سچائی اور دانائی

سچائی اور دانائی

Dubai Naama

سچائی اور دانائی

ایک لکھنے والے کو قارئین کی طرف سے فیڈ بیک ملتا رہتا ہے۔ اس کا ایک بڑا تخلیقی فائدہ یہ ہے کہ مصنف کو اپنی غلطیوں اور کمی بیشی کا احساس کر کے اپنی تحریروں کا معیار بہتر کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ لکھتے وقت مصنف کا ذہن آمد کی ایک خاص کیفیت میں ہوتا ہے۔ اگر آمد کی کمی ہو اور آورد سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو لکھنے والے کا تنقیدی ذہن سو جاتا ہے جس وجہ سے تحریر میں سطحیت پیدا ہو جاتی ہے اور ترتیب و ربط بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک اچھی تحریر اسی وقت لکھی جا سکتی ہے جب آپ کو خیالات کی آمد، ان کی چھانٹی اور انہیں ترتیب دینے پر کنٹرول حاصل ہو۔ لیکن تحریر کو پڑھنے والے قاری کا دماغ ایسے کسی بھی دباو’ سے آزاد ہوتا یے اور وہ ایسی صورت میں لکھنے والے کی بہتر رہنمائی کر سکتا ہے۔ لھذا بڑے سے بڑا دانشور نما مصنف ہو یا مجھ جیسا ایک عام لکھاری ہو وہ کبھی بھی حرف آخر لکھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا دعوی کر سکتا ہے کہ وہ ایک بڑا کالم نگار یا مصنف ہے۔ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ لکھنے والے کو جوں جوں قارئین کی جانب سے تبصرے موصول ہوتے ہیں وہ اسی قدر اپنی توجہ خود کو ایک اچھا لکھاری بنانے کی طرف مبذول کرتا ہے۔

گزشتہ ایک کالم پر محمد مجاہد نامی ایک کرم فرما نے تبصرہ بھیجا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ، “سچ بولنے سے دور رہو کہیں ان کی نظر میں نہ آ جاؤ۔” یہ نصیحت نما مراسلہ بڑا معنی خیز لگا مگر میں سمجھتا ہوں کہ سچ بولنا ہر لکھنے والے پر دوسرے تمام فرائض سے زیادہ بڑا فرض ہے۔ جب آپ سچ کو چھپائیں گے اور اسے پروان نہیں چڑھنے دیں گے اول یہ قلم اور اپنے ضمیر سے غداری ہو گی اور دوم اس کے مقابلے میں جھوٹ کی مقدار بڑھنا شروع ہو جائے گی اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ کی شکل اختیار کر لے گا۔

سچائی کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ کڑوی ہوتی ہے اور سچ بولنے والوں کو ہمیشہ خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ اس حوالے سے ایک مصری مفکر کا قول بھی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ، ” موت سچ بولنے والوں کا سائے کی طرح پیچھا کرتی ہے”۔ لیکن میں سچائی کے بارے اس غلط العام تصور سے متفق نہیں ہوں کہ یہ کڑوی ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سرور کونین نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ سچ کون بول سکتا ہے جن کی زبان تاریخ کے کسی بھی دوسرے انسان سے زیادہ شیریں اور نرم تھی۔ لھذا سچ ضرور بولنا چایئے مگر ایسا سچ بولنے کی بجائے خاموشی اختیار کرنی چایئے کہ جس سے دوسروں کو گزند پہنچے، ان کی زندگیاں برباد ہو جائیں یا کسی کے سچ بولنے سے خود سچائی ہی کی توہین ہونے کا امکان ہو۔ ایسے حالات سے بھی پناہ مانگنی چایئے جہاں انسان سچ کو چھپانے پر مجبور ہو کیونکہ سچ کو چھپانا بھی جھوٹ بولنے کے مترادف ہے بلکہ کسی حد تک ایسا رویہ منافقت کے ضمرے میں بھی آتا ہے۔

قرآن حکیم کے مطابق جھوٹ اور منافقت انسان کے کردار کی بدترین برائیاں ہیں جن کی انتہائی سخت سزا تجویز کی گئی ہے کہ جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں قرآن پاک کا فرمان ہے جس کا ترجمہ ہے کہ، “جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے”۔ یہ قرآن فرقان کے واحد سخت ترین الفاظ ہیں جو جھوٹ بولنے والوں کے خلاف استعمال کیئے گئے ہیں جبکہ باقی سارے قرآن پاک کی زبان نرم اور شیریں ہے اور جہاں سزا اور عذاب کا ذکر بھی آیا ہے وہاں ہر جگہ حکیمانہ انداز اختیار کیا گیا ہے اور اس کے بعد فورا ایمان والوں کا تذکرہ آتا ہے جن کے لیئے رحمت اور بخشش کی وعید دی گئی ہے۔
جبکہ منافقین کے لیئے تو قرآن پاک علی الاعلانیہ طور پر مشرکین اور کفار سے بھی زیادہ سخت ترین عذاب کا ذکر کرتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے۔

ایک حدیث شریف ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ “ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے”۔ یہ حدیث شریف عموما اخبارات کی پیشانی پر تحریر ہوتی ہے جو اخبارات کے بیانیہ کی وضاحت کرتی ہے۔ کوئی بھی اخبار ریٹنگ کی خاطر جھوٹ پھیلاتا ہے تو قارئین کو اس کا سختی سے احتساب کرنا چایئے۔ قارئین کی آراء اور رہنمائی ہم لکھنے والوں کے لیئے اس لیئے بھی اہم ہوتی ہیں کہ پرنٹ میڈیا عوام کی ذہن سازی میں دیر پا اثرات کا ایک تحریری ذریعہ ہے اور جہاں ایک لکھنے والا اپنی تحریروں سے دوسروں کی ذہن سازی کرتا ہے اس سے خود اس کی ذہن سازی بھی ہو جاتی ہے۔

جہاں تک لکھنے والوں پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کا تعلق ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ملک و قوم سے زیادہ لکھنے والوں کی زندگی کی کوئی اہمیت ہے۔ پاکستان لازوال جانی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کی تاریخ کو لکھنے والوں سے زیادہ پاک فوج جانتی ہے جس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ اگر کوئی لکھنے والا قلم کا ناجائز استعمال کرتا ہے اور کچھ شرپسندوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہے تو اس کی سرکوبی ضرور کی جانی چایئے۔ ہمارے کچھ لکھنے والے “مسنگ پرسنز” کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ کچھ لکھنے والے “سستی شہرت” اور “مفادات” سمیٹنے کے لیئے اس میں مبالغہ بھی شامل کر لیتے ہیں۔

ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے بلکہ خود ان کرپٹ حکمرانوں کی بھی بدقسمتی ہے کہ ان کا تو بیانیہ ہی بلند بانگ مگر جھوٹے وعدوں اور نعروں پر استوار رہا ہے۔ ہم کو مسند اقتدار پر پہنچنے والے جتنے بھی حکمران ملے ہیں انہوں نے اپنے منشور اور بیانات کے مطابق ملک کو چلانے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے۔ ایک ارشاد گرامی ہے کہ “جو ایفائے عہد نہیں نبھاتا وہ ہم میں سے نہیں ہے”۔ ہمارے خارزار سیاست میں وعدہ نہ نبھانا یا وعدہ شکنی ہی کامیاب سیاست قرار پائی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا رہا ہے کہ رشوت، اقربا پروری اور دوسری اخلاقی و سماجی برائیوں کو فروغ ملا ہے۔ ہماری اخلاقی اقدار سرے ہی سے بدل گئی ہے: “خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے”۔ اب لوگ برائی کو نیکی اور نیکی کو برائی سمجھنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اسی لیئے معاشرے میں اوباش لوگ شریف النفسی کا لبادہ اوڑھے پھرتے ہیں۔ بلکہ لوگ شریف آدمی کو بے وقوف کہتے ہیں کیونکہ شریف آدمی بااخلاق، ہمدرد اور قربانی دینے والا ہوتا یے۔ وہ دوسروں کے لیئے گھاٹا سہتا ہے اور لوگ اسے “بے وقوف” کہتے ہیں۔

ہم لکھنے والوں سے زیادہ اہم ریاست ہے اور اسٹیبلشمنٹ کسی فرد یا گرو کے خلاف ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاتی جس سے ملک و قوم کے مفادات پر حرف آتا ہو یا اس سے ریاست کی بدنامی ہوتی ہو۔ اسٹیبلشمنٹ کے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے۔
اس کے باوجود اب دور ایسا آ گیا ہے کہ سچائ کڑوی نہ بھی ہو مگر دانائی کے بغیر سچ بولنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ میں قارئین کی آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ محترم المقام محمد مجاہد صاحب میں آپکا انتہائی مشکور ہوں کہ آپ نے اس طرف توجہ دلائی۔

Title Image by Pexels from Pixabay

Josaf
سینئیر کالم نگار | [email protected]

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت" میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف" میں سب ایڈیٹر تھا۔

روزنامہ "جنگ"، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

ازدواجی کامیابی کا راز

ہفتہ جنوری 13 , 2024
شادی شدہ جوڑوں کی خوشیاں اور عمریں غیر شادی شدہ افراد سے زیادہ ہوتی ہیں۔
ازدواجی کامیابی کا راز

مزید دلچسپ تحریریں