تسخیرِ کائنات کا عنوان چل پڑا
رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا
بوسے سے جبرائیلؑ کے چشمِ کرم کھلی
پچھلے پہر خدا کا وہ مہمان چل پڑا
طائف کا غم بھلا کے قریب آئیے حبیبؐ
وہ اپنے رب کا مان کے فرمان چل پڑا
سدرہ کے پار اس کو بلایا کریم نے
راضی رضا وہ صاحبِ قرآن چل پڑا
تکتے ہی تکتے رُک گئی نبضِ حیات بھی
جب فطرتِ حیات کی وہ جان چل پڑا
امت کے غم سمیٹے ہوئے محسنِ امم
دامن میں لے کے عجز کا سامان چل پڑا
مہکی ہوئی فضا تھی درود و سلام سے
جس وقت انبیاء کا وہ سلطان چل پڑا
صدیوں کا فاصلہ کیا اک جست میں عبور
تھامے ہوئے وہ حق کا قلمدان چل پڑا
حاضر تھے ہر فلک پہ سلامی کو انبیاءؑ
کیا آس آن بان سے ذیشان چل پڑا
سعادت حسن آس آف اٹک
اٹک شہر
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔