بات درست ہے ورنہ اسلام کبھی بھی کائنات و انفس میں غور و فکر پر اس قدر زور نہ دیتا۔ دعا ہے اللہ رب العزت انکی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.

    (کالم نگار کی زیرہ طبع کتاب سے اقتباس، تبصرہ: محمد خلیل الرحمٰن قادری ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ لاہور ، رکن مرکزی روئیت ہلال کمیٹی پاکستان)

    Title Image by Pexels from Pixabay

  • جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    Dubai Naama

جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    گلوبل نیوز کے مطابق "طوفان الاقصی” اور "بیت المقدس” کے حصول کی جنگ میں حزب اللہ کے شہید علی علاوؑالدین کی والدہ اس وقت اظہار تشکر کے لئے سجدے میں گر گئیں جب انہیں بیٹے کی شہادت کی خبر ملی۔ علی علاوؑالدین کی والدہ ایک شہید خاوند کی بیوہ ہیں۔ ان کے خاوند اور علی علاوؑالدین کے والد یوسف علاوؑالدین 2006 میں "الفجر آپریشن” کے دوران شہید ہوئے تھے۔ ایسی کوئی ایک شہادت ہو یا ہزاروں لاکھوں شہادتیں ہوں، وہ اسلامی جہاد کی صورت میں افغانستان میں ہوں، کشمیر میں ہوں، مشرق وسطی میں فلسطین کی آزادی کے لئے ہوں یا یہود و نصاری کی طرف سے صلیبی جنگوں کی شکل میں ہوں، ان دونوں صورتوں میں خون "انسانیت” ہی کا بہتا ہے۔

    بیت المقدس دنیا کا وہ واحد مقام ہے جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لئے "مقدس مقام” کا درجہ رکھتا ہے۔ ان تینوں مذاہب میں سے جس مذہب کے پاس بھی طاقت آتی ہے وہ بیت المقدس پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے عیسائی بادشاہتوں اور رومن ایمپائر کے بازنطینی دور میں عیسوی سال 638 میں بیت المقدس کو فتح کیا۔ 1099ء میں بیت المقدس دوبارہ صلیبیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے تقریبا 90سال بعد سلطان نورالدین زنگی کے وزیر اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اکتوبر 1187ء میں بیت المقدس کو آزاد کر کے اسلامی حکومت قائم کی۔ اس دوران بیت المقدس کے حصول کے لیئے 8بڑی مذہبی جنگیں لڑی گیئں جن میں پہلی صلیبی جنگ 1097ء تا 1145ء، دوسری 1144ء تا 1187ء، تیسری 1189ء تا 1192ء، چوتھی 1202ء تا 1204ء، پانچویں اور چھٹی 1227ء، ساتویں 1248ء اور آٹھویں 1268ء میں لڑی گئی۔ یہ وہ مذہبی جنگیں ہیں جو صلیبی جنگوں (Crusades) کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں حالانکہ یہ مذہبی جنگیں نہیں تھیں بلکہ یہ جنگیں بیت المقدس اور "یروشلم” کے زمینی خطہ پر قبضہ جمانے کے لئے محض "مذہب” کے نام پر لڑی گئی جنگیں تھیں۔

    افغانستان پر امریکی حملے کو "9نویں صلیبی جنگ” بھی کہا جاتا ہے جو 9/11 کے واقعہ کے بعد 2001ء میں "دہشت کے خلاف جنگ” (War On Terror) کے نام سے عراق پر امریکی حملے سے شروع ہوئی تھی جو 20سال گزرنے کے باوجود کسی نہ کسی صورت میں تاحال جاری ہے۔ 11سمتبر 2001ء کو جب امریکہ کے شہر نیویارک اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پر اغوا شدہ طیاروں کے ذریعے بالترتیب ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی عمارات پر حملہ ہوا تو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے "قصر ابیض” میں 16سمبر 2001ء کے اپنے ایک خطاب کے دوران اسے "صلیبی جنگ” کا نام دیا تھا۔ اس کے بعد 2003ء میں امریکہ اور اتحادی افواج نے عراق کے ایٹمی ہتھیاروں کے نام سے عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 22اکتوبر 2012ء میں نیٹو افواج کی موجودگی میں کرنل قذافی کی ہلاکت ہوئی جسے بہت سے تجزیہ کار "قتل” قرار دیتے ہیں اور اسی طرح 2011ء میں شام کی خانہ جنگی شروع ہوئی جس سے شام ابھی تک سنبھل نہیں سکا ہے۔

    یہ ہے 7اکتوبر کے حماس کے طوفان الاقصی کا مختصر سا پس منظر، جس میں ایک فلسطینی خاتون اپنے خاوند اور بیٹے کو "شہادت” کے رتبہ پر متمکن دیکھ رہی ہیں۔ قرآن کریم میں جہاد پر زور دیا گیا ہے اور "یہود و نصاری” کے بارے میں بھی قرآن پاک میں آیات ضرور موجود ہیں۔ لیکن قرآن کی اجتماعی فکر اور اسوہ حسنہ حضرت محمد مصطفی رحمت العالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم انسانیت افروزی پر مبنی ہیں۔ اس کے مطابق نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہودیوں کی خدمت مسجد نبوی میں ٹھہرا کر کرتے نظر آتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں، "کونو عباد اللہ اخوانا” کہ سب عبد (انسان) بھائی بھائی ہیں۔ اسلام ایسا دین نہیں جس طرح اس کی تشریح بعض مسلم مشاہرین قرب قیامت سے پہلے جنگ و جدل اور خون ریزی کا نمونہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح اصل الہامی مذاہب یہودیت اور عیسائیت بھی انسانی خون ریزی یا ایسی صلیبی جنگوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتے ہیں جس طرح صلیبی جنگوں کے دعوے دار اس کی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ جوں جوں اسرائیل فلسطین کی جنگ کے پھیلنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ایران کی حماس کے لئے کھلم کھلا فوجی و انسانی حمایت اور امریکہ اسرائیل کی امداد کر رہا ہے اور امریکہ کا فائٹر طیاروں اور اسلحے سے لدا بحری بیڑا حماس کے 7اکتوبر کے حملے کے فورا بعد بحرالکاہل میں پہنچ گیا ہے۔ اگر جنگ نے ایران کو بھی لپیٹ لپیٹ میں لے لیا یا روس اور چین بھی جنگ میں کود پڑے تو بیت المقدس کے قبضے کی یہ جنگ "تیسری عالمی جنگ”  میں بھی بدل سکتی ہے۔ تب  امریکی صدر جوبائیڈن جو اسرائیل کے "فاسفورس” بم چلائے جانے، فلسطینی بچوں اور عورتوں سمیت ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ  کے ہسپتالوں کو "قبرستان” بنانے پر خوش نظر آ رہے ہیں اور اقوام  متحدہ بھی جنگ بندی نہ کروا سکا تو کچھ زیادہ بعید از قیاس نہیں کہ سابق امریکی صدر جارج بش کی طرح موجودہ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ کو صلیبی جنگ (Crusade) کا نام دینے کی ناکام کوشش کریں گے۔

    صلیبی جنگوں یعنی مذہبی جنگوں کو سب سے پہلے قرون وسطی میں لاطینی کلیسا نے منظور کیا تھا۔ نومبر 1095ء میں پوپ اربن دوم نے اپنے خطبے میں کہا تھا کہ، "عیسائی دنیا یروشلم واپس لینے کے لئے اکٹھی ہو جائے”۔ خاص طور پر مشرقی بحیرہ روم کی مہمات کا مقصد "ارض مقدسہ” (موجودہ یروشلم) کو اسلامی حکمرانی سے آزاد کرانا تھا۔ اگر الہامی مذاہب امن و سلامتی کا نظام ہیں (اور ہیں) تو اس بات کو اس کے تینوں پیروکار "یہودی”، "عیسائی” اور "مسلمان” کب سمجھیں گے؟ کیا اس وقت جب اللہ تعالی اس انسانی نسل کو چھوڑ کر یہاں ایک اور انسانی "مخلوق” آباد کرے گا؟

  • عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں (دوم)

    عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں (دوم)

    عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں

    Dubai Naama

عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں

    اگر الیکٹران کے اس دہرے رویئے کو مشاہداتی آلے کی روشنی اور فوٹان کی وجہ بھی تسلیم کر لیا جائے تو موج کا ذرے اور ذرے کا موج میں بدلنے کا یہ دہرا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ حرارت اور مادہ منظم ہیں، نظم و ضبط رکھتے ہیں اور وہ "نظریہ ضرورت” کی بھی پابندی کرتے ہیں!!!
    جب ہم کائنات کو نظری دھوکہ Illusion یا نقل Simulation مانتے ہیں تو ہمارا اختیار اور ارادہ مادے سے جیت جاتا ہے۔ جیسا کہ افلاطون جیسے قدیم یونانی فلسفی مانتے تھے کہ کائنات ایک وہم یا فریب ہے تو کیا ہمارا آزاد اختیار یا فری ول Free Will ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم کائنات کو ‘تخلیق” یا "ارادہ” تسلیم کر لیں؟ تمام الہامی مذاہب کائنات کو خدا کی تخلیق مانتے ہیں۔ جبکہ اسلام تو یہ بھی دعوی کرتا ہے کہ کائنات خدا کا "امر” ہے اور یہ ایک تخلیقی وجود ہے جس کو "خدا” جب چاہے گا منہدم کر دے گا.
    اس تجربے سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ کائنات شعوری مشاہدہ کرنے اور شعوری مشاہدہ نہ کرنے والوں کے لئے دو مختلف نوعیتیں یا حالتیں States رکھتی ہے جس سے کائنات کو مسخر کرنے اور خدا کی پہچان کرنے کے لئے جدید سائنسی علوم کی اہمیت واضع ہوتی ہے۔یا یوں کہیں کہ وحی اور سائنسی علوم کے بغیر آپ خدا کی سچی پہچان کر سکتے ہیں اور نہ ہی خدا کو پا سکتے ہیں۔
    اس سائنسی تجربے کے دوران سائنس دان یک رنگی روشنی کے صرف ایک الیکٹران کو چھوڑتے ہیں جو "بیک وقت” کئ سوراخوں سے گزر کر نشان چھوڑ جاتا ہے۔ جب یہ تجربہ کوانٹم سطح پر ثابت ہو گیا ہے تو اس تجربے کو اب کوانٹم "سپر پوزیشن” کے نام سے بھی جانا جانے لگا ہے۔ کوانٹم سپر پوزیشن وہ حالت ہے جس کے تحت کوئی ایک ایٹم، پروٹان یا الیکٹران بیک وقت ایک سے زیادہ جگہوں پر موجود ہوتا ہے۔ ان جڑواں ذرات Entangled Particles میں سے کسی ایک ذرے کی پوزیشن کو بدلا جائے تو دوسرے ذرے کی پوزیشن میں بھی دوری کے باوجود فورا تبدیلی آ جاتی ہے یا ایک ذرے کی حالت تبدیل ہوتے ہی دوسرے ذرے کی سپر پوزیشن فورا ختم Collapse ہو جاتی ہے اور یہ ایک سے زیادہ جگہوں پر نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔
    دوسری حیران کن بات یہ ہے کہ کوانٹم سپر پوزیشن کے ایک الیکٹران کے سامنے دس یا سو راستے موجود ہوں تو یہ "اکیلا” الیکٹران بیک وقت سب راستوں سے گزر جائے گا اور پردے پر اپنے نشانات چھوڑے گا۔ اس کو ڈھونڈنے کے لئے آپ کو ویوفنکشن نامی ریاضی کے فارمولے کا سہارا لینا پڑے گا جو آپ کو ایک اندازہ دے گا کہ فلاں جگہوں پر یہ موجود ہو سکتا ہے مگر جیسے ہی یہ الیکٹران آپ کی نگاہ میں آئے گا تو اس کی سپر پوزیشن منہدم ہو جائے گی اور اب یہ ایک الیکٹران رہ جائے گا۔
    کچھ سائنس دان اور سپر پوزیشن کے ناقدین اس سلسلے میں یہ کہتے ہیں کہ الیکٹران اور دیگر چھوٹے ذرات کی یہ حرکت دراصل یہ ثابت کرتی ہے کہ کائنات میں دوسری جہات Dimentions بھی موجود ہیں جن کو ہم ابھی تلاش نہیں کر پائے ہیں۔ اس مد میں یہ علمی سوال بھی سامنے آیا ہے کہ کائنات اور اس میں موجود تمام اشیاء چونکہ ایٹمز سے مل کر بنی ہیں، اگر الیکٹران اور ایٹمز سپر پوزیشن پر رہتے ہیں تو کیا کائنات اور اس میں موجود دیگر تمام اشیاء بھی سپر پوزیشن میں ہیں؟
    اس بناء پر کائنات کی ہر چیز اپنی اصل مادی جگہ کے علاوہ کاپی کی شکل میں کائنات کی ہر جگہ پر موجود ہے۔چونکہ ہمیں نظر آنے والی تمام اشیاء ہمارے مشاہدے میں ہیں اسی وجہ سے ان سب کی سپر پوزیشن ہمارے نزدیک ختم ہو جاتی ہے یا وہ ہماری نظروں سے غائب رہتی ہیں۔

    عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں (دوم)
    Image by Dorothe from Pixabay

    کوانٹم سپر پوزیشن Quantum Super Position کا سب سے مشہور مظہر یہی ڈبل سلیٹ کا تجربہ ہے جس میں ایک الیکٹران کئی سوراخوں سے بیک وقت گذرتا معلوم ہوتا ہے کیونکہ گذرنے کے بعد یہ سوراخوں کے پیچھے موجود پردے پر انٹرفیرنس پیٹرن Interference Pattern بناتا ہے۔ اگر الیکٹران صرف ایک سوراخ سے گذرے تو یہ پیٹرن نہیں بن سکتا ہے۔ کیونکہ الیکٹران کوانٹم ذرات ہیں اس لئے یہ دونوں طریقے بیک وقت بھی اختیار کر سکتے ہیں اور یہ عمل ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اب سائنس دانوں نے اس عمل کی تفصیلی ریکارڈنگ کر لی ہے اور اس عمل کے ارتقاء کا تفصیلی جائزہ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے نہ صرف کوانٹم فزکس کی بہتر سمجھ ممکن ہو گی بلکہ ان کیمیائی تعاملات کو کنٹرول کرنا بھی آسان ہو جائے گا جو ذرات کے کوانٹم رویئے کی وجہ سے تکمیل پاتے ہیں۔
    اس سائنسی تجربے جس پر مزید تجربات ہمہ وقت جاری ہیں سے درج ذیل فکری سوالات پیدا ہوتے ہیں:

    1.انسان کا کوانٹم شعور کوانٹم ذرات کی سطح پر مادے کو متاثر کر سکتا ہے اور اسکی حالت یا رویئے کو بدل سکتا ہے۔

    2.فوٹان بھی ذہن رکھتے ہیں اور ماضی میں سفر کر سکتے ہیں۔

    3۔کوانٹم مادہ ناظر یا ڈیٹیکٹر کی موجودگی میں اپنا رویہ بدلتا ہے یا دیگر تعاملات کی وجہ سے اپنی ایک صلاحیت زائل کرتا ہے۔

    4.ہمارا شعور Consciousness مادے Matter کے بغیر خود کو آزادنہ قائم کرنے کی مخفی صلاحیت Potential رکھتا ہے۔

    حالانکہ کوانٹم ذرات کے ایسے غیر متوقع اور ممکنہ نتائج مہمل ہرگز نہیں ہیں۔ ہمارا موجودہ کمیونیکیشن کا پورا نظام انہی الیکٹران کی کارکردگی پر مشتمل ہے۔ جبکہ آنے والے دماغی چپس کے ادوار خیالات کو بغیر سائنسی آلات کے منتقل کرنے اور ان سے تخلیقی عوامل سرانجام دینے کے ادوار ہیں۔ مغربی ممالک مثلا سویڈن اور ناروے وغیرہ میں ان مائیکرو آلات کا استعمال شروع ہو گیا ہے۔

    جاری ہے ……