Tag: قرآن

  • عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں (اوّل)

    عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں (اوّل)

    عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں

    Dubai Naama

عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں

    اللہ تعالی کے نزدیک بیشک بدترین خلائق وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں (تحقیق نہیں کرتے اور) جو کہ ذرا نہیں سمجھتے (القرآن)۔
    کیا حقیقت وہ ہے جسے ہم دیکھتے ہیں یا وہ ہے جس کو ہم دیکھ ہی نہیں سکتے؟سچائی کو جاننے کے لئے کچھ ظاہری حقائق کو مسلسل جھٹلانا پڑتا ہے۔
    دیگر آسمانی مذاہب کے پیروکاروں اور ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ، "کائنات کو خدا نے تخلیق کیا ہے”۔ اگر اس الہامی دعوی کی سچائ اور صداقت کو ثابت کرنے کا موضوع زیر بحث آئے تو یہ فطری سوال ضرور پوچھا جاتا ہے کہ، "خدا نے کائنات کو کیسے بنایا؟” اگر دوسرے سوال کو کوانٹم مکینکس Quantum Mechanics اور بومیآن مکینکس Bohemian Mechanics کے طریقہ کار اور فطری قوانین کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی حتمی منزل مقصود کے اعتبار سے قرآنی تعلیمات اور سائنس کے طریقہ کار میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے۔

    کوانٹم مکینکس اور بومیآن مکینکس میں بنیادی فرق یہ ہے کہ بومیآن مکینکس میں ذرات ہمیشہ ذرات رہتے ہیں اور لہریں ہمیشہ لہریں رہتی ہیں۔ تہلکہ خیز دہری پلیٹوں کے تجربے Double Slit Experiment سے آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان دونوں سائنسی نظریات میں وہی فرق ہے جو مذہب کے مابعد عقیدے Metaphysical Belief اور سائنس کے نظریئے Scientific Theory کے درمیان فرق ہے۔ اگر آخرت کے بارے عقائد کو بھی سائنسی تھیوریز مان کر تحقیق کی جائے اور انہیں روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنایا جائے تو سائنس اور مذہب کا نظریاتی اختلاف تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔
    کوانٹم اور بومیآن تھیوریز میں بڑا فرق یہ ہے کہ بومیآن تھیوری ارادی Intentional یا متعین شدہ Deterministic ہے اور پیش گوئی کرتی ہے کہ کسی خاص مقام پر ذرات کیا رویہ اختیار کریں گے جبکہ کوانٹم مکینکس صرف امکانیات Probabilities کی سائنس ہے۔
    الہامی مذاہب کے زیادہ تر عقائد مصدقہ بومیآنی سچائیاں ہیں جن کی پیش گوئیاں پہلے کی گئ ہیں مگر وقت نے انہیں عہد بہ عہد بعد میں ثابت کرنا ہے۔
    بومیآن مکینکس کو پائلٹ لہری نظریہ Pilot Wave Theory یا ڈی برونگلی بومیآن تھیوری De Broglie Bohmian Theory بھی کہتے ہیں جو ایسی سائنس ہے جس کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ حقیقت وہ نہیں جو دیکھنے والے کو نظر آتی ہے بلکہ حقیقت وہ ہے جو درحقیقت واقع ہو رہی ہوتی ہے۔

    عجیب الخلائق دنیا، اسلام اور سائنس کی روشنی میں (اوّل)
    Image by 51581 from Pixabay

    مذہبی معاشروں کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پسماندہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ خدا اور کائنات کو روحانی علوم کے علاوہ مادی علوم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔اس کی ایک آسان مثال سائنس دان تھامس ینگ Thomas Younge کا یہ دہری پلیٹوں کا تجربہ ہے جس میں فوٹانز دہرے رویئے اور خواص کا مظاہرہ کرتے ہیں جب دو مختلف مواقع پر وہ لہر اور ذرے کی شکل اختیار کرتے ہیں جو کہ کلاسیکل طبیعات کے قوانین کے مطابق ناممکن ہے۔ اسی رویئے کا مظاہرہ اس تجربے میں الیکٹران بھی کرتے ہیں یعنی جب آپ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں یا ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے کچھ آلات استعمال کرتے ہیں تو وہ ذرات بن جاتے ہیں اور آلات استعمال نہیں کرتے ہیں تو وہ لہر کی شکل اختیار کیئے رکھتے ہیں۔ یہ الیکٹران کا ایسا عجیب اور پراسرار رویہ ہے جس کی ابھی تک سائنس دان کوئی ٹھوس تعبیر پیش نہیں کر سکے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
    اس تجربے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ان الیکٹران کو معلوم ہے کہ انہیں کوئی تجربے کے ذریعے دیکھ رہا ہے اور کوئی اصل چیز معلوم کرنا چاہتا ہے جو وہ ہم سے چھپا لیتے ہیں۔
    کیا جانداروں اور بے جان اشیاء کی تقسیم وقتی اور فہمی ہے اور کیا ان بے جان چیزوں کو بھی اپنے ہونے کا ادراک حاصل ہے جس وجہ سے وہ خود کو قائم کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہیں؟
    پھر اس تجربے کے دوران ایک یہ بات بھی نوٹ کی گئ ہے کہ اگر کسی "ایک” الیکٹران کو کسی گن سے فائر کر کے کسی مشاہدہ کرنے والے انسان یا آلے کے بغیر اگر پلیٹ کے سو سوراخوں سے گزارا جاتا ہے تو وہ سو کے سو سوراخوں سے بیک وقت گزر کر پردہ سکرین پر لہر بن کر سو نشانات چھوڑتا ہے اور اگر اس کا ڈیٹیکٹر وغیرہ سے مشاہدہ کیا جاتا ہے تو وہ ذرہ بن کر پردے پر صرف ایک نشان چھوڑتا ہے!!

    جاری ہے ……

  • مشاہدہ، حقیقت اور نظریہ اعیان

    مشاہدہ، حقیقت اور نظریہ اعیان

    مشاہدہ، حقیقت اور نظریہ اعیان

    Dubai Naama 

مشاہدہ، حقیقت اور نظریہ اعیان

    دنیا کے عظیم ترین سائنس دان البرٹ آئنسٹائن کو شکایت تھی کہ ان کو چاند اسی وقت نظر آتا ہے جب وہ اسے دیکھتے ہیں۔ کیا اس قول سے یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ حقیقت تب وجود میں آتی ہے جب ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ آئنسٹائن ایک سائنس دان تھا جبکہ اسی بات کو رینی ڈیکارٹ نے ان الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی کہ "میں ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میں ہوں” (I Think Therefore I Am) یا اسے انگریزی زبان میں یوں بھی لکھتے کہ "میں اس لئے ہوں کہ میں سوچتا کہ میں ہوں”I Am Because I Think I Am) جس کا بالواسطہ مطلب یہ ہے کہ ہمارا (اور چیزوں کا) وجود ہمارے تعقل کا محتاج ہے جو ہماری حسیات سے قائم ہوتا ہے۔ اگر ہم اس مفروضے کو سچ مانتے ہیں تو اس سے ایک سادہ سا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کائنات ہمارے لئے ایک فریب، سراب یا ایک نظری دھوکہ ہے اور دوسرا متناقضہ قسم کا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اس حقیقت کا کوئی وجود نہیں ہے کہ جس تک ہمارے حواس کی رسائی ممکن نہیں ہے، اور پھر حواس تو اس قدر دھوکہ دیتے ہیں کہ شفاف پانی میں کھڑی سیدھی چھڑی بھی ہمیں ٹیڑھی نظر آتی ہے! حالانکہ کائنات تو ایک مادی اور ٹھوس حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے ہے جس کے مشاہدے کے لیئے ہم ہوں یا نہ ہوں "دائم آباد رہے گی دنیا، ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہو گا” کے مصداق یہ کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ قائم رہے گی۔

    کائنات کو دھوکہ-برم (Illusion) اور سائنس کی زبان میں نقل یا نقلی (Simulation) بھی قرار دیا جائے تو اس کی اصل حقیقت تو پھر بھی ہم سے اوجھل ہی رہتی ہے جس کے بارے میں پورے تیقن کے ساتھ ہم کوئی بھی دعوی نہیں کر سکتے ہیں کہ جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ جو کائنات ہمیں نظر آتی ہے وہ آئنسٹائن کے "چاند” کی طرح ہے بھی یا نہیں ہے اور یا پھر یہ کائنات بھی ہمیں صرف اس وقت نظر آتی ہے جب ہم اس کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    قدیم یونان کے عظیم الشان فلسفی افلاطون نے اپنے "نظریہ اعیان” میں بھی کائنات کو ایک وہم اور دھوکہ ثابت کرنے کے حق میں دلائل دیئے تھے۔
    افلاطون کی تصانیف "مکالمات” کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ معروف کتاب ”جمہوریت” ہے جو اسکا شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔ افلاطون اپنے نظریات اور منطق میں غیر مشہود اشیاء کو اعیان ثابتہ اور وہم و گمان قرار دیتا ہے۔ انکے مطابق صور علمیہ یا اعیان ثابتہ ہی حقیقی وجود رکھتے ہیں اور وہی "قائم بالذات” یعنی حقیقی جوہر ہیں جبکہ باقی اشیاء اسکے ناقص نقول یا ظل یعنی سایہ ہیں۔ افلاطون کے مطابق اعیان ثابتہ حقیقی معنی میں صاحب وجود ہیں اور یہ کہ محسوسات کی دنیا ایک استعارہ یے۔ افلاطون کی تعلیمات کے مطابق یہ کائنات اور محسوسات کی دنیا جو مادی وجود رکھتی ہیں ایک واہمہ ہیں جو ایک عالم عیان کی نقل یا کاپی ہیں جس کی مثال وہ ایک غار میں بیٹھے اس انسان کی دیتا یے کہ جس غار کے باہر سے آدمیوں کی ایک قطار گزرتی ہے تو اس پر روشنی پڑنے سے اس آدمی کو غار کی دیوار پر ان کا سایہ نظر آتا ہے جس کو وہ اصل سمجھنے لگتا ہے حالانکہ یہ ان آدمیوں کے سائے ہیں جبکہ کائنات کی ساری اصل چیزیں عالم اعیان میں ہیں اور یہ دنیا اس کی ایک نقل ہے۔ افلاطون اس ضمن میں دلیل دیتا ہے کہ دنیا میں موجود لکڑی کا ایک ٹبیل اصل نہیں بلکہ یہ ہمارے حواس کے زریعے آنے والی ایک "نقل” ہے جس کی "اصل” عالم بالا میں ہے اور پھر یہ کہ کائنات حادث اور تغیر پذیر ہے لہٰذا اسکی کوئی حقیقت نہیں یے کیونکہ یہ عالم ناپید کا ظل یا مجازی عکس ہے۔

    اب کائنات کے بارے جدید سائنس مثلا میکانیات کے انکشافات اور تھیوریز مثلا "سٹرنگ تھیوری” (String Theory), "ملٹی ورسز” (Multi Verses) اور "قانون غیر یقینیت” (Law of Uncertainty) وغیرہ بھی کائنات کی "!بتداء” اور "حقیقت” پر سوالات اٹھا رہی ہیں تو انسان دوبارہ "الہامی عقل” کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    مسلمانوں کی دانش اور فلسفہ آغاز ہی میں مذہبی انتہا پسندی کی زد میں آ گیا تھا جس کو عظیم مسلم فلسفی ابن رشد نے بھی محسوس کیا تھا اور کہا تھا کہ، "ہمارے ہاں سوچنا گناہ اور سوال اٹھانا بدعت سمجھا جاتا ہے۔” اس کا تسلسل صدیوں سے اب بھی جاری ہے اور سائنس درحقیقت مسلم امہ کے لئے ایک شجر ممنوعہ بن چکی ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ مسلم فلاسفرز مغربی فلسفیوں کی طرح تخیل اور دلیل کی باریک بینی سے کائنات کو سمجھنے اور پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ فلسفے کی کوکھ سے جنم لینے والی سائنس کے میدان میں مسلم دنیا پیچھے رہ گئی ہے۔ حالانکہ افلاطون کے نظریات اسلامی فکر اور بعد از موت کی زندگی وغیرہ کے زیادہ قریب تھے مگر کچھ مسلم حکماء نے افلاطونی سوچ کو دنیا سے تیاگ اور فرار کے مترادف قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ علامہ اقبال بھی اس غلطی کے مرتکب ہوتے ہوئے افلاطون کو مرشد ماننے والے فارسی شاعر حافظ شیرازی کو مطعون کرتے ہیں۔ اقبال اپنی کتاب "اسرار خودی” کی ایک نظم میں نفی خودی کے عواقب کی مد میں ایک بحث کے دوران نظریہ اعیان ثابتہ کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور افلاطون اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے حافظ شیرازی کے نظریات کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔

    البرٹ آئنسٹائن ہی کا ایک قول ہے کہ، "فطرت نے ابھی تک انسان پر جو کچھ ظاہر کیا ہے وہ ایک فیصد کا ہزارواں حصہ بھی نہیں،” اور کوانٹم مکینکس کے جدید ترین نظریات تو سرے سے ایک حرکت کرتے ہوئے جسم کی سپیڈ اور مقام کو بیک وقت ماپنے ہی سے انکاری ہیں۔ اس رو سے جب سائنس مزید آگے بڑھے گی یا انجینئیرڈ طب کے میدان میں انقلاب آئے گا اور انسان کو وراثتی طور پر نئی حسیات مل گئیں تو پھر ہم مشاہدے کے زور پر موجودہ کائنات کی حقیقت کو کس نظر سے دیکھیں گے؟ یہ محض ایک سوال ہے جسے اس وقت تک سمجھنا ممکن نہیں جب تک ہم علم و دانش، سائنس اور تحقیق کے میدان میں کورے ہیں۔ "فلسفہ” کے بعد "سائنس” ہی عہد حاضر کا واحد جدید ترین علم ہے جو مشاہدے میں آنے والی کائنات کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔

    قرآن میں مختلف حوالوں سے کائنات اور دنیا و مافیہا کے بارے 750 مرتبہ سوچنے، غوروخوض کرنے اور تحقیق و جستجو کرنے کا حکم آیا ہے۔

    سوچنا اور تفکر کرنا حقیقت تک رسائی کا واحد ذریعہ ہے جسے سائنس عمل اور تجربے سے گزارتی ہے۔

  • آزادی قُرآن کی رو سے

    آزادی قُرآن کی رو سے

    آزادی قُرآن کی رو سے

    معلوم انسانی معاشرتی تاریخ کا بنیادی اور اہم ترین، معروف و پسندیدہ ترین لیکن ساتھ ہی متنازع ترین لفظ آزادی ہے۔ لفظِ آزادی (Freedom) عربی زبان کے لفظ حرّیت سے ماخوذ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ انسان کی کہانی روزِ ازل سے آزاد رہنے کی فطری خواہش اور آزادی کے لیے جنگ ہی ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ ہاں اس جنگ کے طریقہءِ کار اور مقاصد میں فکری اختلاف تو ہو سکتا ہے مگر اس کے پیچھے خواہش آزادی ہی ہے۔ اگر آپ تاریخِ انسانی کا مطالعہ کریں تو اکثر آزادی کی اسی خواہش نے انسان کو بد ترین غلامی سے بھی دوچار کیا۔

    روح اور مادے کا یہ مجموعہ انسان جس کو ارادے کی ملکیت خالق نے فطرت میں ودیعت کی اور یہی ارادہ اسے آزادی پسند اور آزادی کا طلبگار بناتا ہے۔ علمِ معاشرہ کے وجود سے پہلے بھی انسان اِس بات کو تسلیم کرتا تھا کہ ایک فرد کی آزادی کسی دوسرے فرد یا افراد کی اجتماعی آزادی کو سلب نہ کرے۔ لہٰذا معلوم انسانی تاریخ میں ایسے قوانین موجود رہے ہیں جو اجتماعی آزادی کا تحفظ کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کی آزادی میں دخیل نہ ہو۔ اور اس کے لیے اُسے اپنی آزادی کو ایک حد تک محدود کرنا پڑے گا۔ یعنی اُسے خود کو معاشرتی قوانین کا تابع کرنا پڑے گا۔ یہی وہ سلیقہ ہے کہ جس سے معاشرے میں نظم و ضبط اور امن و سکون پیدا ہو سکتا ہے۔

    جب سے معاشرتی انسانی زندگی کا آغاز ہوا تب سے انسان نے جانا کہ مکمل آزادی محض ایک خیالِ خام ہے۔ کیونکہ جتنی آزادی وہ خود اپنے لیے چاہتا ہے اتنی ہی آزادی کا حق دیگر افرادِ معاشرہ کے لیے بھی محفوظ رہنا چاہیے۔ پس اجتماعی آزادی کے لیے انفرادی آزادی کو از بس محدود کرنا لازم ٹھہرے گا۔

    اس کی وضاحت کے لیے مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ فرد گاڑی خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے تو جس معیار، رنگ اور شکل و صورت کی چاہے خریدنے کی اُسے آزادی ہے مگر اُسے سڑک پر چلانے کے لیے وہ ٹریفک قوانین کا پابند ہو گا تا کہ دیگر افراد کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ۔

    جدید مغربی طرزِ فکر نے آزادی کی ایسی حدیں مقرر کرنے کی کوشش کی کہ جن میں رہتے ہوئے معاشرے کے ہر فرد کو ممکن حد تک آزادی مل سکے۔ اس کی ایک مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ شراب پینے کی آزادی یا مرد و خواتین کو خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کے لیے ملنے کی آزادی دے دی گئی مگر حد یہ مقرر کر دی گئی کہ شرابی کا نشہ دیگر افراد معاشرہ کے لیے باعثِ خطر نہ ہو اور مرد و عورت کا اختلاط باہمی رضا مندی سے اور سرِ عام نہ ہو۔ اور اس آزادی کا نتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے اور نقصان دہ ہونے کے باوجود امریکا جیسی سپر پاور عدالتی فیصلے کے باوجود شراب پر پابندی لگانے میں ناکام رہی۔ اسی مادر پدر آزاد آزادی کی وجہ سے یورپی معاشرہ اپنی آزادی کا غلام بن کر رہ گیا ہے ۔ اظہارِ رائے کی آزادی کی آڑ میں دیگر افرادِ معاشرہ کی دل آزاری کرتے ہیں۔ دوسروں کے مقدسات کی توہین کرنے کو اپنی آزادی تصور کرتے ہیں اور مقدس کتابوں کو جلا کر اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہیں اور حکومتیں بے بس ہیں، اُنہیں یہ سمجھانے سے قاصر ہیں کہ اس طرح تم دوسروں کی آزادی سلب کر رہے ہو

    آزادی قُرآن کی رو سے
    Image by Tayeb MEZAHDIA from Pixabay

    اب آئیے دیکھتے ہیں کہ قُرآن نے آزادی کا کیا تصور پیش کیا۔ دورِ جاہلیت کے درمیانی عرصہ میں انسانیت آزادی کے نام پر بدترین غلامی میں گرفتار ہو چکی تھی۔ اسلام بنیادی طور پر آزادی ہی کی تحریک بن کر اُبھرا تھا۔ اور اسلام نے آزادی کو نئی جہت اور نئے معنی دیئے۔ اسلام نے تو دین یا مذہب کے اختیار میں بھی مکمل آزادی دے دی چنانچہ سورۃ الدھر کی تیسری آیت میں ارشاد ہوا کہ

     اٍنَّا ھَدَيْنٰهُ  السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا *

    الدھر

    ہم نے انسان کو راستے کی ہدایت کر دی خواہ شکر گزار بنے یا انکار کر دے

    حق کا درست اور سیدھا راستہ دکھانا اللہ کی ذمہ داری ہے سو اُس نے ہر زمانے اور دور میں یہ ذمہ داری انبیاء و صالحین کے ذریعے پوری کی اور پھر فرد کے اختیار میں آزادی دے دی

    اسی بات کی مزید وضاحت سورۃ البقرہ کی آیت 256 میں ہوتی ہے ارشاد فرمایا

    لَا اِكْرَاهَ فِیْ الدِّيْنِ ط قَدْتَّبَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ج وَمَنْ يَكْفُرْ بِاالطَّاغُوْتِ وَ يُؤْمِنْ بِااللّٰهِ فَقَدِاسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الوُثْقیٰ لَاانْفِصَامَ لَھَا ط وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ *

    البقرہ

    دین میں کوئی جبر یا زبردستی نہیں ہے۔ یقینی طور پر ہدایت اور ضلالت و گمراہی میں فرق واضح کر دیا گیا ہے۔ پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر پُختہ ایمان لے آئے پس بے شک اُس نے نہ ٹوٹنے والا مضبوط سہارا تھام ہے اور اللہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔

    اکثر لوگ اس آیت کے پہلے ٹکڑے کو پکڑ کر کہہ دیتے ہیں کہ جی دین میں تو کوئی جبر نہیں، جی ہاں یقیناً دین اختیار کرنے میں واقعی جبر نہیں لیکن اگر سوچ سمجھ کر اختیار کر لیا ہے تو پھر قوانین کے اطلاق میں تو بہر صورت پابندی ہے۔ قوانین پر عمل تو کرنا پڑے گا

    اسلام کے قُرآنی معاشرے میں حقِ حریت کا اطلاق مطلق آزادی پر ہوتا ہے۔۔ جیسا کہ ایمان و عقیدے کی آزادی، مذہب کی آزادی، غور و فکر اور اظہارِ رائے کی آزادی، کام کاج رہائش اور کاروبار کی آزادی، سیاسی و سماجی ، اختیارِ شہریت یہاں تک کہ انسان کی انسانیت کو بھی آزادی کا مرہونِ منت قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اسلام تصور آزادی کو حقوق و فرائض کے توازن سے عملی جامہ پہناتا ہے۔ جہاں فرد کے حقوق ہیں وہاں اس کے فرائض بھی ہیں۔ فرائض کی ادائیگی پر حقوق نہ ملیں یا حقوق کی طلب تو ہو مگر فرائض کی ادائیگی سے اجتناب ہو تو معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو جائے گا۔ پس ہر دور میں انسانی معاشرے کو اپنے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے تعلیم کا بندوبست کرتا رہا ہے مگر عمل کے لیے آزادی دیتا ہے۔ سورۃ الغاشیة کی آیا ت 21 اور 22 میں اپنے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ

    فَذَكِّر اِنَّمَا اَنْتَ مُذَكِّرٌ * لَسْتَ عَلَيْھِمْ بِمُصَيْطِرٍ *

    الغاشیة

    پس آپ کا کام نصیحت کرتے رہنا ہے۔ آپ کو اِن پر مسلط نہیں کیا گیا۔

    سورۃ یونس کی آیت 99 میں اپنی طاقت و قدرت کے باوجود فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو مومن بنا دیتا مگر جبری مومن نہیں بلکہ آزاد مومن اللہ کی پسند ہے اللہ نے آزادی دے کر کامیابی یا ناکامی کے چناؤ کو بندے کے اختیار میں دے دیا ارشاد ہوا کہ

    وَلَوْا شَأَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فَیْ الاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعاً ط اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰی يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ *

    یونس

    اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو تمام اہلِ زمین ایمان لے آتے۔ پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر سکتے ہیں؟

    بلکہ اللہ تعالیٰ تو سورۃ بنی اسرائیل کی 70 ویں آیت میں یوں ارشاد فرما رہا ہے کہ

     وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْ أٰدَمَ  وَحَمَلْنٰھُمْ  فَیْ البَرِّ وَالبَحْرِ وَرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلاً *

    بنی اسرائیل

    اور تحقیق، ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم سے نوازا۔ اور ہم نے انہیں خشکی اور تری میں سواری دی۔ اور اُنہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں برتری دی

    اب تک آپ پر یہ بات واضح ہو چکی ہو گی کہ اسلام جو اصلاً  تحریکِ آزادی کی صورت اُٹھا تھا اُس نے عملاً بھی اسے ثابت کیا۔ دیگر ادیان و مذاہب آزادی کے نام پر بلاتے رہے اور غلامی پر منتج ہوئے مگر اسلام کی دعوتِ آزادی دیگر مذاہب سے یُوں مُختلف تھی کہ اس نے انسانوں کو ایک خُدا کی غلامی کی دعوت دے کر مکمل آزادی کا یقین دلایا لہٰذا سورۃ آل عمران کی 64 ویں آیت میں دیگر ادیان کے پیروکاروں کو پیغام دیا کہ

    قُلْ يَااَھْلَ الكِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَاءٍ  بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدُ اِلَّااللّٰهَ وَلَا نُشْرِكُ بِهٖ شَيْعاً وَّلَا يَتَّخِذُ بَعْضُنَا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰه ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ *

    آل عمران

    اے میرے رسول ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ اے اہلِ کتاب اس ایک کلمے کی طرف آ جاؤ جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کے سوا آپس میں کسی کو ایک دوسرے کا رب نہ بنائیں۔ پس اگر نہ مانیں تو کہہ دیجیے کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہی ہیں۔،

    آپ نے محسوس کیا کہ قُرآن انسان کو خُدائے واحد کی غلامی کی طرف دعوت دے کر دراصل ہر طرح کی نامناسب پابندیوں سے آزاد کر دینا چاہتا ہے، اس حوالے سے پیچھے توحید کے باب میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ اسلام انسانیت اور اس کی آزادی کی کچھ بنیادی حدیں مقرر کرتا ہے۔ جن میں بنیادی نفسانی خواہشات و حرص اور شہوتوں کی غلامی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہوئے سورۃ آل عمران کی آیات 14 اور 15 میں بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ

    زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ مِنَ النِّسآءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ المُنْطَرَةِ مِنَ الذَھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ عِنْدَه، حُسْنُ المَآب ِ *

    آل عمران

    دنیا میں لوگوں کو اُن کی مرغوب چیزیں بیویاں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، اعلیٰ نسلوں کے گھوڑے، مویشی اور کھیتی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ یہ سب تو چند روزہ دنیاوی فائدے ہیں اور بہترین ابدی ٹھکانہ تو اللہ کے ہاں ہی ہے۔

    قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍمِّنْ ذٰلكُمْ ط لِلَّذِيْنَ التَّقَوْا عِنْدَ رَبِّھِمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تحْتِھِمُ الاَنْھَارُخٰلِدِيْنَ فِيْھَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَةٌ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ط وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِالْعِبَادِ *

    آل عمران

    اے رسول ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ کیا میں تمہیں ان سب چیزوں سے بہتر چیز بتا دوں؟ تو پھر سنو! جن لوگوں نے پرہیزگاری اختیار کی اُن کے لیے پروردگار کے ہاں بہشت کے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ ہمیشہ اُس میں رہیں گے۔ اور اُن کے لیے صاف ستھری بیویاں ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

    میں اس سے پہلے صفحات پر لکھ چکا ہوں اور پھر اُس کا اعادہ کرتا ہوں کہ دینِ الٰہی کا بنیادی ترین مرکز و محور توحید ہے۔ انسانی معاشرتی زندگی کے درخت کی مرکزی جڑ عقیدہءِ توحید ہے۔ جب اللہ کے وجود کا یقین ہو جاتا ہے تو پھر اُس کے قُرب کی خواہش جنم لیتی ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں یہی باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دیکھو عارضی طاقت ملنے کے بعد ان تمام عارضی و فانی پرکشش چیزوں کی تمنا میں نہ پڑ جانا۔ اور دوسرے لوگوں کے حقوق کو غصب کر کے اپنی خواہشات کی تکمیل میں نہ پڑ جانا ۔ بلکہ طاقت و حکومت ملنے کی صورت میں دوسروں کے حقوق کا تحفظ کرنا۔ اگر تم نے پرہیزگاری یعنی اللہ کے حرام سے اجتناب اور اللہ کے کیئے گئے حلال کو حلال جانا ، قوانینِ شریعت کی پابندی کی تو پھر یہ سب کچھ اس سے کہیں بہتر انداز میں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہیں میسر ہو گا۔ اور سب سے بڑا انعام یہ کہ تمہیں اپنے پروردگار کی رضا و خوشنودی حاصل ہو گی پس اس بات کا یقین کر لو کہ اللہ کے کیمرے کی آنکھ تمہیں بہرصورت دیکھ رہی ہے۔

    یہ ہوس، حرص اور لالچ ہی ہے جس کی غلامی فرد کو دوسروں کی آزادی سلب کر کے طاقتور بننے کی ترغیب دیتی ہے، انسان عدل کو چھوڑ کر ظلم پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اور معاشروں، ملکوں اور قوموں کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔ پس ہر فرد اگر ایسا درخت بن جائے کہ جس کی جڑیں توحید و عدل و نبوت سے مضبوط ہوں قیامت اور جوابدہی کا یقین ہو تو پودے کا تنا یقیناً مضبوط اور طاقتور ہو گا۔ عبادات کی شاخیں ثمر بار ہوں گی اور معاشرہ مثلِ جنت ہو گا۔ لہٰذا خود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غلامی میں دیجیے مطلق آزادی کا حصول یقینی ہو جائے گا

    سید مونس رضا کی زیرِ تکمیل کتاب (فرد، ریاست اور سیاست قُرآن کی رو سے) سے اقتباس۔ اس مضمون یا اس کے کسی حصے کو بلا حوالہ نقل کرنا قانونا جرم ہے ۔ اس کی وضاحت و تفصیل ہمارے صفحہ شرائط استعمال پر موجود ہے۔

  • قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں

    قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں

    قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں!

    Dubai Naama

قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں

    حقیقی اور غیر متبدل علم صرف "وحی” ہے باقی سب عقائد اور روحانی علوم ارتقاء پذیر تعلیمات ہیں۔ ہماری حقیقت وہی ہے جو ہماری جذباتی کیفیت ہے جو کہ ہمارے مضبوط ایمان پر مبنی ہے جسے ہم تقدس سے اپنے دل اور دماغ سے جوڑے رکھتے ہیں۔

    قرآن اور خدا پر ہمارا ایمان اندھے یقین پر مبنی نہیں ہونا چایئے بلکہ ایسا ہونا چایئے کہ جیسے قرآن کو ہم نے پڑھ لیا ہے اور خدا کو ہم نے دیکھ لیا ہے اور ہمارا پختہ یقین ہے کہ وہ ہے ناکہ ہم امید کریں کہ وہ ہو گا۔

    کوئی شخص اپنے ایمان سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایسا کامل یقین ہے جو دل کی گرفت میں آنے کی بجائے دل کو اپنی گرفت میں لیتا ہے۔

    ہر ایسا غیر سائنسی عقیدہ ہماری زندگی کو تباہ کر سکتا ہے جس کے بارے میں ہمارا عقلی علم ناقص ہو۔

    کوانٹم لیول پر خدا کو ہم بطور ناظر خدا کی صنائی اور قوانین کے اعتبار سے بہت قریب سے سمجھ سکتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے سفر میں ہم جتنی زیادہ دریافتیں کرتے ہیں خدا کی ذات پر ہمارے یقین کا درجہ اتنا ہی زیادہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس بات کو کلاسیکل اور کوانٹم فزکس کی زبان میں سمجھنے سے پہلے آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ خدا پر ایمان قائم کرنے کے لئے یقین کے کتنے درجے ہیں:

    قرآن کے مفسرین اور اہل حق علماء یقین کے درج ذیل تین درجات بتاتے ہیں:
    1۔ یقین
    2۔ عین الیقین اور
    3۔ حق الیقین

    اس کی مثال یوں ہے کہ آپ آگ کو دیکھے بغیر سنتے ہیں کہ آگ حرارت رکھتی ہے اور جلاتی ہے، پھر آپ دھواں دیکھتے ہیں تو آپ یقین کر لیتے ہیں کہ دھواں اس بات کی دلیل ہے کہ آگ جلاتی ہو گی۔ یقین کے اس درجہ میں خدا پر ایمان اقرار کی حد تک ہوتا ہے۔ یہ یقین کا پہلا اور بنیادی درجہ ہے۔ یقین کا دوسرا درجہ عین الیقین کا ہے۔ ایمان کے اس لیول پر پہنچ کر یہ تجربہ ہوتا ہے جس کی مثال یہ ہے کہ آپ آگ کے پاس بیٹھ کر اس کی تپش محسوس کرتے ہیں تو آپکا یقین زیادہ پختہ ہو جاتا ہے کہ آگ حقیقتا جلاتی ہے۔ جبکہ حق الیقین کا تیسرا اور آخری درجہ یہ ہے کہ آپ آگ میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں اور یقین کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آگ واقعی جلاتی ہے۔

    کائنات کو "خدا” نے بنایا ہے، یہ بات ایک مفروضہ، نظریہ یا عقیدہ ہے مگر یہ حق الیقین کے درجہ کا ایمان نہیں ہے۔ تاہم یہ ایمان یقین اور عین الیقین سے ہوتا ہوا حق الیقین میں اسی وقت بدلتا ہے یعنی خدا پر گہرا اور کامل ترین ایمان اسی وقت قائم ہوتا ہے جب آپ کائنات کو جاننے کے لئے سائنس کے علم تشکیک (یقین)، مفروضے و تجربے (عین الیقین) اور قانون (حق الیقین) سے گزرتے ہیں۔

    جب آپ سنتے ہیں کہ کائنات خدا نے بنائ ہے تو آپ میں تجسس پیدا ہوتا ہے کہ آخر خدا نے یہ کائنات کیسے بنائ، اب یہ کن اصولوں اور قوانین پر قائم ہے اور اسکے کام کرنے کا ‘طریقہ کار’ کیا ہے؟ اس نوع کے سوالات کا جواب جاننے کے بارے میں آپ کا یہی غور و فکر اور جستجو ‘سائنس’ کا علم ہے۔ جب آپ سنتے ہیں کہ کائنات خدا نے بنائ ہے تو آپ مادے اور اجرام فلکی کی ‘حقیقت’ جاننے کے لئے مزید تحقیق کرتے ہیں اور تجربات کرتے ہیں۔ جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ مادہ تو ننگی آنکھ سے نظر نہ آنے والے چھوٹے چھوٹے ایٹموں سے بنا ہوا ہے، اس میں ایک نیوکلئیس ہے جس میں ایٹم سے بھی چھوٹے زرات پروٹان، نیوٹران، الیکٹران، گلوآن اور کوراک وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ الیکٹران ایٹم کے مدار کے گرد چکر لگاتے ہیں، ہر عنصر کے الیکٹران مختلف تعداد میں ہوتے ہیں، ان الیکٹران میں کچھ مدار کے گرد گھومتے ہیں اور کچھ اپنے مدار سے باہر نکل کر دوسری دھاتوں اور عناصر سے کیمیائ تعاملات وغیرہ کرتے ہیں۔

    یہ کلاسیکل اور کوانٹم فزکس کا سائنسی علم ہے جو آپ کو حیرت زدہ کر دیتا ہے کہ سب اٹامک کے اتنے چھوٹے لیول پر یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے اور "کون” کر رہا ہے تو آپ کی حیرت مزید بڑھتی ہے۔ آپ دنیا جہان کی سائنسی کتب، نظریات اور قوانین چھان مارتے ہیں مگر آپکو "کیسے” کا جواب تو مل جاتا ہے مگر "کیوں” اور "کون” کا جواب کہیں نہیں ملتا اور نہ ہی سائنس ابھی تک اس کا کوئ حتمی جواب دے سکی ہے۔

    چونکہ آپ مادے کے خواص اور کام کرنے کے اس طریقہ کار کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور آپکا یقین، "عین الیقین” سے ہوتا ہوا "حق الیقین” کے درجے تک پہنچ جاتا ہے تو آپ پکار اٹھتے ہیں کہ: "کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔”

  • قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    Dubai Naama

قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    سوئیڈن میں قرآن پاک کو عید الاضحٰی کے موقع پر جلانے کا واقعہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہر طرف سے حسب توقع مذمتی بیانات آ رہے ہیں، جلسے جلوس نکالے جا رہے ہیں اور سوئیڈن کے سفیروں کو طلب کر کے اس واقعہ کی سرکاری سطح پر مزمت کی جا رہی ہے۔ اس دفعہ احتجاج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

    قرآن پاک کی سوئیڈن میں چھ ماہ کے اندر بے حرمتی کا یہ دوسرا واقعہ ہے جس کی عالم اسلام ہی نہیں مغربی دنیا میں بھی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔اس بار سوئیڈن کی عدلیہ اور حکومت نے قرآن کریم کو جلانے والے نامراد شخص کو سیکورٹی بھی فراہم کی۔ گہری نظر سے دیکھا جائے تو جس طرح سوئیڈن حکومت نے عدلیہ کے کندھے پر اس واقعہ کی سرپرستی کرنے کی حماقت کی، اس کی مثال پہلے کبھی قائم نہیں ہو سکی تھی۔ گو کہ اس سے قبل 2015 میں خاکے دکھانے کے چارلی ایبڈو کے سیرئیل واقعات کے پیش آنے میں بھی فرانسیسی  حکومت نے حوصلہ افزائی کی تھی مگر سوئیڈن عدالت نے اس تاریخ ساز واقعہ کی ہزیمت اٹھانے اور انسانیت میں نفرت کو قانونی شکل دینے میں جو ریکارڈ قائم کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

    یہ واقعہ تعصب انگیز اور متعصبانہ کارروائی ہے جو مذہبی رواداری، باہمی احترام اور تہذیب و شائستگی کی اعلیٰ انسانی اقدار کے سراسر منافی ہے۔57مسلم ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے علاوہ یورپی یونین نے بھی دنیا کے ڈھائی ارب مسلمانوں اور ہر شائستہ اور مہذب انسان کی دل آزاری پر مبنی اس اشتعال انگیر کارروائی کی سخت الفاظ میں سرزنش کی ہے۔ جبکہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے تقریباً دو سو عینی شاہدین کے مطابق اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر دو مظاہرین نے قرآن کے نسخے کو پھاڑ دیا اور مقدس اوراق کی بے حرمتی کرنے کے بعد انہیں نذر آتش کیا۔ مظاہرے سے قبل واقعے میں ملوث شخص ملعون سلوان مومیکا نے ایک امریکی نیوز چینل کو بتایا کہ وہ کسی مذہب کو نہیں مانتا، وہ یہ مظاہرہ عدالت میں تین ماہ کی قانونی جنگ جیتنے کے بعد کر رہا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ قرآن پر پابندی لگائی جائے۔ واضح رہے کہ سوئیڈن کی پولیس نے مسلم مخالف مظاہروں کی اجازت کی کئی درخواستیں خارج کر دی تھیں! مسجد کے ڈائریکٹر اور امام محمود خلفی نے انکشاف کیا کہ مسجد انتظامیہ نے پولیس سے درخواست کی تھی کہ وہ کم از کم مظاہرے کو کسی دوسری جگہ منتقل کر دیں جو قانون کے مطابق ممکن تھا مگر یہ درخواست قبول نہیں کی گئی تھی۔

    یہ خاص واقعہ محض قرآن پاک کو جلا کر اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کے اظہار کا واقعہ ہی نہیں ہے بلکہ عالمی امن اور بھائی چارے کے داعی دنیا بھر کے اعتدال پسند حلقوں کے جذبات اور برداشت کی پیمائش کرنے کے لئے اس واقعہ کو ایک "لٹمس ٹیسٹ” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دنیا میں یہ واقعہ انسانیت کے خلاف دہرے معیار اور منافقت کا منہ بولتا ثبوت یے یعنی سوئیڈن کی عدالت نے ایک ایسا فیصلہ دیا کہ دوسرے  انسانوں کے حساس اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے، ان میں دوسروں کے خلاف نفرت اور دشمنی پھیلانے کی اب قانونی اجازت ہے۔ ظاہر ہے کہ آئندہ اس کیس کو دوسری عدالتیں بھی سماعت کے دوران کوئی نیا فیصلہ دینے کے لئے ایک مثال کے طور پر پیش کر سکتی ہیں۔

    یہ واقعہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کو جلانے سے زیادہ انسانی معاشرے میں انصاف، رواداری اور امن و سکون قائم کرنے کے خلاف اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہی نہیں، بلکہ اس واقعہ نے مسلمانوں کے  اسلامی تشخص اور کردار کی بھی قلعی کھول دی ہے کہ اب دنیا بھر کے مسلمان اور حکومتیں احتجاج کرنے سے آگے بڑھنے کی طاقت مکمل طور پر کھو چکی ہیں۔ جب مسلمانوں کو عروج حاصل تھا تو جرمنی کے فلسفی اور شاعر گوئٹے نے اپنی ایک منظوم نظم میں اسلام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ

     جہاں سے مسلمانوں کا قافلہ گزرتا ہے انسان تو انسان وہاں کے صحرا و ریگستان بھی بول اٹھتے ہیں کہ اے سوئے خدا کو جانے والو ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو۔

    گوئٹے

    آج مسلمان مرگ مفاجات کی اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والوں کے دل میں صلیبی جنگوں اور دو عالمی جنگوں کی طرز کا احساس برتری پیدا ہو گیا ہے اور جو اب مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کے لئے بھی ایک نفسیاتی عارضہ بننے کے لئے تیار ہے۔

    مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی کی نفسیات کو سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ یورپ میں قرآن پاک کا ترجمہ بارہویں صدی میں لاطینی زبان میں کرانے کا بنیادی محرک مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کے خلاف لٹریچر پیدا کرنا تھا جو صرف قلمی نسخوں پر مبنی تھا، جو یورپ میں ایک عرصہ تک رائج رہا جو مکمل ترجمہ بھی نہیں تھا بلکہ چند مضامین کا خلاصہ تھا۔ یہ ترجمہ عام طور پر دستیاب نہیں تھا اور اس کے نسخے کا زیادہ تر حصہ ان لوگوں کی تحویل میں تھا جو اسلام کی مخالفت اور دشمنی میں پیش پیش تھے۔ یہ ایک تاریخ ہے جس میں مارٹن لوتھر کنگ نے بھی حصہ ڈالا تھا کہ قرآن کے اس ترجمے ہی کو دنیا میں رائج کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے کبھی کبھی یہ خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ امریکہ سے قرآن پاک کے "مخصوص نسخے” تیار کر کے دنیا بھر میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔

    سوئیڈن کے واقعہ کے بعد مسلمانوں کے لئے یہ ایک ایسا چیلنج ہے کہ اب امہ کو احتجاج کا انداز بدلنے کی ضرورت ہے۔

    سوئیڈن میں قرآن جلانے کے حالیہ واقعے کے دعوت اسلام کی مناسبت سے ایک بھرپور اور دور رس حکمت عملی یہ ہے کہ ہماری اکثریت جس مار دو، گرا دو، سفیر کو نکال دو یا بائیکاٹ کر دو والے جذباتی بیانیےمیں مبتلا ہے اب اس سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عین اسلام صرف گفتار کا نہیں بلکہ کردار کا اسلام  ہے، کیونکہ قرون اولی کی ایسی زبردست مثالیں بھی ہیں، جن سے بوجوہ ہم نے سبق  سیکھنے کی بجائے متشددانہ رویوں کو ہی اسلام سمجھ لیا ہے. ضرورت ہے کہ آزادی رائے پر مبنی مغرب کے ایسے مذہب دشمن اور معاندانہ رویوں کے خلاف ہمارے اہل فکر علماء آگے آ کر مناسب حکمت عملی طے کریں اور ایک حکیمانہ انداز میں جواب دیں۔

    بقولے شخصے، "سوئیڈن کی نیشنیلٹی چھوڑنا قرآن سوزی کا جواب نہیں ہے۔” یہ واقعہ ہے کہ جب معاذ بن جبل ایک نوجوان کے طور پر مدینہ سے یمن گئے تھے، اور جب وہ کچھ عرصہ بعد واپس مدینہ آیا تھا تو یمن میں ایک متنفس بھی غیر مسلم نہیں تھا. اسی طرح اسلام کے آغاز میں جب نجاشی کے دربار میں حضرت  جعفر بن طیار رضی اللہ تعالی عنہ نے تقریر کی تھی تو نجاشی کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا۔ حتی کہ برصغیر میں صوفیائے کرم کے اخلاق، عدم تشدد اور رواداری پر مبنی اعلی اور مثالی اوصاف کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ چہ جایکہ دنیا کی کوئی بھی کمزور قوم سیاسی اور معاشی طاقت حاصل کیئے بغیر زوال اور غلامی سے نہیں نکل سکتی۔

    خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت کو بدلنے کی خود کوشش نہیں کرتی (مفہوم القرآن)۔

  • صبر و شکر کا حقیقی مفہوم

    صبر و شکر کا حقیقی مفہوم

    صبر و شکر کا حقیقی مفہوم

    تحریر: بینش احمد
    زندگی مشکلات کا دوسرا نام ہے-ہر انسان کو اپنی زندگی میں مصیبتوں اور مشکلوں کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے چاہے وہ غریب ہو یا امیر، بوڑھا ہو یا جوان، اچھا ہو یا برا، مرد ہو یا عورت، سب کبھی نہ کبھی مصائب و مشکلات کا سامنا ضرور کرتے ہیں –
    زندگی کے سفر میں ہمارا وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، کوئی دن ہمارے لیے خوشی کی خبر لے کر آتا ہے تو کوئی تو کوئی دکھ کی، کبھی ہم پر خوشیوں کی بارش ہوتی ہے تو کبھی غم کی آندھیاں چلتی ہیں،
    الغرض! مصیبتوں اور پریشانیوں سے انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لیکن اسلام نے ہر حالات میں صبر اور شکر ادا کرنے کی تلقین کی ہے-

    صبر کیا ہے؟ صبر یہ ہے کہ ہم مصیبتوں پریشانیوں اور برے وقت کے باوجود اللہ سے شکوہ کرنے کی بجائے ہر حال میں اس کا شکر ادا کریں کہ
    ” اے رب تو جس حال میں رکھے ہم اس حال میں راضی ہیں-“
    صبر ایک عظیم نعمت ہے جو مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے تقویٰ کے ذریعے ہوائے نفس پر اور صبر کے ذریعے اپنے نفس پر قابو پا لیا-
    عربی لغت میں صبر کا معنی برداشت سے کام لینے۔ خود کو کسی بات سے روکنے اور باز رکھنے کے ہیں۔
    جبکہ شکر کے معانی عربی لغت میں اظہارِ احسان مندی، جذبہ سپاس گزاری کے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں صبر کا مفہوم یہ ہے کہ نفسانی خواہشات کو عقل پر غالب نہ آنے دیا جائے اور شرعی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔ صبر کے عمل میں ارادے کی مضبوطی اور عزم کی پختگی ضروری ہے۔ بے- کسی مجبوری اور لاچاری کی حالت میں کچھ نہ کرسکنا اور رو کر کسی تکلیف و مصیبت کو برداشت کرلینا ہرگز صبر نہیں ہے بلکہ صبر یہ ہے کہ ہم اپنے عمل میں ثابت قدم رہیں اور سچے دل سے اللہ کی رضا میں راضی ہوں-
    مسلمان کی پوری زندگی صبر و شکر سے عبارت ہے۔ دین اسلام کی ہر بات صبر و شکر کے دائرے میں آجاتی ہے۔
    صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے ہاں صبر کا بے حساب اجر رکھا ہے۔
    آج کے انسان کو دین سے دوری کی وجہ سے بہت ذیادہ مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا-لیکن اگر ہم خالقِ کائنات کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس دنیا میں صبر سے کام لیں تو ہمارے زیادہ تر مسائل خود بخود ہی حل ہو جائیں گے۔

    قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :

    أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

    اللہ تعالیٰ نے دیگر نیک اعمال کے مقابلہ میں صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرمائے گا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

    قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ

    حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمؐ رات کو کثرت سے قیام فرماتے اور عبادتِ الٰہی میں مگن رہتے۔ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔
    آپ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا :
    یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا.
    ’’کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘
    مسلم، الصحيح، کتاب صفة القيامة و الجنة و النار، باب : اکثار الاعمال و الاجتهاد فی العبادة، 4 : 2172، رقم : 2825

    صبر کرنے کی سب سے زیادہ اہمیت زندگی کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک ہے مثال کے طور پر جنگ-
    ان حالات میں صبرو تحمل اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ لہذا قرآن کریم میں صبر کو جنگی میدان میں جنگجو کی بہادری کی عکاسی کرنے والی ایک خصوصیت ہونے کا ذکر آیا ہے
    مگر حقیقت اس کے برعکس ہے-افسوس! آج ہم صبر سے بہت دور ہو چکے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی تعداد ذِہنی دباؤ، ڈپریشن، شوگر اور بلڈپریشر جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہو رہی ہے۔
    یاد رکھئے! دنیا میں ایسے بڑے بڑے عقل مند آئے ہیں جنہیں اپنی عقل اور ذہانت پر بہت ناز تھا پر بےصبری کے باعث انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے-آج دینی و دنیاوی معاملات میں صبر کا دامن چھوڑنے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہی کی سمت جارہا ہے،لڑائیاں عام ہو چکی ہیں، دوسروں کے بغض و کینے سے سینے بھرے ہوئے ہیں، آستینیں چڑھی ہوئی ہیں اور لوگ ماردھاڑ پر پر اتر آئے ہیں-
    چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ہمارے نوجوانوں سے برداشت نہیں ہوتی- صبر و شکر کی کمی کی وجہ سے گھر کے گھر اجڑ رہے ہیں-
    ہمارے لیے ہمارے پیارے نبی اکرمؐ کے زندگی صبر و شکر کا بہترین نمونہ ہے-
    نبیِ اکرمؐ کی مکمل زندگی صبر و تحمل سے بھری ہوئی ہے، کافروں نے آپؐ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، پتھر برسائے، راہ میں کانٹے بچھائے،ڈرایا،دھمکایا،بُرا بھلا کہا،قتل کی سازشیں کیں مگر پیارے آقاؐ نے کبھی کوئی جوابی کاروائی نہ کی،انہوں نے ہمیشہ خود بھی صبر سے کام لیا اور رہتی دنیا تک اپنے ماننے والوں کو مشکلات میں صبر کی تلقین ارشاد فرمائی۔
    آپؐ کا فرمانِ ہے:جسے کوئی مصیبت پہنچے اسے چاہئے کہ اپنی مصیبت کے مقابلے میں میری مصیبت یاد کرے بے شک وہ سب مصیبتوں سے بڑھ کر ہے۔(الجامع الکبیر للسیوطی،ج7،ص125،حدیث:21346)

    یاد رکھئے! زندگی کا کوئی بھی موڑ ہو، صبر کے بغیر ہماری تمام زندگی نامکمل ہے۔
    آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر وقت اللہ پاک کے آگے صبر و شکر کرتے رہیں-چاہے ہماری زندگیوں میں کتنی ہی مصیبتیں،غم اور پریشانیاں کیوں نا ہوں۔
    آخر ہمیں کس چیز کی کمی ہے کہ ہم اس پاک ذات کا شکر ادا نہیں کرتے- ہم ایک اسلامی ملک میں آزادی سے سانس لے رہے ہیں اس سے بڑی نعمت کیا ہو گی-
    میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں صبر و شکر کی دولت عطا فرمائے- آمین

    beenish 

صبروشکرکا حقیقی مفہوم
  • عدل و انصاف قُرآن کی رُو سے

    عدل و انصاف قُرآن کی رُو سے

    عدل و انصاف قُرآن کی رُو سے

    قُرآن مجید فُرقانِ حمید نے عدل کے لیے دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ عدل اور قسط  ۔ اور فارسی زبان میں اسی کو ہی انصاف کہا گیا ہے۔ اور انصاف ہی اردو زبان میں بھی عدل کے لیے مستعمل ہے۔

    علمائے لغت کی اکثریت نے لفظِ عدل کے معانی کو مساوات یعنی برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنا قرار دیا ہے۔ اور چونکہ عدل کے متضاد لفظِ جَور/ ظلم مستعمل ہے اور جَور کے معنی کسی شے کو اُس کے حقیقی مقام سے گرا دینے کے ہیں لہٰذا مولا علی علیہ السلام نے اس کی جامع تعریف یوں بیان فرمائی ہے کہ

    عدل و انصاف قُرآن کی رُو سے
    Image by Pexels from Pixabay

    کسی بھی شے کو اس کے حقیقی مقام پر رکھنا عینِ عدل ہے اور اس کو اپنے حقیقی مقام سے گِرا دینا یا بڑھا دینا ظلم ہے

    تحقیقی اعتبار سے افراط و تفریط کا وسط یعنی جس میں نہ کوئی کمی اور نہ زیادتی ہو عدل کہلاتا ہے ۔ اور اسی کو قُرآن نے میزان قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ قُرآن مجید میں عدل بمعنی فدیہ یا عوض یا بدلہ بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت ۷۰ میں فرمایا کہ

    َ اِنَ اِن تَعدِل کُلَّ عَدلٍ لَّا یُؤخَذ مِنہَا ؕ تَعدِل کُلَّ عَدلٍ لَّا یُؤخَذ مِنہَا ؕ

    اور اگر وہ فدیہ (معاوضہ یا بدلہ دینا چاہیں) تو بھی اُن سے نہ لیا جائے۔

    سورۃ المائدہ کی آیت ۹۵ میں ارشاد ہوا کہ

    اَو کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِینَ اَو عَدلُ ذٰلِکَ صِیَامًا ﴿۹۵﴾

    یا اُس کے کفارہ یعنی جرمانہ/قیمت سے محتاجوں کو کھانا کھلائے یا اُس کے مساوی روزے رکھے۔

    اس سے واضح ہو گیا کہ عدل برابری اور مساوات کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

    قُرآن مجید میں انفرادی عدل کے لیے بہت سی آیات میں ذکر فرمایا گیا ہے جن کے بارے میں آگے مقدور بھر بیان کی کوشش کی جائے گی۔ اسلامی تعلیمات میں توحید کے بعد سب سے زیادہ زور عدل پر دیا گیا ہے اور قُرآن نے توحید اور عدل کو اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفاتِ ثبوتیہ میں سے قرار دیا ہے۔ بلکہ توحید بالذاتہٖ بھی عدل کا بنیادی ترین تقاضا ہی تو ہے۔ دیکھیے سورۃ آل عمران کی ۱۸ ویں آیت کا مضمون۔

    شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ  وَ المَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا العِلمِ قَآئِمًا بِالقِسطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿ؕ۱۸﴾

    اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام فرشتوں نے اور تمام صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ہیں کہ اُس زبردست حکمت والے اور غالب و دانا کے بغیر کوئی معبود نہیں۔

    اللہ تعالیٰ سورۃ الانفطار کی چھٹی اور ساتویں آیت میں انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے انسان تو اپنے مہربان رب کی لازوال نعمتوں، رحمتوں، اور مہربانیوں کے باوجود آخر کس دھوکے میں اس قدر نا فرمان ہو گیا ہے۔ جیسے تو نے لوٹ کر اس اللہ کے پاس جانا ہی نہیں ہے۔ ساتویں آیت میں ارشاد فرمایا تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تیرا رب وہ ہے جس نے تجھے تخلیق کیا۔ اور پھر تمہارے تمام اعضاء و جوارح کو ایک حیرت انگیز طریقے سے بالکل درست بنایا اور پھر اُن اعضاء و جوارح کو پورے عدل و اعتدال کے ساتھ اپنے اپنے مقام پر رکھا۔ اور یوں گویا ہوا

    الَّذِی خَلَقَکَ فَسَوّٰىکَ فَعَدَلَکَ ۙ﴿۷﴾

    جس نے تجھے پیدا کیا۔ پھر تجھے راست بنایا۔ پھر تجھے معتدل بنایا۔

    اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس کائنات کا پورا نظام عدل کی وجہ سے ہی قائم ہے۔ نظام شمسی، ستارے، سیارے، دن رات  موسموں کا تغیر و تبدل غرضیکہ سب کچھ نظام عدل کی وجہ سے قائم ہے۔ اور جونہی یہ سارا نظام عدل کے دائرے سے باہر آئے گا تو تمام نظام ہستی درہم برہم ہو جائے گا اور اسی کا نام قیامت ہے۔

    آپ دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ معاشرتی نظام میں عدل کی کس قدر اہميت ہے کہ اُس نے تمام انبیاء علیہم السلام کی بعثت کو ہی نظام عدل کے قیام کا بنیادی مقصد قرار دے دیا ہے چنانچہ سورۃ الحدید کی آیت ۲۵ میں کھلے الفاظ میں بیان فرمایا کہ

    لَقَد اَرسَلنَا رُسُلَنَا بِالبَیِّنٰتِ وَ اَنزَلنَا مَعَہُمُ الکِتٰبَ وَ المِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالقِسطِ ۚ وَ اَنزَلنَا الحَدِیدَ فِیہِ بَاسٌ شَدِیدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعلَمَ اللّٰہُ مَن یَّنصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالغَیبِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ﴿٪۲۵﴾

    تحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے۔ اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے۔ تا کہ لوگ عدل قائم کریں۔ اور ہم نے لوہا اُتارا کہ جس میں شدید طاقت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔ تا کہ اللہ معلوم کر سکے کہ کون بِن دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ یقیناً بڑی طاقت والا؛ غالب آنے والا ہے۔

    معزز قاری! غور فرمائیے اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد، بنیادی غرض و غایت عدل و انصاف کے قیام ہی کو قرار دے رہا ہے۔ انبیاء کرام علیھم السلام کو دی جانے والی شریعت، آیات بینات؛ کتابیں اور میزان اس لیے تھیں کہ لوگوں کوایک دوسرے کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اور پھر اگر اس آیت کے اگلے حصے پر غور کریں تو واضح ہو جائے گا کہ جب انصاف قائم کیا جائے گا تو مزاحمت یقینی ہے ۔ وہ گروہ جو ناجائز طریقے سے۔ طاقت اور دھونس کے ذریعے اپنا ظلم و جبر اور ناجائز تسلط جاری رکھنے کے لیے ظلم و نا انصافی کرتے ہوئے عدل وانصاف کے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے تو اللہ کا ارشاد ہے کہ اُس کو بذریعہ طاقت روکا جائے اور اس مقصد کے لیے ہم نے لوہا پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر بس اتنا کہوں گا کہ ارشادِ قدرت ہے کہ یہ لوہا تمہیں بھرپور طاقت مہیا کرے گا۔ اور یہ قیامت تک کے انسانوں کا امتحان بھی ہو گا کہ کیا وہ بِن دیکھے اللہ کی خاطر اور قیام عدل و انصاف کے لیے کھڑے ہونے والوں کا ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔ اور پھر پورے وثوق سے فرمایا کہ اس بات پر یقین کر لو کہ اللہ اپنی طاقت سے غالب آ کر رہے گا۔ میرے ذاتی خیال میں تو یہ ہم سب کا امتحان ہی ہے اور تاریخ کے حوالے سے جتنا میرا مطالعہ اور تجربہ ہے اس کے مطابق تو مسلمانوں کی اکثریت عدالت کے امتحان میں ناکام ہی رہی ہے

    آئیے عدل کی اہمیت کو مزید قُرآن میں دیکھتے ہیں۔ آپ مقامِ عدل کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف کی آیت ۲۹ میں خود اپنے حبیب سے فرما رہا ہے اے میرے رسول ﷺ ان کو بتائیے

    قُل اَمَرَ رَبِّی بِالقِسطِ ۟

    کہہ دیجیے! میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور سورۃ یونس آیت ۴۷ میں بھی تمام رسولوں کو بھیجنے کا مقصد قیام عدل بیان ہوا چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے کہ

    وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُولٌ  فَاِذَا جَآءَ رَسُولُہُم قُضِیَ بَینَہُم بِالقِسطِ وَ ہُم لَا یُظلَمُونَ﴿۴۷﴾

    اور ہر اُمت کے لیے ایک رسول بھیجا گیا ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اور اُن پر کوئی ظلم روا نہیں رکھا جاتا

    ایسی اور بھی بہت سی آیات میں اسی بات کا اعادہ کیا گیا ہے مقصد فقط یہی ہے کہ اُمتِ مصطفوی  ﷺ کو عدل و انصاف کی فضیلت سے آگاہ کیا جائے ۔ اور معاشرے میں عدل و انصاف کی حکمرانی پر آمادہ و تیار کیا جائے۔ کیونکہ کامیاب معاشرتی زندگی کا راز، انسانی ترقی عدل ہی سے ممکن ہے۔ اسی لیئے مولا علی علیہ السلام نے فرمایا کہ حکومت صرف عدل کی وجہ سے قائم رہ سکتی ہے۔

    اب اس موضوع کو تھوڑا آگے بڑھاتے ہیں اور عدل کو ایک دوسرے پہلو سے دیکھتے ہیں سورۃ الانعام کی پہلی آیت میں بیان کیا گیا ہے

    اَلحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّورَ ؕ ثُمَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّہِم یَعدِلُونَ ﴿۱﴾

    ثنائے کامل ہے اللہ رب العزت کے لیے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا۔ پھر بھی یہ کفار(دوسرے دیوتاؤں کو) اپنے رب کے برابر لاتے ہیں ۔

    اس آیت کے بعد حضرت علی علیہ السلام  کی طرف سے کی گئی تعریف بالکل درست ثابت ہوتی ہے۔ یعنی کہاں اللہ کا مقام اور کہاں خیالی و فانی دیوتا۔ اس آیت میں یہ کہا جا رہا ہے کہ دو متضاد چیزوں کو برابر قرار دینا عدل کے منافی یعنی ظلم ہے

    اور اسی سورۃ کی ۱۵۰ ویں آیت عدل کی اس تعریف کی مزید وضاحت  کرتی ہے

    قُل ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ الَّذِینَ یَشہَدُونَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا  فَاِن شَہِدُوا فَلَا تَشہَد مَعَہُم ۚ وَ لَا تَتَّبِع اَہوَآءَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِینَ لَا یُؤمِنُونَ بِالاٰخِرَۃِ وَ ہُۡ بِرَبِّہِ یَعدِلُونَ﴿۱۵۰﴾

    کہہ دیجیے! اپنے گواہوں کو لے آؤ۔ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے اس چیز کو حرام قرار دیا ہے۔ پھر اگر وہ (خود ساختہ) گواہی لے بھی آئیں تو آپ  ﷺ اُن کے ساتھ گواہی نہ دیں۔ اور آپ  ﷺ ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور دوسروں کو اپنے رب کے برابر سمجھتے ہیں۔

    اسی طرح معاشرتی نظام عدل پر پورا معاشرہ قائم ہوتا ہے چنانچہ سورۃ النسآء کی آیت ۱۳۵ میں ارشاد ربانی ہو رہا ہے کہ

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا کُونُوا قَوّٰمِنَ بِالقِسطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَو عَلٰۤی اَنفُسِکُم اَوِ الوَالِدَینِ وَ الاَقرَبِینَ ۚ اِن یَّکُن غَنِیًّا اَو فَقِیرًا فَاللّٰہُ اَولٰی بِہِمَا  فَلَا تَتَّبِعُوا الہَوٰۤی اَن تَعدِلُوا ۚ وَ اِن تَلوٗۤا اَو تُعرِضُوا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعمَلُنَ خَبِیرًا﴿۱۳۵﴾

    اے ایمان والو! انصاف کے سچے داعی بن جاؤ اور اللہ کے لیے گواہ بنو۔ اگرچہ تمہاری ذات یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اگر کوئی امیر یا فقیر ہے تو اللہ اُن کا بہتر خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش ِ نفس کے تابع ہو کر عدل نہ چھوڑو۔ اگر تم نے کَج بیانی سے کام لیا تو یا (گواہی سے) پہلو تہی کی تو جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے بخوبی آگاہ ہے ۔

    جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ اس آیت میں اجتماعی و معاشرتی عدل کا صاف اور سادہ انداز میں حکم دیا گیا ہے کہ اے وہ لوگو! جو اہلِ ایمان ہونے کے دعویدار ہو انصاف کے داعی بن جاؤ یعنی اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر تمہیں عدل کرنا پڑے گا۔ اور یہ بھی وضاحت کر دی گئی کہ نہ صرف خود عدل کرنا ہے بلکہ اہلِ ایمان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ انصاف کے قیام کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ اور اگر کبھی منصف کی کرسی پر بیٹھے ہو تو مقابل اگر تمہارے ماں باپ؛ اولاد اور اقرباء بھی ہوں تو فیصلہ عدل و انصاف سے کرنا۔ جو لوگ قُرآن مجید کا گہرائی میں مطالعہ کرتے ہیں وہ جانتے ہیں اللہ تعالیٰ نے والدین اور اعزاء و اقارب کے کتنے حقوق بیان فرمائے ہیں اپنی بندگی و اتباع کے حکم کے فوراً بعد والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے۔ لہذا اس سے عدل کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ والدین، اقرباء، دوست احباب بھی عدل کرنے میں رکاوٹ کا سبب نہ بنیں۔ یا خواہشات نفسانی یعنی اولاد کے مستقبل کی خاطردنیاوی مال و دولت کی ہوس تمہیں خیرہ نہ کر دے۔ اور پھر فرمایا کہ عدل کرنے میں امیر و غریب یا طاقت ور اور کمزور کا فرق نہیں کرنا بلکہ حقدار کو انصاف دینا ہے۔ عدل کرنے میں اپنی ذاتی و نفسانی خواہش کی اتباع نہیں کرنی بلکہ صرف انصاف کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہے اور آخر میں تنبیہ فرمائی کہ یاد رکھنا اللہ جس پر ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو وہ تمہارے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔

    عدل ایک جامع نظام ہے۔ معاشرے میں امن و سلامتی دراصل عدل و انصاف کے استحکام سے مشروط ہے چنانچہ سورۃ المآئدہ کی آیت نمبر ۸ میں خالقِ عدل ارشاد فرمایا رہا ہے کہ

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا کُونُوا قَوّٰمِینَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالقِسطِ  وَ لَا یَجرِمَنَّکُم شَنَاٰنُ قَومٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعدِلُوا ؕ اِعدِلُوا  ہُوَ اَقرَبُ لِلتَّقوٰی  وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیرٌۢ بِمَا تَعمَلُونَ﴿۸

    اے ایمان والو! اللہ کے لیے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔ اور کسی قوم سے دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بننے پائے (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال سے بخوبی آگاہ ہے

    اس آیت کا موضوع و مطالب گذشتہ آیت والے ہی ہیں۔ البتہ یہاں ایک حکم مختلف ہے اور نہایت اہم بھی اس لیے ہے کہ گذشتہ قوموں میں اور اسلام سے پہلے دورِ جاہلیت میں دشمن کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا تھا یہ اسلام و قُرآن کا خاصہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ دیکھو دشمنی تمہیں انصاف میں مانع نہ ہو۔ اس آیت میں اعلانیہ بتایا جا رہا ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس میں مذہب یا رنگ و نسل یا غربت و امارت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ منصف کے لیے جہاں وہ دشمن ہے وہاں وہ انسان بھی ہے۔ اگر وہ آپ کا دینی بھائی نہیں ہے آپ جیسی مخلوق تو ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے درمیان عدل چاہتا ہے چاہے کوئی اُسے رب تسلیم کرے یا انکار کر دے۔

    ایک حاکم کے لیے عدل و انصاف کا حکم سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر ۱۵ میں یوں بیان ہو رہا ہے۔

    فَلِذٰلِکَ فَادعُ ۚ وَ استَقِم کَمَاۤ اُمِرتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِع اَہوَآءَہُم ۚ وَ قُل اٰمَنتُ بِمَاۤ اَنزَلَ اللّٰہُ مِن کِتٰبٍ ۚ وَ اُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُم ؕ اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُم ؕ لَنَاۤ اَعمَالُنَا وَ لَکُم اَعمَالُکُ ؕ لَا حُجَّۃَ بَنَنَا وَ بَینَکُم ؕ اَللّٰہُ یَجمَعُ بَینَنَا ۚ وَ اِلَیہِ المَصِیرُ ﴿ؕ﴾

    لہذا آپ ﷺ اس کے لیے دعوت دیں۔ اور جیسے آپ کو حکم ملا ہے ثابت قدم رہیں۔ اور اُن کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ اور کہہ دیجیے کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا۔ اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل کروں۔ اللہ ہمارا رب ہے۔ اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث نہیں۔ اللہ ہی ہمیں جمع کرے گا۔ اور ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

    اسلامی قیادت کے حوالے سے مندرجہ بالا آیت بہت اہم پیغام دے رہی ہے۔ خطاب اللہ کے رسول ﷺ سے ہے مگر پیغام قیامت تک کے لیے سربراہ مملکت کے لیے ہے۔ اسلامی قیادت کے لیے پہلا لازمہ استقامت ہے  ۔  دوسری خوبی ذاتی خواہشات کی پیروی ترک کر کے عوامی حقوق کا تحفظ۔  ۔ یہاں سے یہ بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ عدل و انصاف میں یہ دونوں  باتیں چھپی ہیں یعنی عادل حکمران ذاتی خواہشات کا تابع نہیں ہوتا اور رعایا کے حقوق کا محافظ ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی دین و مذہب کے پیروکار ہوں۔ اس آیت میں کہا گیا وَ قُل اٰمَنتُ  : یعنی ہمیں (مسلمانوں) کو تمام آسمانی شریعتوں پر ایمان رکھنے کا یکساں حکم ہے۔ اس شریعت کے ڈھانچے کا اہم ترین اور بنیادی ستون عدل و انصاف ہے

    ایک یا ایک سے زیادہ منصفین کے لیے سورۃ الحجرات کی آیت ۹ میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر مومنین کے دو گروہ کسی بھی وجہ سے آپس میں لڑ پڑتے ہیں تو ان کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرو۔ اگر صلح کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں تو پھر جو گروہ زیادتی پر ہے اسے طاقت کے ذریعے روکو یہاں تک کہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے

    فَاَصلِحُوا بَینَہُمَا بِالعَدلِ وَ اَقسِطُوا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ المُقسِطِینَ﴿۹﴾

    پس ان کے درمیان عدل سے صلح کروا دو۔ اور انصاف کرو۔ بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

    قاضی/جج کے لیے واضح حکم ہے کہ دونوں فریقین کی بات کو سنے۔ اس میں کوئی توہین نہیں کہ تمام ریاستی اداروں کی رائے سے صلح کی کوشش کرے۔ اور پھر عدل کے تقاضوں کے مطابق جو فریق زیادتی پر ہے اس کو سزا دے اور ان فریقین کے درمیان صلح کی کوشش کرے۔

    انفرادی عدل کے حوالے سے اللہ تعالیٰ گواہی بھی عادل شخص کی قبول کرتا ہے جس نے ہلکا سا بھی ظلم کیا ہو ۔ یا کسی الزام میں ملوث ہو یا کسی جرم میں سزا یافتہ ہو اس کی گواہی شرعی طور پر قابلِ قبول نہیں سورۃ الطلاق کی دوسری آیت میں ارشاد ہوا۔

     وَّ اَشہِدُوا ذَوَی عَدلٍ مِّنکُم وَ اَقِیمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ ؕ

    اور تم میں سے دو عادل شخص گواہ بنیں۔ اور اللہ کے لیے درست گواہی دی جائے

    کسی کے گواہ بننے میں بھی بنیادی شرط عدل ہی کی ہے ۔ اور سچی گواہی اللہ کی خاطر دی جائے یعنی اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ خود عطا فرمائے گا

    مدینہ منورہ کے مضافات میں دو یہودی قبائل آباد تھے ایک بنو نضیر جو کہ طاقتور قبیلہ تھا اور دوسرا کمزور قبیلہ بنو قریظہ ان دونوں کے درمیان قتل پر قصاص پر جھگڑا تھا بنو نضیر اپنی طاقت کے بل پر معمولی دیت دے کر معاملہ ختم کرنا چاہتے تھے۔ دوسرا اہم واقعہ زناء کی سزا پر تھا بنو نضیر والے اپنے قبیلے کے فرد کو سنگساری کی سزا کی بجائے کوڑوں کی سزا دینا چاہتے تھے۔ بات اتنی بڑھی کہ جنگ کی فضا بن گئی۔ دونوں قبیلے جنگ پر آمادہ تھے کہ کچھ بڑوں نے جنابِ رسول خُدا ﷺ کو حَکم/ جج بنانے کا فیصلہ کیا اس کا ذکر سورۃ المآئدہ کی آیات ۴۱ اور ۴۲ میں موجود ہے آیت ۴۲ میں ارشاد ہوتا ہے کہ

    سَمّٰعُونَ لِلکَذِبِ اَکّٰلُونَ لِلسُّحتِ ؕ فَاِن جَآءُوکَ فَاحکُم بَینَہُم اَو اَعرِض عَنہُم ۚ وَ اِن تُعرِض عَنہُم فَلَن یَّضُرُّوکَ شَیئًا ؕ وَ اِن حَکَمتَ فَاحکُم بَینَہُم بِالقِسطِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ المُقسِطِینَ﴿۴۲﴾

    یہ لوگ (جھوٹ کی نسبت آپ کی طرف دینے )کے لیے جاسوسی کرنے والے۔ حرام مال خوب کھانے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ آپ کے پاس (کوئی مقدمہ لے کر آئیں) تو یہ آپ کی مرضی کہ فیصلہ دیں یا  ٹال دیں۔ اور اگر آپ فیصلہ نہ دیں تو یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔ اور اگر آپ فیصلہ کرنا چاہیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیں۔ بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

     اسلامی حکومت میں یہودی اقلیت اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے آزاد تھی۔ وہ چاہتے تو اپنی عدالت سے رجوع کرتے یا پھر کبھی اسلامی عدالت سے رجوع کرتے اور چونکہ اللہ علیم و خبیر ہے لہٰذا اس نے اپنے نبی ﷺ کو فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کی آزادی دے دی لیکن ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس سے کیا سبق ملا کہ مقابل غیر مسلم بھی ہو تو فیصلہ حق پر دو

    اکثر یہودی اپنے قانون سے راہ فرار حاصل کرنے کے لیے اسلامی عدالت سے رجوع کرتے تھے۔ مگر یہاں پھنس گئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے تورات سے دونوں فیصلے دیئے شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور قاتل کو قصاص اور پھر ثالث بن کر دیت پر راضی کر کے دونوں قبائل کے درمیان صلح کروا دی۔ یہ ہے حقیقی عدل و انصاف اور حقیقی عدل و انصاف کرنے والوں سے ہی اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ اور اس سے اگلی آیت ۴۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب ان کے پاس تورات موجود ہے اور اس میں اللہ کا حکم موجود ہے تو پھر یہ آپ  ﷺ کے پاس فیصلہ کروانے کیوں آتے ہیں۔ پھر (جو فیصلہ حق میں نہیں ہوتا) اس سے پھر بھی جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایمان والے نہیں ہیں۔

    اب یہاں میں سورۃ النساء کی آیت ۵۸ آپ کے سامنے رکھوں گا کہ جس کا کچھ حصہ پاکستان سپریم کورٹ کے ماتھے پر لکھا ہوا ہے۔۔ آیت کا متن اور ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

    اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُکُم اَن تُؤَدُّوا الاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمتُم بَینَ النَّاسِ اَن تَحکُمُوا بِالعَدلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیعًا بَصِیرًا﴿۵۸﴾

    بےشک اللہ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو اُن کے اہل کے سپرد کر دو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے مناسب ترین نصیحت ہے۔ یقیناً اللہ تو ہر بات کو خُوب سننے اور دیکھنے والا ہے۔

    امانت کی ادائیگی بھی دراصل عدل کا بنیادی ترین تقاضا ہے بلکہ عدل بھی منصف کے پاس حقدار کی امانت ہی ہے۔ قُرآن کے عطا کردہ اسلامی دستور میں ادائے امانت اور فیصلوں میں عدل و انصاف اولین انسانی حقوق میں سے ہے یہ اُمتِ مسلمہ کی ہادیانہ ذمہ داری ہے اور حکمرانوں کی قائدانہ مسئولیت ہے کہ چاہے رعایا مسلم ہو یا غیر مسلم اس کی امانت میں خیانت نہ ہونے پائے۔ اسی طرح ہر فرد کے پاس ووٹ بھی ایک قومی امانت ہے اور جب یہ ووٹ کسی نمائندے کو دی جائے گی تو یہ اُس نمائندے کے پاس ووٹرز کی امانت ہے۔ آیت کا متن واضح بیان کر رہا ہے کہ جب ووٹ کی یا کسی بھی طرح کی خیانت کے لیے عوام عدالت میں جائیں تو اُنہیں فوری انصاف مہیا کیا جائے اور خائن کو سزا دی جائے۔ یاد رکھیئے بعض فیصلوں میں جلد بازی اور بعض میں تاخیر بھی ظلم ہی کے مترادف ہے۔ اسی طرح بینک؛ قومی خزانہ اور ملکی وسائل و ذخائر پوری قوم کی امانت ہیں اور حکمرانوں کی طرف سے اُن میں خیانت نہ کی جائے اور اسی طرح مسلم ریاست میں انصاف بہم پہچایا جائے۔ بلا تخصیص دوست دشمن یا مسلم غیر مسلم کے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف سے  مناسب اور احسن ترین نصیحت قرار دیتے ہوئے اپنے سمیع و بصیر ہونے کی یاد دہانی کروا رہا ہے

    مضمون کافی طولانی ہے مگراسے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے انفرادی عدل کی طرف آتا ہوں اللہ تعالیٰ نے قُرآن مجید میں متعدد بار ناپ تول، لین دین میں عدل و انصاف اور میزان کا حکم دیا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۵۲ میں ارشاد ہوا کہ

    وَ اَوفُوا الکَیلَ وَ المِیزَانَ بِالقِسطِ ۚ

    اور انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پوری کیا کرو

    اور سورۃ ھود کی آیت ۸۵  میں اسی حکم کو یوں بیان فرمایا

     وَ یٰقَومِ اَوفُوا المِکیَالَ وَ المِیزَانَ بِالقِسطِ وَ لَا تَبخَسُوا النَّاسَ اَشیَآءَہُم وَ لَا تَعثَوا فِی الاَرضِ مُفسِدِینَ﴿۸۵﴾

    اے میری قوم! پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھ پورے پورے رکھا کرو۔ اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور روئے زمین پر فساد نہ پھیلاتے پھرو۔

    یعنی نا انصافی کی وجہ سے زمین پر فساد کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے

    پھر اللہ تعالیٰ سورۃ الرحمٰن کی ۹ ویں آیت میں اس طرح ارشاد فرما رہا ہے

    وَ اَقِیمُوا الوَزنَ بِالقِسطِ وَ لَا تُخسِرُوا المِیزَانَ﴿۹﴾

    اور انصاف کے ترازو کو قائم کرو۔ اور تولنے میں کمی نہ کرو۔

    اور اس کے علاوہ بھی قُرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف انداز میں اس عمل یعنی تول میں کمی نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ناپ تول میں کمی کر کے جو مال حاصل ہوتا ہے وہ مالِ حرام ہے۔ اور مالِ حرام جب شکم میں جاتا ہے تو پھر نہ عدل وانصاف قائم رہتا ہے نہ حق بات اس پر اثر کرتی ہے سورۃ الرحمٰن کی آیت میں تو انصاف کے ترازو کو قائم رکھنے یعنی عدل کے ساتھ تولنے کو بھی مشروط کر دیا گیا ہے

    اسی طرح گھر میں عدل کے ساتھ توازن کو بھی اسلام نے بہت اہمیت دی ہے یتیموں کے ساتھ عدل ، اولاد میں وراثت کی تقسیم حتیٰ کہ لارڈ پیار میں بھی عدل کا حکم دیا گیا ہے اور ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل اور اگر یہ انصاف نہیں کر سکتے ہو تو حکم ہوا کہ بس ایک پر ہی گزارہ کرو چنانچہ سورۃ النسآء کی تیسری آیت میں ارشاد ہوا کہ

    فَاِن خِفتُم اَلَّا تَعدِلُوا فَوَاحِدَۃً

    اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ان (متعدد بیویوں) کے درمیان عدل نہ کر سکو گے پس ایک پر ہی اکتفا کرو۔ 

    سورۃ النحل آیت ۷۶

    وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَینِ اَحَدُہُمَاۤ اَبکَمُ لَا یَقدِرُ عَلٰی شَیءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَولٰىہُ ۙ اَینَمَا یُوَجِّہہُّ لَایَاتِ بِخَیرٍ ؕ ہَل یَستَوِی ہُوَ ۙ وَ مَن یَّامُرُ بِالعَدلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ﴿۷۶﴾

    اور اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک ان میں سے غلام اور پھر گونگا اور وہ اپنے مالک کے بغیر کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا مالک اسے جدھر بھیجتا ہے کبھی بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا شخص اُس شخص کے جیسا ہو سکتا ہے جو لوگوں میں عدل کا حکم کرتا ہے۔ اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر قائم ہے

    یہاں پر تمثیلی انداز میں یہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ جو ذہنی طور پر شخصی خوف کاغلام ہے۔ جو حاکم کے سامنے بولنے کی جُرآت نہیں رکھتا۔ جو جان کی امان کی خاطر عوام کو انصاف نہیں دے سکتا ایسا شخص اور جوہر طرح کے خوف اور غلامی سے آزاد ہو کر سیدھی راہ پر قائم ہے اور ڈٹ کر عدل و انصاف کرتا ہے وہ شخص کیا برابر ہو سکتے ہیں یقیناً ہرگز نہیں ہو سکتے۔

    اور قُرآن مجید نے متعدد مقام پر یومِ قیامت کو عدل کا دن قرار دیا ہے۔ اور بار بار فرمایا کہ یومِ الدین یعنی فیصلے کے دن کسی سے ذرہ برابر ظلم و زیادتی نہیں ہو گی اور تمہارے اعمال کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا چنانچہ سورۃ یونس کی آیت ۵۴ ارشادِ باری تعالیٰ ہو رہا ہے کہ

    وَ لَو اَنَّ لِکُلِّ نَفسٍ ظَلَمَت مَا فِی الاَرضِ لَافتَدَت بِہٖ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا العَذَابَ ۚ وَ قُضِیَ بَینَہُم بِالقِسطِ وَ ہُم لَا یُظلَمُونَ﴿۵۴﴾

    اور جس کسی نے بھی کسی پر ظلم کیا تو اگر اُسے زمین کے تمام خزانے بھی مل جائیں اور وہ عذاب دیکھ کر اپنے گناہ کے بدلے فدیہ کرنے کو تیار ہو۔ تو بھی اس دن ان کے درمیان انصاف کیا جائے گا اور ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا جائے گا۔

    یہ اور اس طرح کی دیگر آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے کہ جو بھی کرنا ہے دنیا میں کرو۔ معافی یا فدیہ یا قصاص جو بھی کرنا ہے دنیا میں کر لو۔ دنیاوی مال کی خاطر جو بھی گناہ کیئے وہ مال و دولت بروزِ حشر تمہارے کسی کام نہ آئے گا۔ وہاں پر تو فقط عدل کے ساتھ فیصلے ہوں گے۔

    اسی طرح سورۃ الانبیاء کی آیت ۴۷ میں ارشاد فرمایا کہ

    وَ نَضَعُ المَوَازِینَ القِسطَ لِیَومِ القِیٰمَۃِ فَلَا تُظلَمُ نَفسٌ شَیئًا ؕ وَ اِن کَانَ مِثقَالَ حَبَّۃٍ مِّن خَردَلٍ اَتَینَا بِہَا ؕ وَ کَفٰی بِنَا حٰسِبِینَ﴿۴۷﴾

    اور قیامت کے دن تو ہم انصاف کے ترازو کھڑے کر دیں گے۔ پس کسی پر ذرا بھر ظلم نہ ہو گا۔ اور اگر کسی کا رائی برابر بھی عمل ہو گا تو حاضر کر دیں گے۔ اور ہم ہی حساب کے لیے کافی ہیں۔

    روزِ حشر یومِ عدل ہو گا۔ اور اس دن مثقال برابر نیکی کا بدلہ دیا جائے گا اور رائی برابر گناہ کا بدلہ۔ مظلوموں کی تسلی کے لیے ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر دنیا میں تمہیں انصاف نہیں ملتا تو پھر اللہ ہی حساب کے لیے کافی ہے۔ پس ہمیں اللہ کے حساب سے ڈرتے ہوئے دنیا میں کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے لیے روزِ محشر جواب دینا مشکل ہو جائے۔

    یہ ایک طویل موضوع ہے۔ اس پر جتنی بحث ہو گی وہ کم ہو گی۔ میں نے آپ کے سامنے صرف ایک خلاصہ پیش کیا ہے۔ تا کہ آپ کے سامنے ایک خاکہ رکھ سکوں جس سے استفادہ کرتے ہوئے مزید سمجھنے کی طرف مائل کر سکوں۔ عدل و قسط کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ قُرآن حکیم میں یہ دونوں الفاظ پچیس پچیس مرتبہ استعمال ہوئے اور اپنے مشتقات کے ساتھ بھی کئی مرتبہ۔

    اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری اجتماعی خطبہ میں کہ جسے خطبہءِ حجۃ الوداع کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس خطبہ کو تا بہ قیامت عالمی انسانی حقوق کا ایک مثالی اور اولین دائمی منشور تسلیم کیا جاتا ہے۔ اُس خطبہ میں آنحضورﷺ نے کامیاب انسانی زندگی کے تمام بنیادی نکات بیان فرما دیئے۔ اگر آپ ان تمام نکات کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو مرکز و محور عدل و انصاف ہی دکھائی دے گا۔ * معاشرتی حقوق کی ادائیگی۔ * نسلی تفاخر کا خاتمہ۔ * ایک دوسرے کی جان، مال اور عزت کی حرمت۔ * معاشی استحصال سے تحفظ  ۔ * لا قانونیت کا خاتمہ۔ * وراثت کے حقوق۔ * ملکیت کے حقوق۔ * قرض کے لین دین کے اصول۔ * خواتین کے حقوق۔ * میاں بیوی کے حقوق۔ * ریاست کے حقوق۔ اصولِ حکمرانی  ۔ * قانون کی حکمرانی۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حقوق ۔

    غرضیکہ یہ تمام خطبہ ہی دراصل مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور عالم انسانیت کے لیے بالعموم ابدی آئین زندگی ہے۔ اور پھر اس خطبے کے آخر میں آپ  ﷺ نے لگ بھگ سوا لاکھ کے مجمع کو عرفات کے میدان سے یہ حکم دیا کہ یہاں موجود ہر فرد پر لازم ہے کہ میری یہ باتیں اُن لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ یعنی قیامت تک کے لیے یہ منشور پڑھنے اور سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اسے دوسروں تک پہنچائے۔

    میری طرف سے نچوڑ یہ ہے کہ کائنات کی ہر مصیبت کا مقابلہ ممکن ہے۔ مگر عدل کی موجودگی میں۔ اور کائنات ہر طرح کی دولت و آسائش سے بھر دی جائے اور عدل نہ ہو تو زندگی دشوار تر ہے

    Title Image by succo from Pixabay

  • شبِ قدر یعنی شبِ دعا

    شبِ قدر یعنی شبِ دعا

    لیلۃ القدر/قدر والی رات در اصل ہے کیا اور کیوں  اتنی فضیلت رکھتی ہے  ؟

    یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کی وجہ سے میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں۔

    ہم دیکھتے ہیں کہ ہر رات ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ سیاہ اندھیری رات۔ موسم صاف ہو تو بے شمار روشن ستارے آسمان پر چمک رہے ہوتے ہیں۔ آج بھی کہا جا رہا ہے کہ شبِ قدر ہے۔ ابھی باہر نکلیں اور دیکھیں کہ سال بھر کی دیگر راتوں اور آج کی رات میں کیا فرق ہے۔ یقیناً یہ بھی ایک رات ہی ہے۔ تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ رات اتنی قابلِ قدر کیوں ہے؟ اس رات کی فضیلت کے بارے میں قُرآن مجید نے فرمایا کہ

    لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ *

    القدر ۳

    یعنی قدر والی رات ہزار مہینوں سے افضل ہے

    ارے بھئی ایک رات کی فضیلت ہزار مہینوں پر بھاری ہو گئی یعنی اگر غور کریں تو ایک رات ۸۳ سال اور ۴ مہینوں کے برابر ہو گئی۔ یہ تو ایک عام انسان کی اوسط عمر ہے تو آپ یوں کہہ لیجئے کہ عمر بھر کی راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے سے اس ایک رات کی عبادت افضل ہے۔ پھر سے یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک رات کو اتنی فضیلت کیوں ہے ؟ تو لیجئے اس کا جواب قُرآن مجید فُرقانِ حمید یوں ارشاد فرماتا ہے کہ

    اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ *

    القدر ۱

    ہم نے اسے (قُرآن کو) قدر والی رات میں نازل کیا۔

    اب سمجھ آئی کہ اس ایک رات کو اس قدر فضیلت کیوں حاصل ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، پچھلی تمام شریعتوں کی ناسخ کتاب قُرآن مجید کا نزول ہوا۔ اس بات سے یہ اندازہ بھی تو ہو جانا چاہیے کہ جس کتاب کے نزول کی وجہ سے ایک رات کو اتنی فضیلت حاصل ہو گئی تو قُرآن مجید کی خود کتنی اہمیت ہو گی۔ اور اس پر عمل کرنے کے انسان اور انسانیت کو کس قدر فوائد ہوں گے۔ جس کے نزول کی شب اس قدر اہمیت و فضیلت کی حامل قرار پا گئی۔ نزولِ قرآن کے حوالے سے سورۃ الدخان کی پہلی چھ ۶ آیات میں بھی ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی روشن کتاب کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ

    اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ *

    الدخان ۳

    ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے  ۔

    یقیناً ہم ہی تنبیہ کرنے والے ہیں

    یعنی اس کتاب کے ذریعے ہم تمہیں حقیقتِ حال سے خبر دار کریں گے۔ تمہیں زندگی کے لیے ایک آئین مہیا کریں گے۔ یہ سوچ بھی عطا کی کہ اگر اُس رات کی اس قدر اہمیت ہے کہ جس رات میں یہ قُرآن نازل ہوا تو قُرآن کی کتنی اہمیت ہو گی۔ اور پھر معزز قاری! اس بات پر بھی تو غور کرنا پڑے گا نا کہ یہ قُرآن جس سینے یعنی قلبِ محمد ﷺ پر اُترا وہ شخصیت کس قدر مقدس ہو گی۔ آئیں ذرا سورۃ الحشر کی ۲۱ ویں آیت پر غور فرمائیں کہ

    لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَالْقُرْآنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَيْتَه، خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ط وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا  لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ  يَتَفَكَّرُوْنَ *

    الحشر ۲۱

    اگر ہم اس قُرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اُسے اللہ کے خوف سے جھک کر پاش پاش ہوتے ضرور دیکھتے۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

    پس یہی وہ مقدس شخصیت ہے کہ جس کو مقدس قُرآن نے تمام انسانوں کے لیے نمونہ/ماڈل قرار دیا اور اسی قُرآن نے ہمیں حکم دیا کہ

      مَا اٰتٰکُم الرَّسُولَ فَخُذُوهُ 

    الحشر ۷

    جو کچھ نبی ﷺ تمہیں دیں بلا چوں و چراں اُسے لے لو اور جس چیز سے تمہیں روک دیں  اُس سے رُک جاؤ۔ اس قُرآن میں بیان کی گئی امثال انسانوں کو سمجھانے کے لیے ہیں تاکہ تم غور و فکر کرو اور کسی نتیجے تک پہنچ پاؤ۔

    اسی طرح فرمایا کہ قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللہَ فَاتَّبِعُونِی یعنی اے میرے رسول ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو پھر مجھ محمد ﷺ کی اتباع کرو نتیجے میں اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یہاں میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جو رات ہزار مہینوں سے افضل ہے وہ اس لیے کہ اس رات میں قُرآن نازل ہوا۔ اور قُرآن جس سینے پر اُترا وہ ہے قلبِ محمد ﷺ تو اس کی کیا تقدیس و مقام و مرتبہ ہو گا پس دین و دنیا میں کامیابی کے لیے ہمیں نورِ دو عالم  ﷺ کی پیروی کرنا ہو گی کہ اللہ رب العزت یہی چاہتا ہے۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ  ۔ جس نے رسول ﷺ کی پیروی کی پس بے شک اُس نے اللہ کی پیروی کی۔

     میرے قابلِ احترام قاری! اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس لیلۃ القدر کا تعین کیسے کیا جائے کہ یہ کون سی رات ہے اور کب ہے۔؟ کس مہینے میں ہے۔ ؟ تو اس کا جواب ہمیں سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۵ سے یوں ملتا ہے کہ

    شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ  *

    البقرہ ۱۸۵

    رمضان کا مہینہ وہ ہے کہ جس میں قُرآن نازل کیا گیا۔

    اب مہینے کا تعین تو قُرآن کی اس آیت نے کر دیا اور اس کے بعد سانچہءِ وحی میں ڈھلی زبانِ مصطفیٰ ﷺ نے بتا دیا کہ شبِ قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اس حدیث کے مطابق آخری عشرے کی طاق راتوں میں تمام مسلمان فرامین محمد مصطفیٰ ﷺ کے مطابق نوافل اور دعا و مناجات میں اان راتوں کو طلوعِ فجر تک جاگ کر گزارتے ہیں۔ البتہ عامۃ المسلمین ۲۷ ویں شب کو ہی شبِ قدر تسلیم کرتے ہیں اور اس رات دعا و مناجات میں بسر کرتے ہیں۔ اور آج کی رات ۲۷ رمضان المبارک ۱۴۴۳ ہجری ۲۰۲۲ عیسوی ہے۔ تو اسی مناسبت سے دعا و مناجات پر بھی تھوڑی سی بات کر لیتے ہیں۔

    حدیث نبوی ﷺ کے مطابق دعا عبادت کا جوہر ہے۔ دعا مومن کا سَپر/اسلحہ ہے۔ اگر سمجھ سکیں تو انسان اس بھری کائنات میں کسی بھی شے کا مالک نہیں مگر اُس کی ملکیت میں اللہ رب العزت نے ایک عظیم دُرِّ یکتا خُود عطا کر دیا ہے وہ دعا ہے جو بے شک انسان کے پاس سرمایہءِ فخر ہے۔ ایک بے بس اور محتاج انسان اپنے رب سے ہمکلامی کا شرف دعا کے ذریعے پاتا ہے۔ اور کتنا مہربان رب ہے وہ اللہ جو اپنے بندے کی دعا کی قبولیت کا وعدہ کرتا ہے آئیے دیکھیں سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۶ میں وہ طاقت ور ترین اللہ اپنے بندے سے مخاطب ہے کہ

    وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ فَاِنِّیْ قَرِيْبٌ ط اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ  فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِیْ وَالْيُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ يَرْشُدُوْنَ *

    البقرہ ۱۸۶


    اور جب میرے بندے آپ ﷺ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دیں کہ) میں اُن سے قریب ہوں ۔ دعا کرنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اُس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔ پس اُنہیں بھی چاہیے کہ مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ راہِ راست پر رہیں

    آیت کا مضمون واضح بتا رہا ہے کہ وہ اللہ مومن کے دل بلکہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اُس کریم رب تک پہنچنے میں کوئی شے مانع نہیں سوائے انسانی نفس کے۔ یہ نفسانی خواہشات ہیں جو انسان کو اپنے مہربان رب سے دور کر دیتی ہیں اور وہ فانی دنیا کا طالب بن کر ہوس و حرص کا پجاری بن کر اپنے کریم رب سے دور ہو جاتا ہے۔

    کسی مادی وسیلے کے بغیر دعا ہی ایسا ذریعہ ہے جس سے اپنی درخواست اللہ کریم تک  پہنچائی جا سکتی ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ میں اپنے بندے کی دعا ضرور سنوں گا بشرطیکہ وہ مجھ اللہ پر صدقِ دل سے ایمان لائے۔ تکلیف اور خوشی میں اپنے رب کو پکارے تو میں اس کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت ضرور بخشوں گا اسی طرح سورۃ المؤمن کی آیت ۶۰ میں ارشاد قدرت ہے کہ

    وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ط اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَيَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِيْنَ *

    المؤمن آية ۶۰

    اور تمہارا پروردگار فرماتا ہے، مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ بےشک جو لوگ ازراہِ تکبر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں یقیناً وہ ذلیل ہو کر عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔ *

    اس آیت مبارکہ سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ دعا کرنا عینِ عبادت ہے۔ اور عاجزی و انکساری کی علامت ہے۔ جبکہ دعا نہ کرنا غرور و تکبر کی نشانی ہے اور تکبر کی وجہ سے جو لوگ اس عبادت سے گریزاں ہیں اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اس آیت میں اُدعُونِی : دعا کا حکم ہے اور اَستَجِب لَکُمْ : اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے، لہٰذا کوئی اس حکم کے مدنظر سچے دل سے دعا کرے تو اللہ وعدہ خلافی یقیناً نہیں کرتا چنانچہ اکثر مسنون دعاؤں میں یہ جملہ ملتا ہے کہ :

    اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ قَدْ دَعَوْتُكَ كَمَا اُمِرْتَنِیْ  فَاسْتَجِبْ لِیْ كَمَا وَعَدْتَنِیْ *

    اے اللہ! میں نے تیرے حکم کی تعمیل میں دعا کی ہے، پس تو اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے میری دعا قبول فرما ۔

    دعا مالک کا بندے کو عطا کردہ ایک؛ ایسا تحفہ ہے کہ جو انسانی زندگی کو توازن عطا کرتا ہے۔ خوف کے ساتھ ساتھ اُمید کے لیے تحریک بخش ہے ۔ اس بات کی وضاحت کے لیے سورۃ الزمر کی ۹ ویں آیت دیکھیے

    اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَالَّيْلِ سَاجِدًاوَّ قَآئِمًا يَّحْذَرُالْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ ط قُلْ ھَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ط اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ *

    الزمر ۹

    یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت کرتا ہے۔ آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگائے رکھتا ہے۔ اے میرے رسول ﷺ کہہ دیجیے : کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں  ؟ بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔

    اس سے پچھلی یعنی الزمر کی ۸ ویں آیت  کا مضمون کچھ یوں ہے کہ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب  کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اور پھر جب وہ سب اسے مل جاتا ہے تو اسے بھلا کر دوسرے ذرائع کو اپنا مددگار قرار دے کر شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ اب مندرجہ بالا آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے کہ کیا وہ شخص جو اضطراری کیفیت سے نکلتے ہی اور آسودہ حال ہوتے ہی اللہ کی عطا سے انکار کر کے کفر اختیار کر لیتا ہے وہ اس شخص کے جیسا ہو سکتا ہے جو راتوں کی تنہائی کے اوقات میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہے وہ خوف و رجاء اور امید و بیم کی کیفیت میں روز حساب سے خائف رہتا ہے۔ اور رحمت الہٰی سے اپنی امیدیں وابستہ رکھتا ہے؟ یہ فرق علم کی بنیاد پر ہے عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔ یعنی اللہ سے رحمت کی امید اور آخرت کا خوف زندگی میں بیلنس رکھتا ہے۔ اور جب یہی انسان رحمت کی امید کے سہارے گناہ پر آمادہ ہو جاتا ہے تو یہ بیلنس ٹوٹ جاتا ہے۔ نالائق اور حقیقت ِ دین سے دور مولویوں کی غلط تشریح کی وجہ سے بار بار اس اُمید پر گناہ اور ظلم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے گا اور اللہ اسے معاف کر دے گا ۔ نہیں ہر گز نہیں وہ عادل ہے وہ منصف ہے۔

    یہ بات تو طے ہے کہ امید کا انحصار عمل پر ہے۔ یعنی عمل بھی امید کے بغیر نہیں ہوتا؛ اور امید عمل کے بغیر جہالت کے سوا کچھ نہیں اور اللہ کی رحمت سے مایوسی کو قُرآن نے متعدد بار کفر قرار دیا ہے۔ اور معافی کی امید اس شرط کے ساتھ دلائی ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف یعنی یہ توبہ  توبۃ النصوحہ ہونی چاہیے۔ گناہ یا غلطی کا ارتکاب دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔

    وَاللہُ یَغفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا  ؛

    اللہ تمہارے تمام گناہوں کی بخشش پر قادر ہے

    ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو بھی لیلۃ القدر تھی۔ اور جمعۃ الوداع بھی تھا۔ برصغیر کے غلام مسلمانوں کی گریہ و زاری اور مناجات کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی کے نارِ جہنم سے آزاد کیا۔ ہمیں ایک آزاد وطن پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا۔ اور پھر ہم سورۃ الزمر آیت ۸ کے مضمون کی طرح اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس نعمت پر شکر گزاری کی بجائے۔ اپنی کوشش پر اترانے لگے۔ ہم نے اس نعمت کو جس وعدے پر حاصل کیا تھا اس سے انکاری ہو کر دنیاوی مال و متاع کے پیچھے بھاگنے لگے۔ ہمارے حکمران اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا گڑھ بنانے کی بجائے کفار کی جھولی میں جا گرے۔ اپنے تھوڑے سے دنیاوی فائدے کی خاطر طاغوت کی غلامی کا طوق پوری پاکستانی قوم کے گلے میں ڈال دیا۔ خود غرض ڈاکوؤں کا ایک ٹولہ اپنی فانی دولت کو بچانے کی خاطر اپنے مقدمات ختم کرنے کے لیے اسلام کے عدالتی نظام کی دھجیاں اڑا رہے ہیں

    اے میرے پاکستانیوں! آج بھی اللہ کے کرم سے شب لیلۃ القدر ہے۔ اور شبِ جمعہ ہے کل جمعۃ الوداع ہے۔ دعا کی گھڑیاں ہیں۔ اللہ اور اس کے سچے نبی ﷺ کا وعدہ ہے کہ اس شب میں تم سچے دل سے گریہ و زاری کر کے مجھ سے مانگو میں اللہ تمہارے دل سے نکلی دعائیں ضرور سنوں گا

    آئیے آج کی شب مل کر دعا مانگتے ہیں کہ

    اے كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْر اللہ ہم نفسانی خواہشات کے غلام ہو چکے ہیں اور ہم پر نفسانی خواہشات کے غلام حکمران مسلط ہو چکے ہیں ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے صدقے میں معاف فرما ۔ اے عادل اللہ تونے اس کائنات کو عدل پر خلق فرمایا اور تمام انبیاء کی بعثت کی بنیادی وجہ قیامِ عدل کو قرار دیا۔ آج ہم حقیقی عدالت سے محروم ہیں۔ ہمیں ان ظالم حکمرانوں سے نجات عطا فرما۔ ہمیں عادل حکمران عطا فرما۔ آج پھر سے ہم سامراجی و طاغوتی طاقتوں کی غلامی میں پھنس چکے ہیں۔ اے نَحْنُ أَقْرَبُ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْد کے مصداق اللہ اپنی کائناتِ رنگ و بو کے مقصودِ حقیقی۔ عدل و انصاف اور مساوات قائم کرنے والے محمد مصطفیٰ ﷺ کے وسیلے سے ہمیں حقیقی آزادی سے ہمکنار فرما۔ یا اللہ تیرے حکم کے مطابق ہم جھولی پھیلائے حاضر ہیں۔ اے کُن فَیَکُوْن کے مالک تو بھی اپنے وعدے کے مطابق ہماری دعاؤں کو شرفِ استجابت عطا فرما بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

    Monis Raza

    سیّد مونس رضا

    معلم،مدبر،مصنف

  • عزت قُرآن کی رُو سے

    عزت قُرآن کی رُو سے

    میری زندگی کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہمیشہ اہلِ علم کی محفل میں بیٹھنے کا خواہشمند رہتا ہوں۔ میرے دوست احباب جانتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر اٹک کے معروف ادیبوں، شعراء، صحافیوں اور اساتذہ سے محفل اور استفادہ کرتا ہوں۔ اکثر دینی و ادبی موضوعات پر مفید گفتگو ہوتی ہے۔ ان محفلوں میں اکثر موضوعات چِھڑتے تو ہیں مگر تشنہ ہی رہتے ہیں۔ جن میں سے ایک سوال محترم آغا جہانگیر علی بُخاری صاحب کی طرف سے یہ تھا کہ کیا ہر طرح کی عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ تو میں نے بے ساختہ کہا کہ جی ہاں عزت اور ذلت اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ تو بُخاری صاحب نے  اہم ترین نکتہ یہ اُٹھایا کہ یزید نے بھی قرآن کی آیت پڑھ کر کہا تھا کہ عزت اور ذلت اللہ کی طرف سے ہے ۔ اس نے مجھے عزت دی اور……..

    رمضان المبارک میں اکثر میں گھر پر ہی رہتا ہوں ۔ چنانچہ اس ماہِ رمضان المبارک ۱۴۴۳ ہجری میں ان کے کچھ سوالات کے جوابات قرآن مجید سے حاصل کرنے کی کوشش میں ہوں ۔ اور اس کھوج میں ہوں کہ عزت قُرآن کی رُو سے ہے کیا۔

    میرے معزز قاری! جب کربلا کے قیدی شام میں دربارِ یزید میں حاضر کیے گئے تو لعین نے سورۃ آل عمران کی چھبیسویں آیت کا کچھ حصہ پڑھا وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُزِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط یعنی عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ تو نبی ﷺ کے بعد کائنات کے سب سے بڑے عالم مولا علی علیہ السلام کی علی بیٹی نے فوراً اُس کے جواب میں اسی سورۃ کی آیت ۱۷۸ تلاوت فرمائی ۔

    Aal E Imran 178

    اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہم اُنہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ اُن کے لیے بہتر ہے ہم تو ان کو صرف اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں تا کہ یہ لوگ اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کر لیں اور آخر کار ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا ۔

    علی کی علی بیٹی کے اس جواب نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ پہلے یہ سمجھا جائے کہ دراصل عزت ہے کیا قرآن کہتا ہے کہ عزت صرف اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے لیے ہے تو عزت کا معیار اللہ رب العزت کی ذات ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذات ہے اور حقیقی عزت دار مومنین ہیں۔ آئیے قُرآن مجید میں لفظِ عزت کے تحت آنے والی آیات کا جائزہ لیتے ہیں۔

    سورۃ البقرہ آیت ۲۰۶ لفظِ عزت غرور و تکبر کے معنی میں استعمال ہوا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ

    Al Baqara 206

    اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو انہیں (عزت) غرور گناہ پر اُبھارتا ہے پس ان کے لیے جہنم ہی  کافی ہے اور یہ بہت ہی بُرا ٹھکانہ ہے

    یعنی دنیاوی مال و دولت عارضی حکومت جسمانی طاقت پر غرور کرنے والے  دراصل عزت دار نہیں بلکہ مغرور و متکبر کہلائیں گے اب یہ بھی عزت و ذلت کے لیے ایک قرآنی معیار ہے  ۔ پرکھنا قرآن کے پیروکاروں نے خود ہے ۔

    سورۃ النساء آیت ۱۳۹ میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ

    اَلَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ  الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَمِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ط اَيَبْبتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَميْعاً *

    النساء ۱۳۹

    جو لوگ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا سرپرست بنا لیتے ہیں کیا وہ ان کے پاس عزت و آبرو کی تلاش کرتے ہیں؟ پس بے شک ساری کی ساری عزت تو اللہ کے لیے ہے

    اس آیت ِ مبارکہ میں نزول قُرآن کے دور سے لے کر موجودہ زمانے تک اور پھر قیامت تک کے لیے منافقین کی ایک اہم ترین علامت بیان فرما دی گئی ہے کہ وہ اپنوں یعنی مومنین کو چھوڑ کر اندر سے چھپ چھپا کر کافروں سے جا ملیں گے۔ محض اس لیے کہ اُن کی مدد سے دولت؛ طاقت اور حکومت حاصل کر لیں اور یوں انہیں غلبہ اور عزت حاصل ہو جائے۔آج کی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کی روشنی میں اس آیت کو پڑھیں تو کیا سب کچھ واضح نہیں ہو جاتا  ؟ جو حکمران صرف ظاہری  حکومت ؛ تمکنت اور دولت کی خاطر کفار کی سرپرستی میں چلے جاتے ہیں۔ اور اپنی مسلمان رعایا کو کفار کا غلام بنا دیتے ہیں ۔ کیا وہ بزعمِ خود عزت دار ہیں؟ آیت مبارکہ کے آخری الفاظ واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ غالب فقط اللہ کی ذات ہے اور آپ دیکھ لیجئے کہ اللہ کے بنائے اصولوں کے مطابق تو وہ ذلت کی گہری ترین کھائی میں ہیں ۔ مگر افسوس کہ اُن کی آنکھوں میں پردے اور دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ وہ کان تو رکھتے ہیں مگر سماعت کی دولت سے محروم ہیں۔ وہ آنکھیں تو رکھتے ہیں مگر نہیں رکھتے۔ اسی مضمون کو سورۃ المآئدہ کی آیت ۵۴ میں مزید وضاحت کے ساتھ یوں بیان فرمایا گیا کہ۔

    يَا اَيُّھَاالَّذِيْنَ آمَنُوْا مَنْ يَرْتَدَّ  مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِیْ اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّھُمْ وَيُحِبُّوْنَه اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَی الْكٰفِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِيْلِ اللهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لآئِمٍ ط ذٰلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَآءَ ط وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ *

    المآئدہ ۵۴

    اے ایمان والو تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب ہی اللہ ایسے لوگوں کو ان لوگوں پر آشکار کر دے گا جن کو وہ (اللہ ) دوست رکھتا ہو گا اور وہ اللہ کو دوست رکھتے ہوں گے مومنین کے ساتھ نرمی سے اور کافروں کے ساتھ سختی سے پیش آنے والے ہوں گے اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرنے والے نہیں ہوں گے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم والا ہے

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ عزت دار وہ لوگ ہیں کہ اللہ ان کو دوست رکھتا ہے ۔ اور وہ اللہ کو دوست رکھتے ہیں۔ وہ مومنین کے درمیان عجز و انکساری سے رہیں گے ۔ کفار کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے۔ پس اللہ سے دوستی کا مطلب یہی ہے کہ اللہ کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کرنے والے ہوں گے۔ جن کی زندگی اطاعتِ پروردگار کا عملی نمونہ ہو۔ جو اپنے دین سے پھر جائیں گے ۔ اور بظاہر حکومت اور دولت کی طاقت کے حصول کی خاطر کفار کی پیروی کو قبول کر لیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کو اُن کے مقابل  لے آئے گا جو اللہ کی حکومت کے قیام کی خاطر جان لے بھی سکتے ہوں اور اللہ کی خاطر جان دینے کا حوصلہ بھی رکھتے ہوں۔ جو ملامت یعنی کردار کُشی سے بھی نہیں گھبرائیں گے اس لیے کہ اُن پر اللہ کا فضل و کرم ہو گا ۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جھوٹی عزت کے خواستگار ہمیشہ مقابل شرفاء پر تہمت سازی کرتے ہیں ۔ یہ بد فطرت بھی قُرآن نے واضح کر دی ہے۔ اسی ملامت اور بد تہذیبی کی بات کو اپنے حبیب ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے سورۃ یونس کی آیت ۶۵ میں اس طرح بیان فرمایا کہ ۔

    وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُھُمْ م اِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيْعاً ط ھُوَالْسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ *

    یونس ۶۵

    اے میرے رسول ﷺ ان (کفار) کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوا کریں اس میں کوئی شک نہیں کہ عزت ساری اللہ کے لیے ہے وہی سب کی سنتا اور حقیقت جانتا ہے

    یہ بات تو طے ہے کہ کفار آپ ﷺ سے دل دکھانے والی باتیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو طعنے دیتے تھے لہذا الله تعالٰی نے اپنے حبیب ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ایک اور کلیہ قاعدہ دے دیا کہ استعمار کے ساتھی ؛ فانی عزت کے خواہاں اپنے مخالف کی کردار کشی از بس کریں گے۔ اُن کی عزت سرِ بازار عریاں کرنے کے حربے اور طعن و تشنیع کریں گے ۔ مگر اللہ کے بندوں کو اگر یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو اللہ تسلی دے رہا ہے اور واشگاف الفاظ میں بیان فرما رہا ہے کہ  عزت کا خالق و حقیقی مالک اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے اور حقیقی عزت وہی ہے جو اللہ دیتا ہے اور جس کو اللہ عزت دیتا ہے اس میں غرور و تکبر نہیں ہوتا ۔  بلکہ عاجزی و انکساری کا مالک ہوتا ہے اور اسی لیے قرآن پاک میں سرکار دو عالم ﷺ کو قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے بہترین نمونہ\ماڈل قرار دیا گیا ہے ۔ پس حقیقی عزت کے متلاشیوں کو اپنے نبی ﷺ کی پیروی کرنا ہو گی ۔

    جو طاقت، حکومت، دولت کے نشے میں خود کو عزت دار سمجھتے ہیں اُن کے لیے سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کو تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ تفصیل کے خواہشمند قارئین اس سورۃ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اور ان آیات میں اپنی غالب قوت و حکمت اور عزت و غلبہ کو بیان فرمایا ۔  اسی سورۃ کی آیت ۴۴ میں یوں گویا ہے کہ۔

    فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعَصِيَّهُمْ وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ *

    الشعراء ۴۴

    اُن جادوگروں نے اپنی رسیاں اور چھڑیاں (میدان میں) پھینک دیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے جاہ و جلال کی قسم ہم ہی غالب رہیں گے

    یعنی یہاں فرعون کے جاہل پیروکاروں کی جہالت کا ذکر ہے کہ جو اُس کے عارضی اور فانی جاہ و جلال کی قسمیں کھاتے تھے۔ یہاں فرعونیت کو بھی عزت کے لفظ کے ساتھ بیان فرمانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ایسی طاقت اور فانی جاہ و جلال کو کبھی عزت نہ سمجھنا۔ اس سے اگلی آیات میں اپنی غالب طاقت اور فرعونیت کے عارضی غلبے کی بربادی کو بیان کر کے حقیقی عزت کے معنی کو اور زیادہ واضح فرما دیا ہے ۔

    اس کے بعد سورۃ نمل کی آیت ۳۴ میں ایک اور انداز سے لفظِ عزت کی وضاحت فرمائ جسے بعد کی تاریخ میں آج تک ہم بار بار دیکھ رہے ہیں ارشاد ہوا

    قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسُدُوْهَا وَ جَعَلُوْا اَعِزَّةَ اَھلُھَا اَذِلَّةً ج وَكَذَالِكَ يَفْعَلُوْنَ *

    نمل ۳۴

    (چیونٹیوں کی ملکہ نے) کہا کہ بادشاہوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی بستی میں (بزور فتح) داخل ہوتے ہیں تو اس کو اُجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے

    بظاہر حضرت سلمان علیہ السلام اور چیونٹیوں کی ملکہ کی گفتگو ہے مگر اس میں بہت گہرا پیغام ہے کہ جب طاقت ور حکمران اپنی فوجی طاقت کے نشے میں کسی شہر یا ملک کو فتح کر لیتے ہیں تو وہاں کے صاحبِ عزت لوگوں کو رسوا کرتے ہیں بستیوں کو اُجاڑ دیتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ کتنے ہی طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے ایسا کیا مگر آج گمنام ہیں ہڈیاں تک گل سڑ چکی ہیں مگر جن عزت دار لوگوں کی عزتوں کو بظاہر پامال کیا ؛ جن کے مال و اسباب کو لوٹا گیا۔ جن کی اولادوں۔ ناموس اور دوستوں کو قتل کیا گیا آج بھی وہی عزت کی علامت ہیں ۔

    سورۃ فاطر کی  آیت ۱۰ میں اللہ رب العزت نے عزت لینے کا سلیقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔

    مَنْ كَانَ يُرِيْدُالْعِزَّةَ فَلِلهِ الْعِزَّةُجَمِيْعاً ط اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الْطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الْصَّالِحُ يَرْفَعُه، ط وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ الْسَّيِّاٰتِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ط وَمَكْرُ اُولٰئِكَ ھُوَ يَبُوْرُ *

    فاطر ۱۰

    جو شخص عزت کا خواہاں ہے (تواللہ سے مانگے کیونکہ) ساری عزت تو اللہ ہی کی ہے اس کی بارگاہ تک اچھی باتیں (بلند ہو کر) پہنچتی ہیں اور اچھے کاموں کو وہ خود بلند فرماتا ہے اور جو لوگ تمہارے خلاف بری بری تدبیریں کرتے رہتے ہیں ان کے لیے قیامت میں سخت عذاب ہے اور آخر کار ان لوگوں کے مکر و فریب ملیا میٹ ہو جائیں گے

    اس آیت مبارکہ میں بہت آسان الفاظ میں عزت کی تقسیم کا فارمولا بیان فرما دیا گیا کہ اگر تم عزت کے خواہشمند ہو تو اِدھراُدھر مت بھٹکو۔ اللہ کے مخالفین و ملحدین کی لالچ میں نہ آؤ۔ خود کو اور مسلم رعایا کو اُن کی غلامی میں نہ جھونکو۔ بلکہ وہ اللہ  جو عزت کا مالک بھی ہے اور خالق بھی اُس کی طرف رجوع کرو۔ اُس کے نبی آخر الزمان ﷺ اور قُرآن کے ذریعے مجھ اللہ کی طرف رسائی حاصل کرو۔ اور یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ تمہاری اچھی سوچیں، تمہاری اچھی باتیں اللہ تک پہنچتی ہیں اپنی عاقبت کے لیے،اللہ کی قُربت کے حصول کے لیے اور اللہ کی مخلوق کی بہتری کے لیے تمہاری اچھی کوششوں کو اللہ تعالیٰ خود بلند فرمائے گا ۔ بُری اور گھٹیا چالوں کو تمہارا رب ناکام بنا دے گا اور دشمنوں کے مکر و فریب کو اپنی حکمت و دانائی سے نابود کر دے گا ۔

    اس کے بعد سورۃ صٰفّٰت کی آیت ۱۸۰ میں لفظ عزت کو اپنی صفت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا

    سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِعَمَّا يَصِفُوْنَ *

    صٰفّٰت ۱۸۰

    (یہ لوگ جو باتیں اللہ کے بارے میں بناتے ہیں) تمہارا رب پاک و صاف اور عزت کا مالک ہے ۔

    دراصل سورۃ صٰفّٰت کے موضوعات میں توحید و قدرت ؛ قیامت کے اثبات؛ اللہ کے رسول ﷺ  کو شاعر و مجنون ہونے کا طعنہ وغیرہ ہیں۔ اس سورۃ کی اختتامی آیات میں سے ایک یہ ہے جس میں پروردگار نے پوری سورۃ کا نتیجہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا رب ہر عیب سے بالاتر ہے عزت اُسی کو زیبا ہے اور سلامتی ہو اُن پیغمبروں پر کہ جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچایا اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے سزاوار ہیں ان آیات کے اختتام کے ساتھ ہی سورۃ ص کی ابتدا ہو رہی ہے جس کی دوسری آیت میں پھر عداوت و تکبر کے معنی میں لفظِ عزت استعمال کیا جا رہا ہے

    بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ *

    ص

    مگر یہ کفار (بلاوجہ) تکبر اور عداوت میں (پڑے اندھے ہو رہے ہیں)

    یعنی جن لوگوں نے غرور و تکبر میں اللہ کا انکار کیا اور اللہ کی مخالفت میں لوگوں کو تقسیم کیا وہ کسی صورت عزت دار نہیں ہو سکتے ۔

    سورۃ منافقوں کی آٹھویں آیت بھی اپنے اندر عزت کے حوالے سے ایک مضمون سمیٹے ہوئے ہے ۔

    يَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَآ الَی الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعِزُّ مَنْھَاالْاَذَلَّ ط  وَلِلهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ  وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ *

    منافقوں ٨

    یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت دار لوگوں کو ذلیل کر کے باہر نکال دیں گے حالانکہ عزت تو خاص اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے مگر منافقین نہیں جانتے

    گو کہ اس کے پیچھے اُن منافقین کا ذکر ہے جو مکہ اور مدینہ میں آپ ﷺ کی مخالفت میں کوشاں رہے مگر ہمارا ایمان ہے کہ قُرآن مجید قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے راہنما کتاب ہے لہذا یہ واقعات ہر دور کے منافقین کو آشکار کرتے ہیں اور مومنین کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ منافقین جو اپنے ملک سے باہر بیٹھ کر کفار و ملحدین سے ساز باز کر کے اپنے وطن کے عزت داروں کو ذلیل کرنے اور ان کے اپنے وطن سے نکال باہر کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں اُن کو قُرآن کھلا پیغام دے رہا ہے کہ عزت تو فقط اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین ہی کا حصہ ہے، تم جتنا بھی گٹھ جوڑ کر لو کبھی اس میں کامیاب نہیں ہونے والے ہو۔ یہ تو تھیں وہ آیات جو لفظِ عزت کے تحت قُرآن مجید میں موجود ہیں جو میری نظر سے گزریں۔ ہو سکتا ہے کچھ رہ بھی گئی ہوں ۔ کیونکہ انسان تو بہر حال ناقص ہے۔

    محترم قاری! اس کے علاوہ قرآن مجید میں عزت کے لیے اکرم کا لفظ۔ بھی استعمال ہوا ہے ۔ جیسا کہ سورۃ یوسف کی اکیسویں آیت میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں لکھا گیا کہ ,, اور مصر کے جس شخص نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدا اُس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کا مقام معزز رکھنا،،

    سورۃ الفجر میں اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں کھا کر قومِ عاد کی ذلت کا ؛ نسلِ ارم بن سام بن نوح؛ قومِ ثمود اور فرعون کی ذلت کا ذکر فرمایا اور پھر اس کے بعد ارشاد ہوا کہ

    فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَابْتَلٰهُ رَبُّه، فَاَكْرَمَه، وَ نَعَّمَه، فَيَقُلُ رَبّیْ اَكْرَمَنْ *

    الفجر ١٥

    مگر جب انسان کو اس کا رب آزما لیتا ہے ۔ پھر اُسے عزت دیتا ہے اور اُسے نعمتیں عطا کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی ہے

    اور اس سے اگلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو مال چلے جانے کی صورت میں کہتے ہیں کہ اللہ نے ہماری توہین/ذلت کی ہے اور اس سے اگلی آیت میں رزق کی تنگی کا سبب یتیموں کی عزت نہ کرنا مسکینوں کو ان کا حق نہ دینا قرار دیا گیا ہے ۔

    معزز قاری! یہ اتنا وسیع وعریض موضوع ہے کہ اس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ مگر میں نے قرآنی آیات کو موضوع بناتے ہوئے عمومی استفادے کے لیے بالاختصار لکھا ۔ تا کہ عام آدمی جان سکے اور اہلِ علم و ہنر؛ صاحبان قرطاس و قلم اس موضوع پر مزید عقدہ کشائی کی کوشش کریں۔

    میں ذاتی طور پر جو کچھ ان قُرآنی آیات سے جان سکا ہوں وہ یہ ہے کہ عزت کا حقیقی مالک و خالق اللہ رب العزت ہی ہے۔ عزت اور ذلت اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ مگر جو بھی اپنے اعمال و افعال و اقوال و کردار کے ذریعے ۔ اپنی بندگی کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی جو عزت چاہتا ہے اسے عزت دی جاتی ہے ۔ اور وہ عزت دائمی ہوتی ہے۔ اور جو اپنے اعمال و کردار کے ذریعے ذلت چاہتا ہے اسے ذلت و رسوائی ملتی ہے ۔

    دولت؛ طاقت؛ حکومت؛ تمکنت؛ جاہ و ہشم  عزت کی علامات نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع و پیروی باعثِ عزت ہے؛

    سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ١٣ کے ساتھ اپنے اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا کہ

    يَاَيُّھَاالْنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْباً وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَاللهِ اَتْقٰكُمْ ط اِنَّ اللهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ *

    الحجرات کی آیت نمبر ١٣

    اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو۔ بے شک اللہ کے ہاں تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے سے زیادہ متقی/پرہیز گار ہے ۔ بےشک اللہ جاننے والا اور با خبر ہے

    کتنا واضح پیغام ہے کہ جو محض قوم اور قبیلے کی بنیاد پر عزت دار ہونے کا داعی ہے ۔ وہ غلط ہے ۔ یہ قبیلے تو دنیا کے اس بڑھتے ہجوم میں صرف تمہاری پہچان کے لیے ہیں۔ اور بالکل کھلے اور دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ یاد رکھو تم میں سے زیادہ عزت دار وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ جو اللہ کے قرار دیئے گئے حرام سے اجتناب کرتا ہے۔ اور اللہ کے حلال کردہ سے استفادہ کرتا ہے پس دنیا والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے مکر و فریب سے وہ اہلِ دنیا کو دھوکہ دے کر عارضی عزت دار تو بن سکتے ہیں مگر اللہ سب کچھ جاننے والا اور تمہارے ہر عمل کی خبر رکھنے والا ہے

    میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ قرآنی آیات کے مفہوم سے باہر نہ نکلا جائے۔ اگر کہیں میرے قارئین کو ایسا لگے کہ میں اپنے موضوع سے ہٹا ہوں تو ضرور نشان دہی فرمائیں.

    سیّد مونس رضا

    معلم،مدبر،مصنف

  • تلاوت قران

    تلاوت قران

    جس طرح ایک شخص روزمرہ کے کاموں کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرتا ہے اور اس کے مطابق روزمرہ کے کاموں کو کرنے کے لیے ہر صبح اپنے شیڈول کو دیکھتا ہے اور اس کے مطابق اپنے امور  سرانجام دیتا ہے، اسی طرح ہر مسلمان جو قرآن پر عمل کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ مسلسل اور روزانہ قرآن کی تلاوت کرے۔ تاکہ دنیا میں تعلیمات قرآن کے مطابق زندگی بسر کر سکے اور آخرت میں قرآن کے احکام و ہدایات کی روشنی میں کامل ہو۔

    تلاوت قران



    بیماری، سفر یا خدا کی راہ میں جہاد کے دوران بہت سی عبادات میں کمی یا معافی کر دی جاتی ہے۔ لیکن خدا اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس دوران میں بھی قرآن پڑھنے کی کوشش کریں:

    إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِنْ ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِنَ الَّذِينَ مَعَكَ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

    (سوره المزمل – آیه 20)

    آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ دو تہائی رات کے قریب یا آدھی رات یا ایک تہائی رات (تہجد کے لیے) کھڑے رہتے ہیں اور آپ کے ساتھ ایک جماعت بھی (کھڑی رہتی ہے) اور اللہ رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے، اسے علم ہے کہ تم احاطہ نہیں کر سکتے ہو پس اللہ نے تم پر مہربانی کی لہٰذا تم جتنا آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو، اسے علم ہے کہ عنقریب تم میں سے کچھ لوگ مریض ہوں گے اور کچھ لوگ زمین میں اللہ کے فضل (روزی) کی تلاش میں سفر کرتے ہیں اور کچھ راہ خدا میں لڑتے ہیں، لہٰذا آسانی سے جتنا قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض حسنہ دو اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں بہتر اور ثواب میں عظیم تر پاؤ گے اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، اللہ یقینا بڑا بخشنے والا، رحیم ہے۔

    (ترجمہ  از  : بلاغ القرآن ، قرآن مجید کا اردو ترجمہ اور تفسیر از علامہ شیخ محسن علی نجفی مدظلہ العالی)


    نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر المومنین علی علیہ السلام کو جو احکام دیے ہیں ان میں سے ایک قرآن کریم کی مسلسل تلاوت ہے۔
    فرمایا :

    وَ عَلَيْكَ بِتِلاَوَةِ اَلْقُرْآنِ عَلَى كُلِّ حَالٍ

    ہر وقت اور ہر حال میں قرآن کی تلاوت کرو۔

    (الکافی، جلد 8، صفحه 79)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے ایک روایت میں اسے  زنگ آلود  دلوں  کا علاج بھی بیان فرمایا ہے:

    إِنَّ لِلْقُلُوبِ صَدَأٌ كَصَدَإِ اَلنُّحَاسِ فَاجْلُوهَا بِالاِسْتِغْفَارِ وَ تِلاَوَةِ اَلْقُرْآنِ

    بے شک دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسے تانبے کو زنگ لگ جاتا ہے، لہٰذا اپنے دلوں کو استغفار اور تلاوت قرآن سے صیقل کرو۔

    (بحار الأنوار، جلد 74، صفحه 172)

    ایک اور روایت میں ہے کہ رسالت مآب صَلَّى الله عَلیه وَ آله وَ سَلَّم نے فرمایا:

    نَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ بِتِلاَوَةِ اَلْقُرْآنِ وَ لاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُوراً كَمَا فَعَلَتِ اَلْيَهُودُ وَ اَلنَّصَارَى صَلَّوْا فِي اَلْكَنَائِسِ وَ اَلْبِيَعِ وَ عَطَّلُوا بُيُوتَهُمْ فَإِنَّ اَلْبَيْتَ إِذَا كَثُرَ فِيهِ تِلاَوَةُ اَلْقُرْآنِ كَثُرَ خَيْرُهُ وَ اِتَّسَعَ أَهْلُهُ وَ أَضَاءَ لِأَهْلِ اَلسَّمَاءِ كَمَا تُضِيءُ نُجُومُ اَلسَّمَاءِ لِأَهْلِ اَلدُّنْيَا

    اپنے گھروں کو تلاوت قرآن سے منور کرو اور انہین قبرستان نہ بناؤ جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا کہ وہ اپنے کلیساؤں اور عبادت گاہوں میں تو عبادت کرتے ہیں لیکن اپنے گھروں میں اس کا اہتمام نہیں کرتے اور وہاں (گھروں میں) عبادت کو ترک کر چکے ہیں۔ اس لئے کہ جس گھر میں بھی تلاوت قرآن کی کثرت ہو وہاں خیر و برکت زیادہ ہوتی ہے ، اور اس کے مکینوں کو وسعت و فراخی عطا کی جاتی ہے اور وہ گھر اہل آسمان کے لیے اس طرح چمکتا ہے  جیسے زمین والوں کے لیے آسمان کے ستارے چمکتے ہیں۔

    (الکافی، جلد 2، صفحه 610)

     تلاوت قرآن سننے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

    وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ

    (سوره الأعراف – آیه 204)

    اور جب قرآن پڑھا جائے تو پوری توجہ کے ساتھ اسے سنا کرو اور خاموش رہا کرو ، شاید تم پر رحم کیا جائے ۔

    (ترجمہ  از  : بلاغ القرآن ، قرآن مجید کا اردو ترجمہ اور تفسیر از علامہ شیخ محسن علی نجفی مدظلہ العالی)

    قرآن کی تلاوت کو توجہ سے سننے کے بارے میں امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں

    مَنْ قَرَأَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فِي صَلاَتِهِ قَائِماً يُكْتَبُ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ مِائَةُ حَسَنَةٍ فَإِذَا قَرَأَهَا فِي غَيْرِ صَلاَةٍ كَتَبَ اَللَّهُ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَ إِنِ اِسْتَمَعَ اَلْقُرْآنَ كَتَبَ اَللَّهُ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ حَسَنَةً ؛

    جو شخص  دوران نماز  حالت قیام میں اللہ کی کتاب کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر کلمے کے بدلے سو نیکیاں لکھے گا، اور اگر وہ نماز کے علاوہ تلاوت کرے گا تو ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں لکھے گا، اور اگر وہ توجہ سے تلاوت قرآن سنے تو  ہر حرف کے بدلے ایک نیکی نامہ اعمال میں ربّ کائنات کی طرف سے لکھی جائے گی۔

    (الکافی، جلد 2، صفحه 611)

    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔