شبِ قدر یعنی شبِ دعا

لیلۃ القدر/قدر والی رات در اصل ہے کیا اور کیوں  اتنی فضیلت رکھتی ہے  ؟

یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کی وجہ سے میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ہر رات ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ سیاہ اندھیری رات۔ موسم صاف ہو تو بے شمار روشن ستارے آسمان پر چمک رہے ہوتے ہیں۔ آج بھی کہا جا رہا ہے کہ شبِ قدر ہے۔ ابھی باہر نکلیں اور دیکھیں کہ سال بھر کی دیگر راتوں اور آج کی رات میں کیا فرق ہے۔ یقیناً یہ بھی ایک رات ہی ہے۔ تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ رات اتنی قابلِ قدر کیوں ہے؟ اس رات کی فضیلت کے بارے میں قُرآن مجید نے فرمایا کہ

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ *

القدر ۳

یعنی قدر والی رات ہزار مہینوں سے افضل ہے

ارے بھئی ایک رات کی فضیلت ہزار مہینوں پر بھاری ہو گئی یعنی اگر غور کریں تو ایک رات ۸۳ سال اور ۴ مہینوں کے برابر ہو گئی۔ یہ تو ایک عام انسان کی اوسط عمر ہے تو آپ یوں کہہ لیجئے کہ عمر بھر کی راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے سے اس ایک رات کی عبادت افضل ہے۔ پھر سے یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک رات کو اتنی فضیلت کیوں ہے ؟ تو لیجئے اس کا جواب قُرآن مجید فُرقانِ حمید یوں ارشاد فرماتا ہے کہ

اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ *

القدر ۱

ہم نے اسے (قُرآن کو) قدر والی رات میں نازل کیا۔

اب سمجھ آئی کہ اس ایک رات کو اس قدر فضیلت کیوں حاصل ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، پچھلی تمام شریعتوں کی ناسخ کتاب قُرآن مجید کا نزول ہوا۔ اس بات سے یہ اندازہ بھی تو ہو جانا چاہیے کہ جس کتاب کے نزول کی وجہ سے ایک رات کو اتنی فضیلت حاصل ہو گئی تو قُرآن مجید کی خود کتنی اہمیت ہو گی۔ اور اس پر عمل کرنے کے انسان اور انسانیت کو کس قدر فوائد ہوں گے۔ جس کے نزول کی شب اس قدر اہمیت و فضیلت کی حامل قرار پا گئی۔ نزولِ قرآن کے حوالے سے سورۃ الدخان کی پہلی چھ ۶ آیات میں بھی ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی روشن کتاب کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ

اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ *

الدخان ۳

ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے  ۔

یقیناً ہم ہی تنبیہ کرنے والے ہیں

یعنی اس کتاب کے ذریعے ہم تمہیں حقیقتِ حال سے خبر دار کریں گے۔ تمہیں زندگی کے لیے ایک آئین مہیا کریں گے۔ یہ سوچ بھی عطا کی کہ اگر اُس رات کی اس قدر اہمیت ہے کہ جس رات میں یہ قُرآن نازل ہوا تو قُرآن کی کتنی اہمیت ہو گی۔ اور پھر معزز قاری! اس بات پر بھی تو غور کرنا پڑے گا نا کہ یہ قُرآن جس سینے یعنی قلبِ محمد ﷺ پر اُترا وہ شخصیت کس قدر مقدس ہو گی۔ آئیں ذرا سورۃ الحشر کی ۲۱ ویں آیت پر غور فرمائیں کہ

لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَالْقُرْآنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَيْتَه، خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ط وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا  لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ  يَتَفَكَّرُوْنَ *

الحشر ۲۱

اگر ہم اس قُرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اُسے اللہ کے خوف سے جھک کر پاش پاش ہوتے ضرور دیکھتے۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

پس یہی وہ مقدس شخصیت ہے کہ جس کو مقدس قُرآن نے تمام انسانوں کے لیے نمونہ/ماڈل قرار دیا اور اسی قُرآن نے ہمیں حکم دیا کہ

  مَا اٰتٰکُم الرَّسُولَ فَخُذُوهُ 

الحشر ۷

جو کچھ نبی ﷺ تمہیں دیں بلا چوں و چراں اُسے لے لو اور جس چیز سے تمہیں روک دیں  اُس سے رُک جاؤ۔ اس قُرآن میں بیان کی گئی امثال انسانوں کو سمجھانے کے لیے ہیں تاکہ تم غور و فکر کرو اور کسی نتیجے تک پہنچ پاؤ۔

اسی طرح فرمایا کہ قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللہَ فَاتَّبِعُونِی یعنی اے میرے رسول ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو پھر مجھ محمد ﷺ کی اتباع کرو نتیجے میں اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یہاں میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جو رات ہزار مہینوں سے افضل ہے وہ اس لیے کہ اس رات میں قُرآن نازل ہوا۔ اور قُرآن جس سینے پر اُترا وہ ہے قلبِ محمد ﷺ تو اس کی کیا تقدیس و مقام و مرتبہ ہو گا پس دین و دنیا میں کامیابی کے لیے ہمیں نورِ دو عالم  ﷺ کی پیروی کرنا ہو گی کہ اللہ رب العزت یہی چاہتا ہے۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ  ۔ جس نے رسول ﷺ کی پیروی کی پس بے شک اُس نے اللہ کی پیروی کی۔

 میرے قابلِ احترام قاری! اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس لیلۃ القدر کا تعین کیسے کیا جائے کہ یہ کون سی رات ہے اور کب ہے۔؟ کس مہینے میں ہے۔ ؟ تو اس کا جواب ہمیں سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۵ سے یوں ملتا ہے کہ

شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ  *

البقرہ ۱۸۵

رمضان کا مہینہ وہ ہے کہ جس میں قُرآن نازل کیا گیا۔

اب مہینے کا تعین تو قُرآن کی اس آیت نے کر دیا اور اس کے بعد سانچہءِ وحی میں ڈھلی زبانِ مصطفیٰ ﷺ نے بتا دیا کہ شبِ قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اس حدیث کے مطابق آخری عشرے کی طاق راتوں میں تمام مسلمان فرامین محمد مصطفیٰ ﷺ کے مطابق نوافل اور دعا و مناجات میں اان راتوں کو طلوعِ فجر تک جاگ کر گزارتے ہیں۔ البتہ عامۃ المسلمین ۲۷ ویں شب کو ہی شبِ قدر تسلیم کرتے ہیں اور اس رات دعا و مناجات میں بسر کرتے ہیں۔ اور آج کی رات ۲۷ رمضان المبارک ۱۴۴۳ ہجری ۲۰۲۲ عیسوی ہے۔ تو اسی مناسبت سے دعا و مناجات پر بھی تھوڑی سی بات کر لیتے ہیں۔

حدیث نبوی ﷺ کے مطابق دعا عبادت کا جوہر ہے۔ دعا مومن کا سَپر/اسلحہ ہے۔ اگر سمجھ سکیں تو انسان اس بھری کائنات میں کسی بھی شے کا مالک نہیں مگر اُس کی ملکیت میں اللہ رب العزت نے ایک عظیم دُرِّ یکتا خُود عطا کر دیا ہے وہ دعا ہے جو بے شک انسان کے پاس سرمایہءِ فخر ہے۔ ایک بے بس اور محتاج انسان اپنے رب سے ہمکلامی کا شرف دعا کے ذریعے پاتا ہے۔ اور کتنا مہربان رب ہے وہ اللہ جو اپنے بندے کی دعا کی قبولیت کا وعدہ کرتا ہے آئیے دیکھیں سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۶ میں وہ طاقت ور ترین اللہ اپنے بندے سے مخاطب ہے کہ

وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ فَاِنِّیْ قَرِيْبٌ ط اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ  فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِیْ وَالْيُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ يَرْشُدُوْنَ *

البقرہ ۱۸۶


اور جب میرے بندے آپ ﷺ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دیں کہ) میں اُن سے قریب ہوں ۔ دعا کرنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اُس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔ پس اُنہیں بھی چاہیے کہ مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ راہِ راست پر رہیں

آیت کا مضمون واضح بتا رہا ہے کہ وہ اللہ مومن کے دل بلکہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اُس کریم رب تک پہنچنے میں کوئی شے مانع نہیں سوائے انسانی نفس کے۔ یہ نفسانی خواہشات ہیں جو انسان کو اپنے مہربان رب سے دور کر دیتی ہیں اور وہ فانی دنیا کا طالب بن کر ہوس و حرص کا پجاری بن کر اپنے کریم رب سے دور ہو جاتا ہے۔

کسی مادی وسیلے کے بغیر دعا ہی ایسا ذریعہ ہے جس سے اپنی درخواست اللہ کریم تک  پہنچائی جا سکتی ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ میں اپنے بندے کی دعا ضرور سنوں گا بشرطیکہ وہ مجھ اللہ پر صدقِ دل سے ایمان لائے۔ تکلیف اور خوشی میں اپنے رب کو پکارے تو میں اس کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت ضرور بخشوں گا اسی طرح سورۃ المؤمن کی آیت ۶۰ میں ارشاد قدرت ہے کہ

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ط اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَيَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِيْنَ *

المؤمن آية ۶۰

اور تمہارا پروردگار فرماتا ہے، مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ بےشک جو لوگ ازراہِ تکبر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں یقیناً وہ ذلیل ہو کر عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔ *

اس آیت مبارکہ سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ دعا کرنا عینِ عبادت ہے۔ اور عاجزی و انکساری کی علامت ہے۔ جبکہ دعا نہ کرنا غرور و تکبر کی نشانی ہے اور تکبر کی وجہ سے جو لوگ اس عبادت سے گریزاں ہیں اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اس آیت میں اُدعُونِی : دعا کا حکم ہے اور اَستَجِب لَکُمْ : اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے، لہٰذا کوئی اس حکم کے مدنظر سچے دل سے دعا کرے تو اللہ وعدہ خلافی یقیناً نہیں کرتا چنانچہ اکثر مسنون دعاؤں میں یہ جملہ ملتا ہے کہ :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ قَدْ دَعَوْتُكَ كَمَا اُمِرْتَنِیْ  فَاسْتَجِبْ لِیْ كَمَا وَعَدْتَنِیْ *

اے اللہ! میں نے تیرے حکم کی تعمیل میں دعا کی ہے، پس تو اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے میری دعا قبول فرما ۔

دعا مالک کا بندے کو عطا کردہ ایک؛ ایسا تحفہ ہے کہ جو انسانی زندگی کو توازن عطا کرتا ہے۔ خوف کے ساتھ ساتھ اُمید کے لیے تحریک بخش ہے ۔ اس بات کی وضاحت کے لیے سورۃ الزمر کی ۹ ویں آیت دیکھیے

اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَالَّيْلِ سَاجِدًاوَّ قَآئِمًا يَّحْذَرُالْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ ط قُلْ ھَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ط اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ *

الزمر ۹

یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت کرتا ہے۔ آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگائے رکھتا ہے۔ اے میرے رسول ﷺ کہہ دیجیے : کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں  ؟ بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔

اس سے پچھلی یعنی الزمر کی ۸ ویں آیت  کا مضمون کچھ یوں ہے کہ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب  کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اور پھر جب وہ سب اسے مل جاتا ہے تو اسے بھلا کر دوسرے ذرائع کو اپنا مددگار قرار دے کر شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ اب مندرجہ بالا آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے کہ کیا وہ شخص جو اضطراری کیفیت سے نکلتے ہی اور آسودہ حال ہوتے ہی اللہ کی عطا سے انکار کر کے کفر اختیار کر لیتا ہے وہ اس شخص کے جیسا ہو سکتا ہے جو راتوں کی تنہائی کے اوقات میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہے وہ خوف و رجاء اور امید و بیم کی کیفیت میں روز حساب سے خائف رہتا ہے۔ اور رحمت الہٰی سے اپنی امیدیں وابستہ رکھتا ہے؟ یہ فرق علم کی بنیاد پر ہے عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔ یعنی اللہ سے رحمت کی امید اور آخرت کا خوف زندگی میں بیلنس رکھتا ہے۔ اور جب یہی انسان رحمت کی امید کے سہارے گناہ پر آمادہ ہو جاتا ہے تو یہ بیلنس ٹوٹ جاتا ہے۔ نالائق اور حقیقت ِ دین سے دور مولویوں کی غلط تشریح کی وجہ سے بار بار اس اُمید پر گناہ اور ظلم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے گا اور اللہ اسے معاف کر دے گا ۔ نہیں ہر گز نہیں وہ عادل ہے وہ منصف ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ امید کا انحصار عمل پر ہے۔ یعنی عمل بھی امید کے بغیر نہیں ہوتا؛ اور امید عمل کے بغیر جہالت کے سوا کچھ نہیں اور اللہ کی رحمت سے مایوسی کو قُرآن نے متعدد بار کفر قرار دیا ہے۔ اور معافی کی امید اس شرط کے ساتھ دلائی ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف یعنی یہ توبہ  توبۃ النصوحہ ہونی چاہیے۔ گناہ یا غلطی کا ارتکاب دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔

وَاللہُ یَغفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا  ؛

اللہ تمہارے تمام گناہوں کی بخشش پر قادر ہے

۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو بھی لیلۃ القدر تھی۔ اور جمعۃ الوداع بھی تھا۔ برصغیر کے غلام مسلمانوں کی گریہ و زاری اور مناجات کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی کے نارِ جہنم سے آزاد کیا۔ ہمیں ایک آزاد وطن پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا۔ اور پھر ہم سورۃ الزمر آیت ۸ کے مضمون کی طرح اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس نعمت پر شکر گزاری کی بجائے۔ اپنی کوشش پر اترانے لگے۔ ہم نے اس نعمت کو جس وعدے پر حاصل کیا تھا اس سے انکاری ہو کر دنیاوی مال و متاع کے پیچھے بھاگنے لگے۔ ہمارے حکمران اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا گڑھ بنانے کی بجائے کفار کی جھولی میں جا گرے۔ اپنے تھوڑے سے دنیاوی فائدے کی خاطر طاغوت کی غلامی کا طوق پوری پاکستانی قوم کے گلے میں ڈال دیا۔ خود غرض ڈاکوؤں کا ایک ٹولہ اپنی فانی دولت کو بچانے کی خاطر اپنے مقدمات ختم کرنے کے لیے اسلام کے عدالتی نظام کی دھجیاں اڑا رہے ہیں

اے میرے پاکستانیوں! آج بھی اللہ کے کرم سے شب لیلۃ القدر ہے۔ اور شبِ جمعہ ہے کل جمعۃ الوداع ہے۔ دعا کی گھڑیاں ہیں۔ اللہ اور اس کے سچے نبی ﷺ کا وعدہ ہے کہ اس شب میں تم سچے دل سے گریہ و زاری کر کے مجھ سے مانگو میں اللہ تمہارے دل سے نکلی دعائیں ضرور سنوں گا

آئیے آج کی شب مل کر دعا مانگتے ہیں کہ

اے كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْر اللہ ہم نفسانی خواہشات کے غلام ہو چکے ہیں اور ہم پر نفسانی خواہشات کے غلام حکمران مسلط ہو چکے ہیں ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے صدقے میں معاف فرما ۔ اے عادل اللہ تونے اس کائنات کو عدل پر خلق فرمایا اور تمام انبیاء کی بعثت کی بنیادی وجہ قیامِ عدل کو قرار دیا۔ آج ہم حقیقی عدالت سے محروم ہیں۔ ہمیں ان ظالم حکمرانوں سے نجات عطا فرما۔ ہمیں عادل حکمران عطا فرما۔ آج پھر سے ہم سامراجی و طاغوتی طاقتوں کی غلامی میں پھنس چکے ہیں۔ اے نَحْنُ أَقْرَبُ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْد کے مصداق اللہ اپنی کائناتِ رنگ و بو کے مقصودِ حقیقی۔ عدل و انصاف اور مساوات قائم کرنے والے محمد مصطفیٰ ﷺ کے وسیلے سے ہمیں حقیقی آزادی سے ہمکنار فرما۔ یا اللہ تیرے حکم کے مطابق ہم جھولی پھیلائے حاضر ہیں۔ اے کُن فَیَکُوْن کے مالک تو بھی اپنے وعدے کے مطابق ہماری دعاؤں کو شرفِ استجابت عطا فرما بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

Monis Raza

سیّد مونس رضا

معلم،مدبر،مصنف

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

29اپریل ...تاریخ کے آئینے میں

جمعہ اپریل 29 , 2022
29اپریل ...تاریخ کے آئینے میں
29اپریل …تاریخ کے آئینے میں