Tag: قرآن

  • قرآن اور نمازِ شب

    قرآن اور نمازِ شب

    قرآن و سنت کی روشنی میں نمازِ شب کی فضیلت کا اندازہ لگانا ہو تو اللہ رب العزت کی درخشاں کتاب قرآن مجید کا مطالعہ کیجیے جس میں نمازِ شب کی اہمیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اللہ تعالٰی اپنے حبیبؐ سے سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 29 میں یوں مخاطب ہوتا ہے ۔

    وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا

    بنی اسرائیل 29

    ” اور رات کے خاص حصے میں نماز تہجد قرآن کے ساتھ پڑھا کرو یہ سنت تمہاری خاص فضیلت ہے

    قریب ہے کہ ( قیامت کے دن ) خدا تم کو مقام محمود  ( اعلی درجے ) تک پہنچائے۔”

    مقامِ محمود پر میرے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:۔

    محمدؐ جہاں پر

    شفاعت کریں گے

    ہماری، تمہاری

    وہ "محمود” پر اک

     ادا کر کے سجدہ

    کرے گا وہ ٹھنڈا

    خدا کا وہ غصہ

    شفاعت کی دولت

    عطا ہو گی رب سے

    محمدؐ کے دم سے

    خدا کے کرم سے

    قرآنِ حکیم فرقانِ حمید کے مطابق جب عابد و زاہد کی شب بیداری ، خوف و خشیت ، شوق و وارفتگی ، سوز و گراز ، آہ و زاری اور تلاوت قرآن کے رنگوں سے ضیا حاصل کرتی ہے تو لذت و سرور کا مزہ دیدنی ہوتا ہے ۔ ” فرشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا” کے مصداق انسان علم و آگہی کے بے کراں سمندر میں سجدہ ریزی سے غوطہ زن ہو تا ہے۔

    کیو نکہ شب کی تاریکیوں میں اپنی جبین کو جھکانے والے افراد کو اللہ  رب العزت علم و عرفان کی ان بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے ۔ جس کا عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ ” ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ” کے مصداق تہجد گزار کائنات کے سر بستہ رازوں پر دسترس حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سجدہ ریز جبین  نم آنکھوں اور عشقِ حقیقی سے لبریز ہو۔ کیو نکہ عشق کے بغیر عبادت کا مزہ نہیں ہوتا رات کے سناٹوں میں نیند کی قربانی دینا عشق کی ادنٰی سی مثال ہے اور عشق کے لیے تو زخمِ دل بھی سنبھال کر رکھنے پڑھتے ہیں۔

    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجیئے

    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

    عشقِ حقیقی کے قندیل انسانیت کی معراج ہے۔ شب بیداری کے متعلق مولا علی کرم اللہ وجہہ نہج البلاغہ خطبہ نمبر 191 میں ارشاد فرماتے ہیں ۔

        رات ہوتی ہے تو ( عبادت کے لیے ) اپنے پیر جوڑ کر کھڑے ہو جا تے ہیں قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر آرام کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں آیات کی زمزمہ خوانی اور اس کے مفاہیم پر توجہ کی وجہ سے اپنے دلوں میں عارفانہ غم و اندوہ کی لہریں پیدا کرتے ہیں اور اس طرح اپنے درد کی دوائیں ڈھونڈتے ہیں ۔

    نہج البلاغہ، خطبہ 191

    قرآن کی زبان سے جو کچھ سنتے ہیں گویا وہ ان کی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ بھی کرتے ہیں ۔ جب کسی ایسی آیت رحمت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس میں جنت کی ترغیب دلائی گئی ہو تو طمع میں پڑ جاتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھنچنے لگتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ پر کیف منظر بالکل ان کی نظروں کے سامنے یا ان کا نصب العین ہے

    اور جب کسی آیت قہر و غضب پر ان کی نظر پڑتی ہے کہ جس میں دوزخ سے ڈرایا گیا ہو تو اس کی جانب دل کے کانوں کو لگا دیتے ہیں اور گمان کرتے ہیں گویا جہنم کے شعلوں کے بھڑکنے کی آواز اور چیخ و پکار ان کے کانوں تک پہنچ  رہی ہے وہ ( رکوع میں ) اپنی کمریں جھکا دیتے ہیں اور  ( سجدہ میں ) اپنی پیشانیاں اور ہتھیلیاں ، گھٹنے اور قدموں کے سرے ( انگوٹھے) زمیں پر بچھا دیتے ہیں اور اللہ سے اپنی گلو خلاصی کے لیے التجائیں کرتے ہیں۔ ( یہی لوگ جن کی راتیں اس طرح شب بیداری میں بسر ہوتی ہیں ) دن ہوتا ہے تو اپنی اجتماعی زندگی میں ایک نیکو کار اور پرہیز گار مرد نظر آتے ہیں "

    مولا علی کرم اللہ وجہہ  کی نمازِ شب کے متعلق مندرجہ بالا تعلیمات بوڑھوں کے لیے سکون ، جوانوں کے لیے راحت، بیکسوں کےلیے رحمت اور

     ناتوانوں کے لیے امن کا مژدہ اور بہترین درس ہے۔

    سورہ تکویر میں قیامت کی دہشت ناکی کچھ اس طرح بیاں کی گئی ہے :۔

      جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور جب زمین لپیٹ دی جائے گی

    تکویر

    قیامت کے اس ہولناک منظر کو سب انسان دیکھتے ہوں گے اور ان کے  وجود کانپتے ہوں گے کلیجے منہ کے بل باہر آتے ہوں گے  اس لیے اب ہمیں استغفار کے ساتھ  شب بیداری اور اس میں آہ و زاری کر کے اللہ کے قریب  ہونا چاہیے تا کہ حشر کی گرمی سے بچیں اور آقا پاک ﷺ  کے امن کے جھنڈے کا سایہ تب ہی نصیب ہو گا کہ جب ہم اسوہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ طاہرین کے بتائے ہوئے ذریں ضوابط پر عمل کریں۔ نمازِ شب مقامِ عرفان تک کے لیے ایک سیڑھی ہے اس کی اہمیت میرے اس شعر میں ملاحظہ کیجیے:۔

    نمازِ شب کی الفت رکھ اگر جنت کا شائق ہے

    وہی جنت میں جائے جو عمل میں سب سے لائق ہے

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • معراج کی شب چرخِ خالق نے جِلا پائی

    معراج کی شب چرخِ خالق نے جِلا پائی

    معراج کی شب چرخِ خالق نے جِلا پائی

    پر نور ستاروں نے پُرکیف  ادا پائی

     جبریلؑ جہاں ڈر تے، سدرہ پہ کہا ربّ نے

    محبوبِ خدا آؤ، آقؐا نے صدا پائی

    آقؐا کی گزارش نے معراج کی شب! لوگو

    امت کی لیے ربّ سے بخشش کی عطا پائی

    اُڑتے ہوئے جنت کے دیکھے ہیں نظارے بھی

    آقاؐ سے سواری نے مہمیز ادا پائی

    بخشش میری امت کی کر دینا قیامت کو

    معراج کی شب، رب نے احمؐد کی دعا پائی

    بس دو ہی کمانوں پہ محبوب ملا ربّ سے

    قوسین کی قربت بھی آنکھیں نہ ہٹا پائی

    جب نور نظر آیا اُس نور کے پردے سے

    مازاغ بصارت نے اک لطفِ ضیا پائی

    سرکار نے امت کی رفعت کے لیے قائم

    بے مثل شفاعت سے بخشش کی ردا پائی

    سید حبدار قائم آف اٹک

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    اٹک

  • رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا

    رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا

    تسخیرِ کائنات کا عنوان چل پڑا

    رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا

    بوسے سے جبرائیلؑ کے چشمِ کرم کھلی

     پچھلے پہر خدا کا وہ مہمان چل پڑا

    طائف کا غم بھلا کے قریب آئیے حبیبؐ

    وہ اپنے رب کا مان کے فرمان چل پڑا

    سدرہ کے پار اس کو بلایا کریم نے

    راضی رضا وہ صاحبِ قرآن چل پڑا

    تکتے ہی تکتے رُک گئی نبضِ حیات بھی

    جب فطرتِ حیات کی وہ جان چل پڑا

    امت کے غم سمیٹے ہوئے محسنِ امم

    دامن میں لے کے عجز کا سامان چل پڑا

    مہکی ہوئی فضا تھی درود و سلام سے

    جس وقت انبیاء کا وہ سلطان چل پڑا

    صدیوں کا فاصلہ کیا اک جست میں عبور

    تھامے ہوئے وہ حق کا قلمدان چل پڑا

    حاضر تھے ہر فلک پہ سلامی کو انبیاءؑ

    کیا آس آن بان سے ذیشان چل پڑا

    سعادت حسن آس آف اٹک

    سعادت حسن آسؔ

    اٹک شہر

  • قُرآن کی رُو سے حق اور باطل  کیا ہے ؟-2

    قُرآن کی رُو سے حق اور باطل کیا ہے ؟-2

    پہلی قسط میں یہ بیان کر دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی حقِّ مطلق ہے، جس کی حقیقت میں کسی بھی طرح کے ذرہ برابر بُطلان کی گُنجائش نہیں ہے، پس حق کُلی طور پر ذاتِ واجبُ الوجود میں ہی منحصر ہے اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء کو پیغمبر گرامی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حق قرار دیا ہے کیونکہ پیغمبروں کی نبوت بھی حقِّ مطلق کی طرف سے واقعیت اور حقیقت کی حامل ہے اور سورۃ قصص کی آیت 47، 48 میں پیغمبر کا حق کے مصداق کے طور پر تعارف ہوا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    رَبَّنا لَولآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ آيٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ * فَلَمَّا جَآءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَا اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج
    وہ کہتے ہیں اے پروردگار ! تونے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اس پر ایمان لے آتے ، لیکن جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق (محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ گیا تو کہنے لگے کہ وہ موسیٰ جیسا معجزہ لے کر کیوں نہیں آیا، کیا انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کا بھی انکار نہیں کیا تھا

    close up of text on paper
    Photo by Tayeb MEZAHDIA on Pexels.com


    یہاں نبی اور معجزہ دونوں کو حق قرار دیا گیا ہے
    قُرآنِ مجید روزِ قیامت کو حق قرار دیتا ہے کہ قبروں سے اُٹھنا، اعمال کا حساب و کتاب ، ایک نئی، مکمل اور ابدی زندگی کا آغاز ایسے حقائق ہیں جن کی تمام پیغمبروں نوید دی ہے، اور اس پر یقینِ کامل کے بغیر دین معنوی لحاظ سے تکمیل نہیں پاتا سورۃ شوریٰ کی 18 ویں آیت میں قُرآن یُوں گویا ہوا کہ
    يَسْتَعْجِلُ بِھَاالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِھَا ج وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّھَاالْحَقُّ ط
    کافر لوگ قیامت کے برپا ہونے کا انکار کرتے ہیں اور ایمان لانے والے اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ حق ہے،
    اور سورۃ یونس کی آیت 53 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    وَيَسْتَنبِعُوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ط قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّه، لَحَقٌّ ط وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ *
    اے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم) وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا قیامت حق ہے کہہ دیجیئے کہ مجھے اپنے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ (قیامت) حق ہے اور تمہارے لیے گریز کی کوئی راہ نہیں
    اور حلال مال جو مقروض کے ذمہ واجب الادا ہے اسے قرض خواہ کا حق قرار دیتا ہے اور یہ حقِّ نسبی ہے کیونکہ اس مالِ حلال کے حاصل کرنے میں اس کے مالک نے جو کوشش اور محنت کی اُس نے اُسے اس مال کا حقدار بنایا ورنہ مالکِ حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے چنانچہ سورۃ بقرۃ کی آیت 282 میں اسے حق قرار دیا گیا،
    یہ تو ہوگئی حق و باطل کی تفصیل اب یہاں میرے ذہن میں یہ سوال اُبھر رہا ہے کہ کیا حقوق و فرائض بھی اسی زمرے میں داخل ہیں تو مجھے اس بات کا جواب بہت سی قُرآنی آیات سے ملا مثلاً سورۃ النساء آیت 17 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ
    یَا اَھلَ الکِتَابِ لَا تَغلُوا فِی دِینِکُم وَلَا تَقُولُوا عَلَی اللهِ اِلَّا الحَقّ
    اے اہلِ کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو، اور اللہ کی طرف حق اور واقعیت کے علاوہ کوئی اور نسبت نہ دو،
    اور سورۃ لقمان کی آیت 33 یوں راہنمائی کر رہی ہے کہ
    اِنَّ وَعدَاللہِ حَقُُ فَلَا تَغُرَّنَّکُم الحَیاۃُ الدُّنْيَا
    بےشک اللہ کے وعدے سچ اور واقعیت رکھتے ہیں، دنیاوی زندگی تمہیں کہیں دھوکہ نہ دے
    ان آیات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ دنیاوی معاشرتی زندگی میں بننے والے قوانین کی بنیاد کہیں اپنی یا عوام کی خواہشات کے مطابق نہ رکھ لینا بلکہ وہ قوانین اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ انسانی سعادتوں کے امین ہوں جو فطرت و آفرینش کے خلاف نہ ہوں یعنی انسان کی ہر خواہش کو اس کا حق نہیں قرار دیا جا سکتا ، نشہ آور اشیاء چاہے تمام انسانوں کی خواہش ہو ان کا حق نہیں قرار دی جا سکتیں بلکہ ایسا قانون حقِّ مطلق اللہ کے ہاں باطل قرار پائے گا، قُرآن جس مقام پر بھی اللہ واحد و یکتا کی پرستش کے بارے میں بات کرتا ہے تو بلا فاصلہ فطرت و آفرینش کی بات کرتا ہے جیسا کہ سورۃ روم کی آیت 30 میں ارشاد ہوا
    فَاَقِمْ وَجْھَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفاً ط فِطْرَةَ اللهِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَيْھَا ط لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللهِ ط ذَالِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَالنَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ *
    اللہ کے سچے دین کی طرف رُخ کرو، وہ سچا دین جو اللہ کی آفرینش و خلقت ہے اور اُس نے اسی بنیاد پر انسانوں کو خلق کیا ہے، اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی محکم اور استوار دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

    یہ وہ منزِل ہے جہاں قُرآن و اسلام حقوق کے دیگر اداروں سے جُدا ہو جاتا ہے ہر وہ عمل جس سے قُرآن نے روک دیا اس سے رُک جانے میں ہی بھلائی ہے بےشک وہ کتنا ہی بھلا کیوں نہ لگے، اور ہر وہ کام جس کے کرنے کا حکم قُرآن نے دے دیا اُس پر عمل میں بھلائی اور خیر ہے چاہے وہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے، قُرآن کی نظر میں وہی قانون حق ہے جس پر عمل سے انسان اپنے رب کی قُربت کا حقدار ٹھہرے، اور وہی قانون فطرت پر مبنی ہو گا اور انسان کی سعادت اور خُوش بختی کا ضامن ہو گا، تو پس میرے محترم قاری قُرآنی قوانین، حقوق و فرائض کا منبع و مآخذ بھی حقِّ مطلق کی طرف سے انسانی سعادتوں کے لیے ہے اور منزل اُخروی و ابدی کامیابی ہے

  • قُرآن کی رُو سے حق اور باطل کیاِ ہے ؟ -1

    یہ بات بالکل واضح ہے کہ حق عربی زبان کا لفظ ہے ، مگر  فارسی ، اُردو پنجابی میں بھی اس کے معانی و مطالب عربی سے چنداں مختلف نہیں ہیں،  آپ عربی زبان کی تمام چھوٹی بڑی لغات دیکھ لیجیئے اس کے جتنے بھی معانی بیان ہوئے ہیں اُن پر اگر گہرائی میں غور کیا جائے تو ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ کہ جو واقعیت اور حقیقت رکھنے کی بنیاد پر استوار اور پائیدار ہو، اور لفظِ ,, حق  ،، باطل کی ضد ہے ,, باطل ،، یعنی  ڈگمگانے والی اور ناپائیدار چیز جو بے حقیقت و واقعیت ہو

    اللسان العرب اور دیگر ماہرین لغت کے اقوال کا ما حصل کچھ یوں ہے کہ ,, ہر وہ چیز جو ایسی واقعیت و حقیقت رکھتی ہو کہ جس کا نتیجہ استحکام، تیقن، اور دوام ہو وہ حق ہو گی جبکہ جو واقعیت و حقیقت نہ ہونے کی بنیاد پر تھوڑی سی نمائش کے بعد ختم ہو جائے وہ باطل ہو گی،،

    قُرآنِ مجید نے حق و باطل کے مسئلہ کو بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، آپ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجیئے کہ لفظِ ,, حق ،، اپنے تمام تر مشتقات کے ساتھ قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں 287 مرتبہ اور لفظِ ,, باطل ،،  35 مرتبہ آیا ہے، اور قُرآن نے حقِ مطلق پس اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ والا صفات کو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ

    ذٰلِكَ بِاَنَّ اللهَ ھُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ھُوَالْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللهَ ھُوَالْعَلِیُّ الكَبِيْرُ * 

    یہ اس بناء پر ہے کہ وہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے علاوہ جس کی بھی پرستش کرتے ہیں وہ باطل ہے اور بےشک اللہ ہی بزرگ و برتر ہے

    یہی آیت اسی مضمون کے ساتھ سُورۃ لقمان 30 میں بھی وارد ہوئی  ہے مگر سورۃ لقمان میں (ھُوَ البَاطِلُ) کی جگہ (البَاطِلُ) بیان ہوا  ہے یہ بظاہر معمولی فرق عربی زبان و ادب کی ایک اعلیٰ و ارفع مثال ہونے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی الوہیت اور ربوبیت کو ذاتِ واجب الوجود میں منحصر کرتا ہے اور ان دونوں مقامات پر یعنی سورۃ حج اور سورۃ لقمان میں ان آیات سے پہلے کائنات کے وجود، گردشِ لیل و نہار ، سورج اور چاند کی تسخیر اور گردش کا ذکر ہوا ہے یعنی یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن کا بطلان کوئی ثابت کر ہی نہیں سکتا ،

    ہاں البتہ اگر حق کی نسبت الوہیت و ربوبیت نہ ہو بلکہ اس کی وجہ یا نسبت کسی معدوم شے سے مقابلہ ہو تو پھر وہ حق حقِ نسبی ہو گا جس کی نسبت ذاتِ لایزال سے ہو گی حقِ مطلق بہر صورت اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ والا صفات ہے اس کے علاوہ سورۃ یونس کی آیت 32 میں سورۃ نور آیت 25 میں، سورۃ کہف آیت 42 میں سورۃ مومنوں کی آیت 116 میں بھی اللہ تعالیٰ کو حقِ مطلق قرار دیا گیا ہے،

    بالذاتہ قرآن حکیم سے بڑھ کر اور کیا بڑی پائیداری و استواری کے ساتھ قائم و دائم حقیقت بھلا اور کیا ہو گی قرآن ایسا حق ہے کہ جس کی طرف باطل کی کوئی راہ نہیں ہے، قُرآن ہر طرح کے باطل سے مبری و منزہ ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا

    اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَأءَھُمْ  ج وَ اِ نَّه، لكِتٰبٌ عَزِيْزٌ * لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ط تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ *   سُورَة حٰم السجدة   آیت 41 42

    یہ عزت والی کتاب ہے جس میں باطل کے لیے کوئی راہ نہیں ہے، یہ اس حکیم کی طرف سے بھیجی گئی جو لائقِ حمد ہے،

    اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات حقِ مطلق ہے، اسی طرح اللہ کی کتاب بھی حقِ مطلق ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات جاودانی ہے ویسے ہی اللہ کی کتاب (قُرآن) ابدی و جاودانی ہے

    سورۃ بقرہ آیت 91 ، سورۃ یونس آیت 94 ، 108، 109 سورۃ سجدہ آیت 3 ، سورۃ سباء آیت 6، 48.، سورۃ فاطر آیت 31 میں بھی قُرآن کو حق قرار دیا گیا ہے،

    جب طویل اور مشکل و تکلیف دہ ترین جد و جہد اور گراں قدر قربانیوں کے بعد کفر و شرک کا قلعہ نابُود ہوا اور مکہ فتح ہوا تو پیغمبرِ گرامی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ وحی ترجمان پر سورۃ اسراء کی آیت 81 کے یہ الفاظ جاری تھے

                وَ قُل جَأءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَھُوْقاً *

    اور اے میرے رسول کہہ دیجیئے کہ حق فتح مندی کے ساتھ جلوہ افروز ہوا اور باطل نابود ہو گیا اور بےشک باطل تو نابُود و نامراد ہی ہونے والا ہے

    یہ آیت اگرچہ اپنے اندر مطالب و معانی کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے مگر ہمارے موضوع کی واضح اور مکمل وضاحت کرتی ہے کہ حق سے مراد یکتا پرستی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات تمام صفات کے ساتھ قائم و دائم ہے اور قائم و دائم رہے گی اور ہر دور میں نئے نئے انداز سے ظاہر ہوتا رہا ہے، باطل کے معبود ہمیشہ نابودی کا شکار ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے

    اسلام ایک مکمل ضابطہءِ حیات ہے اور توحید اس کی اساس ہے اور یہی حق ہے چنانچہ سورۃ انفال کی 8 ویں آیت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ

                      لِیُحِقَّ الحَقَّ وَ یُبطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَو کَرِہَ المُجرِمُونَ *

    تاکہ حق کو پائیدار اور باطل کو ناپائیدار کر دے ، چاہے گنہگاروں کو یہ بات اچھی نہ لگے

    اور سورۃ سباء 49 ویں آیت میں یوں فرمایا کہ

                                 قُلْ جَأءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ *

    اے حبیب ان سے کہہ دیجیئے کہ حق تو آ چکا ہے اور باطل نہ ابتدا میں کچھ کرنے کے قابل تھا اور نہ انتہا میں کچھ کرنے کے قابل ہو گا

    یعنی اُن کے باطل خُدا نہ کچھ پیدا کرنے کے قابل تھے، نہ اپنا دفاع کرنے کے قابل تھے اور نہ ہی آئندہ کسی بھی شکل میں خُدا بن کر حق کے مقابل آئیں گے تو کسی قابل ہوں گے کیونکہ پائیداری اور استواری فقط حق کو حاصل ہے

    اعجاز یا معجزہ کو بھی قُرآن حق قرار دیتا ہے، اور اس کے مقابلے سحر اور جادو کو باطل قرار دیتا ہے، کیونکہ معجزہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کے ماتحت وقوع پذیر ہوتا ہے، اور حق کی ناقابل بُطلان حقیقت ہونے کے  بیان کے لیے ہوتا ہے چنانچہ سورۃ رعد کی آیت 38 میں ارشاد ہوا کہ

                      وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ اَن یَّاتِیَ بِآیَاتِہ اِلَّا بِاِذنِ اللہِ  *

    کسی بھی پیغمبر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے،

    پس یہی وجہ ہے کہ سورۃ یونس کی آیت نمبر 76، 77 میں معجزہ کو حق کہا گیا ہے

    فَلَمَّا جَأءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اِنَّ ھٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ * قَالَ مُوْسٰی اَتَقُوْلُوْنَ لِلحَقِّ لَمَّا جَآءَ كُمْ ط اَسَحْرٌ ھٰذَا ط وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ * 

    جب ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو وہی کھلا جادو ہے، تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ کیا تم حق(معجزے) کو جادو کہتے ہو اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے،

    چونکہ معجزہ اپنے اندر حقیقت استواری اور یائیداری لیے ہوئے ہوتا ہے اس لیے اسے حق کہا گیا ہے اور جادو آنکھوں کا دھوکہ، جزوقتی اور ناپائیدار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہءِ قاہرہ سے فناء ہو جاتا ہے اس لیے اسے باطل کہا گیا ہے چنانچہ سورۃ یونس کی آیت 8 میں ارشاد ہوا کہ

                مَا جِئتُم بِہِ السِّحرُ اِنَّ اللهَ سَیُبطِلُہ،.

    جو کچھ تم لائے ہو وہ تو جادو ہے اور اللہ اسے نابُود کر دے گا

                      فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطلَ مَا کَانُوا یَعمَلُون سورۃ اعراف؛ 118

    حق ظاہر ہو گیا اور ان کے کام باطل ہو گئے

    …………….. جاری ہے

  • انسانی سوچ کیا ہے؟

    انسانی سوچ کیا ہے؟

    ظلم و فساد کا خاتمہ اور دنیا میں امن، انصاف، خوشحالی، بین الاقوامی تعمیر و ترقی اور بین المذاہب اشتراک کیسے ممکن ہے؟

    Haqeeqat ki Talash
    حقیقت کی تلاش میاں فاروق عنایت اٹک

              انسان کی غلط سوچ نے اور انسان کے نفس کی بیماریوں نے انسان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اور کسی آفت نے شاید نہ پہنچایا ہو۔ آپ دیکھتے ہیں انسان نے اپنا مطمحِ نگاہ اچھا کھانا، پینا، پہننا اور اوڑھنا بچھونا، نیذ، عیش و عشرت کو قرار دے رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ افراد کی سطح پر جنگل کا قانون ہے مار دھاڑ، آپا دھاپی ہے، دوسروں کو روند کر چھین لینا طرہئ امتیاز ِ انسانیت ہے۔ یہی کچھ اقوام کی سطح پر ہے ہر قوم اپنی قومی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ ملکی و قومی دفاع کے نام پراربوں کھربوں ڈالر کی شکل میں مہلک ترین ہتھیاروں پر صرف کر رہی ہے۔ ایٹم بموں کی بھرمار ہے، نیوٹران بموں کا شمار نہیں، کیمیائی ہتھیاروں نے انت مچا رکھی ہے۔ جراثیمی ہتھیاروں کے ذریعے بھی آناً فاناً دنیا کی آبادی کو چٹ کر جانے کا پروگرام موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں اس وقت جتنا مہلک کثیر الجہتی اور جتنی مقدار میں اسلحہ موجود ہے یہ دنیا کو سینکڑوں مرتبہ صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لیے کافی ہے اور اگر کوئی متنفس زندہ بچ جائے گا تو وہ جسمانی، ذہنی اور جینیاتی طور پر معذور ہو گا تا کہ آئندہ انسانی نسل میں کوئی جوہر قابل موجود نہ رہے اور اس قسم کی جنگ دنیا میں کسی بھی وقت کسی اچانک شدید غلط فہمی کی وجہ سے چھڑ سکتی ہے کہ ایک دم دنیا نیست و نابود ہو جائے۔ زمین پر کوئی ذی روح نہ بچے، پہاڑ اڑ جائیں، جنگل جل جائیں، سمندر زہریلے ہو جائیں، دریا خشک ہو جائیں اور فضائیں زندگی   کے لیے اجنبی ہو جائیں۔ واہ رے انسان تو کتنا ذہین ہے تجھے کس لیے اس دنیا میں بھیجا گیا کیا چیلنج دیا گیا کہ ذہن کو ماؤف کر دینے والی وسعت کائنات کو بسیط ہو جا، تسخیر کر لے، خود کو اشرف المخلوقات ثابت کر (گوکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اکثر مخلوقات سے بہتر پیدا کیا ہے اس سے Superiorمخلوقات بھی کائنات میں موجود ہیں) لیکن تو نے عیش و عشرت کو زندگی بنا لیا اورہوس پرستی کی وجہ سے افراد نے معاشروں کو تباہ کر دیا اور معاشروں نے باہم ہاتھا پائی میں زمین سے زندگی ہی کو مفقود کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ (یاد رہے کہ میں ابھی تک صرف مادی دنیا اور زندگی پر بحث کر رہا ہوں جو صرف حواس خمسہ کے ذریعے محسوس کی جا سکتی ہے دوسرے حواس یا دوسری دنیائیں اس کے علاوہ ہیں، اس پر آگے چل کر بحث ہو گی)۔

              اس جنگ و جدل کی بنیادی وجوہات میں مختلف مذاہب، مکتبہئ فکر اور تہذیبوں کا ٹکراؤ ہی نہیں ہے بلکہ نفس اور قوم پرستی بھی ہے جس طرح سے کوئی فردِ واحد، اشرافیہ یا تنظیم دنیا کے تمام وسائل کو صرف اپنے قبضہ اور تصرف میں لے آنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح آگے بڑھیئے تو ہر جغرافیائی وحدت اور زبان و تہذیب و تمدن پہ مبنی قوم دوسری سب جغرافیائی وحدتوں اور اقوام کوغلام بنا لینا چاہتی ہے۔ اس چھینا جھپٹی اور خوشی کا نکتہئ ماسکہ کیا ہے؟ تعیش حیات کا لا متناہی سلسلہ اپنے لیے بھی اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بھی! اس سوچ اور اندازِ فکر نے انسان کو اس کے اصل مقصد ِ حیات سے بہکا دیا ہے۔ زمین تو زمین اب خلاؤں پر بھی قبضہ اور تصرف کی جنگ جاری ہے تاکہ وہاں سے بھی زمین بے چاری سے منسلک حیات کو کیسے بھسم کیا جا سکتا ہے۔ مجھے تو یوں نظر آتا ہے کہ انسانی ذہانت اگر اسی طرح اپنی بقا کے پیچھے پڑی رہی تو کہیں زمین (سیارہ) ہی بالا ٓخر بھک سے نہ اڑا دی جائے، کیا اسے ترقی کہتے ہیں؟ اسے بقاءِ حیات کا نام دیا جا سکتا ہے؟ یا یہ انسان کی بدترین تنزلی کی طرف تیز ترین سفر ہے۔ پھر سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسی گیسیں پیدا ہو رہی ہیں، ایسے کیمیائی ری ایکشن ہو رہے ہیں کہ زمین پر سورج کی مہلک شعائیں اوزون کی تہہ کو چیر کر پہنچنے ہی والی ہیں بلکہ ان کا پہنچنا شروع ہو چکا ہے۔

    آئیے اس کا حل تلاش کریں

              جب صورت حال اس قدر گھمبیر ہے اور ہماری بقا ہی کو سخت خطرات لاحق ہیں تو ان کے حل کی طرف جلد از جلد پیش رفت ازحد ضروری ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ کس طرح ہم اس صورت حال سے نکل سکتے ہیں۔ کون سی چیز ہو کہ جو ہمیں باہم ایک نوع کے طور پر اکٹھا کر دے۔ قوم نہیں بلکہ نوع انسانی کی بقا، امن، خوشحالی، ترقی اور صحت حسن کس طرح ممکن ہے۔

              ہم جب مندرجہ بالا مسائل پر غور کرتے ہیں تو عقل گم ہو جاتی ہے کوئی خیال یا تجویز یاKeyاس عقدے کو کھولنے یا حل کرنے کے لیے قریب قریب نظر نہیں آتی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مایوس ہو جائیں۔بلکہ Try Try Again کے مقولے کے تحت بار بار اور مسلسل سوچ بچار ہمیں کسی حل کے قریب ضرور لے آئے گی۔ ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں Negative اور Positive۔ جب Negativeہمیں اس نہج پر لے آیا ہے تو اسی کا Positiveبھی اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن میں ضرور Feed کر رکھا ہو گا۔

    شفافیت مذاہب کے ذریعے حل

              جب اصل اور حقیقی حل کے لیے ہم مذہب کی طرف نگا ہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ دنیا میں 90%افراد کے ایک خدا یا واحد کارساز طاقت پر ایمان و یقین رکھنے یا اسے تسلیم کرنے کے باوجود درجنوں مذاہب اور ان پر عمل کرنے والے شاید سینکڑوں یا ہزاروں فرقہ جات تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ موجود ہیں۔ کچھ میں بُعد المشرقین ہے تو کچھ ایک جیسے دکھنے کے باوجود باہم متضاد ہیں اور ہر کوئی اپنے ایمان عقیدے یا فلسفہئ مذہب پر نہ صرف پورے اعتماد کے ساتھ قائم ہے بلکہ دوسروں کو غلط سمجھتے ہوئے انھیں صفحہئ ہستی سے مٹا دینا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے یا پھر انھیں صرف اپنا ہم خیال دیکھنا چاہتا ہے۔ جب صورتحال یہ ہے تو اس کا آخر حل کیا ہے؟

    قرآن مجید

    اسے آپ میرا مذہبی عقیدہ کہیے یا ہر مذہب کے پیروکاروں کی طرح ایمان کہیے میرا الحمدللہ اس کتاب اللہ پر بہت راسخ ایمان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری آسمانی کتابوں پر میرا ایمان نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کی طرح تمام آسمانی کتابوں پر اور تمام نبیوں پر، فرشتوں پر، رو ز آخرت پر اور اللہ تعالیٰ کی مکمل وحدانیت پر میرا ایمانِ کامل ہے۔ لیکن قرآن ایک ایسی مکمل کتاب ہے جس کے اندر تمام سابقہ ادیان مع دین ابراہیمی کامل اور لاریب شکل میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ یہ کتاب اپنے اصل عربی متن کے ساتھ موجود ہے ہو بہو وہی اللہ تعالیٰ کا تمام کلام ہر زِیر زَبر، پیش کے ساتھ آج بھی سینکڑوں سالوں بعد (یہاں  زِیر، زَبر، پیش سے مراد الفاظ، معنی و مفہوم بھی ہے)موجود ہے۔ جبکہ دوسری کتب تراجم کی وجہ سے اصلی الفاظ کو شاید ہو بہو برقرار نہ رکھ سکی ہوں۔ گو کہ یہ دعویٰ نہیں ہے، مختلف مکتبہئ فکر کا خیال ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ جہاں اہل ِ اسلام نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ بائیبل کو ترجمہ شدہ اور تحریف شدہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہاں اہل یسوع مسیح عیسائی اور یہودی حضرات نے (بنی اسرائیل نے) اسے اصلی متن اور تحریف سے پاک قرار دیا ہے۔ بہر کیف ہم یہاں صرف قرآن مجید پر چونکہ بحث کر رہے ہیں اس لیے لمحات موجودہ میں بحث کو یہیں تک محدود رکھتے ہیں۔

              قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میں نے تمام انسانوں کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر اس کا جوڑا بنا (آدم ؑ اور حواؑ) اور اس کے بعد ان ہی کی نسل سے تمام نوع انسانی کو بڑھایا اور پھیلایا ہے۔ کسی کو کسی پر کوئی بڑائی اور فوقیت حاصل نہیں ہے۔ماسوائے تقویٰ (پرہیزگاری) کے۔           تقویٰ کا مفہوم نیکی اور پرہیزگاری ہے اور قرآنی اصول و قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اس میں ابدی بنیادی اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور جن جزیات میں قرآن پاک نہیں گیا ان کو زمانہ کے تقاضوں کے مطابق علما کے اجماع سے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ یہ قوانین کیا ہیں کیونکہ کوئی بھی قرآن مجید کا نسخہئ کیمیا اٹھا کر انھیں پڑھا اور معلوم کیا جا سکتا ہے۔

    (جاری ہے)

    ترتیب و پیشکش :محمد رفیع صابر

  • قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ*

    وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتیّٰ يَبْلُغَ اَشُدَّه، ج

    اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، سوائے اس طریقہ کے کہ اس کے لیے بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے ،

    یتیم کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قُرآن نے ہی ہمیں بتایا کہ گذشتہ تمام انبیاء اور شریعتوں میں بھی یہی قانونِ الٰہی تھا

    منشورِ حیات کے اس چھٹے اصول سے یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہے کہ بچہ انسانی معاشرے کی بنیاد کی خِشتِ اول ہے، بچے کی نگہداشت ، تربیت، درست بنیادوں پر پرورش بہترین اور توانا معاشرے کے لیے کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں یتیم کے حقوق اور کیفیات کے بیان میں لفظِ یتیم اپنے دیگر مُشتقات کے ساتھ 23 مرتبہ استعمال ہوا ہے

    بچہ دراصل اپنی کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے کسی ایسے ہمدرد سرپرست کا محتاج ہوتا ہے جو اتنی بڑی اور اجنبی دنیا میں اُس کا ساتھ دے اس کے مادی و روحانی حقوق کا محافظ ہو، باپ اس فطری ذمہ داری کو جتنا بھی اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہے وہ ایسا کر نہیں پاتا  اسی طرح یتیم بھی ایسی سرپرستی اور شفقت ، مادی حقوق کی حفاظت کا مکمل حق رکھتا ہے لہٰذا قرآن مجید اس اہم ترین حق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس کے مادی و روحانی حقوق کے تحفظ کا حکم دے کر معاشرے کی اہم ترین ذمہ داری کا تعین فرما رہا ہے کہ جو بچہ کسی بھی وجہ سے اپنے قدرتی و حقیقی سرپرست سے محروم ہو گیا ہو اُس کے قریبی اعزاء و اقارب اس کی سرپرستی و تربیت فریضے کی طرح ادا کریں، تاکہ بلوغت کے بعد وہ تمہارے معاشرے کا مفید فرد بن کر سامنے آئے،

    وَ اَوْفُواالْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ج

    ناپ تول کا حق انصاف کے ساتھ پُورا کرو ؛

    عدل و قسط اپنے اندر بے شمار معانی و مفاہیم لیے ہوئے ہے، اس کی وضاحت اور سمجھنے کے لیے ایک الگ نشست اور مضمون کی ضرورت ہے، البتہ یہاں چونکہ موضوع ناپ تول میں عدل و قسط ہے لہٰذا اسی پر مختصر بات کرتے ہیں،

    قُرآن میں معاشی و اقتصادی انصاف معاشرے کا بنیادی ترین اصول قرار دیا گیا ہے ناپ تول میں کمی سے مراد اجناس کے علاوہ ہر طرح کی ثروت و دولت؛ قدرتی وسائل اور نعمتوں کی تقسیم بھی ہے، ایک عام شہری سے حکمران تک اس آیت میں اور قُرآن میں مخاطب ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو، ذخیرہ اندوزی نہ کی جائے، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، کسی کے حق پر بےجا تصرف نہ کیا جائے، فقر و فاقہ اور طبقاتی امتیازات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے،

          لَا  نُکَلِّفُ  نَفساً  اِلَّا  وُسعَھَا ج

    ہم کسی انسان کو اُس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں دیتے

    یہاں پر تو بظاہر ان الفاظ کا تعلق پچھلی بات سے بنتا ہے یعنی اقتصادی عدل؛ ناپ تول میں عدل و قسط یہ اتنا مشکل کام نہیں کہ جسے تم کر نہ سکو لیکن یہی بات سُورۃ بقرۃ کی آیت 233؛ سُورۃ اعراف کی آیۃ 42 ؛ سُورۃ مومنون آیت 62 میں مختلف معانی میں کہی گئی ہے، جس کا لب لباب یہ بنتا ہے کہ اسلام بطورِ دین اپنے اندر انسانیت کے لیے آسانیاں سمیٹے ہوئے ہے، اس پر عمل کرنے میں کوئی تنگی نہیں ہے، اور اسلام کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس پر عمل  کرنے میں انسان کے لیے تنگی اور مشکل پیدا ہو،

    وَ اِذَا  قُلْتُم  فَاعدِلُوا  وَلَو کَانَ ذَا قُربی  ج

    اور جب بات کرو تو عدل کرو خواہ وہ قرابت دار کے بارے میں ہی ہو

    عدل ایک ایسا بنیادی منبع و ستون ہے کہ جس پر انسانی معاشرے کی بنیاد پُختہ ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ یہاں اور قُرآن میں دیگر مقامات پر یہ واضح اصول دے رہا ہے کہ جب تم فیصلہ کرنے لگو تو کوئی رشتہ کوئی لالچ، کوئی خوف تمہیں حق پر فیصلہ کرنے سے نہ روک پائے اور قُرآن نے متعدد مقامات پر ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کی پیروی کو عدل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے،

    وَ بِعَھْدِ اللهِ اَوْفُوْا ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ * 

    اور اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرو ؛ اللہ نے تمہیں اس کی تاکید کی ہے تاکہ تم ذکر کرتے رہو،

    عہد و پیمان اور وعدہ وفائی ایک فطری خُوبصُورتی ہے، اخلاقی بلندی؛ اعتماد اور معاشرتی اعلیٰ ظرفی کا واضح ثبوت ہے، جبکہ وعدہ و پیمان شکنی اخلاقی پستی کی مظہر ہے، وعدہ وفائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ قُرآن مجید میں اس کا ذکر 45 مرتبہ ہوا ہے، اور آیت کے آخری الفاظ تاکید کی گئی ہے کہ اس پر عمل کرو اور ان مندرجہ بالا امور کو دہراتے رہو، ذکر کرتے رہو،

    اور اس سے اگلی آیت 153 میں ارشاد رَبُّ العِزَّت ہو رہا ہے کہ

    وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْماً فَاتَّبِعُوْهُ ط وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبَيْلِهٖ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ  *

    یہ ہے ہمارا سیدھا راستہ اسی پر چلتے جاؤ اور دوسرے راستوں پر نہ چلو

    کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکا کر متفرق کر دیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے،

    صراطِ مستقیم کے متلاشیو! دنیا و آخرت کی کامیابی چاہنے والو ! قُرآن میں تلاش کرو تمہیں دنیا میں جنت مل جائے گی، مگر لالچ، ہوس ، بہتات کی حرص ، شہوت جیسے شیطان بھی تو صراطِ مستقیم کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، جو انسانوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا تے ہیں اور انسان اپنے کریم رب سے دوری اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ وہ کریم رب قدم قدم پر انسانوں کی راہنمائی فرما رہا ہے،

    اس کے علاوہ بھی قُرآن نے چار مقامات پر تسلسل کے ساتھ اپنے منشور کو واضح بیان فرمایا ہے، یہ سُورۃ بنی اسرائیل کی 22 ویں آیہ سے 39 ویں آیۃ تک 18 آیات ہیں اور پھر سُورۃ مومنون یہلی 10 آیات میں سات 7 بنیادی اصول بیان کیئے گئے

    سُورۃ فُرقان کی آیت 63 تا 77 میں 14 اصول پیش ہوئے جبکہ سُورۃ لقمان آیات 13 تا 19 میں بھی 12 اخلاقی و معاشرتی اصول بیان کیئے گئے ہیں ؛ ان تمام مشترکہ نکات کو ایک جگہ جمع کر کے مطالعہ کیا جائے تو قُرآن مجید کی حقانیت و حکمت کے سارے راز کھلتے ہیں، وہ حکیمِ مطلق دراصل نوعِ بشر کو سعادت و خوش بختی کی کن منازلِ پر دیکھنا چاہتا ہے قُرآن کو بطورِ منشورِ حیات اگر پڑھا اور سمجھا جائے اور عمل کی کوشش کی جائے تو سب کچھ آشکار ہوتا چلا جاتا ہے،

    سُورۃ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39  میں بیان کردہ  منشورِ حیات کے 14 نکات یہ ہیں

    1 – لَا تَجعَل مَعَ اللہِ اِلٰھاً  آخَرَ

    اللہ کے ساتھ دوسرا شریک قرار نہ دیا جائے

    2  –  وَقَضٰی رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِيَّاهُ

    تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ عبادت فقط اسی کی کرو

    3  – وَ بَالوَالِدَینِ اِحْسَاناً

    اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو

    4  – وَاٰتِ ذَاالْقُرْبیٰ حَقَّه، وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنِ الْسَبِيْلِ

    اپنے قریبی رشتہ داروں؛ مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو

    5  – وَلَا تُبَذَِّر تَبذِیراً 

    اسراف اور فضول خرچی نہ کرو

    6 – وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اَلیٰ عُنُقِكَ  وَلَا تَبْسُطْھَا كُلَّ الْبَسْطِ

    نہ اپنے ہاتھوں کو بالکل گردن سے باندھ لو اور نہ ہی بالکل کُھلا چھوڑ دو (نہ کنجوسی؛ نہ فضول خرچی بلکہ میانہ روی)

    7 – وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ خَشیَۃَ  اِمْلَاقٍ

    اور نہ بھوک کے خوف سے اپنی اولادوں کو قتل کرو

    8 –  وَلَا تَقْرَبُواالزِّنیٰ

    زنا (بدکاری) کے قریب مت جاؤ

    9  – وَلَا تَقْتُلُواالنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ اِلَّا بِالْحَقّ

    اللہ نے ناحق خون بہانے (قتل) کو حرام قرار دیا ہے

    10  – وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ

    احسن صورت کے علاوہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ

    11  – وَ اَوْفُوْا بِالعَھدِ

    اور اپنے وعدے ایفاء کیا کرو

    12  – وَ اَوْفُواالْكَيْلَ اِذَا کِلتُم وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ المُستَقِیمِ

    پیمانہ صحیح رکھو اور بالکل درست ترازو سے وزن کیا کرو

    13  – وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلَّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسئُولاً

    جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہو اُس کی پیروی نہ کرو، کان؛ آنکھ ؛ اور دل جواب دہ ہوں گے

    14  – وَلَا تَمْشِ فِی الاَرْضِ مَرَحاً

    اور تکبر و غرور کے ساتھ زمین پر نہ چلو

  • قُرآن آئینِ زندگی ہے؛ منشورِ حیات ہے(قسط اوّل)

    قُرآن آئینِ زندگی ہے؛ منشورِ حیات ہے(قسط اوّل)

    قُرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نبیِ مکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی آخری آسمانی کتاب ہے، قُرآن ایک دائمی معجزہ ہے سرکارِ رسالت مآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کا ، کیونکہ اسلام دائمی و جاودانی دین ہے تو قُرآن کو بھی  قیامت تک کے لیے ہر دور اور زمانے میں سند اور دلیل کا حامل ہونا چاہیے، اور قُرآن کا دعویٰ بھی یہی ہے ،  وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ * کوئی خُشک و تَر ایسا نہیں جس کا ذکر قُرآن مجید میں موجود نہ ہو، قُرآن کہتا ہے کہ وہ ھُدًی لِّلنَّاس ہے ؛ قُرآن جامِ صفاء و نُورِ خُدا ہے ، گنجِ سعادت فی الدُّنْيَا اور سامانِ عُقبیٰ ہے، قُرآن فلاحِ نَوعِ انسانی کا نُسخہءِ کیمیا ہے ، لہٰذا سُورۃ الجاثیہ کی آیت نمبر 20 میں فرمایا جا رہا ہے کہ

    ھٰذَا بَصَأ ئِرُ لِلنَّاسِ وَھُدًی وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّوقِنُوْنَ *

    یہ (قُرآن) لوگوں کی ہدایت کے لیے دلیلوں کا مجموعہ اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے،

    تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس قُرآن سے مکمل استفادہ کرنے میں ناکام کیوں ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ قُرآن کو سمجھنے کا فریضہ ہم نے مولویوں کے لیے رکھ چھوڑا ہے، اور اب مولوی بھی عام آدمی کو اس طرف جانے سے مانع ہے کیونکہ یہ اس کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے حالانکہ سُورۃ القمر کی 17 ویں آیت میں قُرآن سب کو پکارتے ہوئے گویا ہے کہ

    وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْأنَ لِلذِّكْرِ فَھَلْ مَنْ مُّدَّكِرٍ *

    اور ہم نے تو قُرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے

    اب اس مُختصر سی تمہید(جو کہ بذات خود مکمل مضمون کی متقاضی ہے) کے بعد آئیے ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور اس کے لیے  بہت زیادہ آیات کا حوالہ دینے کی بجائے آج کی اس گفتگو میں ہم سُورۃُ الانعام کی آیت نمبر 151 اور 152 کا سہارا لیتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے منشورِ حیات کے دس 10 اہم ترین نکات واضح اور صریح انداز میں بیان فرمائے ہیں، اور یاد رہے کہ معمولی رد و بدل کے ساتھ تورات میں بھی یہی 10 نکات موجود ہیں، اور انہی دس نکات کی بنیاد پر یہودی معاشرہ فخر بھی کرتا ہے اور اپنی مذہبی حیثیت برقرار بھی رکھے ہوئے ہے، چونکہ یہ تفصیلی آیات ہیں اس لیے ایک ایک نکتے کو لے کر مختصر تشریح کے ساتھ آگے بڑھیں گے،

    قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُم عَلَيْكُم اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئاً وَّ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَاناً

    اے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ جو چیزیں اللہ نے تُم پر حرام کر دی ہیں وہ تمہیں پڑھ کر سنا دوں وہ یہ کہ کسی بھی شے کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو؛

    قُرآن کے ہی بیان کے مطابق ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی بنیاد یہ رہی ہے کہ تمام انسان ایک واحد اللہ کی عبادت کریں ، ایک حاکم کی حاکمیت کو تسلیم کر لینے میں حکمت یہ ہے کہ انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نجات دلائی جائے ، اور قُرآن مجید بھی توحید و یکتا پرستی کو ساری آسمانی شریعتوں کے درمیان مشترکہ بنیاد کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے سُورۃ آلِ عمران کی 64 ویں آیۃ میں فرما رہا ہے کہ

    قُلْ يَا اَھْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا اِلیٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْعاً وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً اَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ اللهِ ط

    اے میرے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ اے اہلِ کتاب ! اُس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اُس کے لیے کسی کو بھی شریک و مثیل نہ بنائیں، اور اللہ کے سوا ہم میں سے کسی کو پروردگار نہ مانیں ،

    مختصراً عقیدہءِ توحید قُرآن کی رُو سے پہلا اور بنیادی ترین منشور ہے

    والدین کے مقام کو قُرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی توحید و یکتائی اور ربوبیت کے فوراً بعد بیان کرنا ان کے مقام و مرتبہ کی بلندی کا عکاس ہے اور یہ بات یعنی توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ بھلائی کو قُرآن میں مزید تین بار دہرایا ہے سُورۃ النساء آیت 36؛ سُورۃ بنی اسرائیل آیت 23 اور سُورۃ لَقمان آیت 14 میں ؛ والدین کی خدمت ، ایثار و جانثاری کو قُرآن نے کائنات کی سب سے بڑی قُربانی و نیکی فرمایا ہے، یہ اپنی جگہ ایک مکمل موضوع ہے جس پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں، اور جتنا میں نے دیکھا ہے اور کمزور ترین جانکاری کے اقرار کے ساتھ قُرآن مجید میں کم از کم 14 آیات میں اولاد کے لیے والدین کی خدمت؛ عزت؛ فرمانبرداری کے واضح احکامات موجود ہیں؛

    وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِيَّاھُمْ ط

    اور مُفلسی کے خوف سے اپنی اولادوں کو نہ مار ڈالنا، ہم ہیں جو اُنہیں بھی اور تمہیں بھی رزق دیتے ہیں،

    اولاد کو والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دینے کے بعد والدین کو مخاطب کرتے ہوئے حکمِ ربّی ہو رہا ہے کہ دیکھو رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ، تمہارا بھی اور تمہاری اولاد کا بھی رازق اللہ ہی ہے، اسلام سے قبل زمانہءِ جاہلیت میں لوگ اپنی اولادوں خصوصاً بیٹیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے، وہ زمانہ سائنسی وسائل نہیں رکھتا تھا اس لیے پیدائش کے بعد قتل کیا جاتا تھا اور آج کا جدید انسان سائنسی ترقی کے ذریعے پہلے سے جان لیتا ہے اور اسقاط کے ذریعے ایسے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، قُرآن اولاد کے ساتھ مہر و محبت، شفقت اور حُسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے،

    وَلَا تَقْرَبُواالْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ ج

    اور بدکاریوں کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا چھپ کر؛

    لفظِ فواحش اپنے اندر وسیع تر معانی رکھتا ہے مثلاً جھوٹ، عہد شکنی، وغیرہ ، لیکن اگر وسیع تر معانی کو سمیٹنا ہو تو ہم (جنسی اعمال میں بے راہ روی) کہہ سکتے ہیں جنسی میلانات انسانی جَبِلَّت میں موجود ہیں، اور انسان بہرصُورت ایک معاشرتی حیوان ہے  لہٰذا معاشرے کے تحفظ کے لئے لازم ہے کہ جنسی فواحش کو قابو میں رکھا جائے قُرآنِ مجید میں عورت اور مرد کے خلافِ شرع جنسی اختلاط کو فاحشہ کہا گیا ؛ قومِ لوط کے عمل کو فاحشہ کہا گیا؛ پاک دامن عورتوں پر الزام کو فاحشہ کہا گیا، مختصر یہ کہ لفظِ فاحشہ قُرآن میں 13 مرتبہ اور فواحش 4 مرتبہ استعمال ہوا ہے اور چونکہ اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں، معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر عفت و حیاء اور پاکدامنی کے خاتمے کا سبب بنتا ہے،

    وَلَا تَقْتُلُواالْنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ بِالْحَقِّ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ *

    جس انسان کو اللہ نے محترم قرار دیا ہے اُسے ناحق قتل نہ کرو  یہ وہ باتیں ہیں جن پر عمل کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تا کہ تم سمجھو  !

    قُرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب مخلوقات سے جُدا، اعلیٰ و ارفع مقام سے نوازا ہے، قُرآن نے انسان کو اللہ کا خلیفہ و جانشین قرار دیا  جو امامت کا بار اُٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، انسان اللہ تعالیٰ کا متعلم اور فرشتوں کا معلم قرار پایا، خُشکی اور دریاؤں کو مسخر کرنے والا اور سب سے بڑھ کر احسنِ تقویم  پیدا کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اس قدر مثبت مقام و اقدار کی بنیاد پر اس کا خون، جان و مال اور عزت و آبرو یہاں تک کہ میت کو بھی محترم قرار دیا گیا ہے، قُرآن نفسِ انسانی کے احترام کو ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے اس ذکر کو مختلف انداز اور الفاظ سے بار بار دہراتا ہے، مختلف سزاؤں کے تعین اور آخرت کی جزاء و سزا کے بیان سے انسانی معاشرے کا امن اور قتل و خون ریزی سے روکنا مقصود ہے،

    یہاں سُورۃُ الانعام کی آیت 151 کا اختتام ہو رہا ہے اور اللہ رَبُّ العِزَّت اس آیت میں بیان شدہ پانچ 5 نکات کو اپنی وصیت/حکم قرار دے کر انسان کو عمومی طور پر غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے ، اگلی نشست میں ان شآء اللہ قُرآنی منشور کےاگلے پانچ نکات پر گفتگو ہو گی

    جاری …

  • سیرت نہ ہو تو عارض و رُخسار سب غلط

    انسان کی قدر و منزلت عمل کے حُسن سے ہے , فرد ہو یا قوم , جس کی زندگی عمل کے سوز سے خالی ہو , وہ ایک لفظِ بے معنی ہے , ایک جسم ہے جو بے رُوح ہے …… ایک گُفتار ہے جو کردار کی قوت سے خالی ہے….  کردار و عمل کی خُوبی کے بغیر پُرشِکوہ الفاظ کی شان اور گُفتار کا حُسن بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ,

    عمل افراد اور قوموں کے اندر جوش اور ولولہ , آگے بڑھنے کا جذبہ اور لگن پیدا کرتا ہے , رواں دواں پانی تازہ رہتا ہے , ساکن پانی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے , عمل سیرت و کردار سے اُبھرتا اور نکھرتا ہے ,

                   جوشِ کردار سے کُھل جاتے ہیں تقدیر کے راز

    اور کردار کے لئے اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کُچھ یُوں فرما دی ہے کہ

    لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللہِ اُسوَۃُُ حَسَنَۃُُ (الاحزاب ۲۱ )

    بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ,

    مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللہ ِ

    جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی پس بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی

    اللہ تعالیٰ واضح اور صریح الفاظ میں ارشاد فرما رہا ہے  کہ اگر تم کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ! دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہشمند ہو تو ! اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو ان کی کامل و اکمل زندگی کو اپنے لیئے نمونہ بناؤ ، اُسوہءِ حَسَنہ ہے کیا ؟

    اُسوہءِ حَسنہ خُلقِ عظیم ہے :: عفو و درگزر ہے :: پیار و محبت ہے. ، شفقت و مہربانی ہے  نہ صرف انسانوں سے حتیٰ کہ جانوروں سے بھی

    اُسوہءِحَسنہ استقامت و صبر و تحمل اور ایثار و قربانی ہے , ایفائے عہد ہے :: اخلاص و تقویٰ ہے :: عدل و انصاف و احسان ہے :: خشتِ اِلٰہی ہے

    اُسوہءِ حَسنہ تربیت و تبلیغ ہے :: امر بِالمعروف ہے :: نہی عن المنکر ہے :: نظم و ضبط اور قانون کا احترام ہے :: اتحادِ مِلّی ہے 

    اُسوہءِ حَسنہ امانت و دیانت ہے :: کسبِ حلال ہے :: حرام سے اجتناب ہے :: گھریلو اور معاشرتی زندگی میں راہنما ہے :: منافقت سے نفرت ہے :: عبادت و ریاضت ہے :: ریاکاری سے اجتناب ہے :: اور سب سے بڑھ کر فکرِ دنیا و آخرت  ہے

                            دعوت و تبلیغ کے لیئے جس بلند ترین اخلاق و شفقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں اس حد تک موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ یٰسین میں  قُرآن کی قسم کھا کر کہنا پڑا کہ

    اِنَّکَ لَعلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ہ بےشک آپ حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہیں ,

    اور کہا یہ جاتا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں تو کیا وراثت میں سرکار کا اُسوہءِ حسنہ مکمل طور  پر نہیں لینا چاہیئے ؟ کیا آج ہمارے علماء اخلاقی نقطہءِ نظر سے وارث کہلانے کے حقدار ہیں ؟ ,

      28 رجب  , جب امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر مجبور کیا جا رہا تھا, اور امامِ مظلوم اپنے بچوں , عورتوں , جوانوں , بوڑھوں غرضیکہ تمام خانوادہءِ رسالت کو لے کر اپنے نانا کے وطن مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیئے جا رہے تھے تو کیا مدینہ بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم علماء و عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے بھرا ہوا نہ تھا ؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسلمان 1400 سال سے کم ہی اسوہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم , پر کاربند رہے ہیں

    رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے عفوودرگزر کا عالم یہ تھا کہ ایک شخص قتل کا ارادہ لے کر آیا , مگر جب چہرہءِ اقدس پر نگاہ پڑی تو مرعوب ہو کر تلوار ہاتھ سے گر پڑی , آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ,نے آگے بڑھ کر تلوار اُٹھا لی , چاہتے تو قتل فرما سکتے تھے مگر کمال مہربانی سے معاف فرما دیا , اسی وقت اس شخص نے اسلام قبول کر لیا , اپنے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ, کے قاتل وحشی کو معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا , اللہ کے رسول ,ص, کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا , ایک دن آکر نہایت سخت الفاظ میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا ,اور اپنی چادر آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, کی گردن مبارک میں ڈالی , صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم, آگے بڑھے مگر رحمتِ مجسم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے روک دیا اور فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے , اس نبی کی امت ہو , عالم ہوں , عاشقانِ مصطفےٰ ہونے کے دعویدا ہوں , اسی نبی کی حُرمت کے نام پر وحشی اور درندے بن جائیں ؟ مجھے بتائیے نا کہ وہ عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, کیسے ہوئے  ؟, جس نبی کی نرمیِ طبیعت اور حُسنِ سلوک کی گواہی  اور تذکرے قُرآن جا بہ جا کرے اس کے وارث اور امتی اس قدر ظالم ہوں کہ انسانوں کو اللہ کے برحق اور سچے دین سے اپنے عمل کی وجہ سے متنفر کر رہے ہوں سورۃ آلِ عمران آیت 159 میں ارشادِ ربانی ہے کہ

    فَبِمَا رَحمَۃٍ مّنَ اللہِ لِنتَ لَھُم وَلَو کُنتَ فَظًا غَلِیظَ القَلبِ لاَنفَضُّوامِن حَولِکَ

    پس اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ اُن کے لیئے نرم دل ہوئے , اور اگر آپ مزاج کے اکھڑ اور دل کے سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو گئے ہوتے ,

    بدلہ نہ لینے والے رسول ,ص, عفو و درگزر کے عملی نمونہ نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث اور امتی کیا اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام سے منتشر اور متنفر نہیں کر رہے ؟ , ذرا دیر کو رک کر ہمیں سوچنا ہو گا , ورنہ یہ جنت کا لالچ یہ حور و قصور کی ہوس کہیں ہمیں دین و دنیا میں تباہ و برباد نہ کر دے

    وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃًلِلعَالَمِین کی امت آئیے  اپنے گھر کے لیے ، اپنے محلے ، شہر ، وطن اور پوری دنیا کے لیے سراپا محبت و رحمت بن جائیں ، تا کہ بہترین اُمت قرار پائیں ، وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بروز محشر آقائے نامدار صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ہمارے بارے میں ہی فرما رہے ہوں کہ

    وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا

    اور رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ اے پالنے والے بےشک میری اُمت نے تو اس قُرآن کو چھوڑ ہی دیا تھا،

    از قلم : مُونِس رضا

    نوائے مونس
    نوائے مونس- مونس رضا صاحب کی تمام تحریریں

  • کیا عزت و ذلت؛ ہدایت و گمراہی اللہ کی مرضی سے ہیں ؟

    کیا عزت اور ذلت؛ ہدایت و گمراہی اللہ کی مرضی سے ہیں

    یہ ایک ایسا سوال ہے جو عموماً لوگوں کے ذہنوں میں اُبھرتا ہے، میرا ذہن بھی اکثر اُلجھ جاتا ہے میرا یہ کامل ایمان ہے کہ اللہ رَبُّ العِزَّت قادرِ مُطلِق ہے، یقیناً وہ کُن، فَیَکُون کا مالک ہے مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک واحد اللہ ہدایت کا سرچشمہ بھی ہو اور ضلالت و گمراہی کا مبداء بھی؟ اور پھر یہ بھی کہ انسان کو گمراہی پر عذاب بھی دے؟ جبکہ وہ عادل بھی ہو

    اس تحقیق و تحریر کی وجہ سورۃ آل عمران کی 26 ویں آیۃ کے یہ الفاظ بنے

                   وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَأءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَأءُ ط 

    یعنی عزت اور ذلت تو بس اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عزت دے دے اور جسے چاہے ذلت دے دے  اور سُورۃ ابراہیم کی آیت 4 میں یُوں گویا ہے کہ

                 فَيُضِلُّ اللهُ مَنْ يَشَأءُ وَ يَھْدِیْ مَنْ يَّشَأءُ ط

    وہ اللہ جسے چاہتا ہے گُمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

    جو بھی انسان ظُلم و جبر اور طاقت کے بَل بوتے پر جب دولت و اقتدار حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ یہی استدلال پیش کرتا ہے جیسا کہ شام کے دربار میں اولادِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظلم کی انتہا کے بعد یزید لعین نے یہی آیات پڑھیں اکثر چور، ڈاکو لُٹیرے یہی حوالہ پیش کرتے ہیں، وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَأءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَأءُ یعنی عزت اور ذلت تو اللہ خُود بانٹتا ہے لہٰذا ہمیں بھی عزت اللہ نے ہی عطا کی ہے ؛

    تو پھرمعزز قاری ! کیا یہ سوال نہیں بنتا ؟ یقیناً آپ بھی ایسے ہی سوچتے ہوں گے، اور پھر قُرآن خُود ہمیں غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے، اور مندرجہ بالا طاغُوتی قوتوں سے یہ کہتا سنائی دیتا کہ

    وَ مِنَ الْنَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًی وَّ لَا کِتَابٍ مُّنَيْرٍ *

    اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ نہ ان کے پاس علم ہے نہ ہدایت ہے اور نہ روشن کتاب ہے، تو پھر آئیے قُرآن یعنی کتابِ روشن ہی سے اپنے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں !

    ہم قُرآن حکیم کی حکمتوں پر جب غور و فکر کرنا شروع کرتے ہیں تو ہم پر یہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے کہ قُرآن کی ایک آیت کی تشریح و تفسیر دوسری آیت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو سورۃ نحل کی ٨٩ ویں آیت میں قُرآن کو واضح بیان کرنے والا تبیان فرماتا ہے

                         وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَاناً لِّكُلِّ شَیءٍ 

    قُرآن جو تمام حقائق کو واضح کرنے والا ہے ہم نے آپ پر نازل کر دیا

    سب سے پہلی وضاحت سورۃ یونس کی آیت 108 سے لیتے ہیں

    قُلْ يٰاَيُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَأءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ج وَمَنِ اھْتَدیٰ فَاِنَّمَا يَھْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا  يُضِلُّ عَلَيْھَا ج وَمَأ اِنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ *

    اے میرے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کہہ دیجیئے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق کی دعوت تمہاری طرف آ چکی ہے پس جو بھی اس ہدایت کو قبول کرے گا وہ اس کے اپنے نفع میں ہے، اور جو اس سے روگردانی کرے گا اس کا اپنا نقصان ہے، اور مَیں (محمد ص) ہرگز تَم پر مسلط نہیں ہوں ، یہاں قُرآن ہمیں وسیع اور عمومی ہدایت و گمراہی کی خبر دیتا ہے، اور یہ ہدایت و گمراہی انسان کے اپنے اختیار میں دے کر اسے آزاد کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا

    وَھَدَینَاہُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاکِراً وَّ اِمَّا کَفُوراً  ؛ ہماری طرف سے سیدھی راہ کی طرف انسان کو ہدایت کر دی گئی ہے اب اس کی مرضی ہے کہ عمل کر کے شکر گزار بندہ بنے یا انکار کر کے کُفرانِ نعمت کرے،

    معزز قاری ! یہاں ایک بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء اور قُرآن کے ذریعے سے اچھائی اور برائی، نیکی اور بدی کی مکمل ہدایت کا بنیادی فریضہ ادا کر دیا ہے، اور تمام انسانوں کو بالعموم مخاطب کرتے ہوئے فرما دیا ہے کہ تمہارا نفع و نقصان یہ ہے ، اب یَھدِی مَنْ یَشَآءُ یعنی وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، کا مطلب سورۃ محمد کی ١٧ ویں آیت میں یُوں واضح ہوتا ہے کہ

    وَالَّذِینَ اھْتَدَوا ذَادَھُم ھُدًی  ، اور جنہوں نے اس عمومی ہدایت کو قبول کر لیا وہ (اللہ) اُن کی ہدایت (توفیق) میں اضافہ کر دیتا ہے اور سورۃ مؤمن کی آیت 34 میں ارشاد فرمایا کہ

    كَذَالِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ *

    حد سے گزر جانے والے اور شک کرنے والے کو اللہ گمراہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور اسی سورۃ کی 74 ویں آیۃ میں فرمایا کہ یُضِلُّ اللهُ الکَافِرین ، اور اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ رہنے دیتا ہے، اور اسی طرح سورۃ ابراہیم کی آیت 27 میں ارشاد فرمایا

    يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فَی الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِی الاٰخِرَةِ ج وَ

    يُضَلُّ اللهُ الظّٰلِمِيْنَ وَ يَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَأءُ *

    جو لوگ سچے قول (کلمہءِ توحید) پر ایمان لا چکے اُن کو اللہ دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھے گا اور ظالموں (سرکشوں) کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور اللہ جیسے چاہتا ہے ویسے کرتا ہے، یہاں پر یُثَبِّتُ اللہُ کے الفاظ اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ ہدایت کے راستے پر رکاوٹیں ، مُصیبتیں ، اور پریشانیاں ضرور آئیں گی، شیطان بھی اپنا وعدہ شُدہ کردار ضرور ادا کرے گا اور اللہ تعالیٰ ہدایت کے متمنی کو ثابت قدمی ضرور عطا فرمائے گا

    اب یہاں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اللہ کن لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور کن لوگوں کو ہدایت کرتا ہے، کن لوگوں کو عزت عطا کرتا ہے اور کن لوگوں کو ذلت و گُمرَہی میں چھوڑ دیتا ہے، جو لوگ عمومی ہدایت کی طرف آتے ہیں اُن مخصوص لوگوں کی مزید راہنمائی و ہدایت فرماتا ہے، یعنی وسائلِ سعادت میں اضافہ کیے جاتا ہے، اور جو لوگ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہو جاتے ہیں اور یہی تو ظالم، مُسرف ، اور کافر ہیں تو اُن کو چھوڑ دیتا ہے تو پس یُوں اُن کی ضلالت و گمراہی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، گویا کہ اُن کے اپنے اعمال کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ عزت و ذلت اور ہدایت و گمراہی تقسیم فرماتا ہے ،

    اب یہاں پر ضمناً یہ سوال بھی اُبھرتا ہے کہ عزت اور ذلت کا حقیقی معیار کیا ہے، اور نعمات و ہدایتِ حقیقی قُرآن کی رُو سے کیا ہیں اس کا جواب پھر کسی موقع پر بیان کروں گا،

    فی الوقت موجودہ بحث کو سمیٹتے ہوئے عرض کروں گا کہ مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ اَولاً تو قُرآن کی کوئی آیت متشابہ ہو، یعنی ہمارے ذہنوں میں سوال پیدا کرے تو قُرآن مجید کی دیگر آیات سے راہنمائی لے کر نتیجہ اخذ کیا جائے اللہ تعالیٰ کی کتاب خُود ہی راہنمائی فرمائے گی اور ثانیاً جو بھی ہدایتِ عمومی پر کاملاً عمل پیرا ہو کر عزت کا خواہشمند ہو گا اُسے عزت ملے گی اور جو بھی اللہ کی ہدایت سے روگردانی کرے گا ذلت و ضلالت و گمراہی اُس کا مقدر ٹھہرے گی، اللہ تعالیٰ ہماری راہنمائی فرمائے اور قُرآن حکیم کے مطابق سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے؛ آمین ثم آمین

    ازقلم :مُونِس رضا

    2 دسمبر 2020ء